Al-Ma'aarij 70:29

Al-Ma'aarij · from ayah 29

70:29

وَالَّذِیْنَ هُمْ لِفُرُوْجِهِمْ حٰفِظُوْنَ ۟ۙوَالَّذِيۡنَ هُمۡ لِفُرُوۡجِهِمۡ حٰفِظُوۡنَۙ‏

اور جو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

And those who guard their private parts

— Saheeh International

Juz 29 · Ruku 1 of surah · Ruku 7 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Ma'aarij

All translations of 70:29

جو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور جو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور جو لوگ اپنی شرم گاہوں کی (حرام سے) حفاﻇت کرتے ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور جو اپنی شرمگاہوں کی (اور سب سے) حفاظت کرتے ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور ہو جو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور وہ لوگ جو اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور وہ جو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور جو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور وہ جو اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور جو حفاظت کرتے ہیں اپنی شرمگاہوں کی

— مولانا اسحاق مدنی

اور جو لوگ اپنے شرمگاہوں کو محفوظ رکھنے والے ہیں

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور جو اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور جو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں

— محترمہ رفعت اعجاز

and those who guard their private parts,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

and those who guard their private parts,

— Muhammad Taqi Usmani

and those who guard their private parts,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And those who guard their private part (chastity).

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And those who guard their private parts

— Saheeh International

who guard their carnal desires

— Muhammad Sarwar

And those who guard their private parts,

— Muhammad Habib Shakir

And those who of their private parts are guards.

— Abdul Majid Daryabadi

Tafseer of 70:29

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 19–35

انسان بےصبرا، بخیل اور کنجوس بھی ہے یہاں انسانی جبلت کی کمزوری بیان ہو رہی ہے کہ یہ بڑا ہی بےصبرا ہے، مصیبت کے وقت تو مارے گھبراہٹ اور پریشانی کے باؤلا سا ہوجاتا ہے، گویا دل اڑ گیا اور گویا اب کوئی آس باقی نہیں رہی، اور راحت کے وقت بخیل کنجوس بن جاتا ہے اللہ تعالیٰ کا حق بھی ڈکار جاتا ہے، رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں بدترین چیز انسان میں بیحد بخیلی اور اعلیٰ درجہ کی نامردی ہے (ابو داؤد) پھر فرمایا کہ ہاں اس مذموم خصلت سے وہ لوگ دور ہیں جن پر خاص فضل الٰہی ہے اور جنہیں توفیق خیر ازل سے مل چکی ہے، جن کی صفتیں یہ ہیں کہ وہ پورے نمازی ہیں وقتوں کی نگہبانی کرنے واجبات نماز کو اچھی طرح بجا لانے سکون…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 29–30

سورة الْمَعَارِج 19 شرم گاہوں کی حفاظت سے مراد زنا سے پرہیز بھی ہے اور عریانی سے پرہیز بھی (تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد سوم، المومنون، حاشیہ 6۔ النور، حواشی 30۔ 32۔ جلد چہارم، الاحزاب، حاشیہ 62)۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 24–30

مقادیر زکواة منجانب اللہ مقرر ہیں ان میں کمی بیشی کا کسی کو اختیار نہیں (آیت) وَالَّذِيْنَ فِيْٓ اَمْوَالِهِمْ حَقٌّ مَّعْلُوْمٌ، اس آیت سے معلوم ہوا کہ مقادیر زکوة اللہ تعالیٰ کی طرف سے متعین اور معلوم ہیں جن کی تفصیل رسول اللہ ﷺ سے احادیث صحیحہ میں منقول ہے۔ اس لئے مقادیر زکوة خواہ نصاب زکوة سے متعلق ہوں یا مقدار واجب سے دونوں اللہ تعالیٰ طرف سے مقرر کردہ طے شدہ ہیں یہ زمانے اور حالات کے بدلنے سے نہیں بدل سکتیں۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 29–31

طہارت اخلاق: نماز، انفاق اور خشیت الٰہی کے بعد یہ ان کے اخلاق کی طہارت کی طرف اشارہ فرمایا کہ وہ اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں۔ یہ نہیں ہے کہ وہ سانڈ بن کر تمام حدود الٰہی کو توڑ تاڑ کر رکھ دیں۔ وہ اپنی جنسی خواہشوں کواپنی بیویوں اور لونڈیوں؂۱ تک محدود رکھتے ہیں۔ اس حد سے تجاوز کرنے کی جسارت نہیں کرتے۔ اور جو لوگ اس سے تجاوز کرتے ہیں وہ یاد رکھیں کہ وہ اللہ کے مقرر کیے ہوئے حدود سے تجاوز کرنے والے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ وہ حدود الٰہی سے تجاوز کی سزا بھگتیں گے اس لیے کہ خدا اپنے حدود کی بے حرمتی کرنے والوں سے ضرور انتقام لے گا۔ ؂۱ لونڈیوں اور غلاموں کے مسئلہ پر سورۂ نور کی تفسیر میں مفصل…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 28–29

28۔ 1 یہ سابقہ مضمون ہی کی تاکید ہے کہ اللہ کے عذاب سے کسی کو بھی بےخوف نہیں ہونا چاہیے بلکہ ہر وقت اس سے ڈرتے رہنا اور اس سے بچاؤ کی ممکنہ تدابیر اختیار کرتے رہنا چاہیے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 25–30

7: جو غریب اپنی حاجت ظاہر کردیتے ہیں، انہیں سوالی سے اور جو حاجت مند ہونے کے باوجود اپنی حاجت کسی سے نہیں کہتے، انہیں بےسوالی (محروم۔ نہ مانگنے والے) سے تعبیر کیا گیا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 29–30

والذین .................... ھم العدون (13) (07 : 92 تا 13) ” جو اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں .... بجز اپنی بیویوں یا اپنی مملو کہ عورتوں کے ، جن سے محفوظ نہ رکھنے میں ان پر کوئی ملامت نہیں ، البتہ جو اس کے علاوہ کچھ اور چاہیں وہی حد سے تجاوز کرنے والے ہیں “۔ لہٰذا وہ اپنی بیویوں اور اپنی مملوکہ لونڈیوں کے ساتھ پاکیزہ تعلق قائم کرسکتے ہیں اور یہ تعلق پاکیزہ بھی ہو اور قانونی بھی ہو۔ اور اسلام لونڈیوں کا واحد قانونی راستہ اس طرح تجویز کرتا ہے کہ جو عورتیں جنگی قیدی کے طور پر آئیں اور ان کو فدیہ اور احسان کے طور پر چھوڑنے کا فیصلہ اسلامی حکومت نے نہ کیا ہو۔ اس سلسلے میں سورة محمد کی یہ آیت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 29–31

8 یعنی بیوی اور باندی کے سوا جو اور کوئی جگہ قضائے شہوت کے لیے ڈھونڈے وہ حد اعتدال اور حد جواز سے باہر قدم نکالتا ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 26–31

آیت 26{ وَالَّذِیْنَ یُصَدِّقُوْنَ بِیَوْمِ الدِّیْنِ۔ } ”اور جو فیصلے کے دن کی تصدیق کرتے ہیں۔“ زیر مطالعہ آیات کی سورة المومنون کی ابتدائی آیات کے ساتھ مناسبت کے حوالے سے اس آیت کا تعلق سورة المومنون کی اس آیت سے ہے : { وَالَّذِیْنَ ہُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُوْنَ۔ } ”اور جو لغو باتوں سے اعراض کرنے والے ہیں“۔ گویا زیر مطالعہ آیت سورة المومنون کی مذکورہ آیت کی وضاحت کر رہی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے نیک بندے لغویات سے اعراض کیوں کرتے ہیں ؟ اس لیے کہ وہ قیامت اور جزا و سزا کے دن پر پختہ یقین رکھتے ہیں۔ ظاہر ہے جو شخص آخرت پر یقین رکھتا ہے اس کے لیے تو اس زندگی کا ایک ایک لمحہ امر کبھی نہ مرنے والا ‘…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 27–30

17 روز جزا و سزا کی تصدیق کرنے سے مراد یہ ہے کہ وہ اللہ کے حضور اپنے اعمال کی جوابدہی پر پورا پورا یقین رکھتے ہیں۔ پھر اسی تصدیق کے نتیجہ میں وہ ہر اس کام سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں جس پر اللہ کے عذاب کی وعید سنائی گئی ہے۔ اور انہیں ہر وقت یہ خطرہ لاحق رہتا ہے کہ کہیں ہماری کو تاہیاں ہماری نیکیوں سے بڑھ نہ جائیں۔ جو ہمیں اللہ کے عذاب کا مستحق بنادیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 27–31

11۔ ان سب آیتوں کے لئے ملاحظہ ہوں سورة ال مومن ون (پ 18) کے پہلے رکوع کے ابتدائی حواشی ، (آیت) ” لفروجھم حفظون “۔ اس سے ادھر اشارہ ہوگیا کہ علاوہ حرامکارہ کے اس کے مبادی ومقدمات بھی ناجائز ہیں۔ (آیت) ” فمن ..... العدون “۔ اس آیت نے غیر طبعی اور غیر شرعی شہوت رانی کی ساری صورتوں کو حرام قرار دے دیا۔ وھذہ الایۃ تدل علی حرمۃ المتعۃ ووطیء الذکر ان والبھائم والاستمناء بالکف (مدارک)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 19–35

ان الانسان خلق ھلوعا، ھلوع کے لفظی معنی ہیں حریص، بےصبرا، کم ہمت، حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا ھلوع وہ شخص ہے جو کہ مال حرام کی حرص میں مبتلا ہو، یہاں یہ شبہ نہ ہونا چاہیے کہ جب انسان کو پیدا ہی اس حال میں کیا گیا ہے تو پھر اس کا کیا قصور ؟ وہ مجرم کیوں قرار دیا گیا ؟ وجہ یہ ہے کہ مراد اس سے انسانی فطرت اور جبلت میں رکھی ہوئی استعداد اور مادہ ہے تو حق تعالیٰ نے انسان میں ہر خیر و شر کا مادہ اور استعداد بھی رکھی ہے اور شر و فساد کی بھی اور اس کو عقل و ہوش بھی عطا فرمائے ہیں اور اپنی کتابوں اور رسولوں کے ذریعہ ہر ایک کا انجام بھی بتادیا، اب انسان کو اختیار ہے کہ دونوں قسم کی صلاحیتوں میں سے جس کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

والذن ھم لفروجھم حفظون . (الفروج جمع ہے) الفرج مفرد ہے۔ اس کا معنی ہے مرد یا عورت کی .............. ........236 میں چلا جاتا ہے۔ اس طرح کے مضمون کی احادیث بکثرت آئی ہیں بلکہ تقدیر خیر و شر پر ایمان جزء ایمان ہے پھر کیا تعلیم و تربیت بیکار ہے۔ تعلیم و تربیت سے اگرچہ تقدیر نہیں بدلتی ‘ تخلیق میں تغیر نہیں آتا۔ فطرت نہیں پلٹتی لیکن سلسلۂ اسباب کا تسلسل علت و معلول کا ربط اور تبلیغ و صحبت کا اثر فطری ہے۔ دواء اپنا اثر رکھتی ہے اگرچہ موت سے نہیں بچاتی۔ عدل و انصاف سے صلاح عالم اور ظلم و جور سے تباہی وابستہ ہے اگرچہ انصاف موجب بقاء اور ذریعہ دوام نہیں ‘ نہ ظلم سے نسل انسانی کا آج تک خاتمہ ہوسکا۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 29–31

(29۔ 31) اور جو کہ شرمگاہوں کو حرام سے محفوظ رکھنے والے ہیں لیکن اپنی چار بیویوں سے یا اپنی شرعی لونڈیوں سے خواہ وہ کتنی ہوں کیونکہ اس حلال کام میں ان پر کوئی الزام اور گناہ نہیں اور جو اس کے علاوہ شہوت رانی کا طلب گار ہو تو یہ لوگ حلال سے حرام کی طرف تجاوز کرنے والے ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 29–31

والذین ھم لفروجھم حفظون …: ان آیات سے بیویا ور لونڈی کے علاوہ جنس خواہش پوری کرنے کے تمام ذرائع مثلاً زنا، متعہ ، لڑکوں یا جانوروں سے بدفعلی اور استمنا بالید وغیرہ کی حرمت ثابت ہوئی، بلکہ ان اسباب کی حرمت بھی معلوم ہوئی جو آدمی کو ان چیزوں کی طرف لے جاتے ہیں۔ مثلاً عریانی، غیر محرموں سے میل جول، گناہ پر ابھارنے والے گیت، ناول، افسانے اور فلمیں وغیرہ۔ مزید دیکھیے سورة مومنون (5 تا 7)۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 24–33

والذین فی اموالھم حق معلوم۔ اس سے مراد فرض زکوۃ ہے، یہ قتادہ اور ابن سیرین کا قول ہے۔ مجاہد نے کہا : زکوۃ کے علاوہ مراد ہے۔ علی بن ابی طلحہ نے روایت کیا ہے کہ حضرت ابن عباس نے ہا، صلہ رحمی کرنا اور بوجھ اٹھانا ہے۔ پہلا قول زیادہ صحیح ہے کیونکہ حق کی صفت معلمو سے لگائی ہے۔ زکوۃ کے علاوہ معلوم نہیں، وہ تو ضرورت کے مطباق ہوتا ہے جبکہ اس میں کمی و بیشی ہوتی رہتی ہے۔ للسآئل و المحروم۔ سورة زاریات میں یہ بات پہلے گزر چیک ہے۔ والذین یصدقون بیوم الذین۔ یعنی یوم جزاء مراد قیامت کا دن ہے۔ اس بارے میں بحث سورة فاتحہ میں گزر چکی ہے۔ وہ الذین ھم من عذاب ربھم مشفقون۔ جو اپنے رب کے عذاب سے ڈرنے والے ہیں۔ ان…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 24–35

19۔ عبد بن حمید نے ابراہیم (رح) سے روایت کیا کہ آیت والذین فی اموالہم حق معلوم اور وہ جن کے مالوں میں حصہ معین ہے یعنی وہ لوگ جو اپنے مالوں سے اس وقت دیتے ہیں جب عطیات نکالے جاتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَالَّذِينَ : اور وہ جو ہیں کہ ][ هُمْ لِفُرُوْجِهِمْ : وہ لوگ اپنی شرمگاہوں کی ][ حٰفِظُوْنَ : حفاظت کرنے والے ہیں ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

خامساً فرمایا ﴿ وَ الَّذِيْنَ هُمْ لِفُرُوْجِهِمْ حٰفِظُوْنَۙ0029﴾ (اور جو لوگ اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں)

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–35

مجازات عناد وسرکشی کفار وشدت کرب و اضطراب در روز قیامت : قال اللہ تعالیٰ (آیت) ” سال سآئل بعذاب واقع ...... الی ...... فی جنت مکرمون “۔ (ربط) گذشتہ سورت کا مضمون اہل جہنم کے احوال پر مشتمل تھا اور یہ کہ مجرموں کو کس ذلت کے ساتھ خدا کے عذاب اور قہر کی گرفت میں لیاجائے گا اب اس سورت میں ایسے مجرمین کی معاندانہ روش بیان کرکے اس پر مذمت اور سزا کا ذکر فرمایا جارہا ہے اور یہ کہ روز قیامت ایسے سرکشوں کی بےبسی کا کیا عالم ہوگا جو دنیا میں غرور ونخوت کا پیکر بنے ہوتے تھے ارشاد فرمایا۔ مانگا ہے ایک مانگنے والے نے ایسا عذاب جو واقع ہونے والا ہے کافروں کے واسطے جس کو کوئی ٹلانے والا نہیں وہ عذاب ہر حال…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 29–31

9:۔ ” والذین ھم لفروجہم حافظون “ وہ اپنی شرمگاہوں کو بدکاری سی محفوظ رکھتے ہیں اور ناجائز طریق پر ان کو استعمال نہیں کرتے، البتہ اپنی بیویوں اور لونڈیوں سے استمتاع کرتے ہیں۔ جو شخص بیویوں اور لونڈیوں کے علاوہ شہوت رانی کی کوئی اور راہ تلاش کرے گا وہ حد سے تجاوز کرے گا۔ استمناء بلید، وطی فی الدبر اور نکاح متعہ وغیرہ ناجائز طریقوں میں داخل ہیں۔ نکاح متعہ کی تحقیق سورة مومنون کی تفسیر میں گذر چکی ہے ملاحظہ ص 754 ص حاشیہ 7 ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 29–35

گذشتہ سے پیوستہ : اس سے پہلے درس میں ذکر تھا کہ اللہ تعالیٰ نے قیامت کا انکار کرنے والوں کی تردید بیان کی اور قیامت کے وقوع اور مجرمین کی سزا کا حال بیان کیا یہ بھی بتایا کہ قیامت کے دن مجرمین تمنا کریں گے کہ کسی طرح ان کی جان بچ جائے ۔ فرمایا ان کی طرف سے کسی قسم کا فدیہ قبول نہیں کیا جائے گا۔ جہنم ان کو پکار پکار کر اپنی طرف بلائے گی جس میں سزا پائیں گے۔ اس کے بعد عام انسانوں کی حرص اور بےصبری کا ذکر فرمایا۔ یہ بھی بان کیا کہ عام طور پر انسان کی حالت یہ ہے کہ جب اسے خیر پہنچتی ہے۔ تو بخیل بن جاتا ہے۔ اور جب شر پہنچتا ہے تو بےصبری میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ البتہ ان لوگوں کو اس گروہ میں مستثنیٰ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَالَّذِيْنَ ہُمْ لِفُرُوْجِہِمْ حٰفِظُوْنَ۝ 29 ۙ فرج الفَرْجُ والفُرْجَةُ : الشّقّ بين الشّيئين کفرجة الحائط، والفَرْجُ : ما بين الرّجلین، وكنّي به عن السّوأة، وکثر حتی صار کالصّريح فيه . قال تعالی: وَالَّتِي أَحْصَنَتْ فَرْجَها [ الأنبیاء/ 91] ، لِفُرُوجِهِمْ حافِظُونَ [ المؤمنون/ 5] ، وَيَحْفَظْنَ فُرُوجَهُنَّ [ النور/ 31] ، واستعیر الفَرْجُ للثّغر وكلّ موضع مخافة . وقیل : الفَرْجَانِ في الإسلام : التّرک والسّودان وقوله : وَما لَها مِنْ فُرُوجٍ [ ق/ 6] ، أي : شقوق وفتوق، قال : وَإِذَا السَّماءُ فُرِجَتْ [ المرسلات/ 9] ، أي : انشقّت، والفَرَجُ : انکشاف الغمّ. يقال : فَرَّجَ اللہ عنك، وقوس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 19–35

ترکیب : ھلوعا حال مقدرۃ من الانسان الھلع اشد الحرص یقال ھلع الرجل یھلع ھلعا وھلا عا فھو ھالع دھلوع وکذاجزوعاد منوعا حالان و اذالاولیٰ ظرف لجز وعا والاخریٰ لمنوعا الا المصلین استثناء من الجنس والمستثنیٰ منہ الانسان وھو جنس فی جنات ظرف لمکرومون۔ تفسیر : اور یہ مال جمع کرنا اور کنجوسی کرنا اس لیے ہے کہ ان الانسان خلق ھلوعا۔ انسان (بعض کہتے ہیں اس سے مراد کفار ہیں) فطرتی طور پر لالچی اور بےصبر پیدا ہوا ہے۔ اس کمبخت کی دور اندیشی اور اس کی زیرکی (جو خداوند عالم کی طرف سے بہ نسبت اور حیوانات کے زیادہ ملی تھی) اس کو بخل اور لالچ پر آمادہ کرتی ہے اور بڑے بڑے خیالات اور امیدیں بندھاتی ہے کہ سینکڑوں…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَالَّذِیْنَ ھُمْ لِفُرُوْجِھِمْ حٰفِظُوْنَ ۔ اِلاَّ عَلٰٓی اَزْوَاجِھِمْ اَوْمَا مَلَکَتْ اَیْمَانُھُمْ فَاِنَّھُمْ غَیْرُمَلُوْمِیْنَ ۔ فَمَنِ ابْتَغٰی وَرَآئَ ذٰلِکَ فَاُوْلٰٓئِکَ ھُمُ الْعٰدُوْنَ ۔ (المعارج : 29 تا 31) (اور وہ جو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں۔ بجز اپنی بیویوں اور اپنی مملوکہ عورتوں کے، سو اس باب میں ان کو کوئی ملامت نہیں۔ البتہ جو اس کے علاوہ کچھ اور چاہیں وہی حد سے تجاوز کرنے والے ہیں۔ ) چوتھی صفت کردار کی پاکیزگی نماز، انفاق اور خشیت الٰہی کے بعد اب ان نیک بندوں کی اخلاقی بلندی اور کردار کی پاکیزگی کا ذکر فرمایا جارہا ہے۔ یعنی وہ اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 29–31

فہم القرآن ربط کلام : بیشک اللہ کے عذاب سے بےخوف نہیں ہونا چاہیے لیکن جن لوگوں نے قرآن کے بیان کردہ اوصاف اپنائے وہ جہنم کے عذاب سے بےخوف ہوں گے، جہنم کے عذاب سے مامون رہنے والوں کے اوصاف میں یہ صفت بھی ہوتی ہے۔ جہنم کے عذاب سے محفوظ رہنے والوں میں یہ وصف بھی ہوتا ہے کہ وہ اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں ہاں انہیں اپنی بیویوں اور لونڈیوں کے پاس جانے کا حق ہے۔ اس سے ان پر کوئی ملامت نہیں جو لوگ اپنی بیویوں اور لونڈیوں کے سوا کسی اور کے ساتھ ازدواجی تعلقات اور اس جیسی حرکات کریں گے وہ حد سے نکل جانے والے ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ نے ہر مرد اور عورت میں ایک دوسرے کے ساتھ ملاپ کرنے کا جذبہ اور قوت رکھی…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

29 : وَالَّذِیْنَ ھُمْ لِفُرُوْجِھِمْ حٰفِظُوْنَ ( اور وہ جو اپنی شرمگاہوں کو محفوظ رکھنے والے ہیں) ۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 25–33

24 ۔…” والذین فی اموالھم حق معلوم 25 ۔ للسائل والمحروم 26 ۔ والذین یصدقون بیوم الدین۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 19–35

19۔ 35۔ شروع سورة سے یہاں تک اللہ تعالیٰ نے کافروں اور ایمان دار لوگوں کی نشانیاں مقابلہ کے طور پر بیان فرمائی ہیں مثلاً کافروں کی نشانی یہ ذکر فرمائی کہ وہ لوگ عذاب آخرت اور قیامت کے منکر ہیں اس لئے از خود عذاب الٰہی کی خواہشیں کرتے ہیں اور ایمان دار لوگوں کی یہ نشانی ہے کہ قیامت اور عذاب آخرت کا ان کے دل میں پورا یقین ہے اس واسطے عذاب الٰہی کا ہر وقت ان کے جی میں ایک خوف رہتا ہے کافروں کی یہ نشانی ہے کہ بدکاری کو کچھ عیب نہیں جانتے ایمان دار اس کے برخلاف ہیں اسی طرح کافروں کی یہ نشانی ہے کہ مال جمع کرکے رکھتے ہیں اور محتاجوں کو کوڑی نہیں دیتے اور ایمان داروں کی یہ نشانی ہے کہ ان کے مال میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(والذین ھم لفروجھم حفظون) ۔ پس وہ اپنی شرم گاہوں کے ذریعے سے ایسی مجامعت نہیں کرتے جو حرام قرار دی گئی ہو، یعنی زنا، سدو میت (قوم لوط والا عمل) ۔ بیوی کی دبر میں مجامعت اور حالت حیض وغیرہ میں مجامعت سے بچتے ہیں نیز وہ اپنی شرمگاہوں کی ان لوگوں کے دیکھنے اور چھونے سے حفاظت کرتے ہیں جن کے لیے دیکھنا اور چھونا جائز نہیں۔ وہ ان تمام وسائل محرمہ کو بھی ترک کردیتے ہیں جو فحش کام کے ارتکاب کی دعوت دیتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 25–44

قول باری ہے (للسائل والمحروم سائل اور محروم کے لئے) حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ سوال کرنے والے کو سائل کہتے ہیں اور محروم وہ شخص ہے جسے کسی تجارت میں کامیابی نہ ہوتی ہو۔ ابوقلابہ کا قول ہے کہ محروم وہ شخص جس کا مال چلا جائے۔ حسن بن محمد کا قول ہے کہ حضور ﷺ نے ایک سریہ روانہ کیا، اسے مال غنیمت حاصل ہوا، اس کے بعد کچھ دوسرے لوگ بھی آگئے اور یہ آیت نازل ہوئی (فی اموالھم حق معلوم للسائل والمحروم جن کے مالوں میں سائل اور محروم کا ایک مقرر حق ہے) حضرت انس ؓ نے حضور ﷺ سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا (ان المحروم من حرم وصیتہ بیشک محروم وہ شخص ہے جسے اس چیز سے محروم رکھا جائے جس کی اس کے لئے وصیت کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

24 ۔ عفت نفس اور پاکدامنی کی صفت کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا اور جو حفاظت کرتے ہیں اپنی شرمگاہوں کی یعنی وہ ان کی حفاظت کرتے ہیں حرام کاری کی تمام صورتوں سے اس لیے وہ ان کو غلط اور ناجائز طور پر استعمال کنے سے بچائے رکھے ہیں اور یہ بڑی اہم صفت و خصلت ہے، یہاں تک کہ نبوت کی لسان حق و صدق ترجمان نے فرج و فم کی حفاظت پر جنت کی ضمانت دی ہے۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا " من یضمن لی ما بین لحییہ وما بین رجلیہ اضمن لہ الجنۃ ( جو مجھے اس چیز کی ضمانت دے گا جو کہ اس کے دونوں جبڑوں کے درمیان ہے، یعنی اپنی زبان کی، اور جو کچھ اس کی دونوں ٹانگوں کے درمیان ہے، یعنی اس کی شرمگاہ تو میں اس کے لیے جنت کی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 22–44

نیک لوگوں کی صفات تشریح : ایک اچھے پکے اور صالح جنت کے حقدار کی خوبیاں بیان کی گئی ہیں جو کہ کافی دفعہ وضاحت سے پچھلی سورتوں میں گزر چکی ہیں یہاں پھر مختصراً بیان کیا جارہا ہے۔ سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ انسان فطرتاً کمزور طبیعت یعنی غلطیوں کا پتلا سمجھا جاتا ہے۔ بلکہ ہے ہی۔ مگر اس کی اصلاح کے لئے ہی تو قرآن اور اللہ کے رسول ﷺ کا بندوبست کیا گیا ہے۔ تو جو شخص اپنے نفس پر پورا اختیار رکھتا ہے تو وہی بہادر انسان ہے وہ خود کو شیطان کے چنگل سے نکال کر بندگانِ الٰہی میں شامل ہوسکتا ہے۔ کیونکہ عمل بہت ضروری ہے۔ اگر زبانی ایمان لے آنا کافی ہوتا تو پھر منافق دوزخ کے نچلے درجے میں کیوں ڈالے جاتے۔…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–34

سورة المعارج۔ آیات 1 تا 35۔ اسرار ومعارف۔ مانگنے والے نے عذاب مانگا کہ کفار نے کہا تھا کہ اگر یہ قرآن حق ہے تو ہم پر عذاب نازل کر لیکن عموما کفار کے عمل سے ظاہر ہے کہ ان کی طرح یہ بھی سمجھتے ہیں کہ ایسا کچھ نہ ہوگا اور ہم اپنی پسند دنیا پہ نافذ کرسکتے ہیں مگر یہ حق ہے اور کفار پر عذاب آئے گا اور اسے کوئی روک نہ سکے گا یہ عذاب اس اللہ کی طرف سے جو بلندیوں اور عظمتوں کا مالک ہے۔ مومن کی روح عظمتوں سے واقف ہے۔ جن بلندیوں سے فرشتے آگاہ ہیں اور اس دن بھی چڑھیں گے ۔ جو پچاس ہزار سال کا ہوگا اور مومن کی ارواح کے بھی صاحب روح المعانی کے مطابق زینہ بہ زیرنہ درجات ہیں جو عظمت الٰہی پہ دلالت کرتے ہیں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 29–31

ف 3 یعنی جو اپنی بیوی یا لونڈی کے علاوہ کسی اور ذریعہ سے اپنی شہوت پوری کرنا چاہتے ہیں۔ ایسے ہی لوگ حرام کاری کا ارتکاب کرنے والے ہیں۔ (دیکھیے مومنون :7)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(70:29) والذین ھم لفروجھم حفظون ۔ مستثنیت کی پانچویں صفت ہے اور وہ جو اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں۔ فروجھم۔ مضاف مضاف الیہ۔ فروج جمع ہے فرج کی الفرج والفرجۃ کے معنی دو چیزوں کے درمیانی شگاف کے ہیں۔ جیسے امر کی جمع امور ہے۔ جیسے دیوار میں شگاف یا دونوں ٹانگوں کے درمیان کی کشادگی۔ کنایہ کے طور پر فرج کا لفظ شرم گاہ پر بولا جاتا ہے اور کثرت استعمال کی وجہ سے اسے حقیقی معنی سمجھا جاتا ہے۔ بمعنی شگاف قرآن مجید میں ہے وما لہا من فروج (50:6) اور اس میں کہیں شگاف تک نہیں۔ اور دوسری جگہ آیا ہے :۔ واذا السماء فرجت (77:9) اور جب آسمان پھٹ جائے۔ یہاں فرجت بمعنی انشقت ہے۔ حفظون ۔ حفظ (باب سمع) مصدر سے…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 19–35

لغات القرآن۔ ھلوعا۔ بزدل۔ ڈرپوک۔ جزوعا۔ گھبرا جانے والا۔ منوعا۔ ہاتھ روک لینے والا۔ تشریح : اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے آدمی کو بڑی عظمتوں اور زبردست صلاحیتوں سے نواز ہے وہ جب کائنات میں آگے بڑھتا ہے تو خشکی، تری اور فضاؤں پر حکمرانی کرنے لگتا ہے لیکن اس کی تخلیق اور فطرت میں کچھ کمزوریاں بھی رکھ دی گئی ہیں۔ اگر وہ ان کمزوریوں پر قابو پا لے تو پھر وہ دنیا میں سربلند اور آخرت کی نجات کا مستحق بن جاتا ہے۔ فرمایا کہ آدمی اپنے بےانتہا صلاحیتوں کے باوجود بہت بےصبرا، کم ہمت اور تنگ دل واقع ہوا ہے۔ اس کو ذرا تکلیف پہنچتی ہے تو وہ گھبرا جاتا ہے اور جب اس کو خیر اور خوش حالی نصیب ہوتی ہے تو وہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 22–35

(ف 2) ان آیتوں میں فرمایا کہ ایماندار لوگ وہ ہیں جو امانت اور اپنے عہد پر قائم رہتے ہیں اور حدیث میں نبی ﷺ نے فرمایا ہے کہ منافق لوگوں کی نشانی یہ ہے کہ امانت میں خیانت کرتے ہیں اور جب وعدہ یا کوئی عہدوپیمان کرتے ہیں تو اس کو پورا نہیں کرتے ، ان آیتوں میں فرمایا کہ ایماندار لوگ جو گواہی دیتے ہیں سچی دیتے ہیں ۔ حدیث شریف میں ہے نبی نے فرمایا کہ منافق لوگ ہر بات میں جھوٹ سے باز نہیں آتے، اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں ایماندار لوگوں کی نماز کی دونشانیاں ذکر فرمائی ہیں۔ (1) ایک تو یہ کہ وہ لوگ سلسلہ وار ہمیشہ نماز پڑھتے ہیں یہ نہیں کہ گنڈے دار نماز پڑھتے ہوں کہ کبھی پڑھی اور کبھی چھوڑ دی۔ (2) دوسری…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 26–36

[7] یعنی روز جزا کا یقین رکھتے ہیں اور یہ بنیادی عقیدہ ان کے تمام نیک اعمال کا محرک ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 12–35

نمازی کی سیرت 2: قرآن حکیم یہ خوبی شان امتیاز رکھتی ہے ۔ کہ اس میں حقائق نفسیات کا بھی مذکر ہے ۔ یعنی اس کتاب علم ومعرفت میں یہ بھی بتایا گیا ہے ۔ کہ انسانی فطرت کیا ہے ؟ فرمایا ۔ اس میں ایک ہم گیر عیب یہ ہے ۔ کہ یہ کم ہمت اور بےصبر ہے ۔ اگر اس کو ذرا تکلیف پہنچتی ہے ۔ تو بلبلا اٹھتا ہے ۔ اور نالہ وشیون سے آسمان سر پر اٹھا لیتا ہے ۔ اور جہاں بیٹھتا ہے اسی بات کا تذکرہ کرتا ہے ۔ کہ میں بہت مصیبت زدہ ہوں ۔ مجھ کو فلک ستم شیوہ نے بہت دکھ پہنچایا ہے ۔ اور اگر برے دن پھرجائیں اور آسودہ حال ہوجائے ۔ تو پھر انتہا درجے کا بخیل اور ممسک ہوجاتا ہے ۔ پائی پائی کو گنتا ہے ۔ اور پیسے پیسے کا حساب رکھتا…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 23–36

ف 9۔ یعنی نماز میں ظاہرا یا باطنا دوسری طرف توجہ نہیں کرتے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

وہ لوگ اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں 29 ؎ اور وہ اس طرح کہ وہ نبی اعظم و آخر ﷺ کے فرمان کو اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ انسان کے سارے ہی اعضاء زنا کرتے ہیں۔ آنکھ ، کان ، ہاتھ ، پائوں اور یہاں تک کہ اس کی جلد تک اس گناہ میں ملوث ہوجاتی ہے اور آخری تصدیق شرم گاہ کا کام ہے اس لئے وہ مبادیات زنا سے ہر وقت لرزاں و ترساں رہتے ہوئے اپنے ان سارے اعضاء کی حفاظت کرتے ہیں اور آخری حد تک وہ قطعاً نہیں پہنچتے اور اس طرح وہ اپنے دامن صفت پر داغ نہیں آنے دیتے اور اس طرح وہ اپنے گوہر عصمت کی پوری طرح حفاظت کرتے ہیں۔ وہ اللہ کا ڈر اپنے دماغ میں اس قدر بٹھا چکے ہیں کہ ان کا ذہن اس خوف سے کسی حال میں بھی آزاد نہیں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 24–30

Rates of Zakah are Specified by Allah وَالَّذِينَ فِي أَمْوَالِهِمْ حَقٌّ مَّعْلُومٌ (and those in whose riches there is a specified right...70:24). This verse shows that the quantifications of Zakah have been fixed by Allah. The details are recorded in authentic ahadith. These quantifications, whether relating to the nisab (the minimum limit on which Zakah is payable) or to the rate of payment, being fixed by Allah Ta` ala cannot be changed by anyone at any time.

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 29–30

19 "Who guard their private parts": who abstain from adultery as well as from nudity and exposing their private parts before others. (For explanation, see E.N 6 of Al-Mu'minun, E.N.'s 30, 32 of An-Nur E.N. 62 of Al-Ahzab) .

Read the full tafseer →