Explained with ayahs 94–95
ادوارماضی
اگلی امتوں میں بھی اللہ تعالیٰ کے رسول آئے اور ان کے انکار پر وہ امتیں مختلف بلاؤں میں مبتلا کی گئیں مثلاً بیماریاں، فقیری، مفلسی، تنگی۔ تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کے سامنے اکڑنا چھوڑ دیں اور اس کے سامنے جھک جائیں۔ مصیبتوں کے ٹالنے کی دعائیں کریں اور اس کے رسول کی مان لیں۔ لیکن انہوں نے اس موقعہ کو ہاتھ سے نکال دیا باوجود بری حالت ہونے کے دل کا کفر نہ ٹوتا، اپنی ضد سے نہ ہٹے تو ہم نے دوسری طرح پھر ایک موقہ دیا۔ سختی کو نرمی سے، برائی کو بھلائی سے، بیماری کو تندرستی سے، فقیری کو امیری سے بدل دیا تاکہ شکر کریں اور ہماری حکمرانی کے قائل ہوجائیں لیکن انہوں نے اس موقعہ سے بھی فائدہ نہ اٹھایا،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–95
سورة الْاَعْرَاف 77
ایک ایک نبی اور ایک ایک قوم کا معاملہ الگ الگ بیان کرنے کے بعد اب وہ جامع ضابطہ بیان کیا جا رہا ہے جو ہر زمانہ میں اللہ تعالیٰ نے انبیاء (علیہم السلام) کی بعثت کے موقع پر اختیار فرمایا ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ جب کسی قوم میں کوئی نبی بھیجا گیا تو پہلے اس قوم کے خارجی ماحول کو قبول دعوت کے لیے نہایت سازگار بنایا گیا۔ یعنی اس کو مصائب اور آفات میں مبتلا کیا گیا۔ قحط، وبا، تجارتی خسارے، جنگی شکست اور اسی طرح کی تکلیفیں اس پر ڈالی گئیں۔ تاکہ اس کا دل نرم پڑے، اس کی شیخی اور تکبّر سے اکڑی ہوئی گردن ڈھیلی ہو، اس کا غرور طاقت اور نشہ دولت ٹوٹ جائے، اپنے ذرائع و وسائل اور اپنی قوتوں…
Read the full tafseer →اس کے بعد دسری آیت میں فرمایا ثُمَّ بَدَّلْنَا مَكَان السَّيِّئَةِ الْحَسَنَةَ حَتّٰي عَفَوْا، اس میں سیہ سے مراد وہ فقر وفاقہ یا بیماری کی بد حالی ہے جس کا ذکر اوپر آیا اور حسنہ سے مراد اس کے بالمقابل مال میں وسعت وفراخی اور بدن میں صحت و سلامت ہے اور لفظ عفوا، عفو سے بنا ہے جس کے معنی بڑھنے اور ترقی کرنے کے بھی ہیں، کہا جاتا ہے عفا النبات گھاس یا درخت بڑھ گئے اور ترقی کرگئے۔ مطلب یہ ہے کہ پہلا امتحان ان لوگوں کو فقر وفاقہ اور بیماری وغیرہ میں مبتلا کرکے لیا گیا تھا جب اس میں ناکامیاب ہوئے یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع نہ ہوئے تو دوسرا امتحان اس طرح لیا گیا کہ ان کے فقروفاقہ کے بجائے مال و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–95
آیت 94 تا 102 کا مضمون : اوپر کی تمام سرگزشتیں سنانے سے مقصود قریش کو آگاہ کرنا تھا کہ جس کسوٹی پر یہ قومیں پرکھی گئیں وہی کسوٹی اب تمہارے سامنے ہے اور تم بھی، اگر تم نے اپنے رسول کی تکزیب کردی، وہی انجام دیکھو گے جو انہوں نے دیکھا اس وجہ سے آگے کی آیات میں وہ اصول و ضوابط بھی نگاہوں کے سامنے کردیے ہیں جو مذکورہ بالا تاریخ سے سامنے آتے ہیں تاکہ قریش جو قدم بھی اٹھائیں نتائج سے اچھی طرح آگاہ ہو کر اٹھائیں۔
تفسیر آیت 94۔ 95۔ وَمَآ اَرْسَلْنَا فِيْ قَرْيَةٍ مِّنْ نَّبِيٍّ اِلَّآ اَخَذْنَآ اَهْلَهَا بِالْبَاْسَاۗءِ وَالضَّرَّاۗءِ لَعَلَّهُمْ يَضَّرَّعُوْنَ۔ ثُمَّ بَدَّلْنَا مَكَانَ السَّيِّئَةِ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 95–98
95۔ 1 یعنی فقر و بیماری کو صحت و عافیت سے بدل دیا جب کے ان کے اندر رجوع الی اللہ کا داعیہ پیدا نہیں ہوا تو ہم نے ان کو تنگ دستی کو خوش حالی سے اور بیماری کو صحت عافیت سے بدل دیا تاکہ وہ اس پر اللہ کا شکر کریں۔ لیکن اس انقلاب حال سے بھی ان کے اندر کوئی تبدیلی نہیں آئی اور انہوں نے کہا یہ تو ہمیشہ سے ہوتا چلا آرہا ہے تو پھر ہم نے اچانک اپنے عذاب کی گرفت میں لے لیا۔ اسی لیے حدیث مومنوں کا معاملہ اس کے برعکس بیان فرمایا گیا ہے۔ کہ وہ ارام وراحت ملنے پر اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں اور تکلیف پہنچنے پر صبر سے کام لیتے ہیں یوں دونوں ہی حالتیں ان کے لیے خیر اور اجر کا باعث ہوتی ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–96
49:: بتایا یہ جارہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جن لوگوں کو اپنے عذاب سے ہلاک کیا انہیں (معاذاللہ) جلدی سے غصے میں آکر ہلاک نہیں کردیا، بلکہ انہیں سالہا سال تک راہ راست پر آنے کے بہت سے مواقع فراہم کئے، اول تو پیغمبر بھیجے جو انہیں برسوں تک ہوشیار کرتے رہے، پھر شروع میں انہیں کچھ معاشی بدحالی یا بیماریوں وغیرہ کی مصیبتوں سے دوچار کیا تاکہ ان کے دل کچھ نرم پڑیں کیونکہ بہت سے لوگ ایسے حالات میں اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتے ہیں اور تنگی ترشی میں بعض اوقات حق بات کو قبول کرنے کی صلاحیت زیادہ پیدا ہوجاتی ہے، جب ایسے حالات میں پیغمبر ان کو متنبہ کرتے ہیں کہ ذرا سنبھل جاؤ ابھی اللہ تعالیٰ نے ایک اشارہ دیا…
Read the full tafseer →ثُمَّ بَدَّلْنَا مَكَانَ السَّيِّئَةِ الْحَسَنَةَ ۔ " اس کے بعد ہم نے ان کی بد حالی کو خوشحالی سے بدل دیا "۔ سختی کی جگہ نرمی آگئی ، تنگی کی جگہ فراوانی آگئی۔ غربت کی جگہ انعامات آگئے ، بیماری کی جگہ صحت آگئی ، اولاد کی کمی کی جگہ کثرت اولاد آگئی ، ہر چیز میں کمی کی جگہ کثرت نے لے لی ، اور خوف کی جگہ امن آگیا۔ چناچہ عیش و آرام کے تمام ساز و سامان مہیا ہوگئے ، ناز و نعمت اور کھانے پینے کے لئے سامان فراہم ہوگئے۔ لیکن اللہ کے اس اصول کے مطابق در اصل یہ سب کچھ ایک قسم کی ازمائش تھی۔
اگر کسی کو مصائب میں مبتلا کر کے آزمائش میں ڈالا جائے تو بعض اوقات اس پر لوگ صبر کرتے ہیں اور اکثر لوگ اس کو برداشت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–95
2 پیغمبروں کی بعثت کے وقت جب عموماً لوگ تکذیب و مقابلہ سے پیش آتے ہیں تو خدا کی طرف سے ابتدائی تنبیہ کے طور پر بیماری، قحط اور مختلف قسم کی سختیاں اور تکلیفیں مسلط کی جاتی ہیں۔ تاکہ مکذبین تازیانے کھا کر شرارتوں سے باز آجائیں اور بارگاہ الٰہی کی طرف جھکیں۔ جب ان تنبیہات کا اثر قبول نہیں کرتے تو سختیوں اور مصیبتوں کو ہٹا کر ان پر فراخی اور عیش و خوشحالی وغیرہ بھیجی جاتی ہے کہ یا احسانات سے متاثر ہو کر کچھ شرمائیں اور حضرت ربوبیت کی طرف متوجہ ہوں یا عیش و ثروت کے نشہ میں چور ہو کر بالکل ہی غافل و بدمست بن جائیں۔ گویا جہاں تک صحت، اولاد اور دولت و حکومت بڑھتی جائے اسی کے ساتھ ان کی نخوت و غفلت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 95–99
آیت 95 ثُمَّ بَدَّلْنَا مَکَان السَّیِّءَۃِ الْحَسَنَۃَ حَتّٰی عَفَوْا وَّقَالُوْا قَدْ مَسَّ اٰبَآءَ نَا الضَّرَّآءُ وَالسَّرَّآءُ فَاَخَذْنٰہُمْ بَغْتَۃً وَّہُمْ لاَ یَشْعُرُوْنَ
جب وہ اپنی ضد اور ہٹ دھرمی پر اڑے رہے تو ان پر دنیاوی آسائشوں کے دہانے کھول دیے گئے کہ اب کھاؤ ‘ پیو اور عیش کرو۔ پھر وہ عیش و عشرت کی زندگی میں اس قدر مگن ہوئے کہ سختیوں کے دور کو بالکل ہی بھول گئے اور کہنے لگے کہ ہمارے اسلاف پر بھی اچھے اور برے دن آتے ہی رہے ہیں ‘ اس میں امتحان اور آزمائش کی کون سی بات ہے ‘ حتیٰ کہ ان کی پکڑ کی گھڑی آن پہنچی اور انہیں اس کا شعور ہی نہیں تھا کہ اللہ تعالیٰ کی گرفت یوں اچانک آجائے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–95
100 اس سورة کی آیت نمبر 59 سے لے کر آیت نمبر 93 تک چار رکوعوں میں پانچ مشہور و معروف انبیاء سیدنا نوح (علیہ السلام) سیدنا ہود (علیہ السلام) سیدنا صالح (علیہ السلام) سیدنا لوط (علیہ السلام) اور سیدنا شعیب (علیہ السلام) کا اور ان کی طرف سے دعوت، منکرین کی مخالفت ان کے سوال و جواب اور بالآخر ان معاندین کی ہلاکت کا ذکر کیا گیا ہے یہ سورة اعراف مکہ میں اس وقت نازل ہوئی جبکہ رسول اللہ اور آپ کے اصحاب اسی قسم کے یا ان سے ملتے جلتے حالات سے دو چار تھے مشرکین مکہ کی طرف سے مخالفت اور معاندانہ سرگرمیاں، دھمکیاں ظلم، تشدد اور اسلام کی راہ روکنے کے تقریباً وہی طریقے اختیار کیے جا رہے تھے جو ان انبیاء سے…
Read the full tafseer →129 ۔ یعنی اس قدر غفلت اور مدہوشی میں پڑے ہوئے تھے۔ (آیت) ” حتی عفوا “۔ یعنی خوب بڑھے، خوب پھلے، خوب پھولے، دولت، صحت، کثرت آبادی، ہر طرح انہیں ترقی ہی ترقی ہوئی کثروا ونموا فی انفسھم واموالھم (کشاف) (آیت) ” قالوا قد مس آبآء نا الضرآء والسرآء “۔ یعنی یہ رنج و راحت اور ادل بدل کر واقعات خارجی وتکوینی تو ہمیشہ سب کو پیش آتے رہتے ہیں۔ انہیں عقاید کی صحت وگمراہی اور حق و باطل کی بحث سے کوئی تعلق نہیں۔ ای وما ذالک الا من عادۃ الدھر یعاقب فی الناس بین الضراء والسراء ویداولھما بینھم (روح) (آیت) ” فاخذنھم بغتۃ “۔ یعنی اس پر ہم نے انہیں کسی نہ کسی عذاب عذاب شدید میں دفعۃ پکڑ لیا محققین نے لکھا ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–99
آیت نمبر 94 تا 99
ترجمہ : اور کبھی ایسا نہیں ہوا کہ ہم نے کسی بستی میں نبی بھیجا ہو اور انہوں نے اس کی تکذیب ہو مگر یہ کہ ہم نے اس بستی کے رہنے والوں کو فقر کی سختی اور مرض کی تکلیف میں نہ پکڑا ہوتا کہ وہ عاجزی کرنے لگیں اور ایمان لے آئیں، پھر ہم نے ان کی بدحالی عذاب کو خوشحالی غنیٰ اور صحت سے بدل دیا یہاں تک کہ ان کو خوب ترقی ہوئی (یعنی ان کی جان و مال میں کثرت ہوئی) اور نعمت کی ناشکری کرتے ہوئے کہنے لگے جس طرح ہم پر آئے ہیں ہمارے اسلاف پر بھی اچھے برے دن آتے ہی رہے ہیں زمانہ کا یہی دستور ہے، یہ اللہ کی جانب سے سزا نہیں ہے لہٰذا جس مذہب پر تم ہو اسی پر قائم رہو اللہ تعالیٰ نے فرمایا، تو ہم…
Read the full tafseer →ثم بدلنا مکان السیءۃ الحسنۃ حتی عفوا وقالوا قد مس اباء نا الضرآء والسرآء فاخذنہم بغتۃ وہم لا یشعرون۔ پھر ہم اس بدحالی کی جگہ خوش حالی لے آئے کہ ان کو خوب ترقی ہوئی اور اس وقت وہ کہنے لگے ہمارے باپ دادا کو بھی دکھ سکھ پیش آیا تھا اب ہم نے ان کو اچانک پکڑ لیا اور ان کو خبر بھی نہ تھی۔
وما ارسلنا فی قریۃ من نبی اس جگہ ایک جملہ محذوف ہے یعنی کسی بستی میں ہم نے کوئی نبی نہیں بھیجا (پھر بستی والوں نے اس کی تکذیب کی) مگر اہل قریہ کی ہم نے گرفت کی۔ بالباساء والضراء (بغوی نے لکھا ہے کہ حضرت ابن مسعود ؓ کے نزدیک باسائ سے مراد فقیری اور ضراء سے مراد بیماری ہے بعض کے نزدیک باسائ سے جنگ اور ضرائ سے قحط…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–95
(94۔ 95) جن بستی والوں کو ہم نے ہلاک کیا ہے، ہلاک کرنے سے پہلے خوف ومصیبت اور بیماریوں اور بھوک کی تکالیف میں گرفتار کیا تاکہ وہ ایمان لے آئیں مگر وہ ایمان نہیں لائے، پھر ہم نے اس قحط وشدت کو بہار اور فراخی و خوشحالی کے ساتھ بدل دیا تاآنکہ ان کو احوال واولاد میں خوب ترقی ہوئی تو وہ کہنے لگے جس طرح ہمیں خوشحالی پیش آئی اسی طرح ہمارے آباؤاجداد کو بھی پیش آئی مگر وہ دین پر جمے رہے۔ لہذا ہم بھی ان کی تقلید کرتے ہیں، نتیجتا ان کو اچانک عذاب نے آگھیرا اور ان کو نزول عذاب کا پتہ ہی نہ چلا۔
Read the full tafseer →ثُمَّ بَدَّلْنَا مَكَان السَّيِّئَةِ الْحَسَنَةَ۔۔ : ”عَفَوْا“ یہ ”عَفَا یَعْفُوْ“ سے ماضی معلوم جمع مذکر غائب ہے، معنی ہے ”بڑھ گئے۔“ باب افعال کا معنی ”بڑھانا“ ہے، جیسا کہ فرمایا : (أَعْفُوا اللِّحَی) [ بخاری، اللباس، باب إعفاء اللحی : 5893]”ڈاڑھیوں کو بڑھاؤ۔“ مگر جب انھوں نے ایسا نہ کیا تو ہم نے بدحالی کی جگہ انھیں خوش حالی دے کر واپس پلٹنے کا موقع دیا، انھیں قحط کے بجائے ارزانی اور بیماری کے بجائے تندرستی عطا فرمائی، آبادی ان کی خوب بڑھ گئی اور مال و دولت کی ریل پیل ہوگئی، تو ان نعمتوں کا شکر ادا کرتے ہوئے اپنے رب کے رسول پر ایمان لے آنے کے بجائے پہلی سختی کو بھول گئے اور ان نعمتوں کی بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–95
قولہ تعالیٰ : آیت : وما ارسلنا فی قریۃ من نبی اس میں اضمار ہے اور وہ ہے فکذب اھلھا الا اخذنا ھم (اور نہ بھیجا ہم نے کسی بستی میں کوئی نبی اس کے رہنے والوں نے تکذیب کی) مگر ہم نے انہیں سختی اور تکلیف میں مبتلا کردیا) ۔ آیت : بالباسآء والضراء لعلھم یضرعون اس کے بارے کلام پہلے گزر چکی ہے۔ آیت : ثم بدلنا مکان السیئۃ الحسنۃ یعنی پھر ہم نے ان کی تکلیف اور خشک سالی کو خوشحالی اور راحت کے ساتھ بدل دیا۔ حتی عفوا یہاں تک کہ وہ کثیر اور وافر ہوگئے (تفسیر ماوردی، جلد 2، صفحہ 242 ) ۔ یہ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے۔ اور ابن زید نے کہا ہے : ان کے مال ومنال اور اولاد بڑھ گئی (معالم التنزیل، جلد 2، صفحہ 513) ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–95
(1) امام ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ثم بدلنا مکان السیءۃ الحسنۃ “ پھر ہم نے شدت اور تنگی کو راحت اور خوشحالی میں بدل دیا ” حتی عفوا “ یہاں تک کہ وہ تعداد میں بڑھ گئے۔ اور ان کے مال بھی کثرت سے ہوگئے۔
(2) امام ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ثم بدلنا مکان السبیءۃ “ سے مراد ہے برائی اور الحسنۃ سے مراد ہے نرمی انصاف اور اولاد ” حتی عفوا “ یعنی ان کے مال اور ان کی اولاد کثرت سے ہوگئی۔
(3) امام ابن جریر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ” حتی عفوا “ سے…
Read the full tafseer →[ ثُمَّ : پھر ] [ بَدَّلْنَا : ہم نے بدل دیا ] [ مَكَانَ السَّيِّئَةِ : برائی کی جگہ کو ] [ الْحَسَنَةَ : بھلائی سے ] [ حَتّٰي : یہاں تک کہ ] [ عَفَوْا : وہ لوگ بڑھے (ترقی کی ) ] [ وَّقَالُوْا : اور کہا [ قَدْ مَسَّ : چھو چکی ہے ] [ اٰبَاۗءَنَا : ہمارے باپ دادوں کو ] [ الضَّرَّاۗءُ : تکلیف (بھی) ] [ وَالسَّرَّاۗءُ : اور خوشی (بھی ) ] [ فَاَخَذْنٰهُمْ : تو ہم نے پکڑا ان کو ] [ بَغْتَةً : اچانک ] [ وَّ : اس حال میں کہ ] [ هُمْ : وہ لوگ ] [ لَا يَشْعُرُوْنَ : شعور نہیں رکھتے تھے ]
ترکیب : (آیت ۔ 95) میں فاخذنا کا مفعول ھم کی ضمیر ہے ۔ جبکہ بغتۃ حال ہے ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 95–96
اگر بستیوں کے رہنے والے ایمان لاتے تو ان کے لیے آسمان و زمین کی برکات کھول دی جاتیں
اس کے بعد فرمایا (وَ لَوْ اَنَّ اَھْلَ الْقُرآی اٰمَنُوْا وَ اتَّقَوْا لَفَتَحْنَا عَلَیْھِمْ بَرَکٰتٍ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ ) (اور اگر ان بستیوں والے ایمان لاتے اور پرہیز کرتے تو ہم ضرور ان پر آسمان اور زمین کی برکتیں کھول دیتے) (وَ لٰکِنْ کَذَّبُوْا فَاَخَذْنٰھُمْ بِمَا کَانُوْا یَکْسِبُوْنَ ) (اور لیکن انہوں نے جھٹلایا لہٰذا ہم نے ان کے اعمال کی وجہ سے ان کی گرفت کرلی) اس آیت میں ایک عمومی تکوینی قانون بتایا ہے اور وہ یہ کہ جب لوگوں میں ایمان ہوگا أعمال صالحہ ہوں گے کفر و شرک اور گناہوں سے پرہیز…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–102
بیان اجمالی حال و مآل امم سابقہ برائے عبرت ونصیحت امم حاضرہ
قال اللہ تعالیٰ وما ارسلنا فی قریۃ من نبی۔۔۔ الی۔۔۔ وان وجدنا اکثرھم لفسقین
(ربط) گزشتہ رکوعات میں امم سابقہ کے واقعات قرے تفصیل کے ساتھ بیان کیے اب ان کا اجمالی خلاصہ بیان کرتے ہیں تاکہ موجودہ زمانے کے لوگوں کے لیے عبرت اور نصیحت کا ذریعہ بنیں کہ اے لگو تمہیں ان واقعات سے انبیاء کرام کی تکذیب کے برے نتائج کا علم ہوگیا مگر یہ یاد رکھو کہ یہ سزائیں ان کو دفعۃً نہیں دی گئیں بلکہ تنبیہات کے بعد دی گئیں کیونکہ ہماری عادت یہ ہے کہ لوگ جب انبیاء کی تکذیب کرتے ہیں تو ہم شروع میں تنبیہ کے طور پر بیماری اور قحط اور مختلف قسم کی سختیوں اور…
Read the full tafseer →100:“ عَفَوْا ” ای کثروا۔ یعنی جب ان کے مال و اولاد میں کثرت ہوگئی۔ اللہ تعالیٰ نے تکلیف و راحت اور تنگدستی و فراخی دونوں طریقوں سے ان کا امتحان فرمایا مگر وہ کسی طرح کفر و شرک سے باز نہ آئے۔ اعلم اللہ تعالیٰ انہ اخذھم بالشدۃ والرخاء فلم یزدجروا ولم یشکروا (قرطبی ج 2 ص 252) ۔
101: اس اختلاف احوال سے انہوں نے کچھ عبرت حاسل نہ کی اور نہ اسے اللہ کی طرف سے ابتلاء سمجھا اور یوں کہنے لگے کہ ہمارے باپ دادا پر بھی حالات آتے رہے ہیں کبھی تکلیف اور تنگدستی اور کبھی راحت اور فراخی ہم پر بھی اسی طرح آرہے ہیں۔ یہ تکلیف اور آسودگی تغیرات زمانہ میں سے ہے کسی پیغمبر کے انکار یا اسکو ماننے کی وجہ نہیں ہے۔ “…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–95
ذہنیت اقوام اور سنت اللہ
تبلیغ رسالت کے سلسلے میں اللہ تعالیٰ نے یہاں تک پانچ انبیا (علیہ السلام) کا ذکر فرمایا ہے کہ ان جلیل القدر انبیا نے کس طرح محنت اور جانفشانی سے اپنی اپنی قوم کو اللہ کا پیغام پہنچایا اور پھر اقوام نے اس کا کیا جواب دیا اور انبیاء کے ساتھ کیا سلوک کیا ان اقوام کی نافرمانی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی گرفت آئی اور لوگ مختلف قسم کے عذابوں میں مبتلا ہو کر اپنے انجام کو پہنچے یہ واقعات بیان کرکے اللہ تعالیٰ نے بعد میں آنے والے لوگوں کو عبرت دلائی ہے کہ دیکھو اللہ کے احکام سے روگردانی کرنے والوں کا کیا حشر ہوا۔ آپ آج کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے اقوام عالم کی ذہنیت اور اس معاملہ…
Read the full tafseer →ثُمَّ بَدَّلْنَا مَكَانَ السَّيِّئَۃِ الْحَسَـنَۃَ حَتّٰي عَفَوْا وَّقَالُوْا قَدْ مَسَّ اٰبَاۗءَنَا الضَّرَّاۗءُ وَالسَّرَّاۗءُ فَاَخَذْنٰہُمْ بَغْتَۃً وَّہُمْ لَا يَشْعُرُوْنَ 95
ثمَ
ثُمَّ حرف عطف يقتضي تأخر ما بعده عمّا قبله، إمّا تأخيرا بالذات، أو بالمرتبة، أو بالوضع حسبما ذکر في ( قبل) وفي (أول) . قال تعالی: أَثُمَّ إِذا ما وَقَعَ آمَنْتُمْ بِهِ آلْآنَ وَقَدْ كُنْتُمْ بِهِ تَسْتَعْجِلُونَ ثُمَّ قِيلَ لِلَّذِينَ ظَلَمُوا، [يونس/ 51- 52] ، وقال عزّ وجلّ : ثُمَّ عَفَوْنا عَنْكُمْ مِنْ بَعْدِ ذلِكَ [ البقرة/ 52] ، وأشباهه . وثُمَامَة : شجر، وثَمَّتِ الشاة : إذا رعتها ، نحو : شجّرت : إذا رعت…
Read the full tafseer →ترکیب : الحسنۃ مفعول ہے بدلنا کا۔ حتیٰ ان عفوا ای کثروا وقالوا معطوف ہے عفو پر مس کا الضراء والسراء فاعل آبائنا مفعول۔ فاخذنا عفوا پر معطوف بغتۃً منصوب ہے صفت مصدر محذوف کی ہو کر وھم لایشعرون حال ہے مفعول اخذنا سے ولو شرط لفتحنا جواب برکات مفعول فتحنا علیہم اس سے متعلق ہمزہ استفہام و مفتوحہ عطف کے لئے اگر او کو ساکن پڑھیں گے تو او ایک کلمہ ہوگا جو تردید و تشقیق کے لئے آتا ہے بیاتا اور ضحی حال ہیں ھم ضمیر مفعول سے۔
تفسیر : ان انبیاء کے قصص سن کر (کہ جن میں منکرین پر نکالو عذاب الٰہی آنے کا ذکر ہے اور جن کی عرب کے لوگ دل سے تصدیق بھی کرتے تھے) آنحضرت ﷺ کے عہد کے کافروں کے دل میں یہ خیال پیدا…
Read the full tafseer →ثُمَّ بَدَّلْنَا مَکَانَ السَّیِّئَۃِ الْحَسَنَۃَ حَتّٰی عَفَوْا وَّا قَالُوْا قَدْ مَسَّ اٰبَآئَنَا الضَّرَّآئُ وَالسَّرَّآئُ فَاَخَذْنٰھُمْ بَغْتَۃً وَّ ھُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ ۔ (الاعراف : 95)
” پھر ہم نے ان کی بدحالی کو خوشحالی سے بدل دیا یہاں تک کہ وہ خوب پھلے پھولے اور کہنے لگے کہ دکھ اور سکھ تو ہمارے باپ دادوں کو بھی پہنچے ہیں پھر ہم نے ان کو اچانک پکڑ لیا اور وہ اس کا کوئی گمان نہیں رکھتے تھے “۔
دوسری سنت الہٰی
جب کوئی قوم مصائب میں مبتلا ہو کر راہ راست اختیار کرنے سے انکار کردیتی ہے اور وہ ان سے نصیحت حاصل کرنے کی بجائے اور بگڑنے لگتی ہے تو اللہ تعالیٰ کی دوسری سنت وجود میں آتی ہے وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–95
فہم القرآن
ربط کلام : عرب اور اس کے گرد و نواح کی پانچ اقوام کے کردار اور انجام کا ذکر کرنے کے بعد دنیا میں جزاء و سزا اور آزمائش کا عمومی اصول بیان کیا گیا ہے۔
اہل علم نے ” بِالْبَاسَاءِ “ کا معنی غربت، تنگدستی اور ” ضَرَّاءِ “ کا مفہوم جسمانی بیماریاں لیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہاں ایک بنیادی اصول ذکر فرمایا ہے کہ ہم قوموں کو تباہ و برباد کرنے سے پہلے غربت و افلاس اور جسمانی امراض کے ذریعے جھنجوڑا کرتے ہیں تاکہ بڑا عذاب آنے سے پہلے اپنی اصلاح کی طرف توجہ کریں۔ گویا کہ اس معمولی اور عارضی گرفت کے پیچھے۔ اللہ تعالیٰ کی دائمی شفقت اور حکمت پنہاں ہوتی ہے کہ لوگوں کو احساس ہو کہ اگر ہم نے نافرمانی…
Read the full tafseer →استدراجِ الٰہی :
آیت 95: ثُمَّ بَدَّلْنَا مَکَانَ السَّیِّئَۃِ الْحَسَنَۃَ (پھر ہم نے اس بدحالی کی جگہ خوش حالی بدل دی) یعنی پھر ہم نے ان کو ان چیزوں کے بدلہ میں جن میں بلاء و محنت تھی نرمی، وسعت اور صحت دے دی۔ حَتّٰی عَفَوْا (یہاں تک کہ ان کو خوب ترقی ہوئی) وہ زیادہ ہوئے اور مال وانفس کے لحاظ سے ترقی کر گئے یہ عفا النبات سے لیا گیا جبکہ وہ کثرت سے ہو۔ اسی سے آپ ﷺ کا ارشاد ہے۔ اعفوا اللحٰی (نسائی ‘ ترمذی) وَّقَالُوْا قَدْمَسَّ ٰابَآ ئَ نَا الضَّرَّآئُ وَالسَّرَّآ ئُ (اور وہ کہنے لگے کہ ہمارے آبائو اجداد کو بھی تنگی اور راحت پیش آتیں تھیں) یعنی وہ کہنے لگے کہ یہ زمانہ کا چکر ہے کہ لوگوں میں…
Read the full tafseer →95(ثم بدلنا مکان السیئۃ الحسنۃ) یعنی نعمت، کشادگی، خوشحالی، سرسبزی اور صحت میں اس کو بدل دیا۔ (حتی عفواً ) یعنی ان کی تعداد زیادہ ہوگئی یا ان کے مال زیادہ ہ وگئے۔ جب بال زیادہ ہوجائیں تو کہا جاتا ہے ” عفا الشعر “ مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ ان کے مال اور اولاد میں اضافہ ہوگیا (وقالوا) وہ نرمی اور عیش میں ہونے کے بعد اپنی غفلت سے کہنے لگے۔ (قدمس ابآء نا الضرآء والسرآئ) یعنی زمانہ کی یہ پرانی عادت ہمارے اور ہمارے آباء کے ساتھ چلی آرہی ہے یہ کوئی اللہ تعالیٰ کی طرف سے سزا نہیں ہے لہٰذا تم اسی دین پر چلتے رہو جس پر تمہارے آباء تھے کیونکہ ان تکالیف کی وجہ سے انہوں نے اپنا دین نہ چھوڑا تھا تو اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–95
(94 ۔ 95) ۔ اس ذکر سے یہ مطلب یہ ہے مطلب ہے کہ کفار قریش پچھلی امتوں کی بربادی کا حال سن کر حضرت ﷺ کے جھٹلانے سے اور کفر سے باز آویں اور خدا سے ڈریں اس لئے فرمایا کہ پچھلی امتوں میں اللہ تعالیٰ نے رسول جو بھیجے تو ایسی حالت میں کہ وہ طرح طرح کی بیماریوں میں مبتلا تھے اور نہایت ہی افلاس میں تھے پیسہ پیسہ کو محتاج تھے یہ ان کی جانچ تھی کہ دیکھیں وہ اس حالت میں بھی گڑاتے ہیں اور خدا کی طرف رجوع ہوتے ہیں یا نہیں مگر وہ اس حالت میں بھی اپنے اسی کفر اور گمراہی میں پڑے رہے آخر اللہ تعالیٰ نے ان کو بیماری سے تندرست بنا دیا اور مال واولاد سے مالا مال کردیا کہ شاید اس حال میں وہ اللہ کا شکر بجا لاویں…
Read the full tafseer →آیت 95
(وما ارسلنا فی قریۃ من نبی) ” اور نہیں بھیجا ہم نے کسی بستی میں کوئی نبی “ جو انہیں اللہ تعالیٰ کی عبادت کی طرف بلاتا اور جن برائیوں میں وہ مبتلا ہیں، ان برائیوں سے وہ ان کو روکتا۔ مگر وہ اس کی اطاعت نہ کرتے (الا اخذنا اھلھا) ” مگر ہم مواخذہ کرتے وہاں کے لوگوں کا “ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو آزمایا۔ (بالباسآء والضرآء) ” سختی اور تکلیف میں “ یعنی محتاجی، مریض اور دیگر مصائب کے ذریعے سے۔ (یضرعون) ”’ عاجزی اور زاری کریں۔ “ اللہ تعالیٰ کے حضور عاجزی سے گڑ گڑائیں اور حق کے سامنے فروتنی کا اظہار کریں۔ (ثم) پھر جب ان کو ابتلانے کوئی فائدہ نہ دیا اور وہ اپنے تکبر پر جمے رہے اور اپنی سرکشی میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–141
دعا کا طریقہ
قول باری ہے وادعواربکم تضرعاً عاوخفیۃ۔ اپنے رب کو پکارو گڑگڑاتے ہوئے اور چپکے چپکے) آیت میں چپکے چپکے رب کو پکارنے کا حکم ہے حسن کا قول ہے کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے تمہیں اس بات کی تعلیم دی ہے کہ تم اپنے رب کو کس طرح پکارو۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک عہد صالح کا ذکر فرمایا جس کی پکار کو اس نے پسند فرمایا تھا چناچہ ارشاد ہے اذنادی ربہ نداء خفیا۔ جبکہ اس نے اپنے رب کو چپکے چپکے پکارا) یعنی حضرت زکریاعلیہ السلام عبداللہ بن المبارک نے حسن بصری سے روایت کی ہے کہ لوگ یعنی صحابہ کرام بڑی عاجزی اور نیاز مندی کے ساتھ دعائیں مانگا کرتے تھے اور صرف سرگوشی کی آواز سنائی دیتی تھی۔ حضرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–95
132 مصائب ذریعہ ابتلاء و آزمائش : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ مصائب کے ذریعے قدرت کی طرف سے تنبیہ وتحذیر اور ابتلاء و آزمائش کا سامان کیا جاتا ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ ہم نے جس بستی میں بھی کوئی پیغمبر بھیجا اس کے باشندوں کو ہم نے سختی اور تنگی میں پکڑا تاکہ وہ دب جائیں، ان کی اکڑی ہوئی گردنوں میں خم آجائے اور وہ خدا تعالیٰ کی طرف رجوع کر کے حق قبول کرلیں اور اس طرح یہ دوزخ سے بچ جائیں۔ سو اس طرح عبرت پذیر شخص کے لئے دنیا کی یہ مصیبتیں بھی ہدایت و رحمت کا ذریعہ بن کر باعث خیر بن جاتی ہیں۔ مگر غافل و مدہوش لوگوں کو اس سے کوئی فائدہ نہیں پہنچتا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف اس ارشاد سے اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–102
سیدنا شعیب (علیہ السلام) کی قوم پر عذاب الٰہی
تشریح : مدین کی قوم پچھلی قوموں، یعنی قوم نوح، عاد، ثمود، اور قوم لوط کی طرح اخلاقی، مذہبی اور تعلیمی لحاظ سے بالکل بگڑ چکی تھی۔ سیدنا شعیب (علیہ السلام) نے اللہ کے حکم سے ان کو راہ راست پر لانے کی ذمہ داری اٹھائی، یہ واقعہ یہاں صرف اس لیے بیان کیا گیا کہچو ن کہ یہ سورت مکہ میں نازل ہوئی اور اس وقت اہل مکہ کا حال بھی کچھ ایسا ہی تھا تو لوگوں کو عبرت دلانے کے لیے ان کو ان تمام قوموں کے حالات اور انجام بتایا گیا کہ عرب لوگ سبق سیکھیں اور راہ ہدایت اختیار کریں۔ اہل مدین اس وقت شرک، بد دیانتی، جھوٹ فریب، ظلم، قتل و فساد غیر اخلاقی وکردار کی انتہائی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–99
رکوع نمبر 12 ۔ آیات 94 تا 99 ۔
اسرار و معارف :
اللہ رب العزت بہت ہی زیادہ کریم ہیں اس قدر کہ انسانی علوم اندازہ کرنے سے قاصر ہیں یہاں ارشاد ہوتا ہے کہ جب بھی اور جہاں بھی کوئی نبی مبعوث فرمایا وہاں انسانی ضروریات میں ایک خاص شدت بھی پیدا کردی لوگوں میں اعراض اور بیماریاں پیدا کردیں یا مالی نقصان سے دوچار کردیا کہ پریشان ہو کر اس کے حل کی تلاش میں نکلیں یا کسی ایسی ہستی کو تلاش کریں جو ان مصائب سے نجات دلا دے تو نبی کی دعوت سنیں اور کم از کم ذاتی غرض کے لیے ہی سہی میرے دروازے پہ تو آئیں یعنی ہدایت و گمراہی میں ایک راستہ اختیار کرنے ک امجاز تو انسان کو بنا دیا پھر بھی اس کی رحمت ایسے اسباب پیدا…
Read the full tafseer →ف 2 یعنی قحط کی بجائے خوب ارزانی کی اور بیماری کی بجائے تندرستی دی۔3 یعنی ان کی آبادی بڑھ گئی اور مال و دولت کی خوب ریل پیل ہوگئی اور وہ اپنی پچھلی سختیوں کو بھول گئے،4 یعنی اگر ہم قحط اور دوسری سختیوں میں مبتلا ہوئے ہیں تو محض زمانے کی گردش کی وجہ سے ہوئے ہیں کہ اپنی بد اعمالیوں کی وجہ سے، دنیا میں اس یا ہوتا ہی رہتا ہے۔ موسم کے تٖغیر سے حالات بدلے تے رہتے ہیں کبھی بیماری اور کبھی تندرستی کبھی خوش حالی اور کبھی بدحالی۔ یہ حالات ہمیں کو نہیں بلکہ ہمراے باپ دادا کو بھی آتے ہیں ہیں مگر جلدی ہی ٹلتے بھی رہے ہیں۔ اس قسم کے حالات پیش آنے میں انسانوں کے اعمال کا کوئی دخل نہیں ہے۔ ایسی توجیہات اب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 95–96
(7:95) السیئۃ اصل میں سوأۃ تھا واؤ کو ی سے بدل کر ی کو ی میں مدغم کردیا گیا ہے ۔ بمعنی برائی۔ خطاکاری۔ گناہ۔ فعل بد۔ ہر وہ شی جو فی نفسہ یا نتیجہ آسائش۔ فرحت و اطمینان کا باعث بنے۔ نیکی۔ نیکوکاری۔ خوشحالی۔ سلامتی۔
عفوا۔ عفا یعفوا (نصر) وہ بڑھ گئے۔ وہ زیادہ ہوگئے۔ عفو سے جس کے معنی زیادہ ہونے کے ہیں۔ عفوا۔ ای کثروا فی انفسھم واموالہم۔ مال و جان میں کثرت ہونا۔
السرائ۔ نعمت ۔ فراخی۔ خوشی۔ اصل میں حالت شادمانی کا نام سرا ہے۔ بغتۃ۔ اچانک۔ ایک دم۔ یکایک۔ دفعۃً ۔
آیات 94، 95 میں بعض کے نزدیک نبی کے بعد فکذبوہ محذوف ہے۔ یعنی ہم نے جب کبھی کسی بستی میں نبی بھیجا تو انہوں نے اسے جھٹلایا۔ تو ہم نے ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–99
لغات القرآن آیت نمبر (94 تا 99) ۔
یضرعون (وہ عاجزی کرتے ہیں) ۔ حتی عفوا (یہاں تک کہ وہ آگے بڑھ گئے) ۔ مس (چھولیا) ۔ بغتتہ (اچانک ) ۔ لفتحنا (البتہ ہم نے کھول دیا) ۔ یکسبون (وہ کمائی کرتے ہیں) ۔ افامن (کیا پھر وہ بےخوف ہوگئے) ۔ نائمون (سونے والے ) ۔ ضحی (دن چڑھے ) ۔ یلعبون (وہ کھیل رہے ہیں) ۔
تشریح : آیت نمبر (94 تا 99 ) ۔ ” گذشتہ آیات میں مسلسل پانچ قوموں کے عبرت انگیز واقعات بیان کر کے عرب کے کفار اور مشرکین کو نصیحت کی جارہی ہے کہ ذرا سوچو ! کیا یہی آزمائشیں تمہارے ساتھ پیش نہیں آرہی ہیں ؟ تم کس غفلت میں پڑے ہو ؟ کیا اللہ تعالیٰ کی خفیہ تدبیریں ٹیکی اس وقت اچانک تمہیں آ کر پکڑ نہیں سکتیں جب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 95–96
اب فرمایا کہ اگر وہ لوگ ایمان لے آتے اور رسولوں کی باتیں مانتے اور ان کی راہ پر چلتے تو ہم آسمان اور زمین تمام جگہ کی برکتیں ان پر بھیج دیتے۔ آسمان سے وہ مینہ برستا کہ زمین بالکل سر سبز و شاداب ہوجاتی اور پیداوار کی وہ کثرت ہوتی کہ کھاتے کھاتے وہ تھک جاتے مگر انہوں نے رسولوں کو جھٹلایا، اس واسطے اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے عذاب میں پکڑلیا اور ان کے کئے کا ایسا بدلہ دیا کہ آخر ہلاک ہی ہوگئے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے قریش کو اپنے عذاب سے ڈرایا کہ کیا یہ بستیوں اور گاؤں کے رہنے والے قریش بالکل بےخوف ہیں کہ ان پر عذاب نہ آئے گا۔ یہ کہیں نہیں بچ سکتے اگر ان پر راتوں رات سوتے میں یا دن کے وقت جب یہ لوگ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 86–102
[41] یعنی یہ لوگ مبتلائے مصیبت ہو کر ایمان لانے کا عہد کرتے اور کہتے کہ اگر ہمیں اس سے نجات مل گئی تو ہم ضرور ایمان لائیں گے پھر جب نجات پاتے تو عہد سے پھرجاتے۔
Read the full tafseer →ڈھیل :
(ف 1) خدا کا عذاب کے متعلق ضابطہ یہ ہے کہ وہ خوب ڈھیل دیتا ہے ، مصیبتیں اور تکلفیں دور ہوجاتی ہیں ، اور عیش و عشرت کے زور چلتے ہیں ، لوگ یہ سمجھتے ہیں ، اب خطرے سے باہر ہوگئے ہیں اللہ تعالیٰ نے ہماری سن لی ہے اسے ہماری گستاخیاں پسند ہیں ، تو اس وقت اچانک انتقام کا ہاتھ نمودار ہوتا ہے ، اور وہ ہٹا دیئے جاتے ہیں ۔
Read the full tafseer →95 پھر جب وہ باز نہ آئے تو اس کے بعد ہم نے ان کی تکلیف کو راحت سے بدل دیا اور ان کی تنگدستی کو خوش حالی سے بدل دیا یہاں تک کہ وہ بکثرت پھلے پھولے اور بےفکر ہوکرکہنے لگے اس طرح کا دکھ سکھ اور تکلیف و راحت ہمارے باپ دادوں کو بھی پیش آتی تھیں آخرکار ہم نے ان کو اچانک پکڑ لیا اور ان کو اس گرفت کی خبر تک نہ تھی یعنی ابتدائی تکذیب کے بدلے میں کچھ تکلیف پہنچی باز نہ آئے پھر آرام دیا کہ شاید اب سمجھ جائیں اور احسان مانیں لیکن پھر بھی پیغمبر کی تعیلم کو قبول نہ کیا اور پیغمبر کے معاملہ میں ڈھیلے نہ پڑے اور یہ نہ سمجھے کہ وہ آزمائش میں مبتلا ہیں بلکہ اس تمام دکھ سکھ کو اتفاقی سمجھے اور زمانے کا ہیر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–95
ف 1۔ اوپر جن قوموں کا قصہ ذکر ہوا ہے چونکہ اور قوموں کے بھی ایسے قصے واقع ہوئے ہیں آگے عام عنوان سے اجمالا ان سب کی حالت جرم کی اور جرم پر بھی اول مہلت ملنے کی اور پھر بھی نہ سمجھنے پر سزاجاری ہونے کی مذکور ہے اور حکایت کے بعد آیت اولم یھد سے غرض حکایت پر کہ عبرت حاصل کرنا ہے تنبیہ فرمائی گئی ہے۔
Read the full tafseer →ہم مصیبت کو راحت سے بدلتے ہیں اس لئے کہ ان کو دوبارہ مصیبت میں مبتلا کردیا جائے :
106: اس آیت میں یہ بات تفہیم کرائی گئی کہ بعض تکلیفیں انسان کو خواب غفلت سے چونکا دینے کے لئے پہلی قوموں پر آتی رہی ہیں لیکن اس طرح کا چونکا دینا دنیا میں بھی جب ان کے لئے موثر ثابت نہ ہوا تو پھر اللہ تعالیٰ نے اپنی سنت کے مطابق ان پر انعام و اکرام کے دروازے کھول دئیے ، کیوں ؟ اس لئے کہ وہ خوب عیش کرلیں اور اپنی آخرت کو اپنے ہاتھوں اگر بنانا چاہتے ہیں تو بنائیں اور اگر برباد کرنا چاہتے ہیں تو برباد کرلیں۔ ان کو اولاد ، مال ، عزت ، وقار اور ہر قسم کی آسائشیں مہیا کردی جاتی تھیں تاکہ وہ اپنے محسن حقیقی کو پہچان کر…
Read the full tafseer →The Arabic word: سَّيِّئَةِ 'sayyiah' in this verse refers to distress, while the word: حَسَنَةَ 'hasanah' signifies prosperity, and the word عَفَو ` Afw': signifies increase or growth. The verse implies firstly that, they were made to undergo a test of hardship and suffering in order that they may repent and turn to Allah. When they did not take lesson from this warning and were a failure in this test, they were put to another test of a different kind. Their adversity was replaced with prosperity and their distress with ease and comfort until they increased in number and strength. This…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–95
77. After narrating individually the stories of how various nations responded to the Message of their Prophets, the Qur'an now spells out the general rule which has been operative throughout the ages. First, before the appearance of a Prophet in any nation, conditions that would conduce to the acceptance of his Message were created. This was usually done by subjecting the nations concerned to a variety of afflictions and punishments. They were made to suffer miseries such as famine, epidemics, colossal losses in trade and business, defeat in war. Such events usually have a healthy impact on…
Read the full tafseer →