Al-Ma'aarij 70:17

Al-Ma'aarij · from ayah 17

70:17

تَدْعُوْا مَنْ اَدْبَرَ وَتَوَلّٰی ۟ۙتَدۡعُوۡا مَنۡ اَدۡبَرَ وَتَوَلّٰىۙ‏

ان لوگوں کو اپنی طرف بلائے گی جنہوں نے (دین حق سے) اعراض کیا

— Fateh Muhammad Jalandhari

It invites he who turned his back [on truth] and went away [from obedience]

— Saheeh International

Juz 29 · Ruku 1 of surah · Ruku 7 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Ma'aarij

All translations of 70:17

پکار پکار کر اپنی طرف بلائے گی ہر اُس شخص کو جس نے حق سے منہ موڑا اور پیٹھ پھیری

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

ان لوگوں کو اپنی طرف بلائے گی جنہوں نے (دین حق سے) اعراض کیا

— مولانا فتح محمد جالندہری

وه ہر اس شخص کو پکارے گی جو پیچھے ہٹتا اور منھ موڑتا ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

ہر اس شخص کو بلائے گی جس نے پیٹھ پھیر کر منہ موڑا ہوگا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اس کو جس نے پیٹھ دی اور منہ پھیرا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

وہ اُسے بلا رہی ہے جس نے (حق سے) پیٹھ پھیری اور رُوگردانی کی،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

وہ (ہر) اس شخص کو پکارے گی جس نے پیٹھ پھیری اور منہ موڑا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

وہ ہر اس شخص کو بلائے گی جس نے حق سے پیٹھ پھیری اور سرتابی کی

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

جنہوں نے پیٹھ پھیری اور اعراض کیا

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

تو (پکار پکار کر اپنی طرف) بلا رہی ہوگی ہر اس شخص کو جس نے منہ موڑا ہوگا (حق سے) اور پیٹھ پھیری ہوگی

— مولانا اسحاق مدنی

اور وہ اس شخص کو بلاوا دے گی جس نے پیٹھ پھیری ہوگی اور روگردانی کی ہوگی

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

وہ پکارے گی ہر اس شخص کو جس نے پیٹھ موڑ لی تھی اور رُخ پھیرلیا تھا

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

ان لوگوں کو اپنی طرف بلائے گی جنہوں نے دین حق سے اعراض کیا اور منہ پھیرلیا

— محترمہ رفعت اعجاز

It shall insistently summon him who turned his back and retreated,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

It will call him who had turned his back and fled away (from the truth)

— Muhammad Taqi Usmani

It will call him who had turned his back and fled away (from the truth)

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Calling (all) such as turn their backs and turn away their faces.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

It calleth him who turned and fled (from truth),

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

It invites he who turned his back [on truth] and went away [from obedience]

— Saheeh International

and drag into it anyone who has turned away (from obeying God),

— Muhammad Sarwar

It shall claim him who turned and fled (from truth),

— Muhammad Habib Shakir

It shall calll him who turneth back and backslideth.

— Abdul Majid Daryabadi

Inviting (all) such as turn their backs and turn away their faces (from the Right).

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 70:17

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 8–18

عذاب کے طالب عذاب دیئے جائیں گے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جس عذاب کو یہ طلب کر رہے ہیں وہ عذاب ان طلب کرنے والے کافروں پر اس دن آئے گا جس دن آسمان مثل مھل کے ہوجائے، یعنی زیتون کی تلچھٹ جیسا ہوجائے، اور پہاڑ ایسے ہوجائیں جیسے دھنی ہوئی اون، یہی فرمان اور جگہ ہے آیت (وَتَكُوْنُ الْجِبَالُ كَالْعِهْنِ ۙ) 70۔ المعارج :9) پھر فرماتا ہے کوئی قریبی رشتہ دار کسی اپنے قریبی رشتہ دار سے پوچھ گچھ بھی نہ کرے گا حالانکہ ایک دوسرے کو بری حالت میں دیکھ رہے ہوں گے لیکن خود ایسے مشغول ہوں گے کہ دوسرے کا حال پوچھنے کا بھی ہوش نہیں سب آپا دھاپی میں پڑے ہیں، حضرت ابن عباس فرماتے ہیں ایک دوسرے کو دیکھے گا پہچانے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 11–17

سورة الْمَعَارِج 11 یعنی ایسا نہ ہوگا کہ وہ ایک دوسرے کو دیکھ نہیں رہے ہوں گے اس لیے نہ پوچھیں گے نہیں، ہر ایک آنکھوں سے دیکھ رہا ہوں گا کہ دوسرے پر کیا بن رہی ہے اور پھر وہ اسے نہ پوچھے گا، کیونکہ اس کو اپنی ہی پڑی ہوگی۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 15–18

كَلَّا ۭ اِنَّهَا لَظٰى 15 ۝ ۙنَزَّاعَةً لِّلشَّوٰى، انا کی ضمیر نار کی طرف راجع ہے اور نطی کے معنے خالص شعلہ بغیر آمیزش کے اور شوی شواة کی جمع ہے جس کے معنی سر کی کھال کے بھی ہیں اور ہاتھوں پاؤں کی کھال کے بھی، یعنی جہنم کی آگ ایک سخت بھڑکنے والا شعلہ ہوگا جو دماغ کی یا ہاتھوں پاؤں کی کھال اتار دے گا۔ ښتَدْعُوْا مَنْ اَدْبَرَ وَتَوَلی، ۙوَجَمَعَ فَاَوْعٰى خود بلائے گی یہ آگ اس شخص کو جس نے حق سے پیٹھ موڑی اور رخ پھیرا اور مال جمع کیا پھر اس کو روک کر رکھا۔ مراد جمع کرنے سے وہ ہے کہ خلاف شرع ناجائز طریقوں سے جمع کرے اور روکنے سے مراد یہ ہے کہ مال پر عائد ہونے والے فرائض و واجبات ادا نہ کرے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

یعنی آج تو اللہ کی بندگی، اس کے عذاب سے بچنے اور اس کی راہ میں انفاق کی دعوت دی جاتی ہے تو لوگ پیٹھ پھیرتے اور اعراض کرتے ہیں لیکن اس دن جہنم کے عذاب سے پیٹھ پھیرنے اور اعراض کرنے کا کوئی امکان نہ ہو گا۔ جہنم سارے اعراض و انکار کرنے والوں کو کھینچ بلائے گی۔ لفظ ’تَدْعُوْا‘ یہاں نہایت بلیغ ہے۔ یعنی پیغمبرؐ کی پرمحبت دعوت جن کے دلوں پر اثر انداز نہیں ہو رہی ہے وہ یاد رکھیں کہ ان سنگ دلوں کو ایک دن جہنم بلائے گی اور اس طرح بلائے گی کہ کسی کے لیے بھی کوئی راہ فرار باقی نہیں رہے گی۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 16–17

16۔ 1 یعنی گوشت اور کھال کو جلا کر رکھ دے گی۔ انسان صرف ہڈیوں کا ڈھانچہ رہ جائے گا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

4: یعنی جس جس نے دنیا میں حق سے پیٹھ موڑی ہوگی اسے وہ اپنے پاس بلا لے گی۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 17–18

تدعوا .................... فاوعی (07 : 81) ” پکار پکار کر اپنی طرف بلائے گی ہر اس شخص کو ، جس نے حق سے منہ موڑا اور پیٹھ پھیری اور مال جمع کیا اور سینت سینت کر رکھا “۔ یہ اس کو اسی طرح بلائے گی جس طرح اسے اس سے قبل دنیا میں راہ ہدایت کی طرف بلایا جاتا تھا۔ اور یہ پیٹھ پھیر کر چلا جاتا تھا۔ لیکن آج جبکہ اسے یہ بلارہی ہے تو اس قابل نہیں ہے کہ پیٹھ پھیر کر چلا جائے۔ اس سے قبل یہ دعوت اسلامی کے مقابلے میں مال جمع کرنے میں لگا ہوا تھا اور اس مال کو وہ برتنوں اور تجوریوں میں محفوظ کرکے رکھتا تھا۔ اور آج یہ دعوت بلائے جہنم کی طرف سے ہے۔ نہ یہ اسے رد کرسکتا ہے نہ مال دے کر جان کو چھڑا سکتا ہے۔ اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 17–18

1 یعنی دوزخ کی طرف سے ایک کشش اور پکار ہوگی۔ بس جتنے لوگ دنیا میں حق کی طرف سے پیٹھ پھیر کر چل دیے تھے اور عمل صالح کی طرف سے اعراض کرتے اور مال سمیٹنے اور سینت کر رکھنے میں مشغول رہے تھے۔ وہ سب دوزخ کی طرف کھنچے چلے آئیں گے۔ بعض آثار میں ہے کہ دوزخ اول زبان قال سے پکارے گی " اِلَیَّ یَا کَافِرْ ، اِلَیَّ یَا مُنَافِقِ ، اِلَیَّ یَا جَامِعُ الْمَالِ " (یعنی او کافر ! او منافق ! او مال سمیٹ کر رکھنے والے ! ادھر آ) لوگ ادھر ادھر بھاگیں گے۔ اس کے بعد ایک بہت لمبی گردن نکلے گی جو کفار کو چن چن کر اس طرح اٹھا لے گی جیسے جانور زمین سے دانہ اٹھا لیتا ہے۔ (العیاذ باللہ)

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

جہنم کی آگ ہر اس شخص کو پکار پکار کر اپنی طرف بلائے گی اور ڈھونڈ ڈھونڈ کر شکارکرے گی جس نے حق سے اعراض کیا تھا اور اللہ کے کلام کو پس ِپشت ڈال دیا تھا۔ دین کی دعوت اور نبی کریم ﷺ کے مشن کو کبھی لائق اعتناء نہیں سمجھا تھا۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 17–18

11 آیت نمبر 17 اور نمبر 18 میں انہیں دو بنیادی جرائم کا ذکر کیا گیا ہے۔ جو انسان کو جہنم کا مستحق بنا دیتے ہیں۔ اور ان جرائم کا ذکر سورة الحاقۃ کی آیت نمبر 33 اور 34 کے حاشیہ میں تفصیل سے گزر چکا ہے۔ ایسے ہی لوگوں کو جہنم اپنے ہاں بلا لے گی۔ اور ایک روایت کے مطابق جہنم سے ایک گردن نکلے گی جو جہنم کے مستحق لوگوں کو یوں چن چن کر اٹھا لے گی جیسے کوئی پرندہ زمین سے پڑا ہوا دانہ اٹھا لیتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 15–18

8۔ (دوسروں کا حق کاٹ کاٹ کر) (آیت) ” کلا ..... للشوی “۔ ذکر دوزخ کی دہکتی ہوئی آگ کا ہے کہ وہ کسی کی رورعایت کرنا کیا جانے۔ اور اس کے سامنے ذکر عوض وفدیہ کا کیسا ! (آیت) ” اوعی “۔ کنایہ ہے کمال بخل سے۔ یہ ضرور نہیں کہ کوئی شخص واقعۃ اپنے نقد ومال کو اٹھا اٹھا کر الماریوں اور تجوریوں کے اندر سمیٹ کر رکھے۔ (آیت) ” من ادبر وتولی “۔ یعنی جب دنیا میں ایمان وطاعت کی طرف بلائے جاتے تھے تو بلانے والے کی طرف سے اور اعراض ونفرت کرتے ہوئے بھاگتے تھے۔ مطلب دونوں آیتوں کو ملا کر یہ ہوا کہ حقوق اللہ وحقوق العباد دونوں کو کافر نے دنیا میں ضائع کیا، اور اس سے فساد عقائد اور فساد اخلاق دونوں کی جانب اشارہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 4–18

فی یوم کان مقدارہ خمسین الف سنۃ یہ جملہ فعل محذوف سے متعلق ہے ای یقع فی یوم کان مطلب یہ ہے کہ یہ عذاب جس کا ذکر اوپر آیا ہے کافروں پر ضرور واقع ہو کر رہے گا، اس کا وقوع اس روز ہوگا کہ جس کی مدت پچاس ہزار سال ہوگی حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ صحابہ کرام ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے اس دن کے متعلق سوال کیا جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہوگی کہ یہ دن کتنا دراز ہوگا ؟ تو آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے کہ یہ دن مومن پر ایک فرض نماز ادا کرنے کے وقت سے بھی کم ہوگا، یہ بطور تمثیل کے مومنین پر اس وقت کے ہلکا ہونے کا بیان ہے حضرت ابوہریرہ ؓ کی ایک روایت میں ہے کہ قیامت کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

تدعون ادبر و تولی . حق سے پشت پھیرنے والوں کو اور طاعت سے روگردانی کرنے والوں کو وہ آگ پکارے گی اور کہے گی : اے منافق ! ادھر آ ‘ اے مشرک ! میرے پاس آ۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : کافروں اور منافقوں کو ان کے نام لے کر فصیح زبان سے پکارے گی اور اس طرح اچک لے گی جیسے پرندہ دانہ کو اچک لیتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 14–21

(14۔ 21) اور تمام اہل زمین کو اپنے فدیہ میں دے پھر اللہ تعالیٰ اس کے بدلے میں اس کو عذاب سے بچا لے ایسا ہرگز نہیں ہوگا اللہ تعالیٰ اس کو عذاب سے مطلقا نہیں بچائے گا وہ آگ ایسی شعلہ زن ہے جو کہ ہاتھ پیروں اور تمام بدن کی کھال تک اتار دے گی اور یا یہ کہ اس کے بدن کو جھلس دے گی۔ لظی دوزخ کے ناموں میں سے ایک نام ہے اور وہ شخص کو خوب بلائے گی جس نے توحید سے پشت پھیری ہوگی اور ایمان سے بےرخی کی ہوگی اور کفر سے توبہ نہ کی ہوگی اور دنیا میں مال جمع کیا ہوگا اور اللہ تعالیٰ کا حق نہ ادا کر کے اس کو محفوظ کر کے رکھا ہوگا۔ کافر کم ہمت بخیل لالچی پیدا ہوا ہے جب اس کو فاقہ و تنگی پیش آتی ہے اور صبر نہیں…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 17–18

(1) تدعوا من ادبر وتولی : یعنی جن لوگوں نے دنیا میں ایمان کی طرف بلائے جانے پر پیٹھ پھیرلی اور منہ موڑ لیا تھا اب جہنم انہیں اپنی طرف بلائے گی اور اس طرح نہیں بلائے گی کہ چاہیں تو جائیں اور چاہیں تو نہ جائیں۔ (2) وجمع فاوعی :”اوعی“ ‘”وعائ“ برتن کو کہتے ہیں، یعنی برتن میں بند رکھا۔ پچھلی آیت اور اس آیت سے معلوم ہوا کہ کفار کے جہنم میں جانے کے دو بڑے اسباب ہیں، ایک ایمان نہ لانا بلکہ حق بات سن کر منہ پھیرلینا اور دوسرا شدید بخل۔ دیکھیے سورة حاقہ (33، 34)۔ (3) جہنم کا کلام کرنا ان آیات سے بھی ثابت ہوتا ہے اور سورة ق کی آیت (30) :(وتقول ھل من مرید) سے بھی۔ ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

تدعوا من ادبروتولی۔ دنیا میں جس آدمی نے اللہ تعالیٰ کی طاعت سے رو گردانی کی اور ایمان سے پھر لظی اسے اپنی طرف کھینچے گی۔ اس کا بلاتا یوں ہوگا، اے مشرک ! میری طرف آ۔ اے کافر ! میری طرف آ۔ حضر ابن عباس نے کہا : وہ فصیح زبان سے کافروں اور منفاقوں کو بلائے گی۔ اے کافر ! میرے طرف آ۔ ایم نافق میرے طرف آ۔ پھر وہ انہیں یوں اچک لے گی جس طرح پرندہ دانے کو اچک لیتا ہے۔ ثعلب نے کہا، قدعو کا معنی ہلاک کرنا ہے۔ عرب کہتے ہیں : دعا ک اللہ اللہ تعالیٰ تجھے ہلاک کر دے۔ خلیل نے کہا، یہ تعالوا کی طرح دعوت نہیں ہوگی بلکہ اس کی انہیں دعوت یہ ہوگی کہ وہ ان کو عذاب دینے پر قادر ہوگی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے، داعی جہنم…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 16–18

11۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت نزعۃ للشوی سے مراد ہے کہ وہ ام الراس یعنی دماغ کو جڑ کو نوچ لے گی۔ 12۔ عبدالرزاق وعبد ببن حمید وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ وہ آگ اس کی کھوپڑی اور اس کے چہرے کے حسن کو اتاردے گی آیت تدعوا من ادبر یعنی جس نے اللہ کی اطاعت سے پیٹھ پھیری اس کو بلائے گی۔ وتولی اور جس نے اللہ کی کتاب سے اور اس کے حق سے منہ موڑا آیت وجمع فاوعدی یعنی برائی کے لیے بہت سا مال جمع کرتا رہا 13۔ عبد بن حمید نے قرعہ بن خالد (رح) آیت نزاعۃ للشوی کے بارے میں روایت کیا کہ وہ کھوپڑی کی کھال کو اتار دے گا اور اس میں سے ہر چیز کو جلادے گا اور اس کا دل باقری رہا جائے گا…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[تَدْعُوْا مَنْ اَدْبَرَ : وہ (تپش) بلائے گی اس کو جس نے پیٹھ پھیری)][ وَتَوَلّٰى: اور روگردانی کی ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 15–18

اسی کو فرمایا : ﴿كَلَّا ﴾ (ہرگز ! ایسا نہ ہوگا) کہ کوئی شخص اپنی جان کا بدلہ دے کر چھوٹ جائے۔ ﴿اِنَّهَا لَظٰىۙ0015 نَزَّاعَةً لِّلشَّوٰىۚۖ0016﴾ (بلاشبہ وہ دوزخ سخت گرم چیز ہے جو سر کی کھال اتار دینے والی ہے) جب دوزخ کی آگ جلائے گی تو سر کی چمڑی اتر کر علیحد ہوجائے گی۔ ﴿ تَدْعُوْا مَنْ اَدْبَرَ وَ تَوَلّٰىۙ0017﴾ (دوزخ اس کو پکارے گی جس نے دنیا میں پشت پھیری اور بےرخی کی اور مال جمع کیا اور پھر اس کی حفاظت کرتا رہا) ۔ ﴿يَوَدُّ الْمُجْرِمُ ﴾ سے یہاں تک کافر کا حال بیان ہوا ہے۔ پہلے تو یہ بتایا کہ کافر مجرم عذاب سے بچنے کے لیے اپنے قریب ترین رشتہ داروں کو اور کنبہ قبیلہ کو اور جتنے بھی اہل زمین…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–35

مجازات عناد وسرکشی کفار وشدت کرب و اضطراب در روز قیامت : قال اللہ تعالیٰ (آیت) ” سال سآئل بعذاب واقع ...... الی ...... فی جنت مکرمون “۔ (ربط) گذشتہ سورت کا مضمون اہل جہنم کے احوال پر مشتمل تھا اور یہ کہ مجرموں کو کس ذلت کے ساتھ خدا کے عذاب اور قہر کی گرفت میں لیاجائے گا اب اس سورت میں ایسے مجرمین کی معاندانہ روش بیان کرکے اس پر مذمت اور سزا کا ذکر فرمایا جارہا ہے اور یہ کہ روز قیامت ایسے سرکشوں کی بےبسی کا کیا عالم ہوگا جو دنیا میں غرور ونخوت کا پیکر بنے ہوتے تھے ارشاد فرمایا۔ مانگا ہے ایک مانگنے والے نے ایسا عذاب جو واقع ہونے والا ہے کافروں کے واسطے جس کو کوئی ٹلانے والا نہیں وہ عذاب ہر حال…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 11–18

5:۔ ” یود المجرم لو یفتدی “ سے لے کر ” ثم ینجیہ “ تک یود کا مفعول ہے۔ قیامت کا منظر ایسا ہولناک اور عبرتناک ہوگا کہ اس دن مشرک کی تمنا ہوگی کہ آج وہ اپنے بیٹوں کو، اپنی بیوی کو، اپنے بھائی کو، اپنے خاندان کو جو دنیا میں اس کا ناصر و حامی تھا، بلکہ دنیا میں رہنے والی ساری مخلوق کو بطور فدیہ دے کر عذاب سے اپنی جان بچالے۔ ” کلا “ لیکن ایسا ہرگز نہیں ہوگا اور عذاب سے کسی طرح کا بھی چھٹکارہ نہیں ہو سکے گا۔ ” انہا لظی “ وہ دوزخ کی آگ بھڑکتا ہوا شعلہ ہوگی اور دوزخیوں کی کھال ادھیڑ دے گی جنہوں نے دنیا میں دین حق سے منہ پھیرا اور اعراض کیا مال و دولت کا ذخیرہ کیا اور راہ حق میں اس کو کرچ نہ کیا، وہ ان…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 15–28

گذشہ سے پیوستہ : گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے پانے منہ سے عذاب مانگنے والوں اور قیامت کا مطالبہ کرنے والوں کا رد فرمایا۔ اور کہا کہ یہ لوگ قیامت کو بعید سمجھتے ہیں۔ حالانکہ وہ قریب ہے اور اپنے وقت پر آئے گی۔ اس دن مجرم آرزو کریگا کہ کاش اپنے بیٹوں ، بیوی ، بھائی ، قبیلے اور تمام روئے زمین والوں کو فدیہ دے کر اپنی جان چھڑالے ، مگر ایسا نہیں ہوگا۔ فرمایا ایسا ہرگز نہیں ہوگا۔ اول تو ان تمام چیزوں کا فدیہ بننا ہی محال ہے۔ اور اگر بالفرض ایسا ہو بھی جائے تو یہ باطل آرزو پوری نہیں ہوگی۔ اس مقام پر سب سے پہلے بیٹوں کا ذکر کیا کہ آدمی کا سب سے زیادہ حق اور تسلط بیٹوں پر ہوتا ہے۔ اگر کہیں یر غمال…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

تَدْعُوْا مَنْ اَدْبَرَ وَتَوَلّٰى۝ 17 ۙ دعا الدُّعَاء کالنّداء، إلّا أنّ النّداء قد يقال بيا، أو أيا، ونحو ذلک من غير أن يضمّ إليه الاسم، والدُّعَاء لا يكاد يقال إلّا إذا کان معه الاسم، نحو : يا فلان، وقد يستعمل کلّ واحد منهما موضع الآخر . قال تعالی: كَمَثَلِ الَّذِي يَنْعِقُ بِما لا يَسْمَعُ إِلَّا دُعاءً وَنِداءً [ البقرة/ 171] ، ( د ع و ) الدعاء ( ن ) کے معنی ندا کے ہیں مگر ندا کا لفظ کبھی صرف یا آیا وغیرہ ہما حروف ندا پر بولا جاتا ہے ۔ اگرچہ ان کے بعد منادٰی مذکور نہ ہو لیکن دعاء کا لفظ صرف اس وقت بولا جاتا ہے جب حرف ندا کے ساتھ اسم ( منادی ) بھی مزکور ہو جیسے یا فلان ۔ کبھی یہ دونوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 8–18

ترکیب : یوم ناصبہ قریبا والتقدیر ونراہ قریبا یوم یکون کذاو یمکن ان یکون بدلا عن فی یوم ان علق بہ ولایسئل قراء الجمہور مبینا للفاعل فالمفعول الثانی محذوف ای لایسل حمیم حمیما نصرہ ولاشفاعتہ وقریٔ مبنیا للمفعول علی اسقاط حرف الجرای لایسئل حمیم عن حمیم این حمیمک وکیف حالہ الحمیم القریب یبصرونہم یقال بصرت بہ ابصرویقال بصرت ازید بکذافاذا حذفت الجارقلت بصر فی زید کذا۔ استیناف اوحال وجمع الضمیرین لعموم الحمیم لکونہ واقعافی سیاق النفی۔ لو یفتدی (بمعنی ان والجملۃ مفعول یود المجرم فاعلہ و من معطوف علی نبیہ والجملۃ حال من احد الضمیرین فی یبصرونہم او استیناف ثم ینجیہ عطف علی یفتدی ای یودلویفتدی ثم ینجیہ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 17–18

تَدْعُوْا مَنْ اَدْبَرَوَتَوَلّٰی۔ وَجَمَعَ فَاَوْعٰی۔ (المعارج : 17، 18) (وہ ان سب کو کھینچ بلائے گی، جنھوں نے حق سے منہ موڑا اور پیٹھ پھیری۔ اور مال جمع کیا اور سینت سینت کر رکھا۔ ) آج بڑے چھوٹے کافروں کا حال یہ ہے کہ انھیں اللہ تعالیٰ کے پیغمبر، اللہ تعالیٰ کے دین کی طرف دعوت دیتے، اللہ تعالیٰ کی بندگی کی طرف بلاتے اور اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کرنے کی ترغیب دیتے ہیں۔ لیکن وہ پیٹھ پھیر کر چل دیتے ہیں، دعوت کی طرف توجہ دینے کی بھی زحمت نہیں کرتے، پلٹ کر کبھی نہیں پوچھتے کہ آخر تم کہتے کیا ہو۔ اور منافقین کا حال یہ ہے کہ انھیں اللہ تعالیٰ کے راستے میں جب انفاق کی دعوت دی جاتی ہے تو بجائے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 10–18

فہم القرآن ربط کلام : قیامت کے دن آسمان تابنے کی مانند ہوجائے گا اور پہاڑ دھنی اوئی روئی کی طرح ہوں گے اس دن باہمی محبتیں ختم اور رشتے ناطے ٹوٹ جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے جب انسان کو پیدا فرمایا تو اس کے وجود میں ایک دوسرے کے ساتھ محبت اور مہربانی کرنے کا جذبہ بھی پیدا فرمایا اور ایک دوسرے کے ساتھ لوگوں کے رشتے ناطے جوڑ دیئے، اسی ہمدردی اور رشتے ناطوں کی بنیاد پر دنیا کا نظام قائم اور چل رہا ہے۔ لیکن قیامت کے دن مجرموں کی ایک دوسرے کے ساتھ محبت اور رشتے ناطے ختم ہوجائیں گے، کیونکہ رب ذوالجلال کا فرمان ہے کہ قیامت کے دن کوئی جگری دوست اپنے جگری دوست کی خبر نہیں لے گا۔ حالانکہ وہ ایک دوسرے کو…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

جہنم آوازیں دے گی : 17 : تَدْعُوْا (وہ اس شخص کو بلا وے گی) ان کے اس طرح نام لے گی۔ یا کافر یا منافق۔ میری طرف۔ میری طرف نمبر 2۔ وہ پکار کر کہے گی تو ہلاک ہو۔ یہ دعا ک اللّٰہ سے کیا ہے جس کا معنی اھلکک نمبر 2۔ جب اس کا ٹھکانہ آگ ہے تو گویا آگ کو ایسا قرار دیا گیا کہ وہ اس کو بلا رہی ہے۔ مَنْ اَدْبَرَ (جس نے حق سے پیٹھ پھیری ہوگی) وَتَوَلّٰی (اور بےرخی کی ہوگی) اطاعت سے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

نزاعۃ للشویٰ کی تفسیر 16 ۔” نزاعۃ للشوی “ حفص نے عاصم (رح) سے ” نزاعۃ “ پڑھا ہے حال کی بناء پر منصوب ہے اور دیگر حضرات نے رفع کے ساتھ پڑھا ہے یعنی ” ھی نزاعۃ للشوی “ اور وہ اطراف ، دونوں ہاتھ، دونوں پائوں ہیں اور مجاہد (رح) فرماتے ہیں سر کی کھال کے لئے اور ابراہیم بن مہاجر نے ان سے روایت کیا ہے گوشت ہڈیوں کے بغیر۔ مقاتل (رح) فرماتے ہیں آگ اطراف کو کھینچ لے گی۔ پس نہ گوشت چھوڑے گی نہ کھال اور ضحاک (رح) فرماتے ہیں کھال اور گوشت کی ہڈیوں سے کھینچ لے گی۔ سعید بن جبیر (رح) کی ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ پٹھوں اور پیٹھ کے لئے اور کلبی (رح) فرماتے ہیں سر سے دماغ تک پہنچ جائے گی اور سارا دماغ کھاجائے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 8–18

8۔ 18۔ اوپر ان لوگوں کا ذکر تھا جو عذاب کی جلدی کرتے تھے ان آیتوں میں پہلے صور سے لے کر دوزخ میں جانے تک کا حال فرمایا تاکہ ان عذاب کے جلدی کرنے والوں کو معلوم ہوجائے کہ دنیا میں اگر ان پر کسی عذاب کے آنے کا اللہ کا حکم نہ بھی ہوا تو قیامت کے دن ایسے جزا و سزا کے منکر لوگوں پر سخت عذاب آنے والا ہے جس کے چھٹکارے کے بدلے میں یہ لوگ اپنے بی بی بچوں اور ساری دنیا کو دینے پر آمادہ ہوجائیں گے۔ جب بھی ان کا چھٹکارا نہ ہوگا۔ مھل کے معنی پگھلا ہوا تانبا۔ عھن کے معنی رنگین دھنی ہوئی اون جو نہایت ہلکی ہوجاتی ہے اور ہوا میں بہت جلدی اڑ جاتی ہے۔ اس دن ہر ایک کو اپنی جان کی ایی پڑی ہوگی کہ ایک دوسرا دیکھے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 17–18

(تدعوا) ۔ اپنی طرف بلائے گی (من ادبر و تولی۔ وجمع فاوعی) ۔ اس کو جس نے اتباع حق سے پیٹھ پھیری، اس سے منہ موڑا اور حق سے کوئی غرض نہ رکھی، مال پہ مال جمع کرتا رہا اور اسے سینت سینت کر رکھتا رہا، اس میں سے اللہ کے راستے میں کچھ بھی خرچ نہ کیا جسے خرچ کرکے اپنے آپ سے جہنم کو دور کرتا پس جہنم ان لوگوں کو اپنی طرف بلاتی ہے اور ان پر شعلہ زن ہونے کے لیے تیار رہتی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

14 دوزخ کی آگ مجرموں کو پکارپکار کر بلارہی ہے۔ والعیاذ باللہ : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ دوزخ کی وہ آگ دنیاوی آگ کی طرح اندھی نہیں ہوگی بلکہ وہ دوزخ کی آگ مجرموں کو پکار پکار کر بلا رہی ہوگی کہ ادھر آؤ اے مجرمو ! ‘ چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ وہ پکار پکار کر اپنی طرف بلا رہی ہوگی ہر اس شخص کو جس نے حق سے منہ موڑا ہوگا۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ وہ آگ صاف اور صریح الفاظ میں اپنی طرف بلا رہی ہوگی کہ میری طرف آجا اے کافر ‘ میری طرف آجا اے منافق " الی یا منافق الی یا کافر " اور پھر گردن مبی کرکے ان کو اس طرح اچک لے گی جس طرح کہ پرندہ دانے چگ لیتا ہے (ابن کثیر ‘ قرطبی خازن ‘ مظہری وغیرہ) والعیاذ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 5–21

صبر کی تلقین، قیامت کی سختی اور سزائیں تشریح : حدیث پاک میں ہے۔ سیدنا ابوہریرہ ؓ نے یہ روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میری بعثت کے بعد قیامت اب اتنی نزدیک ہے جتنی میری یہ دو انگلیاں ایک دوسری کے نزدیک ہیں ( قیامت نزدیک آپہنچی ہے) ۔ (بخاری ) قیامت کے ممکنہ حالات اور زمین کی ہر طرح سے تباہی کے واقعات اور اسباب بڑی وضاحت سے بیان کئے جا چکے ہیں۔ انسانوں کے لئے تو قیامت اس وقت ہی آجاتی ہے جب وہ مرتے ہیں۔ میدان حشر میں اس قدر دہشت اور افراتفری پھیلی ہوئی ہوگی کہ کوئی کسی کو پہنچانے گا بھی نہیں بلکہ ہر ایک کو اپنی ہی پڑی ہوگی۔ اور بےبسی کا یہ عالم ہوگا کہ گناہوں کے بدلے جو سزاء ملے گی اس کو…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–34

سورة المعارج۔ آیات 1 تا 35۔ اسرار ومعارف۔ مانگنے والے نے عذاب مانگا کہ کفار نے کہا تھا کہ اگر یہ قرآن حق ہے تو ہم پر عذاب نازل کر لیکن عموما کفار کے عمل سے ظاہر ہے کہ ان کی طرح یہ بھی سمجھتے ہیں کہ ایسا کچھ نہ ہوگا اور ہم اپنی پسند دنیا پہ نافذ کرسکتے ہیں مگر یہ حق ہے اور کفار پر عذاب آئے گا اور اسے کوئی روک نہ سکے گا یہ عذاب اس اللہ کی طرف سے جو بلندیوں اور عظمتوں کا مالک ہے۔ مومن کی روح عظمتوں سے واقف ہے۔ جن بلندیوں سے فرشتے آگاہ ہیں اور اس دن بھی چڑھیں گے ۔ جو پچاس ہزار سال کا ہوگا اور مومن کی ارواح کے بھی صاحب روح المعانی کے مطابق زینہ بہ زیرنہ درجات ہیں جو عظمت الٰہی پہ دلالت کرتے ہیں…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(70:17) تدعوا من ادبر و تولی۔ تدعوا مضارع کا صیغہ واحد مؤنث غائب دعاء (باب نصر) مصدر۔ وہ پکارے گی۔ وہ بلائے گی۔ وہ پکارتی ہے وہ بلاتی ہے (زبان حال سے یاز بان قال سے) واللہ اعلم بالصواب۔ من موصولہ ادبر سلہ، صلہ اور موصول مل کر مفعول تدعوا کا۔ ادبر ماضی معروف کا صیغہ واحد مذکر غائب ادبار (افعال) مصدر۔ اس نے پیٹھ پھیری۔ یعنی دوزخ کی آگ ہر اس شخص کو پکارے گی جس نے دنیا میں حق سے منہ موڑا تھا۔ الی یا مشرک الی یا منافق، ادھر آ اے مشرک ادھر آ اے منافق۔ وتولی کا عطف جملہ سابقہ پر ہے۔ تولی ماضی واحد مذکر غائب تولی (تفعل) مصدر۔ اور جس نے پیٹھ پھیری۔ یا منہ موڑا۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–18

لغات القرآن۔ سال۔ سوال کیا۔ مانگا۔ ذی المعارج۔ زینوں والا۔ خمیسین الف۔ پچاس ہزار۔ المھل۔ دھنکی ہوئی روئی۔ فصیلۃ ۔ کنبہ۔ خاندان۔ توی۔ وہ رہتا ہے۔ لظی۔ بھڑکتی آگے۔ نزاعۃ۔ کھینچنے والی۔ الشوی۔ کھال اور اس کا ٹکڑا۔ اوعی۔ سنبھال کر رکھتا ہے۔ تشریح : کفار مکہ اللہ تعالیٰ سے خیر اور بھلائی مانگنے کے بجائے اس کے عذاب اور قیامت آنے کی جلدی کیا کرتے تھے۔ حالانکہ وہ اس عذاب اور قیامت کا سوال کریں یا نہ کریں وہ تو بہرحال اپنے وقت پر واقع ہو کر رہے گے اور جب قیامت کے دن کفار ومشرکین پر عذاب آئے گا تو وہ اس قدر بھیانک اور سخت عذاب ہوگا جس کو ساری دنیا مل کر بھی نہ ٹال سکے گی کیونکہ یہ عذاب اس اللہ کی طرف…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 8–18

قیامت کا ذکر اور دوزخ کی ہولناکی۔ (ف 1) اوپر ان لوگوں کا ذکر تھا جو عذاب کی جلدی کرتے تھے ان آیتوں میں پہلے صور سے لے کر دوزخ میں جانے تک کا حال فرمایا تاکہ ان عذاب کے جلدی کرنے والوں کو معلوم ہوجائے کہ دنیا میں اگر ان پر کسی عذاب کے آنے ک اللہ کا حکم نہ بھی ہوا ، تو قیامت کے دن ایسے جزا وسزا کے منکرلوگوں پر وہ سخت عذاب آنے والا ہے ، جس کے چھٹکارے کے بدلے میں یہ لوگ اپنی بی بی بچوں اور ساری دنیا کو دینے پر آمادہ ہوجائیں گے جب بھی ان کا چھٹکارا نہ ہوگا۔ ” لعھن “ کے معانی رنگینی دھنی ہوئی اون جو نہایت ملکی ہوجاتی ہے اور ہوا میں بہت جلدی اڑجاتی ہے، اس دن ہر ایک کو اپنی جان کی ایسی پڑی ہوگی کہ…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 12–35

نمازی کی سیرت 2: قرآن حکیم یہ خوبی شان امتیاز رکھتی ہے ۔ کہ اس میں حقائق نفسیات کا بھی مذکر ہے ۔ یعنی اس کتاب علم ومعرفت میں یہ بھی بتایا گیا ہے ۔ کہ انسانی فطرت کیا ہے ؟ فرمایا ۔ اس میں ایک ہم گیر عیب یہ ہے ۔ کہ یہ کم ہمت اور بےصبر ہے ۔ اگر اس کو ذرا تکلیف پہنچتی ہے ۔ تو بلبلا اٹھتا ہے ۔ اور نالہ وشیون سے آسمان سر پر اٹھا لیتا ہے ۔ اور جہاں بیٹھتا ہے اسی بات کا تذکرہ کرتا ہے ۔ کہ میں بہت مصیبت زدہ ہوں ۔ مجھ کو فلک ستم شیوہ نے بہت دکھ پہنچایا ہے ۔ اور اگر برے دن پھرجائیں اور آسودہ حال ہوجائے ۔ تو پھر انتہا درجے کا بخیل اور ممسک ہوجاتا ہے ۔ پائی پائی کو گنتا ہے ۔ اور پیسے پیسے کا حساب رکھتا…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(17) وہ آگ ہر اس شخص کو اپنی طرف بلاتی ہوگی جس نے پیٹھ پھیری ہوگی اور منہ موڑا ہوگا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 14–17

ف 6۔ یعنی اس روز ایسی نفسا نفسی ہوگی کہ ہر شخص کو اپنی فکر پڑجاوے گی، اور جن پر جان دیتا تھا ان کو اپنے عوض میں سپرد کردینے کو اگر اس کے قابو کی بات ہو گوارا کرلے گا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

وہ ہر اس شخص کو پکارے گی جس نے پیٹھ پھیری اور رو گردانی کی ہو گی 17 ؎ (تدعوا) مضارع کا صیغہ واحد مونث غائب بھی ہے اور مضارع کا صیغہ جمع مذکر حاضر بھی۔ پہلے صیغہ کے لحاظ سے معنی ہوں گے وہ پکارتی ہے۔ وہ بلاتی ہے۔ وہ پکارے گی۔ وہ بلائے گی۔ اعاد اور دوسرے صیغہ کے لحاظ سے معنی ہوں گے تم پکارو۔ تم پکارتے ہو۔ تم پکارو گے۔ اصل اس کی ” دعاء “ ہے۔ زیر نظر آیت میں پہلے معنوں میں استعمال ہو رہا ہے۔ فرمایا جا رہا ہے کہ جس شخص نے اس سے پیٹھ پھیری اور منہ موڑا وہ ان کو پکارے گی اور بلائے گی اور آواز آئے گی کہ الی یا مشرک الی یا منافق اے مشرک ! اے منافق ! کہاں بھاگتے ہو تم سب ادھر آئو۔ اب تم کو بھاگنے نہیں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 17–18

تَدْعُو مَنْ أَدْبَرَ‌ وَتَوَلَّىٰ وَجَمَعَ فَأَوْعَىٰ (It will call him who had turned his back and fled away (from the truth.) and accumulated (wealth) and hoarded (it)....70:17, 18). The phrase 'accumulated wealth' signifies 'wealth accumulated by unlawful means' and the phrase 'hoarded it' signifies 'not fulfilling the pecuniary obligations as imposed by the Shari` ah', as is confirmed by authentic ahadi'th.

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 11–17

11 Not so that they will not see each other, therefore they will not ask after each other's welfare, but each will be seeing the other in agony and distress, yet will ignore him, being wholly preoccupied with his own torment.

Read the full tafseer →