Al-A'raaf 7:93

Al-A'raaf · from ayah 93

7:93

فَتَوَلّٰی عَنْهُمْ وَقَالَ یٰقَوْمِ لَقَدْ اَبْلَغْتُكُمْ رِسٰلٰتِ رَبِّیْ وَنَصَحْتُ لَكُمْ ۚ— فَكَیْفَ اٰسٰی عَلٰی قَوْمٍ كٰفِرِیْنَ ۟۠فَتَوَلّٰى عَنۡهُمۡ وَقَالَ يٰقَوۡمِ لَقَدۡ اَبۡلَغۡتُكُمۡ رِسٰلٰتِ رَبِّىۡ وَنَصَحۡتُ لَـكُمۡ‌ۚ فَكَيۡفَ اٰسٰی عَلٰى قَوۡمٍ كٰفِرِيۡنَ

تو شعیب ان میں سے نکل آئے اور کہا کہ بھائیو میں نے تم کو اپنے پروردگار کے پیغام پہنچا دیئے ہیں اور تمہاری خیرخواہی کی تھی۔ تو میں کافروں پر (عذاب نازل ہونے سے) رنج وغم کیوں کروں

— Fateh Muhammad Jalandhari

And he turned away from them and said, "O my people, I had certainly conveyed to you the messages of my Lord and advised you, so how could I grieve for a disbelieving people?"

— Saheeh International

Juz 9 · Ruku 11 of surah · Ruku 1 of juzع

Read the whole surah · Surah Al-A'raaf

All translations of 7:93

اور شعیبؑ یہ کہہ کر ان کی بستیوں سے نکل گیا کہ "اے برادران قوم، میں نے اپنے رب کے پیغامات تمہیں پہنچا دیے اور تمہاری خیر خواہی کا حق ادا کر دیا اب میں اُس قوم پر کیسے افسوس کروں جو قبول حق سے انکار کرتی ہے"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

تو شعیب ان میں سے نکل آئے اور کہا کہ بھائیو میں نے تم کو اپنے پروردگار کے پیغام پہنچا دیئے ہیں اور تمہاری خیرخواہی کی تھی۔ تو میں کافروں پر (عذاب نازل ہونے سے) رنج وغم کیوں کروں

— مولانا فتح محمد جالندہری

اس وقت شعیب ؑ ان سے منھ موڑ کر چلے اور فرمانے لگے کہ اے میری قوم! میں نے تم کو اپنے پروردگار کے احکام پہنچا دیئے تھے اور میں نے تمہاری خیر خواہی کی۔ پھر میں ان کافر لوگوں پر کیوں رنج کروں

— مولانا محمد جوناگڑہی

چنانچہ وہ (یعنی شعیب ؑ) ان سے منہ موڑ کر چل دیے، اور کہنے لگے : اے قوم ! میں نے تجھے اپنے رب کے پیغامات پہنچا دیے تھے، اور تیرا بھلا چاہا تھا۔ (مگر) اب میں اس قوم پر کیا افسوس کروں جو ناشکری تھی۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تو شعیب نے ان سے منہ پھیرا اور کہا اے میری قوم! میں تمہیں رب کی رسالت پہنچا چکا اور تمہارے بھلے کو نصیحت کی تو کیونکر غم کروں کافروں کا،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

تب (شعیب علیہ السلام) ان سے کنارہ کش ہوگئے اور کہنے لگے: اے میری قوم! بیشک میں نے تمہیں اپنے رب کے پیغامات پہنچا دیئے تھے اور میں نے تمہیں نصیحت (بھی) کردی تھی پھر میں کافر قوم (کے تباہ ہونے) پر افسوس کیونکر کروں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

پھر وہ ان سے واپس لوٹا اور اس نے کہا اے میری قوم ! بلاشبہ یقینا میں نے تمہیں اپنے رب کے پیغامات پہنچا دیے اور میں نے تمہاری خیرخواہی کی، تو میں نہ ماننے والے لوگوں پر کیسے غم کروں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

شعیب انہیں یہ کہتے ہوئے وہاں سے چلا گیا کہ : اے میری قوم ! میں نے تمہیں اپنے پروردگار کا پیغام پہنچا دیا تھا اور (ممکن حد تک) میں تمہاری خیر خواہی کرتا رہا۔ تو اب میں ان لوگوں پر کیسے افسوس کروں جو انکار ہی کرتے رہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

تو وہ ان کو یہ کہہ کر چھوڑ کر چل دیا کہ اے میرے ہم قومو، میں نے تمہیں اپنے رب کے پیغام پہنچا دیے، تمہاری خیر خواہی کردی تو اب میں کفر کرنے والوں کا غم کیوں کروں ! !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

پھر شعیب ان سے منہ موڑ کر چل دیئے اور (حسرت بھرے انداز میں) کہا کہ اے میری قوم، بیشک میں نے پہنچا دیئے تم کو پیغامات اپنے رب کے، اور پوری طرح خیرخواہی کی تمہارے لئے، اب میں کیسے غم کروں ایسے لوگوں پر جو اڑے رہے تھے اپنے کفر پر،

— مولانا اسحاق مدنی

اس وقت وہ ان سے منہ موڑ کر چلے اور بولے اے میری قوم والو میں نے تو تمہیں اپنے پروردگار کے پیام پہنچا دیئے تھے اور تمہاری خیر خواہی کی تھی تو اب میں کیوں کر غم کروں کافر لوگوں پر ؟ ۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

تو وہ ان کو چھوڑ کر چل دیا یہ کہتے ہوئے کہ اے میری قوم کے لوگو ! میں نے تو تمہیں پہنچا دیے تھے اپنے رب کے پیغامات اور میں نے تمہاری خیر خواہی کی تھی تو اب میں کیسے افسوس کروں اس قوم پر جس نے کفر کیا ہے !

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

تو شعیب ان میں سے نکل آئے اور کہا بھائیو ! میں نے تم کو اپنے رب کے پیغام پہنچادئیے ہیں اور تمہاری خیر خواہی کی تھی، تو میں کافروں پر عذاب نازل ہونے سے رنج و غم کیوں کروں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Shu'ayb then departed from his people, and said: 'O my people! Surely I conveyed to you the message of my Lord, and gave you sincere advice. How, then, can I mourn for a people who refuse to accept the truth?'

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

So, he turned away from them and said, :O my people, I have surely delivered to you the message of my Lord, and wished your betterment. How, then, should I grieve over a disbelieving people?

— Muhammad Taqi Usmani

So, he turned away from them and said, :O my people, I have surely delivered to you the message of my Lord, and wished your betterment. How, then, should I grieve over a disbelieving people?

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Then he (Shu`ayb) turned from them and said: "O my people! I have indeed conveyed my Lord's Messages unto you and I have given you good advice. Then how can I grieve over people who are disbelievers."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

So he turned from them and said: O my people! I delivered my Lord's messages unto you and gave you good advice; then how can I sorrow for a people that rejected (truth)?

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And he turned away from them and said, "O my people, I had certainly conveyed to you the messages of my Lord and advised you, so how could I grieve for a disbelieving people?"

— Saheeh International

He turned away from them saying, "My people, I preached the Message of my Lord to you and gave you good advice. How could I be sorry for the unbelievers?"

— Muhammad Sarwar

So he turned away from them and said: O my people! certainly I delivered to you the messages of my Lord and I gave you good advice; how shall I then be sorry for an unbelieving people?

— Muhammad Habib Shakir

Then he turned from them, and said: my people! assuredly I delivered unto you the messages of my Lord, and counselled you good; how then should I lament over an unbelieving people?

— Abdul Majid Daryabadi

So Shu'aib left them, saying: "O my people! I did indeed convey to you the messages for which I was sent by my Lord: I gave you good counsel, but how shall I lament over a people who refuse to believe!"

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 7:93

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

قوم پر اللہ تعالیٰ کا عذاب آچکنے کے بعد حضرت شعیب ؑ وہاں سے چلے اور بطور ڈانٹ ڈپٹ کے فرمایا کہ میں سبکدوش ہوچکا ہوں۔ اللہ کا پیغام سنا چکا، سمجھا بجھا چکا، غم خواری ہمدردی کرچکا۔ لیکن تم کافر کے کافر ہی رہے اب مجھے کیا پڑی کہ تمہارے افسوس میں اپنی جان ہلکان کروں ؟

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْاَعْرَاف 76 یہ جتنے قصے یہاں بیان کیے گئے ہیں ان سب میں ”سرِّ دلبراں در حدیث دیگراں“ کا انداز اختیار کیا گیا ہے۔ ہر قصہ اس معاملہ پر پورا پورا چسپاں ہوتا ہے جو اس وقت محمد ﷺ اور آپ کی قوم کے درمیان پیش آ رہا تھا۔ ہر قصہ میں ایک فریق بنی ہے جس کی تعلیم، جس کی دعوت، جس کی نصیحت و خیر خواہی، اور جس کی ساری باتیں بعینہ وہی ہیں جو محمد ﷺ کی تھیں۔ ور دوسرا فریق حق سے منہ موڑنے والی قوم ہے جس کی اعتقادی گمراہیاں، جس کی اخلاقی خرابیاں، جس کی جاہلانہ ہٹ دھرمیاں، جس کے سرداروں کا استکبار، جس کے منکروں کا اپنی ضلالت پر اصرار، غرض سب کچھ وہی ہے جو قریش میں پایا جاتا تھا۔ پھر ہر قصے میں منکر قوم…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

چھٹی آیت میں فرمایا فَتَوَلّٰي عَنْهُمْ یعنی قوم پر عذاب آتا ہوا دیکھ کر شعیب ؑ اور ان کے ساتھی یہاں سے چل دیئے۔ جمہور مفسرین نے فرمایا کہ یہ حضرات یہاں سے مکہ معظمہ آگئے۔ اور پھر آخر تک یہیں قیام رہا۔ قوم کی انتہائی سرکشی اور نافرمانی سے مایوس ہو کر شعیب ؑ نے بدعا تو کردی۔ مگر جب اس کے نتیجہ میں قوم پر عذاب آیا تو پیغمبرانہ شفقت و رحمت کے سبب دل دکھا تو اپنے دل کو تسلی دینے کے لئے قوم کو خطاب کرکے فرمایا کہ میں نے تو تم کو تمہارے رب کے احکام پہنچا دیئے تھے اور تمہاری خیر خواہی میں کوئی دقیقہ فرو گزاشت نہ کیا تھا مگر میں کافر قوم کا کہاں تک غم کروں۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

فَتَوَلّٰي عَنْهُمْ وَقَالَ يٰقَوْمِ لَقَدْ اَبْلَغْتُكُمْ رِسٰلٰتِ رَبِّيْ۔ یہی آیت الفاظ کے معمولی فرق کے ساتھ اوپر قوم صالح کی سرگزشت میں گزر چکی ہے۔ ملاحظ ہو آیت 79۔ وہاں ہم نے اس کے موقع و محل کی تفصیل سے وضاحت کی ہے۔ حضرت شعیب ؑ نے یہ بات درحقیقت اس وقت فرمائی ہے جب انہوں نے خدا کی طرف سے حکم ہجرت مل جانے کے بعد اعلان برات کر کے ہجرت فرمائی ہے لیکن عذاب کی مبادرت دکھانے کے لیے اس کا ذکر عذاب کے ذکر کے بعد ہوا۔ اس اسلوب کی مثالیں قرآن میں ایک سے ایک بڑھ کر لطیف موجود ہیں جو پیچھے بھی گزر چکی ہیں اور آگے بھی آئیں گی۔ فَكَيْفَ اٰسٰي عَلٰي قَوْمٍ كٰفِرِيْنَ میں مرجد افسوس کی نفی نہیں بلکہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

93۔ 1 عذاب و تباہی کے بعد جب وہ وہاں سے چلے، تو انہوں نے وفور جذبات میں باتیں کیں۔ اور ساتھ کہا کہ جب میں نے حق تبلیغ ادا کردیا اور اللہ کا پیغام ان تک پہنچا دیا، تو اب میں ایسے لوگوں پر افسوس کروں تو کیوں کروں ؟ جو اس کے باوجود اپنے کفر اور شرک پر ڈٹے رہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 91–93

48: اس قوم پر جو عذاب آیا اس کے لئے قرآن نے یہاں زلزلے کا ذکر فرمایا ہے، سورة ہود میں اس کو صیحہ یعنی چنگھاڑ سے تعبیر فرمایا گیا ہے اور سورة شعراء میں اسے عذاب یوم الظلہ یعنی سائبان کے دن کا عذاب فرمایا گیا ہے، حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ سے ایک روایت یہ ہے کہ ان لوگوں پر پہلے سخت گرمی پڑی جس سے یہ بلبلا اٹھے پھر شہر سے ایک بادل آیا جس میں ٹھنڈی ہوا تھی یہ لوگ گھروں سے نکل کر اس کے نیچے جمع ہوگئے اس وقت اس بادل سے آگ برسائی گئی جسے سائبان سے تعبیر کیا گیا ہے، پھر زلزلہ آیا (روح المعانی) اور زلزلے کے ساتھ عموماً آواز بھی ہوتی ہے جسے چنگھاڑ کہا گیا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

آیت ” فَتَوَلَّی عَنْہُمْ وَقَالَ یَا قَوْمِ لَقَدْ أَبْلَغْتُکُمْ رِسَالاَتِ رَبِّیْ وَنَصَحْتُ لَکُمْ فَکَیْْفَ آسَی عَلَی قَوْمٍ کَافِرِیْنَ (93) اور شعیب یہ کہہ کر ان کی بستیوں سے نکل گیا کہ ” اے برادران قوم میں نے اپنے رب کے پیغامات تمہیں پہنچا دیئے اور تمہاری خیرخواہی کا حق ادا کردیا ۔ اب میں اس قوم پر کیسے افسوس کروں جو قبول حق سے انکار کرتی ہے۔ “ اس لئے کہ وہ ایک ملت ہے اور یہ لوگ دوسری ملت ہیں ۔ اہل ایمان ایک قوم ہیں اور وہ دوسری قوم ہیں ۔ رہا سلسلہ نسب اور قوم تو اس دین میں اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے ۔ اللہ کے ہاں اس کا کوئی وزن نہیں ہے ۔ یہاں فلاں ابن فلاں کوئی چیز نہیں ہے ۔ اس دین…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

1 یعنی اب ہلاک ہوئے پیچھے ایسی قوم پر افسوس کرنے سے کیا حاصل، جس کو ہر طرح سمجھایا جا چکا۔ موثر نصیحتیں کی گئیں، آنے والے عواقب و نتائج سے ڈرایا گیا۔ مگر انہوں نے کسی کی ایک نہ سنی بلکہ مخلص خیرخواہوں سے دست و گریباں ہی رہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 93 فَتَوَلّٰی عَنْہُمْ وَقَالَ یٰقَوْمِ لَقَدْ اَبْلَغْتُکُمْ رِسٰلٰتِ رَبِّیْ وَنَصَحْتُ لَکُمْ ج فَکَیْفَ اٰسٰی عَلٰی قَوْمٍ کٰفِرِیْنَ یعنی حضرت شعیب علیہ السلام نے امکانی حد تک اپنی قوم کو سمجھانے کی کوشش کی۔ پھر بھی اگر قوم نہیں مانی تو گویا ان لوگوں نے خود اپنی بربادی کو دعوت دی۔ اب ایسے لوگوں کی ہلاکت پر افسوس کرنے کا جواز بھی کیا ہے۔ لیکن حضرت شعیب علیہ السلام کے ان الفاظ سے واضح ہو رہا ہے کہ آپ علیہ السلام کو اپنی قوم کے انجام پر شدید رنج و غم اور صدمہ تھا اور ایسے موقع پر ایسے الفاظ کہنا اپنے دل کی ڈھارس بندھانے کا ایک انداز ہے۔ بہر حال حقیقت یہ ہے کہ نبی اپنی قوم اور بنی نوع…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

99 عذاب سے پہلے قوم سے خطاب :۔ یعنی افسوس تو اس پر آتا ہے کہ جو بےچارا بھول چوک یا نادانستگی میں مارا جائے اور جو انجام سمجھانے کے باوجود آگے سے اکڑتا چلا جائے اور اسے اپنی خیر خواہی کی بات سننا بھی گوارا نہ ہو اس پر افسوس آ بھی کیسے سکتا ہے ؟ اس نے تو دیدہ دانستہ اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالا تھا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

127 ۔ تم پر یہ مصیبت تو اپنے ہاتھوں کی لائی ہوئی ہے۔ اور میرے ہر طرح سمجھانے کے بعد اسے تم اپنے اوپر لائے ہو، اب تم میری ہمدردی کے مستحق ہی کب باقی رہے۔ (آیت) ” فتولی عنھم وقال “۔ یہ ذکر اس وقت کا ہے جب قوم مبتلائے عذاب ہوچکی تھی۔ (آیت) ” ابلغتکم رسلت ربی “۔ یعنی میں پیام رسانی کا حق ادا کرچکا (آیت) ” نصحت لکم “۔ یعنی فرط شفقت سے تمہیں ہر طرح سمجھا بجھا کر دیکھ چکا (آیت) ” علی قوم کفرین “۔ بجائے (آیت) ” علیھم “۔ کے (آیت) ” قوم کفرین “۔ کی تصریح نے اسے صاف کردیا کہ عدم استحقاق تاسف وہمدردی کفر اختیاری ہی کی بناء پر ثابت ہوا۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ آیت سے ظاہر ہوتا ہے کہ مبغوضین مستحق…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 91–93

فاخذتھم۔۔۔۔۔ جٰثمین، قرآن کریم میں حضرت شعیب (علیہ السلام) کی امت کے عذاب کا تذکرہ تین مقامات پر آیا ہے، ایکؔ یہاں یعنی سورة اعراف میں زلزلہ کا ذکر ہے ایکؔ سورة ہود میں آسمانی چیخ کا ذکر ہے، اور ایکؔ سورة شعراء میں عذاب کے بادل کا ذکر ہے جس میں سے آگ برسی تھی، یہ تینوں عذاب ایک ساتھ اس طرح آئے کہ وہ لوگ اپنے گھروں میں تھے تو زلزلہ آیا جب گھروں سے باہر نکلے تو سخت گرمی معلوم ہوئی تو بادل کی شکل کا آسمان پر ایک ٹکڑا نظر آیا جس کا گھنا سایہ تھا پہلے ایک شخص اس سایہ میں گیا اس نے آکر سایہ کی ٹھنڈک کی تعریف کی، لوگ اس کی تعریف سن کر اس بادل کے سایہ میں چلے گئے اسی دوران آسمان سے ایک سخت چیخ کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

فتولی عنہم وقال یقوم لقد ابلغتکم رسلت ربی ونصحت لکم فکیف اسی علی قوم کفرین۔ (جب عذاب آگیا تو حضرت شعیب ( علیہ السلام) نے عالم تحیر میں) ان کی طرف سے منہ پھیرلیا اور کہا اے میری قوم میں نے تم کو اپنے رب کے پیام پہنچا دیئے تھے اور تمہاری خیر خواہی کی تھی اب کس طرح میں کافر قوم (کے ہلاک ہوجانے کا رنج کروں۔ کیونکہ جو عذاب ان پر آیا وہ اسی کے مستحق تھے کوئی حق نہیں رکھتا کہ اس کے ہلاک ہونے کا رنج کیا جائے) حضرت شعیب ( علیہ السلام) نے نصحت لکمتک جو کچھ فرمایا وہ انتہائی رنج اور افسوس کے ماتحت تھا لیکن پھر سنبھل گئے اور خود اپنے خلاف فیصلہ کیا اور آخری جملہ فرمایا یہ آخری فقرہ اپنی شدت حزن کی معذرت…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(93) ان کے ہلاک ہونے سے پہلے (یا بعد) حضرت شعیب ؑ ان سے منہ موڑ کر چلے گئے اور فرمانے لگے کہ میں نے احکام خداوندی تم تک پہنچائے اور عذاب خداوندی سے اور توبہ اور ایمان کی طرف بلایا مگر میں ان لوگوں پر کیوں افسردہ ہوں جن کو اللہ تعالیٰ نے ہلاک کردیا ان کا یہی انجام ہونا چاہیے تھا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

فَكَيْفَ اٰسٰي عَلٰي قَوْمٍ كٰفِرِيْن : یعنی بیشک تم میرے عزیز تھے، مگر جب تم نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے ساتھ کفر کیا تو کافروں کی ہلاکت پر میں کیسے غم کروں۔ دیکھیے اسی سورت کی آیت (79) کے حواشی۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 90–93

آیت نمبر : 90۔ تا 93 قولہ تعالیٰ : آیت : وقال الملا الذین کفروا من قومہ یعنی انہوں نے اپنے سے کمتر اور کمزورلوگوں کو کہا : آیت : لئن اتبعتم شعیبا انکم اذا لخسرون کہ اگر تم شعیب کی پیروی کرنے لگے تو یقینا تم ہلاک ہوجاؤ گے۔ آیت : فاخذتھم الرجفۃ پھر انہیں زلزلہ نے پکڑ لیا۔ اور یہ قول بھی ہے کہ رجفہ کا معنی چیخ ( کرخت آواز) ہے اور اصحاب لایکۃ شدید بادل کے سبب ہلاک کیے گئے، جیسا کہ اس کا بیان آگے آئے گا۔ قولہ تعالیٰ : آیت : الذین کذبوا شعیبا کان لم یغنوا فیھا جرجانی نے کہا ہے : کہا گیا ہے یہ نیا کلام ہے۔ یعنی جنہوں نے حضرت شعیب (علیہ السلام) کو جھٹلایا وہ اس طرح ہوگئے گویا وہ ہمشہ سے مردہ تھے۔…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 85–93

توراۃ میں شعیب (علیہ السلام) کا نام (1) امام ابن عساکر نے اسحاق بن بشیر (رح) سے روایت کیا کہ مجھ کو عبید اللہ بن زیاد بن سمعان (رح) نے ایک اس شخص سے مجھ کو خبر دی جو کتاب کو پڑھنے والا تھا کہ اہل تورات گمان کرتے ہیں کہ شعیب کا نام تورات میں میکائل ہے اور ان کا نام سریانی زبان میں جزی بن بشخر ہے اور عبرانی زبان میں شعیب بن بشخر بن لاوی بن یعقوب (علیہ السلام) ہے۔ (2) امام ابن عساکر نے اسحاق بن بشر کے طریق سے شرق بن قطامی (رح) سے روایت کی ہے کہ جو علم انساب کے ماہر سعید عالم تھے انہوں نے فرمایا کہ شیعب (علیہ السلام) کا نام عبرانی زبان میں یثرب ہے اور شعیب عربی زبان میں ابن عیفا بن یوبب بن…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ فَتَوَلّٰي : تو انہوں نے رخ پھیرا ] [ عَنْهُمْ : ان سے ] [ وَقَالَ : اور کہا ] [ يٰقَوْمِ : اے میری قوم ] [ لَقَدْ اَبْلَغْتُكُمْ : میں پہنچا چکا تم کو ] [ رِسٰلٰتِ رَبِّيْ : اپنے رب کے پیغامات ] [ وَنَصَحْتُ : اور میں نے خیرخواہی کی ] [ لَكُمْ : تمہاری ] [ فَكَيْفَ : تو (اب ) کیسے ] [ اٰسٰي : میں افسوس کروں ] [ عَلٰي قَوْمٍ كٰفِرِيْنَ : ایک انکار کرنے والی قوم پر ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 89–94

جن بستیوں میں نبی بھیجے گئے ان کو خوشحالی اور بد حالی کے ذریعہ آزمایا گیا گزشتہ چند رکوع میں متعدد قوموں کی تکذیب اور تعذیب کا تذکرہ فرمایا۔ ان بستیوں کا حال بنی اسرائیل کو معلوم تھا اور قریش بھی تجارت کے لیے ملک شام کی طرف جاتے تھے وہ بھی ان میں سے بعض بستیوں پر گزرتے تھے اور اگر کسی کو ان کے حالات معلوم نہ ہوں تو اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں بیان فرما دیئے جنہیں رسول اللہ ﷺ نے پڑھ کر سنا دیا۔ ان واقعات سے معلوم ہوگیا کہ سابقہ اقوام کی بربادی کا سبب ان کا کفر تھا اور ان کے اعمال بد تھے۔ اس رکوع میں اول تو یہ فرمایا کہ جس کسی بستی میں ہم نے نبی بھیجا وہاں کے رہنے والوں کو تنبیہ کرنے کے لیے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 88–93

بقیہ قصۂ شعیب (علیہ الصلوۃ والسلام) قال الملآ الذین استکبروا من قومہ۔۔۔ الی۔۔۔ فکیف اسی علی قوم کفرین شعیب (علیہ السلام) کے قوم کے متکبر سرداروں نے جواب دیا کہ اے شعیب ہمیں صبر کرنے کی اور فیصلہ کی انتظار کی ضرورت نہیں خدا تعالیٰ نے ہم کو تم پر غلبہ دیا ہے اور ہم کو تمہارے نکالنے کی قدرت دی ہے۔ اے شعیب یاد رکھو ہم تجھ کو اور جو تیرے ساتھ ایمان لائے ہیں ان کو اپنی بستی سے نکال کر رہیں گے یا یہ کہ تم ہمارے دین میں واپس آجاؤ۔ تو پھر ہم تم سے۔ کوئی تعرض نہ کریں گے یہ بات حضرت شعیب (علیہ السلام) کے ساتھیوں کے اعتبار سے ہے کہ جو شعیب (علیہ السلام) پر ایمان لانے سے پہلے کفر کے طریقہ پر تھے اور کفر…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

98: جب قوم ہلاک ہوگئی تو وہاں سے چلے اور تحسر اور تاسف کے طور پر قوم کو خطاب کر کے فرمایا۔ اے میری قوم میں نے تو تمہیں اللہ کے تمام پیغام پہنچا دئیے اور تمہاری خیر خواہی کا حق ادا کردیا۔ اس سے ان کا مقصد ہلاک شدہ مشرکین کو کچھ سنانا نہ تھا بلکہ محض اظہار افسوس مقصود تھا۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 88–93

تبلیغ رسالت کے سلسلہ میں اللہ تعالیٰ نے یہ پانچواں واقعہ حضرت شعیب (علیہ السلام) کا بیان فرمایا ہے گزشتہ درس میں آپ کی اپنی قوم کی طرف بعثت اور ان کو دعوت توحید پیش کرنے کا ذکر تھا حضرت شعیب (علیہ السلام) نے اپنی قوم کے سامنے ان کی خرابیوں کی نشاندہی کی اور ان سے منع فرمایا۔ قوم شعیب کی چیدہ چیدہ خامیاں ماپ تول میں کمی ، زمین میں فساد ، راستوں میں ڈاکے ڈالنا ، لوگوں کو ایذا پہنچانا۔ خدا کے راستے سے روکنا۔ پیغمبر اور دین حق کے خلاف غلط پراپیگنڈہ اور لوگوں کو متنفر کرنے کے لیے دین حق میں کجی تلاش کرنا تھیں آپ نے قوم کو اللہ تعالیٰ کی نعمتیں یاد دلائیں کہ اس نے تمہاری قلت تعداد کو کثرت میں تبدیل…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فَتَوَلّٰي عَنْہُمْ وَقَالَ يٰقَوْمِ لَقَدْ اَبْلَغْتُكُمْ رِسٰلٰتِ رَبِّيْ وَنَصَحْتُ لَكُمْ۝ 0 ۚ فَكَيْفَ اٰسٰي عَلٰي قَوْمٍ كٰفِرِيْنَ۝ 93 ۧ ولي وإذا عدّي ب ( عن) لفظا أو تقدیرا اقتضی معنی الإعراض وترک قربه . فمن الأوّل قوله : وَمَنْ يَتَوَلَّهُمْ مِنْكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ [ المائدة/ 51] ، وَمَنْ يَتَوَلَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ [ المائدة/ 56] . ومن الثاني قوله : فَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ بِالْمُفْسِدِينَ [ آل عمران/ 63] ، ( و ل ی ) الولاء والتوالی اور جب بذریعہ عن کے متعدی ہو تو خواہ وہ عن لفظوں میں مذکورہ ہو ایا مقدرو اس کے معنی اعراض اور دور ہونا کے ہوتے ہیں ۔ چناچہ تعد…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 92–94

ترکیب : الذین الخ مبتداء کان لم الخ خبر یا کان لم حال ہے ضمیر کذبوا سے اور دوسرا الذین کذبوا بدل ہے فاعل یغنوا سے کانوا الخ خبر کانوا کا اسم ضمیر متصل ھم الخاسرین خبر۔ الاساء شدۃ الحزن اسے علی ذلک فھو آس۔ تفسیر : ہاں اگر تقدیر میں یونہی لکھا ہو اور اللہ ہی چاہے تو اس کا کچھ کہنا ہی نہیں ( کیونکہ دل جو انسان کے تمام افعال کا محرک ہے اسی کے قبضہ قدرت میں ہے چاہے اس کو ہدایت کی طرف پھیر دے خواہ بدی کا داعیہ اس میں ڈال دے خوف کا مقام ہے) ۔ مگر وہ ہر بات کا علم رکھتا ہے۔ ہمارا اسی پر بھروسہ ہے۔ اس کے بعد شعیب (علیہ السلام) نے دعا کی اے اللہ ہم میں اور ہماری قوم میں فیصلہ کر دے۔ یہ بھی عذاب کے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 91–93

فَاَخَذَتْھُمُ الرَّجْفَۃُ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دَارِھِمْ جٰثِمِیْنَ ۔ الَّذِیْنَ کَذَّبُوْا شُعَیْبًا کَاَنْ لَّمْ یَغْنَوْا فِیْھَا ج اَلَّذِیْنَ کَذَّبُوْ شُعَیْبًا کَانُوْا ھُمُ الْخٰسِرِیْنَ ۔ فَتَوَلّٰی عَنْھُمْ وَ قَالَ یٰقَوْمِ لَقَدْ اَبْلَغْتُکُمْ رِسٰلٰتِ رَبِّیْ وَ نَصَحْتُ لَکُمْ ج فَکَیْفَ اٰسٰی عَلٰی قَوْمٍ کٰفِرِیْنَ ۔ (الاعراف : 91، 92، 93) ” پس ایک دہلا دینے والی آفت نے ان کو آلیا اور وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے کے پڑے رہ گئے جن لوگوں نے شعیب کو جھٹلایا وہ ایسے مٹے کہ گویا کبھی ان گھروں میں بسے ہی نہ تھے۔ شعیب کے جھٹلانے والے ہی آخر کار برباد ہو کر رہے۔ اور شعیب یہ کہہ کر ان…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 88–93

فہم القرآن ربط کلام : حضرت شعیب (علیہ السلام) اور ان کی قوم کے درمیان کشمکش کا ذکر جاری ہے۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) اپنی موت تک قوم کو سمجھاتے رہے لیکن قوم نے نہ صرف ان کی باتوں کی طرف توجہ نہ دی بلکہ انہوں نے تشدد کا راستہ اختیار کیا اور اور کہنے لگے اے شعیب اب تیرے اور تیرے ساتھیوں کے لیے ایک ہی راستہ ہے اگر تم اپنی بات پر قائم رہنا چاہتے ہو تو اپنا کاروبار اور گھر بار ہمارے حوالے کرو اور یہاں سے نکل جاؤ۔ اگر تم اپنا کاروبار اور گھر بچانا چاہتے ہو تو پھر تمہیں ہر صورت ہمارے عقیدے کو ماننا پڑے گا۔ اس کے سوا ہمارا اور تمہارا اکٹھا رہنا مشکل ہے۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) نے فرمایا کیا ہم کفر و…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

تحسر کے کلمات : آیت 93: فَتَوَلّٰی عَنْھُمْ (اس وقت شعیب ان سے منہ موڑ کر چلے) عذاب نازل ہونے کے بعد۔ وَقَالَ یٰقَوْمِ لَقَدْ اَبْلَغْتُکُمْ رِسٰلٰتِ رَبِّیْ وَنَصَحْتُ لَکُمْ فَکَیْفَ ٰاسٰی (اور فرمانے لگے اے میری قوم میں نے تم کو اپنے پروردگار کے احکام پہنچا دیئے تھے اور میں نے تمہاری خیر خواہی کی پھر میں کیوں رنج کروں) غم کروں ؟ عَلٰی قَوْمٍ کٰفِرِیْنَ (کافر لوگوں پر) ان کا غم قوم پر سخت ہوا۔ پھر انہی کی طرف توجہ فرما کر فرمانے لگے۔ میں ایسی قوم پر کیوں غم کروں جب کہ وہ غم کے حقدار ہی نہیں۔ کیونکہ وہ کفر کرنے والے تھے اور اس عذاب کے حقدار تھے جو ان پر نازل ہوا۔ دوسری تفسیر یہ ہے کہ انہوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر 93(فتولی عنھم) یعنی جس وقت ان لوگوں کے پاس عذاب آیا تو شعیب (علیہ السلام) ان سے اعراض کر چلے گئے (وقال یقوم لقد ابلغتکم رسلت ربی ونصحت لکم فکیف اسی علی قوم کفرین) اور الاسی غم اور الاسی صبر کرنا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 85–93

(85 ۔ 93) ۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) کی امت میں مفسروں کا اختلاف ہے بعضے کہتے ہیں کہ حضرت شعیب ( علیہ السلام) کی روایتوں میں اور سوا حضرت شعیب ( علیہ السلام) کے اور کوئی نبی دو امتوں کی ہدایت کے لئے نہیں بھیجا گیا ایک امت ان کی یہ قبیلہ ہے جس کا نام مدین ہے اور حضرت شعیب ( علیہ السلام) بھی اسی قبیلہ میں کے ہی اسی واسطے اللہ تعالیٰ نے حضرت شعیب ( علیہ السلام) کو اس قبیلہ کا بھائی فرمایا ہے اور دوسری امت بن کے رہنے والے لوگ ہیں جن سورة شعراء میں اصحاب الایکہ فرمایا ہے اور بعضے مفسر کنویں والے لوگوں کو بھی جن کو سورة فرقان اور سورة قاف میں اصحاب الرس فرمایا ہے ان کی ہی امت میں شمار کر کے یوں کہتے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 88–94

آیت 88 (قال الملا الذین استکبروا من قومہ) ” کہا ان سرداروں نے جو متکبر تھے اس کی قوم میں سے “ اس سے مرادان کے اشراف اور بڑے آدمی ہیں جنہوں ن اپنی لذات میں مستغرق ہو کر اپنی خواہشات نفس کی پیروی کی، جب ان کے پاس حق آیا اور انہوں نے دیکھ لیا کہ حق ان کی خواہشات نفس کے خلاف ہے تو انہوں نے نہایت تکبر سے حق کو ٹھکرا دیا اور اپنے نبی شعیب اور ان مستضعفین سے کہنے لگے جو حضرت شعیب کے ساتھ تھے۔ (لنخرجنک یشعیب والذین امنوا معک من قریتنا اولتعودن فی ملتنا) ” ہم ضرور نکال دیں گے اے شعیب تجھ کو اور ان کو جو تیرے ساتھ ایمان لائے اپنے شہر سے، یا یہ کہ تم لوٹ آؤ اپنے دین میں “ انہوں نے حق کے خلاف بہیمانہ قوت…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 55–141

دعا کا طریقہ قول باری ہے وادعواربکم تضرعاً عاوخفیۃ۔ اپنے رب کو پکارو گڑگڑاتے ہوئے اور چپکے چپکے) آیت میں چپکے چپکے رب کو پکارنے کا حکم ہے حسن کا قول ہے کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے تمہیں اس بات کی تعلیم دی ہے کہ تم اپنے رب کو کس طرح پکارو۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک عہد صالح کا ذکر فرمایا جس کی پکار کو اس نے پسند فرمایا تھا چناچہ ارشاد ہے اذنادی ربہ نداء خفیا۔ جبکہ اس نے اپنے رب کو چپکے چپکے پکارا) یعنی حضرت زکریاعلیہ السلام عبداللہ بن المبارک نے حسن بصری سے روایت کی ہے کہ لوگ یعنی صحابہ کرام بڑی عاجزی اور نیاز مندی کے ساتھ دعائیں مانگا کرتے تھے اور صرف سرگوشی کی آواز سنائی دیتی تھی۔ حضرت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

131 تکذیب و انکارِ حق کا نتیجہ، ہولناک تباہی ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہِ : سو اس سے واضح فرمایا دیا گیا کہ تکذیب و انکار حق اور کفر و باطل پر اصرار دائمی ہلاکت و تباہی کا پیش خیمہ ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو حضرت شعیب نے فرمایا کہ میں ان لوگوں پر کیسے غم کروں کہ انہوں نے حق کو مان کے نہ دیا اور بالآخر یہ اپنے اس آخری اور حتمی انجام کو پہنچ کر رہے جو ان کے لئے مقدر ہوچکا تھا ان کے کفر و انکار اور تکذیبِ حق کی پاداش میں۔ اور جس کا سزا وار انہوں نے اپنے آپ کو خود بنا لیا تھا۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) کے اس خطاب میں اظہار تاسف بھی ہے اور سبب عذاب کا بیان بھی جو آپ نے ان مردودوں کو خطاب کر کے فرمایا…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 88–102

سیدنا شعیب (علیہ السلام) کی قوم پر عذاب الٰہی تشریح : مدین کی قوم پچھلی قوموں، یعنی قوم نوح، عاد، ثمود، اور قوم لوط کی طرح اخلاقی، مذہبی اور تعلیمی لحاظ سے بالکل بگڑ چکی تھی۔ سیدنا شعیب (علیہ السلام) نے اللہ کے حکم سے ان کو راہ راست پر لانے کی ذمہ داری اٹھائی، یہ واقعہ یہاں صرف اس لیے بیان کیا گیا کہچو ن کہ یہ سورت مکہ میں نازل ہوئی اور اس وقت اہل مکہ کا حال بھی کچھ ایسا ہی تھا تو لوگوں کو عبرت دلانے کے لیے ان کو ان تمام قوموں کے حالات اور انجام بتایا گیا کہ عرب لوگ سبق سیکھیں اور راہ ہدایت اختیار کریں۔ اہل مدین اس وقت شرک، بد دیانتی، جھوٹ فریب، ظلم، قتل و فساد غیر اخلاقی وکردار کی انتہائی…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 88–93

رکوع نمبر 11 ۔ آیات 88 تا 93: اسرار و معارف : یہاں پھر وہی نتائج سامنے آئے کہ متکبرین کی جماعت جو اپنی خواہشات کو تقدس کا لبادہ اوڑھائے ہوئے تھی برداشت نہ کرسکی اور کہا میاں شعیب سیدھے سیدھے واپس ہمارے مذہب پر آجاؤ ورنہ تمہیں بھی اور تمہارے ساتھ تم پر ایمان لانے والوں کو بھی شہر سے نکال دیا جائے گا انہوں نے فرمایا عجیب بات ہے۔ رسومات کی برائی : کبھی مذہب بھی مسلط کیا جاسکتا ہے بھئی ہم نے اسے گمراہی سمجھ کر چھوڑا اور اس پر دلائل ہیں پھر اب تو ہمارے دل کی ایک کیفیت بن چکی ہے کہ وہ کفر سے نفرت کرتا ہے بھلا تم زبردستی کیسے کرسکتے ہو حضرت شعیب (علیہ السلام) تو نبی تھے جن سے کبھی کفر کا ارتکاب ہی…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 10 ۔ یعنی ہرچند تم میرے عزیز تھے مگر جب تم نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے ساتھ کفر کیا تو کافروں کی ہلاکت پر مجھے کچھ افسوس نہیں کرنا چاہیے

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(7:93) اسی۔ میں افسوس کروں۔ میں غمگین ہوں۔ میں غم کھاؤں۔ اسی سے (باب سمع) مضارع کا صیغہ واحد متکلم۔ اسی اصل میں اء سی تھا۔ دوسری ہمزہ الف میں بدل گئی۔ اسی ہوگیا۔ کیف اسی۔ میں کیسے غم کھاؤں ۔ میں کیوں غم کھاؤں۔ (یعنی اس قدر نصیحت و وعظ کے بعد ان کے مسلسل انکار اور ہٹ دھرمی کی جو ان کو یہ سزا ملی ہے وہ کسی رنج و ہمدردی کے مستحق نہیں ہیں) ۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 88–93

لغات القرآن آیت نمبر (88 تا 93 ) ۔ لنخرجنک (البتہ ہم تجھے ضرور نکال دیں گے) ۔ من قریتنا (اپنی بستی سے) ۔ لتعو دن (البتہ تمہیں پلٹ کر آنا ہوگا۔ ) ۔ فی ملتنا (ہمارے دین میں) ۔ اولو کنا (کیا اور اگر ہم ہوں) ۔ کارھین (برا سمجھنے والے) ۔ ان عدنا (اگر ہم پلٹ گئے) ۔ تو کلنا (ہم نے بھروسہ کرلیا) ۔ افتح (کھول دے) ۔ تشریح : آیت نمبر (88 تا 93 ) ۔ ” یہ ہے دو نظریات کا ٹکراؤ ۔ یہ صورت حال صرف اہل مدین کے ساتھ نہیں۔ ہر دور اور ہر علاقہ اس آئینہ میں اپنی تصویر دیکھ سکتا ہے ورنہ اس کا اندراج قرآن کریم میں نہ ہوتا۔ اہل کفر وشرک بےایمانی کے وکیل بن کر کہہ رہے تھے کہ اس کے بغیر ہماری تجارت معاملات تہذیب و…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 89–94

مشرکوں کو ہدایت اس ذکر سے یہ مطلب ہے کہ کفار قریش پچھلی امتوں کی بربادی کا حال سن کر آنحضرت ﷺ کے جھٹلانے سے اور کفر سے باز آویں اور خدا سے ڈریں۔ اس لئے فرمایا کہ پچھلی امتوں میں رسول جو اللہ تعالیٰ نے بھیجے تو ایسی حالت میں کہ وہ لوگ طرح طرح کی مصیبتوں میں گرفتار تھے۔ یہ ان کی جانچ تھی کہ دیکھیں وہ اس حالت میں گڑگڑاتے اور خدا کی طرف رجوع ہوتے ہیں یا نہیں۔ مگر وہ اس حالت میں بھی اسی کفر اور گمراہی میں پڑے رہے۔ آخر اللہ تعالیٰ نے ان کی مصیبتوں کو دور کردیا ار تندرست بنادیا اور مالدار کردیا کہ شاید اس حالت میں رہ کر اللہ تعالیٰ کا شکر بجا لاویں مگر وہ گمراہ ازلی تھے۔ یہ کہنے لگے کہ تکلیف کی گھڑی…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 86–102

[41] یعنی یہ لوگ مبتلائے مصیبت ہو کر ایمان لانے کا عہد کرتے اور کہتے کہ اگر ہمیں اس سے نجات مل گئی تو ہم ضرور ایمان لائیں گے پھر جب نجات پاتے تو عہد سے پھرجاتے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 93–94

(ف 1) آیات کا مقصد یہ ہے کہ رسول تباہی کی درخواست اس وقت اللہ سے کرتا ہے جبکہ پیمانہ صبر لبریز ہوجائے اور جب پوری مایوسی ہو ، جب وہ تمام احکام تم تک پہنچا چکا ہوں ، ساری باتیں سنا چکا ہوں ، اب بھی اگر تم نہ مانو ، تجھے تمہارے مٹ جانے پر قطعا افسوس نہیں ۔ انبیاء (علیہم السلام) بدرجہ غایت شفیق اور مہربان ہوتے ہیں ، آخرت تک ہوش میں ہوتے ، اور جاگتے ہیں کہ کسی نہ کسی طرح قوم میں اصلاح ہو اور دقت سے بچ جانے ، مگر جب قلب وجگر پر مردنی چھا جائے غفلت وجہالت آنکھوں کی بینائی ضائع کر دے ، تو پھر مہربانی کی کیونکہ توقع کی جاسکتی ہے ۔ اللہ تعالیٰ بھی نہیں چاہتے ، کہ اس کے پیارے بندے ایک دم زندگی سے محروم…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

93 اس وقت حضرت شعیب (علیہ السلام) ان بدبختوں سے یہ کہتے ہوئے واپس تشریف لے گئے اے میری قوم ! میں نے تم کو اپنے رب کے پیغامات پہنچا دیئے تھے اور تمہاری ہمیشہ خیر خواہی کرتا رہا پھر اب میں ان لوگوں پر کیوں کر اظہارِ افسوس کروں جنہوں نے دین حق کے قبول کرنے سے ہمیشہ انکار کیا یعنی ایسے لوگوں پر کیا افسوس کیا جائے جن کی طبیعت میں اسلام دشمنی ہو یہ مرنے والوں کو بطور عبرت خطاب کیا خطاب کے لئے سماع ضروری نہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 93–95

ف 1۔ اوپر جن قوموں کا قصہ ذکر ہوا ہے چونکہ اور قوموں کے بھی ایسے قصے واقع ہوئے ہیں آگے عام عنوان سے اجمالا ان سب کی حالت جرم کی اور جرم پر بھی اول مہلت ملنے کی اور پھر بھی نہ سمجھنے پر سزاجاری ہونے کی مذکور ہے اور حکایت کے بعد آیت اولم یھد سے غرض حکایت پر کہ عبرت حاصل کرنا ہے تنبیہ فرمائی گئی ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

عذاب کے آثار دیکھتے ہی شعیب (علیہ السلام) وہاں سے منہ پھیر کر نکل گئے : 104: یہ قوم سے حضرت شعیب (علیہ السلام) کا آخری خطاب ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ انہوں نے عذاب آنے سے پہلے اس وقت فرمایا تھا جب قوم نے بستی سے نکل جانے یا نکال دئیے جانے کی دھمکی سنائی تھی۔ یہی وہ اللہ کا بندہ یعنی شعیب (علیہ السلام) ان کو آخری فقرہ کہہ کر اپنے ساتھیوں کے ساتھ وہاں سے ہجرت کر گیا۔ اس لئے کہ رسولوں کے متعلق سنت الٰہی یہی ہے کہ عذاب آنے سے پہلے اللہ کے حکم سے وہ علاقہ عذاب سے ہجرت کر جاتے ہیں اور قوم کو وقت متعین بتا کے جاتے ہیں کہ تمہارے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے عذاب آنے میں اتنا وقت باقی رہ گیا ہے۔ شعیب (علیہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

In the sixth (93) verse, it was said: فَتَوَلَّىٰ عَنْهُمْ (So, he turned away from them). It means that, with punishment for his people in sight, Sayyidna Shu'aib (علیہ السلام) and his believing companions moved away from there. The majority of commentators says that these blessed souls left this place for Makkah al-Mu` azzamah where they stayed till the end. It was his total disappointment with his people neck-deep in disobedience and contumacy which prompted him to pray that they be chastened. But, when the actual punishment came as a result of it, his heart pinched because of his…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

76. The stories narrated here have a definite didactic purpose and were narrated with a view to highlighting their relevance to the time of the Prophet (peace be on him). In each of these stories one of the parties is a Prophet who in respect of his teachings greatly resembles Muhammad (peace be on him), in summoning his people to the right way, in admonishing them, in sincerely seeking their welfare. At the other end of the scale in each narrative are the unbelieving nations who greatly resembled the Quraysh in the time of the Prophet (peace be on him) with regard to their disbelief and…

Read the full tafseer →