Explained with ayahs 88–89
شعیب ؑ کی قوم نے اپنی بربادی کو آواز دی
حضرت شعیب ؑ کی قوم نے آپ کی تمام نصیحتیں سن کر جو جواب دیا اس کا ذکر کیا جا رہا ہے ہوا یہ کہ دلیلوں سے ہار کر یہ لوگ اپنی قوت جتانے پر اتر آئے اور کہنے لگے اب تجھے اور تیرے ساتھیوں کو ہم دو باتوں میں سے ایک کا اختیار دیتے ہیں یا تو جلا وطنی قبول کر یا ہمارے مذہب میں آجاؤ۔ جس پر آپ نے فرمایا کہ ہم تو دل سے تمہارے ان مشرکانہ کاموں سے بیزار ہیں۔ انہیں سخت ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ پھر تمہارے اس دباؤ اور اس خواہش کے کیا معنی ؟ اگر اللہ کرے ہم پھر سے تمہارے کفر میں شامل ہوجائیں تو ہم سے بڑھ کر گناہگار کون ہوگا ؟ اس کے تو صاف معنی یہ ہیں کہ ہم نے دو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 86–89
سورة الْاَعْرَاف 73
یہ فقرہ اسی معنی میں ہے جس میں انشاء اللہ کا لفظ بولا جاتا ہے، اور جس کے متعلق سورة کہف (آیات 23۔ 24) میں ارشاد ہوا ہے کہ کسی چیز کے متعلق دعوے کے ساتھ یہ نہ کہہ دیا کرو کہ میں ایسا کروں گا بلکہ اس طرح کہا کرو کہ اگر اللہ چاہے گا تو ایسا کروں گا۔ اس لیے کہ مومن، جو اللہ تعالیٰ کی سلطانی و بادشاہی کا اور اپنی بندگی و تابعیت کا ٹھیک ٹھیک ادراک رکھتا ہے، کبھی اپنے بل بوتے پر یہ دعویٰ نہیں کرسکتا کہ میں فلاں بات کر کے رہوں گا یا فلاں حرکت ہرگز نہ کروں گا، بلکہ وہ جب کہے گا تو یوں کہے گا کہ میرا ارادہ ایسا کرنے کا یا نہ کرنے کا ہے لیکن میرے اس ارادے کا پورا ہونا میرے مالک کی…
Read the full tafseer →دوسری آیت میں ہے کہ حضرت شعیب ؑ نے اپنی قوم سے فرمایا کہ تمہارے باطل مذہب سے اللہ تعالیٰ نے ہمیں نجات دے دی۔ اس کے بعد اگر ہم تمہارے مذہب میں واپس ہوجائیں تو یہ ہمای طرف سے اللہ تعالیٰ پر سخت جھوٹا بہتان ہوگا۔
کیونکہ اول تو خود کفر و شرک کو مذہب بنانا ہی یہ معنی رکھتا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے جو اس پر افتراء اور بہتان ہے۔ اس کے علاوہ ایمان لانے اور علم و بصیرت حاصل ہونے کے بعد پھر کفر کی طرف لوٹنا گویا یہ کہنا ہے کہ پہلا طریقہ باطل اور غلط تھا حق اور صحیح وہ طریقہ ہے جس کو اب اختیار کیا ہے۔ اور ظاہر ہے کہ یہ دوہرا جھوٹ اور بہتان ہے کہ حق کو باطل کہا اور باطل کو حق۔
حضرت شعیب ؑ کے اس قول…
Read the full tafseer →قَدِ افْتَرَيْنَا عَلَي اللّٰهِ كَذِبًا اِنْ عُدْنَا فِيْ مِلَّتِكُمْ بَعْدَ اِذْ نَجّٰىنَا اللّٰهُ مِنْهَا۔ یہ بڑا ہی فیصلہ کن جواب ہے۔ اس میں ایمان پر غیر متزلزل عزم کا اظہار بھی ہے اور ملت کفر سے انتہائی بیزاری کا اعلان بھی۔ حضرت شعیب نے اول تو اس ملت کو افتراء علی اللہ قرار دیا گویا سراسر جھوٹ کا مجموعہ جس کو بالکل بےسند خدا کی طرف نسبت دی گئی ہے۔ دوسرے فرمایا کہ جب اللہ نے اپنے فضل و رحمت سے اس لعنت سے ہمیں نجات دی تو ہمارے لیے اس میں دوبارہ مبتلا ہونے کا کیا سوال ہے۔ یہ امر ملحوظ رہے کہ یہ جواب حضرت شعیب اپنے ان ستھیوں کی طرف سے بھی دے رہے ہیں جو حضرت شعیب پر ایمان لانے سے پہلے قو کی…
Read the full tafseer →89۔ 1 یعنی اگر ہم دوبارہ اس دین آبائی کی طرف لوٹ آئے، جس سے اللہ نے ہمیں نجات دی، تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ہم نے ایمان و توحید کی دعوت دے کر اللہ پر جھوٹ باندھا تھا ؟ مطلب یہ تھا کہ یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ ہماری طرف سے ایسا ہو۔
98۔ 2 اپنا عزم ظاہر کرنے کے بعد معاملہ اللہ کی مشیت کے سپرد کردیا۔ یعنی ہم نے اپنی رضامندی سے اب کفر کی طرف نہیں لوٹ سکتے۔ ہاں اگر اللہ چاہے تو بات اور ہے۔
89۔ 3 کہ وہ ہمیں ایمان پر ثابت رکھے گا اور ہمارے اور کفر و اہل کفر کے درمیان حائل رہے گا، ہم پر اپنی نعمت کا اتمام فرمائے گا اور اپنے عذاب سے محفوظ رکھے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 89–90
46: حضرت شعیب ؑ کے دوسرے ساتھی تو پہلے اپنی قوم کے دین پر تھے، بعد میں ایمان لائے اس لئے ان کے حق میں توپرانے دین کی طرف لوٹنے کا لفظ صحیح ہے ؛ لیکن حضرت شعیب ؑ کبھی بھی ان کے دین پر نہیں رہے البتہ ان کی نبوت سے پہلے ان کی قوم کے لوگ یہ سمجھتے ہوں گے کہ وہ انہی کے دین پر ہیں، اس لئے انہوں نے آپ کے لئے بھی لوٹنے کا لفظ استعمال کیا تھا، حضرت شعیب ؑ نے جواب بھی انہی کے الفاظ میں دیا۔
47: یہ اعلی درجے کی عبدیت کا فقرہ ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی بھی شخص اپنے پکے عزم سے اللہ تعالیٰ کو کسی بات پر مجبور نہیں کرسکتا، ہم نے اپنی طرف سے تو یہ پکا ارادہ کر رکھا ہے کہ کبھی تمہارا دین اختیار نہیں کریں گے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–89
آیت ” قَالَ أَوَلَوْ کُنَّا کَارِہِیْنَ (88) قَدِ افْتَرَیْْنَا عَلَی اللّہِ کَذِباً إِنْ عُدْنَا فِیْ مِلَّتِکُم بَعْدَ إِذْ نَجَّانَا اللّہُ مِنْہَا وَمَا یَکُونُ لَنَا أَن نَّعُودَ فِیْہَا إِلاَّ أَن یَشَاء َ اللّہُ رَبُّنَا وَسِعَ رَبُّنَا کُلَّ شَیْْء ٍ عِلْماً عَلَی اللّہِ تَوَکَّلْنَا رَبَّنَا افْتَحْ بَیْْنَنَا وَبَیْْنَ قَوْمِنَا بِالْحَقِّ وَأَنتَ خَیْْرُ الْفَاتِحِیْنَ (89)
” شعیب (علیہ السلام) نے جواب دیا ” کیا زبردستی ہمیں پھیرا جائے گا خواہ ہم راضی نہ ہوں ۔ ہم اللہ پر جھوٹ گھڑنے والے ہوں گے اگر تمہاری ملت میں پلٹ آئیں جبکہ اللہ ہمیں اس سے نجات دے چکا ہے ہمارے لئے تو اس طرف…
Read the full tafseer →3 باطل اور جھوٹے مذہب کو سچا کہنا ہی خدا پر افتراء کرنا اور بہتان باندھنا ہے۔ پھر بھلا ایک جلیل القدر پیغمبر اور اس کے مخلص متبعین سے یہ کب ممکن ہے کہ وہ معاذ اللہ سچائی سے نکل کر جھوٹ کی طرف واپس جائیں اور جو سچے دعوے اپنی حقانیت یا مامور من اللہ ہونے کے کر رہے تھے ان سب کا بھی جھوٹ اور افتراء ہونا تسلیم کریں۔
4 کسی کو تو ابتداء نجات دے چکا کہ اس میں داخل ہی نہ ہونے دیا۔ جیسے حضرت شعیب (علیہ السلام) اور بعضوں کو داخل ہونے کے بعد اس سے نکالا جیسے عامہ مومنین۔
5 یعنی اپنے اختیار یا تمہارے اکراہ واجبار سے ممکن نہیں کہ ہم معاذ اللہ کفر کی طرف جائیں۔ ہاں اگر فرض کرو خدا ہی کی مشیت ہم میں سے کسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 89–92
آیت 89 قَدِ افْتَرَیْنَا عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا اِنْ عُدْنَا فِیْ مِلَّتِکُمْ بَعْدَ اِذْ نَجّٰٹنَا اللّٰہُ مِنْہَا ط
حضرت شعیب علیہ السلام کا فرمانا تھا کہ اگر ہم دوبارہ تمہارے طور طریقوں پر واپس آجائیں تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ میرا نبوت کا دعویٰ ہی غلط تھا اور میں یہ دعویٰ کر کے گویا اللہ پر افترا کر رہا تھا۔ لیکن چونکہ میرا یہ دعویٰ سچا ہے اور میں واقعتا اللہ کا فرستادہ ہوں لہٰذا اب میرے اور میرے ساتھیوں کے لیے تمہاری ملت میں واپس آنا ممکن نہیں۔
وَمَا یَکُوْنُ لَنَآ اَنْ نَّعُوْدَ فِیْہَآ اِلآَّ اَنْ یَّشَآء اللّٰہُ رَبُّنَا ط
یہ ایک بندۂ مومن کی سوچ اور اس کے طرز عمل کی عکاسی ہے۔ وہ نہ…
Read the full tafseer →94 شعیب کا جواب :۔ شعیب نے جواب میں کہا تمہاری یہ دونوں باتیں ہمیں نامنظور ہیں وہ اس لیے کہ اگر ہم دوبارہ تمہارا دین اختیار کرلیں تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ میں اور میرے ساتھی آج تک جھوٹ ہی بولتے رہے اور اللہ کے ذمے جھوٹ ہی لگاتے رہے پھر جس کام پر اللہ نے مجھے مامور فرمایا ہے اگر میں ہی یا میرے ساتھی ہی اس کی خلاف ورزی کرنے لگیں تو ہم سے بڑھ کر بےانصاف کون ہوگا ؟ اور انشاء اللہ ہمارا عزم یہی ہے کہ ہم اپنے دین پر نہایت عزم سے ثابت قدم رہیں گے اور اللہ کی توفیق ہمارے شامل حال رہی تو ہم کبھی تمہارے دین میں جانا پسند نہیں کریں گے رہی دوسری بات کہ تم لوگ ہمیں یہاں سے نکال باہر کرو گے تو ہمیں یہ بات…
Read the full tafseer →120 ۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) فرماتے ہیں کہ اللہ نے تو ہم پر جاہلی مذہب کی حماقتیں واضح کردیں، اور ہم پھر اس کو اختیار کرلیں تو اس کے معنی تو یہ ہوئے کہ ہم قصدا تنزیہ و توحید باری سے متعلق افتراء واختراع کرتے رہے۔ (آیت) ” عدنا “۔ یہ لفظ حضرت نے انہی لوگوں کا کہا ہوا دہرا دیا ہے۔
121 ۔ (کسی مصلحت تکوینی کے اعتبار سے) عارف ہمیشہ تقدیر الہی کے سامنے لرزاں وترساں رہتا ہے۔ پہلے تو اپنا ارادہ مضبوطی کے ساتھ ظاہر کردیا کہ ہم ہرگز کفر نہیں اختیار کرنے کے لیکن یہ ایک صورت دعوی اور اثبات خودی کی تھی، اس لیے معا یہ جزء بھی اضافہ کردیا۔ عام مومنین کے لیے تو اس کا دھڑکا اور احتمال ہر وقت لگا ہی ہوا ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–90
آیت نمبر 88 تا 93
ترجمہ : حضرت شعیب (علیہ السلام) کی قوم کے سرداروں نے جنہوں نے ایمان کے مقابلہ میں تکبر کیا، کہا اے شعیب ہم تم کو اور ان لوگوں کو جو تمہارے ساتھ ایمان لائے ہیں اپنی بستی سے ضرور نکال دیں گے الا یہ کہ تم ہمارے دین (دھرم) میں واپس آجاؤ، خطاب میں جمع کو واحد پر غلبہ دیا ہے، اسلئے کہ شعیب (علیہ السلام) ان کے دین پر ہرگز نہ تھے اور اسی (تغلیب الجمع علی الواحد) کے طور پر شعیب (علیہ السلام) نے بھی جواب میں فرمایا، کیا ہم اس دین میں لوٹ آئیں اگرچہ ہم اس کو ناپسند کرتے ہوں (یہ) استفہام انکاری ہے واللہ اگر تمہارے دین میں واپس آگئے تو ہم نے اللہ پر جھوٹی تہمت لگائی بعد اس کے کہ اللہ نے…
Read the full tafseer →قد افترینا علی اللّٰہ کذبا ان عدنا فی ملتکم بعد اذ نجنا اللّہ منہا وما یکون لنا ان نعود فیہا الا ان یشآء اللہ ربنا وسع ربنا کل شی علما علی اللہ توکلنا ربنا افتح بیننا وبین قومنا بالحق وانت خیر الفاتحین۔ ہم اللہ پر بڑی جھوٹی تہمت لگانے والے ہوجائیں گے اگر خدا نہ کرے ہم تمہارے مذہب میں آجائیں بعد اس کے کہ اللہ نے ہم کو اس سے نجات دے دی اور ہم سے ممکن نہیں کہ تمہارے مذہب میں آجائیں ہاں اگر اللہ ہی کی مشیت ہو جو ہمارا مالک ہے (تو دوسری بات ہے) ہمارے رب کا علم ہر چیز کو محیط ہے ہم اللہ ہی پر بھروسہ رکھتے ہیں ہمارے مالک ہمارے اور ہماری قوم کے درمیان حق کے موافق فیصلہ کر دے تو سب سے اچھا فیصلہ کرنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–89
(88۔ 89) کافر اور منکر سردار بولے ہم تمہیں اپنے شہر سے نکال دیں گے ورنہ ہمارے دین میں واپس آجاؤ۔
حضرت شعیب ؑ نے اپنی قوم سے فرمایا ! کیا تم ہمیں اس بات پر مجبور کرتے ہو ہم تو اسے قابل نفرت سمجھتے ہیں باوجود یہ کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے دین سے نجات دی ہے اگر ہم پھر اس دین میں آجائیں، تو ہم اللہ تعالیٰ پر بڑی جھوٹی تہمت لگانے والے ہوں گے۔
ہمارے لیے تو یہ ہرگز جائز نہیں کہ ہم تمہارے مشرکانہ دین کو اختیار کرلیں، الایہ کہ اللہ تعالیٰ ہمارے دلوں سے معرفت ایمانی کو نکال لے۔
ہمارے رب کا علم ہر ایک شے کا احاطہ کیے ہوئے ہے ہمارے پروردگار بس حق کے موافق فیصلہ کردیجیے۔
Read the full tafseer →قَدِ افْتَرَيْنَا عَلَي اللّٰهِ۔۔ : یہ ایک دوسرے طریقے سے جواب ہے، شعیب ؑ عرب تھے اور عربوں میں شروع ہی سے جھوٹ سے شدید نفرت رہی ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنا وہ نبی جو تمام دنیا کی طرف اور قیامت تک کے لیے تھا عربوں میں مبعوث کرنا اس لیے طے فرمایا کہ عرب اپنی تمام برائیوں کے باوجود کچھ اوصاف حمیدہ رکھتے تھے، دوسری قومیں ان کی طرح نہیں تھیں، ان میں سے ایک وصف سچ سے محبت اور جھوٹ سے نفرت تھی۔ اسی لیے ابوسفیان نے ہرقل کے دربار میں جھوٹ نہیں بولا کہ مکہ میں جا کر کوئی یہ نہ کہے کہ سردار نے جھوٹ بولا۔ اس لیے شعیب ؑ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے جب ہمیں تمہارے دین سے بچا کر توحید کا اعلان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–89
آیت نمبر۔ 88۔ 89
قولہ تعالیٰ : آیت : قال الملا الذین استکبروا من قومہ لنخرجنک یشعیب والذین امنوا معک من قریتنا اور لتعودن فی ملتنا اس کا معنی پہلے گزر چکا ہے اور آیت : اولتعودن فی ملتنا کا معنی ہے تم لوٹ آو گے ہماری ملت کی طرف۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ حضرت شعیب (علیہ السلام) کے متبعین آپ کے ساتھ ایمان لانے سے پہلے کفر پر تھے، یعنی تم ضرور ہماری طرف لوٹ آو گے جیسے تم پہلے تھے۔ زجاج نے کہا ہے : یہ بھی جائز ہے کہ عود بمعنی ابتدا ہو۔ کہا جاتا ہے : عاد الی من فلان مکروہ یعنی فلاں سے میری طرف آنا مکروہ اور ناپسندیدہ ہے، اگرچہ اس سے پہلے اس کا آنا مکروہ نہین، یعنی وہ اس سے میرے ساتھ مل گیا۔ تو حضرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–93
توراۃ میں شعیب (علیہ السلام) کا نام
(1) امام ابن عساکر نے اسحاق بن بشیر (رح) سے روایت کیا کہ مجھ کو عبید اللہ بن زیاد بن سمعان (رح) نے ایک اس شخص سے مجھ کو خبر دی جو کتاب کو پڑھنے والا تھا کہ اہل تورات گمان کرتے ہیں کہ شعیب کا نام تورات میں میکائل ہے اور ان کا نام سریانی زبان میں جزی بن بشخر ہے اور عبرانی زبان میں شعیب بن بشخر بن لاوی بن یعقوب (علیہ السلام) ہے۔
(2) امام ابن عساکر نے اسحاق بن بشر کے طریق سے شرق بن قطامی (رح) سے روایت کی ہے کہ جو علم انساب کے ماہر سعید عالم تھے انہوں نے فرمایا کہ شیعب (علیہ السلام) کا نام عبرانی زبان میں یثرب ہے اور شعیب عربی زبان میں ابن عیفا بن یوبب بن…
Read the full tafseer →[ قَدِ افْتَرَيْنَا : ہم تو گھڑ چکے ہوں گے ] [ عَلَي اللّٰهِ : اللہ پر ] [ كَذِبًا : ایک جھوٹ ] [ اِنْ : اگر ] [ عُدْنَا : ہم واپس ہوں گے ] [ فِيْ مِلَّتِكُمْ : تمہاری ملت میں ] [ بَعْدَ اِذْ : اس کے بعد کہ جب ] [ نَجّٰىنَا : نجات دی ہم کو ] [ اللّٰهُ : اللہ نے ] [ مِنْهَا : اس سے [ وَمَا يَكُوْنُ : اور نہیں ہوگا (ممکن ) ] [ لَنَآ : ہمارے لیے ] [ اَنْ : کہ ] [ نَّعُوْدَ : ہم واپس ہوں ] [ فِيْهَآ : اس میں ] [ اِلَّآ اَنْ : سوائے اس کے کہ ] [ يَّشَاۗءَ : چاہے ] [ اللّٰهُ : اللہ ] [ رَبُّنَا : جو ہمارا رب ہے ] [ وَسِعَ : وسیع ہوا ] [ رَبُّنَا : ہمارا رب ] [ كُلَّ شَيْءٍ : ہر چیز پر ] [ عِلْمًا :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 89–94
جن بستیوں میں نبی بھیجے گئے ان کو خوشحالی اور بد حالی کے ذریعہ آزمایا گیا
گزشتہ چند رکوع میں متعدد قوموں کی تکذیب اور تعذیب کا تذکرہ فرمایا۔ ان بستیوں کا حال بنی اسرائیل کو معلوم تھا اور قریش بھی تجارت کے لیے ملک شام کی طرف جاتے تھے وہ بھی ان میں سے بعض بستیوں پر گزرتے تھے اور اگر کسی کو ان کے حالات معلوم نہ ہوں تو اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں بیان فرما دیئے جنہیں رسول اللہ ﷺ نے پڑھ کر سنا دیا۔ ان واقعات سے معلوم ہوگیا کہ سابقہ اقوام کی بربادی کا سبب ان کا کفر تھا اور ان کے اعمال بد تھے۔ اس رکوع میں اول تو یہ فرمایا کہ جس کسی بستی میں ہم نے نبی بھیجا وہاں کے رہنے والوں کو تنبیہ کرنے کے لیے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–93
بقیہ قصۂ شعیب (علیہ الصلوۃ والسلام)
قال الملآ الذین استکبروا من قومہ۔۔۔ الی۔۔۔ فکیف اسی علی قوم کفرین
شعیب (علیہ السلام) کے قوم کے متکبر سرداروں نے جواب دیا کہ اے شعیب ہمیں صبر کرنے کی اور فیصلہ کی انتظار کی ضرورت نہیں خدا تعالیٰ نے ہم کو تم پر غلبہ دیا ہے اور ہم کو تمہارے نکالنے کی قدرت دی ہے۔ اے شعیب یاد رکھو ہم تجھ کو اور جو تیرے ساتھ ایمان لائے ہیں ان کو اپنی بستی سے نکال کر رہیں گے یا یہ کہ تم ہمارے دین میں واپس آجاؤ۔ تو پھر ہم تم سے۔ کوئی تعرض نہ کریں گے یہ بات حضرت شعیب (علیہ السلام) کے ساتھیوں کے اعتبار سے ہے کہ جو شعیب (علیہ السلام) پر ایمان لانے سے پہلے کفر کے طریقہ پر تھے اور کفر…
Read the full tafseer →95: جب حضرت شعیب (علیہ السلام) اپنی قوم کے تمرد وعناد کو دیکھ کر ان کے ایمان سے مایوس ہوگئے اور قوم کی ایذاء رسانی انتہاء کو پہنچ گئی تو اب اللہ تعالیٰ سے آخری فیصلے کی دعاء مانگی۔ قال ابن عباس وکان شعیب کثیر الصلاۃ فلما۔۔۔ قومه فی کفرہم و غیظھم و یئس من صلاحھم دعا دلیھم فقال ربنا افتح الخ فاستجاب اللہ دعاء ہفاھلکہم بالرجفة (قرطبی ج 7 ص 251) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–93
تبلیغ رسالت کے سلسلہ میں اللہ تعالیٰ نے یہ پانچواں واقعہ حضرت شعیب (علیہ السلام) کا بیان فرمایا ہے گزشتہ درس میں آپ کی اپنی قوم کی طرف بعثت اور ان کو دعوت توحید پیش کرنے کا ذکر تھا حضرت شعیب (علیہ السلام) نے اپنی قوم کے سامنے ان کی خرابیوں کی نشاندہی کی اور ان سے منع فرمایا۔ قوم شعیب کی چیدہ چیدہ خامیاں ماپ تول میں کمی ، زمین میں فساد ، راستوں میں ڈاکے ڈالنا ، لوگوں کو ایذا پہنچانا۔ خدا کے راستے سے روکنا۔ پیغمبر اور دین حق کے خلاف غلط پراپیگنڈہ اور لوگوں کو متنفر کرنے کے لیے دین حق میں کجی تلاش کرنا تھیں آپ نے قوم کو اللہ تعالیٰ کی نعمتیں یاد دلائیں کہ اس نے تمہاری قلت تعداد کو کثرت میں تبدیل…
Read the full tafseer →قَدِ افْتَرَيْنَا عَلَي اللہِ كَذِبًا اِنْ عُدْنَا فِيْ مِلَّتِكُمْ بَعْدَ اِذْ نَجّٰىنَا اللہُ مِنْہَا 0 ۭ وَمَا يَكُوْنُ لَنَآ اَنْ نَّعُوْدَ فِيْہَآ اِلَّآ اَنْ يَّشَاۗءَ اللہُ رَبُّنَا 0 ۭ وَسِعَ رَبُّنَا كُلَّ شَيْءٍ عِلْمًا 0 ۭ عَلَي اللہِ تَوَكَّلْنَا 0 ۭ رَبَّنَا افْتَحْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ قَوْمِنَا بِالْحَقِّ وَاَنْتَ خَيْرُ الْفٰتِحِيْنَ 89
( قَدْ )
: حرف يختصّ بالفعل، والنّحويّون يقولون : هو للتّوقّع . وحقیقته أنه إذا دخل علی فعل ماض فإنما يدخل علی كلّ فعل متجدّد، نحو قوله : قَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَيْنا [يوسف/ 90]
وإذا دخل ( قَدْ ) علی المستقبَل من الفعل فذلک الفعل يكون في حالة…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–91
ترکیب : وان کان شرط فاصبروا جواب والذین ک مفعول پر معطوف۔ اولو کنا جملہ استفہام انکاری ان عدنا شرط قد افترینا جملہ دال برجزا بعد عدنا سے متعلق۔ الاستثناء منقطع یا متصل ای الاوقت مشیۃ اللہ اذا ان اور اس کی خبر میں متوسط جملہ جواب ان اتبعتم۔
تفسیر : حضرت پر جو لوگ ایمان لے آئے تھے پیشتر وہ غریب تھے اس لئے ایک روز وہاں کے سرداروں نے متفق ہو کر حضرت شعیب (علیہ السلام) سے کہا یا تو آپ مع اپنے متبعین کے پھر ہمارے مذہب و طریقہ کو اختیار کرلیں ورنہ ہمارے شہر سے نکل جائو (اگرچہ ابتدائِ عمر سے حضرت شعیب (علیہ السلام) ان کے ملت و مذہب بت پرستی کے شریک نہ تھے مگر نبوت اور منادی سے پہلے ان کو وہ اپنے مذہب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–89
قَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ اسْتَکْبَرُوْا مِنْ قَوْمِہٖ لَنُخْرِجَنَّکَ یٰشُعَیْبُ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَکَ مِنْ قَرْیَتِنَآ اَوْ لَتَعُوْدُنَّ فِیْ مِلَّتِنَا ط قَالَ اَوَلَوْ کُنَّا کٰرِھِیْنَ ۔ قَدِ افْتَرَیْنَا عَلَی اللہِ کَذِبًا اِنْ عُدْنَا فِیْ مِلَّتِکُمْ بَعْدَ اِذْ نَجّٰنَا اللہ ُ مِنْھَا ط وَمَا یَکُوْنُ لَنَآ اَنْ نَّعُوْدَ فِیْھَآ اِلَّآ اَنْ یَّشَآئَ اللہ ُ رَبُّنَا ط وَسِعَ رَبُّنَا کُلَّ شَیْئٍ عِلْمًا ط عَلَی اللہِ تَوَکَّلْنَا ط رَبَّنَا افْتَحْ بَیْنَنَا وَ بَیْنَ قَوْمِنَا بِالْحَقِّ وَ اَنْتَ خَیْرُ الْفٰتِحِیْنَ ۔ (الاعراف : 88، 89)
” اور اس کی قوم کے بڑوں نے ‘…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–93
فہم القرآن
ربط کلام : حضرت شعیب (علیہ السلام) اور ان کی قوم کے درمیان کشمکش کا ذکر جاری ہے۔
حضرت شعیب (علیہ السلام) اپنی موت تک قوم کو سمجھاتے رہے لیکن قوم نے نہ صرف ان کی باتوں کی طرف توجہ نہ دی بلکہ انہوں نے تشدد کا راستہ اختیار کیا اور اور کہنے لگے اے شعیب اب تیرے اور تیرے ساتھیوں کے لیے ایک ہی راستہ ہے اگر تم اپنی بات پر قائم رہنا چاہتے ہو تو اپنا کاروبار اور گھر بار ہمارے حوالے کرو اور یہاں سے نکل جاؤ۔ اگر تم اپنا کاروبار اور گھر بچانا چاہتے ہو تو پھر تمہیں ہر صورت ہمارے عقیدے کو ماننا پڑے گا۔ اس کے سوا ہمارا اور تمہارا اکٹھا رہنا مشکل ہے۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) نے فرمایا کیا ہم کفر و…
Read the full tafseer →شعیب ( علیہ السلام) کی جوابی تقریر :
آیت 89: پھر ان کو شعیب ( علیہ السلام) نے فرمایا قَدِافْتَرَیْنَا عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا اِنْ عُدْنَا فِیْ مِلَّتِکُمْ (ہم تو اللہ تعالیٰ پر بڑی جھوٹی تہمت لگانے والے ہوجاویں اگر ہم تمہارے مذہب میں آجائیں) یہ قسم ہے تقدیر عبارت یہ ہے واللّٰہ لقد افترینا علی اللّٰہ کذبا ان عد نافی ملتکم۔ اللہ کی قسم ہم نے اس وقت اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھا اگر ہم تمہاری ملت کی طرف لوٹ کر گئے۔ بَعْدَ اِذْ نَجّٰنَا اللّٰہُ مِنْھَا (اس کے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے ہم کو اس سے نجات دی ہو) ہمیں اللہ تعالیٰ نے چھٹکارا دیا۔
سوال : ان عدنا فی ملتکم شعیب ( علیہ السلام) نے کس طرح کہہ دیا۔…
Read the full tafseer →89(قد اقترینا علی اللہ کذباً ان عدنا فی ملتکم بعد اذنجنا اللہ منھا ط وما یکون لنا ان نعوذ فیھا ) اللہ تعالیٰ کے اس سے نجات دینے کے بعد (الا ان یشآء اللہ ربنا) یعنی اگر اللہ تعالیٰ کے علم اور مشیت میں یہ بات ہے کہ ہم واپسی اسی پر لوٹ جائیں گے تو اس صورت میں اللہ کی قضاء ہم پر جاری ہوگی۔ یہاں پر یہ اعتراض ہوسکتا ہے کہ انہوں نے شعیب (علیہ السلام) کو دعوت دی کہ ہمارے دین میں واپس لوٹ آئیں اور شعیب (علیہ السلام) نے بھی یہی کیا کہ ہم اس دین پر نہیں لوٹ سکتے حالانکہ شعیب ع لیہ السلام تو کبھی بھی ان کے دین پر نہ تھے تو اس قول کا کیا مطلب ہوا ؟ جواب یہے کہ آیت میں عود کا لفظ دخول کے معنی میں ہے یعنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–93
(85 ۔ 93) ۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) کی امت میں مفسروں کا اختلاف ہے بعضے کہتے ہیں کہ حضرت شعیب ( علیہ السلام) کی روایتوں میں اور سوا حضرت شعیب ( علیہ السلام) کے اور کوئی نبی دو امتوں کی ہدایت کے لئے نہیں بھیجا گیا ایک امت ان کی یہ قبیلہ ہے جس کا نام مدین ہے اور حضرت شعیب ( علیہ السلام) بھی اسی قبیلہ میں کے ہی اسی واسطے اللہ تعالیٰ نے حضرت شعیب ( علیہ السلام) کو اس قبیلہ کا بھائی فرمایا ہے اور دوسری امت بن کے رہنے والے لوگ ہیں جن سورة شعراء میں اصحاب الایکہ فرمایا ہے اور بعضے مفسر کنویں والے لوگوں کو بھی جن کو سورة فرقان اور سورة قاف میں اصحاب الرس فرمایا ہے ان کی ہی امت میں شمار کر کے یوں کہتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–94
آیت 88
(قال الملا الذین استکبروا من قومہ) ” کہا ان سرداروں نے جو متکبر تھے اس کی قوم میں سے “ اس سے مرادان کے اشراف اور بڑے آدمی ہیں جنہوں ن اپنی لذات میں مستغرق ہو کر اپنی خواہشات نفس کی پیروی کی، جب ان کے پاس حق آیا اور انہوں نے دیکھ لیا کہ حق ان کی خواہشات نفس کے خلاف ہے تو انہوں نے نہایت تکبر سے حق کو ٹھکرا دیا اور اپنے نبی شعیب اور ان مستضعفین سے کہنے لگے جو حضرت شعیب کے ساتھ تھے۔ (لنخرجنک یشعیب والذین امنوا معک من قریتنا اولتعودن فی ملتنا) ” ہم ضرور نکال دیں گے اے شعیب تجھ کو اور ان کو جو تیرے ساتھ ایمان لائے اپنے شہر سے، یا یہ کہ تم لوٹ آؤ اپنے دین میں “ انہوں نے حق کے خلاف بہیمانہ قوت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–141
دعا کا طریقہ
قول باری ہے وادعواربکم تضرعاً عاوخفیۃ۔ اپنے رب کو پکارو گڑگڑاتے ہوئے اور چپکے چپکے) آیت میں چپکے چپکے رب کو پکارنے کا حکم ہے حسن کا قول ہے کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے تمہیں اس بات کی تعلیم دی ہے کہ تم اپنے رب کو کس طرح پکارو۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک عہد صالح کا ذکر فرمایا جس کی پکار کو اس نے پسند فرمایا تھا چناچہ ارشاد ہے اذنادی ربہ نداء خفیا۔ جبکہ اس نے اپنے رب کو چپکے چپکے پکارا) یعنی حضرت زکریاعلیہ السلام عبداللہ بن المبارک نے حسن بصری سے روایت کی ہے کہ لوگ یعنی صحابہ کرام بڑی عاجزی اور نیاز مندی کے ساتھ دعائیں مانگا کرتے تھے اور صرف سرگوشی کی آواز سنائی دیتی تھی۔ حضرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–91
123 صبر و ثبات کی تعلیم و تلقین : سو اس ارشاد سے ضدی اور ہٹ دھرم لوگوں کے مقابلے میں صبر و برداشت سے کام لینے کی ہدایت و تلقین فرمائی گئی کہ جن کے اندر خیر و صلاح کی کوئی رمق موجود ہو وہ ایمان لے آئیں۔ اور جو اس سے محروم ہوں وہ اپنے آخری انجام کو پہنچ جائیں۔ پس ایمان امن و سلامتی کا باعث وضامن ہے اور کفر ہلاکت و تباہی کا سبب ۔ والعیاذ باللہ ۔ پس ضدی اور ہٹ دھرم لوگوں کے مقابلے میں صبر و برداشت سے کام لینے ہی میں سلامتی و عافیت ہے۔ بہرکیف حضرت شعیب نے ان سے فرمایا کہ اگر ایک گروہ نے میری دعوت کو قبول نہیں کیا اور وہ لوگ مجھ پر ایمان نہیں لائے تو تم صبر و برداشت اور ثبات و استقامت ہی سے کام لو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–102
سیدنا شعیب (علیہ السلام) کی قوم پر عذاب الٰہی
تشریح : مدین کی قوم پچھلی قوموں، یعنی قوم نوح، عاد، ثمود، اور قوم لوط کی طرح اخلاقی، مذہبی اور تعلیمی لحاظ سے بالکل بگڑ چکی تھی۔ سیدنا شعیب (علیہ السلام) نے اللہ کے حکم سے ان کو راہ راست پر لانے کی ذمہ داری اٹھائی، یہ واقعہ یہاں صرف اس لیے بیان کیا گیا کہچو ن کہ یہ سورت مکہ میں نازل ہوئی اور اس وقت اہل مکہ کا حال بھی کچھ ایسا ہی تھا تو لوگوں کو عبرت دلانے کے لیے ان کو ان تمام قوموں کے حالات اور انجام بتایا گیا کہ عرب لوگ سبق سیکھیں اور راہ ہدایت اختیار کریں۔ اہل مدین اس وقت شرک، بد دیانتی، جھوٹ فریب، ظلم، قتل و فساد غیر اخلاقی وکردار کی انتہائی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–93
رکوع نمبر 11 ۔ آیات 88 تا 93:
اسرار و معارف :
یہاں پھر وہی نتائج سامنے آئے کہ متکبرین کی جماعت جو اپنی خواہشات کو تقدس کا لبادہ اوڑھائے ہوئے تھی برداشت نہ کرسکی اور کہا میاں شعیب سیدھے سیدھے واپس ہمارے مذہب پر آجاؤ ورنہ تمہیں بھی اور تمہارے ساتھ تم پر ایمان لانے والوں کو بھی شہر سے نکال دیا جائے گا انہوں نے فرمایا عجیب بات ہے۔
رسومات کی برائی :
کبھی مذہب بھی مسلط کیا جاسکتا ہے بھئی ہم نے اسے گمراہی سمجھ کر چھوڑا اور اس پر دلائل ہیں پھر اب تو ہمارے دل کی ایک کیفیت بن چکی ہے کہ وہ کفر سے نفرت کرتا ہے بھلا تم زبردستی کیسے کرسکتے ہو حضرت شعیب (علیہ السلام) تو نبی تھے جن سے کبھی کفر کا ارتکاب ہی…
Read the full tafseer →ف 3 پھر بھی ہم تمہارے دین میں لوٹ آئیں گے ؟ حضرت شعیب ( علیہ السلام) ج کا یہ سوال انکار کے لیے ہے یعنی جب دلائل وبرہیم کی روشنی میں ہم تمہارے دین کو باطل سمجھتے ہوئے اس سے بیز ارہو چکے ہیں تو اسے دوبارہ اختیار کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔3 یہ ان کی بات کا دوسر اجواب ہے جس میں تصریح کردی ہے کہ ہم ایسا نہیں کرسکتے مطلب یہ ہے کہ اگر ہم تمہارے دین میں آجائیں تو ان کا صاف مطلب یہ ہوگا کہ اب تک جو ہم نبوت کا دعویٰ کرتے تھے اور تمہیں اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دے رہے تھے وہ سب جھوٹ اور اللہ تعالیٰ پر بہتان تھا۔ یہاں بھی بعد اذ نجانا اللہ کہنا یا تو ان مومنوں کے اعتبار سے ہے جو حضرت شعیب ( علیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 89–91
(7:89) افترینا۔ افتراء سے ماضی جمع متکلم۔ ہم نے بہتان باندھا۔
قد افترینا ۔۔ منھا۔ تقدیر کلام یوں ہے ان عدنا فی ملتکم بعد اذ بجنا اللہ منھا قد افترینا علی اللہ کذبا۔ باوجود اس کے کہ اللہ نے ہمیں اس (تمہارے دین) سے ہمیں نجات بخشی ہے اگر ہم تمہارے دین کی طرف لوٹتے ہیں تو ہماری طرف سے یہ اللہ تعالیٰ پر صریحاً جھوٹا بہتان ہوگا۔
وما یکون لنا۔ اور نہیں ہے (کوئی وجہ) ہمارے لئے۔
فیہا میں ھا ضمیر واحد مؤنث غائب ملت مشرکین کی طرف راجع ہے۔
الا ان یشاء اللہ ربنا۔ یعنی ماسوائے اس کے کہ مشیت ایزدی ہی یہی ہو اور یہ ہمارا مقدر ہوچکا ہو۔
وسع ربنا کل شیء علما۔ تمیز اس کا علم ہر شے کو محیط ہے۔
افتح۔ امر۔ واحد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–93
لغات القرآن آیت نمبر (88 تا 93 ) ۔
لنخرجنک (البتہ ہم تجھے ضرور نکال دیں گے) ۔ من قریتنا (اپنی بستی سے) ۔ لتعو دن (البتہ تمہیں پلٹ کر آنا ہوگا۔ ) ۔ فی ملتنا (ہمارے دین میں) ۔ اولو کنا (کیا اور اگر ہم ہوں) ۔ کارھین (برا سمجھنے والے) ۔ ان عدنا (اگر ہم پلٹ گئے) ۔ تو کلنا (ہم نے بھروسہ کرلیا) ۔ افتح (کھول دے) ۔
تشریح : آیت نمبر (88 تا 93 ) ۔ ” یہ ہے دو نظریات کا ٹکراؤ ۔ یہ صورت حال صرف اہل مدین کے ساتھ نہیں۔ ہر دور اور ہر علاقہ اس آئینہ میں اپنی تصویر دیکھ سکتا ہے ورنہ اس کا اندراج قرآن کریم میں نہ ہوتا۔
اہل کفر وشرک بےایمانی کے وکیل بن کر کہہ رہے تھے کہ اس کے بغیر ہماری تجارت معاملات تہذیب و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 89–94
مشرکوں کو ہدایت
اس ذکر سے یہ مطلب ہے کہ کفار قریش پچھلی امتوں کی بربادی کا حال سن کر آنحضرت ﷺ کے جھٹلانے سے اور کفر سے باز آویں اور خدا سے ڈریں۔ اس لئے فرمایا کہ پچھلی امتوں میں رسول جو اللہ تعالیٰ نے بھیجے تو ایسی حالت میں کہ وہ لوگ طرح طرح کی مصیبتوں میں گرفتار تھے۔ یہ ان کی جانچ تھی کہ دیکھیں وہ اس حالت میں گڑگڑاتے اور خدا کی طرف رجوع ہوتے ہیں یا نہیں۔ مگر وہ اس حالت میں بھی اسی کفر اور گمراہی میں پڑے رہے۔ آخر اللہ تعالیٰ نے ان کی مصیبتوں کو دور کردیا ار تندرست بنادیا اور مالدار کردیا کہ شاید اس حالت میں رہ کر اللہ تعالیٰ کا شکر بجا لاویں مگر وہ گمراہ ازلی تھے۔ یہ کہنے لگے کہ تکلیف کی گھڑی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 86–102
[41] یعنی یہ لوگ مبتلائے مصیبت ہو کر ایمان لانے کا عہد کرتے اور کہتے کہ اگر ہمیں اس سے نجات مل گئی تو ہم ضرور ایمان لائیں گے پھر جب نجات پاتے تو عہد سے پھرجاتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–92
آخری فیصلہ :
(ف 1) حضرت شعیب (علیہ السلام) کی نصیحتوں کو ٹھکرا دیا گیا ، اور صاف صاف کہہ دیا گیا ، اگر آپ ہماری خیانتوں اور بددیانتیوں کی تائید نہیں کریں گے تو ہم اپنی بستی سے تمہیں نکال باہر کریں گے گویا برائیوں سے روکنا برائی ہے ، اور ایسا گناہ ہے جو ناقابل عفو اور شائستہ تعزیر ہے ۔
حضرت شعیب (علیہ السلام) نے فرمایا یہ ہرگز نہیں ہونے کا کہ ہم تمہارے مسلک کو قبول کرلیں ، اور دعوت حق سے روگردانی کرلیں ، اس کا مطلب یہ ہے ، کہ ہم نے معاذ اللہ ، اللہ پر افتراء کیا ہے ، کیا تم سمجھتے ہو ، ہم پھر اس گمراہی میں آپھنسیں گے جبکہ اللہ تعالیٰ نے کمال عنایت سے ہمیں نجات دی ہے ،
غرض یہ ہے کہ انبیاء…
Read the full tafseer →89 اگر ہم تمہارے مذہب میں آجائیں اور پھر رسوم کفر یہ کا ارتکاب کرنے لگیں بعد اس کے کہ اللہ تعالیٰ نے ہم کو اس ملت باطلہ سے نجات دی ہے تو یقیناً ہم اللہ تعالیٰ پر جھوٹ بہتان باندھنے والے اور جھوٹا طوفان اٹھانے والے ہوں گے اور ہم خدا پر افترا کریں گے اور ہمارے لئے یہ ممکن نہیں اور ہم کو ہرگز یہ زیبا نہیں کہ ہم اس ملت باطلہ میں واپس آئیں مگر اللہ تعالیٰ جو ہمارا پروردگار اور مالک ہے اسی کو ہمارا مرتد ہونا منظور ہو اور اسی کی مصلحت کا تقاضہ ہو تو بات دوسری ہے ہمارے پروردگار کے علم نے ہر چیز کا احاطہ کررکھا ہے اور ہمارے پروردگار کا علم ہر شئے سے وسیع ہے ہم نے اللہ تعالیٰ ہی پر بھروسہ کررکھا ہے اے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 89–92
ف 4۔ اس سے یہ شبہ نہ کیا جائے کہ ان کو اپنے خاتمہ بالخیر کا یقین نہ تھا انبیاء کو یقین دلایا جاتا ہے مقصود اظہار عجز اور تفویض الی المالک ہے جو کہ لوازم نبوت سے ہے۔
Read the full tafseer →شعیب (علیہ السلام) نے سردارن قوم کا جواب سن کر فرمایا :
100: شعیب (علیہ السلام) نے سردارن قوم کا جواب سن کر فرمایا کہ اب جبکہ اللہ تعالیٰ نے ہم کو تمہارے اس دین سے نجات دے دی ہے تو پھر ہم اس کی طرف لوٹ جائیں تو اس کا مطلب تو یہ ہوگا کہ ہم نے جھوٹ بول کر اللہ تعالیٰ پر بہتان باندھا اور یہ ناممکن ہے ، ہاں ! اللہ کی جو کہ ہمارا پروردگار ہے یہی مرضی ہو تو وہ جو چاہے گا کرے گا ہمارے رب کا علم تمام اشیاء پر چھایا ہوا ہے ، ہمارا تو صرف اسی پر بھروسہ ہے اس نے ہماری اس راہ کی طرف راہنمائی فرمائی ہے اور اس سے یہ امید ہے کہ وہ ہمیں ٹھکانے لگائے گا۔ پس ہماری اس سے یہ دعا ہے کہ اے پروردگار ! تو ہمارے اور…
Read the full tafseer →In the second verse (89), Sayyidna Shu'aib (علیہ السلام) said to his people:
Allah Ta` ala saved us from your false faith. Now if we were to return to your faith, this would amount to a false and grim accusation by us against Allah Ta` ala.
First of all giving Kufr and Shirk the status of faith by itself means that they have been commanded by Allah Ta` ala - which is forging a lie against Him. In addition to that, after having believed in the revealed Truth ('Iman) and after having its knowledge and insight, a return to Kufr (disbelief) would amount to saying that the first way was false and…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 86–89
73. This phrase signifies substantively what is meant by the commonly used Islamic formula In-sha' Allah ('If Allah so wills'). Its meaning is evident from al-Kahf 18: 23-4, in which the believers are directed not to make definitive statements about what they will do without making such actions contingent on God's will. This is understandable since a believer firmly believes in God's power and is ever conscious that his destiny is inalienably tied to God's will. It is impossible for such a person to make foolish statements about what he will do and what he will not do. He is bound to make it…
Read the full tafseer →