Al-A'raaf 7:90

Al-A'raaf · from ayah 90

7:90

وَقَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ لَىِٕنِ اتَّبَعْتُمْ شُعَیْبًا اِنَّكُمْ اِذًا لَّخٰسِرُوْنَ ۟وَقَالَ الۡمَلَاُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مِنۡ قَوۡمِهٖ لَئِنِ اتَّبَعۡتُمۡ شُعَيۡبًا اِنَّكُمۡ اِذًا لَّخٰسِرُوۡنَ

اور ان کی قوم میں سے سردار لوگ جو کافر تھے، کہنے لگے (بھائیو) اگر تم نے شعیب کی پیروی کی تو بےشک تم خسارے میں پڑگئے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Said the eminent ones who disbelieved among his people, "If you should follow Shu'ayb, indeed, you would then be losers."

— Saheeh International

Juz 9 · Ruku 11 of surah · Ruku 1 of juz

Read the whole surah · Surah Al-A'raaf

All translations of 7:90

اس کی قوم کے سرداروں نے، جو اس کی بات ماننے سے انکار کر چکے تھے، آپس میں کہا "اگر تم نے شعیبؑ کی پیروی قبول کر لی تو برباد ہو جاؤ گے"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور ان کی قوم میں سے سردار لوگ جو کافر تھے، کہنے لگے (بھائیو) اگر تم نے شعیب کی پیروی کی تو بےشک تم خسارے میں پڑگئے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور ان کی قوم کے کافر سرداروں نے کہا کہ اگر تم شعیب ؑ کی راه پر چلو گے تو بےشک بڑا نقصان اٹھاؤ گے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور ان کی قوم کے وہ سردار جنہوں نے کفر اپنایا ہوا تھا (قوم کے لوگوں سے) کہنے لگے : اگر تم شعیب کے پیچھے چلے تو یاد رکھو اس صورت میں تمہیں سخت نقصان اٹھانا پڑے گا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور اسکی قوم کے کافر سردار بولے کہ اگر تم شعیب کے تابع ہوئے تو ضرور نقصان میں رہو گے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور ان کی قوم کے سرداروں اور رئیسوں نے جو کفر (و انکار) کے مرتکب ہو رہے تھے کہا: (اے لوگو!) اگر تم نے شعیب ؑ کی پیروی کی تو اس وقت تم یقیناً نقصان اٹھانے والے ہوجاؤ گے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور اس کی قوم میں سے ان سرداروں نے کہا جنھوں نے کفر کیا بیشک اگر تم شعیب کے پیچھے چلے تو بیشک تم اس وقت ضرور خسارہ اٹھانے والے ہو۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اس کی قوم کے کافر سرداروں نے کہا : اگر تم لوگوں نے شعیب کی پیروی کی تو تم نقصان اٹھاؤ گے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور ان بڑوں نے جنہوں نے اس کی قوم میں سے کفر کیا، کہا کہ اگر تم شعیب کی پیروی کروگے تو بڑے خسارے میں پڑوگے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور (دوسری طرف) آپ کی قوم کے ان سرداروں نے جو کہ اڑے ہوئے تھے اپنے کفر پر (آپس میں) کہا کہ اگر تم لوگوں نے پیروی کرلی شعیب کی، تو یقیناً تم سخت خسارے میں پڑجاؤ گے،

— مولانا اسحاق مدنی

اور (شعیب ؑ کی) قوم میں کافروں میں جو رودار لوگ تھے وہ کہنے لگے کہ اگر تم شعیب ؑ کی پیروی کرنے لگے تو بڑا نقصان اٹھاؤ گے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور کہا اس ؑ کی قوم کے ان سرداروں نے جنہوں نے کفر کیا تھا کہ اگر تم نے شعیب ؑ کی پیروی کی تو تم خسارے والے ہوجاؤ گے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور ان کی قوم میں سے سردار لوگ جو کافر تھے کہنے لگے کہ بھائیو ! اگر تم نے شعیب کی پیروی کی تو گویا خسارے میں پڑگئے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

The elders of his people who disbelieved said: 'Should you follow Shu'ayb, you will be utter losers.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

The chiefs of his people who disbelieved said, :If you are to follow Shu'aib, then you will be utter losers.

— Muhammad Taqi Usmani

The chiefs of his people who disbelieved said, :If you are to follow Shuaib, then you will be utter losers.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

The chiefs of those who disbelieved among his people said (to their people): "If you follow Shu`ayb, be sure then you will be the losers!"

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

But the chieftains of his people, who were disbelieving, said: If ye follow Shu'eyb, then truly ye shall be the losers.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Said the eminent ones who disbelieved among his people, "If you should follow Shu'ayb, indeed, you would then be losers."

— Saheeh International

A group of the unbelievers among his people told the others, "If you follow Shu'ayb, you will certainly lose a great deal."

— Muhammad Sarwar

And the chiefs of those who disbelieved from among his people said: If you follow Shu'aib, you shall then most surely be losers

— Muhammad Habib Shakir

And the chiefs of those who disbelieved amongst his people said: should ye follow Shu'aib, lo! verily ye will be the losers.

— Abdul Majid Daryabadi

The leaders, the unbelievers among his people, said: "If ye follow Shu'aib, be sure then ye are ruined!"

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 7:90

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 90–92

قوم شعیب کا شوق تباہی پورا ہوا اس قوم کی سرکشی بد باطنی ملاحظہ ہو کر مسلمانوں کو اسلام سے ہٹانے کیلئے انہیں یقین دلا رہے ہیں کہ شعیب ؑ کی اطاعت تمہیں غارت کر دے گی بڑے نقصان میں اتر جاؤ گے۔ ان مومنوں کے دلوں کو ڈرانے کا نتیجہ یہ ہوا کہ آسمانی عذاب بصورت زلزلہ زمین سے آیا اور انہیں سچ مچ لرزادیا اور غارت و برباد ہو کر خود ہی نقصان میں پھنس گئے۔ یہاں اس طرح بیان ہوا۔ سورة ہود میں بیان ہے کہ آسمانی کڑاکے کی آواز سے یہ ہلاک کئے گئے۔ وہاں بیان ہے کہ انہوں نے اپنے وطن سے نکل جانے کی دھمکی ایمان داروں کو دی تھی تو آسمانی ڈانٹ کی آواز نے ان کی آواز پست کردی اور ہمیشہ کیلئے یہ خاموش کردیئے گئے۔ سورة…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْاَعْرَاف 74 اس چھو ٹے سے فقرے پر سے سرسری طور پر نہ گزر جائیے۔ یہ ٹھہر کر بہت سوچنے کا مقام ہے۔ مَدیَنَ کے سردار اور لیڈر دراصل یہ کہہ رہے تھے اور اسی بات کا اپنی قوم کو بھی یقین دلا رہے تھے کہ شعیب جس ایمان داری اور راست بازی کی دعوت دے رہا ہے اور اخلاق و دیانت کے جن مستقل اصولوں کی پابندی کرانا چاہتا ہے، اگر ان کو مان لیا جائے تو ہم تباہ ہوجائیں گے۔ ہماری تجارت کیسے چل سکتی ہے اگر ہم بالکل ہی سچائی کے پابند ہوجائیں اور کھرے کھرے سودے کرنے لگیں۔ اور ہم جو دنیا کی دو سب سے بڑی تجارتی شاہ راہوں کے چورا ہے پر بستے ہیں، اور مصر اور عراق کی عظیم الشان متمدّن سلطنتوں کی سرحد پر آباد ہیں،…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

تیسری آیت میں حضرت شعیب ؑ کے قوم کے متکبر سرداروں کا ایک گمراہ کن قول یہ نقل کیا ہے کہ وہ آپس میں کہنے لگے یا اپنے پیرو وں سے کہنے لگے کہ اگر تم نے شعیب ؑ کا اتباع کیا تو تم بڑے بیوقوف جاہل ٹھہرو گے (بحر محیط عن عطاء)

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

وَقَالَ الْمَلَاُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ لَىِٕنِ اتَّبَعْتُمْ شُعَيْبًا اِنَّكُمْ اِذًا لَّـخٰسِرُوْنَ۔ حضرت شعیب کے مذکورہ بالا فیصلہ کن جواب کے بعد اب سے تو ان متمردین کے لیے کچھ کہنے سننے کی گنجائش باقی نہیں رہی لیکن چلتے چلاتے انہوں نے ایک آخری دھمکی ان غریب مسلمانوں کو اور سنا دی جو حضرت شعیب پر ایمان لائے تھے کہ اگر تم لوگوں نے اس شخص کا ساتھ نہ چھوڑا تو یاد رکھو کہ بڑے ہی خسارے میں رہو گے۔ اس خسارے کی انہوں نے کوئی وضاحت نہیں کی اس لیے کہ اس کے ابہام میں ہی سب کچھ چھپا ہوا ہے اور اس لفظ کے استعمال میں ہمدردی کی نمائش بھی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ہم نے تو نیک و بد تمہیں سمجھا دیا…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

90۔ 1 اپنے آبائی مذہب کو چھوڑنا اور ناپ تول میں کمی نہ کرنا، یہ ان کے نزدیک خسارے والی بات تھی درآنحالیکہ ان دونوں باتوں میں ان ہی کا فائدہ تھا، لیکن دنیا والوں کی نظر میں نفع عاجل (دنیا میں فوراً حاصل ہونے والا نفع) ہی سب کچھ ہوتا ہے، جو ناپ تول میں ڈنڈی مار کر انہیں حاصل ہو رہا تھا، وہ اہل ایمان کی طرح آخرت کے نفع آجل (دیر میں ملنے والا نفع) کے لئے اسے کیوں چھوڑتے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 89–90

46: حضرت شعیب ؑ کے دوسرے ساتھی تو پہلے اپنی قوم کے دین پر تھے، بعد میں ایمان لائے اس لئے ان کے حق میں توپرانے دین کی طرف لوٹنے کا لفظ صحیح ہے ؛ لیکن حضرت شعیب ؑ کبھی بھی ان کے دین پر نہیں رہے البتہ ان کی نبوت سے پہلے ان کی قوم کے لوگ یہ سمجھتے ہوں گے کہ وہ انہی کے دین پر ہیں، اس لئے انہوں نے آپ کے لئے بھی لوٹنے کا لفظ استعمال کیا تھا، حضرت شعیب ؑ نے جواب بھی انہی کے الفاظ میں دیا۔ 47: یہ اعلی درجے کی عبدیت کا فقرہ ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی بھی شخص اپنے پکے عزم سے اللہ تعالیٰ کو کسی بات پر مجبور نہیں کرسکتا، ہم نے اپنی طرف سے تو یہ پکا ارادہ کر رکھا ہے کہ کبھی تمہارا دین اختیار نہیں کریں گے…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

آیت ” وَقَالَ الْمَلأُ الَّذِیْنَ کَفَرُواْ مِن قَوْمِہِ لَئِنِ اتَّبَعْتُمْ شُعَیْْباً إِنَّکُمْ إِذاً لَّخَاسِرُونَ (90) ” اس کی قوم کے سرداروں نے ‘ جو اس کی بات ماننے سے انکار کرچکے تھے ‘ آپس میں کہا ” اگر تم نے شعیب کی پیروی قبول کرلی تو برباد ہوجاؤ گے ۔ “ یہ ہیں خدوخال اس معرکے کے جو انسانی تاریخ میں بار بار دہرایا جاتا ہے اگرچہ اس کی نوعیت کبھی نہیں بدلتی ۔ طاغوتی قوتیں سب سے پہلے داعی کی طرف متوجہ ہوتی ہیں کہ وہ دعوت کو بند کر دے لیکن جب وہ اپنی ایمانی قوت پر اور اللہ پر بھروسہ کرتے ہوئے ڈٹ جاتا ہے ‘ دعوت کو جاری رکھتا ہے ‘ اس راہ میں ہر قسم کی مشکلات کو انگیز کرتا ہے اور دھمکیوں اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

6 یعنی باپ دادا کا مذہب جھوٹا، یہ تو دین کی خرابی ہوئی اور تجارت میں ناپ تول ٹھیک رکھی، یہ دنیا کا نقصان ہوا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 89–92

آیت 89 قَدِ افْتَرَیْنَا عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا اِنْ عُدْنَا فِیْ مِلَّتِکُمْ بَعْدَ اِذْ نَجّٰٹنَا اللّٰہُ مِنْہَا ط حضرت شعیب علیہ السلام کا فرمانا تھا کہ اگر ہم دوبارہ تمہارے طور طریقوں پر واپس آجائیں تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ میرا نبوت کا دعویٰ ہی غلط تھا اور میں یہ دعویٰ کر کے گویا اللہ پر افترا کر رہا تھا۔ لیکن چونکہ میرا یہ دعویٰ سچا ہے اور میں واقعتا اللہ کا فرستادہ ہوں لہٰذا اب میرے اور میرے ساتھیوں کے لیے تمہاری ملت میں واپس آنا ممکن نہیں۔ وَمَا یَکُوْنُ لَنَآ اَنْ نَّعُوْدَ فِیْہَآ اِلآَّ اَنْ یَّشَآء اللّٰہُ رَبُّنَا ط یہ ایک بندۂ مومن کی سوچ اور اس کے طرز عمل کی عکاسی ہے۔ وہ نہ…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

96 سچائی اختیار کرنے پر نقصان کا نظریہ :۔ سرداروں کے اس قول کے مخاطب وہ لوگ بھی ہوسکتے ہیں جو شعیب پر ایمان لائے تھے اس صورت میں اس کا معنی یہ ہوں گے کہ اگر تم نے شعیب کا ساتھ نہ چھوڑا تو ہم تمہارا ناک میں دم کردیں گے اور جینا تم پر حرام کردیں گے لہذا اس کا ساتھ دینے سے باز آجاؤ۔ اور وہ لوگ بھی ہوسکتے ہیں جو ان منکرین کے اپنے گروہ سے تعلق رکھتے تھے اس صورت میں اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اگر تم نے کاروبار میں سچ بولنے اور درست ناپ تول رکھنے کا طریقہ اختیار کرلیا جیسا کہ یہ شعیب کہتا ہے تو تمہیں تمہارے کاروبار اور تجارتی لین دین میں کبھی فائدہ نہ ہوگا اور ہمیشہ نقصان ہی اٹھاؤ گے اور بالآخر سارا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

124 ۔ کہ ہماری سرپرستی سے محروم ہوجانے کے بعد دنیوی نقصان جو کچھ ہوگا ظاہر ہی ہے اور اپنے آباء کے دین سے انحراف جس درجہ کا مذہبی وبال ہے وہ بھی بالکل ظاہر ہے۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) کی تبلیغ میں خاص زور مالی احتیاط اور معاشی تقوی پر تھا۔ جاہلی قومیں اسے اپنی مالی بربادی ومعاشی تباہ حالی کا پیش خیمہ سمجھتی رہی ہیں۔ (آیت) ” انکم اذا الخسرون “۔ جملہ کی ترکیب خاص زور دینے کے لیے ہے۔ جیسے اردو میں کہیں کہ ” بس تم بالکل ہی چوپٹ ہو کر رہے “۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 88–90

آیت نمبر 88 تا 93 ترجمہ : حضرت شعیب (علیہ السلام) کی قوم کے سرداروں نے جنہوں نے ایمان کے مقابلہ میں تکبر کیا، کہا اے شعیب ہم تم کو اور ان لوگوں کو جو تمہارے ساتھ ایمان لائے ہیں اپنی بستی سے ضرور نکال دیں گے الا یہ کہ تم ہمارے دین (دھرم) میں واپس آجاؤ، خطاب میں جمع کو واحد پر غلبہ دیا ہے، اسلئے کہ شعیب (علیہ السلام) ان کے دین پر ہرگز نہ تھے اور اسی (تغلیب الجمع علی الواحد) کے طور پر شعیب (علیہ السلام) نے بھی جواب میں فرمایا، کیا ہم اس دین میں لوٹ آئیں اگرچہ ہم اس کو ناپسند کرتے ہوں (یہ) استفہام انکاری ہے واللہ اگر تمہارے دین میں واپس آگئے تو ہم نے اللہ پر جھوٹی تہمت لگائی بعد اس کے کہ اللہ نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وقال الملاء الذین کفروا من قومہ لئن اتبعتم شعیبا انکم اذا لخسرون شعیب ( علیہ السلام) کی قوم کے کافروں نے (نچلے اور زبردست طبقہ سے) کہا اگر تم شعیب کے پیچھے چلو گے (اور اپنے مذہب کو چھوڑ کر اس کا دین اختیار کرو گے) تو بلاشبہ اس صورت میں گھاٹے میں رہو گے۔ اپنی سیدھا چال کو چھوڑ کر اس کی لائی ہوئی گمراہی اختیار کرلو گے یا یہ مطلب کہ جو دنیاوی فائدے تم کو حاصل ہوتے ہیں ناپ تول میں کمی کر کے جو نفع مل جاتا ہے وہ جاتا رہے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(90) سرداروں نے کمزور لوگوں سے کہا کہ اگر تم شعیب ؑ کے دین کی پیروی کرو گے تو تم بڑے گھاٹے اور نقصان میں رہو گے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

اِنَّكُمْ اِذًا لَّـخٰسِرُوْن یعنی شعیب ؑ کی پیروی کی صورت میں تم یقیناً خسارہ اٹھاؤ گے کہ اپنے آبائی دین سے بھی ہاتھ دھو بیٹھو گے اور جن ناجائز ذرائع سے دولت کما رہے ہو ان کو بھی ترک کرنا پڑے گا۔ یہ بات شعیب ؑ کی قوم کے سرداروں تک محدود نہیں بلکہ ہر زمانے میں دنیا پرستوں نے اخلاق و دیانت کے اصولوں کی پابندی سے یہی خطرہ محسوس کیا ہے اور ان کا ہمیشہ یہ خیال رہا ہے کہ تجارت اور دیگر بنیادی معاملات بددیانتی، دغا بازی اور سود خوری کے بغیر نہیں چل سکتے اور سمجھتے رہے ہیں کہ سچی اور صاف بات کہنے سے کاروبار تباہ ہوجاتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 90–93

آیت نمبر : 90۔ تا 93 قولہ تعالیٰ : آیت : وقال الملا الذین کفروا من قومہ یعنی انہوں نے اپنے سے کمتر اور کمزورلوگوں کو کہا : آیت : لئن اتبعتم شعیبا انکم اذا لخسرون کہ اگر تم شعیب کی پیروی کرنے لگے تو یقینا تم ہلاک ہوجاؤ گے۔ آیت : فاخذتھم الرجفۃ پھر انہیں زلزلہ نے پکڑ لیا۔ اور یہ قول بھی ہے کہ رجفہ کا معنی چیخ ( کرخت آواز) ہے اور اصحاب لایکۃ شدید بادل کے سبب ہلاک کیے گئے، جیسا کہ اس کا بیان آگے آئے گا۔ قولہ تعالیٰ : آیت : الذین کذبوا شعیبا کان لم یغنوا فیھا جرجانی نے کہا ہے : کہا گیا ہے یہ نیا کلام ہے۔ یعنی جنہوں نے حضرت شعیب (علیہ السلام) کو جھٹلایا وہ اس طرح ہوگئے گویا وہ ہمشہ سے مردہ تھے۔…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 85–93

توراۃ میں شعیب (علیہ السلام) کا نام (1) امام ابن عساکر نے اسحاق بن بشیر (رح) سے روایت کیا کہ مجھ کو عبید اللہ بن زیاد بن سمعان (رح) نے ایک اس شخص سے مجھ کو خبر دی جو کتاب کو پڑھنے والا تھا کہ اہل تورات گمان کرتے ہیں کہ شعیب کا نام تورات میں میکائل ہے اور ان کا نام سریانی زبان میں جزی بن بشخر ہے اور عبرانی زبان میں شعیب بن بشخر بن لاوی بن یعقوب (علیہ السلام) ہے۔ (2) امام ابن عساکر نے اسحاق بن بشر کے طریق سے شرق بن قطامی (رح) سے روایت کی ہے کہ جو علم انساب کے ماہر سعید عالم تھے انہوں نے فرمایا کہ شیعب (علیہ السلام) کا نام عبرانی زبان میں یثرب ہے اور شعیب عربی زبان میں ابن عیفا بن یوبب بن…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ وَقَالَ : اور کہا ] [ الْمَلَاُ : سرداروں نے ] [ الَّذِيْنَ : جنہوں نے ] [ كَفَرُوْا : انکار کیا ] [ مِنْ قَوْمِهٖ : ان کی قوم میں سے ] [ لَىِٕنِ : بیشک اگر ] [ اتَّبَعْتُمْ : تم لوگوں نے پیروی کی ] [ شُعَيْبًا : شعیب کی ] [ اِنَّكُمْ : تو یقینا تم لوگ ] [ اِذًا : پھر تو ] [ لَّـخٰسِرُوْنَ : ضرور ہی خسارہ پانے والے ہوگے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 89–94

جن بستیوں میں نبی بھیجے گئے ان کو خوشحالی اور بد حالی کے ذریعہ آزمایا گیا گزشتہ چند رکوع میں متعدد قوموں کی تکذیب اور تعذیب کا تذکرہ فرمایا۔ ان بستیوں کا حال بنی اسرائیل کو معلوم تھا اور قریش بھی تجارت کے لیے ملک شام کی طرف جاتے تھے وہ بھی ان میں سے بعض بستیوں پر گزرتے تھے اور اگر کسی کو ان کے حالات معلوم نہ ہوں تو اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں بیان فرما دیئے جنہیں رسول اللہ ﷺ نے پڑھ کر سنا دیا۔ ان واقعات سے معلوم ہوگیا کہ سابقہ اقوام کی بربادی کا سبب ان کا کفر تھا اور ان کے اعمال بد تھے۔ اس رکوع میں اول تو یہ فرمایا کہ جس کسی بستی میں ہم نے نبی بھیجا وہاں کے رہنے والوں کو تنبیہ کرنے کے لیے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 88–93

بقیہ قصۂ شعیب (علیہ الصلوۃ والسلام) قال الملآ الذین استکبروا من قومہ۔۔۔ الی۔۔۔ فکیف اسی علی قوم کفرین شعیب (علیہ السلام) کے قوم کے متکبر سرداروں نے جواب دیا کہ اے شعیب ہمیں صبر کرنے کی اور فیصلہ کی انتظار کی ضرورت نہیں خدا تعالیٰ نے ہم کو تم پر غلبہ دیا ہے اور ہم کو تمہارے نکالنے کی قدرت دی ہے۔ اے شعیب یاد رکھو ہم تجھ کو اور جو تیرے ساتھ ایمان لائے ہیں ان کو اپنی بستی سے نکال کر رہیں گے یا یہ کہ تم ہمارے دین میں واپس آجاؤ۔ تو پھر ہم تم سے۔ کوئی تعرض نہ کریں گے یہ بات حضرت شعیب (علیہ السلام) کے ساتھیوں کے اعتبار سے ہے کہ جو شعیب (علیہ السلام) پر ایمان لانے سے پہلے کفر کے طریقہ پر تھے اور کفر…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

96: قوم شعیب (علیہ السلام) کے مشرک سردار اپنے ہم مسلک لوگوں کو دین حق قبول کرنے سے روکنے کیلئے ان سے کہتے تھے اگر تم نے شعیب کی بات مان لی تو تم خسارے میں رہو گے۔ کیونکہ اس کا دین قبول کرلینے کے بعد تم ناپ تول میں کمی بیشی سے جو کچھ کماتے تھے، وہ نہیں کما سکو گے۔ نیز ہدایت کے عوض گمراہی خریدو گے جو سراسر خسارہ ہے مشرکین شرک کو ہدایت اور توحید کو گمراہی سمجھتے تھے۔ ای مغبونون لاستبدالکم الضلالۃ بالھدی وولفوات ما یحصل لکم بالبخس والتطفیف (روح ج 9 ص 6) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 88–93

تبلیغ رسالت کے سلسلہ میں اللہ تعالیٰ نے یہ پانچواں واقعہ حضرت شعیب (علیہ السلام) کا بیان فرمایا ہے گزشتہ درس میں آپ کی اپنی قوم کی طرف بعثت اور ان کو دعوت توحید پیش کرنے کا ذکر تھا حضرت شعیب (علیہ السلام) نے اپنی قوم کے سامنے ان کی خرابیوں کی نشاندہی کی اور ان سے منع فرمایا۔ قوم شعیب کی چیدہ چیدہ خامیاں ماپ تول میں کمی ، زمین میں فساد ، راستوں میں ڈاکے ڈالنا ، لوگوں کو ایذا پہنچانا۔ خدا کے راستے سے روکنا۔ پیغمبر اور دین حق کے خلاف غلط پراپیگنڈہ اور لوگوں کو متنفر کرنے کے لیے دین حق میں کجی تلاش کرنا تھیں آپ نے قوم کو اللہ تعالیٰ کی نعمتیں یاد دلائیں کہ اس نے تمہاری قلت تعداد کو کثرت میں تبدیل…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَقَالَ الْمَلَاُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَوْمِہٖ لَىِٕنِ اتَّبَعْتُمْ شُعَيْبًا اِنَّكُمْ اِذًا لَّـخٰسِرُوْنَ۝ 90 كفر الكُفْرُ في اللّغة : ستر الشیء، ووصف اللیل بِالْكَافِرِ لستره الأشخاص، والزّرّاع لستره البذر في الأرض، وأعظم الكُفْرِ : جحود الوحدانيّة أو الشریعة أو النّبوّة، والکُفْرَانُ في جحود النّعمة أكثر استعمالا، والکُفْرُ في الدّين أكثر، والکُفُورُ فيهما جمیعا قال : فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99] ( کر ) الکفر اصل میں کفر کے معنی کیس چیز کو چھپانے کے ہیں ۔ اور رات کو کافر کہا جاتا ہے کیونکہ وہ تمام چیزوں کو چھپا لیتی ہے ۔ اسی طرح کا شتکار چونکہ زمین کے اندر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 87–91

ترکیب : وان کان شرط فاصبروا جواب والذین ک مفعول پر معطوف۔ اولو کنا جملہ استفہام انکاری ان عدنا شرط قد افترینا جملہ دال برجزا بعد عدنا سے متعلق۔ الاستثناء منقطع یا متصل ای الاوقت مشیۃ اللہ اذا ان اور اس کی خبر میں متوسط جملہ جواب ان اتبعتم۔ تفسیر : حضرت پر جو لوگ ایمان لے آئے تھے پیشتر وہ غریب تھے اس لئے ایک روز وہاں کے سرداروں نے متفق ہو کر حضرت شعیب (علیہ السلام) سے کہا یا تو آپ مع اپنے متبعین کے پھر ہمارے مذہب و طریقہ کو اختیار کرلیں ورنہ ہمارے شہر سے نکل جائو (اگرچہ ابتدائِ عمر سے حضرت شعیب (علیہ السلام) ان کے ملت و مذہب بت پرستی کے شریک نہ تھے مگر نبوت اور منادی سے پہلے ان کو وہ اپنے مذہب…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَقَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ قَوْمِہٖ لَئِنِ اتَّبَعْتُمُ شُعَیْبًا اِنَّکُمْ اِذًا لَّخٰسِرُوْنَ ۔ (الاعراف : 90) ” ان بڑوں نے جنھوں نے اس کی قوم میں سے کفر کیا کہا کہ اگر تم شعیب کی پیروی کرو گے تو بڑے خسارے میں پڑو گے “۔ مسلمانوں کو وارننگ اس وارننگ کے دو مطلب ہوسکتے ہیں ایک تو یہ کہ شعیب تمہیں جس زندگی کی دعوت دے رہے ہیں وہ اللہ کی بندگی کے سوا ہر بندگی سے بغاوت کی دعوت ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ آج تک تم ہمارے دست نگر رہے ہو۔ پشتوں سے تم ہماری چاکری کرتے چلے آئے ہو۔ ہمارے فیصلوں کے خلاف سوچنے کی بھی تم نے کبھی ہمت نہیں کی ‘ تمہاری زندگی کا کوئی فیصلہ ہماری مرضی کے خلاف کبھی…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 88–93

فہم القرآن ربط کلام : حضرت شعیب (علیہ السلام) اور ان کی قوم کے درمیان کشمکش کا ذکر جاری ہے۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) اپنی موت تک قوم کو سمجھاتے رہے لیکن قوم نے نہ صرف ان کی باتوں کی طرف توجہ نہ دی بلکہ انہوں نے تشدد کا راستہ اختیار کیا اور اور کہنے لگے اے شعیب اب تیرے اور تیرے ساتھیوں کے لیے ایک ہی راستہ ہے اگر تم اپنی بات پر قائم رہنا چاہتے ہو تو اپنا کاروبار اور گھر بار ہمارے حوالے کرو اور یہاں سے نکل جاؤ۔ اگر تم اپنا کاروبار اور گھر بچانا چاہتے ہو تو پھر تمہیں ہر صورت ہمارے عقیدے کو ماننا پڑے گا۔ اس کے سوا ہمارا اور تمہارا اکٹھا رہنا مشکل ہے۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) نے فرمایا کیا ہم کفر و…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

سرداروں کا قوم کو ان کے خلاف بھڑکانا : آیت 90: وَقَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ قَوْمِہٖ لَپنِ اتَّبَعْتُمْ شُعَیْبًااِنَّکُمْ اِذًا لَّخٰسِرُوْنَ (اور ان کی قوم کے کافر سرداروں نے کہا اگر تم شعیب کی راہ پر چلنے لگو گے تو بیشک تم بڑا نقصان اٹھائو گے) اس کی اتباع سے بخس و تطفیف کے فوائد سے محروم ہوجائو گے۔ کیونکہ وہ ان سے روکتا ہے۔ اور تمہیں ایفاء اور برابری پر آمادہ کرتا ہے۔ نحو : لئن اتبعتم یہ لام شرط سے شروع ہونے والا قسم کا جواب ہے۔ اور شرط کا جواب انکم اذا لخاسرون ہے۔ اور وہ دونوں جوابوں کے قائم مقام ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

90(وقال الملا الذین کفروا من قومہ لئن اتبغنم شعیباً ) تم اپنے دین کو چھوڑ دو گے (انکم اذا لخسرون) خسارہ میں ہو گے۔ عطاء فرماتے ہیں انکار کرنے والے ہوں گے۔ ضحاک (رح) فرماتے ہیں عاجز ہوں گے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 85–93

(85 ۔ 93) ۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) کی امت میں مفسروں کا اختلاف ہے بعضے کہتے ہیں کہ حضرت شعیب ( علیہ السلام) کی روایتوں میں اور سوا حضرت شعیب ( علیہ السلام) کے اور کوئی نبی دو امتوں کی ہدایت کے لئے نہیں بھیجا گیا ایک امت ان کی یہ قبیلہ ہے جس کا نام مدین ہے اور حضرت شعیب ( علیہ السلام) بھی اسی قبیلہ میں کے ہی اسی واسطے اللہ تعالیٰ نے حضرت شعیب ( علیہ السلام) کو اس قبیلہ کا بھائی فرمایا ہے اور دوسری امت بن کے رہنے والے لوگ ہیں جن سورة شعراء میں اصحاب الایکہ فرمایا ہے اور بعضے مفسر کنویں والے لوگوں کو بھی جن کو سورة فرقان اور سورة قاف میں اصحاب الرس فرمایا ہے ان کی ہی امت میں شمار کر کے یوں کہتے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 88–94

آیت 88 (قال الملا الذین استکبروا من قومہ) ” کہا ان سرداروں نے جو متکبر تھے اس کی قوم میں سے “ اس سے مرادان کے اشراف اور بڑے آدمی ہیں جنہوں ن اپنی لذات میں مستغرق ہو کر اپنی خواہشات نفس کی پیروی کی، جب ان کے پاس حق آیا اور انہوں نے دیکھ لیا کہ حق ان کی خواہشات نفس کے خلاف ہے تو انہوں نے نہایت تکبر سے حق کو ٹھکرا دیا اور اپنے نبی شعیب اور ان مستضعفین سے کہنے لگے جو حضرت شعیب کے ساتھ تھے۔ (لنخرجنک یشعیب والذین امنوا معک من قریتنا اولتعودن فی ملتنا) ” ہم ضرور نکال دیں گے اے شعیب تجھ کو اور ان کو جو تیرے ساتھ ایمان لائے اپنے شہر سے، یا یہ کہ تم لوٹ آؤ اپنے دین میں “ انہوں نے حق کے خلاف بہیمانہ قوت…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 55–141

دعا کا طریقہ قول باری ہے وادعواربکم تضرعاً عاوخفیۃ۔ اپنے رب کو پکارو گڑگڑاتے ہوئے اور چپکے چپکے) آیت میں چپکے چپکے رب کو پکارنے کا حکم ہے حسن کا قول ہے کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے تمہیں اس بات کی تعلیم دی ہے کہ تم اپنے رب کو کس طرح پکارو۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک عہد صالح کا ذکر فرمایا جس کی پکار کو اس نے پسند فرمایا تھا چناچہ ارشاد ہے اذنادی ربہ نداء خفیا۔ جبکہ اس نے اپنے رب کو چپکے چپکے پکارا) یعنی حضرت زکریاعلیہ السلام عبداللہ بن المبارک نے حسن بصری سے روایت کی ہے کہ لوگ یعنی صحابہ کرام بڑی عاجزی اور نیاز مندی کے ساتھ دعائیں مانگا کرتے تھے اور صرف سرگوشی کی آواز سنائی دیتی تھی۔ حضرت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 87–91

123 صبر و ثبات کی تعلیم و تلقین : سو اس ارشاد سے ضدی اور ہٹ دھرم لوگوں کے مقابلے میں صبر و برداشت سے کام لینے کی ہدایت و تلقین فرمائی گئی کہ جن کے اندر خیر و صلاح کی کوئی رمق موجود ہو وہ ایمان لے آئیں۔ اور جو اس سے محروم ہوں وہ اپنے آخری انجام کو پہنچ جائیں۔ پس ایمان امن و سلامتی کا باعث وضامن ہے اور کفر ہلاکت و تباہی کا سبب ۔ والعیاذ باللہ ۔ پس ضدی اور ہٹ دھرم لوگوں کے مقابلے میں صبر و برداشت سے کام لینے ہی میں سلامتی و عافیت ہے۔ بہرکیف حضرت شعیب نے ان سے فرمایا کہ اگر ایک گروہ نے میری دعوت کو قبول نہیں کیا اور وہ لوگ مجھ پر ایمان نہیں لائے تو تم صبر و برداشت اور ثبات و استقامت ہی سے کام لو…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 88–102

سیدنا شعیب (علیہ السلام) کی قوم پر عذاب الٰہی تشریح : مدین کی قوم پچھلی قوموں، یعنی قوم نوح، عاد، ثمود، اور قوم لوط کی طرح اخلاقی، مذہبی اور تعلیمی لحاظ سے بالکل بگڑ چکی تھی۔ سیدنا شعیب (علیہ السلام) نے اللہ کے حکم سے ان کو راہ راست پر لانے کی ذمہ داری اٹھائی، یہ واقعہ یہاں صرف اس لیے بیان کیا گیا کہچو ن کہ یہ سورت مکہ میں نازل ہوئی اور اس وقت اہل مکہ کا حال بھی کچھ ایسا ہی تھا تو لوگوں کو عبرت دلانے کے لیے ان کو ان تمام قوموں کے حالات اور انجام بتایا گیا کہ عرب لوگ سبق سیکھیں اور راہ ہدایت اختیار کریں۔ اہل مدین اس وقت شرک، بد دیانتی، جھوٹ فریب، ظلم، قتل و فساد غیر اخلاقی وکردار کی انتہائی…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 88–93

رکوع نمبر 11 ۔ آیات 88 تا 93: اسرار و معارف : یہاں پھر وہی نتائج سامنے آئے کہ متکبرین کی جماعت جو اپنی خواہشات کو تقدس کا لبادہ اوڑھائے ہوئے تھی برداشت نہ کرسکی اور کہا میاں شعیب سیدھے سیدھے واپس ہمارے مذہب پر آجاؤ ورنہ تمہیں بھی اور تمہارے ساتھ تم پر ایمان لانے والوں کو بھی شہر سے نکال دیا جائے گا انہوں نے فرمایا عجیب بات ہے۔ رسومات کی برائی : کبھی مذہب بھی مسلط کیا جاسکتا ہے بھئی ہم نے اسے گمراہی سمجھ کر چھوڑا اور اس پر دلائل ہیں پھر اب تو ہمارے دل کی ایک کیفیت بن چکی ہے کہ وہ کفر سے نفرت کرتا ہے بھلا تم زبردستی کیسے کرسکتے ہو حضرت شعیب (علیہ السلام) تو نبی تھے جن سے کبھی کفر کا ارتکاب ہی…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 7 یعنی آبائی دین سے بھی ہاتھ دھو بیٹھیں گے اور جن ناجائز ذرائع سے دولت کما رہے ہیں ان کو بھی تر کرنا پڑے گا یہ بات قوم شعیب ( علیہ السلام) کے سرداروں تک محدود نہیں بلکہ ہر مانے میں دنیا پر ستوں نے اخلاق ودیانت کے اصول لوں کی پابندی سے یہی خطرہ محسوس کیا ہے۔ اور ان کا ہمیشہ یہ خیال رہا ہے کہ تجارت اور دیگر دنیاوی معاملات بددیانتی اور دغابازی کے بغیر نہیں چل سکتے اور سمجھتے رہے ہیں کہ راست بازی سے کاروبار تباہ ہوجاتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 89–91

(7:89) افترینا۔ افتراء سے ماضی جمع متکلم۔ ہم نے بہتان باندھا۔ قد افترینا ۔۔ منھا۔ تقدیر کلام یوں ہے ان عدنا فی ملتکم بعد اذ بجنا اللہ منھا قد افترینا علی اللہ کذبا۔ باوجود اس کے کہ اللہ نے ہمیں اس (تمہارے دین) سے ہمیں نجات بخشی ہے اگر ہم تمہارے دین کی طرف لوٹتے ہیں تو ہماری طرف سے یہ اللہ تعالیٰ پر صریحاً جھوٹا بہتان ہوگا۔ وما یکون لنا۔ اور نہیں ہے (کوئی وجہ) ہمارے لئے۔ فیہا میں ھا ضمیر واحد مؤنث غائب ملت مشرکین کی طرف راجع ہے۔ الا ان یشاء اللہ ربنا۔ یعنی ماسوائے اس کے کہ مشیت ایزدی ہی یہی ہو اور یہ ہمارا مقدر ہوچکا ہو۔ وسع ربنا کل شیء علما۔ تمیز اس کا علم ہر شے کو محیط ہے۔ افتح۔ امر۔ واحد…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 88–93

لغات القرآن آیت نمبر (88 تا 93 ) ۔ لنخرجنک (البتہ ہم تجھے ضرور نکال دیں گے) ۔ من قریتنا (اپنی بستی سے) ۔ لتعو دن (البتہ تمہیں پلٹ کر آنا ہوگا۔ ) ۔ فی ملتنا (ہمارے دین میں) ۔ اولو کنا (کیا اور اگر ہم ہوں) ۔ کارھین (برا سمجھنے والے) ۔ ان عدنا (اگر ہم پلٹ گئے) ۔ تو کلنا (ہم نے بھروسہ کرلیا) ۔ افتح (کھول دے) ۔ تشریح : آیت نمبر (88 تا 93 ) ۔ ” یہ ہے دو نظریات کا ٹکراؤ ۔ یہ صورت حال صرف اہل مدین کے ساتھ نہیں۔ ہر دور اور ہر علاقہ اس آئینہ میں اپنی تصویر دیکھ سکتا ہے ورنہ اس کا اندراج قرآن کریم میں نہ ہوتا۔ اہل کفر وشرک بےایمانی کے وکیل بن کر کہہ رہے تھے کہ اس کے بغیر ہماری تجارت معاملات تہذیب و…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 89–94

مشرکوں کو ہدایت اس ذکر سے یہ مطلب ہے کہ کفار قریش پچھلی امتوں کی بربادی کا حال سن کر آنحضرت ﷺ کے جھٹلانے سے اور کفر سے باز آویں اور خدا سے ڈریں۔ اس لئے فرمایا کہ پچھلی امتوں میں رسول جو اللہ تعالیٰ نے بھیجے تو ایسی حالت میں کہ وہ لوگ طرح طرح کی مصیبتوں میں گرفتار تھے۔ یہ ان کی جانچ تھی کہ دیکھیں وہ اس حالت میں گڑگڑاتے اور خدا کی طرف رجوع ہوتے ہیں یا نہیں۔ مگر وہ اس حالت میں بھی اسی کفر اور گمراہی میں پڑے رہے۔ آخر اللہ تعالیٰ نے ان کی مصیبتوں کو دور کردیا ار تندرست بنادیا اور مالدار کردیا کہ شاید اس حالت میں رہ کر اللہ تعالیٰ کا شکر بجا لاویں مگر وہ گمراہ ازلی تھے۔ یہ کہنے لگے کہ تکلیف کی گھڑی…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 86–102

[41] یعنی یہ لوگ مبتلائے مصیبت ہو کر ایمان لانے کا عہد کرتے اور کہتے کہ اگر ہمیں اس سے نجات مل گئی تو ہم ضرور ایمان لائیں گے پھر جب نجات پاتے تو عہد سے پھرجاتے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 88–92

آخری فیصلہ : (ف 1) حضرت شعیب (علیہ السلام) کی نصیحتوں کو ٹھکرا دیا گیا ، اور صاف صاف کہہ دیا گیا ، اگر آپ ہماری خیانتوں اور بددیانتیوں کی تائید نہیں کریں گے تو ہم اپنی بستی سے تمہیں نکال باہر کریں گے گویا برائیوں سے روکنا برائی ہے ، اور ایسا گناہ ہے جو ناقابل عفو اور شائستہ تعزیر ہے ۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) نے فرمایا یہ ہرگز نہیں ہونے کا کہ ہم تمہارے مسلک کو قبول کرلیں ، اور دعوت حق سے روگردانی کرلیں ، اس کا مطلب یہ ہے ، کہ ہم نے معاذ اللہ ، اللہ پر افتراء کیا ہے ، کیا تم سمجھتے ہو ، ہم پھر اس گمراہی میں آپھنسیں گے جبکہ اللہ تعالیٰ نے کمال عنایت سے ہمیں نجات دی ہے ، غرض یہ ہے کہ انبیاء…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

90 اور شعیب (علیہ السلام) کی قوم ان رئوسا اور سرداروں نے جنہوں نے کفر کی راہ اور کافرانہ روش اختیار کررکھی تھی ان غیر مسلموں سے کہا جو ابھی شعیب (علیہ السلام) کی تعلیم کے بارے میں کوئی آخری فیصلہ نہ کرسکے تھے کہ اگر تم نے شعیب (علیہ السلام) کی پیروی اختیار کی اور شعیب کے کہنے پر چلے تو یقیناً اس وقت تم سخت نقصان اٹھانے والے ہوجائو گے اور بڑے ہی خسارے میں پڑجائوگے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 89–92

ف 4۔ اس سے یہ شبہ نہ کیا جائے کہ ان کو اپنے خاتمہ بالخیر کا یقین نہ تھا انبیاء کو یقین دلایا جاتا ہے مقصود اظہار عجز اور تفویض الی المالک ہے جو کہ لوازم نبوت سے ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

منکرین کا اعلان کہ اگر تم نے شعیب (علیہ السلام) کی پیروی کی تو برباد ہوجائو گے : 101: سرداران قوم شعیب (علیہ السلام) نے جب شعیب (علیہ السلام) کا یہ عزم و استقلال دیکھا تو اب ان سے روئے سخن پھیر کر اپنی قوم کے لوگوں سے کہنے لگے۔ خبردار ! اگر تم نے شعیب (علیہ السلام) کا کہنا مانا تو تم ہلاک و بربادہوجائو گے۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) نے یہ بھی فرمایا کہ دیکھو اللہ تعالیٰ نے مجھ کو اس لئے بھیجا ہے کہ میں اپنے مقدور بھر تمہاری اصلاح کی سعی کروں اور میں جو کچھ کہتا ہوں اس کی صداقت اور سچائی کے لئے اللہ کی طرف سے حجت ، دلیل اور نشانی بھی پیش کر رہا ہوں مگر افسوس کہ تم اس واضح حجت کو دیکھ کر بھی سرکشی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Reported in the third verse (90) is a misleading statement of the arrogant chiefs of the people of Sayyidna Shu'aib (علیہ السلام) which they made while talking among themselves, or said that to their followers: that is, ` if you are to follow Shu'aib, then you are sure losers.' (Al-Bahr Al-Muhit from 'Ata' ) The account of the punishment of these wicked people was given in the fourth verse (91) in the following words: فَأَخَذَتْهُمُ الرَّ‌جْفَةُ فَأَصْبَحُوا فِي دَارِ‌هِمْ جَاثِمِينَ ﴿91﴾ (So, the earthquake seized them, and they were [ found dead ] in their homes fallen on their knees).

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

74. One should not pass cursorily over this short sentence; instead one must reflect upon it. What the leaders of Midian in effect told their people was that Shu'ayb's exhortations to practise honesty and righteousness, and to strictly adhere to moral values, would spell their disaster. They implied that they could not succeed in the business carried on by the people of Midian if they were totally honest and straightforward in their dealings. Were they to let trading caravans pass by unmolested, they would lose all the advantages of being located at the crossroads of the major trade routes…

Read the full tafseer →