Explained with ayahs 19–35
انسان بےصبرا، بخیل اور کنجوس بھی ہے
یہاں انسانی جبلت کی کمزوری بیان ہو رہی ہے کہ یہ بڑا ہی بےصبرا ہے، مصیبت کے وقت تو مارے گھبراہٹ اور پریشانی کے باؤلا سا ہوجاتا ہے، گویا دل اڑ گیا اور گویا اب کوئی آس باقی نہیں رہی، اور راحت کے وقت بخیل کنجوس بن جاتا ہے اللہ تعالیٰ کا حق بھی ڈکار جاتا ہے، رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں بدترین چیز انسان میں بیحد بخیلی اور اعلیٰ درجہ کی نامردی ہے (ابو داؤد) پھر فرمایا کہ ہاں اس مذموم خصلت سے وہ لوگ دور ہیں جن پر خاص فضل الٰہی ہے اور جنہیں توفیق خیر ازل سے مل چکی ہے، جن کی صفتیں یہ ہیں کہ وہ پورے نمازی ہیں وقتوں کی نگہبانی کرنے واجبات نماز کو اچھی طرح بجا لانے سکون…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
سورة الْمَعَارِج 18
بالفاظ دیگر ان کا حال کفار کی طرح نہیں ہے جو دنیا میں ہر قسم کے گناہ اور جرائم اور ظلم و ستم کر کے بھی خدا سے نہیں ڈرتے، بلکہ وہ اپنی حد تک اخلاق اور اعمال میں نیک رویہ اختیار کرنے کے باوجود خدا سے ڈرتے رہتے ہیں اور یہ اندیشہ ان کو لاحق رہتا ہے کہ کہیں خدا کی عدالت میں ہماری کو تاہیاں ہماری نیکیوں سے بڑھ کر نہ نکلیں اور ہم سزا کے مستحق نہ قرار پاجائیں۔ (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد سوم، المومنون، حاشیہ 54۔ جلد پنجم، الذاریات، حاشیہ 19)۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–30
مقادیر زکواة منجانب اللہ مقرر ہیں ان میں کمی بیشی کا کسی کو اختیار نہیں
(آیت) وَالَّذِيْنَ فِيْٓ اَمْوَالِهِمْ حَقٌّ مَّعْلُوْمٌ، اس آیت سے معلوم ہوا کہ مقادیر زکوة اللہ تعالیٰ کی طرف سے متعین اور معلوم ہیں جن کی تفصیل رسول اللہ ﷺ سے احادیث صحیحہ میں منقول ہے۔ اس لئے مقادیر زکوة خواہ نصاب زکوة سے متعلق ہوں یا مقدار واجب سے دونوں اللہ تعالیٰ طرف سے مقرر کردہ طے شدہ ہیں یہ زمانے اور حالات کے بدلنے سے نہیں بدل سکتیں۔
Read the full tafseer →یہ اوپر والے ٹکڑے پر نہایت بلیغ استدراک ہے کہ جو لوگ اپنے رب کے عذاب سے اس طرح لرزاں و ترساں ہیں وہ بڑے ہی دانش مند ہیں۔ ان کے رب کا عذاب چیز ہی ایسی ہے کہ ایک لمحہ کے لیے بھی اس سے بے خوف نہ رہا جائے۔ نہیں معلوم وہ کس وقت آ دھمکے اور جب بھی آ دھمکے کوئی نہیں ہے جو اس کو ٹال سکے یا تھوڑی دیر کے لیے اس کے رخ ہی کو موڑ سکے۔۔۔ اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے محفوظ رہنے کی سب سے موثر تدبیر کوئی ہے تو وہ غریبوں مسکینوں کو کھلانا پہنانا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
28۔ 1 یہ سابقہ مضمون ہی کی تاکید ہے کہ اللہ کے عذاب سے کسی کو بھی بےخوف نہیں ہونا چاہیے بلکہ ہر وقت اس سے ڈرتے رہنا اور اس سے بچاؤ کی ممکنہ تدابیر اختیار کرتے رہنا چاہیے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–30
7: جو غریب اپنی حاجت ظاہر کردیتے ہیں، انہیں سوالی سے اور جو حاجت مند ہونے کے باوجود اپنی حاجت کسی سے نہیں کہتے، انہیں بےسوالی (محروم۔ نہ مانگنے والے) سے تعبیر کیا گیا ہے۔
Read the full tafseer →ان عذاب ........................ مامون (07 : 82) ” کیونکہ ان کے رب کا عذاب ایسی چیز نہیں ہے جس سے کوئی بےخوف ہو “۔ اس میں اشارہ ہے اس طرف کہ اللہ کے عذاب سے ہر وقت ڈرتے رہنا چاہئے۔ اور اس سے کسی لحظہ بھی غافل نہیں ہونا چاہئے۔ بعض اوقات غفلت کے اوقات میں ایسے امور سرزد ہوجاتے ہیں جو سبب عذاب ہوتے ہیں۔ لہٰذا غفلت بہت ہی خطرناک ہے۔ اور اللہ کی غرض بھی یہ ہے کہ لوگ ہر وقت حساس رہیں اور بیدار رہیں۔ اور اس کے باوجود اگر ان سے کوئی کمزوری سرزد ہوگئی ہو تو اللہ کی رحمت وسیع ہے اور اس کی مغفرت حاضر ہے۔ اور توبہ کا دروازہ کھلا ہے وہ بند نہیں ہے۔ یہ ہے اسلام کا سیدھا موقف ، جو غفلت اور قلق کے درمیان…
Read the full tafseer →7 یعنی اللہ کا عذاب ایسی چیز نہیں کہ بندہ اس کی طرف سے مامون اور بےفکر ہو کر بیٹھ رہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–31
آیت 26{ وَالَّذِیْنَ یُصَدِّقُوْنَ بِیَوْمِ الدِّیْنِ۔ } ”اور جو فیصلے کے دن کی تصدیق کرتے ہیں۔“
زیر مطالعہ آیات کی سورة المومنون کی ابتدائی آیات کے ساتھ مناسبت کے حوالے سے اس آیت کا تعلق سورة المومنون کی اس آیت سے ہے : { وَالَّذِیْنَ ہُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُوْنَ۔ } ”اور جو لغو باتوں سے اعراض کرنے والے ہیں“۔ گویا زیر مطالعہ آیت سورة المومنون کی مذکورہ آیت کی وضاحت کر رہی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے نیک بندے لغویات سے اعراض کیوں کرتے ہیں ؟ اس لیے کہ وہ قیامت اور جزا و سزا کے دن پر پختہ یقین رکھتے ہیں۔ ظاہر ہے جو شخص آخرت پر یقین رکھتا ہے اس کے لیے تو اس زندگی کا ایک ایک لمحہ امر کبھی نہ مرنے والا ‘…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–30
17 روز جزا و سزا کی تصدیق کرنے سے مراد یہ ہے کہ وہ اللہ کے حضور اپنے اعمال کی جوابدہی پر پورا پورا یقین رکھتے ہیں۔ پھر اسی تصدیق کے نتیجہ میں وہ ہر اس کام سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں جس پر اللہ کے عذاب کی وعید سنائی گئی ہے۔ اور انہیں ہر وقت یہ خطرہ لاحق رہتا ہے کہ کہیں ہماری کو تاہیاں ہماری نیکیوں سے بڑھ نہ جائیں۔ جو ہمیں اللہ کے عذاب کا مستحق بنادیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–31
11۔ ان سب آیتوں کے لئے ملاحظہ ہوں سورة ال مومن ون (پ 18) کے پہلے رکوع کے ابتدائی حواشی ، (آیت) ” لفروجھم حفظون “۔ اس سے ادھر اشارہ ہوگیا کہ علاوہ حرامکارہ کے اس کے مبادی ومقدمات بھی ناجائز ہیں۔ (آیت) ” فمن ..... العدون “۔ اس آیت نے غیر طبعی اور غیر شرعی شہوت رانی کی ساری صورتوں کو حرام قرار دے دیا۔ وھذہ الایۃ تدل علی حرمۃ المتعۃ ووطیء الذکر ان والبھائم والاستمناء بالکف (مدارک)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–35
ان الانسان خلق ھلوعا، ھلوع کے لفظی معنی ہیں حریص، بےصبرا، کم ہمت، حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا ھلوع وہ شخص ہے جو کہ مال حرام کی حرص میں مبتلا ہو، یہاں یہ شبہ نہ ہونا چاہیے کہ جب انسان کو پیدا ہی اس حال میں کیا گیا ہے تو پھر اس کا کیا قصور ؟ وہ مجرم کیوں قرار دیا گیا ؟ وجہ یہ ہے کہ مراد اس سے انسانی فطرت اور جبلت میں رکھی ہوئی استعداد اور مادہ ہے تو حق تعالیٰ نے انسان میں ہر خیر و شر کا مادہ اور استعداد بھی رکھی ہے اور شر و فساد کی بھی اور اس کو عقل و ہوش بھی عطا فرمائے ہیں اور اپنی کتابوں اور رسولوں کے ذریعہ ہر ایک کا انجام بھی بتادیا، اب انسان کو اختیار ہے کہ دونوں قسم کی صلاحیتوں میں سے جس کو…
Read the full tafseer →ان عذاب ربھم جیر مامون اللہ کا عذاب بےخطر چیز نہیں کیونکہ اسکو روکنے اور رفع کرنے کی کسی میں قدرت نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–28
(22۔ 28) مگر وہ پانچ وقت کا نمازی جو اپنی فرض نمازوں کو رات دن میں ہمیشہ پڑھتے ہیں۔
وہ ایسے نہیں ہیں اور جو کہ اپنے مالوں میں زکوٰۃ کے علاوہ سوال کرنے والے اور سوال نہ کرنے والے سب کا حق سمجھتے ہیں یا یہ کہ محروم سے مراد وہ ہے جو اپنے اجر و غنیمت سے محروم رہے یا یہ کہ وہ محنتی آدمی ہے جس کا پیشہ اس کی معیشت کے لیے کافی نہ ہو اور جو کہ قیامت کے دن کا اور جو کچھ اس میں ہوگا سب کا اعقتاد رکھتے ہیں اور جو کہ اپنے پروردگار کے عذاب سے ڈرنے والے ہیں واقعی ان کے رب کا عذاب مطمئن ہونے کی چیز ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–28
والذین یصدقون بیوم الدین…: یعنی ان کے اعمال کا اصل محرک قیامت پر ایمان اور رب تعالیٰ کے عذاب کا خوف ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–33
والذین فی اموالھم حق معلوم۔ اس سے مراد فرض زکوۃ ہے، یہ قتادہ اور ابن سیرین کا قول ہے۔ مجاہد نے کہا : زکوۃ کے علاوہ مراد ہے۔ علی بن ابی طلحہ نے روایت کیا ہے کہ حضرت ابن عباس نے ہا، صلہ رحمی کرنا اور بوجھ اٹھانا ہے۔ پہلا قول زیادہ صحیح ہے کیونکہ حق کی صفت معلمو سے لگائی ہے۔ زکوۃ کے علاوہ معلوم نہیں، وہ تو ضرورت کے مطباق ہوتا ہے جبکہ اس میں کمی و بیشی ہوتی رہتی ہے۔ للسآئل و المحروم۔ سورة زاریات میں یہ بات پہلے گزر چیک ہے۔ والذین یصدقون بیوم الذین۔ یعنی یوم جزاء مراد قیامت کا دن ہے۔ اس بارے میں بحث سورة فاتحہ میں گزر چکی ہے۔ وہ الذین ھم من عذاب ربھم مشفقون۔ جو اپنے رب کے عذاب سے ڈرنے والے ہیں۔ ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–35
19۔ عبد بن حمید نے ابراہیم (رح) سے روایت کیا کہ آیت والذین فی اموالہم حق معلوم اور وہ جن کے مالوں میں حصہ معین ہے یعنی وہ لوگ جو اپنے مالوں سے اس وقت دیتے ہیں جب عطیات نکالے جاتے ہیں۔
Read the full tafseer →[اِنَّ عَذَابَ رَبِّهِمْ : بیشک ان کے رب کا عذاب ][ غَيْرُ مَامُوْنٍ : بھروسہ کیا ہوا (کے قابل) نہیں ہے ]
(آیت۔ 28) اَمِنَ ، یَامَنُ کے معروف معنی ہیں ” امن میں ہونا “۔ اس معنی میں یہ فعل لازم ہے جس کا مفعول مَامُوْنٌ نہیں آتا۔ لیکن نوٹ کریں کہ آیت۔ 2:3 کی لغت میں ہم بتا چکے ہیں کہ اس کے دوسرے معنی ” بھروسہ کرنا۔ اعتبار کرنا “ بھی ہیں۔ اس معنی میں یہ متعدی ہے اور مَامُوْنٌ کا لفظ اسی معنٰی میں آتا ہے۔
Read the full tafseer →﴿اِنَّ عَذَابَ رَبِّهِمْ غَيْرُ مَاْمُوْنٍ 0028﴾ (بلاشبہ ان کے رب کا عذاب ایسا نہیں جس سے بےخوف ہوں) مطلب یہ ہے کہ صالحین کا یہ طریقہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت میں بھی لگتے ہیں۔ جانی عبادت بھی کرتے ہیں اور مالی بھی، ان سب کے باوجود ڈرتے بھی رہتے ہیں کہ قبول ہوا یا نہیں ہوا جو اعمال کیے ہیں ان کے علاوہ کتنے چھوٹ گئے ہیں ان کی طرف بھی دھیان رہتا ہے اور اپنی ہر طرح کی لغزش، کمی، کوتاہی اور معصیت کی طرف خیال کرتے ہوئے مواخذہ اور محاسبہ سے ڈرتے رہتے ہیں، اپنے اعمال پر بھروسہ کر کے بےفکر اور مطمئن ہو کر بیٹھ نہیں جاتے۔
سورة ٴ المومنون میں فرمایا ﴿ وَ الَّذِيْنَ يُؤْتُوْنَ مَاۤ اٰتَوْا وَّ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–35
مجازات عناد وسرکشی کفار وشدت کرب و اضطراب در روز قیامت :
قال اللہ تعالیٰ (آیت) ” سال سآئل بعذاب واقع ...... الی ...... فی جنت مکرمون “۔
(ربط) گذشتہ سورت کا مضمون اہل جہنم کے احوال پر مشتمل تھا اور یہ کہ مجرموں کو کس ذلت کے ساتھ خدا کے عذاب اور قہر کی گرفت میں لیاجائے گا اب اس سورت میں ایسے مجرمین کی معاندانہ روش بیان کرکے اس پر مذمت اور سزا کا ذکر فرمایا جارہا ہے اور یہ کہ روز قیامت ایسے سرکشوں کی بےبسی کا کیا عالم ہوگا جو دنیا میں غرور ونخوت کا پیکر بنے ہوتے تھے ارشاد فرمایا۔
مانگا ہے ایک مانگنے والے نے ایسا عذاب جو واقع ہونے والا ہے کافروں کے واسطے جس کو کوئی ٹلانے والا نہیں وہ عذاب ہر حال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–28
8:۔ ” الذین ھم علی صلاتہم دائمون “ وہ نمازوں کو قائم کرتے ہیں یعنی نمازوں کو تمام آداب وفرائض کے ساتھ ادا کرتے ہیں۔ دائمون ای مواظبون (روح) ۔ دائمون ای مقیمون (صراح) ۔ ان کے اموال و مواشی میں فقراء و مساکین کا معین حق ہے۔ مراد زکوۃ فریضہ ہے وہ اپنے مال کی زکوۃ ادا کرتے ہیں یعنی احسان کرتے ہیں۔ ” السائل “ وہ فقیر جو سوال کر کے لے لے اور ” المحروم “ سے مراد وہ فقیر ہے جو کسی سے سوال نہیں کرتا اور محروم رہتا ہے۔ اس لیے ایسے مستحقین کی جستجو، رکھنی چاہئے اور خود بخود ان کو دینا چاہئے۔ ” والذین یصدقون “ وہ قیامت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں اور خدا کے عذاب سے ترساں ولرزاں رہتے ہیں۔ ” ان عذاب ربھم غیر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–28
گذشہ سے پیوستہ :
گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے پانے منہ سے عذاب مانگنے والوں اور قیامت کا مطالبہ کرنے والوں کا رد فرمایا۔ اور کہا کہ یہ لوگ قیامت کو بعید سمجھتے ہیں۔ حالانکہ وہ قریب ہے اور اپنے وقت پر آئے گی۔ اس دن مجرم آرزو کریگا کہ کاش اپنے بیٹوں ، بیوی ، بھائی ، قبیلے اور تمام روئے زمین والوں کو فدیہ دے کر اپنی جان چھڑالے ، مگر ایسا نہیں ہوگا۔ فرمایا ایسا ہرگز نہیں ہوگا۔ اول تو ان تمام چیزوں کا فدیہ بننا ہی محال ہے۔ اور اگر بالفرض ایسا ہو بھی جائے تو یہ باطل آرزو پوری نہیں ہوگی۔ اس مقام پر سب سے پہلے بیٹوں کا ذکر کیا کہ آدمی کا سب سے زیادہ حق اور تسلط بیٹوں پر ہوتا ہے۔ اگر کہیں یر غمال…
Read the full tafseer →اِنَّ عَذَابَ رَبِّہِمْ غَيْرُ مَاْمُوْنٍ 28
غير
أن تکون للنّفي المجرّد من غير إثبات معنی به، نحو : مررت برجل غير قائم . أي : لا قائم، قال : وَمَنْ أَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ هَواهُ بِغَيْرِ هُدىً مِنَ اللَّهِ [ القصص/ 50] ،
( غ ی ر ) غیر
اور محض نفی کے لئے یعنی اس سے کسی دوسرے معنی کا اثبات مقصود نہیں ہوتا جیسے مررت برجل غیر قائم یعنی میں ایسے آدمی کے پاس سے گزرا جو کھڑا نہیں تھا ۔ قرآن میں ہے : وَمَنْ أَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ هَواهُ بِغَيْرِ هُدىً مِنَ اللَّهِ [ القصص/ 50] اور اس سے زیادہ کون گمراہ ہوگا جو خدا کی ہدایت کو چھوڑ کر اپنی خواہش کے پیچھے چلے
أمن
أصل الأَمْن : طمأنينة النفس وزوال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–35
ترکیب : ھلوعا حال مقدرۃ من الانسان الھلع اشد الحرص یقال ھلع الرجل یھلع ھلعا وھلا عا فھو ھالع دھلوع وکذاجزوعاد منوعا حالان و اذالاولیٰ ظرف لجز وعا والاخریٰ لمنوعا الا المصلین استثناء من الجنس والمستثنیٰ منہ الانسان وھو جنس فی جنات ظرف لمکرومون۔
تفسیر : اور یہ مال جمع کرنا اور کنجوسی کرنا اس لیے ہے کہ ان الانسان خلق ھلوعا۔ انسان (بعض کہتے ہیں اس سے مراد کفار ہیں) فطرتی طور پر لالچی اور بےصبر پیدا ہوا ہے۔ اس کمبخت کی دور اندیشی اور اس کی زیرکی (جو خداوند عالم کی طرف سے بہ نسبت اور حیوانات کے زیادہ ملی تھی) اس کو بخل اور لالچ پر آمادہ کرتی ہے اور بڑے بڑے خیالات اور امیدیں بندھاتی ہے کہ سینکڑوں…
Read the full tafseer →اِنَّ عَذَابَ رَبِّھِمْ غَیْرُ مَاْمُوْنٍ ۔ (المعارج : 28)
(بیشک ان کے رب کا عذاب بےخوف ہونے کی چیز نہیں ہے۔ )
نیک بندوں کے طرزفکر کی تعریف
اس آیت کریمہ میں ان نیک بندوں کے طرز فکر کی تعریف فرمائی گئی ہے، یعنی ان کا اپنے رب کے عذاب سے ڈرنا اور اس سے بچنے کے لیے غریبوں، یتیموں، مسکینوں اور قیدیوں کو کھلانا پلانا اور ان کی مدد کرنا، یہ ان کی اس قابل تعریف فکر کا نتیجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا عذاب ایسی چیز نہیں جس کے بارے میں بےخوف رہا جاسکتا ہو۔ وہ کسی وقت اور کسی حال میں بھی نازل ہوسکتا ہے۔ اور پھر وہ ایسا ہمہ گیر اور شدید عذاب ہے کہ جس سے بچائو کی کوئی صورت ممکن نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–28
فہم القرآن
ربط کلام : چمڑیاں ادھیڑدینے والی آگ سے بچنے والے لوگوں کے اوصاف۔
انسان کی طبعی کمزوریوں میں ایک کمزوری یہ ہے کہ وہ جلد باز ہے۔ اسی جلد بازی کی وجہ سے انسان دنیا کے فائدے کی خاطر حق بات سے منہ موڑ تا، ناجائز طریقے سے مال بناتا اور اسے جمع رکھتا ہے۔ اگر انسان اپنی جلدبازی پر قابو پالے تو وہ اللہ اور اس کے رسول کے فرمان سے منہ موڑ کر نہ کسی کا مال بٹورے اور ہی ناجائز طریقے سے مال جمع کرے۔ یہ جلد بازی کا نتیجہ ہے کہ جب اسے مال کی تنگی اور کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ گھبرا اٹھتا ہے اور جزع فزع کرنے لگتا ہے جب اسے مال حاصل ہوتا ہے توبخیل بن جاتا ہے۔ یہاں گھبراہٹ اور بخل کا حوالہ دے کر دو…
Read the full tafseer →28 : اِنَّ عَذَابَ رَبِّھِمْ غَیْرُ مَاْمُوْنٍ (واقعی ان کے رب کا عذاب بےخوف ہونے کی چیز نہیں)
قراءت : ابو عمرو کے علاوہ باقی قراء نے مأمون ہمزہ سے پڑھا ہے۔ مطلب یہ ہے کسی کو مناسب نہیں اگرچہ وہ طاعت و محنت میں کتنی ترقی کر جائے کہ وہ عذاب سے بےخوف ہو کر بیٹھ جائے۔ اور مناسب یہی ہے کہ خوف ورجاء کے درمیان رہے۔
نحو : یہ جملہ معترضہ درمیان میں لائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–33
24 ۔…” والذین فی اموالھم حق معلوم 25 ۔ للسائل والمحروم 26 ۔ والذین یصدقون بیوم الدین۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–35
19۔ 35۔ شروع سورة سے یہاں تک اللہ تعالیٰ نے کافروں اور ایمان دار لوگوں کی نشانیاں مقابلہ کے طور پر بیان فرمائی ہیں مثلاً کافروں کی نشانی یہ ذکر فرمائی کہ وہ لوگ عذاب آخرت اور قیامت کے منکر ہیں اس لئے از خود عذاب الٰہی کی خواہشیں کرتے ہیں اور ایمان دار لوگوں کی یہ نشانی ہے کہ قیامت اور عذاب آخرت کا ان کے دل میں پورا یقین ہے اس واسطے عذاب الٰہی کا ہر وقت ان کے جی میں ایک خوف رہتا ہے کافروں کی یہ نشانی ہے کہ بدکاری کو کچھ عیب نہیں جانتے ایمان دار اس کے برخلاف ہیں اسی طرح کافروں کی یہ نشانی ہے کہ مال جمع کرکے رکھتے ہیں اور محتاجوں کو کوڑی نہیں دیتے اور ایمان داروں کی یہ نشانی ہے کہ ان کے مال میں…
Read the full tafseer →(ان عذاب ربھم غیر مامون) ۔ بیشک ان کے رب کا عذاب بےخوف ہونے والی چیز نہیں، یہ وہ عذاب ہے جس سے ڈرا جاتا ہے اور بچا جاتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–44
قول باری ہے (للسائل والمحروم سائل اور محروم کے لئے) حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ سوال کرنے والے کو سائل کہتے ہیں اور محروم وہ شخص ہے جسے کسی تجارت میں کامیابی نہ ہوتی ہو۔ ابوقلابہ کا قول ہے کہ محروم وہ شخص جس کا مال چلا جائے۔ حسن بن محمد کا قول ہے کہ حضور ﷺ نے ایک سریہ روانہ کیا، اسے مال غنیمت حاصل ہوا، اس کے بعد کچھ دوسرے لوگ بھی آگئے اور یہ آیت نازل ہوئی (فی اموالھم حق معلوم للسائل والمحروم جن کے مالوں میں سائل اور محروم کا ایک مقرر حق ہے)
حضرت انس ؓ نے حضور ﷺ سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا (ان المحروم من حرم وصیتہ بیشک محروم وہ شخص ہے جسے اس چیز سے محروم رکھا جائے جس کی اس کے لئے وصیت کی…
Read the full tafseer →23 رب کے عذاب سے ڈرنا تقاضائے عقل و نقل : سو اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ اپنے رب کے عذاب سے ڈرتے رہنا عقل دانش کا تقاضا ہے۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ بلاشبہ ان کے رب کا عذاب نڈر اور بےخوف ہونے کی چیز ہے بھی نہیں کہ اس کا عذاب کہیں سے بھی کسی بھی شکل میں اور کسی بھی وقت آسکتا ہے، پس بندے کام یہ ہے کہ وہ ہر ہمیشہ اور ہر حال میں اس کی معصیت و نافرمانی سے بچتا اور اس کی پکڑ سے ڈرتا ہے اور اس کے عذاب سے اس کی پناہ مانگتا رہا سبحانہ و تعالیٰ ، پس رب کے عذاب سے کسی بھی لمحے بےخوف نہیں ہونا چاہیے، کیا پتہ وہ کس وقت اور کس شکل میں آدبوچے، والعیاذ باللہ، یہاں سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–44
نیک لوگوں کی صفات
تشریح : ایک اچھے پکے اور صالح جنت کے حقدار کی خوبیاں بیان کی گئی ہیں جو کہ کافی دفعہ وضاحت سے پچھلی سورتوں میں گزر چکی ہیں یہاں پھر مختصراً بیان کیا جارہا ہے۔ سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ انسان فطرتاً کمزور طبیعت یعنی غلطیوں کا پتلا سمجھا جاتا ہے۔ بلکہ ہے ہی۔ مگر اس کی اصلاح کے لئے ہی تو قرآن اور اللہ کے رسول ﷺ کا بندوبست کیا گیا ہے۔ تو جو شخص اپنے نفس پر پورا اختیار رکھتا ہے تو وہی بہادر انسان ہے وہ خود کو شیطان کے چنگل سے نکال کر بندگانِ الٰہی میں شامل ہوسکتا ہے۔ کیونکہ عمل بہت ضروری ہے۔ اگر زبانی ایمان لے آنا کافی ہوتا تو پھر منافق دوزخ کے نچلے درجے میں کیوں ڈالے جاتے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–34
سورة المعارج۔
آیات 1 تا 35۔
اسرار ومعارف۔
مانگنے والے نے عذاب مانگا کہ کفار نے کہا تھا کہ اگر یہ قرآن حق ہے تو ہم پر عذاب نازل کر لیکن عموما کفار کے عمل سے ظاہر ہے کہ ان کی طرح یہ بھی سمجھتے ہیں کہ ایسا کچھ نہ ہوگا اور ہم اپنی پسند دنیا پہ نافذ کرسکتے ہیں مگر یہ حق ہے اور کفار پر عذاب آئے گا اور اسے کوئی روک نہ سکے گا یہ عذاب اس اللہ کی طرف سے جو بلندیوں اور عظمتوں کا مالک ہے۔
مومن کی روح عظمتوں سے واقف ہے۔
جن بلندیوں سے فرشتے آگاہ ہیں اور اس دن بھی چڑھیں گے ۔ جو پچاس ہزار سال کا ہوگا اور مومن کی ارواح کے بھی صاحب روح المعانی کے مطابق زینہ بہ زیرنہ درجات ہیں جو عظمت الٰہی پہ دلالت کرتے ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
ف 2 لفظی مطلب یہ ہے کہ وہ ایسا نہیں ہے کہ اس سے بےخوف ہوا جائے۔
Read the full tafseer →(70:28) ان عذاب ربھم غیر مامون۔ یہ جملہ معترضہ تذییلی ہے۔ جملہ سابقہ میں عذاب ربھم کی وضاحت میں اس کی شدت اور ہمہ گیری کو ذہن نشین کرانے کے لئے آیا ہے۔ ان حرف مشبہ بالفعل (حرف تاکید) عذاب اسم ان (منصوب) مضاف ربھم مضاف مضاف الیہ مل کر مضاف الیہ عذاب کا۔ غیر مامون ان کی خبر۔ مامون امن (باب سمع) مصدر سے اسم مفعول واحد مذکر کا صیغہ
یعنی ایسا عذاب جس کا اندیشہ برابر لگے رہنا چاہیے۔ اس کی طرف سے نڈر ہو کر نہ بیٹھنا چاہیے۔ ناقابل بےخوفی۔ خطرناک۔
ان کے رب کا عذاب بےخطر چیز نہیں کیونکہ اس کو روکنے اور دفع کرنے کی کسی میں قدرت نہیں۔
اور جگہ قرآن مجید میں ہے :۔ ء امنتم من فی السماء (67:16) کیا تم اس سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–35
لغات القرآن۔
ھلوعا۔ بزدل۔ ڈرپوک۔ جزوعا۔ گھبرا جانے والا۔ منوعا۔ ہاتھ روک لینے والا۔
تشریح :
اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے آدمی کو بڑی عظمتوں اور زبردست صلاحیتوں سے نواز ہے وہ جب کائنات میں آگے بڑھتا ہے تو خشکی، تری اور فضاؤں پر حکمرانی کرنے لگتا ہے لیکن اس کی تخلیق اور فطرت میں کچھ کمزوریاں بھی رکھ دی گئی ہیں۔ اگر وہ ان کمزوریوں پر قابو پا لے تو پھر وہ دنیا میں سربلند اور آخرت کی نجات کا مستحق بن جاتا ہے۔ فرمایا کہ آدمی اپنے بےانتہا صلاحیتوں کے باوجود بہت بےصبرا، کم ہمت اور تنگ دل واقع ہوا ہے۔ اس کو ذرا تکلیف پہنچتی ہے تو وہ گھبرا جاتا ہے اور جب اس کو خیر اور خوش حالی نصیب ہوتی ہے تو وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–35
(ف 2) ان آیتوں میں فرمایا کہ ایماندار لوگ وہ ہیں جو امانت اور اپنے عہد پر قائم رہتے ہیں اور حدیث میں نبی ﷺ نے فرمایا ہے کہ منافق لوگوں کی نشانی یہ ہے کہ امانت میں خیانت کرتے ہیں اور جب وعدہ یا کوئی عہدوپیمان کرتے ہیں تو اس کو پورا نہیں کرتے ، ان آیتوں میں فرمایا کہ ایماندار لوگ جو گواہی دیتے ہیں سچی دیتے ہیں ۔ حدیث شریف میں ہے نبی نے فرمایا کہ منافق لوگ ہر بات میں جھوٹ سے باز نہیں آتے، اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں ایماندار لوگوں کی نماز کی دونشانیاں ذکر فرمائی ہیں۔
(1) ایک تو یہ کہ وہ لوگ سلسلہ وار ہمیشہ نماز پڑھتے ہیں یہ نہیں کہ گنڈے دار نماز پڑھتے ہوں کہ کبھی پڑھی اور کبھی چھوڑ دی۔
(2) دوسری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–36
[7] یعنی روز جزا کا یقین رکھتے ہیں اور یہ بنیادی عقیدہ ان کے تمام نیک اعمال کا محرک ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–35
نمازی کی سیرت
2: قرآن حکیم یہ خوبی شان امتیاز رکھتی ہے ۔ کہ اس میں حقائق نفسیات کا بھی مذکر ہے ۔ یعنی اس کتاب علم ومعرفت میں یہ بھی بتایا گیا ہے ۔ کہ انسانی فطرت کیا ہے ؟ فرمایا ۔ اس میں ایک ہم گیر عیب یہ ہے ۔ کہ یہ کم ہمت اور بےصبر ہے ۔ اگر اس کو ذرا تکلیف پہنچتی ہے ۔ تو بلبلا اٹھتا ہے ۔ اور نالہ وشیون سے آسمان سر پر اٹھا لیتا ہے ۔ اور جہاں بیٹھتا ہے اسی بات کا تذکرہ کرتا ہے ۔ کہ میں بہت مصیبت زدہ ہوں ۔ مجھ کو فلک ستم شیوہ نے بہت دکھ پہنچایا ہے ۔ اور اگر برے دن پھرجائیں اور آسودہ حال ہوجائے ۔ تو پھر انتہا درجے کا بخیل اور ممسک ہوجاتا ہے ۔ پائی پائی کو گنتا ہے ۔ اور پیسے پیسے کا حساب رکھتا…
Read the full tafseer →(28) بلا شبہ ان کے پروردگار کا عذاب بےخوف ہونے کی چیز نہیں ہے یعنی اس سے نڈر ہونا بھی نہیں چاہیے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–36
ف 9۔ یعنی نماز میں ظاہرا یا باطنا دوسری طرف توجہ نہیں کرتے۔
Read the full tafseer →بلاشبہ ان کے رب کا عذاب نڈر ہونے کی چیز بھی نہیں ہے
28 ؎ (مامون) اسم مفعول واحد مذکر (غیر مامون) ایسا عذاب جس کا اندیشہ برابر لگا ہی رہنا چاہئے۔ اس کی طرف سے نڈر ہو کر نہ بیٹھنا چاہئے۔ ناقابل بےخوفی اور خطرناک مطلب یہ ہے کہ ان کو اچھی طرح معلوم ہے کہ ان کے رب کے عذاب کو کوئی شخص بھی دور نہیں کرسکتا اور یہ بھی کہ وہ خواہ کتنے نیکوکار کیوں نہ ہوں وہ اپنے آپ کو اپنے رب کے عذاب سے ذہنی طور پر امن نہیں پاتے گویا ان کو ہر وقت کھٹکا لگا رہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی وقت بھی اپیا گرفت میں ان کو لے سکتا ہے اس لئے وہ ہر وقت اس ڈر اور اس خوف میں مبتلا رہتے ہیں اور اپنی دنیوی زندگی میں وہ کبھی بھی بےخوف و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–30
Rates of Zakah are Specified by Allah
وَالَّذِينَ فِي أَمْوَالِهِمْ حَقٌّ مَّعْلُومٌ (and those in whose riches there is a specified right...70:24). This verse shows that the quantifications of Zakah have been fixed by Allah. The details are recorded in authentic ahadith. These quantifications, whether relating to the nisab (the minimum limit on which Zakah is payable) or to the rate of payment, being fixed by Allah Ta` ala cannot be changed by anyone at any time.
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
18 In other words, they are not like the disbelievers, who do not fear God even after they have committed every heinous sin and crime and perpetrated every cruelty in the world, but they, in spite of having adopted a righteous attitude in morals and deeds as best as they could, fear God and continue to remain in constant awe lest their shortcomings should exceed their good works before Him and they should be declared as worthy of punishment. (For further explanation, see E N. 54 of Al-Mu'minun, E.N. 19 of Adh-Dhariyat) .
Read the full tafseer →