اِنَّهٗ فَكَّرَ وَقَدَّرَ ۟ۙاِنَّهٗ فَكَّرَ وَقَدَّرَۙ
اس نے فکر کیا اور تجویز کی
— Fateh Muhammad Jalandhari
Indeed, he thought and deliberated.
— Saheeh International
Juz 29 · Ruku 1 of surah · Ruku 15 of juz
اِنَّهٗ فَكَّرَ وَقَدَّرَ ۟ۙاِنَّهٗ فَكَّرَ وَقَدَّرَۙ
اس نے فکر کیا اور تجویز کی
— Fateh Muhammad Jalandhari
Indeed, he thought and deliberated.
— Saheeh International
Juz 29 · Ruku 1 of surah · Ruku 15 of juz
Read the whole surah · Surah Al-Muddaththir
اس نے سوچا اور کچھ بات بنانے کی کوشش کی
اس نے فکر کیا اور تجویز کی
اس نے غور کرکے تجویز کی
اس کا حال تو یہ ہے کہ اس نے سوچ کر ایک بات بنائی۔
بیشک وہ سوچا اور دل میں کچھ بات ٹھہرائی
بے شک اس نے سوچ بچار کی اور (دِل میں) ایک تجویز مقرر کر لی،
بیشک اس نے غور و فکر کیا اور بات بنائی۔
اس نے سوچا اور ایک بات بنانے کی کوشش کی
اس نے سوچا اور ایک بات بنائی۔
اس نے سوچا اور کچھ بات بنانے کی کوشش کی
اس شخص نے سوچا پھر ایک بات تجویز کی
اس نے غور کیا اور کچھ اندازہ کیا۔
اس نے فکر کیا اور تجویز کی۔
He reflected and then hatched a scheme.
He pondered and surmised.
He pondered and surmised.
Verily, he thought and plotted.
For lo! he did consider; then he planned -
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
Indeed, he thought and deliberated.
He planned and plotted.
Surely he reflected and guessed,
Verily he considered, and devised.
For he thought and he plotted;-
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 11–30
جہنم کی ایک وادی، صعود اور ولید بن مغیرہ جس خبیث شخص نے اللہ کی نعمتوں کا کفر کیا اور قرآن کو انسانی قول کہا اس کی سزاؤں کا ذکر ہو رہا ہے، پہلے جو نعمتیں اس پر انعام ہوئی ہیں ان کا بیان ہو رہا ہے کہ یہ تن تنہا خالی ہاتھ دنیا میں آیا تھا مال اولاد دیا اور کچھ اس کے پاس نہ تھا پھر اللہ نے اسے مالدار بنادیا، ہزاروں لاکھوں دینار زر زمین وغیرہ عنایت فرمائی اور باعتبار بعض اقوال کے تیرہ اور بعض اوراقوال کے دس لڑکے دیئے جو سب کے سب اس کے پاس بیٹھے رہتے تھے نوکر چاکر لونڈی غلام کام کاج کرتے رہتے اور یہ مزے سے اپنی زندگی اپنی اولاد کے ساتھ گزارتا، غرض دھن دولت لونڈی غلام بال بچے آرام آسائش ہر طرح کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–24
سورة الْمُدَّثِّر 13 اس کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ اس پر بھی اس کی حرص ختم نہیں ہوئی۔ اتنا کچھ پانے کے بعد بھی وہ بس اسی فکر میں لگا ہوا ہے کہ اسے دنیا بھر کی نعمتیں عطا کردی جائیں۔ دوسرا مطلب حضرت حسن بصری اور بعض دوسرے بزرگوں نے یہ بیان کیا ہے کہ وہ کہا کرتا تھا کہ اگر واقعی محمد ﷺ کا یہ بیان سچا ہے کہ مرنے کے بعد کوئی دوسری زندگی ہے اور اس میں کوئی جنت بھی ہوگی تو وہ جنت میرے ہی لیے بنائی گئی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–30
ولید بن مغیرہ کی آمدنی ایک کروڑ گنیاں سالانہ یہ کافر ولید بن مغیرہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے دنیا کی مال و دولت اور اولاد فراوانی کے ساتھ دی تھی، بقول ابن عباس اس کی زمین جائیداد و باغات مکہ سے طائف تک پھیلے ہوئے تھے اور بقول ثوری اس کی سالانہ آمدنی ایک کروڑ دینار تھی، بعض نے اس سے کم بھی بتلایا ہے۔ اتنا سب کے نزیک مسلم ہے کہ اسکے کھیت اور باغات کی آمدنی اور پیداوار سال بھر سردی گرمی کی ہر موسم میں مسلسل رہت یتھی قرآن کریم میں اسی کو فرمایا ہے وّجَعَلْتُ لَهٗ مَالًا مَّمْدُوْدًا اور یہ عرب کا سردار مانا جاتا تھا۔ لوگوں میں اس کا لقب ریحانہ قریش مشہور تھا یہ خود اپنے آپ کو بطور فخر و بکر کے وحید…
Read the full tafseer →معاندین قرآن کے عناد کی تصویر: آیت ۱۶ میں یہ جو فرمایا ہے کہ ’وہ ہماری آیات کا شدید معاند ہے‘ یہ اسی عناد کی تصویر کھینچی گئی ہے اور غور سے دیکھیے کہ کیسی مکمل تصویر کھینچی گئی ہے۔ ’إِنَّہُ فَکَّرَ وَقَدَّرَ‘۔ یعنی جب قرآن اس کو سنایا گیا تو اس نے اپنا ردعمل فوری طور پر ظاہر کرنے کے بجائے کچھ دیر غور کرنے کا تکلف کیا تاکہ دیکھنے والوں پر یہ اثر پڑے کہ ان کا لیڈر مسئلہ پر سنجیدگی کے ساتھ غور کر کے اپنی رائے ظاہر کرنا چاہتا ہے۔ ’وَقَدَّرَ‘ یعنی غور کرنے کے بعد جو رائے اس کے ذہن میں آئی اس کو اس نے اپنے ذہن میں اچھی طرح تولا کہ وہ ایسی بات کہے جو دلوں میں اتر جائے اور ہر شخص پکار اٹھے کہ جو رائے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–19
18۔ 1 یعنی قرآن اور نبی ﷺ کا پیغام سن کر، اس نے اس امر پر غور کیا کہ میں اس کا جواب دوں ؟ اور اپنے جی میں اس نے وہ تیار کیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–20
7: یعنی یہی بات بنائی کہ قرآن کو نہ شاعری کہہ سکتے ہیں، نہ کہانت، البتہ جادو کہہ سکتے ہیں۔
Read the full tafseer →انہ فکر .................... البشر (74:18 تا 25) ” اس نے سوچا اور کچھ بات بنانے کی کوشش کی تو خدا کی مار اس پر ، کیسی بات بنانے کی کوشش کی۔ ہاں ، خدا کی مار اس پر ، کیسی بات بنانے کی کوشش کی۔ پھر (لوگوں کی طرف) دیکھا۔ پھر پیشانی سیکڑی اور منہ بنایا۔ پھر پلٹا اور تکبر میں پڑگیا۔ آخر کار بولا کہ یہ کچھ نہیں ہے مگر ایک جادو جو پہلے سے چلاآرہا ہے ، یہ تو ایک انسانی کلام ہے “۔ انداز تعبیر ایسا ہے کہ ایک ایک لمحے ، ایک ایک سوچ اور ایک ایک حرکت کی تصویر کشی کی جارہی ہے۔ گویا ایک ماہر عکاس کی قلم ہے جو تصویر بناتی جاتی ہے ، الفاظ نہیں بلکہ رنگ بھرے جارہے ہیں۔ نہیں گویا ایک ریل چل رہی ہے اور ایک ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–20
8 یعنی بدبخت نے دل میں سوچ کر ایک بات تجویز کی کہ قرآن جادو ہے۔ خدا غارت کرے کیسی مہمل تجویز کی پھر خدا غارت کرے کہ اپنی قوم کے جذبات کے لحاظ سے کیسی برمحل تجویز نکالی جس کو سن کر سب خوش ہوجائیں۔
Read the full tafseer →آیت 19{ فَقُتِلَ کَیْفَ قَدَّرَ۔ } ”پس ہلاک ہوجائے ‘ اس نے کیسا غلط اندازہ ٹھہرایا۔“ اس کے اندازے کے مطابق تو حق کو مان لینے میں سراسر نقصان ہی نقصان تھا ‘ لیکن اسے اس حقیقت کا تو اندازہ ہی نہیں تھا کہ اس نے حق کو حق سمجھتے ہوئے ماننے سے انکار کر کے کتنے بڑے گھاٹے کا سودا کیا تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
10۔ ا لف اس کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ میں اس کو اس کی زندگی میں سخت مشکلات سے دو چار کردوں گا اور دوسرا مطلب اخروی عذاب سے تعلق رکھتا ہے۔ جیسا کہ درج ذیل حدیث سے معلوم ہوتا ہے۔ ابو سعید کہتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : صعود دوزخ میں ایک پہاڑ ہے جس پر دوزخی کو چڑھایا جائے گا۔ پھر اسے وہاں سے نیچے گرایا جائے گا اسے ہمیشہ یہی عذاب ہوتا رہے گا۔ (ترمذی ابو اب التفسیر)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–20
8۔ (جو صحت کا کوئی امکان بعید بھی نہیں رکھتی) کلمات تعجیب کی یہ تکرار غایت ذم واستبعاد کے لئے ہے۔ (آیت) ” انہ فکر “۔ اور یہ سوچا کہ قرآن مجید کی بابت کیا رائے قائم کروں۔ (آیت) ” وقدر “۔ سوچ بچار کے بعد رائے بھی قائم کی تو کیسی مہمل اور بےجوڑ کہ قرآن کو نتیجہ سحر بتایا !۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–30
ذرنی و من خلقت وحیدا یہ کلمہ وعید اور تہدید کے لئے ہے، یہ شخص جسے میں نے ماں کے پیٹ سے اکیلا پیدا کیا ہے اس کے پاس نہ مال تھا اور نہ اولاد، یہ ولید بن مغیرہ کی طرف اشارہ ہے، اللہ نے اسے اولاد ذکور سے نوازا تھا اس کے دس بارہ لڑے تھے جو ہر وقت اس کے پاس رہتے تھے، مجلسوں اور محفلوں میں بلائے جاتے تھے، گھر میں دولت کی فراوانی تھی، اس لئے بیٹوں کو کاروبار اور تجارت کے لئے باہر جانے کی ضرورت نہیں تھی، بارہ بیٹوں میں سے تین مسلمان ہوگئے تھے، خالد، ہشام اور ولید بن ولید۔ (فتح القدیر)
Read the full tafseer →انہ فکر . قرآن پر نکتہ چینی کرنے کے لیے اس نے اپنے خیال میں غور کیا۔ وقدر . اور اندازہ لگایا کہ قرآن کے متعلق کیا کہے۔ یہ جملہ ولید کے عناد کا بیان اور استحقاق عذاب کی علت ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–19
(18۔ 19) اس ولید بن مغیرہ نے رسول اکرم کے بارے میں سوچا اور پھر ایک بات تجویز کی کہ آپ ساحر ہیں سو اس پر اللہ کی مار ہو کیسی بات تجویز کی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–25
انہ فکر و قدر …: کفار کو مشکل یہ درپیش تھی کہ وہ لوگوں کو قرآن مجید سے دور رکھنے کے لئے اس کے متعلق جو کچھ بھی کہتے کوئی اسے ماننے کے لئے تیار نہیں تھا، خود ان کے دل اس سے انکار کرتے تھے۔ وہ قرآن کو شعر، کہانت اور جادو کہہ کر اس سے منتفر کرتے تھے، مگر جانتے اور مانتے تھے کہ نہ اس میں شاعروں کے شعر کا مبالغہ یا جھوٹ ہے، نہ کاہنوں کی تک بندی ہے اور نہ جادوگروں کے ٹونے ٹوٹکے۔ اس لئے ان کے بڑے بڑے سرداروں نے جن میں ولید بن مغیرہ بھی شامل تھا، اپنے دماغ کی ساری صلاحیتیں صرف کر کے جو نتیجہ نکالا وہ دو باتوں پر مشتمل تھا، ایک یہ کہ یہ وہی جادو ہے اور جادوگروں سے خوب واقف تھے اور جانتے تھے کہ ہر موثر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–24
انہ فکر وقدر۔۔۔۔ تا۔۔۔۔۔ قول البشر۔ انہ فکر وقدر۔ ولید نے نبی کریم اور قرآن کے متعلق غوروفکر کیا اور اپنے دل میں کلام کو سوچا۔ عرب کہتے ہیں، قدرت الشئی۔ جب تو اسیتیار کرے یہ اس وجہ سے ہوا، جب، حم، تنزیل الکتاب من اللہ العزیز۔۔۔ تا۔۔۔۔ الیہ المصیر۔ (المومن) تک نازل ہوئی۔ ولید نے رسول اللہ ﷺ کو یہ آیات پڑھتے ہوئے سنا اس نے کہا، اللہ کی قسم، میں نے ان سے ایسی کلام سنی ہے جو نہ انسانوں کی کلام ہے اور نہ ہی جنوں کی کلام ہے۔ اس میں مٹھاس ہے، اس کا ظاہر حسین ہے اس کا اوپر والاحصہ پھل دار ہے اس کا نیچے والا حصہ گہرا ہے اور وہ خود بلند ہے اس پر غلبہ نہیں پایاجاسکتا کوئی انسان ایسی کلام نہیں کرسکتا۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–21
19۔ ابن المنذر نے عکرمہ کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت سارھقہ صعودا میں صعود ایک پہاڑ ہے دوزخ میں۔ 20۔ عبد بن حمید نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ صعودا جہنم میں ایک پہاڑ ہے۔ 21۔ عبد بن حمید نے ضحاک (رح) سے آیت سارھقہ صعودا کے بارے میں روایت کیا کہ صعود جہنم میں ایک چکنی چٹان ہے جہنمیوں کو اس پر چڑھنے کے لیے مجبور کیا جائے گا۔ 22۔ عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت سارھقہ صعود سے مراد ہے عذاب کی مشقت۔
Read the full tafseer →[انهٗ فَكَّرَ : بیشک اس نے غور و فکر کیا ] [وَقَدَّرَ : اور قدر و قیمت طے کی ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–23
آگے اس بات کا ذکر ہے کہ جب ولید سے کہا گیا کہ قوم قریش تجھ سے راضی نہیں ہوسکتی جب تک تو محمد رسول اللہ ﷺ کے بارے میں کوئی ایسی بات نہ کہہ دے جو قریش کے جذبات کے موافق ہو تو اس نے کہا کہ میں سوچ کر بتاؤں گا۔ ﴿ اِنَّهٗ فَكَّرَ وَ قَدَّرَۙ0018﴾ (بلاشبہ اس نے سوچا کہ قرآن کے بارے میں کیا بات تجویز کروں۔ پھر سوچ کر ایک بات تجویز کی) ۔ ﴿ فَقُتِلَ كَيْفَ قَدَّرَۙ0019﴾ (پھر اس پر اللہ کی مار ہو کیسی بات تجویز کی) ﴿ثُمَّ نَظَرَۙ0021﴾ (پھر اس نے حاضرین کے چہروں کو دیکھا کہ جو بات اپنے نفس میں تجویز کی ہے وہ ان سے کہہ دوں) ﴿ ثُمَّ عَبَسَ وَ بَسَرَۙ0022﴾ (پھر اس نے منہ بنایا اور زیادہ منہ بنایا) تاکہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–31
حکم اعلان توحید و رسالت سید المرسلین ﷺ وتہدید ومذمت براعراض مجرمین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” یایھا المدثر قم فانذر ........ الی ....... الا ذکری للبشر “۔ (ربط) سورة مزمل کے آخر میں بالخصوص احکام خداوندی کی اطاعت کا حکم فرمایا گیا تھا اور یہ کہ ایمان کا تقاضا ہے کہ اہل ایمان نمازیں قائم رکھیں اور زکوٰۃ ادا کرتے رہیں اور حق تعالیٰ کی راہ میں انفاق وایثار سے کبھی بھی گزیر نہ کریں یہ تو اللہ رب العزت کی بارگاہ میں ایک قرض حسن سے جو بڑی ہی برکتوں اور زیادتیوں کے ساتھ قرض دینے والوں کو واپس ملے گا اور دار آخرت کے واسطے بہترین ذخیرہ ہے جو دنیاوی زندگی میں ہی آخرت کے لیے مہیا کیا جاتا ہے اور وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–25
8:۔ سارھقہ صعودا۔ یہ تخویف اخروی ہے۔ صعود دوزخ میں آگ کا نہایت ہی بلند پہاڑ ہے جس پر چڑھنے کے لیے جہنمیوں کو مجبور کیا جائے گا۔ یہ بھی ایک قسم کا نہایت تکلیف دہ عذاب ہوگا۔ ” انہ فکر “ یہ اس کی سزا کی علت ہے اس نے قرآن اور پیغمبر کے بارے میں غور و فکر کیا کہ ان کی حقیقت کیا ہے پھر اپنے ذہن میں ایک بات طے کرلی کہ یہ قرآن جادو ہے اور محمد ﷺ جادوگر ہے (العیاذ باللہ) ۔ اس ملعون اور راندہ درگاہ ایزدی نے یہ فیصلہ کس طرح کرلیا۔ اس کے بعد اس نے نظر اٹھا کر دیکھا، ترش رو ہوا اور سخت ناک بھوں چڑھائی اور پھر پیٹھ پھیر کر غرور و نخوت سے چل دیا اور کہنے لگا یہ تو جادو ہے جو بابل کے جادوگروں سے چلا آرہا ہے…
Read the full tafseer →اِنَّہٗ فَكَّرَ وَقَدَّرَ 18 ۙ فكر الْفِكْرَةُ : قوّة مطرقة للعلم إلى المعلوم، والتَّفَكُّرُ : جولان تلک القوّة بحسب نظر العقل، وذلک للإنسان دون الحیوان، قال تعالی: أَوَلَمْ يَتَفَكَّرُوا فِي أَنْفُسِهِمْ ما خَلَقَ اللَّهُ السَّماواتِ [ الروم/ 8] ، أَوَلَمْ يَتَفَكَّرُوا ما بصاحبِهِمْ مِنْ جِنَّةٍ [ الأعراف/ 184] ، إِنَّ فِي ذلِكَ لَآياتٍ لِقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ [ الرعد/ 3] (ک ر ) الفکرۃ اس قوت کو کہتے ہیں جو علم کو معلوم کی طرف لے جاتی ہے اور تفکر کے معنی نظر عقل کے مطابق اس قوت کی جو لانی دینے کے ہیں ۔ اور غور فکر کی استعداد صرف انسان کو دی گئی ہے دوسرے حیوانات اس سے محروم ہیں اور تفکرفیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–28
1 ؎ جھنڈی پر چڑھانا محاورہ ہے بدنام کرنے اور بلا میں مبتلا کرنے کا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–25
اِنَّـہٗ فَکَّرَ وَ قَدَّرَ ۔ فَـقُتِلَ کَیْفَ قَدَّرَ ۔ ثُمَّ قُتِلَ کَیْفَ قَدَّرَ ۔ ثُمَّ نَظَرَ ۔ ثُمَّ عَبَسَ وَبَسَرَ ۔ ثُمَّ اَدْبَرَ وَاسْتَـکْبَرَ ۔ فَقَالَ اِنْ ھٰذَٓا اِلاَّ سِحْرٌ یُّـؤْثَرُ ۔ اِنْ ھٰذَٓا اِلاَّ قَوْلُ الْبَشَرِ ۔ (المدثر : 18 تا 25) (اس نے سوچا اور ایک بات بنائی۔ تو خدا کی مار ہو اس پر اس نے کیسی بات بنائی۔ پھر خدا کی مار ہو اس پر اس نے کیسی بات بنائی۔ پھر (لوگوں کی طرف) دیکھا۔ پھر اس نے تیوری چڑھائی اور منہ بنایا۔ پھر پیٹھ پھیری اور تکبر میں پڑگیا۔ پھر بولا یہ تو محض ایک جادو ہے جو پہلے سے چلا آرہا ہے۔ یہ تو محض انسانی کلام ہے۔ ) معاندین کے عناد کی تصویر آیت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–25
فہم القرآن ربط کلام : اللہ کے رسول نے جونہی لوگوں کو اللہ کی توحید کی دعوت دی تو وہ لوگ آپ کی جان کے دشمن ہوگئے اور انہوں نے آپ کی مخالفت میں ایڈی چوٹی کا زور لگا دیا۔ ایسے لوگوں کو ان کا انجام بتلایا گیا ہے کہ آج تم اپنی طاقت پر گھمنڈ کرتے ہو۔ وہ وقت یاد کرو جس دن صور پھونکا جائے گا۔ انکار کرنے والوں کے لیے یہ دن بڑا سخت ہوگا اور اس کی سختی کا کوئی مقابلہ نہیں کرسکے گا۔ سرداران مکہ نے بڑی کوشش کی کہ نبی ﷺ کی دعوت کی طرف لوگ متوجہ نہ ہوسکیں لیکن دعوت کی کشش، آپ کے اخلاق اور آپ ﷺ کی عظیم جدوجہد کے نتیجہ میں لوگ آپ کی ذات کے گرویدہ اور توحید کی دعوت قبول کیے جا رہے تھے یہ بات سرداران مکہ کے لیے…
Read the full tafseer →قرآن کے متعلق اس کی بدزبانی : 18 : اِنَّہٗ فَکَّرَ (اس شخص نے سوچا) یہ وعید کا سبب بتایا گیا۔ گویا اللہ تعالیٰ نے غناء و عزت کے بعد جلدی سے فقرو ذلت میں اس کو اس کے عناد کی وجہ سے کیا ہے اور اللہ تعالیٰ اس کو آخرت میں سخت عذاب دیں گے کیونکہ وہ عناد میں انتہاء کو پہنچا ہوا تھا۔ اور اس نے قرآن مجید کا نام سحر رکھا یعنی اس نے سوچا پھر قرآن مجید میں کیا رائے زنی کی ہے۔ وَقَدَّرَ (اور اس نے ایک بات تجویز کی) اس نے اپنے دل میں تیاری کی اور اندازہ کیا۔
Read the full tafseer →17 ۔” سارھقہ صعودا “ عنقریب میں اس کو عذاب کی مشقت کی تکلیف دوں گا جس میں کوئی راحت نہ ہوگی۔ سارھقہ صعودا کی تفسیر ابو سعید ؓ فرماتے ہیں نبی کریم ﷺ نے فرمایا ” الصعود “ جہنم میں پہاڑ ہے جس پر ستر سال چڑھے گا پھر اترے گا۔ ابو سعید ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے قول ” سارھقہ صعودا “ کے بارے میں فرمایا وہ جہنم میں آگ کا پہاڑ ہے اس کو مکلف کیا جائے گا کہ اس پر چڑھے۔ پس جب وہ اپنا ہاتھ رکھے گا وہ پگھل جائے گا۔ پھر جب اٹھائے تو وہ واپس لوٹ آئے گا، پھر پائوں رکھے گا پگھل جائے گا اور جب اٹھائے گا تو وہ اپنی حالت پر لوٹ آئے گا۔ کلبی (رح) فرماتے ہیں ” الصعود “ چکنی چٹان ہے جہنم میں۔ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–30
11۔ 30۔ ان آیتوں کی شان نزول صحیح سند سے مستدرک 2 ؎ حاکم وغیرہ میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ نے جو بیان فرمائی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ ولید بن مغیرہ آنحضرت ﷺ کے پاس آیا اور آپ ﷺ نے اس کو قرآن شریف کی کچھ آیتیں پڑھ کر سنائیں جس سے اس کا دل کسی قدر نرم ہوا یہ خبر ابوجہل کو پہنچی اس نے ولید بن مغیرہ سے کہا کہ قوم کے لوگ تم سے ہرگز خوش نہ ہوں گے جب تک قرآن کے بارے میں تم ان کی مرضی کے موافق کوئی بات نہ کہو گے ولید بن مغیرہ نے جواب دیا کہ اچھا میں سوچ کر اس بارے میں کچھ کہوں گا پھر اس نے اپنے وعدہ کے موافق لوگوں کے سامنے قوم کے لوگوں کو خوش کرنے کے لئے یہ بات کہی جس کا ذکر ان آیتوں میں ہے کہ یہ قرآن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–18
(كَلَّا ۭ ) یعنی معاملہ ایسا نہیں جیسا کہ وہ چاہتا ہے بلکہ وہ اس کے مطلوب و مقصود کے برعکس ہوگا۔ اس کا سبب یہ ہے کہ ( اِنَّهٗ كَانَ لِاٰيٰتِنَا عَنِيْدًا) وہ ہماری آیتوں سے عناد رکھتا ہے، اس نے ان آیات کو پہچان کر ان کا انکار کردیا، ان آیات نے اسے حق کی طرف دعوت دی مگر اس نے ان کی اطاعت نہ کی اس نے صرف ان سے روگردانی کرنے اور منہ موڑنے پر اکتفا نہیں کیا بلکہ ان کے خلاف جنگ کی اور ان کے ابطال کے لیے بھاگ دوڑ کی، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں فرمایا (انہ فکر) یعنی اس نے اپنے دل میں غور کیا (وقدر) جس کے بارے میں غور کیا اس کو تجویز کیا کہ وہ ایسی بات کہے جس کے ذریعے سے وہ قرآن کا ابطال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–56
عطیہ اس نیت سے نہ دیا جائے کہ بدلے میں عطیہ ملے قول باری ہے (ولا تمنن تستکثر۔ اور احسان نہ کرو زیادہ حاصل کرنے کے لئے) حضرت ابن عباس ؓ ، ابراہیم نخعی، مجاہد، قتادہ اور ضحاک کا قول ہے کہ کوئی عطیہ اس نیت سے نہ دو کہ تمہیں اس کے بدلے میں اس سے زیادہ دیا جائے۔ حضن بصری اور ربیع بن انس کا قول ہے کہ اپنی نیکیوں کو زیادہ سمجھتے ہوئے اللہ پر ان کا احسان نہ دھرو کہ پھر اللہ کے ہاں تمہاری یہ نیکیاں گھٹ جائیں۔ دوسرے حضرات کا قول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو نبوت اور قرآن کی جو دولت عطا کی ہے لوگوں سے زیادہ اجر حاصل کرنے کی نیت سے اس کا احسان نہ جتلائیں۔ مجاہد سے یہ بھی منقول ہے کہ اپنی طاعت کو کثیر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–19
13 ۔ منکروں اور ناشکروں کی سزا کا ذکر وبیان : سو ایسے بےقدرے اور ناشکرے لوگوں کی سا کے بیان کے سلسلے میں ارشاد فرمایا یا کہ میں عنقریب ہی اس کو چڑھاؤں گا صعود پر۔ سنن ترمذی وغیرہ کی روایات کے مطابق یہ دوزخ میں ایک ایسا پہاڑ ہوگا جس پر دوزخی ستر برس تک چڑھتے رہیں گے اور پھر انی ہی مدت میں اس سے نیچے گرتے جائیں گے، (4 وح، قرطبی، ابن کثیر اور صفوہ وغیرہ) والعیاذ باللہ العظیم ارھاق کے معنی کسی مشقت میں ڈالنے کے ہیں اور صعود کسی ایسی چوٹی اور گھاٹی کو کہا جاتا ہے جس کو عبور کرنا نہایت دشوار ہو، یہاں پر یہ حقیقت بھی واضح رہنی چاہئے کہ نیکی اور بدی کی فطرت میں یہ بنیادی فرق ہے کہ نیکی کی مشکلیں اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–38
منکرین اور ان کا انجام تشریح : آیت گیارہ سے آگے تک جس شخص کی خصوصیات بیان کی گئی ہیں وہ ہر اس شخص کے لیے مخصوص ہیں جو خراب بری عادات والا ہو مگر تمام مفسرین نے اور خاص طور سے تفسیر ابن کثیر میں اس شخص کا نام ولید بن مغیرہ مخزومی بتایا گیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جو شخص بھی اللہ کی دی ہوئی تمام نعمتوں سے مالامال ہو اور وہ شکر ادا نہ کرے اللہ کا کلام اس کے پاس پہنچے وہ اس کی تصدیق بھی کرے اس کو سچ بھی جانے مگر کیا کہیں کہ ہٹ دھرمی بےوقوفی یا آباو اجداد کی پیروی کا خیال کرتے ہوئے یا پھر اپنے دوست احباب کا خیال کرتے ہوئے۔ غرض کوئی بھی وجہ ہو اور وہ اللہ پر ایمان نہ لائے اور اللہ اور اسکے رسول ﷺ اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–31
سورة المدثر۔ آیات 1 تا 31۔ اسرار ومعارف۔ سورة مدثر بھی پہلی پہلی صورتوں میں سے ہے اور مدثر ومزمل کا مفہوم ایک ہے بعض کے نزدیک پہلے سورة مزمل کی آیات نازل ہوئیں اور پھر مدثر کی بعض نے مدثر کو پہلے لکھا ہے مگر قرائن سے مزمل کا پہلے ہونا معلوم ہوتا ہے کہ اس میں ذاتی اعمال کی بات ہے اور مدثر میں قوم سے خطاب کرنے کا حکم ہے بہرحال نہایت ابتدائی سورتوں میں سے ہیں جب ایک دولوگ ہی مسلمان تھے تو فرمایا اے لپیٹ کر سونیو الے اٹھیے اور لوگوں کو دعوت دیجئے اور اپنے رب کی توحید اور بڑائی بیان کیجئے۔ لباس کی پاکیزگی۔ اپنے لباس کو پاک کیجئے ، مراد ماحول بھی ہے کردار بھی اور حقیقتا سارامال اور معاشی نظام مقصود…
Read the full tafseer →ف 13 یعنی وہ اس بارے میں سوچ بچار کرتا اور ذہنی گھوڑے دوڑاتا رہا کہ جب لوگ اس سے محمد ﷺ پر اتاری جانے والی کتاب ” قرآن “ کے بارے میں سوال کریں گے تو وہ انہیں یہ اور یہ کہہ کر گمراہ کرے گا۔
Read the full tafseer →(74:18) انہ فکر وقدر۔ فکر ماضی واحد مذکر غائب ۔ تفکیر (تفعیل) مصدر اس نے سوچا۔ اس نے غور کیا۔ اس نے تامل کیا۔ وقدر : واؤ عاطفہ، قدر، ماضی واحد مذکر غائب۔ تقدیر (تفعیل) مصدر ۔ اس نے اندازہ کیا۔ اس نے بات طے کرلی۔ (کہ قرآن کے متعلق کیا کہے) یہ جملہ ولید کے عناد کا بیان اور اس کے استحقاق عذاب کی علت ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–31
لغات القرآن۔ المدثر۔ چادر اوڑھ لپیٹ کر لیٹنے والے۔ ثیاب۔ کپڑے۔ الرجز۔ گندگی ۔ ناپاکی۔ اھجر۔ اس کو چھوڑو۔ دوررہ۔ لاتمنن۔ احسان نہ جتا۔ تستکثر۔ زیادہ کی طلب۔ نقر۔ بچایا گیا۔ پھونکا گیا۔ الناقور۔ صور۔ وحید۔ تنہا۔ اکیلا۔ ممدود۔ پھیلایا گیا۔ شھود۔ سامنے۔ ہر جگہ۔ مھدت۔ میں نے تیار کردیا۔ یطمع۔ امید رکھتا ہے۔ عنید۔ نہ ماننے والا۔ ارھق ۔ میں چڑھا دوں گا۔ صعود۔ چڑھائی۔ اونچائی۔ عبس۔ اس نے تیوری چڑھائی۔ بسر۔ اس نے کڑوا سا منہ بنایا۔ یوثر۔ پہلے چلا آتا ہے۔ سقر۔ آگ۔ لاتذر۔ پیچھا نہ چھوڑے گی۔ لواحۃ۔ جھلس ڈالنے والی۔ تسعۃ عشر۔ انیس۔ تشریح : اللہ تعالیٰ… کی طرح نہایت شفقت و محبت سے نبی مکرم حضرت محمد مصطفیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–26
(ف 2) شان نزول : جب ۔ حم۔ تنزیل الکتاب من اللہ العزیز الحکیم۔ نازل ہوئی اور نبی ﷺ نے تلاوت فرمائی ولید بن مغیرہ نے سنا اس قوم کی مجلس میں آ کر اس نے کہا کہ خدا کی قسم، میں نے محمد ﷺ سے ابھی ایک کلام سنا، نہ وہ آدمی کانہ جن کا، بخدا اس میں عجیب شیرینی اور تازگی اور فوائد دل کشی ہے، وہ کلام سب پر غالب رہے گا، قریش کو اس کی ان باتوں سے بہت غم ہوا، ان میں مشہور ہوگیا، ولید آبائی دین سے برگشتہ ہوگیا ابوجہل نے ولید کو ہموار کرنے کا ذمہ لیا اور اس کے پاس آکربہت غمزدہ صورت بنا کر بیٹھ گیا ولید نے کہا کیا غم ہے ابوجہل نے کہا غم کیسے نہ تو بوڑھا ہوگیا قریش تیرے خرچ کے لیے روپیہ جمع کردیں گے انہیں خیال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–25
[9] روایت ہے کہ ولید بن مغیرہ ایک مرتبہ رسول اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ نے قرآن پڑھ کر سنایا جس سے وہ کسی قدر متاثر ہوا مگر ابو جہل نے اسے ورغلایا اور قریش میں چرچا ہونے لگا کہ ولید اگر مسلمان ہوگیا تو بڑی خرابی ہوگی۔ غرض سب جمع ہوئے اور آپ ﷺ کے بارے میں گفتگو کی۔ کسی نے آپ ﷺ کو شاعر کہا اور کسی نے کاہن بتلایا۔ ولید بولا کہ میں فن شعر میں خود بہت بڑا ماہر ہوں اور کاہنوں کی باتیں بھی سب سنی ہیں۔ قرآن نہ شعر ہے نہ کہانت۔ لوگوں نے کہا آخر تیری کیا رائے ہے ؟ کہنے لگا ذرا سوچ لوں۔ آخر تیوری چڑھا کر اور منہ بنا کر کہا کہ کچھ نہیں بس جادو ہے جو بابل والوں سے نقل ہوتا چلا آیا ہے۔ ان آیات میں اسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–24
ولید بن مغیرہ 1: جمہور مفسرین کے نزدیک ان آیات کا مصداق ولید بن مغیرہ ہے ۔ فرمایا ۔ اس کو ہم نے مال و دولت کی نعمت سے نوازا ۔ مکہ سے طائف تک اس کے قافلے تجارت کے رواں دواں تھے ۔ بیٹے دیئے جو سب زندہ اس کے سامنے موجود تھے ۔ اور اس کے کاروبار میں شریک تھے ۔ عزت وجاہ عطا کی ۔ پھر اس کی حرص وآزکا یہ عالم ہے کہ اس کے باوجودبھی اضافہ کا طالب ہے ۔ مگر آپ ہم کچھ نہیں دیں گے ۔ کیونکہ یہ ہماری آیتوں کا سخت مخالف ہے ۔ عنقریب اس کو شدید ترین عذاب سے دوچار ہونا پڑے گا ۔ اور اس کو معلوم ہوگا ۔ کہ یہ دولت و ثروت ساعوان وانصار اور عزت ومختار ان میں سے کوئی چیز بھی اللہ کے عذاب سے نہیں بچاسکتی ۔ اس کا جرم یہ…
Read the full tafseer →(18) کیونکہ اس شخص نے تامل کیا اور سوچا اور ایک اندازہ لگایا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–29
ف 4۔ باوجود احتمال نہ ہونے کے یہ امر فرمانا اشارہ ہے اہتمام شان توحید کی طرف کہ ایسی ضروری چیز ہے کہ معصوم کو بھی باوجود احتیاج نہ ہونے کے اس کی تعلیم کی جاتی ہے تو غیر معصوم تو بدرجہ اولی اس کا مکلف ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–23
(جلدی چڑھاؤں گا اسے صعود نام کے جہنمی پہاڑ پر) وہ ایک پہاڑ ہے آگ کا ، بہتر برس میں اس کے اوپر چڑھ سکتے ہیں اور اس کے اوپر چڑھتے ہی پھر نیچے گر پڑتے ہیں۔ تبیان میں ہے کہ تکلیف دوں گا میں اس کو صعود پر۔۔۔ اور صعود وہ ایک پتھر ہے دوزخ میں کہ اس پر نہیں جاسکتے تو اس کو آگ کی زنجیروں میں جکڑ کر آگے سے کھینچیں گے اور پیچھے سے آگ کے گرز ماریں گے کہ اس جگہ پر جائے۔ اور ولید کے واسطے جزا اور سزا کی یہ بڑی وعید ہے ۔۔۔ کیونکہ ۔۔۔ (بیشک اس نے سوچا) اور فکر کی کہ قرآن پر کیا طعن کرے (اور اندازہ لگایا) کہ کیا کہے یعنی جب اسے کسی طور پر یہ گنجائش نظر نہیں آئی کہ پیغمبر اسلام کو مجنون ، شیطان کے زیر اثر ، کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–30
The Annual Income of Walid Ibn Mughirah: Ten Million Guineas The disbeliever referred to here is Walid Ibn Mughirah. Allah had favoured him with abundant wealth, property and children. According to Ibn ` Abbas 4his land, property and gardens stretched from Makkah to Ta'if. According to Thauri, his annual income was ten million Dinars. Some scholars have estimated less than this amount. It is, nonetheless, agreed that the income and yearly produce of his fields and gardens were available in every season, winter or summer. Thus the Qur'an says: وَّجَعَلْتُ لَهٗ مَالًا مَّمْدُوْدًا وَّبَنِيْنَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–24
13 Its one meaning is that there is still no end to his greed. In spite of having all this he still desires that he should be granted every good thing of the world. Another meaning which Hadrat Hasan Basri, and some other scholars have given is:, "He used to say: If what Muhmmad (upon whom be peace) says is really true that there is another life after death, and there will be a Paradise also in it, then that Paradise too has been prepared for me."
Read the full tafseer →