Al-Ma'aarij 70:25

Al-Ma'aarij · from ayah 25

70:25

لِّلسَّآىِٕلِ وَالْمَحْرُوْمِ ۟لِّلسَّآئِلِ وَالۡمَحۡرُوۡمِ

(یعنی) مانگنے والے کا۔ اور نہ مانگے والے والا کا

— Fateh Muhammad Jalandhari

For the petitioner and the deprived -

— Saheeh International

Juz 29 · Ruku 1 of surah · Ruku 7 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Ma'aarij

All translations of 70:25

سائل اور محروم کا ایک حق مقرر ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

(یعنی) مانگنے والے کا۔ اور نہ مانگے والے والا کا

— مولانا فتح محمد جالندہری

مانگنے والوں کا بھی اور سوال سے بچنے والوں کا بھی

— مولانا محمد جوناگڑہی

اس کے لیے جو مانگے اور جو مانگ بھی نہ سکے تو محروم رہے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

مانگنے والے اور نہ مانگنے والے محتاج کا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

سوال کرنے والے کے لیے اور (اس کے لیے) جسے نہیں دیا جاتا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

سائل اور (سوال سے بچنے کی بنا پر) محروم

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

مسائلوں اور محروموں کا

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

ان کے لئے بھی جو سوال کرتے ہیں اور ان کیلئے بھی جو سوال نہیں کرتے ہیں

— مولانا اسحاق مدنی

مانگنے والے کا اور محروم کا۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

یعنی مانگنے والے اور نہ مانگنے والے کا

— محترمہ رفعت اعجاز

for those that ask and those that are dispossessed,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

for the one who asks and the one who is deprived,

— Muhammad Taqi Usmani

for the one who asks and the one who is deprived,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

For the one who asks, and for the deprived.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

For the petitioner and the deprived -

— Saheeh International

for the needy and the deprived,

— Muhammad Sarwar

For him who begs and for him who is denied (good)

— Muhammad Habib Shakir

For the beggar and the destitute.

— Abdul Majid Daryabadi

For the (needy) who asks and him who is prevented (for some reason from asking);

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 70:25

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 19–35

انسان بےصبرا، بخیل اور کنجوس بھی ہے یہاں انسانی جبلت کی کمزوری بیان ہو رہی ہے کہ یہ بڑا ہی بےصبرا ہے، مصیبت کے وقت تو مارے گھبراہٹ اور پریشانی کے باؤلا سا ہوجاتا ہے، گویا دل اڑ گیا اور گویا اب کوئی آس باقی نہیں رہی، اور راحت کے وقت بخیل کنجوس بن جاتا ہے اللہ تعالیٰ کا حق بھی ڈکار جاتا ہے، رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں بدترین چیز انسان میں بیحد بخیلی اور اعلیٰ درجہ کی نامردی ہے (ابو داؤد) پھر فرمایا کہ ہاں اس مذموم خصلت سے وہ لوگ دور ہیں جن پر خاص فضل الٰہی ہے اور جنہیں توفیق خیر ازل سے مل چکی ہے، جن کی صفتیں یہ ہیں کہ وہ پورے نمازی ہیں وقتوں کی نگہبانی کرنے واجبات نماز کو اچھی طرح بجا لانے سکون…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْمَعَارِج 16 سورة ذاریات آیت 19 میں فرمایا گیا ہے کہ " ان کے مالوں میں سائل اور محروم کا حق ہے "۔ اور یہاں فرمایا گیا ہے کہ " ان کے مالوں میں سائل اور محروم کا ایک مقرر حق ہے "۔ بعض لوگوں نے اس سے یہ سمجھا ہے کہ مقرر حق سے مراد فرض زکوٰۃ ہے، کیونکہ اسی میں نصاب اور شرح، دونوں چیزیں مقرر کردی گئی ہیں۔ لیکن یہ تفسیر اس بنا پر قابل قبول نہیں ہے کہ سورة معارج بالاتفاق مکی ہے، اور زکوٰۃ ایک مخصوص نصاب اور شرح کے ساتھ مدینہ میں فرض ہوئی ہے۔ اس لیے مقرر حق کا صحیح مطلب یہ ہے کہ انہوں نے خود اپنے مالوں میں سائل اور محروم کا ایک حصہ طے کر رکھا ہے جسے وہ ان کا حق سمجھ کر ادا کرتے ہیں۔ یہی حضرت…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 24–30

مقادیر زکواة منجانب اللہ مقرر ہیں ان میں کمی بیشی کا کسی کو اختیار نہیں (آیت) وَالَّذِيْنَ فِيْٓ اَمْوَالِهِمْ حَقٌّ مَّعْلُوْمٌ، اس آیت سے معلوم ہوا کہ مقادیر زکوة اللہ تعالیٰ کی طرف سے متعین اور معلوم ہیں جن کی تفصیل رسول اللہ ﷺ سے احادیث صحیحہ میں منقول ہے۔ اس لئے مقادیر زکوة خواہ نصاب زکوة سے متعلق ہوں یا مقدار واجب سے دونوں اللہ تعالیٰ طرف سے مقرر کردہ طے شدہ ہیں یہ زمانے اور حالات کے بدلنے سے نہیں بدل سکتیں۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

’سائل‘ اور محروم: ’لِّلسَّآئِلِ وَالْمَحْرُوْمِ‘۔ ’سَائِلٌ‘ سے مراد وہ شخص ہے جو لوگوں کے آگے دست سوال پھیلاتا ہے۔ اس کا یہ عمل ہی گواہ ہے کہ وہ محتاج ہے اس وجہ سے مدد کا مستحق ہے۔ ایسے سائلوں کے متعلق زیادہ تحقیق کی ضرورت نہیں ہے۔ آدمی جو کچھ دے سکے وہ دے دے، نہ دے سکے تو شائستہ طریق سے معذرت پیش کر دے۔ ان کو جھڑکنا یا ملامت کرنا جائز نہیں ہے۔ قران و حدیث میں اس کی ممانعت آئی ہے۔ یہاں سچے نمازیوں کی یہ صفت بیان ہوئی ہے کہ ان کے مال میں سائلوں کا ایک معین حق ہوتا ہے۔ ’مَحْرُوْمٌِ‘ سے مراد تو ظاہر ہے کہ وہ شخص ہے جو وسائل معاش سے محروم ہو لیکن یہاں یہ لفظ چونکہ ’سَائِل‘ کے ساتھ آیا ہے اس وجہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

25۔ 1 محروم میں وہ شخص بھی داخل ہے جو رزق سے ہی محروم ہے وہ بھی جو کسی آفت سماوی وارضی کی زد میں آکر اپنی پونجی سے محروم ہوگیا اور وہ بھی جو ضرورت مند ہونے کے باوجود اپنی صفت تعفف کی وجہ سے لوگوں کی عطا اور صدقات سے محروم رہتا ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 25–30

7: جو غریب اپنی حاجت ظاہر کردیتے ہیں، انہیں سوالی سے اور جو حاجت مند ہونے کے باوجود اپنی حاجت کسی سے نہیں کہتے، انہیں بےسوالی (محروم۔ نہ مانگنے والے) سے تعبیر کیا گیا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 24–25

والذین .................... والمحروم (52) (07 : 42۔ 52) ” جن کے مالوں میں سائل اور محروم کا ایک مقرر حق ہے “۔ یعنی وہ صدقات جو معلوم اور متعین ہیں ، وہ مومنین کے اموال میں غرباء کا حق ہیں اور ” حق معلوم “ کا اس سے بھی زیادہ جامع مفہوم یہ ہے کہ وہ خود اپنے اموال میں ایک متعین حق مساکین کے لئے مقرر کرتے ہیں اور وہ اپنے جذبہ سے کہتے ہیں کہ یہ ان کا حق ہے۔ اس طرح وہ بخل اور کنجوسی کے جذبہ پر قابو پاتے ہیں۔ اور اسی طرح یہ شعور ابھرتا ہے کہ اہل معاشرہ پر ناداروں کے حوالے سے ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔ خصوصاً اسلامی امت تو باہم متکافل امت ہے۔ سائل وہ ہے جو سوال کرتا ہے اور محرم ونادار جو سوال نہیں…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 24–25

آیت 24 ‘ 25{ وَالَّذِیْنَ فِیْٓ اَمْوَالِہِمْ حَقٌّ مَّعْلُوْمٌ - لِّلسَّآئِلِ وَالْمَحْرُوْمِ۔ } ”اور وہ جن کے اموال میں معین حق ہے ‘ مانگنے والے کا اور محروم کا۔“ ایسے لوگ یہ نہیں سمجھتے کہ جو کچھ انہوں نے کمایا ہے یا جو کچھ بھی انہیں مل گیا ہے وہ سب ان کا ہے ‘ بلکہ وہ اپنے اموال میں سے ایک معین حصہ معاشرے کے ان محروم اور نادار افراد کے لیے مختص کیے رکھتے ہیں جو اپنی کسی مجبوری کی وجہ سے دوسروں کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلا سکتے۔ دراصل اللہ تعالیٰ آزمائش کے لیے بعض لوگوں کے حصے کا کچھ رزق بعض دوسرے لوگوں کے رزق میں شامل کردیتا ہے۔ چناچہ متمول افراد کو چاہیے کہ وہ اپنے اموال میں سے مساکین و فقراء…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 24–26

16 سوال کرنا صرف تین طرح کے لوگوں کو جائز ہے :۔ سائل سے مراد پیشہ ور گداگر نہیں۔ ایسی گداگری کا اسلام میں کوئی جواز نہیں سائل سے مراد وہ شخص ہے۔ جو فی الواقع مانگنے پر مجبور ہو۔ چناچہ سیدنا قبیصہ بن مخارق کہتے ہیں کہ میں ایک شخص کا ضامن ہوا۔ پھر رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور اس بارے میں سوال کیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا : یہاں ٹھہرو تاآنکہ ہمارے پاس صدقہ آئے پھر ہم تیرے لیے کچھ حکم کریں گے۔ پھر مجھے مخاطب کرکے فرمایا : قبیصہ ! تین شخصوں کے سوا کسی کو سوال کرنا جائز نہیں۔ ایک وہ جو ضامن ہو اور ضمانت اس پر پڑجائے جس کا وہ اہل نہ ہو۔ وہ اپنی ضمانت کی حد تک مانگ سکتا ہے۔ پھر رک جائے دوسرے وہ جسے ایسی آفت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 22–26

10۔ اور اس بنیادی عقیدۂ تصدیق سے اہل ایمان کے سارے اعمال طاعت کی شاخیں ہوگئی ہیں۔ (آیت) ” الذین ..... دآئمون “۔ یعنی اپنی نمازوں کی پوری محافظت و مداومت رکھتے ہیں۔ انہیں کبھی ناغہ نہیں ہونے دیتے۔ عن عائشۃ ؓ قالت کان احب الصلوۃ الی رسول اللہ ﷺ مادیم علیہ (جصاص) قیل المراد بذلک الذین اذا عملوا عملا اداموا علیہ واثبتوہ (ابن کثیر) یہ معنی بھی ہوسکتے ہیں۔ کہ ہر وقت نماز کے خیال میں لگے رہتے ہیں کہ ادھر وقت آئے اور ادھر نماز شروع کردیں۔ عن ابن مسعود ؓ قال دائمون علی مواقیتھا (جصاص) قیل معناہ یحافظون علی اوقا تھا وواجباتھا قال ابن مسعود ؓ ومسروق وابراھیم النخعی (ابن کثیر) مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 19–35

ان الانسان خلق ھلوعا، ھلوع کے لفظی معنی ہیں حریص، بےصبرا، کم ہمت، حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا ھلوع وہ شخص ہے جو کہ مال حرام کی حرص میں مبتلا ہو، یہاں یہ شبہ نہ ہونا چاہیے کہ جب انسان کو پیدا ہی اس حال میں کیا گیا ہے تو پھر اس کا کیا قصور ؟ وہ مجرم کیوں قرار دیا گیا ؟ وجہ یہ ہے کہ مراد اس سے انسانی فطرت اور جبلت میں رکھی ہوئی استعداد اور مادہ ہے تو حق تعالیٰ نے انسان میں ہر خیر و شر کا مادہ اور استعداد بھی رکھی ہے اور شر و فساد کی بھی اور اس کو عقل و ہوش بھی عطا فرمائے ہیں اور اپنی کتابوں اور رسولوں کے ذریعہ ہر ایک کا انجام بھی بتادیا، اب انسان کو اختیار ہے کہ دونوں قسم کی صلاحیتوں میں سے جس کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

للسائل والمحروم . مانگنے والے کا بھی اور نہ مانگنے والے کا بھی یعنی اس شخص کا بھی جو سوال کرے اور اس شخص کا بھی جو سو ال نہ کرنے کی وجہ سے اکثر محروم رہتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 22–28

(22۔ 28) مگر وہ پانچ وقت کا نمازی جو اپنی فرض نمازوں کو رات دن میں ہمیشہ پڑھتے ہیں۔ وہ ایسے نہیں ہیں اور جو کہ اپنے مالوں میں زکوٰۃ کے علاوہ سوال کرنے والے اور سوال نہ کرنے والے سب کا حق سمجھتے ہیں یا یہ کہ محروم سے مراد وہ ہے جو اپنے اجر و غنیمت سے محروم رہے یا یہ کہ وہ محنتی آدمی ہے جس کا پیشہ اس کی معیشت کے لیے کافی نہ ہو اور جو کہ قیامت کے دن کا اور جو کچھ اس میں ہوگا سب کا اعقتاد رکھتے ہیں اور جو کہ اپنے پروردگار کے عذاب سے ڈرنے والے ہیں واقعی ان کے رب کا عذاب مطمئن ہونے کی چیز ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 24–25

والذین فی اموالھم حق معلوم …: اس آیت سے معلوم ہوا کہ صدقہ و زکوۃ مکہ میں بھی فرض تھے اور وہاں بھی اہل ایمان اپنے اموال میں سے ایک مقرر حصہ نکالتے تھے، کیونکہ یہ سورت مکی ہے، بلکہ مشرکین بھی اپنی کھیتی اور مویشیوں میں سے بتوں کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ کا ایک مقرر حصہ نکالتے تھے۔ (دیکھیے انعام : 136) اس سے بہت پہلے اسماعیل ؑ بھی اپنے الہ کو نماز اور زکوۃ کا حکم دیا کرتے تھے۔ (دیکھیے مریم : 55) ہاں زکوۃ کا موجودہ مخصوص نصاب مدینہ میں مقرر ہوا، اتنے فرض کی ادائیگی کے بغیر تو آدمی مسلمان ہی نہیں ہوتا۔ البتہ اہل ایمان کی کوشش ہوتی ہے کہ اس کے علاوہ بھی اللہ کی راہ میں خرچ کریں، یہ ہر شخص کی اپنی…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 24–33

والذین فی اموالھم حق معلوم۔ اس سے مراد فرض زکوۃ ہے، یہ قتادہ اور ابن سیرین کا قول ہے۔ مجاہد نے کہا : زکوۃ کے علاوہ مراد ہے۔ علی بن ابی طلحہ نے روایت کیا ہے کہ حضرت ابن عباس نے ہا، صلہ رحمی کرنا اور بوجھ اٹھانا ہے۔ پہلا قول زیادہ صحیح ہے کیونکہ حق کی صفت معلمو سے لگائی ہے۔ زکوۃ کے علاوہ معلوم نہیں، وہ تو ضرورت کے مطباق ہوتا ہے جبکہ اس میں کمی و بیشی ہوتی رہتی ہے۔ للسآئل و المحروم۔ سورة زاریات میں یہ بات پہلے گزر چیک ہے۔ والذین یصدقون بیوم الذین۔ یعنی یوم جزاء مراد قیامت کا دن ہے۔ اس بارے میں بحث سورة فاتحہ میں گزر چکی ہے۔ وہ الذین ھم من عذاب ربھم مشفقون۔ جو اپنے رب کے عذاب سے ڈرنے والے ہیں۔ ان…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 24–35

19۔ عبد بن حمید نے ابراہیم (رح) سے روایت کیا کہ آیت والذین فی اموالہم حق معلوم اور وہ جن کے مالوں میں حصہ معین ہے یعنی وہ لوگ جو اپنے مالوں سے اس وقت دیتے ہیں جب عطیات نکالے جاتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 24–25

﴿حَقٌّ مَّعْلُوْمٌ۪ۙ﴾ جو فرمایا اس کے بارے میں بعض حضرات کا قول ہے کہ اس سے زکوٰۃ مفروضہ مراد ہے اور بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ اس سے وہ حق مراد ہے جو صاحب مال خود اپنے اوپر مقرر کرلے کہ مہینہ میں یا ہفتہ میں یا روزانہ یا اپنی آمدنی میں سے اس قدر ضرور اللہ کی راہ میں خرچ کیا کریں گے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–35

مجازات عناد وسرکشی کفار وشدت کرب و اضطراب در روز قیامت : قال اللہ تعالیٰ (آیت) ” سال سآئل بعذاب واقع ...... الی ...... فی جنت مکرمون “۔ (ربط) گذشتہ سورت کا مضمون اہل جہنم کے احوال پر مشتمل تھا اور یہ کہ مجرموں کو کس ذلت کے ساتھ خدا کے عذاب اور قہر کی گرفت میں لیاجائے گا اب اس سورت میں ایسے مجرمین کی معاندانہ روش بیان کرکے اس پر مذمت اور سزا کا ذکر فرمایا جارہا ہے اور یہ کہ روز قیامت ایسے سرکشوں کی بےبسی کا کیا عالم ہوگا جو دنیا میں غرور ونخوت کا پیکر بنے ہوتے تھے ارشاد فرمایا۔ مانگا ہے ایک مانگنے والے نے ایسا عذاب جو واقع ہونے والا ہے کافروں کے واسطے جس کو کوئی ٹلانے والا نہیں وہ عذاب ہر حال…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 23–28

8:۔ ” الذین ھم علی صلاتہم دائمون “ وہ نمازوں کو قائم کرتے ہیں یعنی نمازوں کو تمام آداب وفرائض کے ساتھ ادا کرتے ہیں۔ دائمون ای مواظبون (روح) ۔ دائمون ای مقیمون (صراح) ۔ ان کے اموال و مواشی میں فقراء و مساکین کا معین حق ہے۔ مراد زکوۃ فریضہ ہے وہ اپنے مال کی زکوۃ ادا کرتے ہیں یعنی احسان کرتے ہیں۔ ” السائل “ وہ فقیر جو سوال کر کے لے لے اور ” المحروم “ سے مراد وہ فقیر ہے جو کسی سے سوال نہیں کرتا اور محروم رہتا ہے۔ اس لیے ایسے مستحقین کی جستجو، رکھنی چاہئے اور خود بخود ان کو دینا چاہئے۔ ” والذین یصدقون “ وہ قیامت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں اور خدا کے عذاب سے ترساں ولرزاں رہتے ہیں۔ ” ان عذاب ربھم غیر…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 15–28

گذشہ سے پیوستہ : گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے پانے منہ سے عذاب مانگنے والوں اور قیامت کا مطالبہ کرنے والوں کا رد فرمایا۔ اور کہا کہ یہ لوگ قیامت کو بعید سمجھتے ہیں۔ حالانکہ وہ قریب ہے اور اپنے وقت پر آئے گی۔ اس دن مجرم آرزو کریگا کہ کاش اپنے بیٹوں ، بیوی ، بھائی ، قبیلے اور تمام روئے زمین والوں کو فدیہ دے کر اپنی جان چھڑالے ، مگر ایسا نہیں ہوگا۔ فرمایا ایسا ہرگز نہیں ہوگا۔ اول تو ان تمام چیزوں کا فدیہ بننا ہی محال ہے۔ اور اگر بالفرض ایسا ہو بھی جائے تو یہ باطل آرزو پوری نہیں ہوگی۔ اس مقام پر سب سے پہلے بیٹوں کا ذکر کیا کہ آدمی کا سب سے زیادہ حق اور تسلط بیٹوں پر ہوتا ہے۔ اگر کہیں یر غمال…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

لِّلسَّاۗىِٕلِ وَالْمَحْرُوْمِ۝ 25 سأل السُّؤَالُ : استدعاء معرفة، أو ما يؤدّي إلى المعرفة، واستدعاء مال، أو ما يؤدّي إلى المال، فاستدعاء المعرفة جو ابه علی اللّسان، والید خلیفة له بالکتابة، أو الإشارة، واستدعاء المال جو ابه علی الید، واللّسان خلیفة لها إمّا بوعد، أو بردّ. ( س ء ل ) السؤال ( س ء ل ) السوال کے معنی کسی چیز کی معرفت حاصل کرنے کی استد عایا اس چیز کی استز عا کرنے کے ہیں ۔ جو مودی الی المعرفۃ ہو نیز مال کی استدعا یا اس چیز کی استدعا کرنے کو بھی سوال کہا جاتا ہے جو مودی الی المال ہو پھر کس چیز کی معرفت کی استدعا کا جواب اصل مٰن تو زبان سے دیا جاتا ہے لیکن کتابت یا اشارہ اس کا قائم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 19–35

ترکیب : ھلوعا حال مقدرۃ من الانسان الھلع اشد الحرص یقال ھلع الرجل یھلع ھلعا وھلا عا فھو ھالع دھلوع وکذاجزوعاد منوعا حالان و اذالاولیٰ ظرف لجز وعا والاخریٰ لمنوعا الا المصلین استثناء من الجنس والمستثنیٰ منہ الانسان وھو جنس فی جنات ظرف لمکرومون۔ تفسیر : اور یہ مال جمع کرنا اور کنجوسی کرنا اس لیے ہے کہ ان الانسان خلق ھلوعا۔ انسان (بعض کہتے ہیں اس سے مراد کفار ہیں) فطرتی طور پر لالچی اور بےصبر پیدا ہوا ہے۔ اس کمبخت کی دور اندیشی اور اس کی زیرکی (جو خداوند عالم کی طرف سے بہ نسبت اور حیوانات کے زیادہ ملی تھی) اس کو بخل اور لالچ پر آمادہ کرتی ہے اور بڑے بڑے خیالات اور امیدیں بندھاتی ہے کہ سینکڑوں…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 24–25

وَالَّذِیْنَ فِیْٓ اَمْوَالِھِمْ حَقٌّ مَّعْلُوْمٌ۔ لِّلسَّآئِلِ وَالْمَحْرُوْمِ ۔ (المعارج : 24، 25) (اور وہ جن کے مالوں میں ایک مقرر حق ہے۔ سائل اور محروم کا۔ ) دوسری صفت انفاق ایسے لوگوں کی دوسری صفت ایک ایسی بات کو بیان فرمایا گیا ہے جو دین کے دوسرے بازو کی حیثیت رکھتی ہے۔ یعنی دین کا ایک بازو اگر نماز ہے تو دوسرا بازو انفاق ہے۔ اور ان دونوں کو دین میں بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ اور پھر یہی دونوں بنیادی صفات جہاد کا پیش خیمہ ثابت ہوتی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان کی زندگی میں راست روی اس وقت آتی ہے جب اس کا تعلق ایک طرف اللہ تعالیٰ سے مضبوط ہوجائے اور دوسری طرف اللہ تعالیٰ کے بندوں سے۔ اور یہی…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 19–28

فہم القرآن ربط کلام : چمڑیاں ادھیڑدینے والی آگ سے بچنے والے لوگوں کے اوصاف۔ انسان کی طبعی کمزوریوں میں ایک کمزوری یہ ہے کہ وہ جلد باز ہے۔ اسی جلد بازی کی وجہ سے انسان دنیا کے فائدے کی خاطر حق بات سے منہ موڑ تا، ناجائز طریقے سے مال بناتا اور اسے جمع رکھتا ہے۔ اگر انسان اپنی جلدبازی پر قابو پالے تو وہ اللہ اور اس کے رسول کے فرمان سے منہ موڑ کر نہ کسی کا مال بٹورے اور ہی ناجائز طریقے سے مال جمع کرے۔ یہ جلد بازی کا نتیجہ ہے کہ جب اسے مال کی تنگی اور کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ گھبرا اٹھتا ہے اور جزع فزع کرنے لگتا ہے جب اسے مال حاصل ہوتا ہے توبخیل بن جاتا ہے۔ یہاں گھبراہٹ اور بخل کا حوالہ دے کر دو…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

25 : لِّلسَّآ ئِلِ (سوالی کیلئے) جو لوگوں سے مانگتا ہے وَالْمَحْرُوْمِ (اور بےسوالی کیلئے) جو سوال سے بچتا ہے اس کو غنی سمجھ کر محروم رکھتے ہیں۔ اور وہ محروم رہتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 25–33

24 ۔…” والذین فی اموالھم حق معلوم 25 ۔ للسائل والمحروم 26 ۔ والذین یصدقون بیوم الدین۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 19–35

19۔ 35۔ شروع سورة سے یہاں تک اللہ تعالیٰ نے کافروں اور ایمان دار لوگوں کی نشانیاں مقابلہ کے طور پر بیان فرمائی ہیں مثلاً کافروں کی نشانی یہ ذکر فرمائی کہ وہ لوگ عذاب آخرت اور قیامت کے منکر ہیں اس لئے از خود عذاب الٰہی کی خواہشیں کرتے ہیں اور ایمان دار لوگوں کی یہ نشانی ہے کہ قیامت اور عذاب آخرت کا ان کے دل میں پورا یقین ہے اس واسطے عذاب الٰہی کا ہر وقت ان کے جی میں ایک خوف رہتا ہے کافروں کی یہ نشانی ہے کہ بدکاری کو کچھ عیب نہیں جانتے ایمان دار اس کے برخلاف ہیں اسی طرح کافروں کی یہ نشانی ہے کہ مال جمع کرکے رکھتے ہیں اور محتاجوں کو کوڑی نہیں دیتے اور ایمان داروں کی یہ نشانی ہے کہ ان کے مال میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 24–25

(والذین فی اموالھم حق معلوم) ۔ اور جن کے مال میں حصہ مقرر ہے یعنی زکوۃ اور صدقات میں سے (للسائل 9 سائل کے لیے۔ جو سوال کرتا ہے (والمحروم) ۔ اور محروم کے لیے) ۔ یہ وہ مسکین ہے جو لوگوں سے وال نہیں کرتا کہ لوگ اسے عطا کریں اور نہ اس کے حاجت مند ہونے کا پتا چلتا ہے کہ لوگ اس پر صدقہ کریں۔

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 25–44

قول باری ہے (للسائل والمحروم سائل اور محروم کے لئے) حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ سوال کرنے والے کو سائل کہتے ہیں اور محروم وہ شخص ہے جسے کسی تجارت میں کامیابی نہ ہوتی ہو۔ ابوقلابہ کا قول ہے کہ محروم وہ شخص جس کا مال چلا جائے۔ حسن بن محمد کا قول ہے کہ حضور ﷺ نے ایک سریہ روانہ کیا، اسے مال غنیمت حاصل ہوا، اس کے بعد کچھ دوسرے لوگ بھی آگئے اور یہ آیت نازل ہوئی (فی اموالھم حق معلوم للسائل والمحروم جن کے مالوں میں سائل اور محروم کا ایک مقرر حق ہے) حضرت انس ؓ نے حضور ﷺ سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا (ان المحروم من حرم وصیتہ بیشک محروم وہ شخص ہے جسے اس چیز سے محروم رکھا جائے جس کی اس کے لئے وصیت کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

20 انفاق فی سبیل اللہ کی دوسری بڑی اور اہم صفت کا ذکر وبیان : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ نماز کے بعد انفاق فی سبیل اللہ سعادت دارین سے سرفرازی کا سب سے بڑا ذریعہ و وسیلہ اور ایمان والوں کی صفات میں ایک ہم صفت ہے چناچہ ارشاد فرمایا گیا اور ان کے مالوں کے اندر حق ہوتا ہے سائل کا بھی اور محروم کا بھی۔ جو اپنی طبعی شرافت اور پاک دامنی کی وجہ سے دوسروں کے آگے دست سوال دراز نہیں کرتے ‘ جس سے ناواقف لوگ ان کو مالدار سمجھنے لگتے ہیں جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا " یحسبھم الجاہل اغنیاء من التعفف " (البقر :173) ۔ حالانکہ ہوتے وقت وہ ضرورت مند ہیں ‘ تو متقی لوگ اپنے مالوں میں ان کیلئے بھی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 22–44

نیک لوگوں کی صفات تشریح : ایک اچھے پکے اور صالح جنت کے حقدار کی خوبیاں بیان کی گئی ہیں جو کہ کافی دفعہ وضاحت سے پچھلی سورتوں میں گزر چکی ہیں یہاں پھر مختصراً بیان کیا جارہا ہے۔ سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ انسان فطرتاً کمزور طبیعت یعنی غلطیوں کا پتلا سمجھا جاتا ہے۔ بلکہ ہے ہی۔ مگر اس کی اصلاح کے لئے ہی تو قرآن اور اللہ کے رسول ﷺ کا بندوبست کیا گیا ہے۔ تو جو شخص اپنے نفس پر پورا اختیار رکھتا ہے تو وہی بہادر انسان ہے وہ خود کو شیطان کے چنگل سے نکال کر بندگانِ الٰہی میں شامل ہوسکتا ہے۔ کیونکہ عمل بہت ضروری ہے۔ اگر زبانی ایمان لے آنا کافی ہوتا تو پھر منافق دوزخ کے نچلے درجے میں کیوں ڈالے جاتے۔…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–34

سورة المعارج۔ آیات 1 تا 35۔ اسرار ومعارف۔ مانگنے والے نے عذاب مانگا کہ کفار نے کہا تھا کہ اگر یہ قرآن حق ہے تو ہم پر عذاب نازل کر لیکن عموما کفار کے عمل سے ظاہر ہے کہ ان کی طرح یہ بھی سمجھتے ہیں کہ ایسا کچھ نہ ہوگا اور ہم اپنی پسند دنیا پہ نافذ کرسکتے ہیں مگر یہ حق ہے اور کفار پر عذاب آئے گا اور اسے کوئی روک نہ سکے گا یہ عذاب اس اللہ کی طرف سے جو بلندیوں اور عظمتوں کا مالک ہے۔ مومن کی روح عظمتوں سے واقف ہے۔ جن بلندیوں سے فرشتے آگاہ ہیں اور اس دن بھی چڑھیں گے ۔ جو پچاس ہزار سال کا ہوگا اور مومن کی ارواح کے بھی صاحب روح المعانی کے مطابق زینہ بہ زیرنہ درجات ہیں جو عظمت الٰہی پہ دلالت کرتے ہیں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 24–26

ف 1 یعنی اپنے اعمال سے تصدیق کرتے ہیں کہ انہیں قیامت کے آنے کا یقین ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(70:25) للسائل والمحروم۔ یہ متذکرہ بالا مستثنیات کی دوسری صفت ہے اور وہ لوگ بھی جنس الانسان ہلوہا سے مستثنیٰ ہے جن کے اموال میں سائل اور محروم کے لئے ایک متعین حصہ ہے جیسے زکوۃ اور مقررہ صدقات۔ یا وہ مال جو انسان قربت الٰہی کے حصول کے لئے یا اپنے سے غریب و نادار لوگوں کو ازراہ ہمدردی وقتا فوقتا دیتا رہتا ہے اور اس مقصد کے لئے اپنے اموال سے ایک معین رقم کا استعمال اپنے اوپر لازم کرلیتا ہے محروم سے مراد وہ شخص ہے جو ازحد ضرور تمند ہونے کے باوجود بھی کسی کے آگے دست سوال درانہ کرنے سے ہچکچاتا ہو۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 19–35

لغات القرآن۔ ھلوعا۔ بزدل۔ ڈرپوک۔ جزوعا۔ گھبرا جانے والا۔ منوعا۔ ہاتھ روک لینے والا۔ تشریح : اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے آدمی کو بڑی عظمتوں اور زبردست صلاحیتوں سے نواز ہے وہ جب کائنات میں آگے بڑھتا ہے تو خشکی، تری اور فضاؤں پر حکمرانی کرنے لگتا ہے لیکن اس کی تخلیق اور فطرت میں کچھ کمزوریاں بھی رکھ دی گئی ہیں۔ اگر وہ ان کمزوریوں پر قابو پا لے تو پھر وہ دنیا میں سربلند اور آخرت کی نجات کا مستحق بن جاتا ہے۔ فرمایا کہ آدمی اپنے بےانتہا صلاحیتوں کے باوجود بہت بےصبرا، کم ہمت اور تنگ دل واقع ہوا ہے۔ اس کو ذرا تکلیف پہنچتی ہے تو وہ گھبرا جاتا ہے اور جب اس کو خیر اور خوش حالی نصیب ہوتی ہے تو وہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 22–35

(ف 2) ان آیتوں میں فرمایا کہ ایماندار لوگ وہ ہیں جو امانت اور اپنے عہد پر قائم رہتے ہیں اور حدیث میں نبی ﷺ نے فرمایا ہے کہ منافق لوگوں کی نشانی یہ ہے کہ امانت میں خیانت کرتے ہیں اور جب وعدہ یا کوئی عہدوپیمان کرتے ہیں تو اس کو پورا نہیں کرتے ، ان آیتوں میں فرمایا کہ ایماندار لوگ جو گواہی دیتے ہیں سچی دیتے ہیں ۔ حدیث شریف میں ہے نبی نے فرمایا کہ منافق لوگ ہر بات میں جھوٹ سے باز نہیں آتے، اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں ایماندار لوگوں کی نماز کی دونشانیاں ذکر فرمائی ہیں۔ (1) ایک تو یہ کہ وہ لوگ سلسلہ وار ہمیشہ نماز پڑھتے ہیں یہ نہیں کہ گنڈے دار نماز پڑھتے ہوں کہ کبھی پڑھی اور کبھی چھوڑ دی۔ (2) دوسری…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 19–25

[6] اللہ تعالیٰ نے انسان کی سرشت میں متضاد داعیات رکھے ہیں۔ مثلاً خیرو صلاح کے داعیات کے ساتھ شر و فساد کے داعیات، اور یہ چاہا کہ وہ اس کے احکام کے مطابق جس کی تعلیم اس کو انبیاء کے ذریعے دی گئی ہے، ان متضاد داعیات کے اندر توازن و ہم آہنگی پیدا کرے اور ان کو اس کی مرضی اور اس کے قوانین کا پابند بنائے۔ بےصبری جو جلد بازی ہی کی ایک شکل ہے بجائے خود مذموم نہیں ہے۔ مذموم اگر ہے تو اس کا بےموقع یا غیر معتدل ظہور ہے۔ اگر یہ چیز انسان پر اس طرح غالب ہوجائے کہ دوسرے مقابل داعیات اس کے آگے مغلوب ہوجائیں تو ایسی صورت میں یہ کہنا بالکل مطابق حال ہوگا کہ اس کی تخلیق گویا اس عنصر سے ہوئی ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 12–35

نمازی کی سیرت 2: قرآن حکیم یہ خوبی شان امتیاز رکھتی ہے ۔ کہ اس میں حقائق نفسیات کا بھی مذکر ہے ۔ یعنی اس کتاب علم ومعرفت میں یہ بھی بتایا گیا ہے ۔ کہ انسانی فطرت کیا ہے ؟ فرمایا ۔ اس میں ایک ہم گیر عیب یہ ہے ۔ کہ یہ کم ہمت اور بےصبر ہے ۔ اگر اس کو ذرا تکلیف پہنچتی ہے ۔ تو بلبلا اٹھتا ہے ۔ اور نالہ وشیون سے آسمان سر پر اٹھا لیتا ہے ۔ اور جہاں بیٹھتا ہے اسی بات کا تذکرہ کرتا ہے ۔ کہ میں بہت مصیبت زدہ ہوں ۔ مجھ کو فلک ستم شیوہ نے بہت دکھ پہنچایا ہے ۔ اور اگر برے دن پھرجائیں اور آسودہ حال ہوجائے ۔ تو پھر انتہا درجے کا بخیل اور ممسک ہوجاتا ہے ۔ پائی پائی کو گنتا ہے ۔ اور پیسے پیسے کا حساب رکھتا…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 23–36

ف 9۔ یعنی نماز میں ظاہرا یا باطنا دوسری طرف توجہ نہیں کرتے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اس مال میں مانگنے والوں اور نہ مانگنے والوں کا کیا حق ہے ؟ 25 ؎ مطلب یہ ہے کہ ہر سائل کے لئے ضروری نہیں کہ وہ حاجت مند بھی ہو اور اسی طرح ہر حاجت مند کے لئے یہ لازم نہیں کہ سوال بھی کرتا ہو وہ اس بات کا خوب خیال رکھتے ہیں کہ ہر مانگنے والا محض سوال کرنے کا عادی ہے یا فی الواقع حاجت مند بھی ہے اور پھر دونوں ہی صورتوں میں وہ ڈانٹتے ڈپٹتے نہیں بلکہ مانگنے والوں کو ہی دیتے ہیں جتنا کہ ان کو دینا چاہئے اور نہ مانگنے والوں کی تو وہ تلاش میں ہوتے ہیں تاکہ ان کو نہ مانگنے کے باعث ہر آدمی نہیں سمجھ سکے گا اس لئے ان لوگوں کا خیال رکھ کر ان کو بن مانگے دیتے ہیں اور ان کو دینے کے ڈھنگ اختیار کرتے ہیں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 24–30

Rates of Zakah are Specified by Allah وَالَّذِينَ فِي أَمْوَالِهِمْ حَقٌّ مَّعْلُومٌ (and those in whose riches there is a specified right...70:24). This verse shows that the quantifications of Zakah have been fixed by Allah. The details are recorded in authentic ahadith. These quantifications, whether relating to the nisab (the minimum limit on which Zakah is payable) or to the rate of payment, being fixed by Allah Ta` ala cannot be changed by anyone at any time.

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

16 In Surah Adh-Dhariyat: 19, it has been said: "In their wealth there is a right of the beggar and the needy", and here: "In their wealth there is a due share of the beggar and the needy. " Some people have understood this to mean that the "due share" implies the obligatory zakat, for in the zakat both the exemption limit and the rate have been fixed. But this commentary cannot be accepted on the ground that the Surah AI-Ma`arij is unanimously a Makkan Revelation, and the zakat with its specific exemption limit and rate was enjoined at Madinah. Therefore, the correct meaning of the "due…

Read the full tafseer →