Explained with ayahs 86–87
قوم شعیب کی بداعمالیاں
فرماتے ہیں کہ مسافروں کے راستے میں دہشت گردی نہ پھیلاؤ۔ ڈاکہ نہ ڈالو اور انہیں ڈرا دھمکا کر ان کا مال زبردستی نہ چھینو۔ میرے پاس ہدایت حاصل کرنے کیلئے جو آنا چاہتا ہے اسے خوفزدہ کر کے روک دیتے ہو۔ ایمانداروں کو اللہ کی راہ پر چلنے میں روڑے اٹکاتے ہو۔ راہ حق کو ٹیڑھا کردینا چاہتے ہو ان تمام برائیوں سے بچو۔ یہ بھی ہوسکتا ہے بلکہ زیادہ ظاہر ہے کہ ہر راستے پر نہ بیٹھنے کی ہدایت سے تو قتل و غارت سے روک کے لئے ہو جو ان کی عادت تھی اور پھر راہ حق سے مومنوں کو نہ روکنے کی ہدایت پھر کی ہو۔ تم اللہ کے اس احسان کو یاد کرو کہ گنتی میں قوت میں تم کچھ نہ تھے بہت ہی کم تھے اس نے اپنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 86–89
سورة الْاَعْرَاف 73
یہ فقرہ اسی معنی میں ہے جس میں انشاء اللہ کا لفظ بولا جاتا ہے، اور جس کے متعلق سورة کہف (آیات 23۔ 24) میں ارشاد ہوا ہے کہ کسی چیز کے متعلق دعوے کے ساتھ یہ نہ کہہ دیا کرو کہ میں ایسا کروں گا بلکہ اس طرح کہا کرو کہ اگر اللہ چاہے گا تو ایسا کروں گا۔ اس لیے کہ مومن، جو اللہ تعالیٰ کی سلطانی و بادشاہی کا اور اپنی بندگی و تابعیت کا ٹھیک ٹھیک ادراک رکھتا ہے، کبھی اپنے بل بوتے پر یہ دعویٰ نہیں کرسکتا کہ میں فلاں بات کر کے رہوں گا یا فلاں حرکت ہرگز نہ کروں گا، بلکہ وہ جب کہے گا تو یوں کہے گا کہ میرا ارادہ ایسا کرنے کا یا نہ کرنے کا ہے لیکن میرے اس ارادے کا پورا ہونا میرے مالک کی…
Read the full tafseer →پانچویں آیت میں اس قوم کے ایک شبہ کا جواب ہے کہ شعیب ؑ کی دعوت ایمان کے بعد ان کی قوم دو حصوں میں بٹ گئی کچھ ایمان لائے کچھ منکر رہے۔ مگر ظاہری اعتبار سے دونوں میں کوئی فرق نہیں۔ دونوں جماعتیں یکساں آرام و عیش میں ہیں اگر منکر ہونا کوئی جرم ہوتا تو مجرم کو سزا ملتی۔ اس کے جواب میں فرمایا فاصْبِرُوْا حَتّٰي يَحْكُمَ اللّٰهُ بَيْنَنَا یعنی جلد بازی نہ کرو اللہ تعالیٰ اپنے علم و کرم سے مجرموں کو مہلت دیتے ہیں جب وہ بالکل ہی سرکش ہوجاتے ہیں تو پھر فیصلہ کردیا جاتا ہے۔ تمہارا بھی یہی حال ہے اگر تم اپنے انکار سے باز نہ آئے تو عنقریب منکروں پر فیصلہ کن عذاب نازل ہوجائے گا۔
Read the full tafseer →وَاِنْ كَانَ طَاۗىِٕفَةٌ مِّنْكُمْ اٰمَنُوْا بِالَّذِيْٓ اُرْسِلْتُ بِهٖ وَطَاۗىِٕفَةٌ لَّمْ يُؤْمِنُوْا فَاصْبِرُوْا حَتّٰي يَحْكُمَ اللّٰهُ بَيْنَنَا ۚ وَهُوَ خَيْرُ الْحٰكِمِيْنَ۔ اوپر مفسدین کے جس انجام سے ڈرایا ہے یہ اسی سے متعلق ایک شبہ کا ازالہ ہے۔ مطلب یہ ہے کہ مفسدین کا یہ انجام تو قطعی اور یقینی ہے، تمہیں جو مہلت مل رہی ہے اس سے یہ نہ سمجھو کہ میری بات جھوٹی ہے۔ خدا کے ہاں دیر ہے اندھیر نہیں ہے۔ خدا نے اب تک جو تمہیں مہلت دے رکھی ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ تم میں سے ایک گروہ میری بات پر ایمان لایا ہے۔ اللہ یہ چاہتا ہے کہ تم میں اور بھی جن کے اندر کچھ صلاحیت ہے وہ چھٹ کر علیحدہ ہوجائیں۔…
Read the full tafseer →87۔ 1 کفر پر صبر کرنے کا حکم نہیں ہے بلکہ اس کے لئے تہدید اور سخت وعید ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ اہل حق کا اہل باطل پر فتح و غلبہ ہی ہوتا ہے۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے دوسرے مقام پر فرمایا (فَتَرَبَّصُوْٓا اِنَّا مَعَكُمْ مُّتَرَبِّصُوْنَ) 9۔ التوبہ :52)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–88
45: یہ درحقیقت ان کی ایک بات کا جواب ہے، وہ کہتے تھے کہ ہمیں تو مومنوں اور کافروں میں کوئی فرق نظر نہیں آتا، جو لوگ ایمان نہیں لائے وہ بھی خوش حالی کی زندگی بسر کررہے ہیں اگر ان کا طریقہ اللہ کو پسند نہ ہوتا تو انہیں یہ خوش حالی کیوں نصیب ہوتی ؟ جواب یہ دیا گیا ہے کہ اس وقت کی خوش حالی سے یہ دھوکا نہ کھانا چاہیے کہ صورت حال ہمیشہ ایسی ہی رہے گی، ابھی اللہ تعالیٰ کے فیصلے کا انتظار کرو۔
Read the full tafseer →آیت ” وَإِن کَانَ طَآئِفَۃٌ مِّنکُمْ آمَنُواْ بِالَّذِیْ أُرْسِلْتُ بِہِ وَطَآئِفَۃٌ لَّمْ یْْؤْمِنُواْ فَاصْبِرُواْ حَتَّی یَحْکُمَ اللّہُ بَیْْنَنَا وَہُوَ خَیْْرُ الْحَاکِمِیْنَ (87)
” اگر تم میں ایک گروہ اس تعلیم پر جس کے ساتھ میں بھیجا گیا ہوں ‘ ایمان لاتا ہے اور دوسرا ایمان نہیں لاتا تو صبر کے ساتھ دیکھتے رہو یہاں تک کہ اللہ ہمارے درمیان فیصلہ کر دے اور وہی سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے ۔ “
حضرت شعیب (علیہ السلام) نے ان کو منصفانہ منصوبے کو اپنانے کا مشورہ دیا اور یہ آخری حد تھی جہاں تک وہ انکورعایت دے سکتے تھے ‘ اس سے پیچھے وہ ایک قدم بھی نہ ہٹ سکتے تھے ۔ وہ یہ کہ ان کی قوم کفر واسلام…
Read the full tafseer →9 یعنی جو چیز میں لے کر آیا ہوں اگر تم متفقہ طور پر قبول نہیں کرتے بلکہ اختلاف ہی کی ٹھان رکھی ہے تو تھوڑا صبر کرو یہاں تک کہ آسمان ہی سے میرے تمہارے اختلافات کا فیصلہ ہوجائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 86–87
آیت 86 وَلاَ تَقْعُدُوْا بِکُلِّ صِرَاطٍ تُوْعِدُوْنَ
یعنی وہ لوگ راہزنی بھی کرتے تھے اور تجارتی قافلوں کو ڈرا دھمکا کر ان سے بھتہ بھی وصول کرتے تھے۔ ان حرکات سے بھی حضرت شعیب علیہ السلام نے انہیں منع کیا۔
Read the full tafseer →92۔ الف شہر میں داخل ہونے والے راستوں پر ان لوگوں کے بیٹھنے کے دو مقاصد تھے ایک یہ کہ جہاں داؤ لگتا مسافروں اور راہ گیروں کو لوٹ لیتے اور دوسرے جو لوگ شہر میں آنا چاہتے انہیں سیدنا شعیب (علیہ السلام) کے پاس جانے سے روکتے بھی تھے، بہکاتے بھی تھے اور دھمکاتے بھی تھے اور کہتے کہ یہ شخص دغا باز اور فریبی ہے اس کا کہنا نہ ماننا نہ اس کی چالوں ہی میں آنا اور آپ کی تعلیم اور شریعت میں سینکڑوں قسم کی جاہلانہ نکتہ چینیاں کرتے اور عیب لگاتے تھے اور سیدنا شعیب (علیہ السلام) پر ایمان لانے والے معدودے چند لوگوں پر طرح طرح کی سختیاں بھی کرتے تھے کہ وہ ان کے دین سے باز آجائیں۔ سیدنا شعیب (علیہ السلام) نے ان…
Read the full tafseer →117 ۔ (اور دونوں فریقوں کی حالت یکساں ہے اور اس ظاہری یکسانی نے تمہیں تردو میں ڈال رکھا ہے)
(اور اس کا فیصلہ اپنے وقت مناسب پر عذاب کے ذریعہ سے ہوگا) (آیت) ”’ فاصبروا “ وعید وتہدید کے مفہوم میں ہے۔ یہ مراد نہیں کہ آپ انہیں کفر پر قائم رہنے کی اجازت دے رہے ہیں۔ لیس ھذا مرا بالمقام علی الکفر ولکنہ وعید تھدید (قرطبی)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–87
آیت نمبر 85 تا 87
ترجمہ : اور ہم نے مدین کی طرف ان کے بھائی شعیب (علیہ السلام) کو بھیجا، انہوں نے کہا اے میری قوم، تم اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں، تمہارے پاس میری صداقت کی تمہارے پروردگار کی طرف سے معجزہ کی شکل میں واضح دلیل آچکی ہے تم ناپ تول پوری پوری کیا کرو لوگوں کو چیزیں کم مت دیا کرو، اور رسولوں کو بھیج کر زمین کی اصلاح کے بعد کفر و معاصی کے ذریعہ زمین میں فساد برپا نہ کرو اسی مذکور میں تمہارے لئے خیر ہے اگر تمہارا ایمان کا ارادہ ہے تو اس کی طرف جلدی کرو اور تم راستوں پر اسلئے نہ بیٹھا کرو کہ لوگوں کو ان کے کپڑے چھین کر یا ان سے ٹیکس وصول کرے خوف زدہ کرو اور اللہ…
Read the full tafseer →وان کان طائفۃ منکم امنوا بالذی ارسلت بہ وطآئفۃ لم یؤمنوا فاصبروا حتی یحکم اللہ بیننا وہو خیرالحکمین۔ اور اگر تم میں سے بعض لوگ اس حکم پر جس کو دے کر مجھے بھیجا گیا ہے ایمان لے آئے ہیں اور بعض لوگ ایمان نہیں لائے ذرا تو ٹھہرے رہو اللہ ہمارے درمیان (عنقریب) فیصلہ کئے دے رہا ہے وہی سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے۔
فاصبروا تو ٹھہرے رہو۔ یعنی انتظار کرو۔ حتی یحکم اللّٰہ بیننا کہ اللہ فیصلہ کر دے جو اہل حق میں ان کو فتحیاب کر دے گا جو باطل پرست ہیں ان کو تباہ کر دے گا۔ اس میں اہل ایمان کے لئے (کامیابی کی) بشارت اور کافروں کے لئے (تباہی کی) دھمکی ہے۔ ہو خیر الحکمین۔
وہ سب سے اچھا حاکم ہے اس کے حکم کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 86–87
(86۔ 87) اور ہر ایک ایسے راستہ پر جہاں سے لوگوں کا گزر ہوتا ہو اس غرض سے مت بیٹھو کہ ان کو مار کر اور ڈرا کر غربا کے کپڑے چھین کر اور شعیب ؑ پر جو ایمان لائے ہیں ان کو دین الہی اور اطاعت الہی سے روک کر اس میں کجی کی تلاش میں لگے رہو اور تعداد میں تم کم تھے ہم نے اس میں زیادتی کردی اور دیکھو کہ تم سے پہلے مشرکوں کا انجام سوائے ہلاکت اور بربادی کے اور کیا ہوا ذرا ٹھہرجاؤ ! تمہارے درمیان عذاب الہی سے فیصلہ ہوا چاہتا ہے۔
Read the full tafseer →فَاصْبِرُوْا حَتّٰي يَحْكُمَ اللّٰهُ : یہ انھیں کفر پر صبر کا حکم نہیں بلکہ انھیں اللہ کے عذاب سے ڈرایا ہے، جیسا کہ دوسرے مقام پر فرمایا : (فَتَرَبَّصُوْٓا اِنَّا مَعَكُمْ مُّتَرَبِّصُوْنَ) [ التوبۃ : 52 ] ”سو انتظار کرو، بیشک ہم (بھی) تمہارے ساتھ انتظار کرنے والے ہیں۔“
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–87
اس میں چار مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر۔ 1
قولہ تعالیٰ : آیت : والی مدین مدین کے بارے میں کہا گیا ہے کہ یہ بلد اور رقطر کا نام ہے (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 426 ) ۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ قبیلہ کا نام ہے جیسے بکر اور تمیم قبیلوں کے نام ہیں۔ اور یہ قول بھی ہے کہ وہ مدین بن ابراہیم الخلیل (علیہ السلام) کی اولاد میں سے تھے۔ پس جن کی رائے ہے کہ مدین آدمی کا نام ہے ان کے نزدیک یہ غیر منصرف ہے، کیونکہ اس میں معرفہ اور عجمہ پائے جاتے ہیں۔ اور جن کی رائے ہے کہ یہ قبیلہ یا زمین کا نام ہے تو یہ زیادہ مناسب ہے کہ وہ اسے منصرف قرار نہ دیں۔ مہدوی نے کہا ہے : یہ روایت ہے کہ یہ حضرت لوط (علیہ السلام) کی بیٹی کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–93
توراۃ میں شعیب (علیہ السلام) کا نام
(1) امام ابن عساکر نے اسحاق بن بشیر (رح) سے روایت کیا کہ مجھ کو عبید اللہ بن زیاد بن سمعان (رح) نے ایک اس شخص سے مجھ کو خبر دی جو کتاب کو پڑھنے والا تھا کہ اہل تورات گمان کرتے ہیں کہ شعیب کا نام تورات میں میکائل ہے اور ان کا نام سریانی زبان میں جزی بن بشخر ہے اور عبرانی زبان میں شعیب بن بشخر بن لاوی بن یعقوب (علیہ السلام) ہے۔
(2) امام ابن عساکر نے اسحاق بن بشر کے طریق سے شرق بن قطامی (رح) سے روایت کی ہے کہ جو علم انساب کے ماہر سعید عالم تھے انہوں نے فرمایا کہ شیعب (علیہ السلام) کا نام عبرانی زبان میں یثرب ہے اور شعیب عربی زبان میں ابن عیفا بن یوبب بن…
Read the full tafseer →[ وَاِنْ : اور اگر ] [ كَانَ : ہے ] [ طَاۗىِٕفَةٌ: ایک ایسا گروہ ] [ مِّنْكُمْ : تم میں سے ] [ اٰمَنُوْا : جو ایمان لایا ] [ بِالَّذِيْٓ: اس پر ] [ اُرْسِلْتُ : میں بھیجا گیا ] [ بِهٖ : جس کے ساتھ ] [ وَطَاۗىِٕفَةٌ: اور ایک ایسا گروہ ] [ لَّمْ يُؤْمِنُوْا : جو ایمان نہیں لایا ] [ فَاصْبِرُوْا : تو صبر کرو ] [ حَتّٰي : یہاں تک کہ ] [ يَحْكُمَ : فیصلہ کرے ] [ اللّٰهُ : اللہ ] [ بَيْنَنَا : ہمارے مابین ] [ وَهُوَ : اور وہ ] [ خَيْرُ الْحٰكِمِيْنَ : فیصلہ کرنے والوں کا بہترین ہے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 86–88
حضرت شعیب (علیہ السلام) کی قوم کا اہل ایمان کو کفر میں واپس آنے کی دعوت دینا اور تکذیب کی وجہ سے ہلاک ہونا
جو قوم کے سردار ہوتے ہیں وہ متکبر بھی ہوتے ہیں متکبر سرداروں نے حضرت شعیب (علیہ السلام) سے کہا کہ اے شعیب ہم تجھے اور ان لوگوں کو جو تیرے ساتھ ہیں اپنی بستی سے نکال دیں گے یا یہ کہ تم ہمارے دین میں واپس آجاؤ۔ انہوں نے جواب دیا کہ ہم تمہارے دین میں کیسے آسکتے ہیں جبکہ ہم اسے برا جانتے ہیں۔ خدا نخواستہ اگر ہم تمہارے دین میں واپس آجائیں تو اس کا معنی یہ ہوگا کہ ہم نے اس کے بعد اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھا جبکہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس سے نجات دی یعنی اگر ہم پھر تمہارا دین اختیار کرلیں تو اس کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–87
قصہ پنجم شعیب (علیہ السلام) با قوم او
قال اللہ تعالیٰ ٰ والی مدین اخاھم شعیبا۔۔۔ الی۔۔۔ وھو خیر الحکمین
(ربط) یہ پانچواں قصہ حضرت شعیب (علیہ السلام) کا ہے جو قوم لوط کی تباہی کے بعد پیش آیا۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) مدین کی طرف مبعوث ہوئے۔ مدین اصل میں حضرت ابراہیم کے ایک بیٹے کا نام ہے جو ملک عرب میں آکر آباد ہوگئے تھے ان کی نسل کے لوگ اس جگہ رہتے تھے اس لیے اس بستی کو یا اس قبیلہ کو مدین کہا جاتا ہے مدین کا اطلاق قبیلہ اور شہر دونوں پر آتا ہے اور یہ قبیلہ حجاز میں شام کے قریب آباد تھا یہ حجاز کا آخری حصہ ہے اسی قبیلہ میں سے اللہ تعالیٰ نے شعیب (علیہ السلام) کو ان کی طرف نبی بنا کر بھیجا۔…
Read the full tafseer →93: یہ منکرین کے لیے تخویف دنیوی ہے یعنی تم میں سے کچھ لوگ میری دعوت قبول کرچکے ہیں اور کچھ لوگوں نے اس کو رد کیا ہے۔ اب تم اللہ کے فیصلے کا انتظار کرو کہ وہ کس طرح ایمان والوں کو بچاتا ہے اور نہ ماننے والوں کو ہلاک کرتا ہے۔ فیہ وعید و تھدید یعنی حتی یقضی اللہ و یفصل بینا ویعز المؤمنین المصدقین و ینصرھم ویھلک المکذبین الجاحدین و یعذبھم (خازن ج 2 ص 215) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–87
ربط آیات
تبلیغ رسالت کے سلسلے میں اس سے پہلے حضرت نوح (علیہ السلام) ، حضرت ہود (علیہ السلام) ، حضرت صالح (علیہ السلام) اور حضرت لوط (علیہ السلام) کا تذکرہ ہوچکا ہے اب پانچویں نمبر پر اللہ تعالیٰ نے حضرت شعیب (علیہ السلام) کا حال بیان فرمایا ہے اگرچہ ان انبیاء کی پوری تفصیلات تو یوں بیان نہیں کی گئیں تاہم یہ ان کی تاریخ کے بعض اہم حصے ہیں شعیب (علیہ السلام) اور ان کی قوم کے واقعات سورة ، سورة شعراء اور بعض دیگر سورتوں میں بھی بیان ہوئے ہیں ان واقعات سے یہ بتانا مقصود ہے کہ اللہ تعالیٰ کے انبیاء نے کس قدر نامساعد حالات میں تبلیغ کا حق ادا کیا اور لوگوں تک خدا کا پیغام پہنچایا امت آخر الزمان کو…
Read the full tafseer →قَالَ الْمَلَاُ الَّذِيْنَ اسْـتَكْبَرُوْا مِنْ قَوْمِہٖ لَنُخْرِجَنَّكَ يٰشُعَيْبُ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مَعَكَ مِنْ قَرْيَتِنَآ اَوْ لَتَعُوْدُنَّ فِيْ مِلَّتِنَا ۭ قَالَ اَوَلَوْ كُنَّا كٰرِہِيْنَ 88
قول
القَوْلُ والقِيلُ واحد . قال تعالی: وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122]
والقَوْلُ يستعمل علی أوجه :
أظهرها أن يكون للمرکّب من الحروف المبرز بالنّطق، مفردا کان أو جملة، فالمفرد کقولک : زيد، وخرج . والمرکّب، زيد منطلق، وهل خرج عمرو، ونحو ذلك، وقد يستعمل الجزء الواحد من الأنواع الثلاثة أعني : الاسم والفعل والأداة قَوْلًا، كما قد تسمّى القصیدة والخطبة ونحوهما قَوْلًا .
الثاني…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–91
ترکیب : وان کان شرط فاصبروا جواب والذین ک مفعول پر معطوف۔ اولو کنا جملہ استفہام انکاری ان عدنا شرط قد افترینا جملہ دال برجزا بعد عدنا سے متعلق۔ الاستثناء منقطع یا متصل ای الاوقت مشیۃ اللہ اذا ان اور اس کی خبر میں متوسط جملہ جواب ان اتبعتم۔
تفسیر : حضرت پر جو لوگ ایمان لے آئے تھے پیشتر وہ غریب تھے اس لئے ایک روز وہاں کے سرداروں نے متفق ہو کر حضرت شعیب (علیہ السلام) سے کہا یا تو آپ مع اپنے متبعین کے پھر ہمارے مذہب و طریقہ کو اختیار کرلیں ورنہ ہمارے شہر سے نکل جائو (اگرچہ ابتدائِ عمر سے حضرت شعیب (علیہ السلام) ان کے ملت و مذہب بت پرستی کے شریک نہ تھے مگر نبوت اور منادی سے پہلے ان کو وہ اپنے مذہب…
Read the full tafseer →ارشاد ہوتا ہے :
وَاِنْ کَانَ طَآئِفَۃٌ مِّنْکُمْ اَمَنُوْا بِالَّذِیْٓ اُرْسِلْتُ بِہٖ وَ طَآئِفَۃٌ لَّمْ یُوْمِنُوْا فَاصْبِرُوْا حَتّٰی یَحْکُمَ اللہ ُ بَیْنَنَا ج وَھُوَ خَیْرُ الْحٰکِمِیْنَ ۔ (الاعراف : 87)
” اگر تم میں سے ایک گروہ اس تعلیم پر جس کے ساتھ میں بھیجا گیا ہوں ایمان لاتا ہے اور دوسرا ایمان نہیں لاتا تو صبر کے ساتھ دیکھتے رہو یہاں تک کہ اللہ ہمارے درمیان فیصلہ کر دے اور وہی سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے “۔
ایک اعتراض اور اس کا جواب
حضرت شعیب (علیہ السلام) کی قوم آپ کی دعوت کے مقابلے میں اس مقام تک پہنچ گئی تھی جب آدمی کے پاس دلائل ختم ہوجاتے ہیں تو پھر وہ اپنے انکار اور اپنی ہٹ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–87
فہم القرآن
حضرت شعیب (علیہ السلام) :
حضرت شعیب (علیہ السلام) کو مؤرخین اور سیرت نگاروں نے خطیب الانبیاء کے نام سے یاد کیا ہے۔ آپ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بیٹے ” مدیان “ کی اولاد سے تعلق رکھتے ہیں۔ جس کی بنا پر ان کو قوم مدین کہا جاتا ہے۔ اس قوم کا سب سے بڑا شہر ان کے قومی نام مدین سے ہی معروف تھا۔ اس لیے قرآن مجید نے انھیں اہل مدین کے نام سے پکارا ہے۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) کو ان کی قوم میں ہی رسول مبعوث کیا گیا تاکہ آپ اپنی قوم کو راہ راست پر لانے کی جدوجہد فرمائیں۔
اہل مدین کو قرآن میں اصحاب الایکہ بھی کہا گیا ہے۔ (الشعراء : 176)
اہل مدین کا عقیدہ اور گھناؤنا کردار :
1۔ اہل مدین بھی…
Read the full tafseer →دونوں فریقوں کو خطاب :
آیت 87: وَاِنْ کَانَ طَآپفَۃٌ مِّنْکُمْ ٰامَنُوْا بِالَّذِیْٓ اُرْسِلْتُ بِہٖ وَطَآپفَۃٌ لَّمْ یُؤْمِنُوْا فَاصْبِرُوْا (اور اگر تم میں سے بعض اس حکم پر جس کو مجھے دیکر بھیجا گیا ہے۔ ایمان لائے ہیں اور بعض ایمان نہیں لائے تو ذرا ٹھہر جائو) پس تم انتظار کرو۔ حَتّٰی یَحْکُمَ اللّٰہُ بَیْنَنَا (یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ ہمارے درمیان میں فیصلہ کیے دیتے ہیں) یعنی دونوں فریقوں کے درمیان کہ حق پرستوں کو باطل پرستوں پر غلبہ دیا جائے۔ نمبر 1۔ یہ دراصل وعید ہے کہ اللہ تعالیٰ کافروں سے انتقام لیں گے۔ یا پھر ایمان والوں کو صبر پر آمادہ کیا گیا۔ کہ وہ مشرکین کی طرف سے پہنچنے والی…
Read the full tafseer →87(وان کان طائفۃ منکم امنوا بالذی ارسلت بہ وطآئفۃ لم یومنوا) یعنی اگر میری رسالت میں تمہیں اختلاف ہے کہ دو فرقے ہوگئے ہو ایک ایمان لانے والوں کا ایک جھٹلانے والوں کا (فاصبروا حتی یحکم اللہ بیننا) جھٹلانے والوں کو عذاب دینے اور ایمان لانے والوں کو نجات دینے کا (وھو خیر الحکمین)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–93
(85 ۔ 93) ۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) کی امت میں مفسروں کا اختلاف ہے بعضے کہتے ہیں کہ حضرت شعیب ( علیہ السلام) کی روایتوں میں اور سوا حضرت شعیب ( علیہ السلام) کے اور کوئی نبی دو امتوں کی ہدایت کے لئے نہیں بھیجا گیا ایک امت ان کی یہ قبیلہ ہے جس کا نام مدین ہے اور حضرت شعیب ( علیہ السلام) بھی اسی قبیلہ میں کے ہی اسی واسطے اللہ تعالیٰ نے حضرت شعیب ( علیہ السلام) کو اس قبیلہ کا بھائی فرمایا ہے اور دوسری امت بن کے رہنے والے لوگ ہیں جن سورة شعراء میں اصحاب الایکہ فرمایا ہے اور بعضے مفسر کنویں والے لوگوں کو بھی جن کو سورة فرقان اور سورة قاف میں اصحاب الرس فرمایا ہے ان کی ہی امت میں شمار کر کے یوں کہتے…
Read the full tafseer →آیت 87
(والی مدین) ” مدین کی طرف “ یعنی ایک معروف قبیلہ کی طرف (اخاھم شعیباً ) ” ان کے بھائی شعیب کو “ مبعوث کیا جو نسب میں ان کے بھائی تھے۔ جو انہیں اللہ وحدہ کی عبادت کی طرف دعوت دیتے تھے اور ناپ تول کو پورا کرنے کا حکم دیتے تھے۔ وہ ان کو تلقین کرتے تھے کہ وہ لوگوں کو کم چیزیں نہ دیں اور کثرت معاصی کے ارتکاب سے زمین میں فساد نہ پھیلائیں۔ (آیت) ” اور زمین میں خرابی موت ڈالو اس کی اصلاح کے بعد، یہ بہتر ہے تمہارے لئے اگر تم مومن ہو “ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی اطاعت کرتے ہوئے اور اس کے تقرب کی خاطر گناہوں کو ترک کرنا، بندے کے لئے ان گناہوں کے ارتکاب سے۔۔۔ جو اللہ جبار کی ناراضی اور جہنم کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–141
دعا کا طریقہ
قول باری ہے وادعواربکم تضرعاً عاوخفیۃ۔ اپنے رب کو پکارو گڑگڑاتے ہوئے اور چپکے چپکے) آیت میں چپکے چپکے رب کو پکارنے کا حکم ہے حسن کا قول ہے کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے تمہیں اس بات کی تعلیم دی ہے کہ تم اپنے رب کو کس طرح پکارو۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک عہد صالح کا ذکر فرمایا جس کی پکار کو اس نے پسند فرمایا تھا چناچہ ارشاد ہے اذنادی ربہ نداء خفیا۔ جبکہ اس نے اپنے رب کو چپکے چپکے پکارا) یعنی حضرت زکریاعلیہ السلام عبداللہ بن المبارک نے حسن بصری سے روایت کی ہے کہ لوگ یعنی صحابہ کرام بڑی عاجزی اور نیاز مندی کے ساتھ دعائیں مانگا کرتے تھے اور صرف سرگوشی کی آواز سنائی دیتی تھی۔ حضرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–91
123 صبر و ثبات کی تعلیم و تلقین : سو اس ارشاد سے ضدی اور ہٹ دھرم لوگوں کے مقابلے میں صبر و برداشت سے کام لینے کی ہدایت و تلقین فرمائی گئی کہ جن کے اندر خیر و صلاح کی کوئی رمق موجود ہو وہ ایمان لے آئیں۔ اور جو اس سے محروم ہوں وہ اپنے آخری انجام کو پہنچ جائیں۔ پس ایمان امن و سلامتی کا باعث وضامن ہے اور کفر ہلاکت و تباہی کا سبب ۔ والعیاذ باللہ ۔ پس ضدی اور ہٹ دھرم لوگوں کے مقابلے میں صبر و برداشت سے کام لینے ہی میں سلامتی و عافیت ہے۔ بہرکیف حضرت شعیب نے ان سے فرمایا کہ اگر ایک گروہ نے میری دعوت کو قبول نہیں کیا اور وہ لوگ مجھ پر ایمان نہیں لائے تو تم صبر و برداشت اور ثبات و استقامت ہی سے کام لو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–87
مدین کا انجام اور سبق آموز بیان
تشریح : مدین کا اصل علاقہ حجاز کے شمال مغرب میں ہے اس کے جنوب میں بحر احمر اور خلیج عقبہ کے کنارے واقع تھا۔ یہ بہت بڑی تجارت پیشہ قوم تھی۔ قدیم زمانہ میں تجارتی شاہراہ جو یمن، مکہ اور ہنبوع سے ہوتی ہوئی شام تک جاتی تھی۔ دوسری شاہراہ جو عراق سے مصر کو جاتی تھی۔ اسکے عین چورا ہے پر ان کی بستیاں آباد تھیں اسی لیے مدین کافی مشہور جگہ تھی۔ اور پھر بعد میں عربوں کے تجارتی قافلے مصر و شام جاتے ہوئے مدین کے کھنڈرات کے بیچ میں سے گزرتے تھے اہل مدین سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کے صاحبزادے مدیان کی طرف منسوب ہیں اس قوم کو دین حق کی آواز سیدنا شعیب (علیہ السلام) کے ذریعے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–87
رکوع نمبر 11 ۔ آیات 85 تا 87 ۔
اسرار ومعارف :
پھر اہل مدین آباد ہوئے یہ قوم بڑھی مفسرین کے مطابق مدین بھی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بیٹے تھے ان کی اولاد بھی اور آبادی بھی مدین ہی کہلائی یہ خوب پھولے پھلے تو نفس نے انہیں دولت جمع کرنے کے لالچ میں مبتلا کردیا چناچہ انہوں نے ناپ تول میں کمی اور لوٹ کھسوٹ کو وطیرہ بنا لیا راستوں پر لوگوں کو لوٹ لیتے یا ناجائز ٹیکس لگا کر دولت بڑھانے کی فکر میں رہتے رحمت باری نے ان کی دستگیری فرمائی اور حضرت شعیب (علیہ السلام) کو مبعوث فرما دیا ان کی بھی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت لوط (علیہ السلام) سے رشتہ داری تھی اور مدین والوں کے نسبی بھائی تھے…
Read the full tafseer →ف 10 و ان احکام کو مانتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے مجھ پر نازل کئے گئے۔11 یعنی انتظار کرو۔12 تم کافروں کا تباہ اور ہم مومنوں کو غالب کرے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 86–87
(7:86) لاتفعدوا۔ فعل نہی جمع مذکر حاضر۔ تم نہ بیٹھو۔ تم نہ بیٹھا کرو۔ قعود سے بمعنی بیٹھنا۔ (باب نصر) ۔
توعدون۔ تم ڈراتے ہو۔
لاتقعدوا۔ توعدون۔ تمام راستوں پر مت بیٹھو کہ لوگوں کو (شعیب (علیہ السلام) اور حق پر ایمان لانے سے) ڈراؤ۔ یعنی شعیب (علیہ السلام) اور احق پر ایمان لانے کے تمام راستوں کو دھمکیوں اور تہدید سے بند مت کرو۔ کل طریق سے مطلب کل طریق من الحق والدین (حق اور دین کی طرف جانے والے تمام راستے) ۔
وتصدون عن سبیل اللہ من امن بہ۔ (ای ولا تقعدوا بکل صراط تصدون عن سبیل اللہ من امن بہ۔ ای ولا تمنعوا من یرید الایمان باللہ۔ اور جو اللہ پر ایمان لانا چاہتا ہے اس کو خدا کی راہ سے روکنے کے لئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–87
لغات القرآن آیت نمبر (85 تا 87 ) ۔
ارفوا (پورا کرو) ۔ الکیل (ماپ) ۔ المیزان (تول) ۔ لا تبخسوا (نہ گھٹاؤ) ۔ لا تقعدوا (تم نہ بیٹھو ) ۔ صراط (راستہ ) ۔ توعدون (تم ڈراتے ہو ) ۔ تصدون (تم روکتے ہو ) ۔ تبغون (تم تلاش کرتے ہو ) ۔ عوج (کجی۔ ٹیڑ ھاپن) ۔ کثر (اس نے بہت کردیا ) ۔ طائفتہ (جماعت۔ گروہ) ۔ ارسلت ( بھیجی گئی) ۔ حتی یحکم اللہ (یہاں تک کہ اللہ فیصلہ کردے گا ) ۔
تشریح : آیت نمبر (85 تا 87) ۔ ” گاہک کو نقصان پہنچانے کے نہ جانے کتنے طریقے ان دنوں رائج تھے اور آج بھی رائج ہیں ڈندی مارنا، نمونہ کچھ مال کچھ بلیک ماکٹنگ، ذخیرہ اندوزی، لازمی اشیا کا بازار سے غائب کر ادینا۔ کارنر کرنا سینڈی کیٹ بنانا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 86–88
قوم شعیب کی ہلاکت
مطلب یہ ہے کہ حضرت شعیب (علیہ السلام) پر جو ایمان لائے تھے وہ بیشتر غریب تھے۔ اس لئے ایک روز وہاں کے سرداروں نے متفق ہوکر حضرت شعیب (علیہ السلام) سے کہا کہ یا تو آپ مع اپنے ہمراہیوں کے پھر ہمارے مذہب و طریقہ کو اختیار کرلیں ورنہ ہمارے شہر سے نکل جاویں۔ اگرچہ ابتدائے عمر سے حضرت شعیب (علیہ السلام) ان کی ملت و مذہب پرستی کے شریک نہ تھے مگر نبوت اور منادی (اعلان) سے پہلے ان کی سکونت کو وہ اپنے مذہب و ملت میں شامل رہنا خیال کرتے تھے۔ جس لئے پھر انہوں نے ملت میں لوٹ آنے لفظ استعمال کیا۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) نے کہا :” ہم کو اس مذہب سے نفرت ہے ہم سے کب ہوسکتا ہے کہ پھر اس میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 86–102
[41] یعنی یہ لوگ مبتلائے مصیبت ہو کر ایمان لانے کا عہد کرتے اور کہتے کہ اگر ہمیں اس سے نجات مل گئی تو ہم ضرور ایمان لائیں گے پھر جب نجات پاتے تو عہد سے پھرجاتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–87
حضرت شعیب (علیہ السلام)
(ف 1) مدین والوں میں یہ نقص تھا کہ وہ لین دین میں ایماندار نہیں تھے ،
حضرت شعیب (علیہ السلام) نے توحید کے بعد معاملات کی طرف توجہ کی ، اور کہا یہ بددیانتی جائز نہیں ، اس سے اخلاق بگڑتے ہیں ، تم اگر مومن ہو تو ناپ اور تول میں کوئی فریب دغا نہ کرو ، کیونکہ ایمان کا تعلق صرف عبادت اور عبادت گاہ سے نہیں ، بلکہ چھوٹے چھوٹے کاموں میں سے بھی ایمان کا اظہار ہونا چاہئے ، اگر مسجد میں ذکر خدا ہے تو ہاٹ میں بیٹھ کر بھی اسے فراموش نہ کرو ، اور حقیقت میں یہی سچا مذہب ہے ، جو تمہاری ایک ایک بات سے عیاں ہو ، طویل عبادتیں مشکل ریاضتیں معاملات کی صفائی نہ ہو ، تو کوئی قیمت نہیں…
Read the full tafseer →87 اور اگر میں ایک جماعت اس دین پر ایمان لے آئی ہے جو مجھ کو دیکر بھیجا گیا ہے اور ایک جماعت اور ایک گروہ ایسا ہے جو اس دین پر ایمان نہیں لایا تو تم گھبرائو نہیں اور صبر کرو یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ ہمارے مابین فیصلہ کردے اور وہی بہترین حاکم اور فیصلہ کرنے والا ہے یعنی اگر ظاہری طورپر مومن اور غیر مومن میں کوئی فرق نہیں ہے لیکن ذرا صبر سے کام لو اور وقت کا انتظار کرو جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے فیصلہ کا وقت آئے گا اس وقت تم کو ایمان کی برکت اور کفر کی شقادت معلوم ہوجائے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–87
ف 1۔ قرآن میں شعیب (علیہ السلام) کا اہل مدین اور اصحاب ایکہ کی طرف مبعوث ہونا اور اہل مدین پر کہیں صیحہ اور کہیں رجفہ کا عذاب اور اصحاب ایکہ پر ظلہ کا عذاب ہونا مذکور ہے بعض نے تو دونوں قوموں کو ایک ہی کہا ہے اور بعض نے تو دونوں قوموں کو ایک ہی کہا ہے اور بعض نے الگ الگ کہا ہے کہ ایک قوم یعنی اہل مدین کے ہلاک کے بعد دوسروں کی یعنی اصحاب ایکہ کی طرف جو مدین کے قریب رہتے تھے اور اس قرب کی وجہ سے ان میں بھی کم تولنے ناپنے کا مرض تھا مبعوث ہوئے اور اکثر کا قول یہی ہے اور انواع عذاب میں دو کا یا تینوں کا جمع ہوجانا کچھ مستبعد نہیں اور بعد ہلاک ان کفار کے آپ مکہ میں آرہے تھے اور وہاں ہی وفات پائی…
Read the full tafseer →تم میں ایک جماعت ایمان لائی اور ایک نے انکار کردیا دونوں کا موازنہ کرلو :
98: مطلب یہ ہے کہ مفسدین کا یہ انجام تو قطعی اور یقینی ہے تمہیں جو مہلت مل رہی ہے اس سے یہ نہ سمجھو کہ میری بات جھوٹی ہے۔ خدا کے ہاں دیر ہے اندھیر نہیں۔ اللہ نے اب تک جو تمہیں مہلت دے رکھی ہے اس کا قانون امہال ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ تم میں سے ایک گروہ جو میری بات پر ایمان لایا ہے اللہ یہ چاہتا ہے کہ تم میں سے اور بھی جن کے اندر کچھ صلاحیت ہے وہ چھٹ کر علیحدہ ہوجائیں پس ان کی خاطر تمہیں یہ مہلت مل رہی ہے اس مہلت تک انتظار کرو اس کے بعد اللہ ہمارے اور تمہارے درمیان فیصلہ فرما دے گا اور وہی بہترین فیصلہ فرمانے والا ہے۔…
Read the full tafseer →In the last verse (87), an answer has been given to scruples of these people about the division in their ranks after some of them believed in the call of Sayyidna Shu'aib (علیہ السلام) while others kept rejecting him. But, there was no difference between them outwardly. Both groups were living comfortably. If being a disbeliever or denier would have been a crime, the criminal would have been punished. To answer that doubt, it was said: فَاصْبِرُوا حَتَّىٰ يَحْكُمَ اللَّـهُ بَيْنَنَا Is that is, do not make haste. Allah Ta` ala is Forbearing and Merciful. He gives respite to wrongdoers. It is…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 86–89
73. This phrase signifies substantively what is meant by the commonly used Islamic formula In-sha' Allah ('If Allah so wills'). Its meaning is evident from al-Kahf 18: 23-4, in which the believers are directed not to make definitive statements about what they will do without making such actions contingent on God's will. This is understandable since a believer firmly believes in God's power and is ever conscious that his destiny is inalienably tied to God's will. It is impossible for such a person to make foolish statements about what he will do and what he will not do. He is bound to make it…
Read the full tafseer →