Al-A'raaf 7:88

Al-A'raaf · from ayah 88

7:88

قَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ لَنُخْرِجَنَّكَ یٰشُعَیْبُ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَكَ مِنْ قَرْیَتِنَاۤ اَوْ لَتَعُوْدُنَّ فِیْ مِلَّتِنَا ؕ— قَالَ اَوَلَوْ كُنَّا كٰرِهِیْنَ ۟۫قَالَ الۡمَلَاُ الَّذِيۡنَ اسۡتَكۡبَرُوۡا مِنۡ قَوۡمِهٖ لَـنُخۡرِجَنَّكَ يٰشُعَيۡبُ وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مَعَكَ مِنۡ قَرۡيَتِنَاۤ اَوۡ لَـتَعُوۡدُنَّ فِىۡ مِلَّتِنَا‌ ؕ قَالَ اَوَلَوۡ كُنَّا كٰرِهِيْنَ

(تو) ان کی قوم میں جو لوگ سردار اور بڑے آدمی تھے، وہ کہنے لگے کہ شعیب! (یا تو) ہم تم کو اور جو لوگ تمہارے ساتھ ایمان لائے ہیں، ان کو اپنے شہر سے نکال دیں گے۔ یا تم ہمارے مذہب میں آجاؤ۔ انہوں نے کہا خواہ ہم (تمہارے دین سے) بیزار ہی ہوں (تو بھی؟)

— Fateh Muhammad Jalandhari

Said the eminent ones who were arrogant among his people, "We will surely evict you, O Shu'ayb, and those who have believed with you from our city, or you must return to our religion." He said, "Even if we were unwilling?"

— Saheeh International

Juz 9 · Ruku 11 of surah · Ruku 1 of juz

Read the whole surah · Surah Al-A'raaf

All translations of 7:88

اس کی قوم کے سرداروں نے، جو اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں مبتلا تھے، ا س سے کہا کہ "اے شعیبؑ، ہم تجھے اور اُن لوگوں کو جو تیرے ساتھ ایمان لائے ہیں اپنی بستی سے نکال دیں گے ورنہ تم لوگوں کو ہماری ملت میں واپس آنا ہوگا" شعیبؑ نے جواب دیا "کیا زبردستی ہمیں پھیرا جائے گا خواہ ہم راضی نہ ہوں؟

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

(تو) ان کی قوم میں جو لوگ سردار اور بڑے آدمی تھے، وہ کہنے لگے کہ شعیب! (یا تو) ہم تم کو اور جو لوگ تمہارے ساتھ ایمان لائے ہیں، ان کو اپنے شہر سے نکال دیں گے۔ یا تم ہمارے مذہب میں آجاؤ۔ انہوں نے کہا خواہ ہم (تمہارے دین سے) بیزار ہی ہوں (تو بھی؟)

— مولانا فتح محمد جالندہری

ان کی قوم کے متکبر سرداروں نے کہا کہ اے شعیب! ہم آپ کو اور جو آپ کے ہمراه ایمان والے ہیں ان کو اپنی بستی سے نکال دیں گے الّا یہ کہ تم ہمارے مذہب میں پھر آجاؤ۔ شعیب ؑ نے جواب دیا کہ کیا ہم تمہارے مذہب میں آجائیں گو ہم اس کو مکروه ہی سمجھتے ہوں

— مولانا محمد جوناگڑہی

ان کی قوم کے سردار جو بڑائی کے گھمنڈ میں تھے، کہنے لگے : اے شعیب ! ہم نے پکا ارادہ کرلیا ہے کہ ہم تمہیں اور تمہارے ساتھ تمام ایمان والوں کو اپنی بستی سے نکال باہر کریں گے، ورنہ تم سب کو ہمارے دین میں واپس آنا پڑے گا۔ شعیب نے کہا : اچھا ؟ اگر ہم (تمہارے دین سے) نفرت کرتے ہوں، تب بھی ؟

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اس کی قوم کے متکبر سردار بولے، اے شعیب قسم ہے کہ ہم تمہیں اور تمہارے ساتھ والے مسلمانوں کو اپنی بستی سے نکا ل دیں گے یا تم ہمارے دین میں ا ٓجا ؤ کہا کیا اگرچہ ہم بیزار ہوں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

ان کی قوم کے سرداروں اور رئیسوں نے جو سرکش و متکبر تھے کہا: اے شعیب! ہم تمہیں اور ان لوگوں کو جو تمہاری معیت میں ایمان لائے ہیں اپنی بستی سے بہر صورت نکال دیں گے یا تمہیں ضرور ہمارے مذہب میں پلٹ آنا ہوگا۔ شعیب ؑ نے کہا: اگرچہ ہم (تمہارے مذہب میں پلٹنے سے) بے زار ہی ہوں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اس کی قوم میں سے ان سرداروں نے کہا جو بڑے بنے ہوئے تھے، اے شعیب ! ہم تجھے اور ان لوگوں کو جو تیرے ہمراہ ایمان لائے ہیں، اپنی بستی سے ضرور ہی نکال دیں گے، یا ہر صورت تم ہمارے دین میں واپس آؤ گے۔ اس نے کہا اور کیا اگرچہ ہم ناپسند کرنے والے ہوں ؟

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اس قوم کے متکبر سرداروں نے کہا : شعیب ! ہم تجھے اور ان لوگوں کو جو تیرے ساتھ ایمان لائے ہیں اپنی بستی سے نکال دیں گے یا پھر تمہیں ہمارے دین میں واپس آنا ہوگا شعیب ؑ نے کہا : خواہ ہم اسے ناپسند کرتے ہوں تو بھی ؟

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور اس کی قوم کے بڑوں نے، جنہوں نے تکبر کیا، کہا کہ اے شعیب، ہم تم کو اور جو تمہارے ساتھ ایمان لائے ہیں ان کو اپنی بستی سے نکال کے رہیں گے یا تم ہماری ملت میں پھر آجاؤ۔ اس نے کہا کیا جب کہ ہم اس سے نفرت کرتے ہوں تب بھی !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

آپ کی قوم کے ان سرداروں نے جو کہ اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں مبتلا تھے، جواب میں کہا اے شعیب ہم نکال باہر کریں گے اپنی بستی سے تم کو بھی، اور ان سب کو بھی جو ایمان لے آئے تمہارے ساتھ، الآیہ کہ تم لوگ لوٹ آؤ ہمارے دین میں، شعیب نے فرمایا اگرچہ ہم اس کو ناپسند کرتے ہوں ؟

— مولانا اسحاق مدنی

ان کی قوم کے متکبر رودار لوگ بولے کہ اے شعیب ؑ ہم تم کو اور جو لوگ تمہارے ساتھ ایمان لائے ہیں ان کو اپنی بستی سے نکال کر رہیں گے۔ یا یہ کہ تم ہمارے مذہب میں پھر آجاؤ (شعیب ؑ نے) کہا کہ اگرچہ ہم (اس سے) بیزار ہی ہوں ؟ ۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

) کہا اس ؑ کی قوم کے ان سرداروں نے جنہوں نے تکبر کی روش اختیار کی کہ اے شعیب ! ہم تجھے اور جو تیرے ساتھ ایمان لائے ہیں انہیں اپنی بستی سے نکال باہر کریں گے یا تم واپس آجاؤ ہماری ملت میں (حضرت شعیب ؑ نے) فرمایا : کیا اگر ہمیں (یہ سب کچھ) ناپسند ہو تب بھی ؟

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

ترجمہ ـ: تو ان کی قوم کے سردار اور بڑے لوگ کہنے لگے کہ اے شعیب ! یا تو ہم تمہیں اور تمہارے ساتھیوں کو اپنے شہر سے نکال دیں گے یا تم ہمارا مذہب قبول کرلو۔ انہوں نے کہا کہ خواہ ہم تمہارے دین سے بیزار ہوں تب بھی۔

— محترمہ رفعت اعجاز

The haughty elders of his people said: 'O Shu'ayb! We shall certainly banish you and your companions-in-faith from our town, or else you shall return to our faith.' Shu'ayb said: 'What! Even though we abhor [your faith]?

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

The chiefs of his people, who were arrogant, said, :O Shu'aib, we will expel you and those who believe with you from our town, or you shall have to turn to our faith. He said, :Even if we hate it?

— Muhammad Taqi Usmani

The chiefs of his people, who were arrogant, said, :O Shuaib, we will expel you and those who believe with you from our town, or you shall have to turn to our faith. He said, :Even if we hate it?

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

The chiefs of those who were arrogant among his people said: "We shall certainly drive you out, O Shu`ayb and those who have believed with you from our town, or else you (all) shall return to our religion." He said: "Even though we hate it"

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

The chieftains of his people, who were scornful, said: Surely we will drive thee out, O Shu'eyb, and those who believe with thee, from our township, unless ye return to our religion. He said: Even though we hate it?

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Said the eminent ones who were arrogant among his people, "We will surely evict you, O Shu'ayb, and those who have believed with you from our city, or you must return to our religion." He said, "Even if we were unwilling?"

— Saheeh International

A proud group among Shu'ayb's people said, "We must expel you (Shu'ayb) and your followers from our town unless you give-up your faith and live as our own people." Shu'ayb asked them, "Will you use force against us?

— Muhammad Sarwar

The chiefs, those who were proud from among his people said: We will most certainly turn you out, O Shu'aib, and (also; those who believe with you, from our town, or you shall come back to our faith. He said: What! though we dislike (it)?

— Muhammad Habib Shakir

The chiefs of those who were stiff-necked amongst his people said: surely we shall drive you forth, Shu'aib! and those who have believed with thee from our city, or else ye shall return unto our faith. He said: what! even though we be averse!

— Abdul Majid Daryabadi

The leaders, the arrogant party among his people, said: "O Shu'aib! we shall certainly drive thee out of our city - (thee) and those who believe with thee; or else ye (thou and they) shall have to return to our ways and religion." He said: "What! even though we do detest (them)?

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 7:88

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 88–89

شعیب ؑ کی قوم نے اپنی بربادی کو آواز دی حضرت شعیب ؑ کی قوم نے آپ کی تمام نصیحتیں سن کر جو جواب دیا اس کا ذکر کیا جا رہا ہے ہوا یہ کہ دلیلوں سے ہار کر یہ لوگ اپنی قوت جتانے پر اتر آئے اور کہنے لگے اب تجھے اور تیرے ساتھیوں کو ہم دو باتوں میں سے ایک کا اختیار دیتے ہیں یا تو جلا وطنی قبول کر یا ہمارے مذہب میں آجاؤ۔ جس پر آپ نے فرمایا کہ ہم تو دل سے تمہارے ان مشرکانہ کاموں سے بیزار ہیں۔ انہیں سخت ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ پھر تمہارے اس دباؤ اور اس خواہش کے کیا معنی ؟ اگر اللہ کرے ہم پھر سے تمہارے کفر میں شامل ہوجائیں تو ہم سے بڑھ کر گناہگار کون ہوگا ؟ اس کے تو صاف معنی یہ ہیں کہ ہم نے دو…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 86–89

سورة الْاَعْرَاف 73 یہ فقرہ اسی معنی میں ہے جس میں انشاء اللہ کا لفظ بولا جاتا ہے، اور جس کے متعلق سورة کہف (آیات 23۔ 24) میں ارشاد ہوا ہے کہ کسی چیز کے متعلق دعوے کے ساتھ یہ نہ کہہ دیا کرو کہ میں ایسا کروں گا بلکہ اس طرح کہا کرو کہ اگر اللہ چاہے گا تو ایسا کروں گا۔ اس لیے کہ مومن، جو اللہ تعالیٰ کی سلطانی و بادشاہی کا اور اپنی بندگی و تابعیت کا ٹھیک ٹھیک ادراک رکھتا ہے، کبھی اپنے بل بوتے پر یہ دعویٰ نہیں کرسکتا کہ میں فلاں بات کر کے رہوں گا یا فلاں حرکت ہرگز نہ کروں گا، بلکہ وہ جب کہے گا تو یوں کہے گا کہ میرا ارادہ ایسا کرنے کا یا نہ کرنے کا ہے لیکن میرے اس ارادے کا پورا ہونا میرے مالک کی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

خلاصہ تفسیر ان کی قوم کے متکبر سرداروں نے (جو یہ باتیں سنی تو انہوں نے گستاخانہ) کہا کہ اے شعیب (یاد رکھئے) ہم آپ کو اور آپ کے ہمراہ جو ایمان والے ہیں ان کو اپنی بستی سے نکال دیں گے یا یہ ہو کہ تم ہمارے مذہب میں پھر آجاؤ (تو البتہ ہم کچھ نہ کہیں گے۔ یہ بات مومنین کے لئے اس لئے کہی کہ وہ لوگ قبل ایمان کے اسی طریق کفر پر تھے لیکن شعیب ؑ کے حق میں باوجود اس کے کہ انبیاء سے کبھی کفر صادر نہیں ہوتا اس لئے کہی کہ ان کے سکوت قبل بعثت سے وہ یہ ہی سمجھتے تھے کہ ان کا اعتقاد بھی ہم جیسا ہوگا) شعیب ؑ نے جواب دیا کہ کیا ہم تمہارے مذہب میں آجائیں گے گو ہم (بدلیل و بصیرت) اس کو مکروہ (اور قابل نفرت) ہی…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

قَالَ الْمَلَاُ الَّذِيْنَ الایہ۔ یہ قوم کے مستکبرین کی طرف سے حضرت شعیب اور ان کے ساتھیوں کو آخری دھمکی ہے کہ یا تو تم ہماری ملت میں واپس آجاؤ ورنہ ہم تم کو اور تمہارے ساتھیوں کو اپنی بستی سے نکال چھوریں گے۔ اس پر حضرت شعیب ؑ نے فرایا اَوَلَوْ كُنَّا كٰرِهِيْنَ ، یعنی کیا تم اپنی ملت میں لوٹنے پر ہماری خواہش اور ارادہ کے علی الرغم ہمیں مجبور کرو گے ؟ حضرت شعیب ؑ کے اس ارشاد سے یہ بات صاف نمایاں ہے کہ انہوں نے وطن سے نکالے جانے کی دھمکی کو تو یک قلم نظر انداز کردیا لیکن ان کی دوسری دھمکی کا نوٹس لیا اور اس کا جواب بڑے واضح اور قطعی لفظوں میں دیا جس کی تفصیل آگے والی آیت میں ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

88۔ 1 ان سرداروں کے تکبر اور سرکشی کا اندازہ کیجئے کہ انہوں نے ایمان اور توحید کی دعوت کو ہی رد نہیں کیا بلکہ اس سے بھی تجاوز کرکے اللہ کے پیغمبر اور اس پر ایمان لانے والوں کو دھمکی دی یا تو اپنے آبائی مذہب میں واپس آجاؤ نہیں تو ہم تمہیں یہاں سے نکال دیں گے۔ اہل ایمان کے لئے اپنے سابق مذہب کی طرف واپسی کی بات تو قابل فہم ہے کیونکہ انہوں نے کفر چھوڑ کر ایمان اختیار کیا تھا۔ لیکن حضرت شعیب ؑ کو بھی ملت ابائی کی طرف لوٹنے کی دعوت اس لحاظ سے تھی کہ وہ انہیں بھی نبوت اور تبلیغ ودعوت سے پہلے اپنا مذہب ہی سمجھتے تھے کو حقیقتا ایسا نہ ہو۔ یا بطور تغلیب انہیں بھی شامل کرلیا ہو۔ (2) یہ سوال مقدر کا…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 87–88

45: یہ درحقیقت ان کی ایک بات کا جواب ہے، وہ کہتے تھے کہ ہمیں تو مومنوں اور کافروں میں کوئی فرق نظر نہیں آتا، جو لوگ ایمان نہیں لائے وہ بھی خوش حالی کی زندگی بسر کررہے ہیں اگر ان کا طریقہ اللہ کو پسند نہ ہوتا تو انہیں یہ خوش حالی کیوں نصیب ہوتی ؟ جواب یہ دیا گیا ہے کہ اس وقت کی خوش حالی سے یہ دھوکا نہ کھانا چاہیے کہ صورت حال ہمیشہ ایسی ہی رہے گی، ابھی اللہ تعالیٰ کے فیصلے کا انتظار کرو۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 88–89

آیت ” قَالَ أَوَلَوْ کُنَّا کَارِہِیْنَ (88) قَدِ افْتَرَیْْنَا عَلَی اللّہِ کَذِباً إِنْ عُدْنَا فِیْ مِلَّتِکُم بَعْدَ إِذْ نَجَّانَا اللّہُ مِنْہَا وَمَا یَکُونُ لَنَا أَن نَّعُودَ فِیْہَا إِلاَّ أَن یَشَاء َ اللّہُ رَبُّنَا وَسِعَ رَبُّنَا کُلَّ شَیْْء ٍ عِلْماً عَلَی اللّہِ تَوَکَّلْنَا رَبَّنَا افْتَحْ بَیْْنَنَا وَبَیْْنَ قَوْمِنَا بِالْحَقِّ وَأَنتَ خَیْْرُ الْفَاتِحِیْنَ (89) ” شعیب (علیہ السلام) نے جواب دیا ” کیا زبردستی ہمیں پھیرا جائے گا خواہ ہم راضی نہ ہوں ۔ ہم اللہ پر جھوٹ گھڑنے والے ہوں گے اگر تمہاری ملت میں پلٹ آئیں جبکہ اللہ ہمیں اس سے نجات دے چکا ہے ہمارے لئے تو اس طرف…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

1 " عود " کے معنی کسی چیز سے نکل کر اس کی طرف جانے کے ہیں۔ حضرت شعیب کے ساتھیوں کی نسبت تو یہ لفظ حقیقتہ صادق ہوسکتا ہے۔ کیونکہ وہ لوگ کفر سے نکل کر اسلام میں داخل ہوئے تھے۔ باقی خود حضرت شعیب (علیہ السلام) کی نسبت تصور نہیں ہوسکتا کہ وہ پہلے (معاذ اللہ) ملت کفار میں داخل تھے پھر مسلمان ہوئے۔ لامحالہ یا تو ان کے اعتبار سے یہ خطاب تغلیبا ہوگا۔ یعنی عام کے حق میں جو الفاظ استعمال ہوئے اکثریت غالبہ کو مرجح سمجھ کر حضرت شعیب کے لیے علیحدہ الفاظ اختیار نہیں کیے۔ اور یا یہ لفظ ان کے حق میں کفار سے زعم کے موافق کہا گیا۔ کیونکہ بعثت سے پہلے جب تک حضرت شعیب نے دعوت و تبلیغ شروع نہ کی تھی اہل مدین کی…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 88 قَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ اسْتَکْبَرُوْا مِنْ قَوْمِہٖ لَنُخْرِجَنَّکَ یٰشُعَیْبُ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَکَ مِنْ قَرْیَتِنَآ اَوْ لَتَعُوْدُنَّ فِیْ مِلَّتِنَاط قَالَ اَوَلَوْ کُنَّا کٰرِہِیْنَ حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم کے متکبر سرداروں نے آپ علیہ السلام اور آپ علیہ السلام کے ماننے والوں سے کہا کہ اگر تم لوگ ہمارے ہاں امن اور چین سے رہنا چاہتے ہو تو تمہیں ہمارے ہی طور طریقوں اور رسم و رواج کو اپنانا ہوگا ‘ بصورت دیگر ہم تم لوگوں کو اپنی بستی سے نکال باہر کریں گے۔ حضرت شعیب علیہ السلام نے فرمایا کہ کیا تم لوگ زبردستی ہمیں اپنی ملت میں واپس پھیر لو گے جبکہ ہم تو ان طور طریقوں سے…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

93 سرداران قوم کی دھمکی :۔ جب متکبر سرداروں کے انکار اور ہٹ دھرمی کے باوجود کچھ لوگ سیدنا شعیب پر ایمان لے آئے اور ایسے مومنوں کی ایک کمزور سی جمعیت سامنے آگئی تو سرداروں کی آنکھوں میں یہ لوگ کھٹکنے لگے لہذا انہیں دھمکی دینے پر اتر آئے گویا جس میدان میں عقلی طور پر مات کھاچکے تھے اب ڈنڈے کے زور سے اس مسئلے کو حل کرنے کے درپے ہوئے اور یہی جہالت کی سب سے بڑی دلیل ہوتی ہے انہوں نے کہا شعیب ! بس دو ہی باتیں ہیں جن میں سے ایک تمہیں بہرحال قبول کرنا پڑے گی یا تو اس نئے دین کی تبلیغ سے باز آؤ اور وہی پرانا دین اختیار کرلو یا پھر ہم تمہیں اور تمہارے ساتھیوں کو اس آبادی سے نکال دیں گے تمہارے توحید پر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

118 ۔ گفتگو میں لاجواب ہو کر اب قوم شعیب (علیہ السلام) جبر وتشدد پر اتر آئی ہے۔ اور پیغمبر اور ان کے رفیقوں کو شدید دھمکیاں دے رہی ہے۔ 119 ۔ (آیت) ” لتعودن فی ملتنا “۔ عاد کے ایک معنی تو صار کے ہیں قال غیر واحد ان تو تعودبمعنی تصیر کما اثبتہ بعض النحاۃ واللغویین (روح) ای لتصیرن الی ملتنا وقال الزجاج یجوز ان یکون العود بمعنی الابتداء (قرطبی) یہ معنی لے کر تو فقرہ کا مطلب صرف اس قدر ہوا کہ تم ہمارے مذہب میں آجاؤ یا ہمارے دین میں شامل ہوجاؤ۔ اور اس پر کوئی سوال نہیں پیدا ہوتا لیکن عود کے عام معنی لوٹ آنے، پلٹ آنے کے ہیں۔ العود الرجوع الی الشیء بعد الانصراف عنہ (راغب) اس پر یہ اشکال پیش کیا گیا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 88–90

آیت نمبر 88 تا 93 ترجمہ : حضرت شعیب (علیہ السلام) کی قوم کے سرداروں نے جنہوں نے ایمان کے مقابلہ میں تکبر کیا، کہا اے شعیب ہم تم کو اور ان لوگوں کو جو تمہارے ساتھ ایمان لائے ہیں اپنی بستی سے ضرور نکال دیں گے الا یہ کہ تم ہمارے دین (دھرم) میں واپس آجاؤ، خطاب میں جمع کو واحد پر غلبہ دیا ہے، اسلئے کہ شعیب (علیہ السلام) ان کے دین پر ہرگز نہ تھے اور اسی (تغلیب الجمع علی الواحد) کے طور پر شعیب (علیہ السلام) نے بھی جواب میں فرمایا، کیا ہم اس دین میں لوٹ آئیں اگرچہ ہم اس کو ناپسند کرتے ہوں (یہ) استفہام انکاری ہے واللہ اگر تمہارے دین میں واپس آگئے تو ہم نے اللہ پر جھوٹی تہمت لگائی بعد اس کے کہ اللہ نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

قال الملاء الذین استکبروا من قومہ لنخرجنک یشعیب و الذین امنوا معک من قریتنا او لتعودن فی ملتنا قال او لو کنا کرہین۔ شعیب ( علیہ السلام) کی قوم کے متکبر سرداروں نے کہا اے شعیب ( علیہ السلام) شعیب ( علیہ السلام) ہم تم کو اور تمہارے ساتھ جو ایمان والے ہیں ان کو اپنی بستی سے ضرور نکال دیں گے ورنہ تم سب ہمارے مذہب میں لوٹ آؤ شعیب ( علیہ السلام) نے جواب دیا کیا تم ہم کو اپنے مذہب میں لوٹا لو گے خواہ ہم دل سے چاہیں یا گوارا نہ کریں (یعنی دو کاموں میں سے ایک کام ضرور ہونا ہے یا بستی سے تمہارا نکالا جانا یا دوبارہ کفر میں لوٹ آنا) حضرت شعیب ( علیہ السلام) اگرچہ کبھی مذہب کفر پر نہ تھے (اس لئے ان کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 88–89

(88۔ 89) کافر اور منکر سردار بولے ہم تمہیں اپنے شہر سے نکال دیں گے ورنہ ہمارے دین میں واپس آجاؤ۔ حضرت شعیب ؑ نے اپنی قوم سے فرمایا ! کیا تم ہمیں اس بات پر مجبور کرتے ہو ہم تو اسے قابل نفرت سمجھتے ہیں باوجود یہ کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے دین سے نجات دی ہے اگر ہم پھر اس دین میں آجائیں، تو ہم اللہ تعالیٰ پر بڑی جھوٹی تہمت لگانے والے ہوں گے۔ ہمارے لیے تو یہ ہرگز جائز نہیں کہ ہم تمہارے مشرکانہ دین کو اختیار کرلیں، الایہ کہ اللہ تعالیٰ ہمارے دلوں سے معرفت ایمانی کو نکال لے۔ ہمارے رب کا علم ہر ایک شے کا احاطہ کیے ہوئے ہے ہمارے پروردگار بس حق کے موافق فیصلہ کردیجیے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

قَالَ الْمَلَاُ الَّذِيْنَ اسْتَكْبَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ“ اسْتَكْبَرُوْا باب استفعال سے ہے، جس کا معنی عموماً طلب ہوتا ہے، یعنی وہ سردار بڑا بننے کے بہت خواہش مند تھے، گویا ان کی طلب ہی یہ تھی۔ لَنُخْرِجَنَّكَ يٰشُعَيْبُ : یعنی انھوں نے صرف جھٹلانے پر اکتفا نہیں کیا، بلکہ نہایت بدتمیزی سے نام کے ساتھ مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ تمہیں ہر صورت دو باتوں میں سے ایک اختیار کرنا ہوگی، یا ہم تمہیں اپنی بستی سے نکال دیں گے، یا تمہیں پھر سے ہماری ملت، یعنی کفر و شرک میں پلٹنا ہوگا۔ اب تم سوچ لو کہ اپنے لیے ان میں سے کون سی بات پسند کرتے ہو ؟ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مَعَكَ مِنْ قَرْيَتِنَآ : ”معک“ کے دو مطلب…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 88–89

آیت نمبر۔ 88۔ 89 قولہ تعالیٰ : آیت : قال الملا الذین استکبروا من قومہ لنخرجنک یشعیب والذین امنوا معک من قریتنا اور لتعودن فی ملتنا اس کا معنی پہلے گزر چکا ہے اور آیت : اولتعودن فی ملتنا کا معنی ہے تم لوٹ آو گے ہماری ملت کی طرف۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ حضرت شعیب (علیہ السلام) کے متبعین آپ کے ساتھ ایمان لانے سے پہلے کفر پر تھے، یعنی تم ضرور ہماری طرف لوٹ آو گے جیسے تم پہلے تھے۔ زجاج نے کہا ہے : یہ بھی جائز ہے کہ عود بمعنی ابتدا ہو۔ کہا جاتا ہے : عاد الی من فلان مکروہ یعنی فلاں سے میری طرف آنا مکروہ اور ناپسندیدہ ہے، اگرچہ اس سے پہلے اس کا آنا مکروہ نہین، یعنی وہ اس سے میرے ساتھ مل گیا۔ تو حضرت…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 85–93

توراۃ میں شعیب (علیہ السلام) کا نام (1) امام ابن عساکر نے اسحاق بن بشیر (رح) سے روایت کیا کہ مجھ کو عبید اللہ بن زیاد بن سمعان (رح) نے ایک اس شخص سے مجھ کو خبر دی جو کتاب کو پڑھنے والا تھا کہ اہل تورات گمان کرتے ہیں کہ شعیب کا نام تورات میں میکائل ہے اور ان کا نام سریانی زبان میں جزی بن بشخر ہے اور عبرانی زبان میں شعیب بن بشخر بن لاوی بن یعقوب (علیہ السلام) ہے۔ (2) امام ابن عساکر نے اسحاق بن بشر کے طریق سے شرق بن قطامی (رح) سے روایت کی ہے کہ جو علم انساب کے ماہر سعید عالم تھے انہوں نے فرمایا کہ شیعب (علیہ السلام) کا نام عبرانی زبان میں یثرب ہے اور شعیب عربی زبان میں ابن عیفا بن یوبب بن…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ قَالَ : کہا ] [ الْمَلَاُ : سرداروں نے ] [ الَّذِيْنَ : جنہوں نے ] [ اسْتَكْبَرُوْا : گھمنڈ کیا ] [ مِنْ قَوْمِهٖ : ان کی قوم میں سے ] [ لَنُخْرِجَنَّكَ : ہم لازما نکال دیں گے آپ کو ] [ يٰشُعَيْبُ : اے شعیب ] [ وَالَّذِيْنَ : اور ان کو جو ] [ اٰمَنُوْا : ایمان لائے ] [ مَعَكَ : آپ کے ساتھ ] [ مِنْ قَرْيَتِنَآ : اپنی بستی سے ] [ اَوْ : یا ] لَتَعُوْدُنَّ : تم لوگ لازما واپس ہوگے ] [ فِيْ مِلَّتِنَا : ہماری ملت میں ] [ قَالَ : انہوں نے کہا ] [ اَوَلَوْ : اور کیا اگر ] [ كُنَّا : ہم ہوں ] [ كٰرِهِيْنَ : کراہیت کرنے والے (واپسی سے)]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 86–88

حضرت شعیب (علیہ السلام) کی قوم کا اہل ایمان کو کفر میں واپس آنے کی دعوت دینا اور تکذیب کی وجہ سے ہلاک ہونا جو قوم کے سردار ہوتے ہیں وہ متکبر بھی ہوتے ہیں متکبر سرداروں نے حضرت شعیب (علیہ السلام) سے کہا کہ اے شعیب ہم تجھے اور ان لوگوں کو جو تیرے ساتھ ہیں اپنی بستی سے نکال دیں گے یا یہ کہ تم ہمارے دین میں واپس آجاؤ۔ انہوں نے جواب دیا کہ ہم تمہارے دین میں کیسے آسکتے ہیں جبکہ ہم اسے برا جانتے ہیں۔ خدا نخواستہ اگر ہم تمہارے دین میں واپس آجائیں تو اس کا معنی یہ ہوگا کہ ہم نے اس کے بعد اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھا جبکہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس سے نجات دی یعنی اگر ہم پھر تمہارا دین اختیار کرلیں تو اس کا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 88–93

بقیہ قصۂ شعیب (علیہ الصلوۃ والسلام) قال الملآ الذین استکبروا من قومہ۔۔۔ الی۔۔۔ فکیف اسی علی قوم کفرین شعیب (علیہ السلام) کے قوم کے متکبر سرداروں نے جواب دیا کہ اے شعیب ہمیں صبر کرنے کی اور فیصلہ کی انتظار کی ضرورت نہیں خدا تعالیٰ نے ہم کو تم پر غلبہ دیا ہے اور ہم کو تمہارے نکالنے کی قدرت دی ہے۔ اے شعیب یاد رکھو ہم تجھ کو اور جو تیرے ساتھ ایمان لائے ہیں ان کو اپنی بستی سے نکال کر رہیں گے یا یہ کہ تم ہمارے دین میں واپس آجاؤ۔ تو پھر ہم تم سے۔ کوئی تعرض نہ کریں گے یہ بات حضرت شعیب (علیہ السلام) کے ساتھیوں کے اعتبار سے ہے کہ جو شعیب (علیہ السلام) پر ایمان لانے سے پہلے کفر کے طریقہ پر تھے اور کفر…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

94: اس کے جواب میں قوم کے متکبر اور مشرک سرداروں نے حضرت شعیب (علیہ السلام) کو دھمکی دی کہ یا تو تم اپنا دین توحید چھوڑ کر واپس ہمارے دین میں آجاؤ ورنہ ہم تم کو اور جو تم پر ایمان لے آئے ہیں سب کو اپنے گاؤں سے نکال دیں گے۔ “ قَدِ افْتَرَیْنَا الخ ” جب اللہ تعالیٰ نے ہم کو تمہارے دین شرک سے محفوظ فرما لیا اور ہمیں یقین ہوگیا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود اور کارساز نہیں لہذا اس کے سوا پکار کے لائق بھی کوئی نہیں۔ اس کے باوجود اگر ہم تمہارے دین پر آجائیں اور تمہاری طرح شرک کرنے لگیں تو یہ اللہ تعالیٰ پر بہت بڑا بہتان اور افتراء ہوگا ہم سے تو یہ ہرگز نہیں ہوسکے گا کہ ہم تمہارے دین پر آجائیں۔ “ اِلَّا…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 88–93

تبلیغ رسالت کے سلسلہ میں اللہ تعالیٰ نے یہ پانچواں واقعہ حضرت شعیب (علیہ السلام) کا بیان فرمایا ہے گزشتہ درس میں آپ کی اپنی قوم کی طرف بعثت اور ان کو دعوت توحید پیش کرنے کا ذکر تھا حضرت شعیب (علیہ السلام) نے اپنی قوم کے سامنے ان کی خرابیوں کی نشاندہی کی اور ان سے منع فرمایا۔ قوم شعیب کی چیدہ چیدہ خامیاں ماپ تول میں کمی ، زمین میں فساد ، راستوں میں ڈاکے ڈالنا ، لوگوں کو ایذا پہنچانا۔ خدا کے راستے سے روکنا۔ پیغمبر اور دین حق کے خلاف غلط پراپیگنڈہ اور لوگوں کو متنفر کرنے کے لیے دین حق میں کجی تلاش کرنا تھیں آپ نے قوم کو اللہ تعالیٰ کی نعمتیں یاد دلائیں کہ اس نے تمہاری قلت تعداد کو کثرت میں تبدیل…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

قَدِ افْتَرَيْنَا عَلَي اللہِ كَذِبًا اِنْ عُدْنَا فِيْ مِلَّتِكُمْ بَعْدَ اِذْ نَجّٰىنَا اللہُ مِنْہَا۝ 0 ۭ وَمَا يَكُوْنُ لَنَآ اَنْ نَّعُوْدَ فِيْہَآ اِلَّآ اَنْ يَّشَاۗءَ اللہُ رَبُّنَا۝ 0 ۭ وَسِعَ رَبُّنَا كُلَّ شَيْءٍ عِلْمًا۝ 0 ۭ عَلَي اللہِ تَوَكَّلْنَا۝ 0 ۭ رَبَّنَا افْتَحْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ قَوْمِنَا بِالْحَقِّ وَاَنْتَ خَيْرُ الْفٰتِحِيْنَ۝ 89 ( قَدْ ) : حرف يختصّ بالفعل، والنّحويّون يقولون : هو للتّوقّع . وحقیقته أنه إذا دخل علی فعل ماض فإنما يدخل علی كلّ فعل متجدّد، نحو قوله : قَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَيْنا [يوسف/ 90] وإذا دخل ( قَدْ ) علی المستقبَل من الفعل فذلک الفعل يكون في حالة…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 87–91

ترکیب : وان کان شرط فاصبروا جواب والذین ک مفعول پر معطوف۔ اولو کنا جملہ استفہام انکاری ان عدنا شرط قد افترینا جملہ دال برجزا بعد عدنا سے متعلق۔ الاستثناء منقطع یا متصل ای الاوقت مشیۃ اللہ اذا ان اور اس کی خبر میں متوسط جملہ جواب ان اتبعتم۔ تفسیر : حضرت پر جو لوگ ایمان لے آئے تھے پیشتر وہ غریب تھے اس لئے ایک روز وہاں کے سرداروں نے متفق ہو کر حضرت شعیب (علیہ السلام) سے کہا یا تو آپ مع اپنے متبعین کے پھر ہمارے مذہب و طریقہ کو اختیار کرلیں ورنہ ہمارے شہر سے نکل جائو (اگرچہ ابتدائِ عمر سے حضرت شعیب (علیہ السلام) ان کے ملت و مذہب بت پرستی کے شریک نہ تھے مگر نبوت اور منادی سے پہلے ان کو وہ اپنے مذہب…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 88–89

قَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ اسْتَکْبَرُوْا مِنْ قَوْمِہٖ لَنُخْرِجَنَّکَ یٰشُعَیْبُ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَکَ مِنْ قَرْیَتِنَآ اَوْ لَتَعُوْدُنَّ فِیْ مِلَّتِنَا ط قَالَ اَوَلَوْ کُنَّا کٰرِھِیْنَ ۔ قَدِ افْتَرَیْنَا عَلَی اللہِ کَذِبًا اِنْ عُدْنَا فِیْ مِلَّتِکُمْ بَعْدَ اِذْ نَجّٰنَا اللہ ُ مِنْھَا ط وَمَا یَکُوْنُ لَنَآ اَنْ نَّعُوْدَ فِیْھَآ اِلَّآ اَنْ یَّشَآئَ اللہ ُ رَبُّنَا ط وَسِعَ رَبُّنَا کُلَّ شَیْئٍ عِلْمًا ط عَلَی اللہِ تَوَکَّلْنَا ط رَبَّنَا افْتَحْ بَیْنَنَا وَ بَیْنَ قَوْمِنَا بِالْحَقِّ وَ اَنْتَ خَیْرُ الْفٰتِحِیْنَ ۔ (الاعراف : 88، 89) ” اور اس کی قوم کے بڑوں نے ‘…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 88–93

فہم القرآن ربط کلام : حضرت شعیب (علیہ السلام) اور ان کی قوم کے درمیان کشمکش کا ذکر جاری ہے۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) اپنی موت تک قوم کو سمجھاتے رہے لیکن قوم نے نہ صرف ان کی باتوں کی طرف توجہ نہ دی بلکہ انہوں نے تشدد کا راستہ اختیار کیا اور اور کہنے لگے اے شعیب اب تیرے اور تیرے ساتھیوں کے لیے ایک ہی راستہ ہے اگر تم اپنی بات پر قائم رہنا چاہتے ہو تو اپنا کاروبار اور گھر بار ہمارے حوالے کرو اور یہاں سے نکل جاؤ۔ اگر تم اپنا کاروبار اور گھر بچانا چاہتے ہو تو پھر تمہیں ہر صورت ہمارے عقیدے کو ماننا پڑے گا۔ اس کے سوا ہمارا اور تمہارا اکٹھا رہنا مشکل ہے۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) نے فرمایا کیا ہم کفر و…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

سرداروں کا جواب : آیت 88: قَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ اسْتَکْبَرُوْا مِنْ قَوْمِہٖ لَنُخْرِ جَنَّکَ یٰشُعَیْبُ وَالَّذِیْنَ ٰامَنُوْا مَعَکَ مِنْ قَرْیَتِنَآ اَوْ لَتَعُوْدُنَّ فِیْ مِلَّتِنَا (ان کو اپنی بستی سے نکال دیں گے۔ یا یہ ہو کہ تم ہمارے مذہب میں واپس آجائو) یعنی دونوں میں سے ایک بات ضرور تسلیم کرنا ہوگی یا نکلنا یا کفر کی طرف لوٹنا۔ قَالَ اَوَلَوْ کُنَّا کٰرِھِیْنَ (شعیب ( علیہ السلام) نے جواب دیا کہ کیا ہم تمہارے مذہب میں آجاویں اگرچہ ہم اس کو ناپسندہی سمجھتے ہوں) نحو : اس میں ہمزہ استفہام انکاری کے لیے ہے۔ اور وائو حالیہ ہے تقدیر عبارت یہ ہے۔ اتعید و ننافی ملتکم فی حال کر اھتنا و…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر 88(قال الملا الذین استکبروا من قومہ) اس سے مراد شعیب (علیہ السلام) کی قوم کے سردار تھے جو ایمان نہیں لائے تھے۔ (لنخرجنک یشعیب والذین امنوا معک من قریتنآ او لتعودن فی ملتنا) سم اس دین پر لوٹ آئو جس پر ہم ہیں (قال) شعیب (علیہ السلام) نے کہا (اولو کنا کرھین) اگر ہم تمہارے دین پر آنے سے بیزار ہوں تو کیا ہمیں مجبور کرو گے ؟

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 85–93

(85 ۔ 93) ۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) کی امت میں مفسروں کا اختلاف ہے بعضے کہتے ہیں کہ حضرت شعیب ( علیہ السلام) کی روایتوں میں اور سوا حضرت شعیب ( علیہ السلام) کے اور کوئی نبی دو امتوں کی ہدایت کے لئے نہیں بھیجا گیا ایک امت ان کی یہ قبیلہ ہے جس کا نام مدین ہے اور حضرت شعیب ( علیہ السلام) بھی اسی قبیلہ میں کے ہی اسی واسطے اللہ تعالیٰ نے حضرت شعیب ( علیہ السلام) کو اس قبیلہ کا بھائی فرمایا ہے اور دوسری امت بن کے رہنے والے لوگ ہیں جن سورة شعراء میں اصحاب الایکہ فرمایا ہے اور بعضے مفسر کنویں والے لوگوں کو بھی جن کو سورة فرقان اور سورة قاف میں اصحاب الرس فرمایا ہے ان کی ہی امت میں شمار کر کے یوں کہتے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 88–94

آیت 88 (قال الملا الذین استکبروا من قومہ) ” کہا ان سرداروں نے جو متکبر تھے اس کی قوم میں سے “ اس سے مرادان کے اشراف اور بڑے آدمی ہیں جنہوں ن اپنی لذات میں مستغرق ہو کر اپنی خواہشات نفس کی پیروی کی، جب ان کے پاس حق آیا اور انہوں نے دیکھ لیا کہ حق ان کی خواہشات نفس کے خلاف ہے تو انہوں نے نہایت تکبر سے حق کو ٹھکرا دیا اور اپنے نبی شعیب اور ان مستضعفین سے کہنے لگے جو حضرت شعیب کے ساتھ تھے۔ (لنخرجنک یشعیب والذین امنوا معک من قریتنا اولتعودن فی ملتنا) ” ہم ضرور نکال دیں گے اے شعیب تجھ کو اور ان کو جو تیرے ساتھ ایمان لائے اپنے شہر سے، یا یہ کہ تم لوٹ آؤ اپنے دین میں “ انہوں نے حق کے خلاف بہیمانہ قوت…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 55–141

دعا کا طریقہ قول باری ہے وادعواربکم تضرعاً عاوخفیۃ۔ اپنے رب کو پکارو گڑگڑاتے ہوئے اور چپکے چپکے) آیت میں چپکے چپکے رب کو پکارنے کا حکم ہے حسن کا قول ہے کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے تمہیں اس بات کی تعلیم دی ہے کہ تم اپنے رب کو کس طرح پکارو۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک عہد صالح کا ذکر فرمایا جس کی پکار کو اس نے پسند فرمایا تھا چناچہ ارشاد ہے اذنادی ربہ نداء خفیا۔ جبکہ اس نے اپنے رب کو چپکے چپکے پکارا) یعنی حضرت زکریاعلیہ السلام عبداللہ بن المبارک نے حسن بصری سے روایت کی ہے کہ لوگ یعنی صحابہ کرام بڑی عاجزی اور نیاز مندی کے ساتھ دعائیں مانگا کرتے تھے اور صرف سرگوشی کی آواز سنائی دیتی تھی۔ حضرت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 87–91

123 صبر و ثبات کی تعلیم و تلقین : سو اس ارشاد سے ضدی اور ہٹ دھرم لوگوں کے مقابلے میں صبر و برداشت سے کام لینے کی ہدایت و تلقین فرمائی گئی کہ جن کے اندر خیر و صلاح کی کوئی رمق موجود ہو وہ ایمان لے آئیں۔ اور جو اس سے محروم ہوں وہ اپنے آخری انجام کو پہنچ جائیں۔ پس ایمان امن و سلامتی کا باعث وضامن ہے اور کفر ہلاکت و تباہی کا سبب ۔ والعیاذ باللہ ۔ پس ضدی اور ہٹ دھرم لوگوں کے مقابلے میں صبر و برداشت سے کام لینے ہی میں سلامتی و عافیت ہے۔ بہرکیف حضرت شعیب نے ان سے فرمایا کہ اگر ایک گروہ نے میری دعوت کو قبول نہیں کیا اور وہ لوگ مجھ پر ایمان نہیں لائے تو تم صبر و برداشت اور ثبات و استقامت ہی سے کام لو…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 88–102

سیدنا شعیب (علیہ السلام) کی قوم پر عذاب الٰہی تشریح : مدین کی قوم پچھلی قوموں، یعنی قوم نوح، عاد، ثمود، اور قوم لوط کی طرح اخلاقی، مذہبی اور تعلیمی لحاظ سے بالکل بگڑ چکی تھی۔ سیدنا شعیب (علیہ السلام) نے اللہ کے حکم سے ان کو راہ راست پر لانے کی ذمہ داری اٹھائی، یہ واقعہ یہاں صرف اس لیے بیان کیا گیا کہچو ن کہ یہ سورت مکہ میں نازل ہوئی اور اس وقت اہل مکہ کا حال بھی کچھ ایسا ہی تھا تو لوگوں کو عبرت دلانے کے لیے ان کو ان تمام قوموں کے حالات اور انجام بتایا گیا کہ عرب لوگ سبق سیکھیں اور راہ ہدایت اختیار کریں۔ اہل مدین اس وقت شرک، بد دیانتی، جھوٹ فریب، ظلم، قتل و فساد غیر اخلاقی وکردار کی انتہائی…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 88–93

رکوع نمبر 11 ۔ آیات 88 تا 93: اسرار و معارف : یہاں پھر وہی نتائج سامنے آئے کہ متکبرین کی جماعت جو اپنی خواہشات کو تقدس کا لبادہ اوڑھائے ہوئے تھی برداشت نہ کرسکی اور کہا میاں شعیب سیدھے سیدھے واپس ہمارے مذہب پر آجاؤ ورنہ تمہیں بھی اور تمہارے ساتھ تم پر ایمان لانے والوں کو بھی شہر سے نکال دیا جائے گا انہوں نے فرمایا عجیب بات ہے۔ رسومات کی برائی : کبھی مذہب بھی مسلط کیا جاسکتا ہے بھئی ہم نے اسے گمراہی سمجھ کر چھوڑا اور اس پر دلائل ہیں پھر اب تو ہمارے دل کی ایک کیفیت بن چکی ہے کہ وہ کفر سے نفرت کرتا ہے بھلا تم زبردستی کیسے کرسکتے ہو حضرت شعیب (علیہ السلام) تو نبی تھے جن سے کبھی کفر کا ارتکاب ہی…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 1 یعنی دو باتوں میں سے ایک بات ناگزیر ہے یا تمہیں اپنے وطن سے نکلنا پڑے گا یا ہماری ملت یعنی شرک و کفر کو پھر سے اختیار کرنا ہوگا ْ اب تم سوچ لو کہ اپنے لیے ان میں سے کونسی سزا پسند کرتے ہو ؟ عود کے معنی کسی چیز کی طرف لوٹ آنے کے ہیں حضرت شعیب ( علیہ السلام) خود تو کبھی شرک وکفر میں مبتلا نہیں رہے پھر ان کے دین میں لوٹ آنے کے کیا معنی ہوں گے ؟ اور پھر حضرت شعیب ( علیہ السلام) کے اپنے اس وقل کی تکذیب نہ کرنے سے یہ شکال اور بھی قوی ہوجاتا ہے ہے علما نے اس کے مختلف جوابات دیئے ہیں اول یہ کہ ان کے اکثر ساتھی چونکہ کفر سے نکل کر اسلام میں داخل ہوتے تھے اس لیے انہوں نے تفلیبا شعیب کو بھی ان لوگوں…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(7:88) لتعودن۔ مضارع بلام تاکید ونون ثتیلہ ۔ جمع مذکر حاضر۔ تم پھر آؤ گے۔ تم مڑ آؤ گے۔ تم پلٹ آؤ گے۔ عاد یعود عودا (باب نصر) کسی شے سے پلٹنے کے بعد (پلٹنا خواہ بذات خود ہو یا بذریعہ قول یا بذریعہ عزم و ارادہ) اسکی طرف پھرنے اور لوٹنے کو کہتے ہیں۔ ملتنا۔ ہمارا مذہب۔ (او لتعودن فی ملتنا۔ یا تمہیں واپس ہمارے دین میں لوٹ آنا ہوگا۔ یہ خطاب کفار اور مشرکین کا حضرت شعیب (علیہ السلام) اور ان کے پیروؤں سے تھا۔ ان کے پیرو قبل ازیں مشرکین ہی کے مذہب سے تھے۔ لہٰذا مشرکین کے مذہب میں واپس لوٹ آنے کا خطاب ان پیروکاروں سے ہے جو بذاتہٖ حضرت شعیب سے نہیں ہے ۔ کیونکہ وہ تو کبھی بھی مشرکین کے دین پر نہ…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 88–93

لغات القرآن آیت نمبر (88 تا 93 ) ۔ لنخرجنک (البتہ ہم تجھے ضرور نکال دیں گے) ۔ من قریتنا (اپنی بستی سے) ۔ لتعو دن (البتہ تمہیں پلٹ کر آنا ہوگا۔ ) ۔ فی ملتنا (ہمارے دین میں) ۔ اولو کنا (کیا اور اگر ہم ہوں) ۔ کارھین (برا سمجھنے والے) ۔ ان عدنا (اگر ہم پلٹ گئے) ۔ تو کلنا (ہم نے بھروسہ کرلیا) ۔ افتح (کھول دے) ۔ تشریح : آیت نمبر (88 تا 93 ) ۔ ” یہ ہے دو نظریات کا ٹکراؤ ۔ یہ صورت حال صرف اہل مدین کے ساتھ نہیں۔ ہر دور اور ہر علاقہ اس آئینہ میں اپنی تصویر دیکھ سکتا ہے ورنہ اس کا اندراج قرآن کریم میں نہ ہوتا۔ اہل کفر وشرک بےایمانی کے وکیل بن کر کہہ رہے تھے کہ اس کے بغیر ہماری تجارت معاملات تہذیب و…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 86–88

قوم شعیب کی ہلاکت مطلب یہ ہے کہ حضرت شعیب (علیہ السلام) پر جو ایمان لائے تھے وہ بیشتر غریب تھے۔ اس لئے ایک روز وہاں کے سرداروں نے متفق ہوکر حضرت شعیب (علیہ السلام) سے کہا کہ یا تو آپ مع اپنے ہمراہیوں کے پھر ہمارے مذہب و طریقہ کو اختیار کرلیں ورنہ ہمارے شہر سے نکل جاویں۔ اگرچہ ابتدائے عمر سے حضرت شعیب (علیہ السلام) ان کی ملت و مذہب پرستی کے شریک نہ تھے مگر نبوت اور منادی (اعلان) سے پہلے ان کی سکونت کو وہ اپنے مذہب و ملت میں شامل رہنا خیال کرتے تھے۔ جس لئے پھر انہوں نے ملت میں لوٹ آنے لفظ استعمال کیا۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) نے کہا :” ہم کو اس مذہب سے نفرت ہے ہم سے کب ہوسکتا ہے کہ پھر اس میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 86–102

[41] یعنی یہ لوگ مبتلائے مصیبت ہو کر ایمان لانے کا عہد کرتے اور کہتے کہ اگر ہمیں اس سے نجات مل گئی تو ہم ضرور ایمان لائیں گے پھر جب نجات پاتے تو عہد سے پھرجاتے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 88–92

آخری فیصلہ : (ف 1) حضرت شعیب (علیہ السلام) کی نصیحتوں کو ٹھکرا دیا گیا ، اور صاف صاف کہہ دیا گیا ، اگر آپ ہماری خیانتوں اور بددیانتیوں کی تائید نہیں کریں گے تو ہم اپنی بستی سے تمہیں نکال باہر کریں گے گویا برائیوں سے روکنا برائی ہے ، اور ایسا گناہ ہے جو ناقابل عفو اور شائستہ تعزیر ہے ۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) نے فرمایا یہ ہرگز نہیں ہونے کا کہ ہم تمہارے مسلک کو قبول کرلیں ، اور دعوت حق سے روگردانی کرلیں ، اس کا مطلب یہ ہے ، کہ ہم نے معاذ اللہ ، اللہ پر افتراء کیا ہے ، کیا تم سمجھتے ہو ، ہم پھر اس گمراہی میں آپھنسیں گے جبکہ اللہ تعالیٰ نے کمال عنایت سے ہمیں نجات دی ہے ، غرض یہ ہے کہ انبیاء…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

88 حضرت شعیب (علیہ السلام) کی قوم کے متکبر اور سرکش رئوسا اور بڑے بڑے سرداروں نے کہا اے شعیب (علیہ السلام) ہم یقیناً تجھ کو اور تیرے ساتھ جو ایمان لائے ہیں اور تیرے ساتھی مومنین کو اپنی بستی سے باہر نکال دیں گے یا تم ہماری ملت اور ہمارے طریقہ پر واپس آجائو شعیب (علیہ السلام) نے کہا اگرچہ ہم تمہارے طریقہ کو برا سجھتے اور ناپسند کرتے ہوں تب بھی واپس آجائیں یعنی جو لوگ حضرت شعیب (علیہ السلام) پر ایمان لائے تھے وہ واقعی ملت کفریہ کو چھوڑ کر موافق سمجھتے تھے کہ شعیب (علیہ السلام) بھی ہماری ملت میں شامل تھا اور ہم سے کٹ کر الگ ہوگیا ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 2۔ یہ بات مومنین کے لیے اس لیے کہی کہ وہ لوگ قبل ایمان کے اسی طریق کفر پر تھے لیکن شعیب (علیہ السلام) کے حق میں باوجود اس کے کہ انبیاء سے کبھی کفر صادر نہیں ہوتا اس لیے کہی کہ ان کے سکوت قبل بعثت سے وہ یہی سمجھتے تھے کہ ان کا اعتقاد بھی ہم جیسا ہوگا۔ 3۔ یعنی جب اس کے باطل ہونے پر دلیل قائم ہے تو ہم کیسے اس کو اختیار کرلیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

سردار ان قوم کی طرف سے جواب جو شعیب (علیہ السلام) کو دیا گیا : 99: حضرت شعیب (علیہ السلام) کی دعوت حق کا سلسلہ برابر جاری رہا تو ان میں سے سر بر آودہ اشخاص نے کہ جن کو اپنی شوکت و طاقت پر غرور تھا حضرت شعیب (علیہ السلام) سے کہا ” اے شعیب ! دو باتوں میں سے ایک بات ضرور ہو کر رہے گی یا ہم تجھ کو اور تجھ پر ایمان لانے والوں کو اپنی بستی سے نکال دیں گے اور تمہارا دیس نکالا کریں گے یا تم کو مجبور کریں گے کہ پھر تم لوگ ہمارے دین میں واپس آجائو۔ اتنی سخت بات سن کر بھی شعیب (علیہ السلام) نے بڑے دھیمے لہجے میں فرمایا کہ اگر ہم تمہارے دین کو غلط اور باطل سمجھتے ہوں تب بھی زبردستی مان لیں ، یہ تو بڑا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Commentary When the people of Sayyidna Shu'aib (علیہ السلام) told him: Had you been on the side of truth, believers in you would have been prospering and non-believers in you would have been under punishment. But, what is actually happening is that both parties have come out equal and living a comfortable life. With this incongruity in sight, how can we take you to be true? Thereupon, the answer that Sayyidna Shu'aib (علیہ السلام) gave was: Do not make haste. The time is near when Allah Ta` ala will decide the case between the two of them. Not convinced by his answer, the arrogant chiefs of…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 86–89

73. This phrase signifies substantively what is meant by the commonly used Islamic formula In-sha' Allah ('If Allah so wills'). Its meaning is evident from al-Kahf 18: 23-4, in which the believers are directed not to make definitive statements about what they will do without making such actions contingent on God's will. This is understandable since a believer firmly believes in God's power and is ever conscious that his destiny is inalienably tied to God's will. It is impossible for such a person to make foolish statements about what he will do and what he will not do. He is bound to make it…

Read the full tafseer →