Al-Muddaththir 74:27

Al-Muddaththir · from ayah 27

74:27

وَمَاۤ اَدْرٰىكَ مَا سَقَرُ ۟ؕوَمَاۤ اَدۡرٰٮكَ مَا سَقَرُؕ

اور تم کیا سمجھے کہ سقر کیا ہے؟

— Fateh Muhammad Jalandhari

And what can make you know what is Saqar?

— Saheeh International

Juz 29 · Ruku 1 of surah · Ruku 15 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Muddaththir

All translations of 74:27

اور تم کیا جانو کہ کیا ہے وہ دوزخ؟

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور تم کیا سمجھے کہ سقر کیا ہے؟

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور تجھے کیا خبر کہ دوزخ کیا چیز ہے؟

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور تمہیں کیا پتہ کہ دوزخ کیا چیز ہے ؟

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور تم نے کیا جانا دوزخ کیا ہے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور آپ کو کس نے بتایا ہے کہ سَقَر کیا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور تجھے کس چیز نے معلوم کروایا کہ سقر (جہنم) کیا ہے ؟

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور آپ کیا جانیں کہ سقر کیا ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور کیا سمجھے کیا دوزخ کیا ہے !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور تم کیا جانو کہ کیا ہے وہ دوزخ (کی دہکتی آگ) ؟

— مولانا اسحاق مدنی

اور آپ کو کچھ خبر ہے کہ دوزخ ہے کی چیز ؟

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور تمہیں کیا معلوم کہ وہ سقر کیا ہے ؟

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور تم کیا سمجھے کہ آگ کیا ہے

— محترمہ رفعت اعجاز

And what do you know what Hell is?

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And what can let you know what Saqar is?

— Muhammad Taqi Usmani

And what can let you know what Saqar is?

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And what will make you know (exactly) what Saqar is

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

- Ah, what will convey unto thee what that burning is! -

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And what can make you know what is Saqar?

— Saheeh International

Would that you really knew what hell is!

— Muhammad Sarwar

And what will make you realize what hell is?

— Muhammad Habib Shakir

And what knoweth thou that which the Scorching Fire?

— Abdul Majid Daryabadi

And what will explain to thee what Hell-Fire is?

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 74:27

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 11–30

جہنم کی ایک وادی، صعود اور ولید بن مغیرہ جس خبیث شخص نے اللہ کی نعمتوں کا کفر کیا اور قرآن کو انسانی قول کہا اس کی سزاؤں کا ذکر ہو رہا ہے، پہلے جو نعمتیں اس پر انعام ہوئی ہیں ان کا بیان ہو رہا ہے کہ یہ تن تنہا خالی ہاتھ دنیا میں آیا تھا مال اولاد دیا اور کچھ اس کے پاس نہ تھا پھر اللہ نے اسے مالدار بنادیا، ہزاروں لاکھوں دینار زر زمین وغیرہ عنایت فرمائی اور باعتبار بعض اقوال کے تیرہ اور بعض اوراقوال کے دس لڑکے دیئے جو سب کے سب اس کے پاس بیٹھے رہتے تھے نوکر چاکر لونڈی غلام کام کاج کرتے رہتے اور یہ مزے سے اپنی زندگی اپنی اولاد کے ساتھ گزارتا، غرض دھن دولت لونڈی غلام بال بچے آرام آسائش ہر طرح کی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 25–27

سورة الْمُدَّثِّر 14 یہ اس واقعہ کا ذکر ہے جو کفار مکہ کی مذکورہ بالا کانفرنس میں پیش آیا تھا۔ اس کی جو تفصیلات ہم دیباچے میں نقل کرچکے ہیں ان سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ یہ شخص دل میں قرآن کے کلام الہی ہونے کا قائل ہوچکا تھا۔ لیکن اپنی قوم میں محض اپنی وجاہت و ریاست برقرار رکھنے کے لیے ایمان لانے پر تیار نہ تھا۔ جب کفار کی اس کانفرنس میں پہلے اس نے خود ان تمام الزامات کو رد کردیا جو قریش کے سردار رسول اللہ ﷺ پر لگا رہے تھے تو اسے مجبور کیا گیا کہ وہ خود کوئی ایسا الزام تراشے جسے عرب کے لوگوں میں پھیلا کر حضور ﷺ کو بد نام کیا جاسکتا ہو۔ اس موقع پر جس طرح وہ اپنے ضمیر سے لڑا ہے اور جس شدید…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 12–30

ولید بن مغیرہ کی آمدنی ایک کروڑ گنیاں سالانہ یہ کافر ولید بن مغیرہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے دنیا کی مال و دولت اور اولاد فراوانی کے ساتھ دی تھی، بقول ابن عباس اس کی زمین جائیداد و باغات مکہ سے طائف تک پھیلے ہوئے تھے اور بقول ثوری اس کی سالانہ آمدنی ایک کروڑ دینار تھی، بعض نے اس سے کم بھی بتلایا ہے۔ اتنا سب کے نزیک مسلم ہے کہ اسکے کھیت اور باغات کی آمدنی اور پیداوار سال بھر سردی گرمی کی ہر موسم میں مسلسل رہت یتھی قرآن کریم میں اسی کو فرمایا ہے وّجَعَلْتُ لَهٗ مَالًا مَّمْدُوْدًا اور یہ عرب کا سردار مانا جاتا تھا۔ لوگوں میں اس کا لقب ریحانہ قریش مشہور تھا یہ خود اپنے آپ کو بطور فخر و بکر کے وحید…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

’وَمَآ اَدْرٰکَ مَا سَقَرُ‘۔ یہ اس دوزخ کی ہولناکی کا اظہار ہے کہ تم کیا سمجھے کہ دوزخ کیا ہے! یعنی کوئی اس کو معمولی چیز نہ سمجھے۔ اس کی ہولناکی کا اندازہ یہاں سے نہیں ہو سکتا۔ اس کو وہی جانیں گے جن کو اس سے سابقہ پیش آئے گا۔ بدقسمت ہے وہ جو اس سے بے پروا ہو کر زندگی گزارے! اس طرح کا خطاب عام ہوتا ہے اس کو حضور ﷺ کے ساتھ مخصوص کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 21–27

8: یعنی آس پاس کے لوگوں کو دیکھا کہ وہ اس کے بارے میں کیا رائے قائم کر رہے ہیں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 26–28

ساصلیہ سقر (74:26) ” اور تم کیا جانو کہ کیا ہے وہ دوزخ ؟ “ یہ بہت ہی خوفناک چیز ہے۔ ہماری قوت مدرکہ سے وراء ہے۔ اور اس اجمال اور عدم علم کے بعد دوزخ کی بعض شدید خصوصیات بتائی جاتی ہیں۔ لا تبقی ولا تذر (74:27) ” نہ باقی رکھے اور نہ چھوڑے “۔ جھاڑو دے کر سب کچھ نکل جانے والی ہے اور سب کچھ مٹا دینے والی ہے۔ کوئی چیز بھی اس کے سامنے کھڑے نہیں رہ سکتی۔ اور نہ اس سے کوئی چیزرہتی ہے۔ اور نہ اس سے کوئی چیز زیادہ ہوتی ہے ، وہ سب کچھ فنا کردیتی ہے۔ اب انسان کے ساتھ اس کا سلوک کیا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 27–28

11 یعنی دوزخیوں کی کوئی چیز باقی نہ رہنے دے گی جو جلنے سے بچ جائے۔ پھر جلانے کے بعد اس حالت پر بھی نہ چھوڑے جائیں بلکہ دوبارہ اصلی حالت پر لوٹائے جائیں گے اور جلیں گے۔ یہی سلسلہ ہمیشہ جاری رہے گا۔ (العیاذ باللہ) (تنبیہ) اکثر سلف سے یہی معنیٰ منقول ہیں۔ بعض مفسرین نے دوسری طرح توجیہ کی ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 26–29

آیت 29{ لَوَّاحَۃٌ لِّلْبَشَرِ۔ } ”انسان کی کھال کو جھلسا ڈالنے والی۔“ نہ تو اس کا عذاب ختم ہوگا اور نہ ہی اس میں جلتے ہوئے انسان کو موت آئے گی۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 19–27

11 اسلام لانے میں اس کی سرداری رکاوٹ بن گئی :۔ ولید بن مغیرہ خود بڑا سمجھدار اور عربی کلام کے نشیب و فراز سے خوب واقف تھا۔ وہ خود قرآن سے کافی حد تک متاثر ہوچکا تھا۔ اب قریشی سرداروں کو یہ فکر دامنگیر ہوئی کہ اگر ان کا رئیس مسلمان ہوگیا تو پھر تو ان کا کہیں بھی ٹھکانہ نہ رہے گا۔ اس کو اپنے سابقہ دین پر برقرار رکھنے کا بیڑا ابو جہل نے اٹھایا۔ (ولید بن مغیرہ کے بعد قریش کی سیادت ابو جہل کے ہاتھ آئی تھی) جب ابو جہل نے اسے سمجھایا کہ اگر وہ مسلمان ہوگیا تو اس کی سب عزت و جاہ خاک میں مل جائے گی اور اسے قریش کی سیادت سے بھی دستبردار ہونا پڑے گا۔ تو وہ اسلام لانے سے رک گیا۔ اب ایک اور اہم مسئلہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 26–29

12۔ ذکر اس یوم آخرت کے سلسلہ میں جہنم کی شدت عذاب اور ہولناکیوں کا ہورہا ہے۔ (آیت) ” ادرک ماسقر “۔ دوسری زبانوں کی طرح عربی فن بلاغت میں بھی کلام میں زور، اثر، جوش وتاکید کے موقع پر سوالات سے کام لیا جاتا ہے۔ (آیت) ” لاتبقی “۔ یعنی کوئی کافر دوزخی ایسا نہ ہوگا جسے وہ اپنے اندر جلانے سے باقی رہنے دے۔ (آیت) ” ولا تذر “۔ یعنی کسی کافر کو اپنے اندر لے لینے سے نہ چھوڑے گی ،

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 11–30

ذرنی و من خلقت وحیدا یہ کلمہ وعید اور تہدید کے لئے ہے، یہ شخص جسے میں نے ماں کے پیٹ سے اکیلا پیدا کیا ہے اس کے پاس نہ مال تھا اور نہ اولاد، یہ ولید بن مغیرہ کی طرف اشارہ ہے، اللہ نے اسے اولاد ذکور سے نوازا تھا اس کے دس بارہ لڑے تھے جو ہر وقت اس کے پاس رہتے تھے، مجلسوں اور محفلوں میں بلائے جاتے تھے، گھر میں دولت کی فراوانی تھی، اس لئے بیٹوں کو کاروبار اور تجارت کے لئے باہر جانے کی ضرورت نہیں تھی، بارہ بیٹوں میں سے تین مسلمان ہوگئے تھے، خالد، ہشام اور ولید بن ولید۔ (فتح القدیر)

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 20–30

(20۔ 30) اور پھر مکرر اس پر خدا کی پھٹکار ہو کہ اس نے حضور کے بارے میں کیسی بات تجویز کی پھر اپنی تجویز کردہ بات کو دیکھا یا یہ کہ صحابہ کرام نے جب اس کو اسلام کی دعوت دی تو اس نے ان کی طرف دیکھا پھر اپنا مونہہ بنا لیا اور پھر زیادہ مونہہ بگاڑا اور پھر صحابہ کرام سے مونہہ پھیر کر اپنے گھر کو چلا اور ایمان قبول کرنے سے تکبر کیا۔ پھر کہنے لگا کہ محمد جو کہتے ہیں یہ تو مسیلمہ کذاب سے منقول شدہ جادو ہے یا یہ کہ جبر و یسار سے، یہ تو صرف جبر و ویسار کا کلام ہے، میں آخرت میں ولید بن مغیرہ کو دوزخ کے چھوٹے دروازہ میں داخل کروں گا اور اے محمد آپ کو کچھ خبر ہے کہ دوزخ کیسی چیز ہے وہ انسان کے گوشت کو…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 26–27

ساصلیہ سقر…:”سقر“ جہنم کا ایک نام ہے، علم اور مونث ہونے کی وجہ سے غیر متصرف ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 27–28

وما ادراک ماسقر۔ یہ اس کے وصف میں مبالغہ کے لیے ہے تجھے کس چیز نے بتایا کہ وہ کیا چیز ہے ؟ یہ کلمہ تعظیم ہے پھر اس کی تفسیر بیان کی، ارشاد فرمایا، لاتبقی ولاتذر، وہ انکی ہڈی، گوشت اور خون نہیں چھوڑے گا، وہ سب کچھ جلادے گی تاکید کے طور پر اسے مکرر ذکر کیا ہے، ایک قول یہ کیا گیا ہے، ان میں سے کسی چیز کو نہیں چھوڑے گی، پھر انہیں تازہ جسموں کے ساتھ لایاجائے گا وہ انہیں چھوڑے گی یعنی دوبارہ اسی طرح جلادے گی، یہ سلسلہ اسی طرح چلتا رہے گا مجاہد نے کہا، ان میں سے جو زندہ ہوگا انہیں باقی نہ رکھے گی اور نہ اسے مردہ چھوڑے گی جب بھی انہیں نئے جسم عطا کیے جائیں گے آگ انہیں جلاتی رہے گی، سدی نے کہا، وہ ان…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 24–27

24۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے ابو رزین (رح) سے روایت کیا کہ آیت ان ہذا الا سحر یوثر یہ تو ایک جادو ہے جو چلا آتا ہے یعنی وہ اپنے غیر سے چلا آتا ہے۔ 25۔ ابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ سفر سے مراد ہے جہنم کا نچلہ طبقہ اس میں آگ ہے اور زقوم کا درخت ہے۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَمَآ اَدْرٰىكَ مَا سَقَرُ : اور آپ ﷺ کیا جانیں کیا ہے جھلسانے والی ] ترکیب : (آیت۔ 27) سَقَرُ غیر منصرف ہے اور مؤنث سماعی بھی ہے۔ اس لیے آگے مُبْقِیْ ۔ تَذَرُ ۔ لَوَّاحَۃٌ اس کے لیے مؤنث کے صیغے آئے ہیں اور آگے اس کے لیے ضمیریں بھی مؤنث کی آئی ہیں۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 24–30

﴿ فَقَالَ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ يُّؤْثَرُۙ0024 اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا قَوْلُ الْبَشَرِؕ0025﴾ (پھر کہنے لگا یہ تو بس جادو ہی ہے جو منقول ہے یعنی دوسروں سے لیا گیا ہے اور یہ اللہ کا کلام نہیں ہے اور نہ اللہ کا بھیجا ہوا ہے بلکہ انسانوں کا کلام ہے) ۔ ولید بن مغیرہ کی یہ بات نقل کر کے ارشاد فرمایا ﴿ سَاُصْلِيْهِ سَقَرَ 0026﴾ (میں اسے دوزخ میں داخل کروں گا) ﴿ وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا سَقَرُؕ0027﴾ (اور اے مخاطب تجھے کچھ خبر ہے کہ دوزخ کیسی چیز ہے) ﴿ لَا تُبْقِيْ وَ لَا تَذَرُۚ0028﴾ (نہ وہ باقی رہنے دے گی نہ چھوڑے گی) ﴿ لَوَّاحَةٌ لِّلْبَشَرِۚۖ0029﴾ (وہ بدن کی حالت کو بگاڑ کر رکھ دے گی) ﴿ عَلَيْهَا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–31

حکم اعلان توحید و رسالت سید المرسلین ﷺ وتہدید ومذمت براعراض مجرمین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” یایھا المدثر قم فانذر ........ الی ....... الا ذکری للبشر “۔ (ربط) سورة مزمل کے آخر میں بالخصوص احکام خداوندی کی اطاعت کا حکم فرمایا گیا تھا اور یہ کہ ایمان کا تقاضا ہے کہ اہل ایمان نمازیں قائم رکھیں اور زکوٰۃ ادا کرتے رہیں اور حق تعالیٰ کی راہ میں انفاق وایثار سے کبھی بھی گزیر نہ کریں یہ تو اللہ رب العزت کی بارگاہ میں ایک قرض حسن سے جو بڑی ہی برکتوں اور زیادتیوں کے ساتھ قرض دینے والوں کو واپس ملے گا اور دار آخرت کے واسطے بہترین ذخیرہ ہے جو دنیاوی زندگی میں ہی آخرت کے لیے مہیا کیا جاتا ہے اور وہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 26–30

9:۔ ” ساصلیہ سقر “ یہ تخویف اخروی ہے۔ میں اس کو سقر میں داخل کروں گا۔ سقر ایسی تیز اور سخت آگ کا دوزخ ہے کہ ” لا تبقی ولا تذر “ کہ ہڈی پسلی چھوڑے گی نہ گوشت پوست ” لواحۃ للبشر “ بشرۃ کی جمع ہے، سقر کی آگ دوزخیوں کے چمڑوں کو جلا کر سیاہ اور بد شکل بنا دے گی۔ دوزخ پر ہم نے انیس فرشتے یا فرشتوں کی انیس صفیں مقرر کر رکھیں ہیں۔ والاول اصح۔ اور پھر یہ دوزخ کے خزان آدمی یا جن نہیں بلکہ فرشتے ہیں جو طاقت و قوت میں جن وانس پر فائق ہیں۔ اہل دوزخ جن وانس کے لیے ان کے دلوں میں رحمت و شفقت کا کوئی جذبہ نہیں ہوگا اور نہ دوزخیوں کے بارے میں احکام خداوندی کی تعمیل میں کوتاہی کا احتمال ہی ہوگا۔

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَمَآ اَدْرٰىكَ مَا سَقَرُ۝ 27 ۭ ما مَا في کلامهم عشرةٌ: خمسة أسماء، وخمسة حروف . فإذا کان اسما فيقال للواحد والجمع والمؤنَّث علی حدّ واحد، ويصحّ أن يعتبر في الضّمير لفظُه مفردا، وأن يعتبر معناه للجمع . فالأوّل من الأسماء بمعنی الذي نحو : وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ما لا يَضُرُّهُمْ [يونس/ 18] ثمّ قال : هؤُلاءِ شُفَعاؤُنا عِنْدَ اللَّهِ [يونس/ 18] لمّا أراد الجمع، وقوله : وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ما لا يَمْلِكُ لَهُمْ رِزْقاً ... الآية [ النحل/ 73] ، فجمع أيضا، وقوله : بِئْسَما يَأْمُرُكُمْ بِهِ إِيمانُكُمْ [ البقرة/ 93] . الثاني : نكرة . نحو : نِعِمَّا يَعِظُكُمْ بِهِ [ النساء/…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 17–28

1 ؎ جھنڈی پر چڑھانا محاورہ ہے بدنام کرنے اور بلا میں مبتلا کرنے کا۔

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 26–29

سَاُصْلِیْہِ سَقَرَ ۔ وَمَـآ اَدْرٰ کَ مَا سَقَرُ ۔ لاَ تُبْـقِیْ وَلاَ تَذَرُ ۔ لَوَّاحَۃٌ لِّلْبَشَرِ ۔ (المدثر : 26 تا 29) (میں عنقریب اسے دوزخ میں جھونک دوں گا۔ اور تم کیا جانو کہ کیا ہے وہ دوزخ۔ نہ ترس کھائے اور نہ چھوڑے۔ کھال جھلس دینے والی۔ ) معاندین کا انجام ولید بن مغیرہ کی معاندانہ سرکشی اور اس کے الزام کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا کہ میں اسے عنقریب دوزخ میں جھونک دوں گا یعنی قیامت کے روز اسے جہنم کی آگ میں جلایا جائے گا۔ اور اہل مکہ چونکہ دوزخ اور جہنم کو درخورِاعتنا نہیں سمجھتے تھے کیونکہ انھیں قیامت کے برپا ہونے کا یقین نہیں تھا، اس لیے انھیں تنبیہ کرتے ہوئے اور توجہ دلاتے ہوئے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 26–31

فہم القرآن ربط کلام : مجرم شخص کو جس کٹھن گھاٹی پر چڑھائے جانے کی دھمکی دی گئی ہے وہ جہنم ہے۔ جو لوگ اللہ تعالیٰ کے فرامین کا انکار کرتے ہیں انہیں بہت جلد جہنم میں جھونکا جائے گا۔ اے قرآن پڑھنے والے ! تو نہیں جانتا ہے کہ جہنم کیا ہے ؟ وہ اللہ کا تیار کیا ہوا عقوبت خانہ ہے جس میں مجرم کو موت نہیں آئے گی اور نہ اس کی زندگی ہوگی گویا کہ وہ موت وحیات کی کشمکش میں مبتلا رہے گا۔ وہ چمڑی ادھیڑ دینے والی آگ ہے اس پر انیس فرشتے مقرر کیے گئے ہیں اور یہ تعداد کفار کے لیے آ زمائش بنا دی گئی ہے ہاں یہ ان لوگوں کے لیے آزمائش نہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے ایمان لانے کی توفیق بخشی ہے۔ جنت کے فرشتوں کی تعداد اس…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

27 : وَمَآ اَدْرٰکَ مَا سَقَرُ ( اور تم کو کچھ خبر ہے کہ دوزخ کیسی چیز ہے۔ اس میں قیامت کی ہولناک حالت سے ڈرایا گیا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

26 ۔ اللہ فرماتے ہیں ” ساصلیہ “ عنقریب میں اس کو داخل کروں گا۔ ” سقر “ جہنم کے ناموں میں سے ایک نام ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 11–30

11۔ 30۔ ان آیتوں کی شان نزول صحیح سند سے مستدرک 2 ؎ حاکم وغیرہ میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ نے جو بیان فرمائی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ ولید بن مغیرہ آنحضرت ﷺ کے پاس آیا اور آپ ﷺ نے اس کو قرآن شریف کی کچھ آیتیں پڑھ کر سنائیں جس سے اس کا دل کسی قدر نرم ہوا یہ خبر ابوجہل کو پہنچی اس نے ولید بن مغیرہ سے کہا کہ قوم کے لوگ تم سے ہرگز خوش نہ ہوں گے جب تک قرآن کے بارے میں تم ان کی مرضی کے موافق کوئی بات نہ کہو گے ولید بن مغیرہ نے جواب دیا کہ اچھا میں سوچ کر اس بارے میں کچھ کہوں گا پھر اس نے اپنے وعدہ کے موافق لوگوں کے سامنے قوم کے لوگوں کو خوش کرنے کے لئے یہ بات کہی جس کا ذکر ان آیتوں میں ہے کہ یہ قرآن…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 26–28

پس یہ سخت عذاب کے سوا کسی چیز کا مستحق نہیں، بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا (سَاُصْلِيْهِ سَقَرَ ۔ وَمَآ اَدْرٰىكَ مَا سَقَرُ ۔ لَا تُبْقِيْ وَلَا تَذَرُ ) ہم عنقریب اس کو، سقر، میں داخل کریں گے اور تمہیں کیا معلوم کہ، سقر، کیا ہے ؟ (وہ آگ ہے) کہ باقی رکھے گا نہ چھوڑے گی، یعنی جہنم کوئی ایسی سختی نہیں چھوڑے گی جو عذاب دیے جانے والے کو نہ پہنچے۔

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 6–56

عطیہ اس نیت سے نہ دیا جائے کہ بدلے میں عطیہ ملے قول باری ہے (ولا تمنن تستکثر۔ اور احسان نہ کرو زیادہ حاصل کرنے کے لئے) حضرت ابن عباس ؓ ، ابراہیم نخعی، مجاہد، قتادہ اور ضحاک کا قول ہے کہ کوئی عطیہ اس نیت سے نہ دو کہ تمہیں اس کے بدلے میں اس سے زیادہ دیا جائے۔ حضن بصری اور ربیع بن انس کا قول ہے کہ اپنی نیکیوں کو زیادہ سمجھتے ہوئے اللہ پر ان کا احسان نہ دھرو کہ پھر اللہ کے ہاں تمہاری یہ نیکیاں گھٹ جائیں۔ دوسرے حضرات کا قول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو نبوت اور قرآن کی جو دولت عطا کی ہے لوگوں سے زیادہ اجر حاصل کرنے کی نیت سے اس کا احسان نہ جتلائیں۔ مجاہد سے یہ بھی منقول ہے کہ اپنی طاعت کو کثیر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 25–28

16 ۔ اپنے ضمیر کے خلاف رائے کا اظہار : سو ارشاد فرمایا گیا کہ پھر اس نے اپنی قوم کو خوش کرنے کے لئے کہا یعنی اپنے ضمیر کی اس آواز و پکار کیخلاف جس کا اظہار اس نے قرآن پاک کی حقانیت اور اس کی صداقت کے بارے میں اس سے پہلے صاف اور صریح طور پر کیا تھا، سو جب کسی پر اس کے حق سے بغض وعناد کی بدبختی چھا جاتی ہے تو اس کی مت اسی طرح مار کر رکھ دی جاتی ہے۔ والعیاذ باللہ جس کے نتیجے میں وہ اسی طرح پاگلوں کی باتیں کرنے لگتا ہے۔ والعیاذ باللہ اور مزید یہ کہ اپنی اس حماقت کو وہ اپنی چالاکی اور ہوشیاری سمجھتا ہے والعیاذ باللہ حالانکہ وہ اس کی محرومی اور بدبختی کا ثبوت ہوتا ہے اور اس طح ایسا شخص محرومی در…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 11–38

منکرین اور ان کا انجام تشریح : آیت گیارہ سے آگے تک جس شخص کی خصوصیات بیان کی گئی ہیں وہ ہر اس شخص کے لیے مخصوص ہیں جو خراب بری عادات والا ہو مگر تمام مفسرین نے اور خاص طور سے تفسیر ابن کثیر میں اس شخص کا نام ولید بن مغیرہ مخزومی بتایا گیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جو شخص بھی اللہ کی دی ہوئی تمام نعمتوں سے مالامال ہو اور وہ شکر ادا نہ کرے اللہ کا کلام اس کے پاس پہنچے وہ اس کی تصدیق بھی کرے اس کو سچ بھی جانے مگر کیا کہیں کہ ہٹ دھرمی بےوقوفی یا آباو اجداد کی پیروی کا خیال کرتے ہوئے یا پھر اپنے دوست احباب کا خیال کرتے ہوئے۔ غرض کوئی بھی وجہ ہو اور وہ اللہ پر ایمان نہ لائے اور اللہ اور اسکے رسول ﷺ اور…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–31

سورة المدثر۔ آیات 1 تا 31۔ اسرار ومعارف۔ سورة مدثر بھی پہلی پہلی صورتوں میں سے ہے اور مدثر ومزمل کا مفہوم ایک ہے بعض کے نزدیک پہلے سورة مزمل کی آیات نازل ہوئیں اور پھر مدثر کی بعض نے مدثر کو پہلے لکھا ہے مگر قرائن سے مزمل کا پہلے ہونا معلوم ہوتا ہے کہ اس میں ذاتی اعمال کی بات ہے اور مدثر میں قوم سے خطاب کرنے کا حکم ہے بہرحال نہایت ابتدائی سورتوں میں سے ہیں جب ایک دولوگ ہی مسلمان تھے تو فرمایا اے لپیٹ کر سونیو الے اٹھیے اور لوگوں کو دعوت دیجئے اور اپنے رب کی توحید اور بڑائی بیان کیجئے۔ لباس کی پاکیزگی۔ اپنے لباس کو پاک کیجئے ، مراد ماحول بھی ہے کردار بھی اور حقیقتا سارامال اور معاشی نظام مقصود…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 27–29

ف 4 بشر کے ایکم عنی ” کھال “ کے ہیں اور دوسرے معنی ” لوگوں “ کے اس لئے دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ” وہ لوگوں (یعنی دوزخیوں) کو (جلا کر) کالا کر دے گی۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(74:27) وما ادرک ما سقر۔ واؤ عاطفہ ما استفہامیہ ادرک ادری ماضی واحد مذکر غائب۔ ادراء (افعال) مصدر درء مادہ (مجرد باب ضرب سے آتا ہے) ک ضمیر مفعول واحد مذکر حاضر، تم کو کون بتائے یا تم کو کیا معلوم کہ سقر کیا ہے۔ جملہ استفہامیہ سقر کی عظمت کو بیان کر رہا ہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–31

لغات القرآن۔ المدثر۔ چادر اوڑھ لپیٹ کر لیٹنے والے۔ ثیاب۔ کپڑے۔ الرجز۔ گندگی ۔ ناپاکی۔ اھجر۔ اس کو چھوڑو۔ دوررہ۔ لاتمنن۔ احسان نہ جتا۔ تستکثر۔ زیادہ کی طلب۔ نقر۔ بچایا گیا۔ پھونکا گیا۔ الناقور۔ صور۔ وحید۔ تنہا۔ اکیلا۔ ممدود۔ پھیلایا گیا۔ شھود۔ سامنے۔ ہر جگہ۔ مھدت۔ میں نے تیار کردیا۔ یطمع۔ امید رکھتا ہے۔ عنید۔ نہ ماننے والا۔ ارھق ۔ میں چڑھا دوں گا۔ صعود۔ چڑھائی۔ اونچائی۔ عبس۔ اس نے تیوری چڑھائی۔ بسر۔ اس نے کڑوا سا منہ بنایا۔ یوثر۔ پہلے چلا آتا ہے۔ سقر۔ آگ۔ لاتذر۔ پیچھا نہ چھوڑے گی۔ لواحۃ۔ جھلس ڈالنے والی۔ تسعۃ عشر۔ انیس۔ تشریح : اللہ تعالیٰ… کی طرح نہایت شفقت و محبت سے نبی مکرم حضرت محمد مصطفیٰ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

(ف 1) یعنی دوزخیوں کی کوئی چیز باقی نہ رہنے دے گی، جو جلنے سے بچ جائے پھر جلانے کے بعد اس حالت پر بھی نہ چھوڑے گی بلکہ دوبارہ اصلی حالت پر لوٹائے جائیں گے اور جلیں گے یہی سلسلہ ہمیشہ جاری رہے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 26–28

[10] یعنی کافروں میں سے کسی کو باقی رہنے نہ دے گی کہ اس کی گرفت میں آئے بغیر رہ جائے اور جو بھی اس کی گرفت میں آئے گا اسے عذاب دئیے بغیر نہ چھوڑے گی۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 25–35

ف 1: قرآن حکیم میں بعض مقامات ایسے ہیں ۔ جہاں ہمارے جذبات عقیدت ونیازمندی کا امتحان ہوتا ہے ۔ ان تک عقل وفہم کی رسائی نہیں ہوسکتی البتہ ایمان اور یقین کی روشنی سے ان تک پہنچاجاسکتا ہے ۔ اس لئے ان مقدمات میں بحث اور دلائل شماری محض بےکار ہوتی ہے ۔ بلکہ یہاں ضرورت ہے اس بات کی کہ آنکھیں بند کرکے تسلیم کرلیا جائے اور اگر حقیقت بہت زیادہ بغاوت کرے ۔ تو اس کو یہ کہہ کردبا دیا جائے کہ ہر منزل میں تمہاری راہنمائی قطعاً بےسود ہے ؎ اچھا ہے دل کے ساتھ رہے پاسبان عقل لیکن کبھی کبھی اسے تنہا بھی چھوڑ دے ان مقامات میں جنت اور دوزخ کی تفصیلات ہیں ۔ کہ ان کا اس دنیا میں معلوم ہونا ناممکن ہے ۔ اسی لئے جہنم…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(27) اور اے پیغمبر آپ کو خبر ہے کہ سقر کیسی چیز ہے سوال اس کی تھویل اور ہوگنا کی بیان کرنے کے لئے ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 5–29

ف 4۔ باوجود احتمال نہ ہونے کے یہ امر فرمانا اشارہ ہے اہتمام شان توحید کی طرف کہ ایسی ضروری چیز ہے کہ معصوم کو بھی باوجود احتیاج نہ ہونے کے اس کی تعلیم کی جاتی ہے تو غیر معصوم تو بدرجہ اولی اس کا مکلف ہوگا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

Explained with ayahs 24–30

(پھر بولا کہ یہ) جو محمد کہتے ہیں (بس جادو ہی کی نقل کی جاتی ہے ) یعنی یہ قرآن تو وہی جادو ہے جو پہلے سے نقل ہوتا چلا آتا ہے۔ (یہ نہیں ہے مگر بشر کا کلام) ۔ ولید بن مغیرہ نے یہ محض سرکشی وعناد سے کہا نہ کہ اعتقاد سے ، کیونکہ مروی ہے کہ اس نے پہلے اقرار کیا تھا کہ یہ کلام کسی انس و جن کا نہیں ، بشر سے اس کی مراد (1) یسار (2) حبیر (3) ابو فکیہہ ہے۔ پہلے دو فارس کے دو غلام تھے ، وہ مکہ معظمہ میں رہتے تھے۔ رسول اللہ کا ان کے یہاں اٹھنا بیٹھنا ہوتا تھا۔ اور ابو فکیہہ رومی غلام تھا ، وہ مسیلمہ کذاب یمانہ والے کی طرف سے مکہ معظمہ میں آیا جایا کرتا تھا۔ (جلد جھونک دوں گا میں اسے جہنم میں) یعنی سقر…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 12–30

The Annual Income of Walid Ibn Mughirah: Ten Million Guineas The disbeliever referred to here is Walid Ibn Mughirah. Allah had favoured him with abundant wealth, property and children. According to Ibn ` Abbas 4his land, property and gardens stretched from Makkah to Ta'if. According to Thauri, his annual income was ten million Dinars. Some scholars have estimated less than this amount. It is, nonetheless, agreed that the income and yearly produce of his fields and gardens were available in every season, winter or summer. Thus the Qur'an says: وَّجَعَلْتُ لَهٗ مَالًا مَّمْدُوْدًا وَّبَنِيْنَ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 25–27

14 The reference is to what happened in the conference of the disbelievers of Makkah. From the details of it that we have given in the Introduction, it becomes obvious that this man in his heart had become fully convenced of the Qur'an's being Divine Word, but in order to save his position as a chief of his people, he was not prepared to affirm faith. When in the conference he himself turned down all the accusations that the Quraish chiefs were proposing against the Holy Prophet (upon whom be peace) , he was compelled to devise an accusation from himself, which could be spread among the Arabs…

Read the full tafseer →