سَاُرْهِقُهٗ صَعُوْدًا ۟ؕسَاُرۡهِقُهٗ صَعُوۡدًا
ہم اسے صعود پر چڑھائیں گے
— Fateh Muhammad Jalandhari
I will cover him with arduous torment.
— Saheeh International
Juz 29 · Ruku 1 of surah · Ruku 15 of juz
سَاُرْهِقُهٗ صَعُوْدًا ۟ؕسَاُرۡهِقُهٗ صَعُوۡدًا
ہم اسے صعود پر چڑھائیں گے
— Fateh Muhammad Jalandhari
I will cover him with arduous torment.
— Saheeh International
Juz 29 · Ruku 1 of surah · Ruku 15 of juz
Read the whole surah · Surah Al-Muddaththir
میں تو اسے عنقریب ایک کٹھن چڑھائی چڑھواؤں گا
ہم اسے صعود پر چڑھائیں گے
عنقریب میں اسے ایک سخت چڑھائی چڑھاؤں گا
عنقریب میں اسے ایک کٹھن چڑھائی پر چڑھاؤں گا۔
قریب ہے کہ میں اسے آگ کے پہاڑ صعود پر چڑھاؤں،
عنقریب میں اسے سخت مشقت (کے عذاب) کی تکلیف دوں گا،
عنقریب میں اسے ایک دشوار گھاٹی چڑھنے کی تکلیف دوں گا۔
میں عنقریب اسے ایک سخت چڑھائی۔ چڑھاؤں گا
میں اس کو عنقریب ایک سخت چڑھائی چڑھائوں گا
میں تو اسے (دوزخ کے ایک پہاڑ یعنی) صعود پر چڑھاؤں گا
میں اسے عنقریب دوزخ کے پہاڑ پر بجبر چڑھا دوں گا۔
میں اسے عنقریب ایک سخت چڑھائی چڑھوائوں گا۔
ہم اسے صعود پر چڑھائیں گے
I shall soon constrain him to a hard ascent.
I will force him to climb the mountain Sa_ud.
I will force him to climb the mountain Sa_ud.
I shall force him to Sa`ud!
On him I shall impose a fearful doom.
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
I will cover him with arduous torment.
We shall make him suffer the torment of hell without relief.
I will make a distressing punishment overtake him.
Anon I shall afflict him with a fearful woe.
Soon will I visit him with a mount of calamities!
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 11–30
جہنم کی ایک وادی، صعود اور ولید بن مغیرہ جس خبیث شخص نے اللہ کی نعمتوں کا کفر کیا اور قرآن کو انسانی قول کہا اس کی سزاؤں کا ذکر ہو رہا ہے، پہلے جو نعمتیں اس پر انعام ہوئی ہیں ان کا بیان ہو رہا ہے کہ یہ تن تنہا خالی ہاتھ دنیا میں آیا تھا مال اولاد دیا اور کچھ اس کے پاس نہ تھا پھر اللہ نے اسے مالدار بنادیا، ہزاروں لاکھوں دینار زر زمین وغیرہ عنایت فرمائی اور باعتبار بعض اقوال کے تیرہ اور بعض اوراقوال کے دس لڑکے دیئے جو سب کے سب اس کے پاس بیٹھے رہتے تھے نوکر چاکر لونڈی غلام کام کاج کرتے رہتے اور یہ مزے سے اپنی زندگی اپنی اولاد کے ساتھ گزارتا، غرض دھن دولت لونڈی غلام بال بچے آرام آسائش ہر طرح کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–24
سورة الْمُدَّثِّر 13 اس کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ اس پر بھی اس کی حرص ختم نہیں ہوئی۔ اتنا کچھ پانے کے بعد بھی وہ بس اسی فکر میں لگا ہوا ہے کہ اسے دنیا بھر کی نعمتیں عطا کردی جائیں۔ دوسرا مطلب حضرت حسن بصری اور بعض دوسرے بزرگوں نے یہ بیان کیا ہے کہ وہ کہا کرتا تھا کہ اگر واقعی محمد ﷺ کا یہ بیان سچا ہے کہ مرنے کے بعد کوئی دوسری زندگی ہے اور اس میں کوئی جنت بھی ہوگی تو وہ جنت میرے ہی لیے بنائی گئی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–30
ولید بن مغیرہ کی آمدنی ایک کروڑ گنیاں سالانہ یہ کافر ولید بن مغیرہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے دنیا کی مال و دولت اور اولاد فراوانی کے ساتھ دی تھی، بقول ابن عباس اس کی زمین جائیداد و باغات مکہ سے طائف تک پھیلے ہوئے تھے اور بقول ثوری اس کی سالانہ آمدنی ایک کروڑ دینار تھی، بعض نے اس سے کم بھی بتلایا ہے۔ اتنا سب کے نزیک مسلم ہے کہ اسکے کھیت اور باغات کی آمدنی اور پیداوار سال بھر سردی گرمی کی ہر موسم میں مسلسل رہت یتھی قرآن کریم میں اسی کو فرمایا ہے وّجَعَلْتُ لَهٗ مَالًا مَّمْدُوْدًا اور یہ عرب کا سردار مانا جاتا تھا۔ لوگوں میں اس کا لقب ریحانہ قریش مشہور تھا یہ خود اپنے آپ کو بطور فخر و بکر کے وحید…
Read the full tafseer →نعمتوں کی ناشکری کرنے والوں کی سزا: ’اِرْہَاقٌ‘ کے معنی کسی مشقت میں ڈالنے کے ہیں اور ’صَعُوْدٌ‘ کسی ایسی چوٹی یا گھاٹی کو کہتے ہیں جس کو عبور کرنا نہایت دشوار ہو۔ یہ سزا بیان ہوئی ہے اس انعام کی ناقدری کی جس کی طرف اوپر ’وَمَہَّدۡتُّ لَہٗ تَمْہِیْدًا‘ کے الفاظ سے اشارہ فرمایا ہے۔ نعمتیں پا کر چونکہ وہ انہی کے پرستار بن کر رہ گئے اور اصل منعم کو بھول کر اپنے نفس ہی کی بندگی میں اس طرح لگ گئے کہ اس کی کسی خواہش کا بھی مقابلہ کرنے کا حوصلہ نہ کر سکے اس وجہ سے ان کو آخرت میں ایک نہایت پرمشقت چڑھائی چڑھنی پڑے گی۔ نیکی اور بدی کے مزاج کا فرق: یہاں نیکی اور بدی کی یہ فطرت پیش نظر رہے کہ ان دونوں کا…
Read the full tafseer →17۔ 1 یعنی ایسے عذاب میں مبتلا کروں گا جس کا برداشت کرنا نہایت سخت ہوگا، بعض کہتے ہیں، جہنم میں آگ کا پہاڑ ہوگا جس پر اس کو چڑھایا جائے گا (فتح القدیر)
Read the full tafseer →6: قرآن کریم میں اصل لفظ ”صعود“ ہے جس کے لفظی معنی پر مشقت چڑھائی کے ہیں۔ اور بعض روایات میں ہے کہ یہ دوزخ کے ایک پہاڑ کا نام ہے۔
Read the full tafseer →سارھقہ صعودا (74:17) ” عنقریب ایک کٹھن چڑھائی چڑھواﺅں گا “۔ مشقت اور دشواری کی یہ بہترین تمثیل وتصویر ہے۔ چڑھائی چڑھنا نہایت مشقت کا عمل ہوتا ہے اور انسان کے لئے سانس لینا دشوار ہوجاتا ہے۔ اور اگر یہ کام کسی سے زبردستی لیا جائے اور چڑھنے والے کی کوئی ذاتی دلچسپی نہ ہو تو یہ عمل پھر مزید دشوار ہوجاتا ہے۔ یہ تمثیل اور تصویر ایک حقیقی تعبیر بھی ہے۔ کیونکہ جو شخص ایمان کے سیدھے ، ہموار اور خوشگکوار راہ سے منحرف ہوجاتا ہے تو اسے انحراف کی راہ میں مشکلات پیش آتی۔ بیشمار ناہمواریاں اور مشکلات ایسے شخص کی زندگی قلق اور بےچینی میں گزرتی ہے۔ وہ ہمیشہ حیران وپریشان رہتا ہے ، گویا اسے زبردست آسمان پر اور…
Read the full tafseer →7 یعنی ابھی اس کو بہت بڑی چڑھائی چڑھنا اور سخت ترین مصائب میں گرفتار ہونا ہے۔ بعض روایات میں ہے کہ " صعود " دوزخ میں ایک پہاڑ ہے جس پر کافر کو ہمیشہ چڑھائیں گے اور گرائیں گے یہ بھی عذاب کی ایک قسم ہے (تنبیہ) ولید ایک بار آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ ﷺ نے قرآن پڑھ کر سنایا۔ جس سے کسی قدر متاثر ہوا۔ مگر ابو جہل نے اس کو ورغلایا اور قریش میں چرچا ہونے لگا کہ اگر ولید مسلمان ہوگیا تو بڑی خرابی ہوگی۔ غرض سب جمع ہوئے اور آپ ﷺ کے بارے میں گفتگو ہوئی کسی نے کہا شاعر ہیں کسی نے کاہن بتلایا ولید بولا کہ میں شعر میں خود بڑا ماہر ہوں اور کاہنوں کی باتیں بھی سب سنی ہیں، قرآن نہ شعر ہے نہ کہانت۔ لوگوں…
Read the full tafseer →آیت 18{ اِنَّہٗ فَکَّرَ وَقَدَّرَ۔ } ”اس نے غور کیا اور کچھ اندازہ کیا۔“ اس نے سوچا کہ دل کی بات زبان پر لانے یعنی حق کو مان لینے سے کیا ہوگا اور نہ ماننے کا کیا نتیجہ نکلے گا۔ پھر جب اسے اپنے دنیوی مفادات خطرے میں پڑتے نظر آئے تو اس نے ضمیر کی آواز کو دبالینے کا فیصلہ کرلیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
10۔ ا لف اس کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ میں اس کو اس کی زندگی میں سخت مشکلات سے دو چار کردوں گا اور دوسرا مطلب اخروی عذاب سے تعلق رکھتا ہے۔ جیسا کہ درج ذیل حدیث سے معلوم ہوتا ہے۔ ابو سعید کہتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : صعود دوزخ میں ایک پہاڑ ہے جس پر دوزخی کو چڑھایا جائے گا۔ پھر اسے وہاں سے نیچے گرایا جائے گا اسے ہمیشہ یہی عذاب ہوتا رہے گا۔ (ترمذی ابو اب التفسیر)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
7۔ (جب اسے اپنی سرکشی ونافرمانی کا مزہ معلوم ہوگا) (آیت) ” سارھقہ صعودا “۔ صعود۔ دوزخ کی ایک پہاڑی کا نام ہے دوزخی اس پر چڑھے گا اور پھر گرے گا۔ گرے گا اور پھر چڑھے گا، اور عذاب یہ صورت دائمی رہے گی۔ اور یہ سزا اس کے اس عناد کی ہوگی جو اسے حق کے ساتھ دنیا میں رہا کیا تھا۔ (آیت) ” کلا “۔ یعنی وہ ہرگز اس قابل نہیں۔ (آیت) ” لایتنا “۔ ایات سے مراد کلام الہی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–30
ذرنی و من خلقت وحیدا یہ کلمہ وعید اور تہدید کے لئے ہے، یہ شخص جسے میں نے ماں کے پیٹ سے اکیلا پیدا کیا ہے اس کے پاس نہ مال تھا اور نہ اولاد، یہ ولید بن مغیرہ کی طرف اشارہ ہے، اللہ نے اسے اولاد ذکور سے نوازا تھا اس کے دس بارہ لڑے تھے جو ہر وقت اس کے پاس رہتے تھے، مجلسوں اور محفلوں میں بلائے جاتے تھے، گھر میں دولت کی فراوانی تھی، اس لئے بیٹوں کو کاروبار اور تجارت کے لئے باہر جانے کی ضرورت نہیں تھی، بارہ بیٹوں میں سے تین مسلمان ہوگئے تھے، خالد، ہشام اور ولید بن ولید۔ (فتح القدیر)
Read the full tafseer →سارھقہ صعودا . میں اس پر سخت عذاب ڈھانک دوں گا۔ صعود ایسا سخت عذاب جو ہر عذاب سے بڑھ کر ہو ‘ سب پر غالب ہو۔ حضرت ابوسعید خدری ؓ کی روایت ہے کہ آیت : سارھقہ صعودًا کی تشریح میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : وہ دوزخ میں آگ کا ایک پہاڑ ہے ‘ ولید کو اس پر چڑھنے کا حکم ہوگا ‘ جب وہ اپنا ہاتھ اس پر رکھے گا تو ہاتھ پگھل جائے گا اور جب اٹھا لے گا تو دوبارہ پھر اصلی حالت پر ہوجائے گا اور جب اس پر قدم رکھے گا تو قدم پگھل جائے گا پھر جب قدم کو اٹھا لے گا تو قدم پھر اصلی حالت پر ہوجائے گا۔ (بغوی) بغوی نے حضرت عمر ؓ کی روایت سے بھی اس حدیث کو نقل کیا ہے۔ احمد ‘ ترمذی ‘ ابن حبان اور حاکم نے بھی یہ روایت کی ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–17
پھر بھی ولید اپنے مال کی زیادتی کی ہوس رکھتا ہے حالانکہ وہ میری نافرمانی کرتا ہے ہرگز وہ زیادہ دینے کے قابل نہیں، چناچہ اس کے بعد اس کا مال برابر رہا کیونکہ وہ ہماری کتاب کا اور رسول کا دشمن اور اس کی تکفیر کرنے والا ہے، میں عنقریب اسے دوزخ کے پہاڑ پر چڑھاؤں گا اس کی کیفیت یہ ہوگی کہ جس وقت وہ اس پر ہاتھ رکھے گا تو وہ گھل جائے گا اور پھر اپنی سابقہ حالت پر آجائے گا یا یہ کہ وہ پہاڑ پیتل کا ہوگا اس کے سامنے سے اس کو کھینچے گا اور پیچھے سے مارے گا۔
Read the full tafseer →سارھقۃ صعوداً :”سازھقۃ“ ”ارھق یرھق“ (افعال) کسی کو ایسے کام کی تکلیف دینا جس کی وہ طاقت نہ رکھتا ہو۔ ”صوداً“ (صعد یصعد“ (س) (چڑھنا) سے ، سخت دشوار گھاٹی۔ یعنی میں اسے قیامت کے دن ایک دشوار گزار گھاٹی پر چڑھنے کے لئے مجبور کروں گا۔ قیامت کے دن کی اور جہنم کی مصیبتیں جھیلنے پر مجبور کرنے کو دشوار چڑھائی کی تکلیف دینے کے الفاظ میں بیان فرمایا ہے۔ ترمذی میں ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ ”سعود“ آگ کا ایک پہاڑ ہے جس پر کافر ہمیشہ ستر (70) برس چڑھتا رہے گا اور اتنا عرصہ ہی اترتا رہے گا۔ (دیکھیے ترمذی، 2576، 3326) مگر اس کی سند کمزور ہے۔
Read the full tafseer →سارھقہ صعودا۔ میں اسے صعودا پر چڑھنے کا مکلف بناؤں گا حضرت ابن مسعود کہا کرتے تھے میں اسے مجبور کروں گا کلام عرب میں ارقا سے مراد یہ ہے کہ انسان کو کسی شی پر مجبور کیا جائے، صعودا جہنم میں ایک پہاڑ ہے جہنمی ستر سال تک اس پر چڑھتا رہے گا پھر اتنا عرصہ نیچے گرتا رہے گا یہ ہمیشہ اسی طرح ہوگا۔ حضرت ابوسعید نبی کریم سے روایت نقل کرتے ہیں امام ترمذی نے اسے نقل کیا ہے اس بارے میں انہوں نے کہا، یہ حدیث غریب ہے۔ عطیہ نے حضرت ابوسعید خدری سے روایت نقل کی ہے کہ صعود جہنم میں ایک چٹان ہے جب جہنمی اس پر اپنا ہاتھ رکھیں گے تو ان کے ہاتھ پگھل جائیں گے اور جب اسے اٹھائیں گے تو وہ ہاتھ ٹھیک ہوجائیں گے، کہا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–21
19۔ ابن المنذر نے عکرمہ کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت سارھقہ صعودا میں صعود ایک پہاڑ ہے دوزخ میں۔ 20۔ عبد بن حمید نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ صعودا جہنم میں ایک پہاڑ ہے۔ 21۔ عبد بن حمید نے ضحاک (رح) سے آیت سارھقہ صعودا کے بارے میں روایت کیا کہ صعود جہنم میں ایک چکنی چٹان ہے جہنمیوں کو اس پر چڑھنے کے لیے مجبور کیا جائے گا۔ 22۔ عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت سارھقہ صعود سے مراد ہے عذاب کی مشقت۔
Read the full tafseer →[سَاُرْهِقُهٗ صَعُوْدًا : میں مبتلا کروں گا اس کو ایک دشوار چڑھائی میں ]
Read the full tafseer →اس کے بعد فرمایا ﴿ سَاُرْهِقُهٗ صَعُوْدًاؕ0017﴾ (میں اسے صعود پر چڑھاؤں گا) حضرت ابو سعید خدری ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ” صعود “ آگ کا ایک پہاڑ ہے جس پر دوزخی کو ستر سال تک چڑھایا جائے گا۔ جب ایک بار چڑھایا جائے گا تو اسی طرح ستر سال تک اترتا رہے گا اور ہمیشہ اسی طرح ہوتا رہے گا یعنی ہمیشہ ہمیشہ چڑھنے اور اترنے میں رہے گا اس سے کبھی فارغ نہ ہوگا (اور یہ اترنا چڑھنا جبری ہوگا) ۔ (رواہ الترمذی)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–31
حکم اعلان توحید و رسالت سید المرسلین ﷺ وتہدید ومذمت براعراض مجرمین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” یایھا المدثر قم فانذر ........ الی ....... الا ذکری للبشر “۔ (ربط) سورة مزمل کے آخر میں بالخصوص احکام خداوندی کی اطاعت کا حکم فرمایا گیا تھا اور یہ کہ ایمان کا تقاضا ہے کہ اہل ایمان نمازیں قائم رکھیں اور زکوٰۃ ادا کرتے رہیں اور حق تعالیٰ کی راہ میں انفاق وایثار سے کبھی بھی گزیر نہ کریں یہ تو اللہ رب العزت کی بارگاہ میں ایک قرض حسن سے جو بڑی ہی برکتوں اور زیادتیوں کے ساتھ قرض دینے والوں کو واپس ملے گا اور دار آخرت کے واسطے بہترین ذخیرہ ہے جو دنیاوی زندگی میں ہی آخرت کے لیے مہیا کیا جاتا ہے اور وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–25
8:۔ سارھقہ صعودا۔ یہ تخویف اخروی ہے۔ صعود دوزخ میں آگ کا نہایت ہی بلند پہاڑ ہے جس پر چڑھنے کے لیے جہنمیوں کو مجبور کیا جائے گا۔ یہ بھی ایک قسم کا نہایت تکلیف دہ عذاب ہوگا۔ ” انہ فکر “ یہ اس کی سزا کی علت ہے اس نے قرآن اور پیغمبر کے بارے میں غور و فکر کیا کہ ان کی حقیقت کیا ہے پھر اپنے ذہن میں ایک بات طے کرلی کہ یہ قرآن جادو ہے اور محمد ﷺ جادوگر ہے (العیاذ باللہ) ۔ اس ملعون اور راندہ درگاہ ایزدی نے یہ فیصلہ کس طرح کرلیا۔ اس کے بعد اس نے نظر اٹھا کر دیکھا، ترش رو ہوا اور سخت ناک بھوں چڑھائی اور پھر پیٹھ پھیر کر غرور و نخوت سے چل دیا اور کہنے لگا یہ تو جادو ہے جو بابل کے جادوگروں سے چلا آرہا ہے…
Read the full tafseer →سَاُرْہِقُہٗ صَعُوْدًا 17 ۭ رهق رَهِقَهُ الأمر : غشيه بقهر، يقال : رَهِقْتُهُ وأَرْهَقْتُهُ ، نحو ردفته وأردفته، وبعثته وابتعثته قال : وَتَرْهَقُهُمْ ذِلَّةٌ [يونس/ 27] ، وقال : سَأُرْهِقُهُ صَعُوداً [ المدثر/ 17] ، ومنه : أَرْهَقْتُ الصّلاة : إذا أخّرتها حتّى غشي وقت الأخری. ( ر ھ ق ) رھقہ ( س ) رھقا ۔ الامر ۔ کسی معاملہ نے اسے بزور و جبر دبا لیا ۔ اور رھقہ وارھقہ ( مجرد و مزید فیہ ) دونوں کے ایک ہی معنی ہیں جیسے ۔ ردفہ اردفہ وبعثہ وابعثہ ۔ قرآن میں ہے ۔ وَتَرْهَقُهُمْ ذِلَّةٌ [يونس/27] اور ان پر ذلت چھا رہی ہوگی ۔ سَأُرْهِقُهُ صَعُوداً [ المدثر/ 17] ہم عنقریب اس کو عذاب سخت میں مبتلا کردیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–28
1 ؎ جھنڈی پر چڑھانا محاورہ ہے بدنام کرنے اور بلا میں مبتلا کرنے کا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
کَلاَّ طاِنَّـہٗ کَانَ لِاٰیٰـتِنَا عَنِیْدًا۔ سَاُرْھِقُہٗ صَعُوْدًا۔ (المدثر : 16، 17) (ہرگز نہیں، وہ ہماری آیات سے عناد رکھنے والا ہے۔ میں اس کو عنقریب ایک سخت چڑھائی چڑھائوں گا۔ ) احسان ناشناسی کی سزا یعنی وہ جو توقع رکھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مزید نعمتیں اسے میسر آئیں گی اور قیامت کے دن بھی دنیا ہی کی طرح اسے نوازا جائے گا، فرمایا ایسا ہرگز نہیں ہوگا۔ اس کا یہ خواب ہرگز پورا ہونے والا نہیں۔ اللہ تعالیٰ جس کو بھی نعمتیں دیتا ہے وہ اس کے حق کی حیثیت سے نہیں دیتا بلکہ ان کے لیے آزمائش بناتا ہے کہ وہ یہ نعمتیں پا کر شکرگزار اور فرمانبردار رہتے ہیں یا خودسر مغرور یا خدا کے باغی بن جاتے ہیں۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–25
فہم القرآن ربط کلام : اللہ کے رسول نے جونہی لوگوں کو اللہ کی توحید کی دعوت دی تو وہ لوگ آپ کی جان کے دشمن ہوگئے اور انہوں نے آپ کی مخالفت میں ایڈی چوٹی کا زور لگا دیا۔ ایسے لوگوں کو ان کا انجام بتلایا گیا ہے کہ آج تم اپنی طاقت پر گھمنڈ کرتے ہو۔ وہ وقت یاد کرو جس دن صور پھونکا جائے گا۔ انکار کرنے والوں کے لیے یہ دن بڑا سخت ہوگا اور اس کی سختی کا کوئی مقابلہ نہیں کرسکے گا۔ سرداران مکہ نے بڑی کوشش کی کہ نبی ﷺ کی دعوت کی طرف لوگ متوجہ نہ ہوسکیں لیکن دعوت کی کشش، آپ کے اخلاق اور آپ ﷺ کی عظیم جدوجہد کے نتیجہ میں لوگ آپ کی ذات کے گرویدہ اور توحید کی دعوت قبول کیے جا رہے تھے یہ بات سرداران مکہ کے لیے…
Read the full tafseer →17 : سَاُرْھِقُہٗ صَعُوْدًا (ہم عنقریب اس کو دوزخ کے پہاڑ پر چڑھائیں گے) ہم عنقریب اس کو ڈھانک لیں گے مشکل چڑھائی والی گھاٹی سے۔ حدیث میں ہے کہ الصعودؔ یہ آگ کا پہاڑ ہے۔ جس پر وہ ستر (70) خریف چڑھے گا اس سے اتناہی اترے گا اسی طرح وہ کرتا رہے گا۔ ] رواہ الترمذی : 3326[
Read the full tafseer →16 ۔” کلا “ میں ایسا نہ کروں گا اور زیادہ نہ کروں گا۔ کہتے ہیں کہ اس آیت کے نازل ہونے کے بعد ولید اپنے مال واولاد میں نقصان میں ہی رہا حتیٰ کہ وہ مرگیا۔ ” انہ کان لا یاتنا عنیدا “ عناد رکھنے والا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–30
11۔ 30۔ ان آیتوں کی شان نزول صحیح سند سے مستدرک 2 ؎ حاکم وغیرہ میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ نے جو بیان فرمائی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ ولید بن مغیرہ آنحضرت ﷺ کے پاس آیا اور آپ ﷺ نے اس کو قرآن شریف کی کچھ آیتیں پڑھ کر سنائیں جس سے اس کا دل کسی قدر نرم ہوا یہ خبر ابوجہل کو پہنچی اس نے ولید بن مغیرہ سے کہا کہ قوم کے لوگ تم سے ہرگز خوش نہ ہوں گے جب تک قرآن کے بارے میں تم ان کی مرضی کے موافق کوئی بات نہ کہو گے ولید بن مغیرہ نے جواب دیا کہ اچھا میں سوچ کر اس بارے میں کچھ کہوں گا پھر اس نے اپنے وعدہ کے موافق لوگوں کے سامنے قوم کے لوگوں کو خوش کرنے کے لئے یہ بات کہی جس کا ذکر ان آیتوں میں ہے کہ یہ قرآن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–18
(كَلَّا ۭ ) یعنی معاملہ ایسا نہیں جیسا کہ وہ چاہتا ہے بلکہ وہ اس کے مطلوب و مقصود کے برعکس ہوگا۔ اس کا سبب یہ ہے کہ ( اِنَّهٗ كَانَ لِاٰيٰتِنَا عَنِيْدًا) وہ ہماری آیتوں سے عناد رکھتا ہے، اس نے ان آیات کو پہچان کر ان کا انکار کردیا، ان آیات نے اسے حق کی طرف دعوت دی مگر اس نے ان کی اطاعت نہ کی اس نے صرف ان سے روگردانی کرنے اور منہ موڑنے پر اکتفا نہیں کیا بلکہ ان کے خلاف جنگ کی اور ان کے ابطال کے لیے بھاگ دوڑ کی، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں فرمایا (انہ فکر) یعنی اس نے اپنے دل میں غور کیا (وقدر) جس کے بارے میں غور کیا اس کو تجویز کیا کہ وہ ایسی بات کہے جس کے ذریعے سے وہ قرآن کا ابطال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–56
عطیہ اس نیت سے نہ دیا جائے کہ بدلے میں عطیہ ملے قول باری ہے (ولا تمنن تستکثر۔ اور احسان نہ کرو زیادہ حاصل کرنے کے لئے) حضرت ابن عباس ؓ ، ابراہیم نخعی، مجاہد، قتادہ اور ضحاک کا قول ہے کہ کوئی عطیہ اس نیت سے نہ دو کہ تمہیں اس کے بدلے میں اس سے زیادہ دیا جائے۔ حضن بصری اور ربیع بن انس کا قول ہے کہ اپنی نیکیوں کو زیادہ سمجھتے ہوئے اللہ پر ان کا احسان نہ دھرو کہ پھر اللہ کے ہاں تمہاری یہ نیکیاں گھٹ جائیں۔ دوسرے حضرات کا قول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو نبوت اور قرآن کی جو دولت عطا کی ہے لوگوں سے زیادہ اجر حاصل کرنے کی نیت سے اس کا احسان نہ جتلائیں۔ مجاہد سے یہ بھی منقول ہے کہ اپنی طاعت کو کثیر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–19
13 ۔ منکروں اور ناشکروں کی سزا کا ذکر وبیان : سو ایسے بےقدرے اور ناشکرے لوگوں کی سا کے بیان کے سلسلے میں ارشاد فرمایا یا کہ میں عنقریب ہی اس کو چڑھاؤں گا صعود پر۔ سنن ترمذی وغیرہ کی روایات کے مطابق یہ دوزخ میں ایک ایسا پہاڑ ہوگا جس پر دوزخی ستر برس تک چڑھتے رہیں گے اور پھر انی ہی مدت میں اس سے نیچے گرتے جائیں گے، (4 وح، قرطبی، ابن کثیر اور صفوہ وغیرہ) والعیاذ باللہ العظیم ارھاق کے معنی کسی مشقت میں ڈالنے کے ہیں اور صعود کسی ایسی چوٹی اور گھاٹی کو کہا جاتا ہے جس کو عبور کرنا نہایت دشوار ہو، یہاں پر یہ حقیقت بھی واضح رہنی چاہئے کہ نیکی اور بدی کی فطرت میں یہ بنیادی فرق ہے کہ نیکی کی مشکلیں اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–38
منکرین اور ان کا انجام تشریح : آیت گیارہ سے آگے تک جس شخص کی خصوصیات بیان کی گئی ہیں وہ ہر اس شخص کے لیے مخصوص ہیں جو خراب بری عادات والا ہو مگر تمام مفسرین نے اور خاص طور سے تفسیر ابن کثیر میں اس شخص کا نام ولید بن مغیرہ مخزومی بتایا گیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جو شخص بھی اللہ کی دی ہوئی تمام نعمتوں سے مالامال ہو اور وہ شکر ادا نہ کرے اللہ کا کلام اس کے پاس پہنچے وہ اس کی تصدیق بھی کرے اس کو سچ بھی جانے مگر کیا کہیں کہ ہٹ دھرمی بےوقوفی یا آباو اجداد کی پیروی کا خیال کرتے ہوئے یا پھر اپنے دوست احباب کا خیال کرتے ہوئے۔ غرض کوئی بھی وجہ ہو اور وہ اللہ پر ایمان نہ لائے اور اللہ اور اسکے رسول ﷺ اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–31
سورة المدثر۔ آیات 1 تا 31۔ اسرار ومعارف۔ سورة مدثر بھی پہلی پہلی صورتوں میں سے ہے اور مدثر ومزمل کا مفہوم ایک ہے بعض کے نزدیک پہلے سورة مزمل کی آیات نازل ہوئیں اور پھر مدثر کی بعض نے مدثر کو پہلے لکھا ہے مگر قرائن سے مزمل کا پہلے ہونا معلوم ہوتا ہے کہ اس میں ذاتی اعمال کی بات ہے اور مدثر میں قوم سے خطاب کرنے کا حکم ہے بہرحال نہایت ابتدائی سورتوں میں سے ہیں جب ایک دولوگ ہی مسلمان تھے تو فرمایا اے لپیٹ کر سونیو الے اٹھیے اور لوگوں کو دعوت دیجئے اور اپنے رب کی توحید اور بڑائی بیان کیجئے۔ لباس کی پاکیزگی۔ اپنے لباس کو پاک کیجئے ، مراد ماحول بھی ہے کردار بھی اور حقیقتا سارامال اور معاشی نظام مقصود…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
ف 12 ترمذی وغیرہ کی بعض روایات میں ہے کہ آنحضرت نے فرمایا : ” صعود “ دوزخ میں آگ کا پہاڑ ہے۔ کافر ستر برس تک اس میں چڑھایا جاتا رہے گا پھر نیچے گرے گا پھر چڑھایا جائیگا اور اسی طرح اسے چڑھنے اترنے کا یہ عذاب ہوتا رہے گا۔ “ ان روایات کی چونکہ سند کمزور ہے اس لئے امام ابن جریر وغیرہ نے آیت کا یہ مطلب یہ بیان کیا ہے کہ ” میں اسے ایسا مشقت طلب عذاب دوں گا جس میں کوئی آرام نہ ہوگا۔ ابن کثیر
Read the full tafseer →(74:17) سارھقہ صعودا : س مضارع پر داخل ہوکر اس کے معنی مستقبل قریب کے کردیتا ہے۔ ارھق مضارع واحد متکلم ارھاق (افعال) مصدر بمعنی کسی ناگوار کام کرنے پر انسان کو مجبور کرنا۔ ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب کا مرجع ولید بن مغیرہ ہے۔ صعودا بڑی چڑھائی، سخت گھاٹی۔ دوزخ میں ایک پہاڑ کا نام۔ منصوب بوجہ ارھق کے مفعول ثانی کی۔ اصل میں صعود اس گھاٹی کو کہتے ہیں کہ جس کی چڑھائی سخت ہو۔ جو سختیاں اور دشواریاں پیش آتی ہیں ان کے لئے یہ لفظ بطور مثال مستعمل ہے۔ حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ آیت سارھقہ صعودا کی تشریح میں جناب رسالت مآب ﷺ نے فرمایا کہ :۔ وہ دوزخ میں آگ کا ایک پہاڑ ہے ولید کو اس پر چڑھنے کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–31
لغات القرآن۔ المدثر۔ چادر اوڑھ لپیٹ کر لیٹنے والے۔ ثیاب۔ کپڑے۔ الرجز۔ گندگی ۔ ناپاکی۔ اھجر۔ اس کو چھوڑو۔ دوررہ۔ لاتمنن۔ احسان نہ جتا۔ تستکثر۔ زیادہ کی طلب۔ نقر۔ بچایا گیا۔ پھونکا گیا۔ الناقور۔ صور۔ وحید۔ تنہا۔ اکیلا۔ ممدود۔ پھیلایا گیا۔ شھود۔ سامنے۔ ہر جگہ۔ مھدت۔ میں نے تیار کردیا۔ یطمع۔ امید رکھتا ہے۔ عنید۔ نہ ماننے والا۔ ارھق ۔ میں چڑھا دوں گا۔ صعود۔ چڑھائی۔ اونچائی۔ عبس۔ اس نے تیوری چڑھائی۔ بسر۔ اس نے کڑوا سا منہ بنایا۔ یوثر۔ پہلے چلا آتا ہے۔ سقر۔ آگ۔ لاتذر۔ پیچھا نہ چھوڑے گی۔ لواحۃ۔ جھلس ڈالنے والی۔ تسعۃ عشر۔ انیس۔ تشریح : اللہ تعالیٰ… کی طرح نہایت شفقت و محبت سے نبی مکرم حضرت محمد مصطفیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–26
(ف 2) شان نزول : جب ۔ حم۔ تنزیل الکتاب من اللہ العزیز الحکیم۔ نازل ہوئی اور نبی ﷺ نے تلاوت فرمائی ولید بن مغیرہ نے سنا اس قوم کی مجلس میں آ کر اس نے کہا کہ خدا کی قسم، میں نے محمد ﷺ سے ابھی ایک کلام سنا، نہ وہ آدمی کانہ جن کا، بخدا اس میں عجیب شیرینی اور تازگی اور فوائد دل کشی ہے، وہ کلام سب پر غالب رہے گا، قریش کو اس کی ان باتوں سے بہت غم ہوا، ان میں مشہور ہوگیا، ولید آبائی دین سے برگشتہ ہوگیا ابوجہل نے ولید کو ہموار کرنے کا ذمہ لیا اور اس کے پاس آکربہت غمزدہ صورت بنا کر بیٹھ گیا ولید نے کہا کیا غم ہے ابوجہل نے کہا غم کیسے نہ تو بوڑھا ہوگیا قریش تیرے خرچ کے لیے روپیہ جمع کردیں گے انہیں خیال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–17
[8] صعود دوزخ کی ایک پہاڑی کا نام ہے۔ دوزخی اس پر چڑھے گا اور پھر گرے گا۔ گرے گا اور پھر چڑھے گا۔ عذاب کی یہ صورت دائمی رہے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–24
ولید بن مغیرہ 1: جمہور مفسرین کے نزدیک ان آیات کا مصداق ولید بن مغیرہ ہے ۔ فرمایا ۔ اس کو ہم نے مال و دولت کی نعمت سے نوازا ۔ مکہ سے طائف تک اس کے قافلے تجارت کے رواں دواں تھے ۔ بیٹے دیئے جو سب زندہ اس کے سامنے موجود تھے ۔ اور اس کے کاروبار میں شریک تھے ۔ عزت وجاہ عطا کی ۔ پھر اس کی حرص وآزکا یہ عالم ہے کہ اس کے باوجودبھی اضافہ کا طالب ہے ۔ مگر آپ ہم کچھ نہیں دیں گے ۔ کیونکہ یہ ہماری آیتوں کا سخت مخالف ہے ۔ عنقریب اس کو شدید ترین عذاب سے دوچار ہونا پڑے گا ۔ اور اس کو معلوم ہوگا ۔ کہ یہ دولت و ثروت ساعوان وانصار اور عزت ومختار ان میں سے کوئی چیز بھی اللہ کے عذاب سے نہیں بچاسکتی ۔ اس کا جرم یہ…
Read the full tafseer →(17) عنقریب میں اس کو سخت چڑھائی چڑھائوں گا یعنی آگ کے پہاڑ پر۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–29
ف 4۔ باوجود احتمال نہ ہونے کے یہ امر فرمانا اشارہ ہے اہتمام شان توحید کی طرف کہ ایسی ضروری چیز ہے کہ معصوم کو بھی باوجود احتیاج نہ ہونے کے اس کی تعلیم کی جاتی ہے تو غیر معصوم تو بدرجہ اولی اس کا مکلف ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–23
(جلدی چڑھاؤں گا اسے صعود نام کے جہنمی پہاڑ پر) وہ ایک پہاڑ ہے آگ کا ، بہتر برس میں اس کے اوپر چڑھ سکتے ہیں اور اس کے اوپر چڑھتے ہی پھر نیچے گر پڑتے ہیں۔ تبیان میں ہے کہ تکلیف دوں گا میں اس کو صعود پر۔۔۔ اور صعود وہ ایک پتھر ہے دوزخ میں کہ اس پر نہیں جاسکتے تو اس کو آگ کی زنجیروں میں جکڑ کر آگے سے کھینچیں گے اور پیچھے سے آگ کے گرز ماریں گے کہ اس جگہ پر جائے۔ اور ولید کے واسطے جزا اور سزا کی یہ بڑی وعید ہے ۔۔۔ کیونکہ ۔۔۔ (بیشک اس نے سوچا) اور فکر کی کہ قرآن پر کیا طعن کرے (اور اندازہ لگایا) کہ کیا کہے یعنی جب اسے کسی طور پر یہ گنجائش نظر نہیں آئی کہ پیغمبر اسلام کو مجنون ، شیطان کے زیر اثر ، کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–30
The Annual Income of Walid Ibn Mughirah: Ten Million Guineas The disbeliever referred to here is Walid Ibn Mughirah. Allah had favoured him with abundant wealth, property and children. According to Ibn ` Abbas 4his land, property and gardens stretched from Makkah to Ta'if. According to Thauri, his annual income was ten million Dinars. Some scholars have estimated less than this amount. It is, nonetheless, agreed that the income and yearly produce of his fields and gardens were available in every season, winter or summer. Thus the Qur'an says: وَّجَعَلْتُ لَهٗ مَالًا مَّمْدُوْدًا وَّبَنِيْنَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–24
13 Its one meaning is that there is still no end to his greed. In spite of having all this he still desires that he should be granted every good thing of the world. Another meaning which Hadrat Hasan Basri, and some other scholars have given is:, "He used to say: If what Muhmmad (upon whom be peace) says is really true that there is another life after death, and there will be a Paradise also in it, then that Paradise too has been prepared for me."
Read the full tafseer →