وَجَمَعَ فَاَوْعٰی ۟وَجَمَعَ فَاَوۡعٰى
اور (مال) جمع کیا اور بند کر رکھا
— Fateh Muhammad Jalandhari
And collected [wealth] and hoarded.
— Saheeh International
Juz 29 · Ruku 1 of surah · Ruku 7 of juz
وَجَمَعَ فَاَوْعٰی ۟وَجَمَعَ فَاَوۡعٰى
اور (مال) جمع کیا اور بند کر رکھا
— Fateh Muhammad Jalandhari
And collected [wealth] and hoarded.
— Saheeh International
Juz 29 · Ruku 1 of surah · Ruku 7 of juz
Read the whole surah · Surah Al-Ma'aarij
اور مال جمع کیا اور سینت سینت کر رکھا
اور (مال) جمع کیا اور بند کر رکھا
اور جمع کرکے سنبھال رکھتا ہے
اور (مال) اکٹھا کیا ہوگا پھر اسے سینت سینت کر رکھا ہوگا۔
اور جوڑ کر سینت رکھا (محفوظ کرلیا)
اور (اس نے) مال جمع کیا پھر (اسے تقسیم سے) روکے رکھا،
اور (مال) جمع کیا اور اسے بند رکھا۔
اور مال جمع کیا پھر سنبھال سنبھال کر رکھتا رہا
مال جمع کیا اور اس کو سینت سینت کر رکھا۔
اور جمع کیا ہوگا (دنیاوی مال و دولت کو) اور سینت سینت کر رکھا ہوگا (اس کو)
اور (مال) جمع کیا ہوگا اور اس کو اٹھا اٹھا رکھا ہوگا۔
اور جو مال جمع کرتا رہا پھر اسے سینت سینت کر رکھتا رہا۔
مال جمع کیا اور بند کر رکھا
and amassed wealth and covetously hoarded it.
and accumulated (wealth) and hoarded (it) .
and accumulated (wealth) and hoarded (it) .
And collect (wealth) and hide it (from spending it in the cause of Allah).
And hoarded (wealth) and withheld it.
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
And collected [wealth] and hoarded.
and who accumulated wealth without spending it for a good purpose.
And amasses (wealth) then shuts it up.
And masseth and then hoardeth.
And collect (wealth) and hide it (from use)!
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 8–18
عذاب کے طالب عذاب دیئے جائیں گے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جس عذاب کو یہ طلب کر رہے ہیں وہ عذاب ان طلب کرنے والے کافروں پر اس دن آئے گا جس دن آسمان مثل مھل کے ہوجائے، یعنی زیتون کی تلچھٹ جیسا ہوجائے، اور پہاڑ ایسے ہوجائیں جیسے دھنی ہوئی اون، یہی فرمان اور جگہ ہے آیت (وَتَكُوْنُ الْجِبَالُ كَالْعِهْنِ ۙ) 70۔ المعارج :9) پھر فرماتا ہے کوئی قریبی رشتہ دار کسی اپنے قریبی رشتہ دار سے پوچھ گچھ بھی نہ کرے گا حالانکہ ایک دوسرے کو بری حالت میں دیکھ رہے ہوں گے لیکن خود ایسے مشغول ہوں گے کہ دوسرے کا حال پوچھنے کا بھی ہوش نہیں سب آپا دھاپی میں پڑے ہیں، حضرت ابن عباس فرماتے ہیں ایک دوسرے کو دیکھے گا پہچانے…
Read the full tafseer →سورة الْمَعَارِج 12 یہاں بھی سورة الحاقہ 33۔ 34 کی طرح آخرت میں آدمی کے برے انجام کے دو وجوہ بیان کیے گئے ہیں۔ ایک حق سے انحراف اور ایمان لانے سے انکار۔ دوسرے دنیا پرستی اور بخل، جس کی بنا پر آدمی مال جمع کرتا ہے اور اسے کسی بھلائی کے کام میں خرچ نہیں کرتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–18
كَلَّا ۭ اِنَّهَا لَظٰى 15 ۙنَزَّاعَةً لِّلشَّوٰى، انا کی ضمیر نار کی طرف راجع ہے اور نطی کے معنے خالص شعلہ بغیر آمیزش کے اور شوی شواة کی جمع ہے جس کے معنی سر کی کھال کے بھی ہیں اور ہاتھوں پاؤں کی کھال کے بھی، یعنی جہنم کی آگ ایک سخت بھڑکنے والا شعلہ ہوگا جو دماغ کی یا ہاتھوں پاؤں کی کھال اتار دے گا۔ ښتَدْعُوْا مَنْ اَدْبَرَ وَتَوَلی، ۙوَجَمَعَ فَاَوْعٰى خود بلائے گی یہ آگ اس شخص کو جس نے حق سے پیٹھ موڑی اور رخ پھیرا اور مال جمع کیا پھر اس کو روک کر رکھا۔ مراد جمع کرنے سے وہ ہے کہ خلاف شرع ناجائز طریقوں سے جمع کرے اور روکنے سے مراد یہ ہے کہ مال پر عائد ہونے والے فرائض و واجبات ادا نہ کرے…
Read the full tafseer →بخیلوں کا انجام: یہ خاص طور پر بخیلوں کی طرف اشارہ ہے اس لیے کہ ایمان بالآخرت اور انفاق کی دعوت سب سے شاق انہی کے دلوں پر گزرتی ہے۔ آخرت کی فلاح کا تقاضا یہ ہے کہ آدمی اپنا مال اس دنیا کی تجوریوں میں بند رکھنے کے بجائے خدا کے بنک میں جمع کرے۔ بخیل اس کو خسارے کا سودا سمجھتا ہے۔ نہ وہ جزا و سزا پر اعتقاد ہی رکھتا اور نہ آخرت کے نسیہ کی خاطر اپنا نقد مال قربان کرنے کا وہ حوصلہ ہی اپنے اندر پاتا۔ چنانچہ یہی وجہ ہے کہ انبیاء علیہم السلام کی دعوت کی مخالفت میں بخیل سب سے پیش پیش رہے ہیں۔ بخالت اور جزا و سزا کی تکذیب دونوں باتیں لازم و ملزوم ہیں۔ قرآن میں ارشاد ہے: ’أَرَأَیْْتَ الَّذِیْ یُکَذِّبُ…
Read the full tafseer →18۔ 1 یعنی دنیا میں حق سے پیٹھ پھیرتا اور منہ موڑتا تھا اور مال جمع کرکے خزانوں میں سنبھال سنبھال کر رکھتا تھا، اسے اللہ کی راہ میں خرچ کرتا تھا نہ اس میں سے زکوٰۃ نکالتا تھا۔ اللہ تعالیٰ جہنم کو قوت گویائی عطا فرمائے گا اور جہنم بزبان قال خود ایسے لوگوں کو پکارے گی، بعض کہتے ہیں، پکارنے والے فرشتے ہی ہونگے اسے منسوب جہنم کی طرف کردیا گیا ہے۔ بعض کہتے ہیں کوئی نہیں پکارے گا، یہ صرف تمثیل کے طور پر ایسا کہا گیا ہے۔ مطلب ہے کہ مذکورہ افراد کا ٹھکانا جہنم ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–23
5: یعنی مال پر اللہ تعالیٰ نے جو حقوق عائد فرمائے ہیں، ان کو ادا کیے بغیر وہ اسے جمع کرتا رہا ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
تدعوا .................... فاوعی (07 : 81) ” پکار پکار کر اپنی طرف بلائے گی ہر اس شخص کو ، جس نے حق سے منہ موڑا اور پیٹھ پھیری اور مال جمع کیا اور سینت سینت کر رکھا “۔ یہ اس کو اسی طرح بلائے گی جس طرح اسے اس سے قبل دنیا میں راہ ہدایت کی طرف بلایا جاتا تھا۔ اور یہ پیٹھ پھیر کر چلا جاتا تھا۔ لیکن آج جبکہ اسے یہ بلارہی ہے تو اس قابل نہیں ہے کہ پیٹھ پھیر کر چلا جائے۔ اس سے قبل یہ دعوت اسلامی کے مقابلے میں مال جمع کرنے میں لگا ہوا تھا اور اس مال کو وہ برتنوں اور تجوریوں میں محفوظ کرکے رکھتا تھا۔ اور آج یہ دعوت بلائے جہنم کی طرف سے ہے۔ نہ یہ اسے رد کرسکتا ہے نہ مال دے کر جان کو چھڑا سکتا ہے۔ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
1 یعنی دوزخ کی طرف سے ایک کشش اور پکار ہوگی۔ بس جتنے لوگ دنیا میں حق کی طرف سے پیٹھ پھیر کر چل دیے تھے اور عمل صالح کی طرف سے اعراض کرتے اور مال سمیٹنے اور سینت کر رکھنے میں مشغول رہے تھے۔ وہ سب دوزخ کی طرف کھنچے چلے آئیں گے۔ بعض آثار میں ہے کہ دوزخ اول زبان قال سے پکارے گی " اِلَیَّ یَا کَافِرْ ، اِلَیَّ یَا مُنَافِقِ ، اِلَیَّ یَا جَامِعُ الْمَالِ " (یعنی او کافر ! او منافق ! او مال سمیٹ کر رکھنے والے ! ادھر آ) لوگ ادھر ادھر بھاگیں گے۔ اس کے بعد ایک بہت لمبی گردن نکلے گی جو کفار کو چن چن کر اس طرح اٹھا لے گی جیسے جانور زمین سے دانہ اٹھا لیتا ہے۔ (العیاذ باللہ)
Read the full tafseer →آیت 18{ وَجَمَعَ فَاَوْعٰی۔ } ”اور جو مال جمع کرتا رہا پھر اسے سینت سینت کر رکھتا رہا۔“ جس نے اپنی ساری زندگی مال جمع کرنے اور اسے سنبھال سنبھال کر رکھنے میں بتادی تھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
11 آیت نمبر 17 اور نمبر 18 میں انہیں دو بنیادی جرائم کا ذکر کیا گیا ہے۔ جو انسان کو جہنم کا مستحق بنا دیتے ہیں۔ اور ان جرائم کا ذکر سورة الحاقۃ کی آیت نمبر 33 اور 34 کے حاشیہ میں تفصیل سے گزر چکا ہے۔ ایسے ہی لوگوں کو جہنم اپنے ہاں بلا لے گی۔ اور ایک روایت کے مطابق جہنم سے ایک گردن نکلے گی جو جہنم کے مستحق لوگوں کو یوں چن چن کر اٹھا لے گی جیسے کوئی پرندہ زمین سے پڑا ہوا دانہ اٹھا لیتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–18
8۔ (دوسروں کا حق کاٹ کاٹ کر) (آیت) ” کلا ..... للشوی “۔ ذکر دوزخ کی دہکتی ہوئی آگ کا ہے کہ وہ کسی کی رورعایت کرنا کیا جانے۔ اور اس کے سامنے ذکر عوض وفدیہ کا کیسا ! (آیت) ” اوعی “۔ کنایہ ہے کمال بخل سے۔ یہ ضرور نہیں کہ کوئی شخص واقعۃ اپنے نقد ومال کو اٹھا اٹھا کر الماریوں اور تجوریوں کے اندر سمیٹ کر رکھے۔ (آیت) ” من ادبر وتولی “۔ یعنی جب دنیا میں ایمان وطاعت کی طرف بلائے جاتے تھے تو بلانے والے کی طرف سے اور اعراض ونفرت کرتے ہوئے بھاگتے تھے۔ مطلب دونوں آیتوں کو ملا کر یہ ہوا کہ حقوق اللہ وحقوق العباد دونوں کو کافر نے دنیا میں ضائع کیا، اور اس سے فساد عقائد اور فساد اخلاق دونوں کی جانب اشارہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–18
فی یوم کان مقدارہ خمسین الف سنۃ یہ جملہ فعل محذوف سے متعلق ہے ای یقع فی یوم کان مطلب یہ ہے کہ یہ عذاب جس کا ذکر اوپر آیا ہے کافروں پر ضرور واقع ہو کر رہے گا، اس کا وقوع اس روز ہوگا کہ جس کی مدت پچاس ہزار سال ہوگی حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ صحابہ کرام ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے اس دن کے متعلق سوال کیا جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہوگی کہ یہ دن کتنا دراز ہوگا ؟ تو آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے کہ یہ دن مومن پر ایک فرض نماز ادا کرنے کے وقت سے بھی کم ہوگا، یہ بطور تمثیل کے مومنین پر اس وقت کے ہلکا ہونے کا بیان ہے حضرت ابوہریرہ ؓ کی ایک روایت میں ہے کہ قیامت کا…
Read the full tafseer →وجمع فاوعی . اور اس کو پکارے گی جس نے مال کو جمع کیا اور ظروف میں بھر کر روک کر رکھا اور اس میں سے اللہ کا حق ادا نہیں کیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–21
(14۔ 21) اور تمام اہل زمین کو اپنے فدیہ میں دے پھر اللہ تعالیٰ اس کے بدلے میں اس کو عذاب سے بچا لے ایسا ہرگز نہیں ہوگا اللہ تعالیٰ اس کو عذاب سے مطلقا نہیں بچائے گا وہ آگ ایسی شعلہ زن ہے جو کہ ہاتھ پیروں اور تمام بدن کی کھال تک اتار دے گی اور یا یہ کہ اس کے بدن کو جھلس دے گی۔ لظی دوزخ کے ناموں میں سے ایک نام ہے اور وہ شخص کو خوب بلائے گی جس نے توحید سے پشت پھیری ہوگی اور ایمان سے بےرخی کی ہوگی اور کفر سے توبہ نہ کی ہوگی اور دنیا میں مال جمع کیا ہوگا اور اللہ تعالیٰ کا حق نہ ادا کر کے اس کو محفوظ کر کے رکھا ہوگا۔ کافر کم ہمت بخیل لالچی پیدا ہوا ہے جب اس کو فاقہ و تنگی پیش آتی ہے اور صبر نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
(1) تدعوا من ادبر وتولی : یعنی جن لوگوں نے دنیا میں ایمان کی طرف بلائے جانے پر پیٹھ پھیرلی اور منہ موڑ لیا تھا اب جہنم انہیں اپنی طرف بلائے گی اور اس طرح نہیں بلائے گی کہ چاہیں تو جائیں اور چاہیں تو نہ جائیں۔ (2) وجمع فاوعی :”اوعی“ ‘”وعائ“ برتن کو کہتے ہیں، یعنی برتن میں بند رکھا۔ پچھلی آیت اور اس آیت سے معلوم ہوا کہ کفار کے جہنم میں جانے کے دو بڑے اسباب ہیں، ایک ایمان نہ لانا بلکہ حق بات سن کر منہ پھیرلینا اور دوسرا شدید بخل۔ دیکھیے سورة حاقہ (33، 34)۔ (3) جہنم کا کلام کرنا ان آیات سے بھی ثابت ہوتا ہے اور سورة ق کی آیت (30) :(وتقول ھل من مرید) سے بھی۔ ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے…
Read the full tafseer →وجمع فاوعی۔ مال کو جمع کیا اور اسے برتن میں محفوظ کیا اور اللہ تعالیٰ کے حق کو روک لیا پس وہ جمع کرنے والے بھی ہیں اور منع کرنے والے بھی ہیں۔ حکم نے کہا : عبداللہ بن حکیم اپنے تھیلے کا منہ نہ باندھتے تھے وہ کہتے میں نے اللہ تعالیٰ کو ارشاد فرماتے ہئوے سنا وجمع فاوعی
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–18
11۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت نزعۃ للشوی سے مراد ہے کہ وہ ام الراس یعنی دماغ کو جڑ کو نوچ لے گی۔ 12۔ عبدالرزاق وعبد ببن حمید وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ وہ آگ اس کی کھوپڑی اور اس کے چہرے کے حسن کو اتاردے گی آیت تدعوا من ادبر یعنی جس نے اللہ کی اطاعت سے پیٹھ پھیری اس کو بلائے گی۔ وتولی اور جس نے اللہ کی کتاب سے اور اس کے حق سے منہ موڑا آیت وجمع فاوعدی یعنی برائی کے لیے بہت سا مال جمع کرتا رہا 13۔ عبد بن حمید نے قرعہ بن خالد (رح) آیت نزاعۃ للشوی کے بارے میں روایت کیا کہ وہ کھوپڑی کی کھال کو اتار دے گا اور اس میں سے ہر چیز کو جلادے گا اور اس کا دل باقری رہا جائے گا…
Read the full tafseer →[وَجَمَعَ فَاَوْعٰى: اور جمع کیا (مال) پھر محفوظ رکھا ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–18
اسی کو فرمایا : ﴿كَلَّا ﴾ (ہرگز ! ایسا نہ ہوگا) کہ کوئی شخص اپنی جان کا بدلہ دے کر چھوٹ جائے۔ ﴿اِنَّهَا لَظٰىۙ0015 نَزَّاعَةً لِّلشَّوٰىۚۖ0016﴾ (بلاشبہ وہ دوزخ سخت گرم چیز ہے جو سر کی کھال اتار دینے والی ہے) جب دوزخ کی آگ جلائے گی تو سر کی چمڑی اتر کر علیحد ہوجائے گی۔ ﴿ تَدْعُوْا مَنْ اَدْبَرَ وَ تَوَلّٰىۙ0017﴾ (دوزخ اس کو پکارے گی جس نے دنیا میں پشت پھیری اور بےرخی کی اور مال جمع کیا اور پھر اس کی حفاظت کرتا رہا) ۔ ﴿يَوَدُّ الْمُجْرِمُ ﴾ سے یہاں تک کافر کا حال بیان ہوا ہے۔ پہلے تو یہ بتایا کہ کافر مجرم عذاب سے بچنے کے لیے اپنے قریب ترین رشتہ داروں کو اور کنبہ قبیلہ کو اور جتنے بھی اہل زمین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–35
مجازات عناد وسرکشی کفار وشدت کرب و اضطراب در روز قیامت : قال اللہ تعالیٰ (آیت) ” سال سآئل بعذاب واقع ...... الی ...... فی جنت مکرمون “۔ (ربط) گذشتہ سورت کا مضمون اہل جہنم کے احوال پر مشتمل تھا اور یہ کہ مجرموں کو کس ذلت کے ساتھ خدا کے عذاب اور قہر کی گرفت میں لیاجائے گا اب اس سورت میں ایسے مجرمین کی معاندانہ روش بیان کرکے اس پر مذمت اور سزا کا ذکر فرمایا جارہا ہے اور یہ کہ روز قیامت ایسے سرکشوں کی بےبسی کا کیا عالم ہوگا جو دنیا میں غرور ونخوت کا پیکر بنے ہوتے تھے ارشاد فرمایا۔ مانگا ہے ایک مانگنے والے نے ایسا عذاب جو واقع ہونے والا ہے کافروں کے واسطے جس کو کوئی ٹلانے والا نہیں وہ عذاب ہر حال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–18
5:۔ ” یود المجرم لو یفتدی “ سے لے کر ” ثم ینجیہ “ تک یود کا مفعول ہے۔ قیامت کا منظر ایسا ہولناک اور عبرتناک ہوگا کہ اس دن مشرک کی تمنا ہوگی کہ آج وہ اپنے بیٹوں کو، اپنی بیوی کو، اپنے بھائی کو، اپنے خاندان کو جو دنیا میں اس کا ناصر و حامی تھا، بلکہ دنیا میں رہنے والی ساری مخلوق کو بطور فدیہ دے کر عذاب سے اپنی جان بچالے۔ ” کلا “ لیکن ایسا ہرگز نہیں ہوگا اور عذاب سے کسی طرح کا بھی چھٹکارہ نہیں ہو سکے گا۔ ” انہا لظی “ وہ دوزخ کی آگ بھڑکتا ہوا شعلہ ہوگی اور دوزخیوں کی کھال ادھیڑ دے گی جنہوں نے دنیا میں دین حق سے منہ پھیرا اور اعراض کیا مال و دولت کا ذخیرہ کیا اور راہ حق میں اس کو کرچ نہ کیا، وہ ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–28
گذشہ سے پیوستہ : گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے پانے منہ سے عذاب مانگنے والوں اور قیامت کا مطالبہ کرنے والوں کا رد فرمایا۔ اور کہا کہ یہ لوگ قیامت کو بعید سمجھتے ہیں۔ حالانکہ وہ قریب ہے اور اپنے وقت پر آئے گی۔ اس دن مجرم آرزو کریگا کہ کاش اپنے بیٹوں ، بیوی ، بھائی ، قبیلے اور تمام روئے زمین والوں کو فدیہ دے کر اپنی جان چھڑالے ، مگر ایسا نہیں ہوگا۔ فرمایا ایسا ہرگز نہیں ہوگا۔ اول تو ان تمام چیزوں کا فدیہ بننا ہی محال ہے۔ اور اگر بالفرض ایسا ہو بھی جائے تو یہ باطل آرزو پوری نہیں ہوگی۔ اس مقام پر سب سے پہلے بیٹوں کا ذکر کیا کہ آدمی کا سب سے زیادہ حق اور تسلط بیٹوں پر ہوتا ہے۔ اگر کہیں یر غمال…
Read the full tafseer →وَجَمَعَ فَاَوْعٰى 18 وعی الوَعْيُ : حفظ الحدیث ونحوه . يقال : وَعَيْتُهُ في نفسه . قال تعالی: لِنَجْعَلَها لَكُمْ تَذْكِرَةً وَتَعِيَها أُذُنٌ واعِيَةٌ [ الحاقة/ 12] . والإِيعَاءُ : حفظ الأمتعة في الوِعَاءِ. قال تعالی: وَجَمَعَ فَأَوْعى[ المعارج/ 18] قال الشاعر : وقال تعالی: فَبَدَأَ بِأَوْعِيَتِهِمْ قَبْلَ وِعاءِ أَخِيهِ ثُمَّ اسْتَخْرَجَها مِنْ وِعاءِ أَخِيهِ [يوسف/ 76] ( و ع ی ) الوعی ( ض ) کے معنی ( عموما ) بات وغیر کو یاد کرلینا کے ہوتے ہیں جیسے وعیتہ فی نفسی میں نے اسے یاد کرلیا قرآن میں ہے : ۔ لِنَجْعَلَها لَكُمْ تَذْكِرَةً وَتَعِيَها أُذُنٌ واعِيَةٌ [ الحاقة/ 12] تاکہ اس کو تمہارے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–18
ترکیب : یوم ناصبہ قریبا والتقدیر ونراہ قریبا یوم یکون کذاو یمکن ان یکون بدلا عن فی یوم ان علق بہ ولایسئل قراء الجمہور مبینا للفاعل فالمفعول الثانی محذوف ای لایسل حمیم حمیما نصرہ ولاشفاعتہ وقریٔ مبنیا للمفعول علی اسقاط حرف الجرای لایسئل حمیم عن حمیم این حمیمک وکیف حالہ الحمیم القریب یبصرونہم یقال بصرت بہ ابصرویقال بصرت ازید بکذافاذا حذفت الجارقلت بصر فی زید کذا۔ استیناف اوحال وجمع الضمیرین لعموم الحمیم لکونہ واقعافی سیاق النفی۔ لو یفتدی (بمعنی ان والجملۃ مفعول یود المجرم فاعلہ و من معطوف علی نبیہ والجملۃ حال من احد الضمیرین فی یبصرونہم او استیناف ثم ینجیہ عطف علی یفتدی ای یودلویفتدی ثم ینجیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
تَدْعُوْا مَنْ اَدْبَرَوَتَوَلّٰی۔ وَجَمَعَ فَاَوْعٰی۔ (المعارج : 17، 18) (وہ ان سب کو کھینچ بلائے گی، جنھوں نے حق سے منہ موڑا اور پیٹھ پھیری۔ اور مال جمع کیا اور سینت سینت کر رکھا۔ ) آج بڑے چھوٹے کافروں کا حال یہ ہے کہ انھیں اللہ تعالیٰ کے پیغمبر، اللہ تعالیٰ کے دین کی طرف دعوت دیتے، اللہ تعالیٰ کی بندگی کی طرف بلاتے اور اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کرنے کی ترغیب دیتے ہیں۔ لیکن وہ پیٹھ پھیر کر چل دیتے ہیں، دعوت کی طرف توجہ دینے کی بھی زحمت نہیں کرتے، پلٹ کر کبھی نہیں پوچھتے کہ آخر تم کہتے کیا ہو۔ اور منافقین کا حال یہ ہے کہ انھیں اللہ تعالیٰ کے راستے میں جب انفاق کی دعوت دی جاتی ہے تو بجائے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–18
فہم القرآن ربط کلام : قیامت کے دن آسمان تابنے کی مانند ہوجائے گا اور پہاڑ دھنی اوئی روئی کی طرح ہوں گے اس دن باہمی محبتیں ختم اور رشتے ناطے ٹوٹ جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے جب انسان کو پیدا فرمایا تو اس کے وجود میں ایک دوسرے کے ساتھ محبت اور مہربانی کرنے کا جذبہ بھی پیدا فرمایا اور ایک دوسرے کے ساتھ لوگوں کے رشتے ناطے جوڑ دیئے، اسی ہمدردی اور رشتے ناطوں کی بنیاد پر دنیا کا نظام قائم اور چل رہا ہے۔ لیکن قیامت کے دن مجرموں کی ایک دوسرے کے ساتھ محبت اور رشتے ناطے ختم ہوجائیں گے، کیونکہ رب ذوالجلال کا فرمان ہے کہ قیامت کے دن کوئی جگری دوست اپنے جگری دوست کی خبر نہیں لے گا۔ حالانکہ وہ ایک دوسرے کو…
Read the full tafseer →18 : وَجَمَعَ (اور جمع کیا ہوگا) یعنی مال فَاَوْعٰی (پھر اس کو اٹھا اٹھا کررکھا ہوگا) پھر اس کو تجوری میں رکھ کر اس میں سے اللہ تعالیٰ کا حق ادا نہیں کیا۔
Read the full tafseer →17 ۔” تدعوا “ آگ اپنی طرف ” من ادبر “ ایمان سے۔ ” وتولی “ حق سے۔ پس آگ کہے گی میری طرف آ اے مشرک ! میری طرف آ اے منافق ! ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کافروں و منافقوں کو ان کے ناموں سے پکارے گی فصیح زبان میں پھر ان کو اٹھالے گی جیسے پرندہ دانہ کو چگ لیتا ہے۔ خلیل (رح) سے نقل کیا گیا ہے وہ فرماتے ہیں ” تدعوا “ یعنی عذاب دے گی اور کہتے ہیں ایک بدو نے دوسرے کو کہا دعاک اللہ یعنی تجھے اللہ عذاب دے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–18
8۔ 18۔ اوپر ان لوگوں کا ذکر تھا جو عذاب کی جلدی کرتے تھے ان آیتوں میں پہلے صور سے لے کر دوزخ میں جانے تک کا حال فرمایا تاکہ ان عذاب کے جلدی کرنے والوں کو معلوم ہوجائے کہ دنیا میں اگر ان پر کسی عذاب کے آنے کا اللہ کا حکم نہ بھی ہوا تو قیامت کے دن ایسے جزا و سزا کے منکر لوگوں پر سخت عذاب آنے والا ہے جس کے چھٹکارے کے بدلے میں یہ لوگ اپنے بی بی بچوں اور ساری دنیا کو دینے پر آمادہ ہوجائیں گے۔ جب بھی ان کا چھٹکارا نہ ہوگا۔ مھل کے معنی پگھلا ہوا تانبا۔ عھن کے معنی رنگین دھنی ہوئی اون جو نہایت ہلکی ہوجاتی ہے اور ہوا میں بہت جلدی اڑ جاتی ہے۔ اس دن ہر ایک کو اپنی جان کی ایی پڑی ہوگی کہ ایک دوسرا دیکھے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
(تدعوا) ۔ اپنی طرف بلائے گی (من ادبر و تولی۔ وجمع فاوعی) ۔ اس کو جس نے اتباع حق سے پیٹھ پھیری، اس سے منہ موڑا اور حق سے کوئی غرض نہ رکھی، مال پہ مال جمع کرتا رہا اور اسے سینت سینت کر رکھتا رہا، اس میں سے اللہ کے راستے میں کچھ بھی خرچ نہ کیا جسے خرچ کرکے اپنے آپ سے جہنم کو دور کرتا پس جہنم ان لوگوں کو اپنی طرف بلاتی ہے اور ان پر شعلہ زن ہونے کے لیے تیار رہتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–20
15 آتش دوزخ کے مطلوب لوگوں کی صفات و خصال کا ذکر وبیان : سو اس کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا کہ وہ بلا رہی ہوگی ہر اس شخص کو جس نے منہ موڑا ہوگا۔ اور اس نے پیٹھ پھیری ہوگی۔ نور حق و ہدایت سے۔ اور جو سینت سینت کر رکھتا تھا اپنے مال کو اپنی تجوریوں ‘ اور بکسوں کے اندر ‘ اور اپنے بینکوں اور خزانوں میں ‘ اور دوسرے طرح طرح کے حیلوں حوالوں سے اور نہ اس میں اس نے اللہ کا حق ادا کیا اور نہ اس کے بندوں کا ‘ (ابن کثیر ‘ مدارک ‘ محاسن ‘ صفوہ وغیرہ) اللہ کی راہ میں اور اس کی رضا کیلئے خرچ کرنا اس پر بہت گراں تھا ‘ جبکہ آخرت کی فوز و فلاح کا تقاضا یہ تھا کہ انسان اپنا مال دنیا کی تجوریوں کی بجائے اللہ کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–21
صبر کی تلقین، قیامت کی سختی اور سزائیں تشریح : حدیث پاک میں ہے۔ سیدنا ابوہریرہ ؓ نے یہ روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میری بعثت کے بعد قیامت اب اتنی نزدیک ہے جتنی میری یہ دو انگلیاں ایک دوسری کے نزدیک ہیں ( قیامت نزدیک آپہنچی ہے) ۔ (بخاری ) قیامت کے ممکنہ حالات اور زمین کی ہر طرح سے تباہی کے واقعات اور اسباب بڑی وضاحت سے بیان کئے جا چکے ہیں۔ انسانوں کے لئے تو قیامت اس وقت ہی آجاتی ہے جب وہ مرتے ہیں۔ میدان حشر میں اس قدر دہشت اور افراتفری پھیلی ہوئی ہوگی کہ کوئی کسی کو پہنچانے گا بھی نہیں بلکہ ہر ایک کو اپنی ہی پڑی ہوگی۔ اور بےبسی کا یہ عالم ہوگا کہ گناہوں کے بدلے جو سزاء ملے گی اس کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–34
سورة المعارج۔ آیات 1 تا 35۔ اسرار ومعارف۔ مانگنے والے نے عذاب مانگا کہ کفار نے کہا تھا کہ اگر یہ قرآن حق ہے تو ہم پر عذاب نازل کر لیکن عموما کفار کے عمل سے ظاہر ہے کہ ان کی طرح یہ بھی سمجھتے ہیں کہ ایسا کچھ نہ ہوگا اور ہم اپنی پسند دنیا پہ نافذ کرسکتے ہیں مگر یہ حق ہے اور کفار پر عذاب آئے گا اور اسے کوئی روک نہ سکے گا یہ عذاب اس اللہ کی طرف سے جو بلندیوں اور عظمتوں کا مالک ہے۔ مومن کی روح عظمتوں سے واقف ہے۔ جن بلندیوں سے فرشتے آگاہ ہیں اور اس دن بھی چڑھیں گے ۔ جو پچاس ہزار سال کا ہوگا اور مومن کی ارواح کے بھی صاحب روح المعانی کے مطابق زینہ بہ زیرنہ درجات ہیں جو عظمت الٰہی پہ دلالت کرتے ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–20
ف 5 مصیبت یعنی محتاجی اور بیماری وغیرہ
Read the full tafseer →(70:18) وجمع فاوعی : اس کا عطف بھی من ادبر پر ہے واؤ عاطفہ ہے۔ جمع ای جمع مال الدنیا۔ اور دنیا کا مال اکٹھا کیا۔ فاوعی میں فاء تعقیب کا ہے اوعی۔ ماضی کا صیغہ واحد مذکر ایعاء (افعال) مصدر سے۔ جس کے معنی مال و اسباب کو کسی چیز میں محفوظ کر رکھنے کے ہیں۔ وجمع فاوعی : اور (دوزخ کی آگ اس کو بھی پکارے گی) جس نے دنیا کا مال اکٹھا کیا پھر محفوظ کرکے اسے بند کرلیا اور جہاں اسے خرچ کرنا چاہیے تھا وہاں خرچ نہ کیا۔ الوعاء کے معنی بوری یا تھیلہ کے ہیں جس میں دوسری چیزیں اکٹھی کرکے رکھی جاتی ہیں اس کی جمع ادعیۃ ہے۔ قرآن مجید میں ہے :۔ ثم استخرجھا من وعاء اخیہ (12:76) پھر اپنے بھائی کے شلیتے میں سے اس کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–18
لغات القرآن۔ سال۔ سوال کیا۔ مانگا۔ ذی المعارج۔ زینوں والا۔ خمیسین الف۔ پچاس ہزار۔ المھل۔ دھنکی ہوئی روئی۔ فصیلۃ ۔ کنبہ۔ خاندان۔ توی۔ وہ رہتا ہے۔ لظی۔ بھڑکتی آگے۔ نزاعۃ۔ کھینچنے والی۔ الشوی۔ کھال اور اس کا ٹکڑا۔ اوعی۔ سنبھال کر رکھتا ہے۔ تشریح : کفار مکہ اللہ تعالیٰ سے خیر اور بھلائی مانگنے کے بجائے اس کے عذاب اور قیامت آنے کی جلدی کیا کرتے تھے۔ حالانکہ وہ اس عذاب اور قیامت کا سوال کریں یا نہ کریں وہ تو بہرحال اپنے وقت پر واقع ہو کر رہے گے اور جب قیامت کے دن کفار ومشرکین پر عذاب آئے گا تو وہ اس قدر بھیانک اور سخت عذاب ہوگا جس کو ساری دنیا مل کر بھی نہ ٹال سکے گی کیونکہ یہ عذاب اس اللہ کی طرف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–18
قیامت کا ذکر اور دوزخ کی ہولناکی۔ (ف 1) اوپر ان لوگوں کا ذکر تھا جو عذاب کی جلدی کرتے تھے ان آیتوں میں پہلے صور سے لے کر دوزخ میں جانے تک کا حال فرمایا تاکہ ان عذاب کے جلدی کرنے والوں کو معلوم ہوجائے کہ دنیا میں اگر ان پر کسی عذاب کے آنے ک اللہ کا حکم نہ بھی ہوا ، تو قیامت کے دن ایسے جزا وسزا کے منکرلوگوں پر وہ سخت عذاب آنے والا ہے ، جس کے چھٹکارے کے بدلے میں یہ لوگ اپنی بی بی بچوں اور ساری دنیا کو دینے پر آمادہ ہوجائیں گے جب بھی ان کا چھٹکارا نہ ہوگا۔ ” لعھن “ کے معانی رنگینی دھنی ہوئی اون جو نہایت ملکی ہوجاتی ہے اور ہوا میں بہت جلدی اڑجاتی ہے، اس دن ہر ایک کو اپنی جان کی ایسی پڑی ہوگی کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–18
[5] یعنی ایسا صبر جس میں شکوہ و شکایت کا نام بھی نہ ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–35
نمازی کی سیرت 2: قرآن حکیم یہ خوبی شان امتیاز رکھتی ہے ۔ کہ اس میں حقائق نفسیات کا بھی مذکر ہے ۔ یعنی اس کتاب علم ومعرفت میں یہ بھی بتایا گیا ہے ۔ کہ انسانی فطرت کیا ہے ؟ فرمایا ۔ اس میں ایک ہم گیر عیب یہ ہے ۔ کہ یہ کم ہمت اور بےصبر ہے ۔ اگر اس کو ذرا تکلیف پہنچتی ہے ۔ تو بلبلا اٹھتا ہے ۔ اور نالہ وشیون سے آسمان سر پر اٹھا لیتا ہے ۔ اور جہاں بیٹھتا ہے اسی بات کا تذکرہ کرتا ہے ۔ کہ میں بہت مصیبت زدہ ہوں ۔ مجھ کو فلک ستم شیوہ نے بہت دکھ پہنچایا ہے ۔ اور اگر برے دن پھرجائیں اور آسودہ حال ہوجائے ۔ تو پھر انتہا درجے کا بخیل اور ممسک ہوجاتا ہے ۔ پائی پائی کو گنتا ہے ۔ اور پیسے پیسے کا حساب رکھتا…
Read the full tafseer →(18) اور جس نے مال جمع کیا ہوگا اور اسمال کو محفوظ جگہ میں سینت سینت کررکھا ہوگا۔ یعنی اگر یہ اختیار ہو کہ اس دن کوئی فدیہ دیدے اور تمام روئے زمین کا مال یا انسان اپنے کو عذاب سے چھڑانے کے لئے پیش کردے تب بھی عذاب سے نجات نہیں مل سکے گی۔ لظیٰ بھڑکتی ہوئی دہکتی ہوئی خالص شعلے اور لھب کہتے ہیں جس میں دھواں وغیرہ کچھ نہ ہو بلکہ خالص آگ کا شعلہ ہو۔ درکات جہنم میں سے دوسرے درک کا نام بھی لظیٰ ۔ شویٰ آدمی کے اطراف مثلاً ہاتھ اور پائوں یا انسان کی کھال ، دماغ کی کھال، کلیجہ نکال لینے والی، بہرحال وہ آگ ایسی تیز ہے کہ کھال کھینچ لیتی ہے پھر یہ کہ وہ خود ایک ایک کافر اور منافق اور مال جمع کرنے والے کو…
Read the full tafseer →ف 7۔ مطلب یہ کہ حقوق اللہ و حقوق العباد کو تلف کیا ہوگا، یا اشارہ ہے فساد عقائد و فساد اخلاق کی طرف، خلاصہ یہ ہے کہ ایسے صفات موجب استحقاق نار ہیں اور اس مجرم میں یہ صفات پائے جاتے تھے، پھر نجات عن العذاب کب متصور ہے۔
Read the full tafseer →اس کو جس نے مال جمع کیا اور اس کو سنبھال کر رکھا ہو گا 18 ؎ گزشتہ آیت کے مضمون کی مزید وضاحت کی جا رہی ہے کہ وہ آگ بلائے گی اور بھڑک بھڑک کر آوازیں دے رہی ہوگی تم بھی ادھر آ جائو کہ تم کو مال و دولت کے جمع کرنے کا بہت شوق تھا اور تمہارا مشغلہ ہی مال جمع کرنا اور اس کو سنبھال سنبھال کر رکھنا تھا۔ (فاوعی) اس نے سینت کر رکھا۔ اس نے حفاظت سے رکھا۔ ایعاء سے جس کے معنی مال و اسباب کو کسی چیز میں محفوظ کر کے رکھنے کے ہیں۔ ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب۔ مال اور اسباب دنیا میں کام آنے والی چیز ہیں لیکن آخرت کے سنوارنے کا انحصار بھی ان پر ہے خصوصاً ان لوگوں کی آخرت جن کو اللہ تعالیٰ نے مال و دولت دی ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
تَدْعُو مَنْ أَدْبَرَ وَتَوَلَّىٰ وَجَمَعَ فَأَوْعَىٰ (It will call him who had turned his back and fled away (from the truth.) and accumulated (wealth) and hoarded (it)....70:17, 18). The phrase 'accumulated wealth' signifies 'wealth accumulated by unlawful means' and the phrase 'hoarded it' signifies 'not fulfilling the pecuniary obligations as imposed by the Shari` ah', as is confirmed by authentic ahadi'th.
Read the full tafseer →12 Here also, as in Al-Haaqqah: 33-34, two causes have been mentioned of a person's evil end in the Hereafter: (1) His repudiation of the Truth and refusal to affirm faith; and (2) his worship of the world and stinginess because of which he amasses wealth and refuses to spend it on any good cause.
Read the full tafseer →