Al-Muddaththir 74:16

Al-Muddaththir · from ayah 16

74:16

كَلَّا ؕ— اِنَّهٗ كَانَ لِاٰیٰتِنَا عَنِیْدًا ۟ؕكَلَّا ؕ اِنَّهٗ كَانَ لِاٰيٰتِنَا عَنِيۡدًا

ایسا ہرگز نہیں ہوگا۔ یہ ہماری آیتیں کا دشمن رہا ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

No! Indeed, he has been toward Our verses obstinate.

— Saheeh International

Juz 29 · Ruku 1 of surah · Ruku 15 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Muddaththir

All translations of 74:16

ہرگز نہیں، وہ ہماری آیات سے عناد رکھتا ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

ایسا ہرگز نہیں ہوگا۔ یہ ہماری آیتیں کا دشمن رہا ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

نہیں نہیں، وه ہماری آیتوں کا مخالف ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

ہرگز نہیں ! وہ ہماری آیتوں کا دشمن بن گیا ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

ہرگز نہیں وہ تو میری آیتوں سے عناد رکھتا ہے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

ہرگز (ایسا) نہ ہوگا، بے شک وہ ہماری آیتوں کا دشمن رہا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

ہرگز نہیں ! یقینا وہ ہماری آیات کا سخت مخالف رہا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا کیونکہ وہ ہماری آیات سے عناد رکھتا ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

ہرگز نہیں ! وہ تمہاری آیتوں کا دشمن نکلا

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

ہرگز نہیں کہ وہ میری آیتوں سے عناد رکھتا ہے

— مولانا اسحاق مدنی

ہرگز نہیں وہ ہماری آیتوں کا مخالف ہے

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

ہرگز نہیں ! وہ تو ہماری آیات کا مخالف (اور دشمن بن گیا) ہے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

ایسا ہرگز نہیں ہوگا۔۔ یہ ہماری آیتوں کا دشمن رہا ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

By no means; he is stubbornly opposed to Our Signs.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Never! He is inimical towards Our verses.

— Muhammad Taqi Usmani

Never! He is inimical towards Our verses.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Nay! Verily, he has been opposing Our Ayat.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Nay! For lo! he hath been stubborn to Our revelations.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

No! Indeed, he has been toward Our verses obstinate.

— Saheeh International

Never will he receive more. He has been hostile to Our revelations.

— Muhammad Sarwar

By no means! surely he offers opposition to Our communications.

— Muhammad Habib Shakir

By no means! Verily he hath been Unto Our signs a foe.

— Abdul Majid Daryabadi

By no means! For to Our Signs he has been refractory!

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 74:16

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 11–30

جہنم کی ایک وادی، صعود اور ولید بن مغیرہ جس خبیث شخص نے اللہ کی نعمتوں کا کفر کیا اور قرآن کو انسانی قول کہا اس کی سزاؤں کا ذکر ہو رہا ہے، پہلے جو نعمتیں اس پر انعام ہوئی ہیں ان کا بیان ہو رہا ہے کہ یہ تن تنہا خالی ہاتھ دنیا میں آیا تھا مال اولاد دیا اور کچھ اس کے پاس نہ تھا پھر اللہ نے اسے مالدار بنادیا، ہزاروں لاکھوں دینار زر زمین وغیرہ عنایت فرمائی اور باعتبار بعض اقوال کے تیرہ اور بعض اوراقوال کے دس لڑکے دیئے جو سب کے سب اس کے پاس بیٹھے رہتے تھے نوکر چاکر لونڈی غلام کام کاج کرتے رہتے اور یہ مزے سے اپنی زندگی اپنی اولاد کے ساتھ گزارتا، غرض دھن دولت لونڈی غلام بال بچے آرام آسائش ہر طرح کی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 15–24

سورة الْمُدَّثِّر 13 اس کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ اس پر بھی اس کی حرص ختم نہیں ہوئی۔ اتنا کچھ پانے کے بعد بھی وہ بس اسی فکر میں لگا ہوا ہے کہ اسے دنیا بھر کی نعمتیں عطا کردی جائیں۔ دوسرا مطلب حضرت حسن بصری اور بعض دوسرے بزرگوں نے یہ بیان کیا ہے کہ وہ کہا کرتا تھا کہ اگر واقعی محمد ﷺ کا یہ بیان سچا ہے کہ مرنے کے بعد کوئی دوسری زندگی ہے اور اس میں کوئی جنت بھی ہوگی تو وہ جنت میرے ہی لیے بنائی گئی ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 12–30

ولید بن مغیرہ کی آمدنی ایک کروڑ گنیاں سالانہ یہ کافر ولید بن مغیرہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے دنیا کی مال و دولت اور اولاد فراوانی کے ساتھ دی تھی، بقول ابن عباس اس کی زمین جائیداد و باغات مکہ سے طائف تک پھیلے ہوئے تھے اور بقول ثوری اس کی سالانہ آمدنی ایک کروڑ دینار تھی، بعض نے اس سے کم بھی بتلایا ہے۔ اتنا سب کے نزیک مسلم ہے کہ اسکے کھیت اور باغات کی آمدنی اور پیداوار سال بھر سردی گرمی کی ہر موسم میں مسلسل رہت یتھی قرآن کریم میں اسی کو فرمایا ہے وّجَعَلْتُ لَهٗ مَالًا مَّمْدُوْدًا اور یہ عرب کا سردار مانا جاتا تھا۔ لوگوں میں اس کا لقب ریحانہ قریش مشہور تھا یہ خود اپنے آپ کو بطور فخر و بکر کے وحید…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

برخود غلط مدعیوں کو جواب: یہ اس قسم کے برخود غلط لوگوں کے زعم باطل کی نہایت شدت کے ساتھ تردید ہے۔ فرمایا کہ ان کا یہ خواب ہرگز پورا ہونے والا نہیں ہے۔ اللہ نے ان کو جو نعمتیں دیں نہ ان کے حق کی حیثیت سے دیں نہ ان کے حاصل ہونے میں ان کی تدبیر یا ان کے تدبر کو کوئی دخل ہے بلکہ محض اپنے فضل و کرم سے یہ امتحان کرنے کے لیے دیں کہ دیکھے وہ اپنے رب کے شکرگزار و فرماں بردار رہتے ہیں یا خودسر، مغرور اور خدا کے باغی اور زمین میں فساد برپا کرنے والے بن جاتے ہیں۔ اس امتحان سے ثابت ہو گیا کہ وہ نعمتیں پا کر اللہ کی آیتوں کے دشمن بن گئے۔ ’اٰیات‘ سے مراد بحیثیت مجموعی قرآن اور خاص طور پر اس کی وہ آیتیں ہیں…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

16۔ 1 یعنی میں اسے زیادہ نہیں دونگا۔ عنید اس شخص کو کہتے ہیں جو جاننے کے باوجود حق کی مخالفت کرے اور اس کو رد کرے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 11–16

5: متعدد تفسیری روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سے مراد ولید بن مغیرہ ہے جو مکہ مکرمہ کا بڑا دولت مند سردار تھا۔ اس کی دولت مکہ مکرمہ سے طائف تک پھیلی پڑی تھی۔ وہ کبھی کبھی حضرت ابوبکر ؓ کے پاس جایا کرتا تھا، اور ایک مرتبہ وہ قرآن کریم سن کر یہ اعتراف کرچکا تھا کہ یہ ایک بےنظیر کلام ہے جو کسی انسان کا نہیں ہوسکتا۔ اس سے ابوجہل کو یہ خوف ہوا کہ وہ کہیں مسلمان نہ ہوجائے۔ چنانچہ اس نے ولید بن مغیرہ کے پاس جا کر اسے غیرت دلائی، اور کہا کہ لوگ تمہارے بارے میں یہ باتیں کر رہے ہیں کہ تم مسلمانوں کے پاس دولت حاصل کرنے جاتے ہو۔ ولید کو اس پر غیرت آگئی، اور اس نے کہا کہ آئندہ میں کبھی ابوبکر وغیرہ کے…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

یہاں اس کی سرزنش کی جاتی ہے اور اس پر سخت عتاب آتا ہے۔ انہ کان ................ عنیدا (74:12) ” وہ ہماری آیات سے عناد رکھتا تھا “۔ اس نے عناد کی وجہ سے حق کے دلائل کو رد کردیا اور ان اشارات کو قبول نہ کیا جو ایمان کی طرف جاتے تھے۔ یہ دعوت اسلامی کے مقابلے میں آکھڑا ہوا۔ رسول اللہ سے جنگ شروع کردی ، لوگوں کو اسلام سے روکا اور اس کے خلاف گمراہ کن پروپیگنڈا کیا۔ اس کے بعد ، اس سخت ترین سرزنش کے بعد اب اسے دھمکی دی جاتی ہے ، جس کی وجہ سے اب اس کو حاصل سہولیات مشکلات میں بدل جاتی ہیں۔ اور آسانیوں کی جگہ دشواریاں لیتی ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

6 یعنی جب وہ منعم حقیقی کی آیتوں کا مخالف ہے تو اسے ہرگز حق نہیں پہنچتا کہ ایسی توقع باندھے اور خیالی پلاؤ پکائے۔ کہتے ہیں کہ ان آیات کے نزول کے بعد پے بہ پے اس کے مال و اسباب میں نقصان ہونا شروع ہوا۔ آخر فقیر ہو کر ذلت کے ساتھ مرگیا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 14–16

آیت 17{ سَاُرْہِقُہٗ صَعُوْدًا۔ } ”میں اسے عنقریب ایک سخت چڑھائی چڑھوائوں گا۔“ اس سے مراد ایسا عذاب ہے جس کی شدت ہر آن بڑھتی چلی جائے گی۔ اسی نوعیت کے عذاب کا ذکر سورة جن میں بھی آچکا ہے : { یَسْلُکْہُ عَذَابًا صَعَدًا۔ } ”تو وہ ڈال دے گا اس کو چڑھتے عذاب میں۔“ ولید بن مغیرہ بنیادی طور پر بہت ذہین اور سمجھ دار شخص تھا۔ وہ سمجھ چکا تھا کہ قرآن اللہ ہی کا کلام ہے اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں ‘ لیکن اپنے ضمیر کی اس آواز پر لبیک کہہ کر وہ اپنی چودھراہٹ اور دنیوی ٹھاٹھ باٹھ کی قربانی نہیں دے سکتا تھا۔ اس لحاظ سے وہ واقعتا بہت مشکل میں تھا۔ اپنی اس مشکل کا حل اسے کسی درمیانی راہ میں نظر آتا تھا۔…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 15–16

10 اس شخص کو اللہ تعالیٰ نے مال و دولت بھی کافی عطا کیا تھا، جوان بیٹے بھی اور ریاست بھی دی تھی۔ لیکن کبھی حرف شکر زبان سے نہ نکلا ہمیشہ اور زیادہ مال جمع کرنے کی حرص میں منہمک رہتا اور اگر رسول اللہ ﷺ اس کے سامنے جنت کی نعمتوں کا ذکر فرماتے تو کہتا تھا کہ اگر یہ شخص اپنے بیان میں سچا ہے تو مجھے یقین ہے کہ وہاں کی نعمتیں بھی مجھے ضرور ملیں گی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 16–17

7۔ (جب اسے اپنی سرکشی ونافرمانی کا مزہ معلوم ہوگا) (آیت) ” سارھقہ صعودا “۔ صعود۔ دوزخ کی ایک پہاڑی کا نام ہے دوزخی اس پر چڑھے گا اور پھر گرے گا۔ گرے گا اور پھر چڑھے گا، اور عذاب یہ صورت دائمی رہے گی۔ اور یہ سزا اس کے اس عناد کی ہوگی جو اسے حق کے ساتھ دنیا میں رہا کیا تھا۔ (آیت) ” کلا “۔ یعنی وہ ہرگز اس قابل نہیں۔ (آیت) ” لایتنا “۔ ایات سے مراد کلام الہی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 11–30

ذرنی و من خلقت وحیدا یہ کلمہ وعید اور تہدید کے لئے ہے، یہ شخص جسے میں نے ماں کے پیٹ سے اکیلا پیدا کیا ہے اس کے پاس نہ مال تھا اور نہ اولاد، یہ ولید بن مغیرہ کی طرف اشارہ ہے، اللہ نے اسے اولاد ذکور سے نوازا تھا اس کے دس بارہ لڑے تھے جو ہر وقت اس کے پاس رہتے تھے، مجلسوں اور محفلوں میں بلائے جاتے تھے، گھر میں دولت کی فراوانی تھی، اس لئے بیٹوں کو کاروبار اور تجارت کے لئے باہر جانے کی ضرورت نہیں تھی، بارہ بیٹوں میں سے تین مسلمان ہوگئے تھے، خالد، ہشام اور ولید بن ولید۔ (فتح القدیر)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

کلا . یہ حرف روع (بازداشت) ہے یعنی اس کی ناشکری کی وجہ سے ہرگز ایسا نہیں کروں گا۔ بغوی نے لکھ ہے کہ اس آیت کے نزول کے بعد ولید کے مال و اولاد میں برابر کمی آتی رہی اور اسی تنزل کی حالت میں وہ مرگیا۔ انہ کان لایتنا عنیدا . وہ ہماری آیات کا معاند ہے ‘ وہ وحی کا منکر ہے اور آیات کو جادو قرار دیتا ہے۔ یہ جملہ گزشتہ بازداشت کی علت ہے کیونکہ ناشکری اور آیات الٰہیہ کی مخالفت سے نعمت کا زوال اور ترقی کی روک ہوجاتی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 14–17

پھر بھی ولید اپنے مال کی زیادتی کی ہوس رکھتا ہے حالانکہ وہ میری نافرمانی کرتا ہے ہرگز وہ زیادہ دینے کے قابل نہیں، چناچہ اس کے بعد اس کا مال برابر رہا کیونکہ وہ ہماری کتاب کا اور رسول کا دشمن اور اس کی تکفیر کرنے والا ہے، میں عنقریب اسے دوزخ کے پہاڑ پر چڑھاؤں گا اس کی کیفیت یہ ہوگی کہ جس وقت وہ اس پر ہاتھ رکھے گا تو وہ گھل جائے گا اور پھر اپنی سابقہ حالت پر آجائے گا یا یہ کہ وہ پہاڑ پیتل کا ہوگا اس کے سامنے سے اس کو کھینچے گا اور پیچھے سے مارے گا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

کلا انہ کان لایتنا عنیداً :”عیداً“ (ن، ض) حق کو پہچانتے ہوئے ضد کی وجہ سے مخالفت کرنے والا۔ ”کان“ سے ہمیشگی کا مفہوم نکل رہا ہے،”کلا“ ہرگز نہیں۔ یعنی اس کی یہ خواہش کبھی پوری نہیں ہوگی، مزید نواشز و مہربانی کا حق دار تو تب تھا جب وہ ہماری بات مانتا، وہ تو ہمیشہ سے ہماری آیات کا شدید مخالف رہا ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

انہ کان لایتینا عنیدا۔ یعنی ولید نبی کریم اور جو وہ پیغام حق لائے ہیں اس سے عناد رکھتا تھا جس طرح یہ کہا جاتا تھا، عائد، عنید جیسے جالس، جلیس، یہ مجاہد کا قول ہے، عند یعند کسرہ کے ساتھ ہو اس کا معنی حق کی مخالفت کرنا ہے اورس کا رد کرنا ہے جب کہ وہ حق کو پہچانتا ہو اس سے اسم فاعل عنید اور عائدا استعمال ہوتا ہے عائد اس اونٹ کو بھی کہتے ہیں جو راستہ سے بھٹک جائے اس کی جمع عند آتی ہے جس طرح راکع کی جمع رکع آتی ہے، ابوعبیدہ نے حارثی کا شعرذکر کیا ہے۔ اذا رکبت فاجعلانی وسطا، انی کبیر لا اطیق العند۔ جب میں کوچ کرتا ہوں تو وہ دونوں مجھے درمیان میں رکھ لیتے ہیں میں بوڑھا ہوچکا ہوں میں راستہ نہیں…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 12–16

6۔ ابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے آیت وجعلت لہ مالا ممدودا میں مال کثیر سے مراد ہزار دینار ہیں۔ 7۔ عبد بن حمید نے سفیان (رح) سے روایت کیا کہ آیت وجعلت لہ مالا ممدودا کے بارے میں روایت کیا کہ اس سے مراد ہے کہ اس کے پاس دس لاکھ تھے۔ 8۔ ابن جریر وابن ابی حاتم وابن مردویہ والدینوری نے المجالسہ میں عمر بن خطاب ؓ سے روایت کیا کہ ان سے آیت وجعلت لہ مالا ممدودا، کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا کئی مہینوں کا غلہ اس کے پاس موجود تھا۔ 9۔ ابن مردویہ نے نعمان بن سالم (رح) سے روایت کیا کہ آیت وجعلت لہ مالا ممدودا سے مراد زمین ہے۔ 10۔ ہناد نے ابو سعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ آیت سارھقہ صعودا عنقریب میں اس کو…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[كَلَّا ۭ انهٗ كَان : ہرگز نہیں ! بیشک وہ تھا ] [لِاٰيٰتِنَا عَنِيْدًا : ہماری آیتوں کی مخالفت کرنے والا ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

﴿كَلَّا ﴾ (ہرگز نہیں ! ) اسے دنیا میں مزید مال اور اولاد دینے کی بھی نفی ہوگئی اور وہ جو اس نے کہا تھا کہ اگر جنت واقعی پیدا ہوئی ہے تو مجھے ہی ملے گی اس کی بھی تردید ہوگئی۔ معالم التنزیل میں لکھا ہے کہ اس آیت کے نازل ہونے کے بعد ولید برابر مال اور اولاد کے اعتبار سے نقصان میں جاتا رہا یہاں تک کہ وہ مرگیا، كب مرا کہاں مرا اس کے بارے میں صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہ بعض اہل سیر کا قول ہے کہ غزوہٴ بدر میں مارا گیا اور ایک قول یہ ہے کہ اسے ملک حبشہ نے قتل کردیا تھا۔ بہر صورت وہ کفر پر ہی مقتول ہوا۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–31

حکم اعلان توحید و رسالت سید المرسلین ﷺ وتہدید ومذمت براعراض مجرمین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” یایھا المدثر قم فانذر ........ الی ....... الا ذکری للبشر “۔ (ربط) سورة مزمل کے آخر میں بالخصوص احکام خداوندی کی اطاعت کا حکم فرمایا گیا تھا اور یہ کہ ایمان کا تقاضا ہے کہ اہل ایمان نمازیں قائم رکھیں اور زکوٰۃ ادا کرتے رہیں اور حق تعالیٰ کی راہ میں انفاق وایثار سے کبھی بھی گزیر نہ کریں یہ تو اللہ رب العزت کی بارگاہ میں ایک قرض حسن سے جو بڑی ہی برکتوں اور زیادتیوں کے ساتھ قرض دینے والوں کو واپس ملے گا اور دار آخرت کے واسطے بہترین ذخیرہ ہے جو دنیاوی زندگی میں ہی آخرت کے لیے مہیا کیا جاتا ہے اور وہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 12–16

7:۔ ” وجعلت لہ “۔ ممدود، کثیر۔ شھود، حاضر باش۔ سفر وحضر میں اور تجارت و تصرف میں اس کے ساتھ حاضر رہنے والے یا اپنی وجاہت و قابلیت کی وجہ سے مجلسوں اور محفلوں میں شریک ہونے والے، ہم نے اس کے دنیوی جاہ و وقار اور اس کی ریاست ووجاہت و قابلیت کی وجہ سے مجلسوں اور محفلوں میں شریک ہونے والے۔ ” ومہدت لہ “ ہم نے اس کے دنیوی جاہ و وقار اور اس کی ریاست و وجاہت کو خوب وسعت دی۔ ہم نے جب اس کو پیدا کیا تو وہ تنہا تھا ذلیل اور بےمال تھا پھر ہم نے اس کو کثیر دولت عطا کی، اس کو لائق اور قابل اولاد دی۔ لوگوں پر اس کی وجاہت و ریاست کا سکہ بٹھا دیا۔ لیکن اس نے ناشکری کی، اللہ کے شریک بنائے اور اس کے دین سے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

كَلَّا۝ 0 ۭ اِنَّہٗ كَانَ لِاٰيٰتِنَا عَنِيْدًا۝ 16 ۭ كلا كَلَّا : ردع وزجر وإبطال لقول القائل، وذلک نقیض «إي» في الإثبات . قال تعالی: أَفَرَأَيْتَ الَّذِي كَفَرَ إلى قوله كَلَّا[ مریم/ 77- 79] وقال تعالی: لَعَلِّي أَعْمَلُ صالِحاً فِيما تَرَكْتُ كَلَّا [ المؤمنون/ 100] إلى غير ذلک من الآیات، وقال : كَلَّا لَمَّا يَقْضِ ما أَمَرَهُ [ عبس/ 23] . کلا یہ حرف روع اور زجر ہے اور ماقبل کلام کی نفی کے لئے آتا ہے اور یہ ای حرف ایجاب کی ضد ہے ۔ جیسا کہ قرآن میں ہے ۔ أَفَرَأَيْتَ الَّذِي كَفَرَ إلى قوله كَلَّا[ مریم/ 77- 79] بھلا تم نے اس شخص کو دیکھا جس نے ہماری آیتوں سے کفر کیا ۔ اور کہنے لگا اگر میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 8–16

ترکیب : فاذا وا للسببتیہ کانہ قیل اصبر علی اذا ھم فبین ایدیھم یوم ھائل یلقون فیہ عاقبۃ امرھم۔ والعامل فی اذاماول علیہ قولہ فذلک لانہ اشارۃ الی النقرای وقت النقروقیل ماول علیہ عسیر ای یعسر نقربفخ الناقور علی وزن فاعول من النقر بمعنے التصویت فذلک اشارۃ الی وقت النقر مبتداء یومئذ بدل منہ اوظرف بخبرہ یوم عسیر خبرہ غیر یسیر تاکید و قال الاخفش اذامبتداء والخبر فذلک والفاء زائدۃ یومئذ ظرف لذلک وقیل ھوفی موضع رفع بدل من ذلک اومبتداء و یوم عسیر خبرہ والجملۃ خیر ذلک وعلی یتعلق بعسیرا وھی لغت لہ اوحال من الضمیر الذی فیہ ومن مفعول معہ اومعطوف علی الضمیر المنصوب۔ وحیدا حال من الیاء ای ذرنی وحدی معہ فانی…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 16–17

کَلاَّ طاِنَّـہٗ کَانَ لِاٰیٰـتِنَا عَنِیْدًا۔ سَاُرْھِقُہٗ صَعُوْدًا۔ (المدثر : 16، 17) (ہرگز نہیں، وہ ہماری آیات سے عناد رکھنے والا ہے۔ میں اس کو عنقریب ایک سخت چڑھائی چڑھائوں گا۔ ) احسان ناشناسی کی سزا یعنی وہ جو توقع رکھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مزید نعمتیں اسے میسر آئیں گی اور قیامت کے دن بھی دنیا ہی کی طرح اسے نوازا جائے گا، فرمایا ایسا ہرگز نہیں ہوگا۔ اس کا یہ خواب ہرگز پورا ہونے والا نہیں۔ اللہ تعالیٰ جس کو بھی نعمتیں دیتا ہے وہ اس کے حق کی حیثیت سے نہیں دیتا بلکہ ان کے لیے آزمائش بناتا ہے کہ وہ یہ نعمتیں پا کر شکرگزار اور فرمانبردار رہتے ہیں یا خودسر مغرور یا خدا کے باغی بن جاتے ہیں۔…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 8–25

فہم القرآن ربط کلام : اللہ کے رسول نے جونہی لوگوں کو اللہ کی توحید کی دعوت دی تو وہ لوگ آپ کی جان کے دشمن ہوگئے اور انہوں نے آپ کی مخالفت میں ایڈی چوٹی کا زور لگا دیا۔ ایسے لوگوں کو ان کا انجام بتلایا گیا ہے کہ آج تم اپنی طاقت پر گھمنڈ کرتے ہو۔ وہ وقت یاد کرو جس دن صور پھونکا جائے گا۔ انکار کرنے والوں کے لیے یہ دن بڑا سخت ہوگا اور اس کی سختی کا کوئی مقابلہ نہیں کرسکے گا۔ سرداران مکہ نے بڑی کوشش کی کہ نبی ﷺ کی دعوت کی طرف لوگ متوجہ نہ ہوسکیں لیکن دعوت کی کشش، آپ کے اخلاق اور آپ ﷺ کی عظیم جدوجہد کے نتیجہ میں لوگ آپ کی ذات کے گرویدہ اور توحید کی دعوت قبول کیے جا رہے تھے یہ بات سرداران مکہ کے لیے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

16 : کَلَّا ( ہرگز نہیں) یہ رد عیہ ہے اس میں جھڑک کر اس کی امیدیں منقطع کیں۔ ای لا یجمع لہ بعد الیوم بین الکفر والمزید من النعم آج کے دن کے بعد کفر اور مزید نعمتیں باہمی جمع نہ ہونگی۔ اس آیت کے اترنے کے بعد اس کے مال و جاہ میں زوال و نقصان شروع ہوا یہاں تک کہ وہ ہلاک ہوگیا۔ اِنَّہٗ کَانَ لِاٰیٰتِنَا (وہ ہماری آیات کا مخالف ہے) آیات سے قرآن مجید مراد ہے۔ عَنِیْدًا (عناد اور ضد سے انکار کرنے والا) ۔ یہ بطور استیناف کے ردع کی تعلیل بیان کی گئی ہے گویا کوئی کہنے ولا کہہ رہا ہے۔ وہ کیوں اضافہ نہیں کرتا ؟ تو جواب دیا گیا کیونکہ وہ منعم کی آیات کا انکاری ہے۔ اور اس سے اس نے کفران نعمت کیا ہے اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

15 ۔” ثم یطمع “ امید کرتا ہے ” ان ازید “ یعنی میں اس کے مال واولاد کو زیادہ کردوں۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 11–30

11۔ 30۔ ان آیتوں کی شان نزول صحیح سند سے مستدرک 2 ؎ حاکم وغیرہ میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ نے جو بیان فرمائی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ ولید بن مغیرہ آنحضرت ﷺ کے پاس آیا اور آپ ﷺ نے اس کو قرآن شریف کی کچھ آیتیں پڑھ کر سنائیں جس سے اس کا دل کسی قدر نرم ہوا یہ خبر ابوجہل کو پہنچی اس نے ولید بن مغیرہ سے کہا کہ قوم کے لوگ تم سے ہرگز خوش نہ ہوں گے جب تک قرآن کے بارے میں تم ان کی مرضی کے موافق کوئی بات نہ کہو گے ولید بن مغیرہ نے جواب دیا کہ اچھا میں سوچ کر اس بارے میں کچھ کہوں گا پھر اس نے اپنے وعدہ کے موافق لوگوں کے سامنے قوم کے لوگوں کو خوش کرنے کے لئے یہ بات کہی جس کا ذکر ان آیتوں میں ہے کہ یہ قرآن…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 16–18

(كَلَّا ۭ ) یعنی معاملہ ایسا نہیں جیسا کہ وہ چاہتا ہے بلکہ وہ اس کے مطلوب و مقصود کے برعکس ہوگا۔ اس کا سبب یہ ہے کہ ( اِنَّهٗ كَانَ لِاٰيٰتِنَا عَنِيْدًا) وہ ہماری آیتوں سے عناد رکھتا ہے، اس نے ان آیات کو پہچان کر ان کا انکار کردیا، ان آیات نے اسے حق کی طرف دعوت دی مگر اس نے ان کی اطاعت نہ کی اس نے صرف ان سے روگردانی کرنے اور منہ موڑنے پر اکتفا نہیں کیا بلکہ ان کے خلاف جنگ کی اور ان کے ابطال کے لیے بھاگ دوڑ کی، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں فرمایا (انہ فکر) یعنی اس نے اپنے دل میں غور کیا (وقدر) جس کے بارے میں غور کیا اس کو تجویز کیا کہ وہ ایسی بات کہے جس کے ذریعے سے وہ قرآن کا ابطال…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 6–56

عطیہ اس نیت سے نہ دیا جائے کہ بدلے میں عطیہ ملے قول باری ہے (ولا تمنن تستکثر۔ اور احسان نہ کرو زیادہ حاصل کرنے کے لئے) حضرت ابن عباس ؓ ، ابراہیم نخعی، مجاہد، قتادہ اور ضحاک کا قول ہے کہ کوئی عطیہ اس نیت سے نہ دو کہ تمہیں اس کے بدلے میں اس سے زیادہ دیا جائے۔ حضن بصری اور ربیع بن انس کا قول ہے کہ اپنی نیکیوں کو زیادہ سمجھتے ہوئے اللہ پر ان کا احسان نہ دھرو کہ پھر اللہ کے ہاں تمہاری یہ نیکیاں گھٹ جائیں۔ دوسرے حضرات کا قول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو نبوت اور قرآن کی جو دولت عطا کی ہے لوگوں سے زیادہ اجر حاصل کرنے کی نیت سے اس کا احسان نہ جتلائیں۔ مجاہد سے یہ بھی منقول ہے کہ اپنی طاعت کو کثیر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 15–16

12 ۔ منکرین کے زعم باطل کی سختی کے ساتھ تردید : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اتنا کچھ پانے کے بعد وہ مزید کی طمع بھی کرتا ہے اور کہتا ہے کہ اگر آخرت ہوئی بھی تو وہاں بھی وہ عیش کرے گا تو اس کے اس زعم باطل کی تردید کے لیے ارشاد فرمایا گیا کہ ہرگز نہیں، یعنی ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا کہ میں اس کو اس کے کفر و ناشکری کے باوجود اس کے بعد مزید نعمتیں دیتا جاؤں، چناچہ روایت میں وارد ہے کہ ان آیات کریمہ کے نزول کے بعد اس شخص کا زوال و انحطاط شروع ہوگیا اور وہ گرتا ہی چلا گیا، کہ اللہ تعالیٰ کے یہاں ہر چیز کا ایک وقت مقرر ہے ( قد جعل اللہ لکل شیء قدرا) والعیاذ باللہ جل وعلا۔ سو اس دنیا میں انسان کو جو بھی کوئی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 11–38

منکرین اور ان کا انجام تشریح : آیت گیارہ سے آگے تک جس شخص کی خصوصیات بیان کی گئی ہیں وہ ہر اس شخص کے لیے مخصوص ہیں جو خراب بری عادات والا ہو مگر تمام مفسرین نے اور خاص طور سے تفسیر ابن کثیر میں اس شخص کا نام ولید بن مغیرہ مخزومی بتایا گیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جو شخص بھی اللہ کی دی ہوئی تمام نعمتوں سے مالامال ہو اور وہ شکر ادا نہ کرے اللہ کا کلام اس کے پاس پہنچے وہ اس کی تصدیق بھی کرے اس کو سچ بھی جانے مگر کیا کہیں کہ ہٹ دھرمی بےوقوفی یا آباو اجداد کی پیروی کا خیال کرتے ہوئے یا پھر اپنے دوست احباب کا خیال کرتے ہوئے۔ غرض کوئی بھی وجہ ہو اور وہ اللہ پر ایمان نہ لائے اور اللہ اور اسکے رسول ﷺ اور…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–31

سورة المدثر۔ آیات 1 تا 31۔ اسرار ومعارف۔ سورة مدثر بھی پہلی پہلی صورتوں میں سے ہے اور مدثر ومزمل کا مفہوم ایک ہے بعض کے نزدیک پہلے سورة مزمل کی آیات نازل ہوئیں اور پھر مدثر کی بعض نے مدثر کو پہلے لکھا ہے مگر قرائن سے مزمل کا پہلے ہونا معلوم ہوتا ہے کہ اس میں ذاتی اعمال کی بات ہے اور مدثر میں قوم سے خطاب کرنے کا حکم ہے بہرحال نہایت ابتدائی سورتوں میں سے ہیں جب ایک دولوگ ہی مسلمان تھے تو فرمایا اے لپیٹ کر سونیو الے اٹھیے اور لوگوں کو دعوت دیجئے اور اپنے رب کی توحید اور بڑائی بیان کیجئے۔ لباس کی پاکیزگی۔ اپنے لباس کو پاک کیجئے ، مراد ماحول بھی ہے کردار بھی اور حقیقتا سارامال اور معاشی نظام مقصود…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 16–17

ف 12 ترمذی وغیرہ کی بعض روایات میں ہے کہ آنحضرت نے فرمایا : ” صعود “ دوزخ میں آگ کا پہاڑ ہے۔ کافر ستر برس تک اس میں چڑھایا جاتا رہے گا پھر نیچے گرے گا پھر چڑھایا جائیگا اور اسی طرح اسے چڑھنے اترنے کا یہ عذاب ہوتا رہے گا۔ “ ان روایات کی چونکہ سند کمزور ہے اس لئے امام ابن جریر وغیرہ نے آیت کا یہ مطلب یہ بیان کیا ہے کہ ” میں اسے ایسا مشقت طلب عذاب دوں گا جس میں کوئی آرام نہ ہوگا۔ ابن کثیر

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(74:16) کلا : ہرگز نہیں۔ حرف ردع میں سے ہے۔ (ردع بمعنی روکنا باز رکھنا) ۔ انہ کان لایتنا عنیدا۔ یہ حرف ردع کلا کی علت ہے۔ کیونکہ وہ ہماری آیات کا مخالف ہے اس لئے ہم اس کو مزید نہیں دیں گے۔ (ناشکری اور آیات الٰہیہ کی مخالفت سے نعمت کا زوال ہوتا ہے اور ترقی رک جاتی ہے۔ عنیدا : عناد رکھنے والا۔ راستے سے ادھر ادھر ہٹ جانے والا۔ عنود (باب ضرب کرم) بروزن فعیل بمعنی فاعل : صفت مشبہ کا صیغہ ہے منصوب بوجہ خبر کان ہے ۔ ضدی۔ سرکش ، جانتے بوجھتے حق کی مخالفت کرنے والا۔ فائدہ : آیات نمبر 11 تا 26 ولید بن مغیرہ المخزومی کے بارے میں نازل ہوئی تھیں خداوند تعالیٰ نے اس کو دنیاوی نعمتیں وافر عطا کر رکھی تھیں۔…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–31

لغات القرآن۔ المدثر۔ چادر اوڑھ لپیٹ کر لیٹنے والے۔ ثیاب۔ کپڑے۔ الرجز۔ گندگی ۔ ناپاکی۔ اھجر۔ اس کو چھوڑو۔ دوررہ۔ لاتمنن۔ احسان نہ جتا۔ تستکثر۔ زیادہ کی طلب۔ نقر۔ بچایا گیا۔ پھونکا گیا۔ الناقور۔ صور۔ وحید۔ تنہا۔ اکیلا۔ ممدود۔ پھیلایا گیا۔ شھود۔ سامنے۔ ہر جگہ۔ مھدت۔ میں نے تیار کردیا۔ یطمع۔ امید رکھتا ہے۔ عنید۔ نہ ماننے والا۔ ارھق ۔ میں چڑھا دوں گا۔ صعود۔ چڑھائی۔ اونچائی۔ عبس۔ اس نے تیوری چڑھائی۔ بسر۔ اس نے کڑوا سا منہ بنایا۔ یوثر۔ پہلے چلا آتا ہے۔ سقر۔ آگ۔ لاتذر۔ پیچھا نہ چھوڑے گی۔ لواحۃ۔ جھلس ڈالنے والی۔ تسعۃ عشر۔ انیس۔ تشریح : اللہ تعالیٰ… کی طرح نہایت شفقت و محبت سے نبی مکرم حضرت محمد مصطفیٰ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 11–26

(ف 2) شان نزول : جب ۔ حم۔ تنزیل الکتاب من اللہ العزیز الحکیم۔ نازل ہوئی اور نبی ﷺ نے تلاوت فرمائی ولید بن مغیرہ نے سنا اس قوم کی مجلس میں آ کر اس نے کہا کہ خدا کی قسم، میں نے محمد ﷺ سے ابھی ایک کلام سنا، نہ وہ آدمی کانہ جن کا، بخدا اس میں عجیب شیرینی اور تازگی اور فوائد دل کشی ہے، وہ کلام سب پر غالب رہے گا، قریش کو اس کی ان باتوں سے بہت غم ہوا، ان میں مشہور ہوگیا، ولید آبائی دین سے برگشتہ ہوگیا ابوجہل نے ولید کو ہموار کرنے کا ذمہ لیا اور اس کے پاس آکربہت غمزدہ صورت بنا کر بیٹھ گیا ولید نے کہا کیا غم ہے ابوجہل نے کہا غم کیسے نہ تو بوڑھا ہوگیا قریش تیرے خرچ کے لیے روپیہ جمع کردیں گے انہیں خیال…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 12–17

[8] صعود دوزخ کی ایک پہاڑی کا نام ہے۔ دوزخی اس پر چڑھے گا اور پھر گرے گا۔ گرے گا اور پھر چڑھے گا۔ عذاب کی یہ صورت دائمی رہے گی۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 12–24

ولید بن مغیرہ 1: جمہور مفسرین کے نزدیک ان آیات کا مصداق ولید بن مغیرہ ہے ۔ فرمایا ۔ اس کو ہم نے مال و دولت کی نعمت سے نوازا ۔ مکہ سے طائف تک اس کے قافلے تجارت کے رواں دواں تھے ۔ بیٹے دیئے جو سب زندہ اس کے سامنے موجود تھے ۔ اور اس کے کاروبار میں شریک تھے ۔ عزت وجاہ عطا کی ۔ پھر اس کی حرص وآزکا یہ عالم ہے کہ اس کے باوجودبھی اضافہ کا طالب ہے ۔ مگر آپ ہم کچھ نہیں دیں گے ۔ کیونکہ یہ ہماری آیتوں کا سخت مخالف ہے ۔ عنقریب اس کو شدید ترین عذاب سے دوچار ہونا پڑے گا ۔ اور اس کو معلوم ہوگا ۔ کہ یہ دولت و ثروت ساعوان وانصار اور عزت ومختار ان میں سے کوئی چیز بھی اللہ کے عذاب سے نہیں بچاسکتی ۔ اس کا جرم یہ…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 5–29

ف 4۔ باوجود احتمال نہ ہونے کے یہ امر فرمانا اشارہ ہے اہتمام شان توحید کی طرف کہ ایسی ضروری چیز ہے کہ معصوم کو بھی باوجود احتیاج نہ ہونے کے اس کی تعلیم کی جاتی ہے تو غیر معصوم تو بدرجہ اولی اس کا مکلف ہوگا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

Explained with ayahs 11–16

(رہنے دو مجھے اور جسے پیدا کیا میں نے اکیلا) بےآل اولاد اور بےیارومددگار۔۔۔ اور ایک قول یہ ہے کہ اسے وحید القوم کہتے تھے ، یعنی قوم میں ایک ۔۔۔ (اور دیا میں نے اسے لمبا چوڑا سرمایہ) یعنی بہت مال۔ روایت ہے کہ اس کے پاس زر نقد دس لاکھ دینار تھے ، اور مکہ اور طائف کے درمیان اس کے اونٹ گھوڑے بکریاں بہت تھیں ، باغ اسباب لونڈی غلام بیشمار تھے۔ (اور) دیا ہم نے اسے (حاضر باش بیٹے) جو مکہ میں اس کے پاس حاضر و موجود رہتے تھے ، تجارت و کسب معاش کے واسطے سفر کے محتاج نہ تھے۔ چناچہ ۔۔۔ ہمیشہ اپنے باپ کے ساتھ محفلوں میں حاضر ہوتے۔ راویت ہے کہ اس کے دس بیٹے تھے ان میں خالد اور عمارہ اور ہشام ایمان لائے۔…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 12–30

The Annual Income of Walid Ibn Mughirah: Ten Million Guineas The disbeliever referred to here is Walid Ibn Mughirah. Allah had favoured him with abundant wealth, property and children. According to Ibn ` Abbas 4his land, property and gardens stretched from Makkah to Ta'if. According to Thauri, his annual income was ten million Dinars. Some scholars have estimated less than this amount. It is, nonetheless, agreed that the income and yearly produce of his fields and gardens were available in every season, winter or summer. Thus the Qur'an says: وَّجَعَلْتُ لَهٗ مَالًا مَّمْدُوْدًا وَّبَنِيْنَ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 15–24

13 Its one meaning is that there is still no end to his greed. In spite of having all this he still desires that he should be granted every good thing of the world. Another meaning which Hadrat Hasan Basri, and some other scholars have given is:, "He used to say: If what Muhmmad (upon whom be peace) says is really true that there is another life after death, and there will be a Paradise also in it, then that Paradise too has been prepared for me."

Read the full tafseer →