Al-Ma'aarij 70:26

Al-Ma'aarij · from ayah 26

70:26

وَالَّذِیْنَ یُصَدِّقُوْنَ بِیَوْمِ الدِّیْنِ ۟وَالَّذِيۡنَ يُصَدِّقُوۡنَ بِيَوۡمِ الدِّيۡنِ

اور جو روز جزا کو سچ سمجھتے ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

And those who believe in the Day of Recompense

— Saheeh International

Juz 29 · Ruku 1 of surah · Ruku 7 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Ma'aarij

All translations of 70:26

جو روز جزا کو برحق مانتے ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور جو روز جزا کو سچ سمجھتے ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور جو انصاف کے دن پر یقین رکھتے ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور جو روز جزاء کو برحق مانتے ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور ہو جو انصاف کا دن سچ جانتے ہیں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور وہ لوگ جو روزِ جزا کی تصدیق کرتے ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور وہ جو جزا کے دن کو سچا مانتے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور جو قیامت کے دن کی تصدیق کرتے ہیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور جو تصدیق کرتے ہیں جزا کے دن کی

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

جو سچے دل سے مانتے ہیں بدلے (اور جزا) کے دن کو)

— مولانا اسحاق مدنی

اور جو جزاء کے دن کی تصدیق کرتے رہتے ہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور جو فیصلے کے دن کی تصدیق کرتے ہیں۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور جو روز جزا کو سچ سمجھتے ہیں

— محترمہ رفعت اعجاز

those who firmly believe in the Day of Recompense,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

and those who believe in the Day of Judgment as true,

— Muhammad Taqi Usmani

and those who believe in the Day of Judgment as true,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And those who believe in the Day of Recompense.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And those who believe in the Day of Judgment,

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And those who believe in the Day of Recompense

— Saheeh International

who acknowledge the Day of Judgment,

— Muhammad Sarwar

And those who accept the truth of the judgment day

— Muhammad Habib Shakir

And those who testify to the Day of Requital.

— Abdul Majid Daryabadi

And those who hold to the truth of the Day of Judgment;

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 70:26

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 19–35

انسان بےصبرا، بخیل اور کنجوس بھی ہے یہاں انسانی جبلت کی کمزوری بیان ہو رہی ہے کہ یہ بڑا ہی بےصبرا ہے، مصیبت کے وقت تو مارے گھبراہٹ اور پریشانی کے باؤلا سا ہوجاتا ہے، گویا دل اڑ گیا اور گویا اب کوئی آس باقی نہیں رہی، اور راحت کے وقت بخیل کنجوس بن جاتا ہے اللہ تعالیٰ کا حق بھی ڈکار جاتا ہے، رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں بدترین چیز انسان میں بیحد بخیلی اور اعلیٰ درجہ کی نامردی ہے (ابو داؤد) پھر فرمایا کہ ہاں اس مذموم خصلت سے وہ لوگ دور ہیں جن پر خاص فضل الٰہی ہے اور جنہیں توفیق خیر ازل سے مل چکی ہے، جن کی صفتیں یہ ہیں کہ وہ پورے نمازی ہیں وقتوں کی نگہبانی کرنے واجبات نماز کو اچھی طرح بجا لانے سکون…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْمَعَارِج 17 یعنی دنیا میں اپنے آپ کو غیر ذمہ دار اور غیر جواب دہ نہیں سمجھتے، بلکہ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ وہ ایک دن انہیں اپنے خدا کے حضور حاضر ہو کر اپنے اعمال کا حساب دینا ہوگا۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 24–30

مقادیر زکواة منجانب اللہ مقرر ہیں ان میں کمی بیشی کا کسی کو اختیار نہیں (آیت) وَالَّذِيْنَ فِيْٓ اَمْوَالِهِمْ حَقٌّ مَّعْلُوْمٌ، اس آیت سے معلوم ہوا کہ مقادیر زکوة اللہ تعالیٰ کی طرف سے متعین اور معلوم ہیں جن کی تفصیل رسول اللہ ﷺ سے احادیث صحیحہ میں منقول ہے۔ اس لئے مقادیر زکوة خواہ نصاب زکوة سے متعلق ہوں یا مقدار واجب سے دونوں اللہ تعالیٰ طرف سے مقرر کردہ طے شدہ ہیں یہ زمانے اور حالات کے بدلنے سے نہیں بدل سکتیں۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

انفاق کا اصلی محرک: یہ ان کے اس انفاق کے محرک کی طرف اشارہ فرمایا ہے کہ چونکہ یہ لوگ روز جزا پر ایمان رکھتے ہیں اس وجہ سے انھوں نے اپنے مال میں غریبوں اور محتاجوں کا ایک حق معین کر رکھا ہے۔ اوپر ہم اشارہ کر چکے ہیں کہ جو آخرت پر یقین نہیں رکھتے ان کے لیے غریبوں اور محتاجوں کا حق پہچاننا نہایت مشکل ہے۔ چنانچہ فرمایا ہے: ’اَرَءَ یْتَ الَّذِیْ یُکَذِّبُ بِالدِّیْنِ ہ فَذٰلِکَ الَّذِیْ یَدُعُّ الْیَتِیْمَ‘ (الماعون ۱۰۷: ۱-۲) (بھلا دیکھا تم نے اس کو جو روزجزا کا جھٹلاتا ہے، وہی ہے جو یتیم کو دھکے دیتا ہے)۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 25–30

7: جو غریب اپنی حاجت ظاہر کردیتے ہیں، انہیں سوالی سے اور جو حاجت مند ہونے کے باوجود اپنی حاجت کسی سے نہیں کہتے، انہیں بےسوالی (محروم۔ نہ مانگنے والے) سے تعبیر کیا گیا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

والذین ................ الدین (07 : 62) ” جو روز جزاء کو برحق مانتے ہیں “۔ یہ صفت تو اس سورت کے محور سے براہ راست متعلق ہے ، کیونکہ سورت کا محور اور موضوع قیامت ہے۔ لیکن یہاں ان آیات میں ایک مومن کی نفسیاتی حالت سے بحث ہے۔ قیامت کی تصدیق ایمانیات کا اہم حصہ ہے اور کسی نظام زندگی کی تشکیل میں اس کا شعوری اور عملی اثر ہوتا ہے کیونکہ جو شخص قیامت کی تصدیق کرتا ہے اس کی قدریں اور پیمانے اور ہوتے ہیں اور جو قیامت کی تصدیق نہیں کرتا اس کے بارے میں شک میں ہوتا ہے ، اس کی قدریں بالکل جدا ہوتی ہیں ، چاہے ان کا تعلق نظریات سے ہو یا اعمال سے ہو یا زندگی کے اہم حادثات سے ہو۔ قیامت پر یقین رکھنے والا…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 26–31

آیت 26{ وَالَّذِیْنَ یُصَدِّقُوْنَ بِیَوْمِ الدِّیْنِ۔ } ”اور جو فیصلے کے دن کی تصدیق کرتے ہیں۔“ زیر مطالعہ آیات کی سورة المومنون کی ابتدائی آیات کے ساتھ مناسبت کے حوالے سے اس آیت کا تعلق سورة المومنون کی اس آیت سے ہے : { وَالَّذِیْنَ ہُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُوْنَ۔ } ”اور جو لغو باتوں سے اعراض کرنے والے ہیں“۔ گویا زیر مطالعہ آیت سورة المومنون کی مذکورہ آیت کی وضاحت کر رہی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے نیک بندے لغویات سے اعراض کیوں کرتے ہیں ؟ اس لیے کہ وہ قیامت اور جزا و سزا کے دن پر پختہ یقین رکھتے ہیں۔ ظاہر ہے جو شخص آخرت پر یقین رکھتا ہے اس کے لیے تو اس زندگی کا ایک ایک لمحہ امر کبھی نہ مرنے والا ‘…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 24–26

16 سوال کرنا صرف تین طرح کے لوگوں کو جائز ہے :۔ سائل سے مراد پیشہ ور گداگر نہیں۔ ایسی گداگری کا اسلام میں کوئی جواز نہیں سائل سے مراد وہ شخص ہے۔ جو فی الواقع مانگنے پر مجبور ہو۔ چناچہ سیدنا قبیصہ بن مخارق کہتے ہیں کہ میں ایک شخص کا ضامن ہوا۔ پھر رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور اس بارے میں سوال کیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا : یہاں ٹھہرو تاآنکہ ہمارے پاس صدقہ آئے پھر ہم تیرے لیے کچھ حکم کریں گے۔ پھر مجھے مخاطب کرکے فرمایا : قبیصہ ! تین شخصوں کے سوا کسی کو سوال کرنا جائز نہیں۔ ایک وہ جو ضامن ہو اور ضمانت اس پر پڑجائے جس کا وہ اہل نہ ہو۔ وہ اپنی ضمانت کی حد تک مانگ سکتا ہے۔ پھر رک جائے دوسرے وہ جسے ایسی آفت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 22–26

10۔ اور اس بنیادی عقیدۂ تصدیق سے اہل ایمان کے سارے اعمال طاعت کی شاخیں ہوگئی ہیں۔ (آیت) ” الذین ..... دآئمون “۔ یعنی اپنی نمازوں کی پوری محافظت و مداومت رکھتے ہیں۔ انہیں کبھی ناغہ نہیں ہونے دیتے۔ عن عائشۃ ؓ قالت کان احب الصلوۃ الی رسول اللہ ﷺ مادیم علیہ (جصاص) قیل المراد بذلک الذین اذا عملوا عملا اداموا علیہ واثبتوہ (ابن کثیر) یہ معنی بھی ہوسکتے ہیں۔ کہ ہر وقت نماز کے خیال میں لگے رہتے ہیں کہ ادھر وقت آئے اور ادھر نماز شروع کردیں۔ عن ابن مسعود ؓ قال دائمون علی مواقیتھا (جصاص) قیل معناہ یحافظون علی اوقا تھا وواجباتھا قال ابن مسعود ؓ ومسروق وابراھیم النخعی (ابن کثیر) مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 19–35

ان الانسان خلق ھلوعا، ھلوع کے لفظی معنی ہیں حریص، بےصبرا، کم ہمت، حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا ھلوع وہ شخص ہے جو کہ مال حرام کی حرص میں مبتلا ہو، یہاں یہ شبہ نہ ہونا چاہیے کہ جب انسان کو پیدا ہی اس حال میں کیا گیا ہے تو پھر اس کا کیا قصور ؟ وہ مجرم کیوں قرار دیا گیا ؟ وجہ یہ ہے کہ مراد اس سے انسانی فطرت اور جبلت میں رکھی ہوئی استعداد اور مادہ ہے تو حق تعالیٰ نے انسان میں ہر خیر و شر کا مادہ اور استعداد بھی رکھی ہے اور شر و فساد کی بھی اور اس کو عقل و ہوش بھی عطا فرمائے ہیں اور اپنی کتابوں اور رسولوں کے ذریعہ ہر ایک کا انجام بھی بتادیا، اب انسان کو اختیار ہے کہ دونوں قسم کی صلاحیتوں میں سے جس کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

والذین یصدقون بیوم الدین . کیونکہ اگر یوم جزاء کو واقعی طور پر کوئی سچا جانتا اور صحیح مانتا ہو تو پھر دکھ میں بے صبر نہ ہوگا بلکہ بامید ثواب صبر کرے گا اور سکھ میں ناشکرا نہ ہوگا (معلوم ہوا کہ صبر و شکر کی جڑ یوم جزا کی تصدیق ہے) ۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 22–28

(22۔ 28) مگر وہ پانچ وقت کا نمازی جو اپنی فرض نمازوں کو رات دن میں ہمیشہ پڑھتے ہیں۔ وہ ایسے نہیں ہیں اور جو کہ اپنے مالوں میں زکوٰۃ کے علاوہ سوال کرنے والے اور سوال نہ کرنے والے سب کا حق سمجھتے ہیں یا یہ کہ محروم سے مراد وہ ہے جو اپنے اجر و غنیمت سے محروم رہے یا یہ کہ وہ محنتی آدمی ہے جس کا پیشہ اس کی معیشت کے لیے کافی نہ ہو اور جو کہ قیامت کے دن کا اور جو کچھ اس میں ہوگا سب کا اعقتاد رکھتے ہیں اور جو کہ اپنے پروردگار کے عذاب سے ڈرنے والے ہیں واقعی ان کے رب کا عذاب مطمئن ہونے کی چیز ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 26–28

والذین یصدقون بیوم الدین…: یعنی ان کے اعمال کا اصل محرک قیامت پر ایمان اور رب تعالیٰ کے عذاب کا خوف ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 24–33

والذین فی اموالھم حق معلوم۔ اس سے مراد فرض زکوۃ ہے، یہ قتادہ اور ابن سیرین کا قول ہے۔ مجاہد نے کہا : زکوۃ کے علاوہ مراد ہے۔ علی بن ابی طلحہ نے روایت کیا ہے کہ حضرت ابن عباس نے ہا، صلہ رحمی کرنا اور بوجھ اٹھانا ہے۔ پہلا قول زیادہ صحیح ہے کیونکہ حق کی صفت معلمو سے لگائی ہے۔ زکوۃ کے علاوہ معلوم نہیں، وہ تو ضرورت کے مطباق ہوتا ہے جبکہ اس میں کمی و بیشی ہوتی رہتی ہے۔ للسآئل و المحروم۔ سورة زاریات میں یہ بات پہلے گزر چیک ہے۔ والذین یصدقون بیوم الذین۔ یعنی یوم جزاء مراد قیامت کا دن ہے۔ اس بارے میں بحث سورة فاتحہ میں گزر چکی ہے۔ وہ الذین ھم من عذاب ربھم مشفقون۔ جو اپنے رب کے عذاب سے ڈرنے والے ہیں۔ ان…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 24–35

19۔ عبد بن حمید نے ابراہیم (رح) سے روایت کیا کہ آیت والذین فی اموالہم حق معلوم اور وہ جن کے مالوں میں حصہ معین ہے یعنی وہ لوگ جو اپنے مالوں سے اس وقت دیتے ہیں جب عطیات نکالے جاتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَالَّذِينَ يُصَدِّقُوْنَ : اور وہ لوگ جو تصدیق کرتے ہیں ][ بِيَوْمِ الدِّيْنِ : بدلے کے دن کی ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

ثالثاً : ﴿ وَ الَّذِيْنَ يُصَدِّقُوْنَ بِيَوْمِ الدِّيْنِ۪ۙ0026﴾ (اور جو لوگ روز جزا کی تصدیق کرتے ہیں) ۔ صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہ مذکورہ بالا جانی اور مالی عبادت جو لگے ہوئے ہیں اس عبادت کے اجر وثواب کی سچے دل سے آرزو رکھتے ہیں اور ثواب آخرت کے لیے اپنی جانوں کو نیک کاموں میں لگاتے اور تھکاتے ہیں چونکہ قیامت پر ایمان لائے بغیر کوئی شخص مومن ہو ہی نہیں سکتا اور اس ایمان میں سبھی برابر ہیں اس لیے امتیازی شان بتانے کے لیے ان کی تعریف فرمائی ہے یہ لوگ آخرت پر ایمان تو رکھتے ہی ہیں وہاں کے لیے دوڑ دھوپ بھی کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–35

مجازات عناد وسرکشی کفار وشدت کرب و اضطراب در روز قیامت : قال اللہ تعالیٰ (آیت) ” سال سآئل بعذاب واقع ...... الی ...... فی جنت مکرمون “۔ (ربط) گذشتہ سورت کا مضمون اہل جہنم کے احوال پر مشتمل تھا اور یہ کہ مجرموں کو کس ذلت کے ساتھ خدا کے عذاب اور قہر کی گرفت میں لیاجائے گا اب اس سورت میں ایسے مجرمین کی معاندانہ روش بیان کرکے اس پر مذمت اور سزا کا ذکر فرمایا جارہا ہے اور یہ کہ روز قیامت ایسے سرکشوں کی بےبسی کا کیا عالم ہوگا جو دنیا میں غرور ونخوت کا پیکر بنے ہوتے تھے ارشاد فرمایا۔ مانگا ہے ایک مانگنے والے نے ایسا عذاب جو واقع ہونے والا ہے کافروں کے واسطے جس کو کوئی ٹلانے والا نہیں وہ عذاب ہر حال…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 23–28

8:۔ ” الذین ھم علی صلاتہم دائمون “ وہ نمازوں کو قائم کرتے ہیں یعنی نمازوں کو تمام آداب وفرائض کے ساتھ ادا کرتے ہیں۔ دائمون ای مواظبون (روح) ۔ دائمون ای مقیمون (صراح) ۔ ان کے اموال و مواشی میں فقراء و مساکین کا معین حق ہے۔ مراد زکوۃ فریضہ ہے وہ اپنے مال کی زکوۃ ادا کرتے ہیں یعنی احسان کرتے ہیں۔ ” السائل “ وہ فقیر جو سوال کر کے لے لے اور ” المحروم “ سے مراد وہ فقیر ہے جو کسی سے سوال نہیں کرتا اور محروم رہتا ہے۔ اس لیے ایسے مستحقین کی جستجو، رکھنی چاہئے اور خود بخود ان کو دینا چاہئے۔ ” والذین یصدقون “ وہ قیامت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں اور خدا کے عذاب سے ترساں ولرزاں رہتے ہیں۔ ” ان عذاب ربھم غیر…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 15–28

گذشہ سے پیوستہ : گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے پانے منہ سے عذاب مانگنے والوں اور قیامت کا مطالبہ کرنے والوں کا رد فرمایا۔ اور کہا کہ یہ لوگ قیامت کو بعید سمجھتے ہیں۔ حالانکہ وہ قریب ہے اور اپنے وقت پر آئے گی۔ اس دن مجرم آرزو کریگا کہ کاش اپنے بیٹوں ، بیوی ، بھائی ، قبیلے اور تمام روئے زمین والوں کو فدیہ دے کر اپنی جان چھڑالے ، مگر ایسا نہیں ہوگا۔ فرمایا ایسا ہرگز نہیں ہوگا۔ اول تو ان تمام چیزوں کا فدیہ بننا ہی محال ہے۔ اور اگر بالفرض ایسا ہو بھی جائے تو یہ باطل آرزو پوری نہیں ہوگی۔ اس مقام پر سب سے پہلے بیٹوں کا ذکر کیا کہ آدمی کا سب سے زیادہ حق اور تسلط بیٹوں پر ہوتا ہے۔ اگر کہیں یر غمال…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَالَّذِيْنَ يُصَدِّقُوْنَ بِيَوْمِ الدِّيْنِ۝ 26 صدق الصِّدْقُ والکذب أصلهما في القول، ماضیا کان أو مستقبلا، وعدا کان أو غيره، ولا يکونان بالقصد الأوّل إلّا في القول، ولا يکونان في القول إلّا في الخبر دون غيره من أصناف الکلام، ولذلک قال : وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] ، ( ص دق) الصدق ۔ یہ ایک الکذب کی ضد ہے اصل میں یہ دونوں قول کے متعلق استعمال ہوتے ہیں خواہ اس کا تعلق زمانہ ماضی کے ساتھ ہو یا مستقبل کے ۔ وعدہ کے قبیل سے ہو یا وعدہ کے قبیل سے نہ ہو ۔ الغرض بالذات یہ قول ہی کے متعلق استعمال ہوتے ہیں پھر قول میں بھی صرف خبر کے لئے آتے ہیں اور اس کے ماسوا دیگر اصناف کلام میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 19–35

ترکیب : ھلوعا حال مقدرۃ من الانسان الھلع اشد الحرص یقال ھلع الرجل یھلع ھلعا وھلا عا فھو ھالع دھلوع وکذاجزوعاد منوعا حالان و اذالاولیٰ ظرف لجز وعا والاخریٰ لمنوعا الا المصلین استثناء من الجنس والمستثنیٰ منہ الانسان وھو جنس فی جنات ظرف لمکرومون۔ تفسیر : اور یہ مال جمع کرنا اور کنجوسی کرنا اس لیے ہے کہ ان الانسان خلق ھلوعا۔ انسان (بعض کہتے ہیں اس سے مراد کفار ہیں) فطرتی طور پر لالچی اور بےصبر پیدا ہوا ہے۔ اس کمبخت کی دور اندیشی اور اس کی زیرکی (جو خداوند عالم کی طرف سے بہ نسبت اور حیوانات کے زیادہ ملی تھی) اس کو بخل اور لالچ پر آمادہ کرتی ہے اور بڑے بڑے خیالات اور امیدیں بندھاتی ہے کہ سینکڑوں…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 26–27

وَالَّذِیْنَ یُصَدِّقُوْنَ بِیَوْمِ الدِّیْنِ ۔ وَالَّذِیْنَ ھُمْ مِّنْ عَذَابِ رَبِّھِمْ مُّشْفِقُوْنَ ۔ (المعارج : 26، 27) (اور وہ جو جزاء کے دن کی تصدیق کرتے ہیں۔ اور جو اپنے رب کے عذاب سے ڈرتے رہتے ہیں۔ ) تیسری صفت روز جزاء کا یقین جو لوگ سائلوں اور محروموں کا اپنے مال میں ایک متعین حصہ رکھتے ہیں ان کے اس عمل کا محرک اور سبب یہ ہے کہ وہ روزجزاء پر یقین رکھتے ہیں کیونکہ تصدیق کا تعلق دل کے یقین سے ہوتا ہے۔ انھیں خوب معلوم ہے کہ ایک روز اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہونا ہے۔ اپنے ایک ایک لمحہ اور ایک ایک عمل کی جوابدہی کرنی ہے۔ مال کے بارے میں بھی پوچھا جائے گا کہ تم نے اس کا حق ادا کیا تھا یا…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 19–28

فہم القرآن ربط کلام : چمڑیاں ادھیڑدینے والی آگ سے بچنے والے لوگوں کے اوصاف۔ انسان کی طبعی کمزوریوں میں ایک کمزوری یہ ہے کہ وہ جلد باز ہے۔ اسی جلد بازی کی وجہ سے انسان دنیا کے فائدے کی خاطر حق بات سے منہ موڑ تا، ناجائز طریقے سے مال بناتا اور اسے جمع رکھتا ہے۔ اگر انسان اپنی جلدبازی پر قابو پالے تو وہ اللہ اور اس کے رسول کے فرمان سے منہ موڑ کر نہ کسی کا مال بٹورے اور ہی ناجائز طریقے سے مال جمع کرے۔ یہ جلد بازی کا نتیجہ ہے کہ جب اسے مال کی تنگی اور کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ گھبرا اٹھتا ہے اور جزع فزع کرنے لگتا ہے جب اسے مال حاصل ہوتا ہے توبخیل بن جاتا ہے۔ یہاں گھبراہٹ اور بخل کا حوالہ دے کر دو…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

26 : وَالَّذِیْنَ یُصَدِّقُوْنَ بِیَوْمِ الدِّیْنِ (وہ جو قیامت کے دن کا اعتقاد رکھتے ہیں) یوم الدینؔ سے یوم جزاء اور حساب مراد ہے یہی قیامت کا دن ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 25–33

24 ۔…” والذین فی اموالھم حق معلوم 25 ۔ للسائل والمحروم 26 ۔ والذین یصدقون بیوم الدین۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 19–35

19۔ 35۔ شروع سورة سے یہاں تک اللہ تعالیٰ نے کافروں اور ایمان دار لوگوں کی نشانیاں مقابلہ کے طور پر بیان فرمائی ہیں مثلاً کافروں کی نشانی یہ ذکر فرمائی کہ وہ لوگ عذاب آخرت اور قیامت کے منکر ہیں اس لئے از خود عذاب الٰہی کی خواہشیں کرتے ہیں اور ایمان دار لوگوں کی یہ نشانی ہے کہ قیامت اور عذاب آخرت کا ان کے دل میں پورا یقین ہے اس واسطے عذاب الٰہی کا ہر وقت ان کے جی میں ایک خوف رہتا ہے کافروں کی یہ نشانی ہے کہ بدکاری کو کچھ عیب نہیں جانتے ایمان دار اس کے برخلاف ہیں اسی طرح کافروں کی یہ نشانی ہے کہ مال جمع کرکے رکھتے ہیں اور محتاجوں کو کوڑی نہیں دیتے اور ایمان داروں کی یہ نشانی ہے کہ ان کے مال میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(والذین یصدقون بیوم الدین) ۔ یعنی جزا وسزا اور قیامت کے بارے میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں نے جو خبر دی ہے اس پر ایمان رکھتے ہیں اور انہیں اس پر یقین ہے پس وہ آخرت کے لیے تیاری کررہے ہیں اور اس کے لیے پوری کوشش کرتے ہیں قیامت کے دن کی تصدیق سے رسولوں اور ان کتابوں کی جن کو لے کر وہ مبعوث ہوئے ہیں تصدیق لازم آتی ہے۔

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 25–44

قول باری ہے (للسائل والمحروم سائل اور محروم کے لئے) حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ سوال کرنے والے کو سائل کہتے ہیں اور محروم وہ شخص ہے جسے کسی تجارت میں کامیابی نہ ہوتی ہو۔ ابوقلابہ کا قول ہے کہ محروم وہ شخص جس کا مال چلا جائے۔ حسن بن محمد کا قول ہے کہ حضور ﷺ نے ایک سریہ روانہ کیا، اسے مال غنیمت حاصل ہوا، اس کے بعد کچھ دوسرے لوگ بھی آگئے اور یہ آیت نازل ہوئی (فی اموالھم حق معلوم للسائل والمحروم جن کے مالوں میں سائل اور محروم کا ایک مقرر حق ہے) حضرت انس ؓ نے حضور ﷺ سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا (ان المحروم من حرم وصیتہ بیشک محروم وہ شخص ہے جسے اس چیز سے محروم رکھا جائے جس کی اس کے لئے وصیت کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

21 انفاق فی سبیل اللہ کے اصل محرک کا ذکر وبیان : سو اہل ایمان کے مالوں میں ایسے لوگوں کا بھی حق ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ ج سچے دل سے مانتے ہیں بدلے کے دن کو، کہ بدلے کے اس دن نے یقیناً آنا ہے اور ہر کسی نے اپنے کئے کرائیک ا بدلہ بہرحال پانا ہے اور حقیقت میں یہی ایمان و یقین ہے جو انسان کی زندگی کے رخ کو ہی بدل دیتا ہے اور اس عقیدے و یقین اور اس کی پختگی کی بناء پر وہ پاکیزہ سے پاکیزہ اور عمدہ سے عمدہ انسان بنتا چلا جاتا ہے، بہرکیف اس ارشاد سے ان لوگوں کے انفاق کے محرک کی طرف اشارہ فرما دیا گیا، چونکہ یہ لوگ روز جزا پر ایمان رکھتے اور صدق دل سے اس کو مانتے ہیں، اس لئے انہوں نے اپنے مالوں کے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 22–44

نیک لوگوں کی صفات تشریح : ایک اچھے پکے اور صالح جنت کے حقدار کی خوبیاں بیان کی گئی ہیں جو کہ کافی دفعہ وضاحت سے پچھلی سورتوں میں گزر چکی ہیں یہاں پھر مختصراً بیان کیا جارہا ہے۔ سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ انسان فطرتاً کمزور طبیعت یعنی غلطیوں کا پتلا سمجھا جاتا ہے۔ بلکہ ہے ہی۔ مگر اس کی اصلاح کے لئے ہی تو قرآن اور اللہ کے رسول ﷺ کا بندوبست کیا گیا ہے۔ تو جو شخص اپنے نفس پر پورا اختیار رکھتا ہے تو وہی بہادر انسان ہے وہ خود کو شیطان کے چنگل سے نکال کر بندگانِ الٰہی میں شامل ہوسکتا ہے۔ کیونکہ عمل بہت ضروری ہے۔ اگر زبانی ایمان لے آنا کافی ہوتا تو پھر منافق دوزخ کے نچلے درجے میں کیوں ڈالے جاتے۔…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–34

سورة المعارج۔ آیات 1 تا 35۔ اسرار ومعارف۔ مانگنے والے نے عذاب مانگا کہ کفار نے کہا تھا کہ اگر یہ قرآن حق ہے تو ہم پر عذاب نازل کر لیکن عموما کفار کے عمل سے ظاہر ہے کہ ان کی طرح یہ بھی سمجھتے ہیں کہ ایسا کچھ نہ ہوگا اور ہم اپنی پسند دنیا پہ نافذ کرسکتے ہیں مگر یہ حق ہے اور کفار پر عذاب آئے گا اور اسے کوئی روک نہ سکے گا یہ عذاب اس اللہ کی طرف سے جو بلندیوں اور عظمتوں کا مالک ہے۔ مومن کی روح عظمتوں سے واقف ہے۔ جن بلندیوں سے فرشتے آگاہ ہیں اور اس دن بھی چڑھیں گے ۔ جو پچاس ہزار سال کا ہوگا اور مومن کی ارواح کے بھی صاحب روح المعانی کے مطابق زینہ بہ زیرنہ درجات ہیں جو عظمت الٰہی پہ دلالت کرتے ہیں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 24–26

ف 1 یعنی اپنے اعمال سے تصدیق کرتے ہیں کہ انہیں قیامت کے آنے کا یقین ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(70:26) والذین یصدقون بیوم الدین۔ یہ مستثنیات کی تیسری صفت ہے جو روز جزاء کی تصدیق کرتے ہیں۔ یصدقون مضارع کا صیغہ جمع مذکر غائب تصدیق (تفعیل) مصدر سے۔ وہ تصدیق کرتے ہیں۔ وہ سچا مانتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 19–35

لغات القرآن۔ ھلوعا۔ بزدل۔ ڈرپوک۔ جزوعا۔ گھبرا جانے والا۔ منوعا۔ ہاتھ روک لینے والا۔ تشریح : اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے آدمی کو بڑی عظمتوں اور زبردست صلاحیتوں سے نواز ہے وہ جب کائنات میں آگے بڑھتا ہے تو خشکی، تری اور فضاؤں پر حکمرانی کرنے لگتا ہے لیکن اس کی تخلیق اور فطرت میں کچھ کمزوریاں بھی رکھ دی گئی ہیں۔ اگر وہ ان کمزوریوں پر قابو پا لے تو پھر وہ دنیا میں سربلند اور آخرت کی نجات کا مستحق بن جاتا ہے۔ فرمایا کہ آدمی اپنے بےانتہا صلاحیتوں کے باوجود بہت بےصبرا، کم ہمت اور تنگ دل واقع ہوا ہے۔ اس کو ذرا تکلیف پہنچتی ہے تو وہ گھبرا جاتا ہے اور جب اس کو خیر اور خوش حالی نصیب ہوتی ہے تو وہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 22–35

(ف 2) ان آیتوں میں فرمایا کہ ایماندار لوگ وہ ہیں جو امانت اور اپنے عہد پر قائم رہتے ہیں اور حدیث میں نبی ﷺ نے فرمایا ہے کہ منافق لوگوں کی نشانی یہ ہے کہ امانت میں خیانت کرتے ہیں اور جب وعدہ یا کوئی عہدوپیمان کرتے ہیں تو اس کو پورا نہیں کرتے ، ان آیتوں میں فرمایا کہ ایماندار لوگ جو گواہی دیتے ہیں سچی دیتے ہیں ۔ حدیث شریف میں ہے نبی نے فرمایا کہ منافق لوگ ہر بات میں جھوٹ سے باز نہیں آتے، اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں ایماندار لوگوں کی نماز کی دونشانیاں ذکر فرمائی ہیں۔ (1) ایک تو یہ کہ وہ لوگ سلسلہ وار ہمیشہ نماز پڑھتے ہیں یہ نہیں کہ گنڈے دار نماز پڑھتے ہوں کہ کبھی پڑھی اور کبھی چھوڑ دی۔ (2) دوسری…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 26–36

[7] یعنی روز جزا کا یقین رکھتے ہیں اور یہ بنیادی عقیدہ ان کے تمام نیک اعمال کا محرک ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 12–35

نمازی کی سیرت 2: قرآن حکیم یہ خوبی شان امتیاز رکھتی ہے ۔ کہ اس میں حقائق نفسیات کا بھی مذکر ہے ۔ یعنی اس کتاب علم ومعرفت میں یہ بھی بتایا گیا ہے ۔ کہ انسانی فطرت کیا ہے ؟ فرمایا ۔ اس میں ایک ہم گیر عیب یہ ہے ۔ کہ یہ کم ہمت اور بےصبر ہے ۔ اگر اس کو ذرا تکلیف پہنچتی ہے ۔ تو بلبلا اٹھتا ہے ۔ اور نالہ وشیون سے آسمان سر پر اٹھا لیتا ہے ۔ اور جہاں بیٹھتا ہے اسی بات کا تذکرہ کرتا ہے ۔ کہ میں بہت مصیبت زدہ ہوں ۔ مجھ کو فلک ستم شیوہ نے بہت دکھ پہنچایا ہے ۔ اور اگر برے دن پھرجائیں اور آسودہ حال ہوجائے ۔ تو پھر انتہا درجے کا بخیل اور ممسک ہوجاتا ہے ۔ پائی پائی کو گنتا ہے ۔ اور پیسے پیسے کا حساب رکھتا…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(26) اور وہ جو انصاف کے دن کا یقین رکھتے ہیں یعنی قیامت کی تصدیق کرتے ہیں اور اس کو مانتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 23–36

ف 9۔ یعنی نماز میں ظاہرا یا باطنا دوسری طرف توجہ نہیں کرتے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اور جو لوگ روز جزاء پر یقین رکھتے ہیں اور عمل سے اس کو ثابت کردیتے ہیں 26 ؎ یہ وہ لوگ ہیں جو روز جزا کی تصدیق کرنے والے ہیں اور اس طرح وہ زبان سے بھی اقرار کرتے ہیں اور ان کا عمل بھی اس پر گواہ ہوتا ہے کیونکہ یہ وہ لوگ ہیں جو اس دنیوی زندگی کو آخری زندگی خیال نہیں کرتے بلکہ ان کا ایمان ہے کہ قیامت کے روز انہیں دوبارہ زندہ کر کے قبروں سے اٹھایا جائے گا اور ان سے ان کے اعمال کے بارے میں بازپرس کی جائے گی۔ ان کو اس بات پر پختہ یقین ہے کہ آج کا دیا کل کو کام آئے گا۔ اس لئے وہ دل کھول کر خرچ کرتے ہیں لیکن وہاں جہاں اللہ تعالیٰ ان کو مال خرچ کرنے کا حکم دیتا ہے اس طرح وہ روز جزا پر ایمان رکھنے کا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 24–30

Rates of Zakah are Specified by Allah وَالَّذِينَ فِي أَمْوَالِهِمْ حَقٌّ مَّعْلُومٌ (and those in whose riches there is a specified right...70:24). This verse shows that the quantifications of Zakah have been fixed by Allah. The details are recorded in authentic ahadith. These quantifications, whether relating to the nisab (the minimum limit on which Zakah is payable) or to the rate of payment, being fixed by Allah Ta` ala cannot be changed by anyone at any time.

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

17 "Who believe ... Day of Recompense": who do not think they are irresponsible but believe that one Day they will have to appear before their God and render to Him an account of their deeds.

Read the full tafseer →