Al-Muddaththir 74:15

Al-Muddaththir · from ayah 15

74:15

ثُمَّ یَطْمَعُ اَنْ اَزِیْدَ ۟ۗۙثُمَّ يَطۡمَعُ اَنۡ اَزِيۡدَ

ابھی خواہش رکھتا ہے کہ اور زیادہ دیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

Then he desires that I should add more.

— Saheeh International

Juz 29 · Ruku 1 of surah · Ruku 15 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Muddaththir

All translations of 74:15

پھر وہ طمع رکھتا ہے کہ میں اسے اور زیادہ دوں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

ابھی خواہش رکھتا ہے کہ اور زیادہ دیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

پھر بھی اس کی چاہت ہے کہ میں اسے اور زیاده دوں

— مولانا محمد جوناگڑہی

پھر بھی وہ یہ لالچ کرتا ہے کہ میں اسے اور زیادہ دوں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

پھر یہ طمع کرتا ہے کہ میں اور زیادہ دوں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

پھر (بھی) وہ حرص رکھتا ہے کہ میں اور زیادہ کروں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

پھر وہ طمع رکھتا ہے کہ میں اسے اور زیادہ دوں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

پھر وہ طمع رکھتا ہے کہ میں اسے اور بھی دوں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

پھر وہ یہ توقع رکھتا ہے کہ میں اس کے لئے اور زیادہ کر دوں گا

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

پھر بھی وہ اس بات کی طمع رکھتا ہے کہ میں اسے اور زیادہ دوں

— مولانا اسحاق مدنی

پھر بھی وہ اس کی طمع رکھتا ہے کہ میں اور زیادہ دوں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

پھر وہ چاہتا ہے کہ میں اسے اور بھی دوں !

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

ابھی خواہش رکھتا ہے کہ اور زیادہ دیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

and who still greedily desires that I should bestow upon him more.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Still, he aspires that I should give him more.

— Muhammad Taqi Usmani

Still, he aspires that I should give him more.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

After all that he desires that I should give more.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Yet he desireth that I should give more.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Then he desires that I should add more.

— Saheeh International

and who still desires more.

— Muhammad Sarwar

And yet he desires that I should add more!

— Muhammad Habib Shakir

And who yet coveteth that shall increase.

— Abdul Majid Daryabadi

Yet is he greedy-that I should add (yet more);-

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 74:15

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 11–30

جہنم کی ایک وادی، صعود اور ولید بن مغیرہ جس خبیث شخص نے اللہ کی نعمتوں کا کفر کیا اور قرآن کو انسانی قول کہا اس کی سزاؤں کا ذکر ہو رہا ہے، پہلے جو نعمتیں اس پر انعام ہوئی ہیں ان کا بیان ہو رہا ہے کہ یہ تن تنہا خالی ہاتھ دنیا میں آیا تھا مال اولاد دیا اور کچھ اس کے پاس نہ تھا پھر اللہ نے اسے مالدار بنادیا، ہزاروں لاکھوں دینار زر زمین وغیرہ عنایت فرمائی اور باعتبار بعض اقوال کے تیرہ اور بعض اوراقوال کے دس لڑکے دیئے جو سب کے سب اس کے پاس بیٹھے رہتے تھے نوکر چاکر لونڈی غلام کام کاج کرتے رہتے اور یہ مزے سے اپنی زندگی اپنی اولاد کے ساتھ گزارتا، غرض دھن دولت لونڈی غلام بال بچے آرام آسائش ہر طرح کی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 15–24

سورة الْمُدَّثِّر 13 اس کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ اس پر بھی اس کی حرص ختم نہیں ہوئی۔ اتنا کچھ پانے کے بعد بھی وہ بس اسی فکر میں لگا ہوا ہے کہ اسے دنیا بھر کی نعمتیں عطا کردی جائیں۔ دوسرا مطلب حضرت حسن بصری اور بعض دوسرے بزرگوں نے یہ بیان کیا ہے کہ وہ کہا کرتا تھا کہ اگر واقعی محمد ﷺ کا یہ بیان سچا ہے کہ مرنے کے بعد کوئی دوسری زندگی ہے اور اس میں کوئی جنت بھی ہوگی تو وہ جنت میرے ہی لیے بنائی گئی ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 12–30

ولید بن مغیرہ کی آمدنی ایک کروڑ گنیاں سالانہ یہ کافر ولید بن مغیرہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے دنیا کی مال و دولت اور اولاد فراوانی کے ساتھ دی تھی، بقول ابن عباس اس کی زمین جائیداد و باغات مکہ سے طائف تک پھیلے ہوئے تھے اور بقول ثوری اس کی سالانہ آمدنی ایک کروڑ دینار تھی، بعض نے اس سے کم بھی بتلایا ہے۔ اتنا سب کے نزیک مسلم ہے کہ اسکے کھیت اور باغات کی آمدنی اور پیداوار سال بھر سردی گرمی کی ہر موسم میں مسلسل رہت یتھی قرآن کریم میں اسی کو فرمایا ہے وّجَعَلْتُ لَهٗ مَالًا مَّمْدُوْدًا اور یہ عرب کا سردار مانا جاتا تھا۔ لوگوں میں اس کا لقب ریحانہ قریش مشہور تھا یہ خود اپنے آپ کو بطور فخر و بکر کے وحید…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

’ثُمَّ یَطْمَعُ أَنْ أَزِیْدَ‘۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے اس فضل و انعام کا حق تو یہ تھا کہ وہ اپنے رب کا شکرگزار و فرماں بردار بندہ بنتا لیکن ہوا یہ کہ وہ نعمتیں پا کر اکڑنے اور اترانے والا بن گیا۔ جب اس کو ڈرایا جاتا ہے کہ اس زندگی کے بعد ایک ایسا دن بھی آنے والا ہے جو ناشکروں اور کافروں کے لیے نہایت سخت ہو گا تو وہ دعویٰ کرتا ہے کہ اگر فی الواقع کوئی ایسا دن آیا تو اس دن وہ اس سے بھی زیادہ پائے گا جو اس کو یہاں حاصل ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 11–16

5: متعدد تفسیری روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سے مراد ولید بن مغیرہ ہے جو مکہ مکرمہ کا بڑا دولت مند سردار تھا۔ اس کی دولت مکہ مکرمہ سے طائف تک پھیلی پڑی تھی۔ وہ کبھی کبھی حضرت ابوبکر ؓ کے پاس جایا کرتا تھا، اور ایک مرتبہ وہ قرآن کریم سن کر یہ اعتراف کرچکا تھا کہ یہ ایک بےنظیر کلام ہے جو کسی انسان کا نہیں ہوسکتا۔ اس سے ابوجہل کو یہ خوف ہوا کہ وہ کہیں مسلمان نہ ہوجائے۔ چنانچہ اس نے ولید بن مغیرہ کے پاس جا کر اسے غیرت دلائی، اور کہا کہ لوگ تمہارے بارے میں یہ باتیں کر رہے ہیں کہ تم مسلمانوں کے پاس دولت حاصل کرنے جاتے ہو۔ ولید کو اس پر غیرت آگئی، اور اس نے کہا کہ آئندہ میں کبھی ابوبکر وغیرہ کے…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

ثم یطمع ان ازید (74:15) ” پھر وہ طمع رکھتا ہے کہ میں اسے اور زیادہ دوں “۔ یعنی موجود دولت پر قانع نہیں ہے۔ مزید بھی چاہتا ہے لیکن نہ قناعت کرتا ہے ، اور نہ شکر بجا لاتا ہے۔ یا وہ یہ طمع کرتا ہے کہ اس پر بھی وحی نازل ہو اور اسے کتاب دی جائے جس طرح سورت کے آخر میں آتا ہے۔ بل یرید .................... منشرة (74:52) ” بلکہ ان میں سے تو ہر ایک یہ چاہتا ہے کہ اس کے نام کھلے خط بھیجے جائیں “۔ یہ شخص ان لوگوں میں سے تھا جو حضرت محمد ﷺ سے حسد کرتا تھے کہ آپ کیوں نبی ہوگئے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

5 یعنی باوجود کثرت نعمت و ثروت کے کبھی حرف شکر زبان سے نہ نکالا۔ بلکہ ہمیشہ بت پرستی اور زیادہ مال جمع کرنے کی حرص میں منہمک رہتا اور اگر رسول کریم ﷺ کبھی اس کے سامنے بہشت کی نعمتوں کا ذکر فرماتے تو کہتا تھا کہ اگر یہ شخص اپنے بیان میں سچا ہے تو یقین کامل ہے کہ وہاں کی نعمتیں بھی مجھے ہی ملیں گی۔ اس کو فرماتے ہیں کہ باوجود اس قدر ناشکری اور حق ناشناسی کے یہ بھی توقع رکھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کو دنیا و آخرت کی نعمتیں اور زیادہ دے گا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 14–16

آیت 17{ سَاُرْہِقُہٗ صَعُوْدًا۔ } ”میں اسے عنقریب ایک سخت چڑھائی چڑھوائوں گا۔“ اس سے مراد ایسا عذاب ہے جس کی شدت ہر آن بڑھتی چلی جائے گی۔ اسی نوعیت کے عذاب کا ذکر سورة جن میں بھی آچکا ہے : { یَسْلُکْہُ عَذَابًا صَعَدًا۔ } ”تو وہ ڈال دے گا اس کو چڑھتے عذاب میں۔“ ولید بن مغیرہ بنیادی طور پر بہت ذہین اور سمجھ دار شخص تھا۔ وہ سمجھ چکا تھا کہ قرآن اللہ ہی کا کلام ہے اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں ‘ لیکن اپنے ضمیر کی اس آواز پر لبیک کہہ کر وہ اپنی چودھراہٹ اور دنیوی ٹھاٹھ باٹھ کی قربانی نہیں دے سکتا تھا۔ اس لحاظ سے وہ واقعتا بہت مشکل میں تھا۔ اپنی اس مشکل کا حل اسے کسی درمیانی راہ میں نظر آتا تھا۔…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 15–16

10 اس شخص کو اللہ تعالیٰ نے مال و دولت بھی کافی عطا کیا تھا، جوان بیٹے بھی اور ریاست بھی دی تھی۔ لیکن کبھی حرف شکر زبان سے نہ نکلا ہمیشہ اور زیادہ مال جمع کرنے کی حرص میں منہمک رہتا اور اگر رسول اللہ ﷺ اس کے سامنے جنت کی نعمتوں کا ذکر فرماتے تو کہتا تھا کہ اگر یہ شخص اپنے بیان میں سچا ہے تو مجھے یقین ہے کہ وہاں کی نعمتیں بھی مجھے ضرور ملیں گی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 12–15

6۔ یعنی ساری موجود نعمتوں کو کفر ان اور بےقدری کی راہ سے حقیر سمجھتا ہے اور ناسپاسی کے باوجود مزید حرص وہوس میں مبتلا رہتا ہے۔ آیت عام ہے۔ سارے ناشکرے کافروں کے لئے، لیکن تلمیح خاص ہے۔ ولید بن مغیرہ کی طرف، جو اہل مکہ میں ایک بڑاذی اثر شخص اور مال دار اور کثیر العیال تھا۔ (آیت) ” وبنین شھود ا “۔ یعنی یہی نہیں کہ اس کے کئی کئی لڑکے موجود ہیں، بلکہ اس کے سامنے ہی رہتے ہیں، جس سے وہ مزید لطف ومسرت حاصل کرتا ہے اور اس کی نظروں سے غائب نہیں۔ (آیت) ” ومھدت لہ تمھیدا “۔ یعنی جاہ ومال دونوں سے اسے مالا مال کردیا۔ اے اتممت علیہ نعمتی الجاہ والمال واجتماعھما ھو الکمال عند اھل الدنیا (کبیر۔ مدارک)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 11–30

ذرنی و من خلقت وحیدا یہ کلمہ وعید اور تہدید کے لئے ہے، یہ شخص جسے میں نے ماں کے پیٹ سے اکیلا پیدا کیا ہے اس کے پاس نہ مال تھا اور نہ اولاد، یہ ولید بن مغیرہ کی طرف اشارہ ہے، اللہ نے اسے اولاد ذکور سے نوازا تھا اس کے دس بارہ لڑے تھے جو ہر وقت اس کے پاس رہتے تھے، مجلسوں اور محفلوں میں بلائے جاتے تھے، گھر میں دولت کی فراوانی تھی، اس لئے بیٹوں کو کاروبار اور تجارت کے لئے باہر جانے کی ضرورت نہیں تھی، بارہ بیٹوں میں سے تین مسلمان ہوگئے تھے، خالد، ہشام اور ولید بن ولید۔ (فتح القدیر)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ثم یطمع ان ازید . پھر اس کو یہ امید لگی ہوئی ہے کہ میں اس کے مال و اولاد میں مزید بیشی عطا کروں گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 14–17

پھر بھی ولید اپنے مال کی زیادتی کی ہوس رکھتا ہے حالانکہ وہ میری نافرمانی کرتا ہے ہرگز وہ زیادہ دینے کے قابل نہیں، چناچہ اس کے بعد اس کا مال برابر رہا کیونکہ وہ ہماری کتاب کا اور رسول کا دشمن اور اس کی تکفیر کرنے والا ہے، میں عنقریب اسے دوزخ کے پہاڑ پر چڑھاؤں گا اس کی کیفیت یہ ہوگی کہ جس وقت وہ اس پر ہاتھ رکھے گا تو وہ گھل جائے گا اور پھر اپنی سابقہ حالت پر آجائے گا یا یہ کہ وہ پہاڑ پیتل کا ہوگا اس کے سامنے سے اس کو کھینچے گا اور پیچھے سے مارے گا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(ثم یطمع ان ارید : پھر وہ طمع رکھتا ہے کہ میں اسے اور دوں گا یعنی اتنا کچھ ملنے کے باوجود دنیا میں اس کی حرص ختم نہیں ہوئی بلکہ آخرت میں اسے مزید ملنے کی توقع ہے۔ کفار کا کہنا تھا کہ اگر واقعی قیامت قائم ہوئی تو مال و اولاد وہاں بھی ہمیں کو ملیں گے۔ وہ دنیا میں ملنے والے مال و اولاد اور جاہ و حشمت کو آزمائش کے بجائے اللہ تعالیٰ کے ان پر رضای ہونے کی دلیل قرار یدتے تھے۔ دیکھیے سورة مریم (77 تا 80)۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

ثم یطمع ان ازید۔ یعنی ولید اس کے بعد بھی طمع کرتا ہے کہ میں اس سے زیادہ اسے مال اور اولاد عطا کروں۔ کلا وہ نعمتوں کا جو انکار کرتا رہا اس کے ساتھ یہ نہیں ہوسکتا۔ حضرت حسن بصری اور دوسرے علماء نے کہا، پھر وہ طمع کرتا ہے کہ میں اسے جنت میں داخل کروں ولید کہا کرتا تھا، اگر محمد ﷺ سچے ہیں تو جنت تو پھر صرف میرے لیے پیدا کی گئی ہے اللہ تعالیٰ نے اس کا رد کرنے اور اس کو جھٹلانے کے لیے کلا کا ذکر کیا یعنی میں اس کے مال میں اضافہ نہیں کروں گا وہ لگاتار مال اور اولاد میں نقصان دیکھتا رہا یہاں تک کہ وہ ہلاک ہوگیا۔ ثم یطمع میں ثم عاطفہ نہیں بلکہ تعجب کا اظہار کرنے کے لیے ہے یہ اسی طرح ہے جس طرح اللہ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 12–16

6۔ ابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے آیت وجعلت لہ مالا ممدودا میں مال کثیر سے مراد ہزار دینار ہیں۔ 7۔ عبد بن حمید نے سفیان (رح) سے روایت کیا کہ آیت وجعلت لہ مالا ممدودا کے بارے میں روایت کیا کہ اس سے مراد ہے کہ اس کے پاس دس لاکھ تھے۔ 8۔ ابن جریر وابن ابی حاتم وابن مردویہ والدینوری نے المجالسہ میں عمر بن خطاب ؓ سے روایت کیا کہ ان سے آیت وجعلت لہ مالا ممدودا، کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا کئی مہینوں کا غلہ اس کے پاس موجود تھا۔ 9۔ ابن مردویہ نے نعمان بن سالم (رح) سے روایت کیا کہ آیت وجعلت لہ مالا ممدودا سے مراد زمین ہے۔ 10۔ ہناد نے ابو سعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ آیت سارھقہ صعودا عنقریب میں اس کو…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

پھر فرمایا ﴿ ثُمَّ يَطْمَعُ اَنْ اَزِيْدَۗۙ0015﴾ (پھر وہ آرزو رکھتا ہے کہ میں اسے اور زیادہ مال اور اولاد دے دوں)

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–31

حکم اعلان توحید و رسالت سید المرسلین ﷺ وتہدید ومذمت براعراض مجرمین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” یایھا المدثر قم فانذر ........ الی ....... الا ذکری للبشر “۔ (ربط) سورة مزمل کے آخر میں بالخصوص احکام خداوندی کی اطاعت کا حکم فرمایا گیا تھا اور یہ کہ ایمان کا تقاضا ہے کہ اہل ایمان نمازیں قائم رکھیں اور زکوٰۃ ادا کرتے رہیں اور حق تعالیٰ کی راہ میں انفاق وایثار سے کبھی بھی گزیر نہ کریں یہ تو اللہ رب العزت کی بارگاہ میں ایک قرض حسن سے جو بڑی ہی برکتوں اور زیادتیوں کے ساتھ قرض دینے والوں کو واپس ملے گا اور دار آخرت کے واسطے بہترین ذخیرہ ہے جو دنیاوی زندگی میں ہی آخرت کے لیے مہیا کیا جاتا ہے اور وہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 12–16

7:۔ ” وجعلت لہ “۔ ممدود، کثیر۔ شھود، حاضر باش۔ سفر وحضر میں اور تجارت و تصرف میں اس کے ساتھ حاضر رہنے والے یا اپنی وجاہت و قابلیت کی وجہ سے مجلسوں اور محفلوں میں شریک ہونے والے، ہم نے اس کے دنیوی جاہ و وقار اور اس کی ریاست ووجاہت و قابلیت کی وجہ سے مجلسوں اور محفلوں میں شریک ہونے والے۔ ” ومہدت لہ “ ہم نے اس کے دنیوی جاہ و وقار اور اس کی ریاست و وجاہت کو خوب وسعت دی۔ ہم نے جب اس کو پیدا کیا تو وہ تنہا تھا ذلیل اور بےمال تھا پھر ہم نے اس کو کثیر دولت عطا کی، اس کو لائق اور قابل اولاد دی۔ لوگوں پر اس کی وجاہت و ریاست کا سکہ بٹھا دیا۔ لیکن اس نے ناشکری کی، اللہ کے شریک بنائے اور اس کے دین سے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

ثُمَّ يَطْمَعُ اَنْ اَزِيْدَ۝ 15 طمع الطَّمَعُ : نزوعُ النّفسِ إلى الشیء شهوةً له، طَمِعْتُ أَطْمَعُ طَمَعاً وطُمَاعِيَةً ، فهو طَمِعٌ وطَامِعٌ. قال تعالی: إِنَّا نَطْمَعُ أَنْ يَغْفِرَ لَنا رَبُّنا[ الشعراء/ 51] ، أَفَتَطْمَعُونَ أَنْ يُؤْمِنُوا لَكُمْ [ البقرة/ 75] ، خَوْفاً وَطَمَعاً [ الأعراف/ 56] ، ( ط م ع ) الطمع کے معنی ہیں نفس انسانی کا کسی چیز کی طرف خواہش کے ساتھ میلان ۔ طمع ( س ) طمعا وطماعیۃ کسی چیز کی طرف خواہش کے ساتھ مائل ہونا طمع وطامع اس طرح مائل ہونے والا قرآن میں ہے : ۔ إِنَّا نَطْمَعُ أَنْ يَغْفِرَ لَنا رَبُّنا[ الشعراء/ 51] ہمین امید ہے کہ ہمارا خدا ہمارے گناہ بخش…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 8–16

ترکیب : فاذا وا للسببتیہ کانہ قیل اصبر علی اذا ھم فبین ایدیھم یوم ھائل یلقون فیہ عاقبۃ امرھم۔ والعامل فی اذاماول علیہ قولہ فذلک لانہ اشارۃ الی النقرای وقت النقروقیل ماول علیہ عسیر ای یعسر نقربفخ الناقور علی وزن فاعول من النقر بمعنے التصویت فذلک اشارۃ الی وقت النقر مبتداء یومئذ بدل منہ اوظرف بخبرہ یوم عسیر خبرہ غیر یسیر تاکید و قال الاخفش اذامبتداء والخبر فذلک والفاء زائدۃ یومئذ ظرف لذلک وقیل ھوفی موضع رفع بدل من ذلک اومبتداء و یوم عسیر خبرہ والجملۃ خیر ذلک وعلی یتعلق بعسیرا وھی لغت لہ اوحال من الضمیر الذی فیہ ومن مفعول معہ اومعطوف علی الضمیر المنصوب۔ وحیدا حال من الیاء ای ذرنی وحدی معہ فانی…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 11–15

ذَرْنِیْ وَمَنْ خَلَقْتُ وَحِیْدًا۔ وَّجَعَلْتُ لَـہٗ مَالاً مَّمْدُوْدًا۔ وَّبَنِیْنَ شُھُوْدًا۔ وَّمَھَّدْتُّ لَـہٗ تَمْھِیْدً ۔ ثُمَّ یَطْمَعُ اَنْ اَزِیْدَ ۔ (المدثر : 11 تا 15) (چھوڑ دو مجھے اور اس شخص کو جسے میں نے اکیلا پیدا کیا۔ اور اس کو بخشا میں نے مال فراواں۔ اور بیٹے دیئے حاضر رہنے والے۔ اور تیاری کردی اس کے لیے خوب تیاری۔ پھر وہ یہ توقع رکھتا ہے کہ میں اسے اور زیادہ دوں۔ ) مکہ اور طائف کے متکبرین کو سخت تنبیہ بعض اہل علم کا خیال یہ ہے کہ ان آیات میں مکہ اور طائف کے ان متکبرین کو سخت تنبیہ ہے جو اپنی خوشحالی اور رفاہیت کو اپنے عقیدہ و عمل کی صحت اور خدا کے منظورِنظر ہونے کی دلیل…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 8–25

فہم القرآن ربط کلام : اللہ کے رسول نے جونہی لوگوں کو اللہ کی توحید کی دعوت دی تو وہ لوگ آپ کی جان کے دشمن ہوگئے اور انہوں نے آپ کی مخالفت میں ایڈی چوٹی کا زور لگا دیا۔ ایسے لوگوں کو ان کا انجام بتلایا گیا ہے کہ آج تم اپنی طاقت پر گھمنڈ کرتے ہو۔ وہ وقت یاد کرو جس دن صور پھونکا جائے گا۔ انکار کرنے والوں کے لیے یہ دن بڑا سخت ہوگا اور اس کی سختی کا کوئی مقابلہ نہیں کرسکے گا۔ سرداران مکہ نے بڑی کوشش کی کہ نبی ﷺ کی دعوت کی طرف لوگ متوجہ نہ ہوسکیں لیکن دعوت کی کشش، آپ کے اخلاق اور آپ ﷺ کی عظیم جدوجہد کے نتیجہ میں لوگ آپ کی ذات کے گرویدہ اور توحید کی دعوت قبول کیے جا رہے تھے یہ بات سرداران مکہ کے لیے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

15 : ثُمَّ یَطْمَعُ اَنْ اَزِیْدَ (پھر بھی اس بات کی طمع رکھتا ہے۔ کہ میں اور زیادہ دوں) اس میں اس کی حرص و طمع پر استنکار واستبعاد کا اظہار کیا گیا یعنی وہ اس بات کا امیدوار ہے کہ بغیر شکریے کے اس کے مال و اولاد میں اور اضافہ کردوں۔ قول حسن (رح) : ان ازیدؔ کا مطلب کہ میں اس کو جنت میں داخل کر دوں پھر اس کو مال و اولاد بھی دوں۔ جیسا کہ دوسری آیات میں فرمایا : لاوتین مالاً و ولدًا ] مریم : 77[

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

14 ۔” ومھدت لہ تمھیدا “ یعنی میں نے اس کی عمر اور عیس میں اضافہ کردیا اور کلبی (رح) فرماتے ہیں یعنی مال ایک دوسرے کے اوپر جیسے فرش بچھایا جاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 11–30

11۔ 30۔ ان آیتوں کی شان نزول صحیح سند سے مستدرک 2 ؎ حاکم وغیرہ میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ نے جو بیان فرمائی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ ولید بن مغیرہ آنحضرت ﷺ کے پاس آیا اور آپ ﷺ نے اس کو قرآن شریف کی کچھ آیتیں پڑھ کر سنائیں جس سے اس کا دل کسی قدر نرم ہوا یہ خبر ابوجہل کو پہنچی اس نے ولید بن مغیرہ سے کہا کہ قوم کے لوگ تم سے ہرگز خوش نہ ہوں گے جب تک قرآن کے بارے میں تم ان کی مرضی کے موافق کوئی بات نہ کہو گے ولید بن مغیرہ نے جواب دیا کہ اچھا میں سوچ کر اس بارے میں کچھ کہوں گا پھر اس نے اپنے وعدہ کے موافق لوگوں کے سامنے قوم کے لوگوں کو خوش کرنے کے لئے یہ بات کہی جس کا ذکر ان آیتوں میں ہے کہ یہ قرآن…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(ثُمَّ ) پھر ان نعمتوں اور بھلائیوں کے باوجود (يَطْمَعُ اَنْ اَزِيْدَ ) خواہش رکھتا ہے کہ میں اور زیادہ دوں، یعنی وہ چاہتا ہے کہ اسے آخرت کی نعمتیں بھی اسی طرح حاصل ہوں جس طرح اسے دنیا کی نعمتیں حاصل ہوئی ہیں۔

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 6–56

عطیہ اس نیت سے نہ دیا جائے کہ بدلے میں عطیہ ملے قول باری ہے (ولا تمنن تستکثر۔ اور احسان نہ کرو زیادہ حاصل کرنے کے لئے) حضرت ابن عباس ؓ ، ابراہیم نخعی، مجاہد، قتادہ اور ضحاک کا قول ہے کہ کوئی عطیہ اس نیت سے نہ دو کہ تمہیں اس کے بدلے میں اس سے زیادہ دیا جائے۔ حضن بصری اور ربیع بن انس کا قول ہے کہ اپنی نیکیوں کو زیادہ سمجھتے ہوئے اللہ پر ان کا احسان نہ دھرو کہ پھر اللہ کے ہاں تمہاری یہ نیکیاں گھٹ جائیں۔ دوسرے حضرات کا قول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو نبوت اور قرآن کی جو دولت عطا کی ہے لوگوں سے زیادہ اجر حاصل کرنے کی نیت سے اس کا احسان نہ جتلائیں۔ مجاہد سے یہ بھی منقول ہے کہ اپنی طاعت کو کثیر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 15–16

12 ۔ منکرین کے زعم باطل کی سختی کے ساتھ تردید : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اتنا کچھ پانے کے بعد وہ مزید کی طمع بھی کرتا ہے اور کہتا ہے کہ اگر آخرت ہوئی بھی تو وہاں بھی وہ عیش کرے گا تو اس کے اس زعم باطل کی تردید کے لیے ارشاد فرمایا گیا کہ ہرگز نہیں، یعنی ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا کہ میں اس کو اس کے کفر و ناشکری کے باوجود اس کے بعد مزید نعمتیں دیتا جاؤں، چناچہ روایت میں وارد ہے کہ ان آیات کریمہ کے نزول کے بعد اس شخص کا زوال و انحطاط شروع ہوگیا اور وہ گرتا ہی چلا گیا، کہ اللہ تعالیٰ کے یہاں ہر چیز کا ایک وقت مقرر ہے ( قد جعل اللہ لکل شیء قدرا) والعیاذ باللہ جل وعلا۔ سو اس دنیا میں انسان کو جو بھی کوئی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 11–38

منکرین اور ان کا انجام تشریح : آیت گیارہ سے آگے تک جس شخص کی خصوصیات بیان کی گئی ہیں وہ ہر اس شخص کے لیے مخصوص ہیں جو خراب بری عادات والا ہو مگر تمام مفسرین نے اور خاص طور سے تفسیر ابن کثیر میں اس شخص کا نام ولید بن مغیرہ مخزومی بتایا گیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جو شخص بھی اللہ کی دی ہوئی تمام نعمتوں سے مالامال ہو اور وہ شکر ادا نہ کرے اللہ کا کلام اس کے پاس پہنچے وہ اس کی تصدیق بھی کرے اس کو سچ بھی جانے مگر کیا کہیں کہ ہٹ دھرمی بےوقوفی یا آباو اجداد کی پیروی کا خیال کرتے ہوئے یا پھر اپنے دوست احباب کا خیال کرتے ہوئے۔ غرض کوئی بھی وجہ ہو اور وہ اللہ پر ایمان نہ لائے اور اللہ اور اسکے رسول ﷺ اور…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–31

سورة المدثر۔ آیات 1 تا 31۔ اسرار ومعارف۔ سورة مدثر بھی پہلی پہلی صورتوں میں سے ہے اور مدثر ومزمل کا مفہوم ایک ہے بعض کے نزدیک پہلے سورة مزمل کی آیات نازل ہوئیں اور پھر مدثر کی بعض نے مدثر کو پہلے لکھا ہے مگر قرائن سے مزمل کا پہلے ہونا معلوم ہوتا ہے کہ اس میں ذاتی اعمال کی بات ہے اور مدثر میں قوم سے خطاب کرنے کا حکم ہے بہرحال نہایت ابتدائی سورتوں میں سے ہیں جب ایک دولوگ ہی مسلمان تھے تو فرمایا اے لپیٹ کر سونیو الے اٹھیے اور لوگوں کو دعوت دیجئے اور اپنے رب کی توحید اور بڑائی بیان کیجئے۔ لباس کی پاکیزگی۔ اپنے لباس کو پاک کیجئے ، مراد ماحول بھی ہے کردار بھی اور حقیقتا سارامال اور معاشی نظام مقصود…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 12–15

ف 11 امام حسن بصری کہتے ہیں کہ ولید کہا کرتا تھا اگر محمد (ﷺ) سچا ہے تو جنت مریے لئے بنائی گئی ہے۔ (شوکانی)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(74:15) ثم یطمع ان ارید : ثم تراخی فی المرتبۃ کے لئے ہے یعنی اس کو اس قدر دیا ہے پھر بھی وہ اس پر مزید کا طمع رکھتا ہے۔ یطمع۔ مضارع واحد مذکر غائب طمع باب سمع مصدر سے۔ وہ لالچ کرتا ہے۔ وہ امید رکھتا ہے۔ ان ازید : ان مصدریہ ہے۔ ازید مضارع واحد متکلم۔ زیادۃ باب ضرب مصدر سے۔ بمعنی زیادہ کرنا۔ کہ میں اس کو اور بھی زیادہ دوں۔ ازید منصوب بوجہ عمل ان۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–31

لغات القرآن۔ المدثر۔ چادر اوڑھ لپیٹ کر لیٹنے والے۔ ثیاب۔ کپڑے۔ الرجز۔ گندگی ۔ ناپاکی۔ اھجر۔ اس کو چھوڑو۔ دوررہ۔ لاتمنن۔ احسان نہ جتا۔ تستکثر۔ زیادہ کی طلب۔ نقر۔ بچایا گیا۔ پھونکا گیا۔ الناقور۔ صور۔ وحید۔ تنہا۔ اکیلا۔ ممدود۔ پھیلایا گیا۔ شھود۔ سامنے۔ ہر جگہ۔ مھدت۔ میں نے تیار کردیا۔ یطمع۔ امید رکھتا ہے۔ عنید۔ نہ ماننے والا۔ ارھق ۔ میں چڑھا دوں گا۔ صعود۔ چڑھائی۔ اونچائی۔ عبس۔ اس نے تیوری چڑھائی۔ بسر۔ اس نے کڑوا سا منہ بنایا۔ یوثر۔ پہلے چلا آتا ہے۔ سقر۔ آگ۔ لاتذر۔ پیچھا نہ چھوڑے گی۔ لواحۃ۔ جھلس ڈالنے والی۔ تسعۃ عشر۔ انیس۔ تشریح : اللہ تعالیٰ… کی طرح نہایت شفقت و محبت سے نبی مکرم حضرت محمد مصطفیٰ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 11–26

(ف 2) شان نزول : جب ۔ حم۔ تنزیل الکتاب من اللہ العزیز الحکیم۔ نازل ہوئی اور نبی ﷺ نے تلاوت فرمائی ولید بن مغیرہ نے سنا اس قوم کی مجلس میں آ کر اس نے کہا کہ خدا کی قسم، میں نے محمد ﷺ سے ابھی ایک کلام سنا، نہ وہ آدمی کانہ جن کا، بخدا اس میں عجیب شیرینی اور تازگی اور فوائد دل کشی ہے، وہ کلام سب پر غالب رہے گا، قریش کو اس کی ان باتوں سے بہت غم ہوا، ان میں مشہور ہوگیا، ولید آبائی دین سے برگشتہ ہوگیا ابوجہل نے ولید کو ہموار کرنے کا ذمہ لیا اور اس کے پاس آکربہت غمزدہ صورت بنا کر بیٹھ گیا ولید نے کہا کیا غم ہے ابوجہل نے کہا غم کیسے نہ تو بوڑھا ہوگیا قریش تیرے خرچ کے لیے روپیہ جمع کردیں گے انہیں خیال…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 12–17

[8] صعود دوزخ کی ایک پہاڑی کا نام ہے۔ دوزخی اس پر چڑھے گا اور پھر گرے گا۔ گرے گا اور پھر چڑھے گا۔ عذاب کی یہ صورت دائمی رہے گی۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 12–24

ولید بن مغیرہ 1: جمہور مفسرین کے نزدیک ان آیات کا مصداق ولید بن مغیرہ ہے ۔ فرمایا ۔ اس کو ہم نے مال و دولت کی نعمت سے نوازا ۔ مکہ سے طائف تک اس کے قافلے تجارت کے رواں دواں تھے ۔ بیٹے دیئے جو سب زندہ اس کے سامنے موجود تھے ۔ اور اس کے کاروبار میں شریک تھے ۔ عزت وجاہ عطا کی ۔ پھر اس کی حرص وآزکا یہ عالم ہے کہ اس کے باوجودبھی اضافہ کا طالب ہے ۔ مگر آپ ہم کچھ نہیں دیں گے ۔ کیونکہ یہ ہماری آیتوں کا سخت مخالف ہے ۔ عنقریب اس کو شدید ترین عذاب سے دوچار ہونا پڑے گا ۔ اور اس کو معلوم ہوگا ۔ کہ یہ دولت و ثروت ساعوان وانصار اور عزت ومختار ان میں سے کوئی چیز بھی اللہ کے عذاب سے نہیں بچاسکتی ۔ اس کا جرم یہ…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 5–29

ف 4۔ باوجود احتمال نہ ہونے کے یہ امر فرمانا اشارہ ہے اہتمام شان توحید کی طرف کہ ایسی ضروری چیز ہے کہ معصوم کو بھی باوجود احتیاج نہ ہونے کے اس کی تعلیم کی جاتی ہے تو غیر معصوم تو بدرجہ اولی اس کا مکلف ہوگا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

Explained with ayahs 11–16

(رہنے دو مجھے اور جسے پیدا کیا میں نے اکیلا) بےآل اولاد اور بےیارومددگار۔۔۔ اور ایک قول یہ ہے کہ اسے وحید القوم کہتے تھے ، یعنی قوم میں ایک ۔۔۔ (اور دیا میں نے اسے لمبا چوڑا سرمایہ) یعنی بہت مال۔ روایت ہے کہ اس کے پاس زر نقد دس لاکھ دینار تھے ، اور مکہ اور طائف کے درمیان اس کے اونٹ گھوڑے بکریاں بہت تھیں ، باغ اسباب لونڈی غلام بیشمار تھے۔ (اور) دیا ہم نے اسے (حاضر باش بیٹے) جو مکہ میں اس کے پاس حاضر و موجود رہتے تھے ، تجارت و کسب معاش کے واسطے سفر کے محتاج نہ تھے۔ چناچہ ۔۔۔ ہمیشہ اپنے باپ کے ساتھ محفلوں میں حاضر ہوتے۔ راویت ہے کہ اس کے دس بیٹے تھے ان میں خالد اور عمارہ اور ہشام ایمان لائے۔…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 12–30

The Annual Income of Walid Ibn Mughirah: Ten Million Guineas The disbeliever referred to here is Walid Ibn Mughirah. Allah had favoured him with abundant wealth, property and children. According to Ibn ` Abbas 4his land, property and gardens stretched from Makkah to Ta'if. According to Thauri, his annual income was ten million Dinars. Some scholars have estimated less than this amount. It is, nonetheless, agreed that the income and yearly produce of his fields and gardens were available in every season, winter or summer. Thus the Qur'an says: وَّجَعَلْتُ لَهٗ مَالًا مَّمْدُوْدًا وَّبَنِيْنَ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 15–24

13 Its one meaning is that there is still no end to his greed. In spite of having all this he still desires that he should be granted every good thing of the world. Another meaning which Hadrat Hasan Basri, and some other scholars have given is:, "He used to say: If what Muhmmad (upon whom be peace) says is really true that there is another life after death, and there will be a Paradise also in it, then that Paradise too has been prepared for me."

Read the full tafseer →