Explained with ayahs 11–30
جہنم کی ایک وادی، صعود اور ولید بن مغیرہ
جس خبیث شخص نے اللہ کی نعمتوں کا کفر کیا اور قرآن کو انسانی قول کہا اس کی سزاؤں کا ذکر ہو رہا ہے، پہلے جو نعمتیں اس پر انعام ہوئی ہیں ان کا بیان ہو رہا ہے کہ یہ تن تنہا خالی ہاتھ دنیا میں آیا تھا مال اولاد دیا اور کچھ اس کے پاس نہ تھا پھر اللہ نے اسے مالدار بنادیا، ہزاروں لاکھوں دینار زر زمین وغیرہ عنایت فرمائی اور باعتبار بعض اقوال کے تیرہ اور بعض اوراقوال کے دس لڑکے دیئے جو سب کے سب اس کے پاس بیٹھے رہتے تھے نوکر چاکر لونڈی غلام کام کاج کرتے رہتے اور یہ مزے سے اپنی زندگی اپنی اولاد کے ساتھ گزارتا، غرض دھن دولت لونڈی غلام بال بچے آرام آسائش ہر طرح کی…
Read the full tafseer →سورة الْمُدَّثِّر 15
اس کے دو مطلب ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ جو شخص بھی اس میں ڈالا جائے گا اسے وہ جلا کر خاک کر دے گی مگر مر کر بھی اس کا پیچھا نہ چھوٹے گا بلکہ وہ پھر زندہ کیا جائے گا اور پھر جلایا جائے گا۔ اسی مضمون کو دوسری جگہ اس طرح ادا کیا گیا ہے کہ لا یموت فیھا ولا یحی " وہ نہ اس میں مرے گا نہ جیے گا "۔ (الاعلیٰ۔ 13)۔ دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ عذاب کے مستحقین میں سے کسی کو باقی نہ رہنے دے گی جو اس کی گرفت میں آئے بغیر رہ جائے، اور جو بھی اس کی گرفت میں آئے گا اسے عذاب دیے بغیر نہ چھوڑے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–30
ولید بن مغیرہ کی آمدنی ایک کروڑ گنیاں سالانہ
یہ کافر ولید بن مغیرہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے دنیا کی مال و دولت اور اولاد فراوانی کے ساتھ دی تھی، بقول ابن عباس اس کی زمین جائیداد و باغات مکہ سے طائف تک پھیلے ہوئے تھے اور بقول ثوری اس کی سالانہ آمدنی ایک کروڑ دینار تھی، بعض نے اس سے کم بھی بتلایا ہے۔ اتنا سب کے نزیک مسلم ہے کہ اسکے کھیت اور باغات کی آمدنی اور پیداوار سال بھر سردی گرمی کی ہر موسم میں مسلسل رہت یتھی قرآن کریم میں اسی کو فرمایا ہے وّجَعَلْتُ لَهٗ مَالًا مَّمْدُوْدًا اور یہ عرب کا سردار مانا جاتا تھا۔ لوگوں میں اس کا لقب ریحانہ قریش مشہور تھا یہ خود اپنے آپ کو بطور فخر و بکر کے وحید…
Read the full tafseer →’لَا تُبْقِیْ وَلَا تَذَرُ‘۔ ’اَبْقٰی عَلَیْہِ‘ کے معنی ہوتے ہیں اس نے اس پر ترس کھایا اور رحم کیا۔ یہاں اگرچہ صلہ مذکور نہیں ہے، اس کے اظہار کا موقع نہیں تھا، لیکن یہ فعل استعمال یہاں اسی معنی میں ہوا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ دوزخ ایسی ظالم چیز ہو گی نہ کسی پر ذرا ترس کھائے گی کہ اس کے عذاب میں کچھ تخفیف ہو جائے نہ کسی کو نظرانداز کرے گی کہ وہ اس سے بچ نکلے۔ یعنی نہ اس سے رحم کی کوئی امید نہ نظرانداز کیے جانے کی۔ وہ بالکل بے رحم بھی ہو گی اور پوری طرح چوکس بھی!
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
28۔ 1 ان کے جسموں پر گوشت چھوڑے گی نہ ہڈی، یا مطلب ہے جہنمیوں کو زندہ چھوڑے گی نہ مردہ،
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–30
9: دوزخ میں داخل ہونے کے بعد کوئی شخص ایسا باقی نہیں رہے گا جو جلے نہیں، اور نہ دوزخ کسی مجرم کو اپنے سے باہر رہنے دے گی، کہ اسے باہر رہنے کے لیے چھوڑ دیا جائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–28
ساصلیہ سقر (74:26) ” اور تم کیا جانو کہ کیا ہے وہ دوزخ ؟ “ یہ بہت ہی خوفناک چیز ہے۔ ہماری قوت مدرکہ سے وراء ہے۔ اور اس اجمال اور عدم علم کے بعد دوزخ کی بعض شدید خصوصیات بتائی جاتی ہیں۔
لا تبقی ولا تذر (74:27) ” نہ باقی رکھے اور نہ چھوڑے “۔ جھاڑو دے کر سب کچھ نکل جانے والی ہے اور سب کچھ مٹا دینے والی ہے۔ کوئی چیز بھی اس کے سامنے کھڑے نہیں رہ سکتی۔ اور نہ اس سے کوئی چیزرہتی ہے۔ اور نہ اس سے کوئی چیز زیادہ ہوتی ہے ، وہ سب کچھ فنا کردیتی ہے۔
اب انسان کے ساتھ اس کا سلوک کیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
11 یعنی دوزخیوں کی کوئی چیز باقی نہ رہنے دے گی جو جلنے سے بچ جائے۔ پھر جلانے کے بعد اس حالت پر بھی نہ چھوڑے جائیں بلکہ دوبارہ اصلی حالت پر لوٹائے جائیں گے اور جلیں گے۔ یہی سلسلہ ہمیشہ جاری رہے گا۔ (العیاذ باللہ) (تنبیہ) اکثر سلف سے یہی معنیٰ منقول ہیں۔ بعض مفسرین نے دوسری طرح توجیہ کی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–29
آیت 29{ لَوَّاحَۃٌ لِّلْبَشَرِ۔ } ”انسان کی کھال کو جھلسا ڈالنے والی۔“
نہ تو اس کا عذاب ختم ہوگا اور نہ ہی اس میں جلتے ہوئے انسان کو موت آئے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
12 یعنی جہنم کی آگ دوزخیوں کو مسلسل جلاتی بھی رہے گی لیکن اس عذاب سے کسی کی موت واقع نہ ہوگی۔ آگ سے ان کی کھالیں جل جائیں گی بلکہ گل جائیں گی تو انہیں دوسری نئی کھالیں مہیا کردی جائیں گی تاکہ وہ مسلسل اور دائمی عذاب میں مبتلا رہ سکیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–29
12۔ ذکر اس یوم آخرت کے سلسلہ میں جہنم کی شدت عذاب اور ہولناکیوں کا ہورہا ہے۔ (آیت) ” ادرک ماسقر “۔ دوسری زبانوں کی طرح عربی فن بلاغت میں بھی کلام میں زور، اثر، جوش وتاکید کے موقع پر سوالات سے کام لیا جاتا ہے۔ (آیت) ” لاتبقی “۔ یعنی کوئی کافر دوزخی ایسا نہ ہوگا جسے وہ اپنے اندر جلانے سے باقی رہنے دے۔ (آیت) ” ولا تذر “۔ یعنی کسی کافر کو اپنے اندر لے لینے سے نہ چھوڑے گی ،
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–30
ذرنی و من خلقت وحیدا یہ کلمہ وعید اور تہدید کے لئے ہے، یہ شخص جسے میں نے ماں کے پیٹ سے اکیلا پیدا کیا ہے اس کے پاس نہ مال تھا اور نہ اولاد، یہ ولید بن مغیرہ کی طرف اشارہ ہے، اللہ نے اسے اولاد ذکور سے نوازا تھا اس کے دس بارہ لڑے تھے جو ہر وقت اس کے پاس رہتے تھے، مجلسوں اور محفلوں میں بلائے جاتے تھے، گھر میں دولت کی فراوانی تھی، اس لئے بیٹوں کو کاروبار اور تجارت کے لئے باہر جانے کی ضرورت نہیں تھی، بارہ بیٹوں میں سے تین مسلمان ہوگئے تھے، خالد، ہشام اور ولید بن ولید۔ (فتح القدیر)
Read the full tafseer →لا تبقی . جو چیز اس میں ڈال دی جائے اس کو باقی نہیں چھوڑتا۔
ولا تذر . اور بغیر ہلاک کیے نہیں رہتا۔ مجاہد نے دونوں جملوں کے تشریحی معنی اس طرح بیان کیے کہ سقر کسی کو
زندہ نہیں چھوڑتا اور نہ اس کے اندر کوئی چیز مردہ رہتی ہے۔ جب دوزخی اس کے اندر جل جائیں گے تو ازسر نو ان کی بدنی ساخت درست ہوجائے گی۔ ضحاک نے کہا : ہر چیز کی تیزی (ایک حد پر پہنچ کر) سست ہوجاتی ہے مگر سقر کی تیزی دھیمی نہ پڑے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–30
(20۔ 30) اور پھر مکرر اس پر خدا کی پھٹکار ہو کہ اس نے حضور کے بارے میں کیسی بات تجویز کی پھر اپنی تجویز کردہ بات کو دیکھا یا یہ کہ صحابہ کرام نے جب اس کو اسلام کی دعوت دی تو اس نے ان کی طرف دیکھا پھر اپنا مونہہ بنا لیا اور پھر زیادہ مونہہ بگاڑا اور پھر صحابہ کرام سے مونہہ پھیر کر اپنے گھر کو چلا اور ایمان قبول کرنے سے تکبر کیا۔
پھر کہنے لگا کہ محمد جو کہتے ہیں یہ تو مسیلمہ کذاب سے منقول شدہ جادو ہے یا یہ کہ جبر و یسار سے، یہ تو صرف جبر و ویسار کا کلام ہے، میں آخرت میں ولید بن مغیرہ کو دوزخ کے چھوٹے دروازہ میں داخل کروں گا اور اے محمد آپ کو کچھ خبر ہے کہ دوزخ کیسی چیز ہے وہ انسان کے گوشت کو…
Read the full tafseer →(لاتبقی ولا تدر :”لاتبقی“”ابقی یبقی“ (افعال) باقی رکھنا۔ ”ابقی علیہ“ رحم کرنا۔ یعنی وہ ان کی کوئی چیز جلانے سے باقی نہیں رکھے گی، اس پر بھی انہیں چھوڑے گی نہیں کہ ان کا قصہ تمام ہو اجئے، بلکہ انہیں دوبارہ پہلے کی طرح بنادیا جائے گا اور جہنم پھر انہیں جلائے گی، جیسا کہ فرمایا :(کلما نصجت جلودھم بدلنھم جلوداً غیر ھا لیذوقوا العذاب) (النسائ : 56) ”جب بھی ان کی کھالیں پک جائیں گی ہم انہیں ان کے علاوہ اور کھلایں بدل دیں گے، تاکہ وہ عذاب چکھیں۔“ اور فرمایا :(ثم لایموت فیھا ولا یحیی) (الاعلیٰ : 13)”پھر وہ نہ اس میں مرے گا اور نہ زندہ رہے گا۔”اگر“ لاتبقی“ کے بعد ”علیھم“ مقدر مانیں تو معنی ہوگا ”نہ وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
وما ادراک ماسقر۔ یہ اس کے وصف میں مبالغہ کے لیے ہے تجھے کس چیز نے بتایا کہ وہ کیا چیز ہے ؟ یہ کلمہ تعظیم ہے پھر اس کی تفسیر بیان کی، ارشاد فرمایا، لاتبقی ولاتذر، وہ انکی ہڈی، گوشت اور خون نہیں چھوڑے گا، وہ سب کچھ جلادے گی تاکید کے طور پر اسے مکرر ذکر کیا ہے، ایک قول یہ کیا گیا ہے، ان میں سے کسی چیز کو نہیں چھوڑے گی، پھر انہیں تازہ جسموں کے ساتھ لایاجائے گا وہ انہیں چھوڑے گی یعنی دوبارہ اسی طرح جلادے گی، یہ سلسلہ اسی طرح چلتا رہے گا مجاہد نے کہا، ان میں سے جو زندہ ہوگا انہیں باقی نہ رکھے گی اور نہ اسے مردہ چھوڑے گی جب بھی انہیں نئے جسم عطا کیے جائیں گے آگ انہیں جلاتی رہے گی، سدی نے کہا، وہ ان…
Read the full tafseer →26۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت لا تبقی ولا تذر نہ باقی رکھے اور نہ چھوڑے یعنی نہ وہ زندہ رکھے گی اور نہ موت دے گی۔
27۔ ابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت لا تبقی ولا تذر نہ باقی رکھے یعنی جب آگ ان کو پکڑ لے گی تو ان میں سے کوئی چیز باقی نہیں رہنے دے گی۔ اور جب نئی جلد بدل دی جائے گی تو وہ نہ چھوڑے گی اور ان کی طرف پہلا عذاب پھر جلدی سے بڑھ جائے گا۔
28۔ ابن المنذر نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ آیت لا تبقی ولاتذر یعنی وہ اسے مکمل طور پر کھاجائے گا۔ جب اس کی خلقت ظاہر ہوگی تو اس کو نہ چھوڑے گا یہاں تک کہ اس پر واقع ہوجائے گی۔
29۔ ابن المنذر نے ابن زید (رح)…
Read the full tafseer →[لَا تُبْقِيْ وَلَا تَذَرُ : وہ باقی نہیں رہنے دیتی اور نہ چھوڑتی ہے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–30
﴿ فَقَالَ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ يُّؤْثَرُۙ0024 اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا قَوْلُ الْبَشَرِؕ0025﴾ (پھر کہنے لگا یہ تو بس جادو ہی ہے جو منقول ہے یعنی دوسروں سے لیا گیا ہے اور یہ اللہ کا کلام نہیں ہے اور نہ اللہ کا بھیجا ہوا ہے بلکہ انسانوں کا کلام ہے) ۔
ولید بن مغیرہ کی یہ بات نقل کر کے ارشاد فرمایا ﴿ سَاُصْلِيْهِ سَقَرَ 0026﴾ (میں اسے دوزخ میں داخل کروں گا) ﴿ وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا سَقَرُؕ0027﴾ (اور اے مخاطب تجھے کچھ خبر ہے کہ دوزخ کیسی چیز ہے) ﴿ لَا تُبْقِيْ وَ لَا تَذَرُۚ0028﴾ (نہ وہ باقی رہنے دے گی نہ چھوڑے گی) ﴿ لَوَّاحَةٌ لِّلْبَشَرِۚۖ0029﴾ (وہ بدن کی حالت کو بگاڑ کر رکھ دے گی) ﴿ عَلَيْهَا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–31
حکم اعلان توحید و رسالت سید المرسلین ﷺ وتہدید ومذمت براعراض مجرمین :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” یایھا المدثر قم فانذر ........ الی ....... الا ذکری للبشر “۔
(ربط) سورة مزمل کے آخر میں بالخصوص احکام خداوندی کی اطاعت کا حکم فرمایا گیا تھا اور یہ کہ ایمان کا تقاضا ہے کہ اہل ایمان نمازیں قائم رکھیں اور زکوٰۃ ادا کرتے رہیں اور حق تعالیٰ کی راہ میں انفاق وایثار سے کبھی بھی گزیر نہ کریں یہ تو اللہ رب العزت کی بارگاہ میں ایک قرض حسن سے جو بڑی ہی برکتوں اور زیادتیوں کے ساتھ قرض دینے والوں کو واپس ملے گا اور دار آخرت کے واسطے بہترین ذخیرہ ہے جو دنیاوی زندگی میں ہی آخرت کے لیے مہیا کیا جاتا ہے اور وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–30
9:۔ ” ساصلیہ سقر “ یہ تخویف اخروی ہے۔ میں اس کو سقر میں داخل کروں گا۔ سقر ایسی تیز اور سخت آگ کا دوزخ ہے کہ ” لا تبقی ولا تذر “ کہ ہڈی پسلی چھوڑے گی نہ گوشت پوست ” لواحۃ للبشر “ بشرۃ کی جمع ہے، سقر کی آگ دوزخیوں کے چمڑوں کو جلا کر سیاہ اور بد شکل بنا دے گی۔ دوزخ پر ہم نے انیس فرشتے یا فرشتوں کی انیس صفیں مقرر کر رکھیں ہیں۔ والاول اصح۔ اور پھر یہ دوزخ کے خزان آدمی یا جن نہیں بلکہ فرشتے ہیں جو طاقت و قوت میں جن وانس پر فائق ہیں۔ اہل دوزخ جن وانس کے لیے ان کے دلوں میں رحمت و شفقت کا کوئی جذبہ نہیں ہوگا اور نہ دوزخیوں کے بارے میں احکام خداوندی کی تعمیل میں کوتاہی کا احتمال ہی ہوگا۔
Read the full tafseer →لَا تُبْقِيْ وَلَا تَذَرُ 28 ۚ
لا
«لَا» يستعمل للعدم المحض . نحو : زيد لا عالم، وذلک يدلّ علی كونه جاهلا، وذلک يكون للنّفي، ويستعمل في الأزمنة الثّلاثة، ومع الاسم والفعل غير أنه إذا نفي به الماضي، فإمّا أن لا يؤتی بعده بالفعل، نحو أن يقال لك : هل خرجت ؟ فتقول : لَا، وتقدیره : لا خرجت .
ويكون قلّما يذكر بعده الفعل الماضي إلا إذا فصل بينهما بشیء . نحو : لا رجلا ضربت ولا امرأة، أو يكون عطفا . نحو : لا خرجت ولَا رکبت، أو عند تكريره . نحو : فَلا صَدَّقَ وَلا صَلَّى [ القیامة/ 31] أو عند الدّعاء . نحو قولهم : لا کان، ولا أفلح، ونحو ذلك . فممّا نفي به المستقبل قوله : لا يَعْزُبُ عَنْهُ مِثْقالُ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–28
1 ؎ جھنڈی پر چڑھانا محاورہ ہے بدنام کرنے اور بلا میں مبتلا کرنے کا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–29
سَاُصْلِیْہِ سَقَرَ ۔ وَمَـآ اَدْرٰ کَ مَا سَقَرُ ۔ لاَ تُبْـقِیْ وَلاَ تَذَرُ ۔ لَوَّاحَۃٌ لِّلْبَشَرِ ۔ (المدثر : 26 تا 29)
(میں عنقریب اسے دوزخ میں جھونک دوں گا۔ اور تم کیا جانو کہ کیا ہے وہ دوزخ۔ نہ ترس کھائے اور نہ چھوڑے۔ کھال جھلس دینے والی۔ )
معاندین کا انجام
ولید بن مغیرہ کی معاندانہ سرکشی اور اس کے الزام کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا کہ میں اسے عنقریب دوزخ میں جھونک دوں گا یعنی قیامت کے روز اسے جہنم کی آگ میں جلایا جائے گا۔ اور اہل مکہ چونکہ دوزخ اور جہنم کو درخورِاعتنا نہیں سمجھتے تھے کیونکہ انھیں قیامت کے برپا ہونے کا یقین نہیں تھا، اس لیے انھیں تنبیہ کرتے ہوئے اور توجہ دلاتے ہوئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–31
فہم القرآن
ربط کلام : مجرم شخص کو جس کٹھن گھاٹی پر چڑھائے جانے کی دھمکی دی گئی ہے وہ جہنم ہے۔
جو لوگ اللہ تعالیٰ کے فرامین کا انکار کرتے ہیں انہیں بہت جلد جہنم میں جھونکا جائے گا۔ اے قرآن پڑھنے والے ! تو نہیں جانتا ہے کہ جہنم کیا ہے ؟ وہ اللہ کا تیار کیا ہوا عقوبت خانہ ہے جس میں مجرم کو موت نہیں آئے گی اور نہ اس کی زندگی ہوگی گویا کہ وہ موت وحیات کی کشمکش میں مبتلا رہے گا۔ وہ چمڑی ادھیڑ دینے والی آگ ہے اس پر انیس فرشتے مقرر کیے گئے ہیں اور یہ تعداد کفار کے لیے آ زمائش بنا دی گئی ہے ہاں یہ ان لوگوں کے لیے آزمائش نہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے ایمان لانے کی توفیق بخشی ہے۔ جنت کے فرشتوں کی تعداد اس…
Read the full tafseer →28 : لَاتُبْقِیْ وَلَا تَذَرُ (وہ نہ تو باقی رہنے دے گی اور نہ چھوڑے گی) یعنی وہ نہ تو گوشت کو باقی رہنے دی گی اور نہ ہڈیوں کو چھوڑے گی۔ نمبر 2۔ وہ کسی چیز کو باقی نہیں چھوڑتی جو اس میں ڈالی جائے بلکہ اس کو ہلاک کر ڈالتی ہے۔ وہ کسی ہلاک ہونے والے کو نہ چھوڑے گی بلکہ جس طرح ہلاکت سے پہلے تھا اسی طرح لوٹ آئے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
’ وما ادراک ماسقر، لا تبقی ولا تذر “ یعنی نہیں باقی رکھے گی اور نہیں چھوڑے گی اس میں کوئی چیز مگر اس کو کھاجائے گی اور ہلاک کردے گی اور مجاہد (رح) فرماتے ہیں ” لا یمیت ولا تحی “ یعنی اس میں کسی زندہ کو باقی نہ رکھے گی اور نہ کسی مردہ کو چھوڑے گی جب بھی وہ جل کر کوئلہ ہوجائیں گے تو نئے کئے جائیں گے اور سدی (رح) فرماتے ہیں نہ ان کا گوشت باقی رکھے گی اور نہ ان کی ہڈی چھوڑے گی اور ضحاک (رح) فرماتے ہیں جب ان میں شروع ہوگی تو ان میں سے کچھ باقی نہ رکھے گی اور جب لوٹائے جائیں گے تو ان کو نہ چھوڑے گی حتیٰ کہ ان کو فنا کردے گی اور ہر چیز کے لئے اکتاہٹ اور سستی ہے سوائے جہنم کے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–30
11۔ 30۔ ان آیتوں کی شان نزول صحیح سند سے مستدرک 2 ؎ حاکم وغیرہ میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ نے جو بیان فرمائی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ ولید بن مغیرہ آنحضرت ﷺ کے پاس آیا اور آپ ﷺ نے اس کو قرآن شریف کی کچھ آیتیں پڑھ کر سنائیں جس سے اس کا دل کسی قدر نرم ہوا یہ خبر ابوجہل کو پہنچی اس نے ولید بن مغیرہ سے کہا کہ قوم کے لوگ تم سے ہرگز خوش نہ ہوں گے جب تک قرآن کے بارے میں تم ان کی مرضی کے موافق کوئی بات نہ کہو گے ولید بن مغیرہ نے جواب دیا کہ اچھا میں سوچ کر اس بارے میں کچھ کہوں گا پھر اس نے اپنے وعدہ کے موافق لوگوں کے سامنے قوم کے لوگوں کو خوش کرنے کے لئے یہ بات کہی جس کا ذکر ان آیتوں میں ہے کہ یہ قرآن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–28
پس یہ سخت عذاب کے سوا کسی چیز کا مستحق نہیں، بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا (سَاُصْلِيْهِ سَقَرَ ۔ وَمَآ اَدْرٰىكَ مَا سَقَرُ ۔ لَا تُبْقِيْ وَلَا تَذَرُ ) ہم عنقریب اس کو، سقر، میں داخل کریں گے اور تمہیں کیا معلوم کہ، سقر، کیا ہے ؟ (وہ آگ ہے) کہ باقی رکھے گا نہ چھوڑے گی، یعنی جہنم کوئی ایسی سختی نہیں چھوڑے گی جو عذاب دیے جانے والے کو نہ پہنچے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–56
عطیہ اس نیت سے نہ دیا جائے کہ بدلے میں عطیہ ملے
قول باری ہے (ولا تمنن تستکثر۔ اور احسان نہ کرو زیادہ حاصل کرنے کے لئے) حضرت ابن عباس ؓ ، ابراہیم نخعی، مجاہد، قتادہ اور ضحاک کا قول ہے کہ کوئی عطیہ اس نیت سے نہ دو کہ تمہیں اس کے بدلے میں اس سے زیادہ دیا جائے۔ حضن بصری اور ربیع بن انس کا قول ہے کہ اپنی نیکیوں کو زیادہ سمجھتے ہوئے اللہ پر ان کا احسان نہ دھرو کہ پھر اللہ کے ہاں تمہاری یہ نیکیاں گھٹ جائیں۔
دوسرے حضرات کا قول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو نبوت اور قرآن کی جو دولت عطا کی ہے لوگوں سے زیادہ اجر حاصل کرنے کی نیت سے اس کا احسان نہ جتلائیں۔ مجاہد سے یہ بھی منقول ہے کہ اپنی طاعت کو کثیر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–28
16 ۔ اپنے ضمیر کے خلاف رائے کا اظہار : سو ارشاد فرمایا گیا کہ پھر اس نے اپنی قوم کو خوش کرنے کے لئے کہا یعنی اپنے ضمیر کی اس آواز و پکار کیخلاف جس کا اظہار اس نے قرآن پاک کی حقانیت اور اس کی صداقت کے بارے میں اس سے پہلے صاف اور صریح طور پر کیا تھا، سو جب کسی پر اس کے حق سے بغض وعناد کی بدبختی چھا جاتی ہے تو اس کی مت اسی طرح مار کر رکھ دی جاتی ہے۔ والعیاذ باللہ جس کے نتیجے میں وہ اسی طرح پاگلوں کی باتیں کرنے لگتا ہے۔ والعیاذ باللہ اور مزید یہ کہ اپنی اس حماقت کو وہ اپنی چالاکی اور ہوشیاری سمجھتا ہے والعیاذ باللہ حالانکہ وہ اس کی محرومی اور بدبختی کا ثبوت ہوتا ہے اور اس طح ایسا شخص محرومی در…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–38
منکرین اور ان کا انجام
تشریح : آیت گیارہ سے آگے تک جس شخص کی خصوصیات بیان کی گئی ہیں وہ ہر اس شخص کے لیے مخصوص ہیں جو خراب بری عادات والا ہو مگر تمام مفسرین نے اور خاص طور سے تفسیر ابن کثیر میں اس شخص کا نام ولید بن مغیرہ مخزومی بتایا گیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جو شخص بھی اللہ کی دی ہوئی تمام نعمتوں سے مالامال ہو اور وہ شکر ادا نہ کرے اللہ کا کلام اس کے پاس پہنچے وہ اس کی تصدیق بھی کرے اس کو سچ بھی جانے مگر کیا کہیں کہ ہٹ دھرمی بےوقوفی یا آباو اجداد کی پیروی کا خیال کرتے ہوئے یا پھر اپنے دوست احباب کا خیال کرتے ہوئے۔ غرض کوئی بھی وجہ ہو اور وہ اللہ پر ایمان نہ لائے اور اللہ اور اسکے رسول ﷺ اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–31
سورة المدثر۔
آیات 1 تا 31۔
اسرار ومعارف۔
سورة مدثر بھی پہلی پہلی صورتوں میں سے ہے اور مدثر ومزمل کا مفہوم ایک ہے بعض کے نزدیک پہلے سورة مزمل کی آیات نازل ہوئیں اور پھر مدثر کی بعض نے مدثر کو پہلے لکھا ہے مگر قرائن سے مزمل کا پہلے ہونا معلوم ہوتا ہے کہ اس میں ذاتی اعمال کی بات ہے اور مدثر میں قوم سے خطاب کرنے کا حکم ہے بہرحال نہایت ابتدائی سورتوں میں سے ہیں جب ایک دولوگ ہی مسلمان تھے تو فرمایا اے لپیٹ کر سونیو الے اٹھیے اور لوگوں کو دعوت دیجئے اور اپنے رب کی توحید اور بڑائی بیان کیجئے۔
لباس کی پاکیزگی۔
اپنے لباس کو پاک کیجئے ، مراد ماحول بھی ہے کردار بھی اور حقیقتا سارامال اور معاشی نظام مقصود…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–29
ف 4 بشر کے ایکم عنی ” کھال “ کے ہیں اور دوسرے معنی ” لوگوں “ کے اس لئے دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ” وہ لوگوں (یعنی دوزخیوں) کو (جلا کر) کالا کر دے گی۔
Read the full tafseer →(74:28) لا تبقی ولا تذر : لا تبقی فعل نہی واحد مؤنث غائب البقاء (افعال) مصدر۔ وہ باقی نہیں چھوڑتی۔
لا تذر۔ واحد مؤنث غائب فعل نہی مضارع وذر سے (اس فعل کی ماضی مستعمل نہیں ہوتی) اور نہ وہ چھورتی ہے وہ نہ چھوڑے گی۔ مطلب یہ کہ جو چیز اس میں ڈالی جائے گی اس کو باقی نہیں چھوڑتی (سقر) ہلاک کئے بغیر نہیں چھوڑتی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–31
لغات القرآن۔
المدثر۔ چادر اوڑھ لپیٹ کر لیٹنے والے۔ ثیاب۔ کپڑے۔ الرجز۔ گندگی ۔ ناپاکی۔ اھجر۔ اس کو چھوڑو۔ دوررہ۔ لاتمنن۔ احسان نہ جتا۔ تستکثر۔ زیادہ کی طلب۔ نقر۔ بچایا گیا۔ پھونکا گیا۔ الناقور۔ صور۔ وحید۔ تنہا۔ اکیلا۔ ممدود۔ پھیلایا گیا۔ شھود۔ سامنے۔ ہر جگہ۔ مھدت۔ میں نے تیار کردیا۔ یطمع۔ امید رکھتا ہے۔ عنید۔ نہ ماننے والا۔ ارھق ۔ میں چڑھا دوں گا۔ صعود۔ چڑھائی۔ اونچائی۔ عبس۔ اس نے تیوری چڑھائی۔ بسر۔ اس نے کڑوا سا منہ بنایا۔ یوثر۔ پہلے چلا آتا ہے۔ سقر۔ آگ۔ لاتذر۔ پیچھا نہ چھوڑے گی۔ لواحۃ۔ جھلس ڈالنے والی۔ تسعۃ عشر۔ انیس۔
تشریح :
اللہ تعالیٰ… کی طرح نہایت شفقت و محبت سے نبی مکرم حضرت محمد مصطفیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
(ف 2) یعنی بدن کی کھال جھلس کر حیثیت بگاڑ دے گی حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں جیسے دہکتا لوہاسرخ نظر آتا ہے آدمی کو پنڈلی پر وہ سرخی نظر آئے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–28
[10] یعنی کافروں میں سے کسی کو باقی رہنے نہ دے گی کہ اس کی گرفت میں آئے بغیر رہ جائے اور جو بھی اس کی گرفت میں آئے گا اسے عذاب دئیے بغیر نہ چھوڑے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–35
ف 1: قرآن حکیم میں بعض مقامات ایسے ہیں ۔ جہاں ہمارے جذبات عقیدت ونیازمندی کا امتحان ہوتا ہے ۔ ان تک عقل وفہم کی رسائی نہیں ہوسکتی البتہ ایمان اور یقین کی روشنی سے ان تک پہنچاجاسکتا ہے ۔ اس لئے ان مقدمات میں بحث اور دلائل شماری محض بےکار ہوتی ہے ۔ بلکہ یہاں ضرورت ہے اس بات کی کہ آنکھیں بند کرکے تسلیم کرلیا جائے اور اگر حقیقت بہت زیادہ بغاوت کرے ۔ تو اس کو یہ کہہ کردبا دیا جائے کہ ہر منزل میں تمہاری راہنمائی قطعاً بےسود ہے ؎
اچھا ہے دل کے ساتھ رہے پاسبان عقل
لیکن کبھی کبھی اسے تنہا بھی چھوڑ دے
ان مقامات میں جنت اور دوزخ کی تفصیلات ہیں ۔ کہ ان کا اس دنیا میں معلوم ہونا ناممکن ہے ۔ اسی لئے جہنم…
Read the full tafseer →(28) وہ سفر یعنی دوزخ نہ کچھ باقی روکھے نہ کچھ چھوڑے یعنی کسی چیز کو باقی نہ رکھے گا سب کو جلا ڈالے گی اور جلا کر بھی پیچھا نہ چھوڑے گی، بلکہ پھر کھال کو ٹھیک کردیاجائے گا اور وہ دوزخ پھر جلائے گی اور یہی سلسلہ جاری رہے گا۔
یا یہ مطلب ہے کہ جو داخل ہوں سقر میں ان کو باقی نہ رکھے یعنی جلا ڈالے اور جو باہر ہوں ان کو اندر داخل کیے بغیر نہ چھوڑے سب کو جہنم میں گھسیٹ لے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–29
ف 4۔ باوجود احتمال نہ ہونے کے یہ امر فرمانا اشارہ ہے اہتمام شان توحید کی طرف کہ ایسی ضروری چیز ہے کہ معصوم کو بھی باوجود احتیاج نہ ہونے کے اس کی تعلیم کی جاتی ہے تو غیر معصوم تو بدرجہ اولی اس کا مکلف ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–30
(پھر بولا کہ یہ) جو محمد کہتے ہیں (بس جادو ہی کی نقل کی جاتی ہے ) یعنی یہ قرآن تو وہی جادو ہے جو پہلے سے نقل ہوتا چلا آتا ہے۔ (یہ نہیں ہے مگر بشر کا کلام) ۔
ولید بن مغیرہ نے یہ محض سرکشی وعناد سے کہا نہ کہ اعتقاد سے ، کیونکہ مروی ہے کہ اس نے پہلے اقرار کیا تھا کہ یہ کلام کسی انس و جن کا نہیں ، بشر سے اس کی مراد (1) یسار (2) حبیر (3) ابو فکیہہ ہے۔ پہلے دو فارس کے دو غلام تھے ، وہ مکہ معظمہ میں رہتے تھے۔ رسول اللہ کا ان کے یہاں اٹھنا بیٹھنا ہوتا تھا۔ اور ابو فکیہہ رومی غلام تھا ، وہ مسیلمہ کذاب یمانہ والے کی طرف سے مکہ معظمہ میں آیا جایا کرتا تھا۔
(جلد جھونک دوں گا میں اسے جہنم میں) یعنی سقر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–30
The Annual Income of Walid Ibn Mughirah: Ten Million Guineas
The disbeliever referred to here is Walid Ibn Mughirah. Allah had favoured him with abundant wealth, property and children. According to Ibn ` Abbas 4his land, property and gardens stretched from Makkah to Ta'if. According to Thauri, his annual income was ten million Dinars. Some scholars have estimated less than this amount. It is, nonetheless, agreed that the income and yearly produce of his fields and gardens were available in every season, winter or summer. Thus the Qur'an says:
وَّجَعَلْتُ لَهٗ مَالًا مَّمْدُوْدًا وَّبَنِيْنَ…
Read the full tafseer →15 This can have two meanings: first, that it will bum to ashes whoever is cast into it, but even after death he will not escape from punishment: he will be given life once again and burnt once again, This very subject has been treated at another place thus: He will neither die in it nor live." (AI-A`la: 13) Another meaning also can be: "It will leave none who has deserved the punishment and it will spare none from being punished. "
Read the full tafseer →