Explained with ayahs 90–92
قوم شعیب کا شوق تباہی پورا ہوا
اس قوم کی سرکشی بد باطنی ملاحظہ ہو کر مسلمانوں کو اسلام سے ہٹانے کیلئے انہیں یقین دلا رہے ہیں کہ شعیب ؑ کی اطاعت تمہیں غارت کر دے گی بڑے نقصان میں اتر جاؤ گے۔ ان مومنوں کے دلوں کو ڈرانے کا نتیجہ یہ ہوا کہ آسمانی عذاب بصورت زلزلہ زمین سے آیا اور انہیں سچ مچ لرزادیا اور غارت و برباد ہو کر خود ہی نقصان میں پھنس گئے۔ یہاں اس طرح بیان ہوا۔ سورة ہود میں بیان ہے کہ آسمانی کڑاکے کی آواز سے یہ ہلاک کئے گئے۔ وہاں بیان ہے کہ انہوں نے اپنے وطن سے نکل جانے کی دھمکی ایمان داروں کو دی تھی تو آسمانی ڈانٹ کی آواز نے ان کی آواز پست کردی اور ہمیشہ کیلئے یہ خاموش کردیئے گئے۔ سورة…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 91–92
سورة الْاَعْرَاف 75
مدین کی یہ تباہی مدتہائے دراز تک آس پاس کی قوموں میں ضرب المثل رہی ہے۔ چناچہ زبور داؤد میں ایک جگہ آتا ہے کہ اے خدا فلاں فلاں قوموں نے تیرے خلاف عہد باندھ لیا ہے لہٰذا تو ان کے ساتھ وہی کر جو تو نے مدیان کے ساتھ کیا (83۔ 5 تا 9)۔ اور یسعیاہ بنی ایک جگہ بنی اسرائیل کو تسلی دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ آشور والوں سے نہ ڈرو، اگرچہ وہ تمہارے لیے مصریوں کی طرح ظالم بنے جا رہے ہیں لیکن کچھ دیر نہ گزرے گی کہ رب الافواج ان پر اپنا کوڑا برسائے گا اور ان کا وہی حشر ہوگا جو مدیان کا ہوا (یسعیاہ 10۔ 21 تا 26)۔
Read the full tafseer →پانچویں آیت میں قوم شعیب کے واقعہ سے دوسروں کو عبرت کا سبق دیا گیا ہے جو اس واقعہ کے بیان کا اصل مقصود ہے۔ فرمایا الَّذِيْنَ كَذَّبُوْا شُعَيْبًا كَاَنْ لَّمْ يَغْنَوْا فِيْهَا، لفظ غنی کے ایک معنی کسی مقام میں خوش عیشی کے ساتھ بسر کرنے کے بھی آتے ہیں اس جگہ یہی معنی مراد ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ جن مکانات میں آرام و عیش کی زندگی گزارتے تھے۔ اس عذاب کے بعد ایسے ہوگئے کہ گویا کبھی یہاں آرام و عیش کا نام ہی نہ تھا۔ پھر فرمایا اَلَّذِيْنَ كَذَّبُوْا شُعَيْبًا كَانُوْا هُمُ الْخٰسِرِيْنَ یعنی جن لوگوں نے شعیب ؑ کو جھٹلایا وہی لوگ خسارہ میں پڑے۔ اشارہ اس بات کی طرف ہے کہ یہ لوگ حضرت شعیب ؑ اور ان…
Read the full tafseer →الَّذِيْنَ كَذَّبُوْا شُعَيْبًا كَاَنْ لَّمْ يَغْنَوْا فِيْهَا ڔ اَلَّذِيْنَ كَذَّبُوْا شُعَيْبًا كَانُوْا هُمُ الْخٰسِرِيْنَ۔ یہ اس عذاب کا نتیجہ بیان ہوا ہے اور اس کے دونوں فقروں ان دونوں دھمکیوں کی طرف تلمیح ہے جو قوم شعیب کے کفار نے حضرت شعیب اور ان کے ساتھیوں کو دی تھیں۔ انہوں نے دھمکی دی تھی کہ ہم تم کو اپنی بستی سے نکال کر چھوڑیں گے اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ خود اس دیار سے اس طرح مٹے (گویا کہ ان تلوں میں کبھی تیل ہی نہ تھا)۔ انہوں نے حضرت شعیب ؑ کے ساتھیوں کو دھمکی دی تھی کہ اگر تم اس شخص کی پیروی سے دست کش نہ ہوئے تو بڑے خسارے میں پڑو گے۔ اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا…
Read the full tafseer →92۔ 1 یعنی جس بستی سے یہ اللہ کے رسول اور ان کے پیروکاروں کو نکالنے پر تلے ہوئے تھے اللہ کی طرف سے عذاب نازل ہونے کے بعد ایسے ہوگئے جیسے وہ یہاں رہتے ہی نہ تھے۔
92۔ 2 یعنی خسارے میں وہی لوگ رہے جنہوں نے پیغمبر کی تکذیب کی، نہ کہ پیغمبر اور ان پر ایمان لانے والے۔ اور خسارہ بھی دونوں جہانوں میں۔ دنیا میں بھی ذلت کا عذاب چکھا اور آخرت میں اس سے کہیں زیادہ عذاب شدید ان کے لئے تیار ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 91–93
48: اس قوم پر جو عذاب آیا اس کے لئے قرآن نے یہاں زلزلے کا ذکر فرمایا ہے، سورة ہود میں اس کو صیحہ یعنی چنگھاڑ سے تعبیر فرمایا گیا ہے اور سورة شعراء میں اسے عذاب یوم الظلہ یعنی سائبان کے دن کا عذاب فرمایا گیا ہے، حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ سے ایک روایت یہ ہے کہ ان لوگوں پر پہلے سخت گرمی پڑی جس سے یہ بلبلا اٹھے پھر شہر سے ایک بادل آیا جس میں ٹھنڈی ہوا تھی یہ لوگ گھروں سے نکل کر اس کے نیچے جمع ہوگئے اس وقت اس بادل سے آگ برسائی گئی جسے سائبان سے تعبیر کیا گیا ہے، پھر زلزلہ آیا (روح المعانی) اور زلزلے کے ساتھ عموماً آواز بھی ہوتی ہے جسے چنگھاڑ کہا گیا۔
Read the full tafseer →آیت ” الَّذِیْنَ کَذَّبُواْ شُعَیْْباً کَأَن لَّمْ یَغْنَوْاْ فِیْہَا الَّذِیْنَ کَذَّبُواْ شُعَیْْباً کَانُواْ ہُمُ الْخَاسِرِیْنَ (92)
” لوگوں نے شعیب کو جھٹلایا وہ ایسے مٹے کہ گویا کبھی ان گھروں میں ہی نہ تھے ۔ شعیب کے جھٹلانے والے ہی آخرکار برباد ہوکر رہے “۔
آنکھ جھپکتے ہی ہم نے دیکھا کہ وہ اپنے ہی گھروں میں اوندھے پڑے ہیں ‘ بےحس و حرکت گویا انہوں نے ان گھروں کو تعمیر نہیں کیا اور گویا اب ان گھروں میں ان کے کچھ آثار بھی باقی نہیں ہیں ۔
اب ان کی تاریخ کے ان صفحات کو اس طرح پست کرکے رکھ دیا جاتا ہے اور ان کو ذلیل و خوار کرکے چھوڑ دیا جاتا ہے ۔ وہ رسول جو ان کا بھائی ہے ان سے جدا ہوجاتا ہے…
Read the full tafseer →8 انہوں نے شعیب اور ان کے ہمراہیوں کو بستی سے نکالنے کی دھمکی دی تھی۔ سو وہ ہی نہ رہے نہ ان کی بستیاں رہیں، اور وہ جو کہتے تھے کہ شعب (علیہ السلام) کے اتباع کرنے والے خراب ہوں گے، سو خود ہی خراب اور خائب و خاکسر ہو کر رہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 89–92
آیت 89 قَدِ افْتَرَیْنَا عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا اِنْ عُدْنَا فِیْ مِلَّتِکُمْ بَعْدَ اِذْ نَجّٰٹنَا اللّٰہُ مِنْہَا ط
حضرت شعیب علیہ السلام کا فرمانا تھا کہ اگر ہم دوبارہ تمہارے طور طریقوں پر واپس آجائیں تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ میرا نبوت کا دعویٰ ہی غلط تھا اور میں یہ دعویٰ کر کے گویا اللہ پر افترا کر رہا تھا۔ لیکن چونکہ میرا یہ دعویٰ سچا ہے اور میں واقعتا اللہ کا فرستادہ ہوں لہٰذا اب میرے اور میرے ساتھیوں کے لیے تمہاری ملت میں واپس آنا ممکن نہیں۔
وَمَا یَکُوْنُ لَنَآ اَنْ نَّعُوْدَ فِیْہَآ اِلآَّ اَنْ یَّشَآء اللّٰہُ رَبُّنَا ط
یہ ایک بندۂ مومن کی سوچ اور اس کے طرز عمل کی عکاسی ہے۔ وہ نہ…
Read the full tafseer →98 اس عذاب کے بعد ان کی بستیاں یوں سنسان اور ویران ہوگئیں جیسے وہاں کبھی لوگ آباد ہی نہیں ہوئے تھے۔ یہی وہ لوگ تھے جنہوں نے شعیب (علیہ السلام) کو یہ دھمکی دی تھی کہ ہم تمہیں اور تمہارے ساتھیوں کو یہاں سے ملک بدر کردیں گے یا پھر تمہیں ہمارا ہی مذہب اختیار کرنا پڑے گا یہ تھا اللہ کے پیغمبر اور اس کی آیات کو جھٹلانے کا انجام کہ دھمکی دینے والے خود ہی نیست و نابود ہوگئے۔
Read the full tafseer →126 ۔ منکرین ومستکبرین دعوی کے ساتھ پیشین گوئی مومنین کے نقصان اٹھانے کی کررہے تھے۔ واقعۃ وعملا خود ہی سب سے زیادہ نقصان میں رہے۔ اور دنیا نے اس کا مشاہدہ کرلیا۔ یہی مآل آخرکار اور ایک مدت کے مقابلہ کے بعد ہر سرکش و خدا فراموش قوم کا ہوتا رہا ہے۔ (آیت) ” فیھا “۔ میں ضمیر (آیت) ” دارھم “۔ کی طرف ہے۔ (آیت) ” لم یغنوا فیھا “۔ غنی فی مکان کے معنی محاورہ میں یہ آتے ہیں کہ کوئی شخص فلاں مکان میں اپنے دوسرے مکانات سے بےنیاز ہوگیا۔ اسی سے ایک مجازی معنی بسنے اور آباد ہونے کے بھی پیدا ہوگئے اور وہی یہاں مراد ہیں۔ ای لم یقیموا فیھا یقال غنینا بمکان کذا ای اقمنا فیہ (ابن قتیبہ) آیت سے ظاہر ہے کہ ہلاکت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 91–93
فاخذتھم۔۔۔۔۔ جٰثمین، قرآن کریم میں حضرت شعیب (علیہ السلام) کی امت کے عذاب کا تذکرہ تین مقامات پر آیا ہے، ایکؔ یہاں یعنی سورة اعراف میں زلزلہ کا ذکر ہے ایکؔ سورة ہود میں آسمانی چیخ کا ذکر ہے، اور ایکؔ سورة شعراء میں عذاب کے بادل کا ذکر ہے جس میں سے آگ برسی تھی، یہ تینوں عذاب ایک ساتھ اس طرح آئے کہ وہ لوگ اپنے گھروں میں تھے تو زلزلہ آیا جب گھروں سے باہر نکلے تو سخت گرمی معلوم ہوئی تو بادل کی شکل کا آسمان پر ایک ٹکڑا نظر آیا جس کا گھنا سایہ تھا پہلے ایک شخص اس سایہ میں گیا اس نے آکر سایہ کی ٹھنڈک کی تعریف کی، لوگ اس کی تعریف سن کر اس بادل کے سایہ میں چلے گئے اسی دوران آسمان سے ایک سخت چیخ کی…
Read the full tafseer →الذین کذبوا شعیبا کان لم یغنوا فیہا الذین کذبوا شعیبا کانوا ہم الخسرین۔ جنہوں نے شعیب کو جھوٹا کہا تھا ان کی ایسی حالت ہوگئی گویا ان گھروں میں کبھی بسے ہی نہ تھے یہ تکذیب کرنے والے ہی سراسر خسارے میں رہے۔
الرجفۃ کلبی نے کہا اس سے مراد ہے زلزلہ۔ فی دارہم یعنی اپنی بستی میں۔ جس میں مردہ مرے رہ گئے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا اللہ نے ان پر جہنم کا دروازہ کھول دیا اور ایسی سخت گرمی میں مبتلا کردیا کہ دم گھٹنے لگے نہ سایہ سے فائدہ ہوتا تھا نہ پانی سے ٹھنڈک حاصل کرنے کے لئے تہ خانوں میں گھستے تھے اور وہاں اوپر سے زیادہ گرمی پا کر پھر باہر نکل آتے تھے اور بھاگ کر میدانوں میں چلے جاتے تھے ایک بار باہر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 91–92
(91۔ 92) نتیجہ یہ ہوا کہ ان کو عذاب الہی نے زلزلہ اور فرشتے کی چیخ کی صورت میں آپگڑا جس سے وہ سب اپنے شہروں اور لشکروں میں ہر کر ایسے ہلاک ہوئے جیسے زمین میں ان کا نام ونشان بھی باقی نہ تھا اور عذاب سے یہی لوگ خسارہ میں پڑگئے۔
Read the full tafseer →كَاَنْ لَّمْ يَغْنَوْا فِيْهَا : ”غَنِیَ یَغْنَی (س)“ کا معنی ہے کسی جگہ رہنا، یعنی وہ جو شعیب ؑ اور ان کے ساتھیوں کو بستی سے نکالنے کے درپے تھے وہ خود اس طرح ہوگئے جیسے وہ کبھی اس میں رہے ہی نہیں تھے اور انھیں خسارے سے ڈرانے والے خود ہی خسارا اٹھانے والے ہوگئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–93
آیت نمبر : 90۔ تا 93
قولہ تعالیٰ : آیت : وقال الملا الذین کفروا من قومہ یعنی انہوں نے اپنے سے کمتر اور کمزورلوگوں کو کہا : آیت : لئن اتبعتم شعیبا انکم اذا لخسرون کہ اگر تم شعیب کی پیروی کرنے لگے تو یقینا تم ہلاک ہوجاؤ گے۔ آیت : فاخذتھم الرجفۃ پھر انہیں زلزلہ نے پکڑ لیا۔ اور یہ قول بھی ہے کہ رجفہ کا معنی چیخ ( کرخت آواز) ہے اور اصحاب لایکۃ شدید بادل کے سبب ہلاک کیے گئے، جیسا کہ اس کا بیان آگے آئے گا۔
قولہ تعالیٰ : آیت : الذین کذبوا شعیبا کان لم یغنوا فیھا جرجانی نے کہا ہے : کہا گیا ہے یہ نیا کلام ہے۔ یعنی جنہوں نے حضرت شعیب (علیہ السلام) کو جھٹلایا وہ اس طرح ہوگئے گویا وہ ہمشہ سے مردہ تھے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–93
توراۃ میں شعیب (علیہ السلام) کا نام
(1) امام ابن عساکر نے اسحاق بن بشیر (رح) سے روایت کیا کہ مجھ کو عبید اللہ بن زیاد بن سمعان (رح) نے ایک اس شخص سے مجھ کو خبر دی جو کتاب کو پڑھنے والا تھا کہ اہل تورات گمان کرتے ہیں کہ شعیب کا نام تورات میں میکائل ہے اور ان کا نام سریانی زبان میں جزی بن بشخر ہے اور عبرانی زبان میں شعیب بن بشخر بن لاوی بن یعقوب (علیہ السلام) ہے۔
(2) امام ابن عساکر نے اسحاق بن بشر کے طریق سے شرق بن قطامی (رح) سے روایت کی ہے کہ جو علم انساب کے ماہر سعید عالم تھے انہوں نے فرمایا کہ شیعب (علیہ السلام) کا نام عبرانی زبان میں یثرب ہے اور شعیب عربی زبان میں ابن عیفا بن یوبب بن…
Read the full tafseer →[ الَّذِيْنَ : وہ لوگ جنہوں نے ] [ كَذَّبُوْا : جھٹلایا ] [ شُعَيْبًا : شعیب کو ] [ كَاَنْ : تو گویا کہ ] [ لَّمْ يَغْنَوْا : وہ رہتے ہی نہ تھے ] [ فِيْهَا : اس میں ] [ اَلَّذِيْنَ : جنھوں نے ] [ كَذَّبُوْا : جھٹلایا ] [ شُعَيْبًا : شعیب کو ] [ كَانُوْا : تھے ] هُمُ : وہ لوگ ہی ] [ الْخٰسِرِيْنَ : خسارہ پانے والے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 89–94
جن بستیوں میں نبی بھیجے گئے ان کو خوشحالی اور بد حالی کے ذریعہ آزمایا گیا
گزشتہ چند رکوع میں متعدد قوموں کی تکذیب اور تعذیب کا تذکرہ فرمایا۔ ان بستیوں کا حال بنی اسرائیل کو معلوم تھا اور قریش بھی تجارت کے لیے ملک شام کی طرف جاتے تھے وہ بھی ان میں سے بعض بستیوں پر گزرتے تھے اور اگر کسی کو ان کے حالات معلوم نہ ہوں تو اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں بیان فرما دیئے جنہیں رسول اللہ ﷺ نے پڑھ کر سنا دیا۔ ان واقعات سے معلوم ہوگیا کہ سابقہ اقوام کی بربادی کا سبب ان کا کفر تھا اور ان کے اعمال بد تھے۔ اس رکوع میں اول تو یہ فرمایا کہ جس کسی بستی میں ہم نے نبی بھیجا وہاں کے رہنے والوں کو تنبیہ کرنے کے لیے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–93
بقیہ قصۂ شعیب (علیہ الصلوۃ والسلام)
قال الملآ الذین استکبروا من قومہ۔۔۔ الی۔۔۔ فکیف اسی علی قوم کفرین
شعیب (علیہ السلام) کے قوم کے متکبر سرداروں نے جواب دیا کہ اے شعیب ہمیں صبر کرنے کی اور فیصلہ کی انتظار کی ضرورت نہیں خدا تعالیٰ نے ہم کو تم پر غلبہ دیا ہے اور ہم کو تمہارے نکالنے کی قدرت دی ہے۔ اے شعیب یاد رکھو ہم تجھ کو اور جو تیرے ساتھ ایمان لائے ہیں ان کو اپنی بستی سے نکال کر رہیں گے یا یہ کہ تم ہمارے دین میں واپس آجاؤ۔ تو پھر ہم تم سے۔ کوئی تعرض نہ کریں گے یہ بات حضرت شعیب (علیہ السلام) کے ساتھیوں کے اعتبار سے ہے کہ جو شعیب (علیہ السلام) پر ایمان لانے سے پہلے کفر کے طریقہ پر تھے اور کفر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 91–92
97:“ اَلرَّجْفَةُ ” زلزلہ (قرطبی) ۔ ایک شدید زلزلہ آیا جس سے وہ تمام ہلاک ہوگئے اور اسے ہلاک ہوئے گویا کہ وہ اپنے گھروں میں کبھی آباد ہی نہ تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–93
تبلیغ رسالت کے سلسلہ میں اللہ تعالیٰ نے یہ پانچواں واقعہ حضرت شعیب (علیہ السلام) کا بیان فرمایا ہے گزشتہ درس میں آپ کی اپنی قوم کی طرف بعثت اور ان کو دعوت توحید پیش کرنے کا ذکر تھا حضرت شعیب (علیہ السلام) نے اپنی قوم کے سامنے ان کی خرابیوں کی نشاندہی کی اور ان سے منع فرمایا۔ قوم شعیب کی چیدہ چیدہ خامیاں ماپ تول میں کمی ، زمین میں فساد ، راستوں میں ڈاکے ڈالنا ، لوگوں کو ایذا پہنچانا۔ خدا کے راستے سے روکنا۔ پیغمبر اور دین حق کے خلاف غلط پراپیگنڈہ اور لوگوں کو متنفر کرنے کے لیے دین حق میں کجی تلاش کرنا تھیں آپ نے قوم کو اللہ تعالیٰ کی نعمتیں یاد دلائیں کہ اس نے تمہاری قلت تعداد کو کثرت میں تبدیل…
Read the full tafseer →الَّذِيْنَ كَذَّبُوْا شُعَيْبًا كَاَنْ لَّمْ يَغْنَوْا فِيْہَا 0 ۚۛ اَلَّذِيْنَ كَذَّبُوْا شُعَيْبًا كَانُوْا ہُمُ الْخٰسِرِيْنَ 92
غنی( فایدة)
أَغْنَانِي كذا، وأغْنَى عنه كذا : إذا کفاه . قال تعالی: ما أَغْنى عَنِّي مالِيَهْ [ الحاقة/ 28] ، ما أَغْنى عَنْهُ مالُهُ [ المسد/ 2] ، لَنْ تُغْنِيَ عَنْهُمْ أَمْوالُهُمْ وَلا أَوْلادُهُمْ مِنَ اللَّهِ شَيْئاً [ آل عمران/ 10] ،
( غ ن ی ) الغنیٰ
اور اغنانی کذا اور اغنی کذا عنہ کذا کسی چیز کا کا فی ہونا اور فائدہ بخشنا ۔ قر آں میں ہے : ما أَغْنى عَنِّي مالِيَهْ [ الحاقة/ 28] میرا مال میرے کچھ کام نہ آیا ما أَغْنى عَنْهُ مالُهُ [ المسد/ 2] تو اس کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 92–94
ترکیب : الذین الخ مبتداء کان لم الخ خبر یا کان لم حال ہے ضمیر کذبوا سے اور دوسرا الذین کذبوا بدل ہے فاعل یغنوا سے کانوا الخ خبر کانوا کا اسم ضمیر متصل ھم الخاسرین خبر۔ الاساء شدۃ الحزن اسے علی ذلک فھو آس۔
تفسیر : ہاں اگر تقدیر میں یونہی لکھا ہو اور اللہ ہی چاہے تو اس کا کچھ کہنا ہی نہیں ( کیونکہ دل جو انسان کے تمام افعال کا محرک ہے اسی کے قبضہ قدرت میں ہے چاہے اس کو ہدایت کی طرف پھیر دے خواہ بدی کا داعیہ اس میں ڈال دے خوف کا مقام ہے) ۔
مگر وہ ہر بات کا علم رکھتا ہے۔ ہمارا اسی پر بھروسہ ہے۔ اس کے بعد شعیب (علیہ السلام) نے دعا کی اے اللہ ہم میں اور ہماری قوم میں فیصلہ کر دے۔ یہ بھی عذاب کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 91–93
فَاَخَذَتْھُمُ الرَّجْفَۃُ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دَارِھِمْ جٰثِمِیْنَ ۔ الَّذِیْنَ کَذَّبُوْا شُعَیْبًا کَاَنْ لَّمْ یَغْنَوْا فِیْھَا ج اَلَّذِیْنَ کَذَّبُوْ شُعَیْبًا کَانُوْا ھُمُ الْخٰسِرِیْنَ ۔ فَتَوَلّٰی عَنْھُمْ وَ قَالَ یٰقَوْمِ لَقَدْ اَبْلَغْتُکُمْ رِسٰلٰتِ رَبِّیْ وَ نَصَحْتُ لَکُمْ ج فَکَیْفَ اٰسٰی عَلٰی قَوْمٍ کٰفِرِیْنَ ۔
(الاعراف : 91، 92، 93)
” پس ایک دہلا دینے والی آفت نے ان کو آلیا اور وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے کے پڑے رہ گئے جن لوگوں نے شعیب کو جھٹلایا وہ ایسے مٹے کہ گویا کبھی ان گھروں میں بسے ہی نہ تھے۔ شعیب کے جھٹلانے والے ہی آخر کار برباد ہو کر رہے۔ اور شعیب یہ کہہ کر ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–93
فہم القرآن
ربط کلام : حضرت شعیب (علیہ السلام) اور ان کی قوم کے درمیان کشمکش کا ذکر جاری ہے۔
حضرت شعیب (علیہ السلام) اپنی موت تک قوم کو سمجھاتے رہے لیکن قوم نے نہ صرف ان کی باتوں کی طرف توجہ نہ دی بلکہ انہوں نے تشدد کا راستہ اختیار کیا اور اور کہنے لگے اے شعیب اب تیرے اور تیرے ساتھیوں کے لیے ایک ہی راستہ ہے اگر تم اپنی بات پر قائم رہنا چاہتے ہو تو اپنا کاروبار اور گھر بار ہمارے حوالے کرو اور یہاں سے نکل جاؤ۔ اگر تم اپنا کاروبار اور گھر بچانا چاہتے ہو تو پھر تمہیں ہر صورت ہمارے عقیدے کو ماننا پڑے گا۔ اس کے سوا ہمارا اور تمہارا اکٹھا رہنا مشکل ہے۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) نے فرمایا کیا ہم کفر و…
Read the full tafseer →آیت 92: الَّذِیْنَ کَذَّبُوْا شُعَیْبًا (جنہوں نے شعیب کی تکذیب کی تھی) : یہ مبتداء اور اس کی خبر کَاَنْ لَّمْ یَغْنَوْا فِیْھَا (ان کی یہ حالت ہوگئی گویا وہ ان گھروں میں کبھی بسے بھی نہ تھے) ہے۔ غنی بالمکان کا معنی اقامت اختیار کرنا ہے۔ گویا وہ مقیم ہی نہیں ہوئے۔ الَّذِیْنَ کَذَّبُوْا شُعَیْبًا (جنہوں نے شعیب کی تکذیب کی تھی) یہ مبتدا ہے اور اس کی خبر کَانُوْا ھُمُ الْخٰسِرِیْنَ (وہ خسارہ میں پڑگئے) ہے۔ اس مبتدا میں خصوصیت والا معنی پایا جاتا ہے۔ گویا اس طرح کہا گیا۔ الَّذِیْنَ کَذَّبُوْا شُعَیْبًا ہم المخصوصون بأن اہلکوا کأن لم یقیموا فی دارہم لان الذین اتبعوا شعیبًا قد انجاہم اللّٰہ۔…
Read the full tafseer →92(الذین کذبوا شعیباً کان ثم یغنوا فیھا) یعنی وہ ان میں رہائی پذیر نہ ہوئے تھے۔ یہ ان کے قول غنیت بالمکان سے مشتق ہے جب تو اس میں رہائش پذیر ہو اور مغانی منازل اس کا واحد معنی ہے اور بعض نے کہا ہے کہ گویا کہ انہوں نے اس میں ناز و نعم حاصل نہیں کئے۔ وہاں جنہوں نے جھٹلایا ۔ شعیب (علیہ السلام) کو ویہ ہوئے خراب نہ کہ مومنین جیسا کہ وہ کافر تھے۔
” الذین کذبوا شعیباً کان لم یغنوا فیھا “ ایسا معلوم ہونے لگا کہ یہ وہاں رہتے ہی نہیں تھے وہاں کوئی آبادی ہی نہیں تھی۔ جیسا کہ عرب کا قول ہے غنیت بالمکان میں نے اس جگہ قیام کیا۔ مغانی مکانات قیام گاہیں اس کا واحد ” مغنی “ آتا ہے۔ بعض نے کہا کہ اس کا معنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–93
(85 ۔ 93) ۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) کی امت میں مفسروں کا اختلاف ہے بعضے کہتے ہیں کہ حضرت شعیب ( علیہ السلام) کی روایتوں میں اور سوا حضرت شعیب ( علیہ السلام) کے اور کوئی نبی دو امتوں کی ہدایت کے لئے نہیں بھیجا گیا ایک امت ان کی یہ قبیلہ ہے جس کا نام مدین ہے اور حضرت شعیب ( علیہ السلام) بھی اسی قبیلہ میں کے ہی اسی واسطے اللہ تعالیٰ نے حضرت شعیب ( علیہ السلام) کو اس قبیلہ کا بھائی فرمایا ہے اور دوسری امت بن کے رہنے والے لوگ ہیں جن سورة شعراء میں اصحاب الایکہ فرمایا ہے اور بعضے مفسر کنویں والے لوگوں کو بھی جن کو سورة فرقان اور سورة قاف میں اصحاب الرس فرمایا ہے ان کی ہی امت میں شمار کر کے یوں کہتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–94
آیت 88
(قال الملا الذین استکبروا من قومہ) ” کہا ان سرداروں نے جو متکبر تھے اس کی قوم میں سے “ اس سے مرادان کے اشراف اور بڑے آدمی ہیں جنہوں ن اپنی لذات میں مستغرق ہو کر اپنی خواہشات نفس کی پیروی کی، جب ان کے پاس حق آیا اور انہوں نے دیکھ لیا کہ حق ان کی خواہشات نفس کے خلاف ہے تو انہوں نے نہایت تکبر سے حق کو ٹھکرا دیا اور اپنے نبی شعیب اور ان مستضعفین سے کہنے لگے جو حضرت شعیب کے ساتھ تھے۔ (لنخرجنک یشعیب والذین امنوا معک من قریتنا اولتعودن فی ملتنا) ” ہم ضرور نکال دیں گے اے شعیب تجھ کو اور ان کو جو تیرے ساتھ ایمان لائے اپنے شہر سے، یا یہ کہ تم لوٹ آؤ اپنے دین میں “ انہوں نے حق کے خلاف بہیمانہ قوت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–141
دعا کا طریقہ
قول باری ہے وادعواربکم تضرعاً عاوخفیۃ۔ اپنے رب کو پکارو گڑگڑاتے ہوئے اور چپکے چپکے) آیت میں چپکے چپکے رب کو پکارنے کا حکم ہے حسن کا قول ہے کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے تمہیں اس بات کی تعلیم دی ہے کہ تم اپنے رب کو کس طرح پکارو۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک عہد صالح کا ذکر فرمایا جس کی پکار کو اس نے پسند فرمایا تھا چناچہ ارشاد ہے اذنادی ربہ نداء خفیا۔ جبکہ اس نے اپنے رب کو چپکے چپکے پکارا) یعنی حضرت زکریاعلیہ السلام عبداللہ بن المبارک نے حسن بصری سے روایت کی ہے کہ لوگ یعنی صحابہ کرام بڑی عاجزی اور نیاز مندی کے ساتھ دعائیں مانگا کرتے تھے اور صرف سرگوشی کی آواز سنائی دیتی تھی۔ حضرت…
Read the full tafseer →130 تکذیب انبیاء و رسل کا انجام نہایت برا ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہِ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ آخرکار آپکڑا ان لوگوں کو ایک ایسے ہولناک عذاب نے جس کے نتیجے میں وہ اپنے گھروں میں اوندھے کے اوندھے پڑے رہ گئے تھے۔ اور جس اوندھے پن کو انہوں نے زندگی بھر اپنائے رکھا تھا، آخر کار وہ سب اسی کی آغوش میں پہنچ گئے اور وہ ایسے ہوگئے کہ گویا کہ وہ وہاں پر کبھی رہے بسے ہی نہ تھے ۔ والعیاذ باللہ ۔ حضرات انبیاء و رسل اور ان کے پیغام حق کی تکذیب و عداوت کا نتیجہ و انجام نہایت ہی ہولناک ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو اس طرح شعیب (علیہ الصلوۃ والسلام) اور ان کے ساتھیوں کو نکال باہر کرنے کی دھمکیاں دینے والے خود ہمیشہ کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–102
سیدنا شعیب (علیہ السلام) کی قوم پر عذاب الٰہی
تشریح : مدین کی قوم پچھلی قوموں، یعنی قوم نوح، عاد، ثمود، اور قوم لوط کی طرح اخلاقی، مذہبی اور تعلیمی لحاظ سے بالکل بگڑ چکی تھی۔ سیدنا شعیب (علیہ السلام) نے اللہ کے حکم سے ان کو راہ راست پر لانے کی ذمہ داری اٹھائی، یہ واقعہ یہاں صرف اس لیے بیان کیا گیا کہچو ن کہ یہ سورت مکہ میں نازل ہوئی اور اس وقت اہل مکہ کا حال بھی کچھ ایسا ہی تھا تو لوگوں کو عبرت دلانے کے لیے ان کو ان تمام قوموں کے حالات اور انجام بتایا گیا کہ عرب لوگ سبق سیکھیں اور راہ ہدایت اختیار کریں۔ اہل مدین اس وقت شرک، بد دیانتی، جھوٹ فریب، ظلم، قتل و فساد غیر اخلاقی وکردار کی انتہائی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–93
رکوع نمبر 11 ۔ آیات 88 تا 93:
اسرار و معارف :
یہاں پھر وہی نتائج سامنے آئے کہ متکبرین کی جماعت جو اپنی خواہشات کو تقدس کا لبادہ اوڑھائے ہوئے تھی برداشت نہ کرسکی اور کہا میاں شعیب سیدھے سیدھے واپس ہمارے مذہب پر آجاؤ ورنہ تمہیں بھی اور تمہارے ساتھ تم پر ایمان لانے والوں کو بھی شہر سے نکال دیا جائے گا انہوں نے فرمایا عجیب بات ہے۔
رسومات کی برائی :
کبھی مذہب بھی مسلط کیا جاسکتا ہے بھئی ہم نے اسے گمراہی سمجھ کر چھوڑا اور اس پر دلائل ہیں پھر اب تو ہمارے دل کی ایک کیفیت بن چکی ہے کہ وہ کفر سے نفرت کرتا ہے بھلا تم زبردستی کیسے کرسکتے ہو حضرت شعیب (علیہ السلام) تو نبی تھے جن سے کبھی کفر کا ارتکاب ہی…
Read the full tafseer →ف 9 جو ایمان لائے ان
Read the full tafseer →(7:92) لم یغنوا فیہا۔ مضارع نفی جحد بلم۔ غنی مصدر (باب سمع) انہوں نے قیام نہیں کیا (گویا وہ کبھی بستے ہی نہ تھے) غنیت بالمکان۔ میں مکان میں ٹھہرا ۔ قیام کیا۔ غنی القوم فی وارھم۔ لوگوں نے اپنے گھروں میں مدت تک قیام کیا۔ مغنی۔ قیام گاہ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–93
لغات القرآن آیت نمبر (88 تا 93 ) ۔
لنخرجنک (البتہ ہم تجھے ضرور نکال دیں گے) ۔ من قریتنا (اپنی بستی سے) ۔ لتعو دن (البتہ تمہیں پلٹ کر آنا ہوگا۔ ) ۔ فی ملتنا (ہمارے دین میں) ۔ اولو کنا (کیا اور اگر ہم ہوں) ۔ کارھین (برا سمجھنے والے) ۔ ان عدنا (اگر ہم پلٹ گئے) ۔ تو کلنا (ہم نے بھروسہ کرلیا) ۔ افتح (کھول دے) ۔
تشریح : آیت نمبر (88 تا 93 ) ۔ ” یہ ہے دو نظریات کا ٹکراؤ ۔ یہ صورت حال صرف اہل مدین کے ساتھ نہیں۔ ہر دور اور ہر علاقہ اس آئینہ میں اپنی تصویر دیکھ سکتا ہے ورنہ اس کا اندراج قرآن کریم میں نہ ہوتا۔
اہل کفر وشرک بےایمانی کے وکیل بن کر کہہ رہے تھے کہ اس کے بغیر ہماری تجارت معاملات تہذیب و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 89–94
مشرکوں کو ہدایت
اس ذکر سے یہ مطلب ہے کہ کفار قریش پچھلی امتوں کی بربادی کا حال سن کر آنحضرت ﷺ کے جھٹلانے سے اور کفر سے باز آویں اور خدا سے ڈریں۔ اس لئے فرمایا کہ پچھلی امتوں میں رسول جو اللہ تعالیٰ نے بھیجے تو ایسی حالت میں کہ وہ لوگ طرح طرح کی مصیبتوں میں گرفتار تھے۔ یہ ان کی جانچ تھی کہ دیکھیں وہ اس حالت میں گڑگڑاتے اور خدا کی طرف رجوع ہوتے ہیں یا نہیں۔ مگر وہ اس حالت میں بھی اسی کفر اور گمراہی میں پڑے رہے۔ آخر اللہ تعالیٰ نے ان کی مصیبتوں کو دور کردیا ار تندرست بنادیا اور مالدار کردیا کہ شاید اس حالت میں رہ کر اللہ تعالیٰ کا شکر بجا لاویں مگر وہ گمراہ ازلی تھے۔ یہ کہنے لگے کہ تکلیف کی گھڑی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 86–102
[41] یعنی یہ لوگ مبتلائے مصیبت ہو کر ایمان لانے کا عہد کرتے اور کہتے کہ اگر ہمیں اس سے نجات مل گئی تو ہم ضرور ایمان لائیں گے پھر جب نجات پاتے تو عہد سے پھرجاتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–92
آخری فیصلہ :
(ف 1) حضرت شعیب (علیہ السلام) کی نصیحتوں کو ٹھکرا دیا گیا ، اور صاف صاف کہہ دیا گیا ، اگر آپ ہماری خیانتوں اور بددیانتیوں کی تائید نہیں کریں گے تو ہم اپنی بستی سے تمہیں نکال باہر کریں گے گویا برائیوں سے روکنا برائی ہے ، اور ایسا گناہ ہے جو ناقابل عفو اور شائستہ تعزیر ہے ۔
حضرت شعیب (علیہ السلام) نے فرمایا یہ ہرگز نہیں ہونے کا کہ ہم تمہارے مسلک کو قبول کرلیں ، اور دعوت حق سے روگردانی کرلیں ، اس کا مطلب یہ ہے ، کہ ہم نے معاذ اللہ ، اللہ پر افتراء کیا ہے ، کیا تم سمجھتے ہو ، ہم پھر اس گمراہی میں آپھنسیں گے جبکہ اللہ تعالیٰ نے کمال عنایت سے ہمیں نجات دی ہے ،
غرض یہ ہے کہ انبیاء…
Read the full tafseer →92 وہ لوگ جو شعیب (علیہ السلام) کی تکذیب کے خوگر تھے وہ ایسے ہوگئے گویا کبھی ان گھروں میں سے بسے ہی نہ تھے وہ لوگ جنہوں نے شعیب (علیہ السلام) کی تکذیب کی اور شعیب (علیہ السلام) کو جھٹلایا وہی نقصان اٹھانے والے ہوئے اور وہی خسارے میں پڑے یعنی جو شعیب (علیہ السلام) کو بستی سے نکالنا چاہتے تھے انہی کو بستی میں رہنا نصیب نہ ہوا اور جو شعیب (علیہ السلام) کی اتباع کو موجب خسارہ کہتے تھے انہی کو نقصان اٹھانا پڑا اور وہی خسارے میں پڑے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 89–92
ف 4۔ اس سے یہ شبہ نہ کیا جائے کہ ان کو اپنے خاتمہ بالخیر کا یقین نہ تھا انبیاء کو یقین دلایا جاتا ہے مقصود اظہار عجز اور تفویض الی المالک ہے جو کہ لوازم نبوت سے ہے۔
Read the full tafseer →اس عذاب کا نتیجہ جو کچھ رہا وہ اس آیت میں بیان کردیا گیا :
103: زیر نظر آیت میں اس عذاب کا نتیجہ بیان کیا گیا ہے اور اس کے دونوں فقروں میں ان دھمکیوں کی طرف تلمیح ہے جو قوم شعیب (علیہ السلام) کے سرداروں نے حضرت شعیب (علیہ السلام) اور ان کے ساتھیوں کو دی تھیں۔ انہوں نے ایک دھمکی یہ دی تھی کہ ہم تم کو اپنی بستی سے نکال کر چھوڑیں گے ، بس اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ خود اس دیار سے اس طرح مٹے ” گویا کہ ان تلوں میں کبھی تیل ہی نہ تھا “ اور انہوں نے حضرت شعیب (علیہ السلام) کے ساتھیوں کو دوسری دھمکی یہ دی تھی کہ اگر تم اس شخص کی پیروی سے دست کش نہ ہوئے تو بڑے خسارے میں پڑو گے تو اس کی طرف…
Read the full tafseer →In verse 92, the fate of the people of Sayyidna Shu'aib (علیہ السلام) has been cited as a lesson - which is the real purpose behind the description of this event. It was said: الَّذِينَ كَذَّبُوا شُعَيْبًا كَأَن لَّمْ يَغْنَوْا فِيهَا (Those who belied Shu'aib are as if they never dwelt there). One of the meanings of the word: غِنیٰ (ghina) is to live at some place in peace and comfort. At this place, this is the meaning intended. The sense of the sentence is that the homes where they lived in peace and comfort, turned so deserted after this punishment as if peace and comfort had never…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 91–92
75. The destruction of the people of Midian remained proverbial in Arabia for a long time. As such the following lines in Psalms are significant:
Yea, they conspire with one accord;
against thee they make a covenant -
the tents of Edom and the Ish'maelites.
Moab and the Hagrites,
Gebal and Ammon and Am'alek,
Philistia with the inhabitants of Tyre;
Assyria also has joined them;
they are the strong arms of the children of Lot.
Do to them as thou didst to Mid'ian (Psalms 83: 5-9).
Note also the following statement in Isaiah:
A remnant will return, the remnant of Jacob, to the mighty God. For…
Read the full tafseer →