وَّمَهَّدْتُّ لَهٗ تَمْهِیْدًا ۟ۙوَّمَهَّدتُّ لَهٗ تَمۡهِيۡدًا
اور ہر طرح کے سامان میں وسعت دی
— Fateh Muhammad Jalandhari
And spread [everything] before him, easing [his life].
— Saheeh International
Juz 29 · Ruku 1 of surah · Ruku 15 of juz
وَّمَهَّدْتُّ لَهٗ تَمْهِیْدًا ۟ۙوَّمَهَّدتُّ لَهٗ تَمۡهِيۡدًا
اور ہر طرح کے سامان میں وسعت دی
— Fateh Muhammad Jalandhari
And spread [everything] before him, easing [his life].
— Saheeh International
Juz 29 · Ruku 1 of surah · Ruku 15 of juz
Read the whole surah · Surah Al-Muddaththir
اور اس کے لیے ریاست کی راہ ہموار کی
اور ہر طرح کے سامان میں وسعت دی
اور میں نے اسے بہت کچھ کشادگی دے رکھی ہے
اور اس کے لیے ہر کام کے راستے ہموار کردیے۔
اور میں نے اس کے لیے طرح طرح کی تیاریاں کیں
اور میں نے اسے (سامانِ عیش و عشرت میں) خوب وُسعت دی تھی،
اور میں نے اس کے لیے سامان تیار کیا، ہر طرح تیار کرنا۔
اور ہر طرح سے اس کے لیے (ریاست کی) راہ ہموار کی
اور اس کے لیے خوب راہ ہموار کی۔
اور بھی اس کے لئے ہر طرح کا سامان مہیا کردیا
اس کے لئے میں نے خوب مہیا کردیا
اور میں نے اس کے لیے ہر قسم کا سامان خوب اچھی طرح سے تیار کردیا۔
اور ہر طرح کے سامان میں وسعت دی۔
and for whom I have smoothed the way (to power and riches),
and extended (power and honour) to him pretty well.
and extended (power and honour) to him pretty well.
And made life smooth and comfortable for him.
And made (life) smooth for him.
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
And spread [everything] before him, easing [his life].
whose life I have made run smoothly
And I adjusted affairs for him adjustably;
And for whom I smoothed everything.
To whom I made (life) smooth and comfortable!
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 11–30
جہنم کی ایک وادی، صعود اور ولید بن مغیرہ جس خبیث شخص نے اللہ کی نعمتوں کا کفر کیا اور قرآن کو انسانی قول کہا اس کی سزاؤں کا ذکر ہو رہا ہے، پہلے جو نعمتیں اس پر انعام ہوئی ہیں ان کا بیان ہو رہا ہے کہ یہ تن تنہا خالی ہاتھ دنیا میں آیا تھا مال اولاد دیا اور کچھ اس کے پاس نہ تھا پھر اللہ نے اسے مالدار بنادیا، ہزاروں لاکھوں دینار زر زمین وغیرہ عنایت فرمائی اور باعتبار بعض اقوال کے تیرہ اور بعض اوراقوال کے دس لڑکے دیئے جو سب کے سب اس کے پاس بیٹھے رہتے تھے نوکر چاکر لونڈی غلام کام کاج کرتے رہتے اور یہ مزے سے اپنی زندگی اپنی اولاد کے ساتھ گزارتا، غرض دھن دولت لونڈی غلام بال بچے آرام آسائش ہر طرح کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
سورة الْمُدَّثِّر 12 ولید بن مغیرہ کے دس بارہ لڑکے تھے جن میں سے حضرت خالد بن ولید تاریخ میں سب سے زیادہ مشہور ہیں۔ ان بیٹوں کے لیے شھود کا لفظ استعمال کیا گیا ہے جس کے کئی معنی ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ ان کو کہیں اپنی روزی کے لیے دوڑ دھوپ اور سفر کرنے کی حاجت پیش نہیں آتی، ان کے گھر کھانے کو اتنا موجود ہے کہ ہر وقت باپ کے پاس موجود اور اس کی مدد کے لیے حاضر رہتے ہیں۔ دوسرے یہ کہ اس کے سب بیٹے نامور اور با اثر ہیں، مجلسوں اور محفلوں میں اس کے ساتھ شریک ہوتے ہیں۔ تیسرے یہ کہ وہ اس مرتبے کے لوگ ہیں کہ معاملات میں ان کی شہادت قبول کی جاتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–30
ولید بن مغیرہ کی آمدنی ایک کروڑ گنیاں سالانہ یہ کافر ولید بن مغیرہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے دنیا کی مال و دولت اور اولاد فراوانی کے ساتھ دی تھی، بقول ابن عباس اس کی زمین جائیداد و باغات مکہ سے طائف تک پھیلے ہوئے تھے اور بقول ثوری اس کی سالانہ آمدنی ایک کروڑ دینار تھی، بعض نے اس سے کم بھی بتلایا ہے۔ اتنا سب کے نزیک مسلم ہے کہ اسکے کھیت اور باغات کی آمدنی اور پیداوار سال بھر سردی گرمی کی ہر موسم میں مسلسل رہت یتھی قرآن کریم میں اسی کو فرمایا ہے وّجَعَلْتُ لَهٗ مَالًا مَّمْدُوْدًا اور یہ عرب کا سردار مانا جاتا تھا۔ لوگوں میں اس کا لقب ریحانہ قریش مشہور تھا یہ خود اپنے آپ کو بطور فخر و بکر کے وحید…
Read the full tafseer →’وَمَہَّدتُّ لَہُ تَمْہِیْدًا‘۔ یعنی اس طرح مال و اولاد دے کر اس کے لیے عزت و وقار اور امارت و سیادت کے حصول کے لیے اچھی طرح راہ ہموار کر دی۔
Read the full tafseer →14۔ 1 یعنی مال و دولت میں ریاست و سرداری میں اور درازی عمر میں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–16
5: متعدد تفسیری روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سے مراد ولید بن مغیرہ ہے جو مکہ مکرمہ کا بڑا دولت مند سردار تھا۔ اس کی دولت مکہ مکرمہ سے طائف تک پھیلی پڑی تھی۔ وہ کبھی کبھی حضرت ابوبکر ؓ کے پاس جایا کرتا تھا، اور ایک مرتبہ وہ قرآن کریم سن کر یہ اعتراف کرچکا تھا کہ یہ ایک بےنظیر کلام ہے جو کسی انسان کا نہیں ہوسکتا۔ اس سے ابوجہل کو یہ خوف ہوا کہ وہ کہیں مسلمان نہ ہوجائے۔ چنانچہ اس نے ولید بن مغیرہ کے پاس جا کر اسے غیرت دلائی، اور کہا کہ لوگ تمہارے بارے میں یہ باتیں کر رہے ہیں کہ تم مسلمانوں کے پاس دولت حاصل کرنے جاتے ہو۔ ولید کو اس پر غیرت آگئی، اور اس نے کہا کہ آئندہ میں کبھی ابوبکر وغیرہ کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–14
متعدد روایات میں یہ بات وارد ہے کہ ان آیات سے مراد ولید ابن مغیرہ مخزومی ہے۔ علامہ ابن جریر روایت کرتے ہیں ، ابن عبدالاعلیٰ سے ، وہ محمد ابن ثورہ سے ، وہ معمر سے ، وہ عبادہ ابن منصور سے ، وہ عکرمہ سے ، کہ ولید ابن مغیرہ نبی ﷺ کے پاس آیا۔ آپ نے اس کے سامنے قرآن کریم پڑھا۔ اس کا دل نرم ہوگیا۔ یہ بات ابوجہل ابن ہشام کو پہنچی۔ یہ اس کے پاس آیا اور کہا ” تمہاری قوم چاہتی ہے کہ تمہارے مال جمع کرے “۔ اس نے کہا : کس لیے : اس نے کہا کہ یہ مال وہ تمہیں دینا چاہتے ہیں کیونکہ تم محمد کے پاس گئے اور تم پر اس کا اثر ہوگیا ہے۔ (ابوجہل نے اس کی عزت نفس کے احساس سے فائدہ اٹھانا چاہا۔ اسے معلوم تھا کہ یہ ایک…
Read the full tafseer →4 یعنی دنیا میں جو خوب عزت جمادی اور مسند حکومت و ریاست اچھی طرح تیار کردی۔ چناچہ تمام قریش ہر مشکل میں کام میں اسی کی طرف رجوع کرتے اور اس کو اپنا حاکم جانتے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–16
آیت 17{ سَاُرْہِقُہٗ صَعُوْدًا۔ } ”میں اسے عنقریب ایک سخت چڑھائی چڑھوائوں گا۔“ اس سے مراد ایسا عذاب ہے جس کی شدت ہر آن بڑھتی چلی جائے گی۔ اسی نوعیت کے عذاب کا ذکر سورة جن میں بھی آچکا ہے : { یَسْلُکْہُ عَذَابًا صَعَدًا۔ } ”تو وہ ڈال دے گا اس کو چڑھتے عذاب میں۔“ ولید بن مغیرہ بنیادی طور پر بہت ذہین اور سمجھ دار شخص تھا۔ وہ سمجھ چکا تھا کہ قرآن اللہ ہی کا کلام ہے اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں ‘ لیکن اپنے ضمیر کی اس آواز پر لبیک کہہ کر وہ اپنی چودھراہٹ اور دنیوی ٹھاٹھ باٹھ کی قربانی نہیں دے سکتا تھا۔ اس لحاظ سے وہ واقعتا بہت مشکل میں تھا۔ اپنی اس مشکل کا حل اسے کسی درمیانی راہ میں نظر آتا تھا۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
9 قصہ ولید بن مغیرہ :۔ ان آیات میں بھی اگرچہ اللہ تعالیٰ نے کسی خاص شخص کا نام نہیں لیا تاہم جو صفات بیان کی گئی ہیں اس سے ہر ایک کو واضح طور پر معلوم ہوجاتا تھا کہ ان آیات کا روئے سخن کس طرف ہے ؟ یہ شخص باتفاق مفسرین ولید بن مغیرہ تھا۔ حرب بن امیہ کی وفات کے بعد قریش کی سیادت اسی کے ہاتھ آئی تھی اور یہ ابو جہل مخزومی کا چچا تھا۔ بڑا صاحب مال تھا۔ دس یا بارہ جوان بیٹے اس کے پاس موجود رہتے تھے۔ جنہیں کسب معاش کی چنداں فکر نہیں تھی۔ اس کام کے لیے اس کے نوکر چاکر بہت تھے۔ بس ان بیٹوں کا کام یہی تھا کہ اپنے باپ کی مجلس میں حاضر رہ کر اس کی شان و شوکت بڑھائیں۔ انہیں بیٹوں میں سے ایک سیدنا خالدبن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–15
6۔ یعنی ساری موجود نعمتوں کو کفر ان اور بےقدری کی راہ سے حقیر سمجھتا ہے اور ناسپاسی کے باوجود مزید حرص وہوس میں مبتلا رہتا ہے۔ آیت عام ہے۔ سارے ناشکرے کافروں کے لئے، لیکن تلمیح خاص ہے۔ ولید بن مغیرہ کی طرف، جو اہل مکہ میں ایک بڑاذی اثر شخص اور مال دار اور کثیر العیال تھا۔ (آیت) ” وبنین شھود ا “۔ یعنی یہی نہیں کہ اس کے کئی کئی لڑکے موجود ہیں، بلکہ اس کے سامنے ہی رہتے ہیں، جس سے وہ مزید لطف ومسرت حاصل کرتا ہے اور اس کی نظروں سے غائب نہیں۔ (آیت) ” ومھدت لہ تمھیدا “۔ یعنی جاہ ومال دونوں سے اسے مالا مال کردیا۔ اے اتممت علیہ نعمتی الجاہ والمال واجتماعھما ھو الکمال عند اھل الدنیا (کبیر۔ مدارک)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–30
ذرنی و من خلقت وحیدا یہ کلمہ وعید اور تہدید کے لئے ہے، یہ شخص جسے میں نے ماں کے پیٹ سے اکیلا پیدا کیا ہے اس کے پاس نہ مال تھا اور نہ اولاد، یہ ولید بن مغیرہ کی طرف اشارہ ہے، اللہ نے اسے اولاد ذکور سے نوازا تھا اس کے دس بارہ لڑے تھے جو ہر وقت اس کے پاس رہتے تھے، مجلسوں اور محفلوں میں بلائے جاتے تھے، گھر میں دولت کی فراوانی تھی، اس لئے بیٹوں کو کاروبار اور تجارت کے لئے باہر جانے کی ضرورت نہیں تھی، بارہ بیٹوں میں سے تین مسلمان ہوگئے تھے، خالد، ہشام اور ولید بن ولید۔ (فتح القدیر)
Read the full tafseer →و مھدت لہ تمھیدا . یعنی میں نے اس کی ریاست اور جاہ و حشمت کا سامان درست کیا۔ ریاست اور پیشوائی کے استحقاق میں یکتا بنایا ‘ یہاں تک کہ اس کو ریحانہ قریش کہا جانے لگا یا یہ مطلب ہے کہ اس کی عمر طویل کی ‘ طول عمر کے اسباب عطا کیے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–17
پھر بھی ولید اپنے مال کی زیادتی کی ہوس رکھتا ہے حالانکہ وہ میری نافرمانی کرتا ہے ہرگز وہ زیادہ دینے کے قابل نہیں، چناچہ اس کے بعد اس کا مال برابر رہا کیونکہ وہ ہماری کتاب کا اور رسول کا دشمن اور اس کی تکفیر کرنے والا ہے، میں عنقریب اسے دوزخ کے پہاڑ پر چڑھاؤں گا اس کی کیفیت یہ ہوگی کہ جس وقت وہ اس پر ہاتھ رکھے گا تو وہ گھل جائے گا اور پھر اپنی سابقہ حالت پر آجائے گا یا یہ کہ وہ پہاڑ پیتل کا ہوگا اس کے سامنے سے اس کو کھینچے گا اور پیچھے سے مارے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–14
وجعلت لہ مالا …:”ممدوداً“”مدیمد“ (ن) سے اسم مفعول ہے، پھیلایا ہوا۔ یعنی مال مویشی، کھیت، باغات، ک اور بار اور تجارت وغیرہ ہر قسم کا لمبا چوڑا مال عطا کیا۔”شھوداً“ ”شاھد“ کی جمع ہے، ہر وقت خدمت میں حاضر بیٹے عطا کئے۔ بیٹے اللہ کی نعمت ہیں اور پاس رہ کر سارا کام سنبھال لیں اور خدمت کے لئے مستعد رہیں تو مزید نعمت ہیں۔ ”مھدث“ (تفعیل) بچھانا ، مہیا کرنا۔ یعنی مال و اولاد کے ساتھ جاہ و حشمت اور سرداری کے تمام اسباب اس کے لئے ہموار کردیے۔
Read the full tafseer →ومھدت لہ تمھیدا۔ میں نے اسے زندگی میں فراخی عطا کی یہاں تک کہ وہ اپنے شہر میں ہی مطمئن، خوشحال قیام کرتا تھا، اس کی رائے سے فائدہ اٹھایا جاتا، عربوں کے ہاں تمہید کا معنی ہے تیار کرنا، بچھانا، اسی سے بچے کا پنگھوڑہ ہے۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا اس کا معنی ہے میں نے اسے یمن اور شام میں وسعت عطاکی ہے، یہی مجاہد کا قول بھی ہے۔ مجاہد سے یہ بھی قول مروی ہے کہ اس کا مال اوپر نیچے پڑا ہے جس طرح بستر کو نیچے بچھایا جاتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–16
6۔ ابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے آیت وجعلت لہ مالا ممدودا میں مال کثیر سے مراد ہزار دینار ہیں۔ 7۔ عبد بن حمید نے سفیان (رح) سے روایت کیا کہ آیت وجعلت لہ مالا ممدودا کے بارے میں روایت کیا کہ اس سے مراد ہے کہ اس کے پاس دس لاکھ تھے۔ 8۔ ابن جریر وابن ابی حاتم وابن مردویہ والدینوری نے المجالسہ میں عمر بن خطاب ؓ سے روایت کیا کہ ان سے آیت وجعلت لہ مالا ممدودا، کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا کئی مہینوں کا غلہ اس کے پاس موجود تھا۔ 9۔ ابن مردویہ نے نعمان بن سالم (رح) سے روایت کیا کہ آیت وجعلت لہ مالا ممدودا سے مراد زمین ہے۔ 10۔ ہناد نے ابو سعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ آیت سارھقہ صعودا عنقریب میں اس کو…
Read the full tafseer →[وَّمَهَّدْتُّ لَهٗ : اور میں نے ہموار کیا اس کے لیے (راہوں کو)] [تمهِيْدًا : جیسے ہموار کرتے ہیں ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–14
﴿ذَرْنِيْ وَ مَنْ خَلَقْتُ وَحِيْدًاۙ0011﴾ (مجھے اور اس شخص کو رہنے دیجئے جسے میں نے اکیلا پیدا کیا ہے) ہم اسے سزا دے دیں گے آپ کو اس کے بارے میں فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں اس کے پیدا کرنے میں میرا کوئی شریک نہیں اور جب اسے میں نے پیدا کیا تو وہ بالکل اکیلا تھا مال اور اولاد اس کے پاس کچھ نہیں تھا (علی ان یکون ﴿ وَحِيْدًا﴾۔ حالا من الفاعل او المفعول) اس کافر کے بارے میں دوسری بات یہ بتائی کہ میں نے اسے کثیر مال دیا ہے جو بڑھتا رہتا ہے (قال فی معالم التنزیل ممدودًا ای کثیرًا قیل ھو ما یمد بالنماء کالزرع والضرع والتجارة) اور تیسری بات یہ فرمائی کہ میں نے اس کو بیٹے دیئے ہیں جو اس کے سامنے رہتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–31
حکم اعلان توحید و رسالت سید المرسلین ﷺ وتہدید ومذمت براعراض مجرمین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” یایھا المدثر قم فانذر ........ الی ....... الا ذکری للبشر “۔ (ربط) سورة مزمل کے آخر میں بالخصوص احکام خداوندی کی اطاعت کا حکم فرمایا گیا تھا اور یہ کہ ایمان کا تقاضا ہے کہ اہل ایمان نمازیں قائم رکھیں اور زکوٰۃ ادا کرتے رہیں اور حق تعالیٰ کی راہ میں انفاق وایثار سے کبھی بھی گزیر نہ کریں یہ تو اللہ رب العزت کی بارگاہ میں ایک قرض حسن سے جو بڑی ہی برکتوں اور زیادتیوں کے ساتھ قرض دینے والوں کو واپس ملے گا اور دار آخرت کے واسطے بہترین ذخیرہ ہے جو دنیاوی زندگی میں ہی آخرت کے لیے مہیا کیا جاتا ہے اور وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–16
7:۔ ” وجعلت لہ “۔ ممدود، کثیر۔ شھود، حاضر باش۔ سفر وحضر میں اور تجارت و تصرف میں اس کے ساتھ حاضر رہنے والے یا اپنی وجاہت و قابلیت کی وجہ سے مجلسوں اور محفلوں میں شریک ہونے والے، ہم نے اس کے دنیوی جاہ و وقار اور اس کی ریاست ووجاہت و قابلیت کی وجہ سے مجلسوں اور محفلوں میں شریک ہونے والے۔ ” ومہدت لہ “ ہم نے اس کے دنیوی جاہ و وقار اور اس کی ریاست و وجاہت کو خوب وسعت دی۔ ہم نے جب اس کو پیدا کیا تو وہ تنہا تھا ذلیل اور بےمال تھا پھر ہم نے اس کو کثیر دولت عطا کی، اس کو لائق اور قابل اولاد دی۔ لوگوں پر اس کی وجاہت و ریاست کا سکہ بٹھا دیا۔ لیکن اس نے ناشکری کی، اللہ کے شریک بنائے اور اس کے دین سے…
Read the full tafseer →وَّمَہَّدْتُّ لَہٗ تَمْہِيْدًا 14 ۙ مهد المَهْدُ : ما يُهَيَّأُ للصَّبيِّ. قال تعالی: كَيْفَ نُكَلِّمُ مَنْ كانَ فِي الْمَهْدِ صَبِيًّا [ مریم/ 29] والمَهْد والمِهَاد : المکان المُمَهَّد الموطَّأ . قال تعالی: الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ الْأَرْضَ مَهْداً [ طه/ 53] ، ومِهاداً [ النبأ/ 6] م ھ د ) المھد ۔ گہوارہ جو بچے کے لئے تیار کیا جائے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ كَيْفَ نُكَلِّمُ مَنْ كانَ فِي الْمَهْدِ صَبِيًّا [ مریم/ 29] کہ ہم اس سے کہ گود کا بچہ ہے ۔ کیونکہ بات کریں ۔ اور ۔ اور المھد والمھاد ہموار اور درست کی ہوئی زمین کو بھی کہا جاتا ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ الْأَرْضَ مَهْداً […
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–16
ترکیب : فاذا وا للسببتیہ کانہ قیل اصبر علی اذا ھم فبین ایدیھم یوم ھائل یلقون فیہ عاقبۃ امرھم۔ والعامل فی اذاماول علیہ قولہ فذلک لانہ اشارۃ الی النقرای وقت النقروقیل ماول علیہ عسیر ای یعسر نقربفخ الناقور علی وزن فاعول من النقر بمعنے التصویت فذلک اشارۃ الی وقت النقر مبتداء یومئذ بدل منہ اوظرف بخبرہ یوم عسیر خبرہ غیر یسیر تاکید و قال الاخفش اذامبتداء والخبر فذلک والفاء زائدۃ یومئذ ظرف لذلک وقیل ھوفی موضع رفع بدل من ذلک اومبتداء و یوم عسیر خبرہ والجملۃ خیر ذلک وعلی یتعلق بعسیرا وھی لغت لہ اوحال من الضمیر الذی فیہ ومن مفعول معہ اومعطوف علی الضمیر المنصوب۔ وحیدا حال من الیاء ای ذرنی وحدی معہ فانی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–15
ذَرْنِیْ وَمَنْ خَلَقْتُ وَحِیْدًا۔ وَّجَعَلْتُ لَـہٗ مَالاً مَّمْدُوْدًا۔ وَّبَنِیْنَ شُھُوْدًا۔ وَّمَھَّدْتُّ لَـہٗ تَمْھِیْدً ۔ ثُمَّ یَطْمَعُ اَنْ اَزِیْدَ ۔ (المدثر : 11 تا 15) (چھوڑ دو مجھے اور اس شخص کو جسے میں نے اکیلا پیدا کیا۔ اور اس کو بخشا میں نے مال فراواں۔ اور بیٹے دیئے حاضر رہنے والے۔ اور تیاری کردی اس کے لیے خوب تیاری۔ پھر وہ یہ توقع رکھتا ہے کہ میں اسے اور زیادہ دوں۔ ) مکہ اور طائف کے متکبرین کو سخت تنبیہ بعض اہل علم کا خیال یہ ہے کہ ان آیات میں مکہ اور طائف کے ان متکبرین کو سخت تنبیہ ہے جو اپنی خوشحالی اور رفاہیت کو اپنے عقیدہ و عمل کی صحت اور خدا کے منظورِنظر ہونے کی دلیل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–25
فہم القرآن ربط کلام : اللہ کے رسول نے جونہی لوگوں کو اللہ کی توحید کی دعوت دی تو وہ لوگ آپ کی جان کے دشمن ہوگئے اور انہوں نے آپ کی مخالفت میں ایڈی چوٹی کا زور لگا دیا۔ ایسے لوگوں کو ان کا انجام بتلایا گیا ہے کہ آج تم اپنی طاقت پر گھمنڈ کرتے ہو۔ وہ وقت یاد کرو جس دن صور پھونکا جائے گا۔ انکار کرنے والوں کے لیے یہ دن بڑا سخت ہوگا اور اس کی سختی کا کوئی مقابلہ نہیں کرسکے گا۔ سرداران مکہ نے بڑی کوشش کی کہ نبی ﷺ کی دعوت کی طرف لوگ متوجہ نہ ہوسکیں لیکن دعوت کی کشش، آپ کے اخلاق اور آپ ﷺ کی عظیم جدوجہد کے نتیجہ میں لوگ آپ کی ذات کے گرویدہ اور توحید کی دعوت قبول کیے جا رہے تھے یہ بات سرداران مکہ کے لیے…
Read the full tafseer →14 : وَّ مَھَّدْتُّ لَہٗ تَمْھِیْدًا (اور سب طرح کا سامان اس کے لئے مہیا کردیا) اس کو ریاست و جاہ دونوں دے دیں پس اس طرح میں نے اہل دنیا کے ہاں جن میں سے ایک کا ہونا باعث کمال خیال کیا جاتا ہے اس کو دونوں دے کر نعمت مکمل کردی۔
Read the full tafseer →13 ۔” وبنین شھودا “ مکہ میں موجود اس سے غائب نہ ہوتے تھے، یہ دس بیٹے تھے۔ اس کو مجاہد اور قتادہ رحمہما اللہ نے کہا ہے اور مقاتل (رح) فرماتے ہیں وہ سات تھے۔ ولید بن ولید، خالد، عمارہ ، ہشام ، عاص ، قیس، عبدشمس، ان میں سے تین اسلام لائے خاد، ہشام اور عمارہ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–30
11۔ 30۔ ان آیتوں کی شان نزول صحیح سند سے مستدرک 2 ؎ حاکم وغیرہ میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ نے جو بیان فرمائی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ ولید بن مغیرہ آنحضرت ﷺ کے پاس آیا اور آپ ﷺ نے اس کو قرآن شریف کی کچھ آیتیں پڑھ کر سنائیں جس سے اس کا دل کسی قدر نرم ہوا یہ خبر ابوجہل کو پہنچی اس نے ولید بن مغیرہ سے کہا کہ قوم کے لوگ تم سے ہرگز خوش نہ ہوں گے جب تک قرآن کے بارے میں تم ان کی مرضی کے موافق کوئی بات نہ کہو گے ولید بن مغیرہ نے جواب دیا کہ اچھا میں سوچ کر اس بارے میں کچھ کہوں گا پھر اس نے اپنے وعدہ کے موافق لوگوں کے سامنے قوم کے لوگوں کو خوش کرنے کے لئے یہ بات کہی جس کا ذکر ان آیتوں میں ہے کہ یہ قرآن…
Read the full tafseer →(وَّمَهَّدْتُّ لَهٗ تَمْهِيْدًا) اور میں نے دنیا اور اس کے اسباب پر اسے اختیار دیا یہاں تک کہ اس کے تمام مطالب آسان ہوگئے اور اس نے ہر وہ چیز حاصل کرلی جو وہ چاہتا تھا اور جس کی اسے خواہش تھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–56
عطیہ اس نیت سے نہ دیا جائے کہ بدلے میں عطیہ ملے قول باری ہے (ولا تمنن تستکثر۔ اور احسان نہ کرو زیادہ حاصل کرنے کے لئے) حضرت ابن عباس ؓ ، ابراہیم نخعی، مجاہد، قتادہ اور ضحاک کا قول ہے کہ کوئی عطیہ اس نیت سے نہ دو کہ تمہیں اس کے بدلے میں اس سے زیادہ دیا جائے۔ حضن بصری اور ربیع بن انس کا قول ہے کہ اپنی نیکیوں کو زیادہ سمجھتے ہوئے اللہ پر ان کا احسان نہ دھرو کہ پھر اللہ کے ہاں تمہاری یہ نیکیاں گھٹ جائیں۔ دوسرے حضرات کا قول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو نبوت اور قرآن کی جو دولت عطا کی ہے لوگوں سے زیادہ اجر حاصل کرنے کی نیت سے اس کا احسان نہ جتلائیں۔ مجاہد سے یہ بھی منقول ہے کہ اپنی طاعت کو کثیر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–14
10 ۔ مال کی نعمت سے نوازنے کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا اور میں نے اس کو بہت سارا مال بھی دیا، کہتے ہیں کہ اس کے باغوں کا سلسلہ مکہ سے طائف تک جا بجا پھیلا ہوا تھا اور وہ سال کے ہر موسم میں پھیل دیتے تھے اور حضرت سفیان ثوری کے قول کے مطابق وہ ایک کروڑ اشرفیوں کا مالک تھا، (روح قرطبی، مراغی، معارف، کبیر، بیضاوی، اور صفوۃ وغیرہ) سو جب وہ اس دنیا میں آیا تھا تو بالکل اکیلا اور خالی ہاتھ آیا تھا، سر سے پیر تک ننگا گوشت کی ایک بوٹی کی طرح تھا، مگر اللہ تعالیٰ نے اس پر احسان فرما کر اس کو دور دور تک پھیلا ہوا مال دیا، کہیں اس کے ہرے بھرے سرسبز و شاداب ابغات ہیں اور کہیں عالیشان مکان اور عمدہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–38
منکرین اور ان کا انجام تشریح : آیت گیارہ سے آگے تک جس شخص کی خصوصیات بیان کی گئی ہیں وہ ہر اس شخص کے لیے مخصوص ہیں جو خراب بری عادات والا ہو مگر تمام مفسرین نے اور خاص طور سے تفسیر ابن کثیر میں اس شخص کا نام ولید بن مغیرہ مخزومی بتایا گیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جو شخص بھی اللہ کی دی ہوئی تمام نعمتوں سے مالامال ہو اور وہ شکر ادا نہ کرے اللہ کا کلام اس کے پاس پہنچے وہ اس کی تصدیق بھی کرے اس کو سچ بھی جانے مگر کیا کہیں کہ ہٹ دھرمی بےوقوفی یا آباو اجداد کی پیروی کا خیال کرتے ہوئے یا پھر اپنے دوست احباب کا خیال کرتے ہوئے۔ غرض کوئی بھی وجہ ہو اور وہ اللہ پر ایمان نہ لائے اور اللہ اور اسکے رسول ﷺ اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–31
سورة المدثر۔ آیات 1 تا 31۔ اسرار ومعارف۔ سورة مدثر بھی پہلی پہلی صورتوں میں سے ہے اور مدثر ومزمل کا مفہوم ایک ہے بعض کے نزدیک پہلے سورة مزمل کی آیات نازل ہوئیں اور پھر مدثر کی بعض نے مدثر کو پہلے لکھا ہے مگر قرائن سے مزمل کا پہلے ہونا معلوم ہوتا ہے کہ اس میں ذاتی اعمال کی بات ہے اور مدثر میں قوم سے خطاب کرنے کا حکم ہے بہرحال نہایت ابتدائی سورتوں میں سے ہیں جب ایک دولوگ ہی مسلمان تھے تو فرمایا اے لپیٹ کر سونیو الے اٹھیے اور لوگوں کو دعوت دیجئے اور اپنے رب کی توحید اور بڑائی بیان کیجئے۔ لباس کی پاکیزگی۔ اپنے لباس کو پاک کیجئے ، مراد ماحول بھی ہے کردار بھی اور حقیقتا سارامال اور معاشی نظام مقصود…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–15
ف 11 امام حسن بصری کہتے ہیں کہ ولید کہا کرتا تھا اگر محمد (ﷺ) سچا ہے تو جنت مریے لئے بنائی گئی ہے۔ (شوکانی)
Read the full tafseer →(74:14) ومھدت لہ تمھیدا۔ مفعول مطلق مصدر۔ مطلب یہ کہ :۔ میں اس کے لئے ریاست، جاہ و حشمت کا سامان فراہم کیا مکہ کا کوئی رئیس اس کے ساتھ ہمسری کا دعوی نہیں کرسکتا یہاں تک کہ اس کے ہم قوم اسے ” ریحانہ قریش “ ” قریش کا گل خنداں “ کہا کرتے۔ یہ آپ کو وحید بن وحید یگانہ خلف یگانہ کے متکبرانہ الفاظ سے ملقب کیا کرتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–31
لغات القرآن۔ المدثر۔ چادر اوڑھ لپیٹ کر لیٹنے والے۔ ثیاب۔ کپڑے۔ الرجز۔ گندگی ۔ ناپاکی۔ اھجر۔ اس کو چھوڑو۔ دوررہ۔ لاتمنن۔ احسان نہ جتا۔ تستکثر۔ زیادہ کی طلب۔ نقر۔ بچایا گیا۔ پھونکا گیا۔ الناقور۔ صور۔ وحید۔ تنہا۔ اکیلا۔ ممدود۔ پھیلایا گیا۔ شھود۔ سامنے۔ ہر جگہ۔ مھدت۔ میں نے تیار کردیا۔ یطمع۔ امید رکھتا ہے۔ عنید۔ نہ ماننے والا۔ ارھق ۔ میں چڑھا دوں گا۔ صعود۔ چڑھائی۔ اونچائی۔ عبس۔ اس نے تیوری چڑھائی۔ بسر۔ اس نے کڑوا سا منہ بنایا۔ یوثر۔ پہلے چلا آتا ہے۔ سقر۔ آگ۔ لاتذر۔ پیچھا نہ چھوڑے گی۔ لواحۃ۔ جھلس ڈالنے والی۔ تسعۃ عشر۔ انیس۔ تشریح : اللہ تعالیٰ… کی طرح نہایت شفقت و محبت سے نبی مکرم حضرت محمد مصطفیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–26
(ف 2) شان نزول : جب ۔ حم۔ تنزیل الکتاب من اللہ العزیز الحکیم۔ نازل ہوئی اور نبی ﷺ نے تلاوت فرمائی ولید بن مغیرہ نے سنا اس قوم کی مجلس میں آ کر اس نے کہا کہ خدا کی قسم، میں نے محمد ﷺ سے ابھی ایک کلام سنا، نہ وہ آدمی کانہ جن کا، بخدا اس میں عجیب شیرینی اور تازگی اور فوائد دل کشی ہے، وہ کلام سب پر غالب رہے گا، قریش کو اس کی ان باتوں سے بہت غم ہوا، ان میں مشہور ہوگیا، ولید آبائی دین سے برگشتہ ہوگیا ابوجہل نے ولید کو ہموار کرنے کا ذمہ لیا اور اس کے پاس آکربہت غمزدہ صورت بنا کر بیٹھ گیا ولید نے کہا کیا غم ہے ابوجہل نے کہا غم کیسے نہ تو بوڑھا ہوگیا قریش تیرے خرچ کے لیے روپیہ جمع کردیں گے انہیں خیال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–17
[8] صعود دوزخ کی ایک پہاڑی کا نام ہے۔ دوزخی اس پر چڑھے گا اور پھر گرے گا۔ گرے گا اور پھر چڑھے گا۔ عذاب کی یہ صورت دائمی رہے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–24
ولید بن مغیرہ 1: جمہور مفسرین کے نزدیک ان آیات کا مصداق ولید بن مغیرہ ہے ۔ فرمایا ۔ اس کو ہم نے مال و دولت کی نعمت سے نوازا ۔ مکہ سے طائف تک اس کے قافلے تجارت کے رواں دواں تھے ۔ بیٹے دیئے جو سب زندہ اس کے سامنے موجود تھے ۔ اور اس کے کاروبار میں شریک تھے ۔ عزت وجاہ عطا کی ۔ پھر اس کی حرص وآزکا یہ عالم ہے کہ اس کے باوجودبھی اضافہ کا طالب ہے ۔ مگر آپ ہم کچھ نہیں دیں گے ۔ کیونکہ یہ ہماری آیتوں کا سخت مخالف ہے ۔ عنقریب اس کو شدید ترین عذاب سے دوچار ہونا پڑے گا ۔ اور اس کو معلوم ہوگا ۔ کہ یہ دولت و ثروت ساعوان وانصار اور عزت ومختار ان میں سے کوئی چیز بھی اللہ کے عذاب سے نہیں بچاسکتی ۔ اس کا جرم یہ…
Read the full tafseer →(14) اور ہر قسم کا دنیوی سامان اس کے لئے مہیا کردیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–29
ف 4۔ باوجود احتمال نہ ہونے کے یہ امر فرمانا اشارہ ہے اہتمام شان توحید کی طرف کہ ایسی ضروری چیز ہے کہ معصوم کو بھی باوجود احتیاج نہ ہونے کے اس کی تعلیم کی جاتی ہے تو غیر معصوم تو بدرجہ اولی اس کا مکلف ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–16
(رہنے دو مجھے اور جسے پیدا کیا میں نے اکیلا) بےآل اولاد اور بےیارومددگار۔۔۔ اور ایک قول یہ ہے کہ اسے وحید القوم کہتے تھے ، یعنی قوم میں ایک ۔۔۔ (اور دیا میں نے اسے لمبا چوڑا سرمایہ) یعنی بہت مال۔ روایت ہے کہ اس کے پاس زر نقد دس لاکھ دینار تھے ، اور مکہ اور طائف کے درمیان اس کے اونٹ گھوڑے بکریاں بہت تھیں ، باغ اسباب لونڈی غلام بیشمار تھے۔ (اور) دیا ہم نے اسے (حاضر باش بیٹے) جو مکہ میں اس کے پاس حاضر و موجود رہتے تھے ، تجارت و کسب معاش کے واسطے سفر کے محتاج نہ تھے۔ چناچہ ۔۔۔ ہمیشہ اپنے باپ کے ساتھ محفلوں میں حاضر ہوتے۔ راویت ہے کہ اس کے دس بیٹے تھے ان میں خالد اور عمارہ اور ہشام ایمان لائے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–30
The Annual Income of Walid Ibn Mughirah: Ten Million Guineas The disbeliever referred to here is Walid Ibn Mughirah. Allah had favoured him with abundant wealth, property and children. According to Ibn ` Abbas 4his land, property and gardens stretched from Makkah to Ta'if. According to Thauri, his annual income was ten million Dinars. Some scholars have estimated less than this amount. It is, nonetheless, agreed that the income and yearly produce of his fields and gardens were available in every season, winter or summer. Thus the Qur'an says: وَّجَعَلْتُ لَهٗ مَالًا مَّمْدُوْدًا وَّبَنِيْنَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
12 Walid bin al-Mughirah had ten or twelve' sons of whom Hadrat Khalid bin Walid became most famous. For these sons the word shuhud has been used, which can have several meanings: (1) That they do not have to run about and go abroad in search of their livelihood: they have enough provisions at home; therefore, they can always remain at the beck and call of their father; (2) that all his sons are prominent and influential people: they sit in assemblies and conferences with him; and (3) that they are the people of high rank and position and their testimony is accepted in all matters of life.
Read the full tafseer →