Explained with ayahs 94–95
ادوارماضی
اگلی امتوں میں بھی اللہ تعالیٰ کے رسول آئے اور ان کے انکار پر وہ امتیں مختلف بلاؤں میں مبتلا کی گئیں مثلاً بیماریاں، فقیری، مفلسی، تنگی۔ تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کے سامنے اکڑنا چھوڑ دیں اور اس کے سامنے جھک جائیں۔ مصیبتوں کے ٹالنے کی دعائیں کریں اور اس کے رسول کی مان لیں۔ لیکن انہوں نے اس موقعہ کو ہاتھ سے نکال دیا باوجود بری حالت ہونے کے دل کا کفر نہ ٹوتا، اپنی ضد سے نہ ہٹے تو ہم نے دوسری طرح پھر ایک موقہ دیا۔ سختی کو نرمی سے، برائی کو بھلائی سے، بیماری کو تندرستی سے، فقیری کو امیری سے بدل دیا تاکہ شکر کریں اور ہماری حکمرانی کے قائل ہوجائیں لیکن انہوں نے اس موقعہ سے بھی فائدہ نہ اٹھایا،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–95
سورة الْاَعْرَاف 77
ایک ایک نبی اور ایک ایک قوم کا معاملہ الگ الگ بیان کرنے کے بعد اب وہ جامع ضابطہ بیان کیا جا رہا ہے جو ہر زمانہ میں اللہ تعالیٰ نے انبیاء (علیہم السلام) کی بعثت کے موقع پر اختیار فرمایا ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ جب کسی قوم میں کوئی نبی بھیجا گیا تو پہلے اس قوم کے خارجی ماحول کو قبول دعوت کے لیے نہایت سازگار بنایا گیا۔ یعنی اس کو مصائب اور آفات میں مبتلا کیا گیا۔ قحط، وبا، تجارتی خسارے، جنگی شکست اور اسی طرح کی تکلیفیں اس پر ڈالی گئیں۔ تاکہ اس کا دل نرم پڑے، اس کی شیخی اور تکبّر سے اکڑی ہوئی گردن ڈھیلی ہو، اس کا غرور طاقت اور نشہ دولت ٹوٹ جائے، اپنے ذرائع و وسائل اور اپنی قوتوں…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
اور ہم نے (ان مذکورہ اور بھی دوسری بستیوں میں سے) کسی بستی میں کوئی نبی نہیں بھیجا کہ وہاں کے رہنے والوں کو (اس نبی کے نہ ماننے پر اول اول تنبیہ نہ کی ہو اور تنبیہ کی غرض سے ان کو) ہم نے محتاجی اور بیماری میں نہ پکڑا ہوتا کہ وہ ڈھیلے پڑجائیں (اور اپنے کفر و تکذیب سے توبہ کریں) پھر (جب اس سے متنبہ نہ ہوئے تو استدراجا یا اس غرض سے کہ مصیبت کے بعد جو نعمت ہوتی ہے اس کی زیادہ قدر ہوتی اور نعمت دینے والے کی آدمی بالطبع اطاعت کرنے لگتا ہے) ہم نے اس بدحالی کی جگہ خوش حالی بدل دی یہاں تک کہ ان کو (غنی اور صحت کے ساتھ مال و اولاد میں) خوب ترقی ہوئی اور (اس وقت براہ کج فہمی) کہنے لگے کہ (وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–95
آیت 94 تا 102 کا مضمون : اوپر کی تمام سرگزشتیں سنانے سے مقصود قریش کو آگاہ کرنا تھا کہ جس کسوٹی پر یہ قومیں پرکھی گئیں وہی کسوٹی اب تمہارے سامنے ہے اور تم بھی، اگر تم نے اپنے رسول کی تکزیب کردی، وہی انجام دیکھو گے جو انہوں نے دیکھا اس وجہ سے آگے کی آیات میں وہ اصول و ضوابط بھی نگاہوں کے سامنے کردیے ہیں جو مذکورہ بالا تاریخ سے سامنے آتے ہیں تاکہ قریش جو قدم بھی اٹھائیں نتائج سے اچھی طرح آگاہ ہو کر اٹھائیں۔
تفسیر آیت 94۔ 95۔ وَمَآ اَرْسَلْنَا فِيْ قَرْيَةٍ مِّنْ نَّبِيٍّ اِلَّآ اَخَذْنَآ اَهْلَهَا بِالْبَاْسَاۗءِ وَالضَّرَّاۗءِ لَعَلَّهُمْ يَضَّرَّعُوْنَ۔ ثُمَّ بَدَّلْنَا مَكَانَ السَّيِّئَةِ…
Read the full tafseer →94۔ 1 مطلب یہ کہ جس کسی بستی میں بھی ہم نے رسول بھیجا انہوں اس کی تکذیب کی جس کی پاداش میں ہم نے ان کو بیماری اور محتاجی میں مبتلا کردیا جس سے مقصد یہ تھا کہ اللہ کی طرف رجوع کریں اور اس کی بارگا میں گڑگڑائیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–96
49:: بتایا یہ جارہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جن لوگوں کو اپنے عذاب سے ہلاک کیا انہیں (معاذاللہ) جلدی سے غصے میں آکر ہلاک نہیں کردیا، بلکہ انہیں سالہا سال تک راہ راست پر آنے کے بہت سے مواقع فراہم کئے، اول تو پیغمبر بھیجے جو انہیں برسوں تک ہوشیار کرتے رہے، پھر شروع میں انہیں کچھ معاشی بدحالی یا بیماریوں وغیرہ کی مصیبتوں سے دوچار کیا تاکہ ان کے دل کچھ نرم پڑیں کیونکہ بہت سے لوگ ایسے حالات میں اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتے ہیں اور تنگی ترشی میں بعض اوقات حق بات کو قبول کرنے کی صلاحیت زیادہ پیدا ہوجاتی ہے، جب ایسے حالات میں پیغمبر ان کو متنبہ کرتے ہیں کہ ذرا سنبھل جاؤ ابھی اللہ تعالیٰ نے ایک اشارہ دیا…
Read the full tafseer →جلد نمبر 3 آغاز۔
درس نمبر 78 ایک نظر میں
اس سورة میں اب تک کے مضمون میں یہ سبق گویا ایک وقفہ ہے۔ اس سے قبل قوم حضرت نوح ، قوم ہود ، قوم صالح ، قوم لوط ، اور قوم شعیب (علیہم السلام) کے جو قصے بیان کئے گئے۔ اس وقفے میں ان پر مجموعی تبصرہ کیا گیا ہے۔ اور یہ وقفہ اس لئے کیا گیا تاکہ اس میں اس سنت الٰہیہ کا بیان کیا جائے جو اس کرۂ ارض پر جاری وساری ہے اور اس دنیا کی بستی کے مکذبین پر تقدیر الٰہی نے اسے نافذ کیا ہے ، یہاں لفظ " قریہ " استعمال کیا گیا جس سے مراد کوئی بڑا شبہہ ہے ، یا کوئی موجود مرکزی تہذیب ہے۔ یہ سنت الٰہیہ کا واحد اور اٹل قانون ہے اور اس کا نفاذ اللہ کی جانب سے تمام مکذبین پر ہوتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–95
2 پیغمبروں کی بعثت کے وقت جب عموماً لوگ تکذیب و مقابلہ سے پیش آتے ہیں تو خدا کی طرف سے ابتدائی تنبیہ کے طور پر بیماری، قحط اور مختلف قسم کی سختیاں اور تکلیفیں مسلط کی جاتی ہیں۔ تاکہ مکذبین تازیانے کھا کر شرارتوں سے باز آجائیں اور بارگاہ الٰہی کی طرف جھکیں۔ جب ان تنبیہات کا اثر قبول نہیں کرتے تو سختیوں اور مصیبتوں کو ہٹا کر ان پر فراخی اور عیش و خوشحالی وغیرہ بھیجی جاتی ہے کہ یا احسانات سے متاثر ہو کر کچھ شرمائیں اور حضرت ربوبیت کی طرف متوجہ ہوں یا عیش و ثروت کے نشہ میں چور ہو کر بالکل ہی غافل و بدمست بن جائیں۔ گویا جہاں تک صحت، اولاد اور دولت و حکومت بڑھتی جائے اسی کے ساتھ ان کی نخوت و غفلت…
Read the full tafseer →آیت 94 وَمَآ اَرْسَلْنَا فِیْ قَرْیَۃٍ مِّنْ نَّبِیٍّ الآَّ اَخَذْنَآ اَہْلَہَا بالْبَاْسَآءِ وَالضَّرَّآءِ لَعَلَّہُمْ یَضَّرَّعُوْنَ
یہ اللہ کے ایک خاص قانون کا تذکرہ ہے ‘ جس کے بارے میں ہم سورة الانعام آیات 42 تا 45 میں بھی پڑھ آئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا یہ طریقہ رہا ہے کہ جب بھی کسی قوم کی طرف کسی رسول کو بھیجا جاتا تو اس قوم کو سختیوں اور مصیبتوں میں مبتلا کر کے ان کے لیے رسول کی دعوت کو قبول کرنے کا ماحول پیدا کیا جاتا۔ کیونکہ خوشحالی اور عیش کی زندگی گزارتے ہوئے انسان ایسی کوئی نئی بات سننے کی طرف کم ہی مائل ہوتا ہے ‘ البتہ اگر انسان تکلیف میں مبتلا ہو تو وہ ضرور اللہ کی طرف رجوع کرتا ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–95
100 اس سورة کی آیت نمبر 59 سے لے کر آیت نمبر 93 تک چار رکوعوں میں پانچ مشہور و معروف انبیاء سیدنا نوح (علیہ السلام) سیدنا ہود (علیہ السلام) سیدنا صالح (علیہ السلام) سیدنا لوط (علیہ السلام) اور سیدنا شعیب (علیہ السلام) کا اور ان کی طرف سے دعوت، منکرین کی مخالفت ان کے سوال و جواب اور بالآخر ان معاندین کی ہلاکت کا ذکر کیا گیا ہے یہ سورة اعراف مکہ میں اس وقت نازل ہوئی جبکہ رسول اللہ اور آپ کے اصحاب اسی قسم کے یا ان سے ملتے جلتے حالات سے دو چار تھے مشرکین مکہ کی طرف سے مخالفت اور معاندانہ سرگرمیاں، دھمکیاں ظلم، تشدد اور اسلام کی راہ روکنے کے تقریباً وہی طریقے اختیار کیے جا رہے تھے جو ان انبیاء سے…
Read the full tafseer →128 ۔ (اور استکبار وخود بینی چھوڑ کر عاجزی وفروتنی اختیار کرلیں) بلاؤں کا نزول اصلااسی لیے ہوتا ہے کہ لوگ اپنی گمراہیوں پر متنبہ اور ان سے تائب ہو کر خدا پرستی کی راہ اختیار کرلیں۔ التضرع ھو الخضوع والانقیاد للہ تعالیٰ (کبیر) (آیت) ” اخذنا اھلھا بالباسآء والضرآء “۔ یہ تنگدستی اور مرض میں ابتلاء بہ طور تنبیہ کے ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–99
آیت نمبر 94 تا 99
ترجمہ : اور کبھی ایسا نہیں ہوا کہ ہم نے کسی بستی میں نبی بھیجا ہو اور انہوں نے اس کی تکذیب ہو مگر یہ کہ ہم نے اس بستی کے رہنے والوں کو فقر کی سختی اور مرض کی تکلیف میں نہ پکڑا ہوتا کہ وہ عاجزی کرنے لگیں اور ایمان لے آئیں، پھر ہم نے ان کی بدحالی عذاب کو خوشحالی غنیٰ اور صحت سے بدل دیا یہاں تک کہ ان کو خوب ترقی ہوئی (یعنی ان کی جان و مال میں کثرت ہوئی) اور نعمت کی ناشکری کرتے ہوئے کہنے لگے جس طرح ہم پر آئے ہیں ہمارے اسلاف پر بھی اچھے برے دن آتے ہی رہے ہیں زمانہ کا یہی دستور ہے، یہ اللہ کی جانب سے سزا نہیں ہے لہٰذا جس مذہب پر تم ہو اسی پر قائم رہو اللہ تعالیٰ نے فرمایا، تو ہم…
Read the full tafseer →وما ارسلنا فی قریۃ من نبی الا اخذنا اہلہا بالباسآء والضرآء لعلہم یضرعون : اور ہم نے کسی بستی میں کوئی نبی نہیں بھیجا کہ وہاں کے رہنے والوں کو ہم نے محتاجی اور بیماری میں نہ پکڑا ہوتا کہ وہ ڈھیلے پڑجائیں
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–95
(94۔ 95) جن بستی والوں کو ہم نے ہلاک کیا ہے، ہلاک کرنے سے پہلے خوف ومصیبت اور بیماریوں اور بھوک کی تکالیف میں گرفتار کیا تاکہ وہ ایمان لے آئیں مگر وہ ایمان نہیں لائے، پھر ہم نے اس قحط وشدت کو بہار اور فراخی و خوشحالی کے ساتھ بدل دیا تاآنکہ ان کو احوال واولاد میں خوب ترقی ہوئی تو وہ کہنے لگے جس طرح ہمیں خوشحالی پیش آئی اسی طرح ہمارے آباؤاجداد کو بھی پیش آئی مگر وہ دین پر جمے رہے۔ لہذا ہم بھی ان کی تقلید کرتے ہیں، نتیجتا ان کو اچانک عذاب نے آگھیرا اور ان کو نزول عذاب کا پتہ ہی نہ چلا۔
Read the full tafseer →وَمَآ اَرْسَلْنَا فِيْ قَرْيَةٍ مِّنْ نَّبِيٍّ۔۔ : اس سے پہلے بعض انبیاء، نوح، ہود، صالح، لوط اور شعیب ؑ کے اپنی اقوام کے ساتھ گزرے ہوئے چند واقعات کے ذکر کے بعد اور آگے موسیٰ ؑ کے فرعون اور بنی اسرائیل کے ساتھ پیش آنے والے مفصل واقعات سے پہلے درمیان میں مختصر طور پر تمام انبیاء اور ان کی اقوام کا ذکر فرمایا۔ مقصود رسول اللہ ﷺ کو تسلی دینا اور کفار کو خبردار کرنا ہے۔
بِالْبَاْسَاۗءِ وَالضَّرَّاۗءِ ”بِالْبَاْسَاۗءِ“ سے مراد اموال میں پہنچنے والی مصیبت، مثلاً فقر و فاقہ اور قحط وغیرہ اور ”‘ وَالضَّرَّاۗءِ سے مراد انسانی بدن کو نقصان پہنچانے والی اشیاء، مثلاً بیماری، مصائب اور جنگ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–95
قولہ تعالیٰ : آیت : وما ارسلنا فی قریۃ من نبی اس میں اضمار ہے اور وہ ہے فکذب اھلھا الا اخذنا ھم (اور نہ بھیجا ہم نے کسی بستی میں کوئی نبی اس کے رہنے والوں نے تکذیب کی) مگر ہم نے انہیں سختی اور تکلیف میں مبتلا کردیا) ۔ آیت : بالباسآء والضراء لعلھم یضرعون اس کے بارے کلام پہلے گزر چکی ہے۔ آیت : ثم بدلنا مکان السیئۃ الحسنۃ یعنی پھر ہم نے ان کی تکلیف اور خشک سالی کو خوشحالی اور راحت کے ساتھ بدل دیا۔ حتی عفوا یہاں تک کہ وہ کثیر اور وافر ہوگئے (تفسیر ماوردی، جلد 2، صفحہ 242 ) ۔ یہ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے۔ اور ابن زید نے کہا ہے : ان کے مال ومنال اور اولاد بڑھ گئی (معالم التنزیل، جلد 2، صفحہ 513) ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–95
(1) امام ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ثم بدلنا مکان السیءۃ الحسنۃ “ پھر ہم نے شدت اور تنگی کو راحت اور خوشحالی میں بدل دیا ” حتی عفوا “ یہاں تک کہ وہ تعداد میں بڑھ گئے۔ اور ان کے مال بھی کثرت سے ہوگئے۔
(2) امام ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ثم بدلنا مکان السبیءۃ “ سے مراد ہے برائی اور الحسنۃ سے مراد ہے نرمی انصاف اور اولاد ” حتی عفوا “ یعنی ان کے مال اور ان کی اولاد کثرت سے ہوگئی۔
(3) امام ابن جریر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ” حتی عفوا “ سے…
Read the full tafseer →[ وَمَآ اَرْسَلْنَا : اور ہم نے نہیں بھیجا ] [ فِيْ قَرْيَةٍ : کسی بستی میں ] [ مِّنْ نَّبِيٍّ : کوئی بھی نبی ] [ اِلَّآ : مگر یہ کہ ] [ اَخَذْنَآ : ہم نے پکڑا ] [ اَهْلَهَا : اس کے لوگوں کو ] [ بِالْبَاْسَاۗءِ : سختی سے ] [ وَالضَّرَّاۗءِ : اور تکلیف سے ] [ لَعَلَّهُمْ : شائد وہ لوگ ] [ يَضَّرَّعُوْنَ : گڑگڑائیں ]
ض ر ع ۔ (ف) ضراعۃ ۔ کمزور ہونا ۔ بےفائدہ ہونا ۔ ضریغ ۔ فعیل کے وزن پر صفت ہے۔ بےفائدہ ۔ خار دار درخت ۔ لیس لہم طعام الا من ضریع [ نہیں ہوگا ان کے لیے کوئی کھانا مگر ایک خاردار درخت میں سے ] 88:6 ۔
تفعل ــ: تضرعا ۔ کمزوری اور عاجزی کا اظہار کرنا ۔ گڑگڑانا ۔ زیر مطالعہ آیت نمبر ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 89–94
جن بستیوں میں نبی بھیجے گئے ان کو خوشحالی اور بد حالی کے ذریعہ آزمایا گیا
گزشتہ چند رکوع میں متعدد قوموں کی تکذیب اور تعذیب کا تذکرہ فرمایا۔ ان بستیوں کا حال بنی اسرائیل کو معلوم تھا اور قریش بھی تجارت کے لیے ملک شام کی طرف جاتے تھے وہ بھی ان میں سے بعض بستیوں پر گزرتے تھے اور اگر کسی کو ان کے حالات معلوم نہ ہوں تو اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں بیان فرما دیئے جنہیں رسول اللہ ﷺ نے پڑھ کر سنا دیا۔ ان واقعات سے معلوم ہوگیا کہ سابقہ اقوام کی بربادی کا سبب ان کا کفر تھا اور ان کے اعمال بد تھے۔ اس رکوع میں اول تو یہ فرمایا کہ جس کسی بستی میں ہم نے نبی بھیجا وہاں کے رہنے والوں کو تنبیہ کرنے کے لیے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–102
بیان اجمالی حال و مآل امم سابقہ برائے عبرت ونصیحت امم حاضرہ
قال اللہ تعالیٰ وما ارسلنا فی قریۃ من نبی۔۔۔ الی۔۔۔ وان وجدنا اکثرھم لفسقین
(ربط) گزشتہ رکوعات میں امم سابقہ کے واقعات قرے تفصیل کے ساتھ بیان کیے اب ان کا اجمالی خلاصہ بیان کرتے ہیں تاکہ موجودہ زمانے کے لوگوں کے لیے عبرت اور نصیحت کا ذریعہ بنیں کہ اے لگو تمہیں ان واقعات سے انبیاء کرام کی تکذیب کے برے نتائج کا علم ہوگیا مگر یہ یاد رکھو کہ یہ سزائیں ان کو دفعۃً نہیں دی گئیں بلکہ تنبیہات کے بعد دی گئیں کیونکہ ہماری عادت یہ ہے کہ لوگ جب انبیاء کی تکذیب کرتے ہیں تو ہم شروع میں تنبیہ کے طور پر بیماری اور قحط اور مختلف قسم کی سختیوں اور…
Read the full tafseer →99: التفات بسوئے اہل مکہ : یعنی ہماری سنت جاریہ یہی رہی ہے کہ ہم نے جس بستی میں کوئی نبی بھیجا وہاں کے باشندوں کو مختلف طریقوں سے آزمایا۔ ان کو مالی وجانی تکلیفوں میں مبتلا کیا تاکہ وہ عاجزی کریں اور اپنے گناہوں سے تائب ہو کر اللہ کی توحید کو مان لیں اور انیک اعمال بجا لائیں۔ “ ثُمَّ بَدَّلْنَا الخ ” جب اس طرح ان کی حالت میں کوئی تبدیلی نہ ہوئی تو ہم نے ان کی تلیف اور تنگدستی کو راح و فراخی سے بدل دیا تاکہ اس طرح ان کے دلوں میں شکر و اطاعت کا جذبہ پیدا ہو۔ لان ورود النعمۃ فی البدن و المال بعد الشدۃ والضیق یستدعی الانقیاد للطاعۃ والاشتغال بالشکر (خازن ج 2 ص 228) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–95
ذہنیت اقوام اور سنت اللہ
تبلیغ رسالت کے سلسلے میں اللہ تعالیٰ نے یہاں تک پانچ انبیا (علیہ السلام) کا ذکر فرمایا ہے کہ ان جلیل القدر انبیا نے کس طرح محنت اور جانفشانی سے اپنی اپنی قوم کو اللہ کا پیغام پہنچایا اور پھر اقوام نے اس کا کیا جواب دیا اور انبیاء کے ساتھ کیا سلوک کیا ان اقوام کی نافرمانی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی گرفت آئی اور لوگ مختلف قسم کے عذابوں میں مبتلا ہو کر اپنے انجام کو پہنچے یہ واقعات بیان کرکے اللہ تعالیٰ نے بعد میں آنے والے لوگوں کو عبرت دلائی ہے کہ دیکھو اللہ کے احکام سے روگردانی کرنے والوں کا کیا حشر ہوا۔ آپ آج کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے اقوام عالم کی ذہنیت اور اس معاملہ…
Read the full tafseer →وَمَآ اَرْسَلْنَا فِيْ قَرْيَۃٍ مِّنْ نَّبِيٍّ اِلَّآ اَخَذْنَآ اَہْلَہَا بِالْبَاْسَاۗءِ وَالضَّرَّاۗءِ لَعَلَّہُمْ يَضَّرَّعُوْنَ 94
قرية
الْقَرْيَةُ : اسم للموضع الذي يجتمع فيه الناس، وللناس جمیعا، ويستعمل في كلّ واحد منهما . قال تعالی: وَسْئَلِ الْقَرْيَةَ [يوسف/ 82] قال کثير من المفسّرين معناه : أهل القرية .
( ق ر ی ) القریۃ
وہ جگہ جہاں لوگ جمع ہو کر آباد ہوجائیں تو بحیثیت مجموعی ان دونوں کو قریہ کہتے ہیں اور جمع ہونے والے لوگوں اور جگہ انفراد بھی قریہ بولا جاتا ہے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ وَسْئَلِ الْقَرْيَةَ [يوسف/ 82] بستی سے دریافت کرلیجئے ۔ میں اکثر مفسرین نے اہل کا لفظ محزوف مان کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 92–94
ترکیب : الذین الخ مبتداء کان لم الخ خبر یا کان لم حال ہے ضمیر کذبوا سے اور دوسرا الذین کذبوا بدل ہے فاعل یغنوا سے کانوا الخ خبر کانوا کا اسم ضمیر متصل ھم الخاسرین خبر۔ الاساء شدۃ الحزن اسے علی ذلک فھو آس۔
تفسیر : ہاں اگر تقدیر میں یونہی لکھا ہو اور اللہ ہی چاہے تو اس کا کچھ کہنا ہی نہیں ( کیونکہ دل جو انسان کے تمام افعال کا محرک ہے اسی کے قبضہ قدرت میں ہے چاہے اس کو ہدایت کی طرف پھیر دے خواہ بدی کا داعیہ اس میں ڈال دے خوف کا مقام ہے) ۔
مگر وہ ہر بات کا علم رکھتا ہے۔ ہمارا اسی پر بھروسہ ہے۔ اس کے بعد شعیب (علیہ السلام) نے دعا کی اے اللہ ہم میں اور ہماری قوم میں فیصلہ کر دے۔ یہ بھی عذاب کے…
Read the full tafseer →گزشتہ آیات میں پانچ ایسی قوموں کا تذکرہ گزرا ہے جن پر اس لیے اللہ کا عذاب آیا کہ انھوں نے اللہ کے رسولوں کی دعوت کو قبول کرنے سے نہ صرف انکار کیا بلکہ اللہ کے رسول کی تمام تبلیغی مساعی کے مقابلے میں انھوں نے اذیت رسانی اور مخالفت کی انتہاء کردی جب اللہ کی جانب سے ان پر اتمام حجت ہوگیا تو اللہ کا عذاب ان پر ٹوٹا اور وہ دنیا میں عبرت کی علامت بن کر رہ گئے۔ آئندہ آیات میں وہ اصول و ضوابط بیان کیے جا رہے ہیں جن سے امتوں کو آزمایا جاتا ہے اور جو اتمام حجت کی بنیاد بنتے ہیں اور بالآخر اس کے نتیجے میں ان کی قسمت کا فیصلہ کردیا جاتا ہے۔ اگلی آیت کریمہ میں پیغمبر کی بعثت کے بعد سب سے پہلے جو آزمائش…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–95
فہم القرآن
ربط کلام : عرب اور اس کے گرد و نواح کی پانچ اقوام کے کردار اور انجام کا ذکر کرنے کے بعد دنیا میں جزاء و سزا اور آزمائش کا عمومی اصول بیان کیا گیا ہے۔
اہل علم نے ” بِالْبَاسَاءِ “ کا معنی غربت، تنگدستی اور ” ضَرَّاءِ “ کا مفہوم جسمانی بیماریاں لیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہاں ایک بنیادی اصول ذکر فرمایا ہے کہ ہم قوموں کو تباہ و برباد کرنے سے پہلے غربت و افلاس اور جسمانی امراض کے ذریعے جھنجوڑا کرتے ہیں تاکہ بڑا عذاب آنے سے پہلے اپنی اصلاح کی طرف توجہ کریں۔ گویا کہ اس معمولی اور عارضی گرفت کے پیچھے۔ اللہ تعالیٰ کی دائمی شفقت اور حکمت پنہاں ہوتی ہے کہ لوگوں کو احساس ہو کہ اگر ہم نے نافرمانی…
Read the full tafseer →قوموں کا عمومی طرز عمل :
آیت 94: وَمَآ اَرْسَلْنَا فِیْ قَرْیَۃٍ مِّنْ نَّبِیٍّ (اور ہم نے کسی بستی میں کوئی نبی نہیں بھیجا) ہر شہر کو قریہ کہتے ہیں۔ اس میں حذف ہے۔ یعنی انہوں نے ان کو جھٹلادیا۔ اِلَّآ اَخَذْنَآ اَھْلَھَا بِالْبَاْسَآئِ (کہ وہاں کے رہنے والوں کو محتاجی میں نہ پکڑا ہو) تنگدستی اور فقروَالضَّرَّآئِ (اور بیماری میں) اتباع پیغمبر سے تکبر کرنے کی بناء پر جسمانی تکالیف اور مرض یا دونوں کا یعنی نفس کا نقصان اور مال کا نقصان لَعَلَّہُمْ یَضَّرَّعُوْنَ (تاکہ وہ ڈھیلے پڑجائیں) تاکہ وہ گڑ گڑائیں اور عاجزی اختیار کریں تکبر کی چادر اتار پھینکیں۔
Read the full tafseer →94(وما ارسلنا فی قریۃ من نبی) یہاں مقدر ہے یعنی پھر ان لوگوں نے اس نبی کو جھٹلایا (انا اخلنا اھلھا) جب وہ ایمان نہ لائے ہوں۔
بالباسآء اور والضراء کی مختلف تفاسیر
(بالباسآء والضرائ) ابن مسعود ؓ نے فرمایا کہ ” باسء فتر ہے اور ” ضرائ “ سے مراد مرض ہے اور یہی معنی ہے ان لوگوں کے قول کا جنہوں نے کہا ” باساء “ کا تعلق مال سے اور ” ضرائ “ کا تعلق جان سے ہے اور بعض نے کہا کہ ” باسائ “ اور ” بئوس “ کا معنی معیشت کا تنگ ہونا اور ” ضرائ “ اور ” ضر “ کا معنی بری حالت اور بعض نے کہا ” باسائ “ سے مراد غم و پریشانی اور ” ضرائ “ سے خشک سالی مراد ہے (لعلھم یضرعون) اور توبہ کریں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–95
(94 ۔ 95) ۔ اس ذکر سے یہ مطلب یہ ہے مطلب ہے کہ کفار قریش پچھلی امتوں کی بربادی کا حال سن کر حضرت ﷺ کے جھٹلانے سے اور کفر سے باز آویں اور خدا سے ڈریں اس لئے فرمایا کہ پچھلی امتوں میں اللہ تعالیٰ نے رسول جو بھیجے تو ایسی حالت میں کہ وہ طرح طرح کی بیماریوں میں مبتلا تھے اور نہایت ہی افلاس میں تھے پیسہ پیسہ کو محتاج تھے یہ ان کی جانچ تھی کہ دیکھیں وہ اس حالت میں بھی گڑاتے ہیں اور خدا کی طرف رجوع ہوتے ہیں یا نہیں مگر وہ اس حالت میں بھی اپنے اسی کفر اور گمراہی میں پڑے رہے آخر اللہ تعالیٰ نے ان کو بیماری سے تندرست بنا دیا اور مال واولاد سے مالا مال کردیا کہ شاید اس حال میں وہ اللہ کا شکر بجا لاویں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–94
آیت 88
(قال الملا الذین استکبروا من قومہ) ” کہا ان سرداروں نے جو متکبر تھے اس کی قوم میں سے “ اس سے مرادان کے اشراف اور بڑے آدمی ہیں جنہوں ن اپنی لذات میں مستغرق ہو کر اپنی خواہشات نفس کی پیروی کی، جب ان کے پاس حق آیا اور انہوں نے دیکھ لیا کہ حق ان کی خواہشات نفس کے خلاف ہے تو انہوں نے نہایت تکبر سے حق کو ٹھکرا دیا اور اپنے نبی شعیب اور ان مستضعفین سے کہنے لگے جو حضرت شعیب کے ساتھ تھے۔ (لنخرجنک یشعیب والذین امنوا معک من قریتنا اولتعودن فی ملتنا) ” ہم ضرور نکال دیں گے اے شعیب تجھ کو اور ان کو جو تیرے ساتھ ایمان لائے اپنے شہر سے، یا یہ کہ تم لوٹ آؤ اپنے دین میں “ انہوں نے حق کے خلاف بہیمانہ قوت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–141
دعا کا طریقہ
قول باری ہے وادعواربکم تضرعاً عاوخفیۃ۔ اپنے رب کو پکارو گڑگڑاتے ہوئے اور چپکے چپکے) آیت میں چپکے چپکے رب کو پکارنے کا حکم ہے حسن کا قول ہے کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے تمہیں اس بات کی تعلیم دی ہے کہ تم اپنے رب کو کس طرح پکارو۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک عہد صالح کا ذکر فرمایا جس کی پکار کو اس نے پسند فرمایا تھا چناچہ ارشاد ہے اذنادی ربہ نداء خفیا۔ جبکہ اس نے اپنے رب کو چپکے چپکے پکارا) یعنی حضرت زکریاعلیہ السلام عبداللہ بن المبارک نے حسن بصری سے روایت کی ہے کہ لوگ یعنی صحابہ کرام بڑی عاجزی اور نیاز مندی کے ساتھ دعائیں مانگا کرتے تھے اور صرف سرگوشی کی آواز سنائی دیتی تھی۔ حضرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–95
132 مصائب ذریعہ ابتلاء و آزمائش : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ مصائب کے ذریعے قدرت کی طرف سے تنبیہ وتحذیر اور ابتلاء و آزمائش کا سامان کیا جاتا ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ ہم نے جس بستی میں بھی کوئی پیغمبر بھیجا اس کے باشندوں کو ہم نے سختی اور تنگی میں پکڑا تاکہ وہ دب جائیں، ان کی اکڑی ہوئی گردنوں میں خم آجائے اور وہ خدا تعالیٰ کی طرف رجوع کر کے حق قبول کرلیں اور اس طرح یہ دوزخ سے بچ جائیں۔ سو اس طرح عبرت پذیر شخص کے لئے دنیا کی یہ مصیبتیں بھی ہدایت و رحمت کا ذریعہ بن کر باعث خیر بن جاتی ہیں۔ مگر غافل و مدہوش لوگوں کو اس سے کوئی فائدہ نہیں پہنچتا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف اس ارشاد سے اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–102
سیدنا شعیب (علیہ السلام) کی قوم پر عذاب الٰہی
تشریح : مدین کی قوم پچھلی قوموں، یعنی قوم نوح، عاد، ثمود، اور قوم لوط کی طرح اخلاقی، مذہبی اور تعلیمی لحاظ سے بالکل بگڑ چکی تھی۔ سیدنا شعیب (علیہ السلام) نے اللہ کے حکم سے ان کو راہ راست پر لانے کی ذمہ داری اٹھائی، یہ واقعہ یہاں صرف اس لیے بیان کیا گیا کہچو ن کہ یہ سورت مکہ میں نازل ہوئی اور اس وقت اہل مکہ کا حال بھی کچھ ایسا ہی تھا تو لوگوں کو عبرت دلانے کے لیے ان کو ان تمام قوموں کے حالات اور انجام بتایا گیا کہ عرب لوگ سبق سیکھیں اور راہ ہدایت اختیار کریں۔ اہل مدین اس وقت شرک، بد دیانتی، جھوٹ فریب، ظلم، قتل و فساد غیر اخلاقی وکردار کی انتہائی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–99
رکوع نمبر 12 ۔ آیات 94 تا 99 ۔
اسرار و معارف :
اللہ رب العزت بہت ہی زیادہ کریم ہیں اس قدر کہ انسانی علوم اندازہ کرنے سے قاصر ہیں یہاں ارشاد ہوتا ہے کہ جب بھی اور جہاں بھی کوئی نبی مبعوث فرمایا وہاں انسانی ضروریات میں ایک خاص شدت بھی پیدا کردی لوگوں میں اعراض اور بیماریاں پیدا کردیں یا مالی نقصان سے دوچار کردیا کہ پریشان ہو کر اس کے حل کی تلاش میں نکلیں یا کسی ایسی ہستی کو تلاش کریں جو ان مصائب سے نجات دلا دے تو نبی کی دعوت سنیں اور کم از کم ذاتی غرض کے لیے ہی سہی میرے دروازے پہ تو آئیں یعنی ہدایت و گمراہی میں ایک راستہ اختیار کرنے ک امجاز تو انسان کو بنا دیا پھر بھی اس کی رحمت ایسے اسباب پیدا…
Read the full tafseer →ف 11 ۔ اور پھر بستی والوں نے ان کی تکزیب کی تو ہم نے ان کو تکالیف و شدائد میں گرفتار کرلیا کیونکہ سنت الٰہی یہی رہی ہے (رازی)
ط
Read the full tafseer →(7:94) الباسائ۔ اسم مؤنث ہے بؤس سے مشتق ہے۔ باس بؤس اور باسأ تینوں میں سختی اور ناگواری کے معنی پائے جاتے ہیں۔ مگر بؤس کا لفظ زیادہ تر فقر وفاقہ اور لڑائی کی سختی پر بولا جاتا ہے۔ اور الباس والباساء جسمانی زخم۔ بدنی تکلیف۔ جسمانی امراض اور نقصان کے لئے آتے ہیں۔ الضرائ۔ ضرر سے وہ تکلیف مراد ہے جو فقر و حاجت سے ہوتی ہے۔ تکلیف۔ سختی۔ تنگی۔ الباساء والضرائ۔ دونوں اسم مؤنث ہیں ان کا مذکر نہیں آتا۔
یضرعون۔ مضارع جمع مذکر غائب۔ نضرع (تفعل) مصدر۔ اصل میں یتضرعون تھا۔ ت کو ض میں مدغم کردیا گیا۔ (تاکہ وہ زاری کریں۔ عاجزی کریں)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–99
لغات القرآن آیت نمبر (94 تا 99) ۔
یضرعون (وہ عاجزی کرتے ہیں) ۔ حتی عفوا (یہاں تک کہ وہ آگے بڑھ گئے) ۔ مس (چھولیا) ۔ بغتتہ (اچانک ) ۔ لفتحنا (البتہ ہم نے کھول دیا) ۔ یکسبون (وہ کمائی کرتے ہیں) ۔ افامن (کیا پھر وہ بےخوف ہوگئے) ۔ نائمون (سونے والے ) ۔ ضحی (دن چڑھے ) ۔ یلعبون (وہ کھیل رہے ہیں) ۔
تشریح : آیت نمبر (94 تا 99 ) ۔ ” گذشتہ آیات میں مسلسل پانچ قوموں کے عبرت انگیز واقعات بیان کر کے عرب کے کفار اور مشرکین کو نصیحت کی جارہی ہے کہ ذرا سوچو ! کیا یہی آزمائشیں تمہارے ساتھ پیش نہیں آرہی ہیں ؟ تم کس غفلت میں پڑے ہو ؟ کیا اللہ تعالیٰ کی خفیہ تدبیریں ٹیکی اس وقت اچانک تمہیں آ کر پکڑ نہیں سکتیں جب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 89–94
مشرکوں کو ہدایت
اس ذکر سے یہ مطلب ہے کہ کفار قریش پچھلی امتوں کی بربادی کا حال سن کر آنحضرت ﷺ کے جھٹلانے سے اور کفر سے باز آویں اور خدا سے ڈریں۔ اس لئے فرمایا کہ پچھلی امتوں میں رسول جو اللہ تعالیٰ نے بھیجے تو ایسی حالت میں کہ وہ لوگ طرح طرح کی مصیبتوں میں گرفتار تھے۔ یہ ان کی جانچ تھی کہ دیکھیں وہ اس حالت میں گڑگڑاتے اور خدا کی طرف رجوع ہوتے ہیں یا نہیں۔ مگر وہ اس حالت میں بھی اسی کفر اور گمراہی میں پڑے رہے۔ آخر اللہ تعالیٰ نے ان کی مصیبتوں کو دور کردیا ار تندرست بنادیا اور مالدار کردیا کہ شاید اس حالت میں رہ کر اللہ تعالیٰ کا شکر بجا لاویں مگر وہ گمراہ ازلی تھے۔ یہ کہنے لگے کہ تکلیف کی گھڑی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 86–102
[41] یعنی یہ لوگ مبتلائے مصیبت ہو کر ایمان لانے کا عہد کرتے اور کہتے کہ اگر ہمیں اس سے نجات مل گئی تو ہم ضرور ایمان لائیں گے پھر جب نجات پاتے تو عہد سے پھرجاتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–94
(ف 1) آیات کا مقصد یہ ہے کہ رسول تباہی کی درخواست اس وقت اللہ سے کرتا ہے جبکہ پیمانہ صبر لبریز ہوجائے اور جب پوری مایوسی ہو ، جب وہ تمام احکام تم تک پہنچا چکا ہوں ، ساری باتیں سنا چکا ہوں ، اب بھی اگر تم نہ مانو ، تجھے تمہارے مٹ جانے پر قطعا افسوس نہیں ۔
انبیاء (علیہم السلام) بدرجہ غایت شفیق اور مہربان ہوتے ہیں ، آخرت تک ہوش میں ہوتے ، اور جاگتے ہیں کہ کسی نہ کسی طرح قوم میں اصلاح ہو اور دقت سے بچ جانے ، مگر جب قلب وجگر پر مردنی چھا جائے غفلت وجہالت آنکھوں کی بینائی ضائع کر دے ، تو پھر مہربانی کی کیونکہ توقع کی جاسکتی ہے ۔
اللہ تعالیٰ بھی نہیں چاہتے ، کہ اس کے پیارے بندے ایک دم زندگی سے محروم…
Read the full tafseer →94 اور ہم نے کسی بستی اور شہر میں کبھی کوئی نبی نہیں بھیجچا مگر یہ کہ ہم نے شروع شروع ان کے انکار اور نبی کی تکذیب کرنے پر ان بستی والوں کو فقر و تنگدستی اور امراض و آلام میں مبتلا کیا تاکہ وہ عاجزی کریں یعنی رسول کی تکذیب سے باز آجائیں اور ڈر کر گریہ وزاری کریں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–95
ف 1۔ اوپر جن قوموں کا قصہ ذکر ہوا ہے چونکہ اور قوموں کے بھی ایسے قصے واقع ہوئے ہیں آگے عام عنوان سے اجمالا ان سب کی حالت جرم کی اور جرم پر بھی اول مہلت ملنے کی اور پھر بھی نہ سمجھنے پر سزاجاری ہونے کی مذکور ہے اور حکایت کے بعد آیت اولم یھد سے غرض حکایت پر کہ عبرت حاصل کرنا ہے تنبیہ فرمائی گئی ہے۔
Read the full tafseer →عذاب نازل کرنے کے متعلق سنت اللہ کی مزید تشریح قرآن کریم کی زبان سے :
105: اب یہ سنت اللہ بیان کی جا رہی ہے جس سے ایک طرف تو یہ واضح کرنا مقصود ہے کہ کسی قوم پر جس میں اللہ تعالیٰ اپنا رسول بھیجتا ہے عذاب بھیجنے کے معاملے میں وہ کیا طریقہ اختیار فرماتا ہے اور دوسرے اس تاریخی حقیقت اور شہادت کو سامنے لانا ہے کہ جس قوم نے بھی ایمان لانے کی شرط نشانی عذاب کو ٹھہرایا اس کو ایمان کی سعادت حاصل نہیں ہوئی بلکہ بالاخر عذاب ہی کے ذریعہ سے اس کی جڑ کاٹ دی گئی فرمایا کہ تم سے پہلے اور یہ خطاب نبی اعظم آخر ﷺ سے ہے ہم نے بہت سی قوموں کے پاس اپنے رسول بھیجے تو ان کو مختلف قسم کے مالی و جسمانی مصیبتوں میں…
Read the full tafseer →The above verses continue to speak of the events of early people and their ominous fate. The events of five early prophets and their people have been so far discussed. The sixth event concerning 'the Prophet Musa (علیہ السلام) and his people is going to be discussed after a few next verses.
We have already noted that usual style of the Holy Qur'an with regard to the historical events is quite different from the books of history. The Holy Qur'an does not care to describe a historical event in its entirety or in chronological order. Rather, it selects certain relevant portion of the event then…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–95
77. After narrating individually the stories of how various nations responded to the Message of their Prophets, the Qur'an now spells out the general rule which has been operative throughout the ages. First, before the appearance of a Prophet in any nation, conditions that would conduce to the acceptance of his Message were created. This was usually done by subjecting the nations concerned to a variety of afflictions and punishments. They were made to suffer miseries such as famine, epidemics, colossal losses in trade and business, defeat in war. Such events usually have a healthy impact on…
Read the full tafseer →