Explained with ayahs 90–92
قوم شعیب کا شوق تباہی پورا ہوا
اس قوم کی سرکشی بد باطنی ملاحظہ ہو کر مسلمانوں کو اسلام سے ہٹانے کیلئے انہیں یقین دلا رہے ہیں کہ شعیب ؑ کی اطاعت تمہیں غارت کر دے گی بڑے نقصان میں اتر جاؤ گے۔ ان مومنوں کے دلوں کو ڈرانے کا نتیجہ یہ ہوا کہ آسمانی عذاب بصورت زلزلہ زمین سے آیا اور انہیں سچ مچ لرزادیا اور غارت و برباد ہو کر خود ہی نقصان میں پھنس گئے۔ یہاں اس طرح بیان ہوا۔ سورة ہود میں بیان ہے کہ آسمانی کڑاکے کی آواز سے یہ ہلاک کئے گئے۔ وہاں بیان ہے کہ انہوں نے اپنے وطن سے نکل جانے کی دھمکی ایمان داروں کو دی تھی تو آسمانی ڈانٹ کی آواز نے ان کی آواز پست کردی اور ہمیشہ کیلئے یہ خاموش کردیئے گئے۔ سورة…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 91–92
سورة الْاَعْرَاف 75
مدین کی یہ تباہی مدتہائے دراز تک آس پاس کی قوموں میں ضرب المثل رہی ہے۔ چناچہ زبور داؤد میں ایک جگہ آتا ہے کہ اے خدا فلاں فلاں قوموں نے تیرے خلاف عہد باندھ لیا ہے لہٰذا تو ان کے ساتھ وہی کر جو تو نے مدیان کے ساتھ کیا (83۔ 5 تا 9)۔ اور یسعیاہ بنی ایک جگہ بنی اسرائیل کو تسلی دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ آشور والوں سے نہ ڈرو، اگرچہ وہ تمہارے لیے مصریوں کی طرح ظالم بنے جا رہے ہیں لیکن کچھ دیر نہ گزرے گی کہ رب الافواج ان پر اپنا کوڑا برسائے گا اور ان کا وہی حشر ہوگا جو مدیان کا ہوا (یسعیاہ 10۔ 21 تا 26)۔
Read the full tafseer →چوتھی آیت میں اس سرکش قوم کے عذاب کا واقعہ اس طرح ذکر فرمایا (آیت) فَاَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ فَاَصْبَحُوْا فِيْ دَارِهِمْ جٰثِمِيْنَ یعنی ان کو سخت اور عظیم زلزلہ نے آپکڑا جس سے وہ اپنے گھروں میں اندھے پڑے رہ گئے۔
قوم شعیب ؑ کا عذاب اس آیت میں زلزلہ کو بتلایا ہے اور دوسری آیات میں (آیت) فاخذہم عذاب یوم الظلہ آیا ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ ان کو یوم الظلة کے عذاب نے پکڑ لیا۔ یوم الظلة کے معنی ہیں سایہ کا دن۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ پہلے ان پر گہرے بادل کا سایہ آیا جب سب اس کے نیچے جمع ہوگئے تو اسی بادل سے ان پر پتھر یا آگ برسائی گئی۔
حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے ان دونوں آیتوں میں تطبیق کے لئے فرمایا…
Read the full tafseer →قوم شعیب کا عذاب : فَاَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ فَاَصْبَحُوْا فِيْ دَارِهِمْ جٰثِمِيْنَ۔ بعینہ یہی آیت اوپر قوم صالح کی سرگزش میں گزر چکی ہے وہاں ہم نے ذکر کیا ہے کہ یہ مجرد عذاب کی تعبیر ہے۔ رہا یہ سوال کہ اس عذاب کی نوعیت کیا تھی تو اس سوال کی وضاحت اس لفظ سے نہیں ہوتی۔ اس عذاب کی تعبیر سورة ہود آیت 94 میں لفظ صیحہ سے کی گئی ہے جس کے معنی ڈانٹ اور کڑک کے ہیں۔ پھر اسی کی تعبیر سورة شعراء آیت 189 میں عذاب یوم الظلۃ سے کی گئی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ عذاب دور سے دیکھنے میں غبار یا دھوئیں کے ایک ستون یا پہاڑ کی شکل میں نظر آیا۔ یہ قرینہ، جیسا کہ ہم قوم لوط کی سرگزشت میں بیان کرچکے ہیں، حاصب…
Read the full tafseer →91۔ 1 امام ابن کثیر فرماتے ہیں کہ عذاب میں ساری ہی چیزوں کا اجتماع ہوا پہلے بادل نے ان پر سایہ کیا جس میں شعلے چنگاریاں اور آگ کے بھبھوکے تھے، پھر آسمان سے سخت چیخ آئی اور زمین سے بھونچال، جس سے ان کی روحیں پرواز کر گئیں اور بےجان لاشے ہو کر پرندوں کی طرح گھٹنوں میں منہ دے کر اوندھے کے اوندھے پڑے رہ گئے
Read the full tafseer →Explained with ayahs 91–93
48: اس قوم پر جو عذاب آیا اس کے لئے قرآن نے یہاں زلزلے کا ذکر فرمایا ہے، سورة ہود میں اس کو صیحہ یعنی چنگھاڑ سے تعبیر فرمایا گیا ہے اور سورة شعراء میں اسے عذاب یوم الظلہ یعنی سائبان کے دن کا عذاب فرمایا گیا ہے، حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ سے ایک روایت یہ ہے کہ ان لوگوں پر پہلے سخت گرمی پڑی جس سے یہ بلبلا اٹھے پھر شہر سے ایک بادل آیا جس میں ٹھنڈی ہوا تھی یہ لوگ گھروں سے نکل کر اس کے نیچے جمع ہوگئے اس وقت اس بادل سے آگ برسائی گئی جسے سائبان سے تعبیر کیا گیا ہے، پھر زلزلہ آیا (روح المعانی) اور زلزلے کے ساتھ عموماً آواز بھی ہوتی ہے جسے چنگھاڑ کہا گیا۔
Read the full tafseer →آیت ” فَأَخَذَتْہُمُ الرَّجْفَۃُ فَأَصْبَحُواْ فِیْ دَارِہِمْ جَاثِمِیْنَ (91)
” مگر ہوا یہ ایک دہلا دینے والی آفت نے ان کو آلیا اور وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے کے پڑے رہ گئے ۔ “
رجفہ ایسی آفت جو دہلا دیتی ہے اور اوندھا گرا دیتی ہے ‘ اس لئے کہ انہیں اپنی دھمکیاں اور دست درازیاں یاد آجائیں کہ وہی تو تھے جو اہل ایمان کو اذیتیں دیتے تھے ۔ اب اللہ تعالیٰ ان کے اس دعوے کا جواب انہیں الفاظ میں دیتے ہیں ۔ وہ کہتے تھے ۔ آیت ” لئن اتبعتم ۔۔۔۔ (7 : 91) ” اگر تم نے شعیب کا اتباع کیا تو تم برباد ہوجاؤ گے ۔ “ یہ بات وہ مومنین کو بطور تہدید کہتے تھے ۔ اس پر اللہ تعالیٰ ان کو ترکی بہ ترکی جواب دیتے ہیں…
Read the full tafseer →7 متعدد آیات کے جمع کرنے سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان پر ظلّہ، صیحہ، رجفہ تین طرح کے عذاب آئے یعنی اول بادل نے سایہ کرلیا جس میں آگ کے شعلے اور چنگاریاں تھیں۔ پھر آسمان سے سخت ہولناک اور جگر پاس آواز ہوئی اور نیچے سے زلزلہ آیا (ابن کثیر)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 89–92
آیت 89 قَدِ افْتَرَیْنَا عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا اِنْ عُدْنَا فِیْ مِلَّتِکُمْ بَعْدَ اِذْ نَجّٰٹنَا اللّٰہُ مِنْہَا ط
حضرت شعیب علیہ السلام کا فرمانا تھا کہ اگر ہم دوبارہ تمہارے طور طریقوں پر واپس آجائیں تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ میرا نبوت کا دعویٰ ہی غلط تھا اور میں یہ دعویٰ کر کے گویا اللہ پر افترا کر رہا تھا۔ لیکن چونکہ میرا یہ دعویٰ سچا ہے اور میں واقعتا اللہ کا فرستادہ ہوں لہٰذا اب میرے اور میرے ساتھیوں کے لیے تمہاری ملت میں واپس آنا ممکن نہیں۔
وَمَا یَکُوْنُ لَنَآ اَنْ نَّعُوْدَ فِیْہَآ اِلآَّ اَنْ یَّشَآء اللّٰہُ رَبُّنَا ط
یہ ایک بندۂ مومن کی سوچ اور اس کے طرز عمل کی عکاسی ہے۔ وہ نہ…
Read the full tafseer →97 اہل مدین پر عذاب :۔ اہل مدین پر عذاب کے بارے میں قرآن کریم کی بعض دوسری آیات کو جمع کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ان پر تین طرح کا عذاب آیا تھا ظلۃ۔ صیحۃ اور رجفۃ یعنی ان پر پہلے ایک ایسا بادل چھا گیا جس میں سے آگ کے شعلے اور چنگاریاں نکلنے لگیں پھر اسی سے ایک ہولناک اور جگر خراش کرخت قسم کی آواز پیدا ہوئی اور اسی دوران نیچے سے زلزلہ نے آلیا اس طرح یہ لوگ اپنے اپنے گھروں میں موت کی آغوش میں چلے گئے اس حال میں کہ انہوں نے اوندھے پڑ کر اپنے سینوں کو زمین سے چمٹا رکھا تھا تاکہ انہیں اس عذاب سے کم سے کم تکلیف محسوس ہو۔ رہے شعیب اور ان کے ساتھی تو انہیں اللہ نے پہلے ہی اس بستی سے نکل جانے کا حکم دے…
Read the full tafseer →125 ۔ (اور مدین کی بستی تباہ اور آبادی ہلاک ہوکررہ گئی) توریت میں بھی ذکر اہل مدین کی بیہودگی اور پھر اسرائیلیوں کے ساتھ ان کے قتل وہلاک ہونے کا مفصل آتا ہے (گنتی باب 3 1 وباب 35) لیکن قرآن مجید اس زمانہ سے قبل کا حال بیان کررہا ہے۔ (آیت) ” دارھم “۔ مرادف مساکنھم کے ہے۔ فی دارھم ای فی مساکنھم (کبیر)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 91–93
فاخذتھم۔۔۔۔۔ جٰثمین، قرآن کریم میں حضرت شعیب (علیہ السلام) کی امت کے عذاب کا تذکرہ تین مقامات پر آیا ہے، ایکؔ یہاں یعنی سورة اعراف میں زلزلہ کا ذکر ہے ایکؔ سورة ہود میں آسمانی چیخ کا ذکر ہے، اور ایکؔ سورة شعراء میں عذاب کے بادل کا ذکر ہے جس میں سے آگ برسی تھی، یہ تینوں عذاب ایک ساتھ اس طرح آئے کہ وہ لوگ اپنے گھروں میں تھے تو زلزلہ آیا جب گھروں سے باہر نکلے تو سخت گرمی معلوم ہوئی تو بادل کی شکل کا آسمان پر ایک ٹکڑا نظر آیا جس کا گھنا سایہ تھا پہلے ایک شخص اس سایہ میں گیا اس نے آکر سایہ کی ٹھنڈک کی تعریف کی، لوگ اس کی تعریف سن کر اس بادل کے سایہ میں چلے گئے اسی دوران آسمان سے ایک سخت چیخ کی…
Read the full tafseer →فاخذتہم الرجفۃ فاصبحوا فی دارہم جثمین : نتیجہ یہ ہوا کہ ان کو زلزلہ نے آپکڑا اور اپنے گھر میں اوندھے کے اوندھے پڑے رہ گئے
Read the full tafseer →Explained with ayahs 91–92
(91۔ 92) نتیجہ یہ ہوا کہ ان کو عذاب الہی نے زلزلہ اور فرشتے کی چیخ کی صورت میں آپگڑا جس سے وہ سب اپنے شہروں اور لشکروں میں ہر کر ایسے ہلاک ہوئے جیسے زمین میں ان کا نام ونشان بھی باقی نہ تھا اور عذاب سے یہی لوگ خسارہ میں پڑگئے۔
Read the full tafseer →فَاَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ۔۔ : ان پر عذاب دونوں طرح سے آیا، یعنی ”الرَّجْفَةُ“ (زلزلہ) بھی، جیسے یہاں مذکور ہے اور ”الصیحۃ“ (چیخ) بھی، جیسا کہ سورة ہود (94) میں ہے۔ ”جٰثِمِيْنَ“ کے لیے دیکھیے اسی سورت کی آیت (78) کے حواشی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–93
آیت نمبر : 90۔ تا 93
قولہ تعالیٰ : آیت : وقال الملا الذین کفروا من قومہ یعنی انہوں نے اپنے سے کمتر اور کمزورلوگوں کو کہا : آیت : لئن اتبعتم شعیبا انکم اذا لخسرون کہ اگر تم شعیب کی پیروی کرنے لگے تو یقینا تم ہلاک ہوجاؤ گے۔ آیت : فاخذتھم الرجفۃ پھر انہیں زلزلہ نے پکڑ لیا۔ اور یہ قول بھی ہے کہ رجفہ کا معنی چیخ ( کرخت آواز) ہے اور اصحاب لایکۃ شدید بادل کے سبب ہلاک کیے گئے، جیسا کہ اس کا بیان آگے آئے گا۔
قولہ تعالیٰ : آیت : الذین کذبوا شعیبا کان لم یغنوا فیھا جرجانی نے کہا ہے : کہا گیا ہے یہ نیا کلام ہے۔ یعنی جنہوں نے حضرت شعیب (علیہ السلام) کو جھٹلایا وہ اس طرح ہوگئے گویا وہ ہمشہ سے مردہ تھے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–93
توراۃ میں شعیب (علیہ السلام) کا نام
(1) امام ابن عساکر نے اسحاق بن بشیر (رح) سے روایت کیا کہ مجھ کو عبید اللہ بن زیاد بن سمعان (رح) نے ایک اس شخص سے مجھ کو خبر دی جو کتاب کو پڑھنے والا تھا کہ اہل تورات گمان کرتے ہیں کہ شعیب کا نام تورات میں میکائل ہے اور ان کا نام سریانی زبان میں جزی بن بشخر ہے اور عبرانی زبان میں شعیب بن بشخر بن لاوی بن یعقوب (علیہ السلام) ہے۔
(2) امام ابن عساکر نے اسحاق بن بشر کے طریق سے شرق بن قطامی (رح) سے روایت کی ہے کہ جو علم انساب کے ماہر سعید عالم تھے انہوں نے فرمایا کہ شیعب (علیہ السلام) کا نام عبرانی زبان میں یثرب ہے اور شعیب عربی زبان میں ابن عیفا بن یوبب بن…
Read the full tafseer →[ فَاَخَذَتْهُمُ : پھر پکڑا ان کو ] [ الرَّجْفَةُ : زلزلے نے ] [ فَاَصْبَحُوْا : تو وہ ہوگئے ] [ فِيْ دَارِهِمْ : اپنے (اپنے ) گھر میں ] [ جٰثِمِيْنَ : اوندھے منہ گرے ہوئے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 89–94
جن بستیوں میں نبی بھیجے گئے ان کو خوشحالی اور بد حالی کے ذریعہ آزمایا گیا
گزشتہ چند رکوع میں متعدد قوموں کی تکذیب اور تعذیب کا تذکرہ فرمایا۔ ان بستیوں کا حال بنی اسرائیل کو معلوم تھا اور قریش بھی تجارت کے لیے ملک شام کی طرف جاتے تھے وہ بھی ان میں سے بعض بستیوں پر گزرتے تھے اور اگر کسی کو ان کے حالات معلوم نہ ہوں تو اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں بیان فرما دیئے جنہیں رسول اللہ ﷺ نے پڑھ کر سنا دیا۔ ان واقعات سے معلوم ہوگیا کہ سابقہ اقوام کی بربادی کا سبب ان کا کفر تھا اور ان کے اعمال بد تھے۔ اس رکوع میں اول تو یہ فرمایا کہ جس کسی بستی میں ہم نے نبی بھیجا وہاں کے رہنے والوں کو تنبیہ کرنے کے لیے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–93
بقیہ قصۂ شعیب (علیہ الصلوۃ والسلام)
قال الملآ الذین استکبروا من قومہ۔۔۔ الی۔۔۔ فکیف اسی علی قوم کفرین
شعیب (علیہ السلام) کے قوم کے متکبر سرداروں نے جواب دیا کہ اے شعیب ہمیں صبر کرنے کی اور فیصلہ کی انتظار کی ضرورت نہیں خدا تعالیٰ نے ہم کو تم پر غلبہ دیا ہے اور ہم کو تمہارے نکالنے کی قدرت دی ہے۔ اے شعیب یاد رکھو ہم تجھ کو اور جو تیرے ساتھ ایمان لائے ہیں ان کو اپنی بستی سے نکال کر رہیں گے یا یہ کہ تم ہمارے دین میں واپس آجاؤ۔ تو پھر ہم تم سے۔ کوئی تعرض نہ کریں گے یہ بات حضرت شعیب (علیہ السلام) کے ساتھیوں کے اعتبار سے ہے کہ جو شعیب (علیہ السلام) پر ایمان لانے سے پہلے کفر کے طریقہ پر تھے اور کفر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 91–92
97:“ اَلرَّجْفَةُ ” زلزلہ (قرطبی) ۔ ایک شدید زلزلہ آیا جس سے وہ تمام ہلاک ہوگئے اور اسے ہلاک ہوئے گویا کہ وہ اپنے گھروں میں کبھی آباد ہی نہ تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–93
تبلیغ رسالت کے سلسلہ میں اللہ تعالیٰ نے یہ پانچواں واقعہ حضرت شعیب (علیہ السلام) کا بیان فرمایا ہے گزشتہ درس میں آپ کی اپنی قوم کی طرف بعثت اور ان کو دعوت توحید پیش کرنے کا ذکر تھا حضرت شعیب (علیہ السلام) نے اپنی قوم کے سامنے ان کی خرابیوں کی نشاندہی کی اور ان سے منع فرمایا۔ قوم شعیب کی چیدہ چیدہ خامیاں ماپ تول میں کمی ، زمین میں فساد ، راستوں میں ڈاکے ڈالنا ، لوگوں کو ایذا پہنچانا۔ خدا کے راستے سے روکنا۔ پیغمبر اور دین حق کے خلاف غلط پراپیگنڈہ اور لوگوں کو متنفر کرنے کے لیے دین حق میں کجی تلاش کرنا تھیں آپ نے قوم کو اللہ تعالیٰ کی نعمتیں یاد دلائیں کہ اس نے تمہاری قلت تعداد کو کثرت میں تبدیل…
Read the full tafseer →فَاَخَذَتْہُمُ الرَّجْفَۃُ فَاَصْبَحُوْا فِيْ دَارِہِمْ جٰثِمِيْنَ 91
أخذ
الأَخْذُ : حوز الشیء وتحصیله، وذلک تارةً بالتناول نحو : مَعاذَ اللَّهِ أَنْ نَأْخُذَ إِلَّا مَنْ وَجَدْنا مَتاعَنا عِنْدَهُ [يوسف/ 79] ، وتارةً بالقهر نحو قوله تعالی: لا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلا نَوْمٌ [ البقرة/ 255]
( اخ ذ) الاخذ
۔ کے معنی ہیں کسی چیز کو حاصل کرلینا جمع کرلینا اور احاطہ میں لے لینا اور یہ حصول کبھی کسی چیز کو پکڑلینے کی صورت میں ہوتا ہے ۔ جیسے فرمایا : ۔ { مَعَاذَ اللهِ أَنْ نَأْخُذَ إِلَّا مَنْ وَجَدْنَا مَتَاعَنَا عِنْدَهُ } ( سورة يوسف 79) خدا پناہ میں رکھے کہ جس شخص کے پاس ہم نے اپنی چیز پائی ہے اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–91
ترکیب : وان کان شرط فاصبروا جواب والذین ک مفعول پر معطوف۔ اولو کنا جملہ استفہام انکاری ان عدنا شرط قد افترینا جملہ دال برجزا بعد عدنا سے متعلق۔ الاستثناء منقطع یا متصل ای الاوقت مشیۃ اللہ اذا ان اور اس کی خبر میں متوسط جملہ جواب ان اتبعتم۔
تفسیر : حضرت پر جو لوگ ایمان لے آئے تھے پیشتر وہ غریب تھے اس لئے ایک روز وہاں کے سرداروں نے متفق ہو کر حضرت شعیب (علیہ السلام) سے کہا یا تو آپ مع اپنے متبعین کے پھر ہمارے مذہب و طریقہ کو اختیار کرلیں ورنہ ہمارے شہر سے نکل جائو (اگرچہ ابتدائِ عمر سے حضرت شعیب (علیہ السلام) ان کے ملت و مذہب بت پرستی کے شریک نہ تھے مگر نبوت اور منادی سے پہلے ان کو وہ اپنے مذہب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 91–93
فَاَخَذَتْھُمُ الرَّجْفَۃُ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دَارِھِمْ جٰثِمِیْنَ ۔ الَّذِیْنَ کَذَّبُوْا شُعَیْبًا کَاَنْ لَّمْ یَغْنَوْا فِیْھَا ج اَلَّذِیْنَ کَذَّبُوْ شُعَیْبًا کَانُوْا ھُمُ الْخٰسِرِیْنَ ۔ فَتَوَلّٰی عَنْھُمْ وَ قَالَ یٰقَوْمِ لَقَدْ اَبْلَغْتُکُمْ رِسٰلٰتِ رَبِّیْ وَ نَصَحْتُ لَکُمْ ج فَکَیْفَ اٰسٰی عَلٰی قَوْمٍ کٰفِرِیْنَ ۔
(الاعراف : 91، 92، 93)
” پس ایک دہلا دینے والی آفت نے ان کو آلیا اور وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے کے پڑے رہ گئے جن لوگوں نے شعیب کو جھٹلایا وہ ایسے مٹے کہ گویا کبھی ان گھروں میں بسے ہی نہ تھے۔ شعیب کے جھٹلانے والے ہی آخر کار برباد ہو کر رہے۔ اور شعیب یہ کہہ کر ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–93
فہم القرآن
ربط کلام : حضرت شعیب (علیہ السلام) اور ان کی قوم کے درمیان کشمکش کا ذکر جاری ہے۔
حضرت شعیب (علیہ السلام) اپنی موت تک قوم کو سمجھاتے رہے لیکن قوم نے نہ صرف ان کی باتوں کی طرف توجہ نہ دی بلکہ انہوں نے تشدد کا راستہ اختیار کیا اور اور کہنے لگے اے شعیب اب تیرے اور تیرے ساتھیوں کے لیے ایک ہی راستہ ہے اگر تم اپنی بات پر قائم رہنا چاہتے ہو تو اپنا کاروبار اور گھر بار ہمارے حوالے کرو اور یہاں سے نکل جاؤ۔ اگر تم اپنا کاروبار اور گھر بچانا چاہتے ہو تو پھر تمہیں ہر صورت ہمارے عقیدے کو ماننا پڑے گا۔ اس کے سوا ہمارا اور تمہارا اکٹھا رہنا مشکل ہے۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) نے فرمایا کیا ہم کفر و…
Read the full tafseer →انکار کا نتیجہ ‘ دنیا میں زلزلہ اور آخرت میں تباہی :
آیت 91: فَاخَذَ تْھُمُ الرَّجْفَۃُ (پس ان کو زلزلے نے آپکڑا) زلزلہ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دَارِھِمْ جٰثِمِیْنَ (وہ اپنے گھروں میں اوندھے کے اوندھے پڑے رہ گئے) مردہ۔
Read the full tafseer →91(فاخذتھم الرجفۃ فاصبحوا فی دارھم جثمین) کلبی (رح) فرماتے ہیں کہ ” رجفۃ “ سے زلزلہ مراد ہے ۔ ابن عباس ؓ اور دیگر حضرات فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر جہنم کا دروازہ کھول دیا۔ اس سے سخت گرمی بھیجی جس نے ان کے سانس کو پکڑ لیا کہ اب نہ ان کو سایہ نفع دیتا تھا نہ پانی تو وہ لوگ درختوں کے جھنڈ میں داخل ہوتے تھے تاکہ ٹھنڈ حاصل کریں لیکن جب داخل ہوتے تو اس کو باہر کھلی فضا سے بھی زیادہ گرم پاتے تو بھاگ کر کھلی جگہ میں نکل جاتے تو اللہ تعالیٰ نے ان میں پاکیزہ ہوا بھیجی تو اس نے ان کو سایہ دیا تو وہ ایک دوسرے کو بلا کر اس کے نیچے جمع ہوگئے کیونکہ وہ سائبان کی طرح تھی اور اس میں ٹھنڈک اور خنک ہوا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–93
(85 ۔ 93) ۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) کی امت میں مفسروں کا اختلاف ہے بعضے کہتے ہیں کہ حضرت شعیب ( علیہ السلام) کی روایتوں میں اور سوا حضرت شعیب ( علیہ السلام) کے اور کوئی نبی دو امتوں کی ہدایت کے لئے نہیں بھیجا گیا ایک امت ان کی یہ قبیلہ ہے جس کا نام مدین ہے اور حضرت شعیب ( علیہ السلام) بھی اسی قبیلہ میں کے ہی اسی واسطے اللہ تعالیٰ نے حضرت شعیب ( علیہ السلام) کو اس قبیلہ کا بھائی فرمایا ہے اور دوسری امت بن کے رہنے والے لوگ ہیں جن سورة شعراء میں اصحاب الایکہ فرمایا ہے اور بعضے مفسر کنویں والے لوگوں کو بھی جن کو سورة فرقان اور سورة قاف میں اصحاب الرس فرمایا ہے ان کی ہی امت میں شمار کر کے یوں کہتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–94
آیت 88
(قال الملا الذین استکبروا من قومہ) ” کہا ان سرداروں نے جو متکبر تھے اس کی قوم میں سے “ اس سے مرادان کے اشراف اور بڑے آدمی ہیں جنہوں ن اپنی لذات میں مستغرق ہو کر اپنی خواہشات نفس کی پیروی کی، جب ان کے پاس حق آیا اور انہوں نے دیکھ لیا کہ حق ان کی خواہشات نفس کے خلاف ہے تو انہوں نے نہایت تکبر سے حق کو ٹھکرا دیا اور اپنے نبی شعیب اور ان مستضعفین سے کہنے لگے جو حضرت شعیب کے ساتھ تھے۔ (لنخرجنک یشعیب والذین امنوا معک من قریتنا اولتعودن فی ملتنا) ” ہم ضرور نکال دیں گے اے شعیب تجھ کو اور ان کو جو تیرے ساتھ ایمان لائے اپنے شہر سے، یا یہ کہ تم لوٹ آؤ اپنے دین میں “ انہوں نے حق کے خلاف بہیمانہ قوت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–141
دعا کا طریقہ
قول باری ہے وادعواربکم تضرعاً عاوخفیۃ۔ اپنے رب کو پکارو گڑگڑاتے ہوئے اور چپکے چپکے) آیت میں چپکے چپکے رب کو پکارنے کا حکم ہے حسن کا قول ہے کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے تمہیں اس بات کی تعلیم دی ہے کہ تم اپنے رب کو کس طرح پکارو۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک عہد صالح کا ذکر فرمایا جس کی پکار کو اس نے پسند فرمایا تھا چناچہ ارشاد ہے اذنادی ربہ نداء خفیا۔ جبکہ اس نے اپنے رب کو چپکے چپکے پکارا) یعنی حضرت زکریاعلیہ السلام عبداللہ بن المبارک نے حسن بصری سے روایت کی ہے کہ لوگ یعنی صحابہ کرام بڑی عاجزی اور نیاز مندی کے ساتھ دعائیں مانگا کرتے تھے اور صرف سرگوشی کی آواز سنائی دیتی تھی۔ حضرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–91
123 صبر و ثبات کی تعلیم و تلقین : سو اس ارشاد سے ضدی اور ہٹ دھرم لوگوں کے مقابلے میں صبر و برداشت سے کام لینے کی ہدایت و تلقین فرمائی گئی کہ جن کے اندر خیر و صلاح کی کوئی رمق موجود ہو وہ ایمان لے آئیں۔ اور جو اس سے محروم ہوں وہ اپنے آخری انجام کو پہنچ جائیں۔ پس ایمان امن و سلامتی کا باعث وضامن ہے اور کفر ہلاکت و تباہی کا سبب ۔ والعیاذ باللہ ۔ پس ضدی اور ہٹ دھرم لوگوں کے مقابلے میں صبر و برداشت سے کام لینے ہی میں سلامتی و عافیت ہے۔ بہرکیف حضرت شعیب نے ان سے فرمایا کہ اگر ایک گروہ نے میری دعوت کو قبول نہیں کیا اور وہ لوگ مجھ پر ایمان نہیں لائے تو تم صبر و برداشت اور ثبات و استقامت ہی سے کام لو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–102
سیدنا شعیب (علیہ السلام) کی قوم پر عذاب الٰہی
تشریح : مدین کی قوم پچھلی قوموں، یعنی قوم نوح، عاد، ثمود، اور قوم لوط کی طرح اخلاقی، مذہبی اور تعلیمی لحاظ سے بالکل بگڑ چکی تھی۔ سیدنا شعیب (علیہ السلام) نے اللہ کے حکم سے ان کو راہ راست پر لانے کی ذمہ داری اٹھائی، یہ واقعہ یہاں صرف اس لیے بیان کیا گیا کہچو ن کہ یہ سورت مکہ میں نازل ہوئی اور اس وقت اہل مکہ کا حال بھی کچھ ایسا ہی تھا تو لوگوں کو عبرت دلانے کے لیے ان کو ان تمام قوموں کے حالات اور انجام بتایا گیا کہ عرب لوگ سبق سیکھیں اور راہ ہدایت اختیار کریں۔ اہل مدین اس وقت شرک، بد دیانتی، جھوٹ فریب، ظلم، قتل و فساد غیر اخلاقی وکردار کی انتہائی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–93
رکوع نمبر 11 ۔ آیات 88 تا 93:
اسرار و معارف :
یہاں پھر وہی نتائج سامنے آئے کہ متکبرین کی جماعت جو اپنی خواہشات کو تقدس کا لبادہ اوڑھائے ہوئے تھی برداشت نہ کرسکی اور کہا میاں شعیب سیدھے سیدھے واپس ہمارے مذہب پر آجاؤ ورنہ تمہیں بھی اور تمہارے ساتھ تم پر ایمان لانے والوں کو بھی شہر سے نکال دیا جائے گا انہوں نے فرمایا عجیب بات ہے۔
رسومات کی برائی :
کبھی مذہب بھی مسلط کیا جاسکتا ہے بھئی ہم نے اسے گمراہی سمجھ کر چھوڑا اور اس پر دلائل ہیں پھر اب تو ہمارے دل کی ایک کیفیت بن چکی ہے کہ وہ کفر سے نفرت کرتا ہے بھلا تم زبردستی کیسے کرسکتے ہو حضرت شعیب (علیہ السلام) تو نبی تھے جن سے کبھی کفر کا ارتکاب ہی…
Read the full tafseer →ف 8 ان پر عذاب دونوں طرح سے آیا یعنی رجفتہ ( زلزلہ) بھی جیسے یہاں مذکور ہے اور صیحتہ (چیخ) بھی جیسا کہ سورة ہود میں مذکور ہے۔ ( ابن کثیر )
Read the full tafseer →Explained with ayahs 89–91
(7:89) افترینا۔ افتراء سے ماضی جمع متکلم۔ ہم نے بہتان باندھا۔
قد افترینا ۔۔ منھا۔ تقدیر کلام یوں ہے ان عدنا فی ملتکم بعد اذ بجنا اللہ منھا قد افترینا علی اللہ کذبا۔ باوجود اس کے کہ اللہ نے ہمیں اس (تمہارے دین) سے ہمیں نجات بخشی ہے اگر ہم تمہارے دین کی طرف لوٹتے ہیں تو ہماری طرف سے یہ اللہ تعالیٰ پر صریحاً جھوٹا بہتان ہوگا۔
وما یکون لنا۔ اور نہیں ہے (کوئی وجہ) ہمارے لئے۔
فیہا میں ھا ضمیر واحد مؤنث غائب ملت مشرکین کی طرف راجع ہے۔
الا ان یشاء اللہ ربنا۔ یعنی ماسوائے اس کے کہ مشیت ایزدی ہی یہی ہو اور یہ ہمارا مقدر ہوچکا ہو۔
وسع ربنا کل شیء علما۔ تمیز اس کا علم ہر شے کو محیط ہے۔
افتح۔ امر۔ واحد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–93
لغات القرآن آیت نمبر (88 تا 93 ) ۔
لنخرجنک (البتہ ہم تجھے ضرور نکال دیں گے) ۔ من قریتنا (اپنی بستی سے) ۔ لتعو دن (البتہ تمہیں پلٹ کر آنا ہوگا۔ ) ۔ فی ملتنا (ہمارے دین میں) ۔ اولو کنا (کیا اور اگر ہم ہوں) ۔ کارھین (برا سمجھنے والے) ۔ ان عدنا (اگر ہم پلٹ گئے) ۔ تو کلنا (ہم نے بھروسہ کرلیا) ۔ افتح (کھول دے) ۔
تشریح : آیت نمبر (88 تا 93 ) ۔ ” یہ ہے دو نظریات کا ٹکراؤ ۔ یہ صورت حال صرف اہل مدین کے ساتھ نہیں۔ ہر دور اور ہر علاقہ اس آئینہ میں اپنی تصویر دیکھ سکتا ہے ورنہ اس کا اندراج قرآن کریم میں نہ ہوتا۔
اہل کفر وشرک بےایمانی کے وکیل بن کر کہہ رہے تھے کہ اس کے بغیر ہماری تجارت معاملات تہذیب و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 89–94
مشرکوں کو ہدایت
اس ذکر سے یہ مطلب ہے کہ کفار قریش پچھلی امتوں کی بربادی کا حال سن کر آنحضرت ﷺ کے جھٹلانے سے اور کفر سے باز آویں اور خدا سے ڈریں۔ اس لئے فرمایا کہ پچھلی امتوں میں رسول جو اللہ تعالیٰ نے بھیجے تو ایسی حالت میں کہ وہ لوگ طرح طرح کی مصیبتوں میں گرفتار تھے۔ یہ ان کی جانچ تھی کہ دیکھیں وہ اس حالت میں گڑگڑاتے اور خدا کی طرف رجوع ہوتے ہیں یا نہیں۔ مگر وہ اس حالت میں بھی اسی کفر اور گمراہی میں پڑے رہے۔ آخر اللہ تعالیٰ نے ان کی مصیبتوں کو دور کردیا ار تندرست بنادیا اور مالدار کردیا کہ شاید اس حالت میں رہ کر اللہ تعالیٰ کا شکر بجا لاویں مگر وہ گمراہ ازلی تھے۔ یہ کہنے لگے کہ تکلیف کی گھڑی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 86–102
[41] یعنی یہ لوگ مبتلائے مصیبت ہو کر ایمان لانے کا عہد کرتے اور کہتے کہ اگر ہمیں اس سے نجات مل گئی تو ہم ضرور ایمان لائیں گے پھر جب نجات پاتے تو عہد سے پھرجاتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–92
آخری فیصلہ :
(ف 1) حضرت شعیب (علیہ السلام) کی نصیحتوں کو ٹھکرا دیا گیا ، اور صاف صاف کہہ دیا گیا ، اگر آپ ہماری خیانتوں اور بددیانتیوں کی تائید نہیں کریں گے تو ہم اپنی بستی سے تمہیں نکال باہر کریں گے گویا برائیوں سے روکنا برائی ہے ، اور ایسا گناہ ہے جو ناقابل عفو اور شائستہ تعزیر ہے ۔
حضرت شعیب (علیہ السلام) نے فرمایا یہ ہرگز نہیں ہونے کا کہ ہم تمہارے مسلک کو قبول کرلیں ، اور دعوت حق سے روگردانی کرلیں ، اس کا مطلب یہ ہے ، کہ ہم نے معاذ اللہ ، اللہ پر افتراء کیا ہے ، کیا تم سمجھتے ہو ، ہم پھر اس گمراہی میں آپھنسیں گے جبکہ اللہ تعالیٰ نے کمال عنایت سے ہمیں نجات دی ہے ،
غرض یہ ہے کہ انبیاء…
Read the full tafseer →91 جب متکبر سرداروں نے یہاں تک مزاحمت اختیار کی تو آخر کار ان کو بھی زلزلہ نے دفعتہً آپکڑا پھر وہ اپنے گھروں میں منہ کے بل پڑے کے پڑے رہ گئے اور اوندھے منہ گرے کے گرے رہ گئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 89–92
ف 4۔ اس سے یہ شبہ نہ کیا جائے کہ ان کو اپنے خاتمہ بالخیر کا یقین نہ تھا انبیاء کو یقین دلایا جاتا ہے مقصود اظہار عجز اور تفویض الی المالک ہے جو کہ لوازم نبوت سے ہے۔
Read the full tafseer →انجام کار وہ دن آپہنچا جو ایسی قوموں کا مقدر ہوتا رہا جو نافرمان تھیں :
102: آخر وہی ہوا جو قانون الٰہی کا ابدی اور سرمدی فیصلہ ہے یعنی حجت وبرہان کی روشنی آنے کے بعد بھی جب باطل ہی پر اصرار ہو اور اس کی صداقت کا مذاق اڑایا جائے اور اس کی اشاعت میں رکاوٹیں ڈالی جائیں تو پھر اللہ تعالیٰ کا عذاب اس مجرمانہ زندگی کا خاتمہ کردیتا اور آنے والی قوموں کے لئے اس کو عبرت و موعظت بنا دیا کرتا ہے۔ قرآن کریم کہتا ہے کہ اس طرح شعیب (علیہ السلام) کی قوم کی نافرمانی اور سرکشی کی پاداش میں قوم شعیب (علیہ السلام) کو دو قسم کے عذاب نے آگھیرا۔ ایک زلزلہ اور دوسرا آگ کی بارش کا عذاب یعنی وہ اپنے گھروں میں آرام…
Read the full tafseer →The punishment of the people of Sayyidna Shu'aib (علیہ السلام) has been identified as earthquake (Rajfah, Zalzalah) while in other verses it appears as: فَأَخَذَهُمْ عَذَابُ يَوْمِ الظُّلَّةِ (26:189) which means that they were seized by the punishment of Yowm az-Zullah. Yowm az-Zullah means day of the shade. It refers to what happened to them when to come on them first was the shade of a deep and thick cloud under which they all assembled. Then, from this very cloud, stones or fire was rained down.
To accommodate and reconcile the sense of the two verses given above, Sayyidna ` Abdullah ibn…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 91–92
75. The destruction of the people of Midian remained proverbial in Arabia for a long time. As such the following lines in Psalms are significant:
Yea, they conspire with one accord;
against thee they make a covenant -
the tents of Edom and the Ish'maelites.
Moab and the Hagrites,
Gebal and Ammon and Am'alek,
Philistia with the inhabitants of Tyre;
Assyria also has joined them;
they are the strong arms of the children of Lot.
Do to them as thou didst to Mid'ian (Psalms 83: 5-9).
Note also the following statement in Isaiah:
A remnant will return, the remnant of Jacob, to the mighty God. For…
Read the full tafseer →