Explained with ayahs 86–87
قوم شعیب کی بداعمالیاں
فرماتے ہیں کہ مسافروں کے راستے میں دہشت گردی نہ پھیلاؤ۔ ڈاکہ نہ ڈالو اور انہیں ڈرا دھمکا کر ان کا مال زبردستی نہ چھینو۔ میرے پاس ہدایت حاصل کرنے کیلئے جو آنا چاہتا ہے اسے خوفزدہ کر کے روک دیتے ہو۔ ایمانداروں کو اللہ کی راہ پر چلنے میں روڑے اٹکاتے ہو۔ راہ حق کو ٹیڑھا کردینا چاہتے ہو ان تمام برائیوں سے بچو۔ یہ بھی ہوسکتا ہے بلکہ زیادہ ظاہر ہے کہ ہر راستے پر نہ بیٹھنے کی ہدایت سے تو قتل و غارت سے روک کے لئے ہو جو ان کی عادت تھی اور پھر راہ حق سے مومنوں کو نہ روکنے کی ہدایت پھر کی ہو۔ تم اللہ کے اس احسان کو یاد کرو کہ گنتی میں قوت میں تم کچھ نہ تھے بہت ہی کم تھے اس نے اپنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 86–89
سورة الْاَعْرَاف 73
یہ فقرہ اسی معنی میں ہے جس میں انشاء اللہ کا لفظ بولا جاتا ہے، اور جس کے متعلق سورة کہف (آیات 23۔ 24) میں ارشاد ہوا ہے کہ کسی چیز کے متعلق دعوے کے ساتھ یہ نہ کہہ دیا کرو کہ میں ایسا کروں گا بلکہ اس طرح کہا کرو کہ اگر اللہ چاہے گا تو ایسا کروں گا۔ اس لیے کہ مومن، جو اللہ تعالیٰ کی سلطانی و بادشاہی کا اور اپنی بندگی و تابعیت کا ٹھیک ٹھیک ادراک رکھتا ہے، کبھی اپنے بل بوتے پر یہ دعویٰ نہیں کرسکتا کہ میں فلاں بات کر کے رہوں گا یا فلاں حرکت ہرگز نہ کروں گا، بلکہ وہ جب کہے گا تو یوں کہے گا کہ میرا ارادہ ایسا کرنے کا یا نہ کرنے کا ہے لیکن میرے اس ارادے کا پورا ہونا میرے مالک کی…
Read the full tafseer →تیسری آیت میں جو یہ ارشاد ہے کہ تم لوگوں کو ڈرانے دھمکانے اور اللہ کے راستہ سے روکنے کے لئے۔ راستوں سڑکوں پر نہ بیٹھا کرو۔ اس کا مطلب بعض مفسرین نے یہ قرار دیا کہ یہ دونوں جملے ایک ہی مفہوم کو ادا کرتے ہیں کہ یہ لوگ راستوں پر بیٹھ کر حضرت شعیب ؑ کے پاس آنے والوں کو روکتے اور ڈراتے دھمکاتے تھے اس سے منع کیا گیا۔
اور بعض حضرات نے فرمایا کہ ان کے یہ دو جرم الگ الگ تھے۔ راستوں پر بیٹھ کر لوٹ کھسوٹ بھی کرتے تھے اور حضرت شعیب ؑ پر ایمان لانے سے روکتے تھے۔ پہلے جملہ میں پہلا مضمون اور دوسرے جملہ میں دوسرا مضمون بیان فرمایا ہے۔ تفسیر بحر محیط وغیرہ میں اسی کو اختیار کیا ہے۔ اور راستوں پر بیٹھ کر لوٹ…
Read the full tafseer →وَلَا تَقْعُدُوْا بِكُلِّ صِرَاطٍ تُوْعِدُوْنَ وَتَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ مَنْ اٰمَنَ بِهٖ وَتَبْغُوْنَهَا عِوَجًا۔ یہ قوم کے سرکشوں کی ان سرگرمیوں کی طرف اشارہ ہے جو وہ حضرت شعیب کے ساتھیوں کو ہراساں اور خوف زدہ کرنے اور ایمان کی راہ سے ہٹانے کے لیے اختیار کیے ہوئے تھے۔ معلوم ہوتا ہے جگہ جگہ ہر نکڑ پر گنڈے سرِ راہ بیٹھ جاتے اور جہاں کوئی مسلمان مل جاتا اس کے در پئے آزار ہوجاتے۔ اس کو ڈراتے دھمکاتے کہ وہ حضرت شعیب کا ساتھ اور ایمان کی راہ چھوڑ کر پھر ان کے طریقہ پر آجائے۔ تَبْغُوْنَهَا عِوَجًا کی وضاحت ہم دوسری جگہ کرچکے ہیں۔ خدا تک پہنچنے کی راہ توحید ہے۔ اس راہ میں کجی کرنے کے معنی…
Read the full tafseer →86۔ 1 اللہ کے راستے سے روکنے کے لئے اللہ کے راستے میں کجیاں تلاش کرنا۔ یہ ہر دور کے نافرمانوں کا محبوب مشغلہ رہا ہے جس کے نمونے آجکل کے متجدین اور فرنگیت زدہ لوگوں میں نظر آتے ہیں۔ مثلاً لوگوں کو ستانے کے لئے بیٹھنا، جیسے عام طور پر اوباش قسم کے لوگوں کا شیوا ہے۔ یا حضرت شعیب ؑ کی طرف جانے والے راستوں پر بیٹھنا اور اس راہ پر چلنے والوں کو روکنا۔ یوں لوٹ مار کی غرض سے ناکوں پر بیٹھنا تاکہ آنے جانے والوں کا مال سلب کرلیں، یا بعض کے نزدیک محصول اور چونگی وصول کرنے کے لئے ان کے راستوں پر بیٹھنا۔ امام شوکانی فرماتے ہیں کہ سارے ہی مفہوم صحیح ہوسکتے ہیں کیونکہ ممکن ہے کہ وہ سب ہی کچھ کرتے ہوں۔ (فتح…
Read the full tafseer →44: اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ ان کی تعداد میں اضافہ ہوگیا۔ اور یہ بھی کہ ان کو خوشحالی زیادہ نصیب ہوئی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–86
آیت ” نمبر 85 تا 93۔
یہ قصہ دوسروں کے مقابلے میں قدرے طویل ہے دوسرے قصص کی نسبت کیونکہ اس میں اسلامی نظریہ حیات کے علاوہ بعض دوسرے معاملات بھی موجود ہیں ۔ اگرچہ اس میں بھی وہی طرز ادا اختیار کی گئی ہے ۔ جس طرح اس سے قبل دوسروں قصوں میں اختیار کی گئی ہے ۔
آیت ” وَإِلَی مَدْیَنَ أَخَاہُمْ شُعَیْْباً قَالَ یَا قَوْمِ اعْبُدُواْ اللّہَ مَا لَکُم مِّنْ إِلَـہٍ غَیْْرُہُ “۔ (7 : 85)
” اور مدین والوں کی طرف ہم نے ان کے بھائی شعیب کو بھیجا ‘ اس نے کہا : ’ اے برادران قوم ‘ اللہ کی بندگی کرو ‘ اس کے سوا تمہارا کوئی خدا نہیں ہے ۔ “
یہ دعوت اسلامی کا بنیادی عقیدہ ہے اور یہ ہر پیغمبر کی دعوت کا اساسی…
Read the full tafseer →7 راستوں پر بیٹھنا دو وجہ سے تھا۔ راہ گیروں کو ڈرا دھمکا کر ظلماً مال وصول کریں اور مومنین کو شعیب کے پاس جانے اور خدا کا دین اختیار کرنے سے روکیں اور خدائی مذہب کے متعلق نکتہ چینی اور عیب جوئی کی فکر میں رہیں۔
8 یعنی تعداد اور دولت دونوں میں کم تھے خدا نے دونوں طرف تم کو بڑھایا۔ مردم شماری بھی بڑھ گئی اور دولت مند بھی ہوگئے۔ خدا کے ان احسانات کا شکر ادا کرو۔ اور وہ جب ہی ادا ہوسکتا ہے کہ خدا کے اور بندوں کی حقوق پہچان کی عملی درستی اور اصلاح میں مشغول رہو اور ان نعمتوں پر مغرور نہ ہو بلکہ خرابی اور فساد مچانے والوں کا جو انجام پہلے ہوچکا ہے اسے پیش نظر رکھ کر خدائی گرفت سے ڈرتے رہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 86–87
آیت 86 وَلاَ تَقْعُدُوْا بِکُلِّ صِرَاطٍ تُوْعِدُوْنَ
یعنی وہ لوگ راہزنی بھی کرتے تھے اور تجارتی قافلوں کو ڈرا دھمکا کر ان سے بھتہ بھی وصول کرتے تھے۔ ان حرکات سے بھی حضرت شعیب علیہ السلام نے انہیں منع کیا۔
Read the full tafseer →92 ہیرا پھیریوں اور لوٹ مار کی قسمیں :۔ اس کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ تجارتی راستوں پر بیٹھ کر ان قافلوں کو لوٹنے کے درپے نہ ہوجاؤ پھر یہ لوٹنا بھی کئی قسم کا ہوتا ہے۔ ایک تو عام صورت ہے کہ جیسی کوئی رہزن کسی کمزور کا مال چھین لیتا ہے دوسرے تجارتی منڈی میں پہنچنے سے پیشتر اس سے مال کا سودا کرلینا جبکہ اس راہ رو کو منڈی کے بھاؤ کی خبر نہ ہو اس طرح فریب کے ساتھ راہرو سے سستا مال لے لینا بھی لوٹنے کے مترادف ہے اور اس سے رسول اللہ نے سختی سے منع فرمایا ہے اور تیسرا یہ کہ اپنی سیاسی پوزیشن کی بنا پر ان تاجروں کو بلیک میل نہ کیا کرو۔
اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ جو لوگ نبی پر ایمان لانا چاہتے ہیں انہیں…
Read the full tafseer →115 ۔ (اعتراض واعراض کی نیت سے) (آیت) ” تو عدون “۔ یہ لوگ ایمان والوں کو طرح طرح کی دھمکیاں دیتے رہتے تھے۔ جیسا کہ ہر سرکش بدراہ قوم کا قاعدہ ہے۔ کانوا یوعدون العذاب من امن (قرطبی) (آیت) ” من امن بہ “۔ ضمیر اسم اللہ کی طرف ہے اور شعیب (علیہ السلام) کی طرف بھی جائز ہے۔ یحتمل ان یعود الی اسم اللہ وان یعود الی شعیب (قرطبی) ای باللہ (مدارک) قوم کے امراض خبیثہ ایک ایک کرکے بیان ہورہے ہیں۔ امام قرطبی آیت کی تفسیر کے ذیل میں اپنے زمانہ کا حال تأسف وقلق کے ساتھ لکھتے ہیں کہ ہمارے زمانہ میں بھی خلاف شرع جبرستانی اور ظلم و زیادتی کے طریقہ جاری ہوگئے ہیں۔ اور اسلام بجز نام اور رسم کے اب باقی ہی کہاں رہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–87
آیت نمبر 85 تا 87
ترجمہ : اور ہم نے مدین کی طرف ان کے بھائی شعیب (علیہ السلام) کو بھیجا، انہوں نے کہا اے میری قوم، تم اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں، تمہارے پاس میری صداقت کی تمہارے پروردگار کی طرف سے معجزہ کی شکل میں واضح دلیل آچکی ہے تم ناپ تول پوری پوری کیا کرو لوگوں کو چیزیں کم مت دیا کرو، اور رسولوں کو بھیج کر زمین کی اصلاح کے بعد کفر و معاصی کے ذریعہ زمین میں فساد برپا نہ کرو اسی مذکور میں تمہارے لئے خیر ہے اگر تمہارا ایمان کا ارادہ ہے تو اس کی طرف جلدی کرو اور تم راستوں پر اسلئے نہ بیٹھا کرو کہ لوگوں کو ان کے کپڑے چھین کر یا ان سے ٹیکس وصول کرے خوف زدہ کرو اور اللہ…
Read the full tafseer →ولا تقعدوا بکل صراط تو عدون وتصدون عن سبیل اللہ ومن امن بہ وتبغونہا واذکروا اذ کنتم قلیلا فکثرکم انظروا کیف کان عاقبۃ المفسدین۔ اور تم راستوں پر اس غرض سے نہ بیٹھا کرو کہ اللہ پر ایمان لانے والوں کو دھمکیاں دو اور اللہ کی راہ سے روکو اور اس میں کجی کی تلاش کرو اور یاد کرو کہ جب تم کم تھے تو اللہ نے تمہاری تعداد بڑھا دی اور دیکھ لو کہ تخریب کاروں کا انجام کیسا ہوا۔
توعدون اور تصدوندونوں جملے تقعدوا کی ضمیر فاعل سے حال ہیں۔
تبغونہا عوجًا یعنی اللہ کی راہ میں کجی کی تلاش کرتے ہو۔ مطلب یہ ہے کہ اس میں شبہ ڈالتے ہو یا لوگوں کے سامنے ظاہر کرتے ہو کہ یہ راستہ ٹیڑھا ہے (بہرحال لوگوں کو بہکاتے ہو)
بعض…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 86–87
(86۔ 87) اور ہر ایک ایسے راستہ پر جہاں سے لوگوں کا گزر ہوتا ہو اس غرض سے مت بیٹھو کہ ان کو مار کر اور ڈرا کر غربا کے کپڑے چھین کر اور شعیب ؑ پر جو ایمان لائے ہیں ان کو دین الہی اور اطاعت الہی سے روک کر اس میں کجی کی تلاش میں لگے رہو اور تعداد میں تم کم تھے ہم نے اس میں زیادتی کردی اور دیکھو کہ تم سے پہلے مشرکوں کا انجام سوائے ہلاکت اور بربادی کے اور کیا ہوا ذرا ٹھہرجاؤ ! تمہارے درمیان عذاب الہی سے فیصلہ ہوا چاہتا ہے۔
Read the full tafseer →وَلَا تَقْعُدُوْا بِكُلِّ صِرَاطٍ۔۔ : یہ لوگ راستوں پر ناکے لگا کر لوگوں سے زبردستی ٹیکس وصول کرتے، کبھی ڈرا دھمکا کر ان کی بےعزتی کرتے اور ان کا سب کچھ ہی چھین لیتے۔ اگر کوئی شعیب ؑ پر ایمان لانے کی طرف مائل نظر آتا تو اسے ہر طرح سے روکنے کی کوشش کرتے اور اسلام کے احکام میں طرح طرح کی خرابیاں نکال کر اور شبہات پیدا کرکے ثابت کرنے کی کوشش کرتے کہ یہ سیدھا نہیں بلکہ غلط راستہ ہے، جیسا کہ آج کل بھی نام کے وہ مسلمان دانش ور، صحافی، پروفیسر اور حکمران جو کفار سے مرعوب ہیں اسلام کے احکام کو وحشیانہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ شعیب ؑ نے انھیں ان برائیوں سے روکا اور اللہ تعالیٰ کا احسان یاد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–87
اس میں چار مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر۔ 1
قولہ تعالیٰ : آیت : والی مدین مدین کے بارے میں کہا گیا ہے کہ یہ بلد اور رقطر کا نام ہے (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 426 ) ۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ قبیلہ کا نام ہے جیسے بکر اور تمیم قبیلوں کے نام ہیں۔ اور یہ قول بھی ہے کہ وہ مدین بن ابراہیم الخلیل (علیہ السلام) کی اولاد میں سے تھے۔ پس جن کی رائے ہے کہ مدین آدمی کا نام ہے ان کے نزدیک یہ غیر منصرف ہے، کیونکہ اس میں معرفہ اور عجمہ پائے جاتے ہیں۔ اور جن کی رائے ہے کہ یہ قبیلہ یا زمین کا نام ہے تو یہ زیادہ مناسب ہے کہ وہ اسے منصرف قرار نہ دیں۔ مہدوی نے کہا ہے : یہ روایت ہے کہ یہ حضرت لوط (علیہ السلام) کی بیٹی کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–93
توراۃ میں شعیب (علیہ السلام) کا نام
(1) امام ابن عساکر نے اسحاق بن بشیر (رح) سے روایت کیا کہ مجھ کو عبید اللہ بن زیاد بن سمعان (رح) نے ایک اس شخص سے مجھ کو خبر دی جو کتاب کو پڑھنے والا تھا کہ اہل تورات گمان کرتے ہیں کہ شعیب کا نام تورات میں میکائل ہے اور ان کا نام سریانی زبان میں جزی بن بشخر ہے اور عبرانی زبان میں شعیب بن بشخر بن لاوی بن یعقوب (علیہ السلام) ہے۔
(2) امام ابن عساکر نے اسحاق بن بشر کے طریق سے شرق بن قطامی (رح) سے روایت کی ہے کہ جو علم انساب کے ماہر سعید عالم تھے انہوں نے فرمایا کہ شیعب (علیہ السلام) کا نام عبرانی زبان میں یثرب ہے اور شعیب عربی زبان میں ابن عیفا بن یوبب بن…
Read the full tafseer →[ وَلَا تَقْعُدُوْا : تم لوگ مت بیٹھو ] [ بِكُلِّ صِرَاطٍ : ہر ایک راہ پر ] [ تُوْعِدُوْنَ : دھمکی دیتے ہوئے ] [ وَتَصُدُّوْنَ : اور روکتے ہوئے ] [ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ : اللہ کی راہ سے ] [ مَنْ : اس کو جو ] [ اٰمَنَ : ایمان لایا ] [ بِهٖ : اس پر ] [ وَتَبْغُوْنَهَا : اور تلاش کرتے ہوئے اس میں ] [ عِوَجًا : کوئی کجی ] [ وَاذْكُرُوْٓا : اور یاد کرو ] [ اِذْ : جب ] [ كُنْتُمْ : تم لوگ تھے ] [ قَلِيْلًا : تھوڑے سے ] [ فَكَثَّرَكُمْ : پھر اس نے کثرت دی تم کو ] [ وَانْظُرُوْا : اور غور کرو ] [ كَيْفَ : کیسا ] [ كَانَ : تھا ] [ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِيْنَ : نظم بگاڑنے والوں کا انجام ]
ترکیب :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 86–88
حضرت شعیب (علیہ السلام) کی قوم کا اہل ایمان کو کفر میں واپس آنے کی دعوت دینا اور تکذیب کی وجہ سے ہلاک ہونا
جو قوم کے سردار ہوتے ہیں وہ متکبر بھی ہوتے ہیں متکبر سرداروں نے حضرت شعیب (علیہ السلام) سے کہا کہ اے شعیب ہم تجھے اور ان لوگوں کو جو تیرے ساتھ ہیں اپنی بستی سے نکال دیں گے یا یہ کہ تم ہمارے دین میں واپس آجاؤ۔ انہوں نے جواب دیا کہ ہم تمہارے دین میں کیسے آسکتے ہیں جبکہ ہم اسے برا جانتے ہیں۔ خدا نخواستہ اگر ہم تمہارے دین میں واپس آجائیں تو اس کا معنی یہ ہوگا کہ ہم نے اس کے بعد اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھا جبکہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس سے نجات دی یعنی اگر ہم پھر تمہارا دین اختیار کرلیں تو اس کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–87
قصہ پنجم شعیب (علیہ السلام) با قوم او
قال اللہ تعالیٰ ٰ والی مدین اخاھم شعیبا۔۔۔ الی۔۔۔ وھو خیر الحکمین
(ربط) یہ پانچواں قصہ حضرت شعیب (علیہ السلام) کا ہے جو قوم لوط کی تباہی کے بعد پیش آیا۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) مدین کی طرف مبعوث ہوئے۔ مدین اصل میں حضرت ابراہیم کے ایک بیٹے کا نام ہے جو ملک عرب میں آکر آباد ہوگئے تھے ان کی نسل کے لوگ اس جگہ رہتے تھے اس لیے اس بستی کو یا اس قبیلہ کو مدین کہا جاتا ہے مدین کا اطلاق قبیلہ اور شہر دونوں پر آتا ہے اور یہ قبیلہ حجاز میں شام کے قریب آباد تھا یہ حجاز کا آخری حصہ ہے اسی قبیلہ میں سے اللہ تعالیٰ نے شعیب (علیہ السلام) کو ان کی طرف نبی بنا کر بھیجا۔…
Read the full tafseer →91: حضرت ابن عباس، قتادہ، مجادہ اور سدی سے منقول ہے کہ قوم شعیب (علیہ السلام) کے مشرکین شہر میں آنیوالے تمام راستوں پر بیٹھ جاتے اور جو لوگ حضرت شعیب (علیہ السلام) کی خدمت میں حاضر ہونے کے لیے آتے ان کو روک لیتے۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) کو عیاذاً باللہ کذاب (بڑا جھوٹا) کہہ کر ان کو بد ظن کرنے کی کوشش کرتے اور ساتھ ہی ان کو قتل کرنے کی دھمکی بھی دیتے۔ کانوا یقعدون علی الطرقات المفضیۃ الی شعیب فیتوعدون من اراد المجئ الیہ و یصدونہ و یقولون انہ کذاب فلا تذھب الیہ، کما کانت قریش مکۃ تفعلہ مع النبی ﷺ و ھذا ظاھر (قرطبی ج 7 ص 279) جیسا کہ قریش مکہ آنحضرت ﷺ کے پاس حاضر ہونیوالوں سے کیا کرتے تھے۔
92 یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–87
ربط آیات
تبلیغ رسالت کے سلسلے میں اس سے پہلے حضرت نوح (علیہ السلام) ، حضرت ہود (علیہ السلام) ، حضرت صالح (علیہ السلام) اور حضرت لوط (علیہ السلام) کا تذکرہ ہوچکا ہے اب پانچویں نمبر پر اللہ تعالیٰ نے حضرت شعیب (علیہ السلام) کا حال بیان فرمایا ہے اگرچہ ان انبیاء کی پوری تفصیلات تو یوں بیان نہیں کی گئیں تاہم یہ ان کی تاریخ کے بعض اہم حصے ہیں شعیب (علیہ السلام) اور ان کی قوم کے واقعات سورة ، سورة شعراء اور بعض دیگر سورتوں میں بھی بیان ہوئے ہیں ان واقعات سے یہ بتانا مقصود ہے کہ اللہ تعالیٰ کے انبیاء نے کس قدر نامساعد حالات میں تبلیغ کا حق ادا کیا اور لوگوں تک خدا کا پیغام پہنچایا امت آخر الزمان کو…
Read the full tafseer →وَاِنْ كَانَ طَاۗىِٕفَۃٌ مِّنْكُمْ اٰمَنُوْا بِالَّذِيْٓ اُرْسِلْتُ بِہٖ وَطَاۗىِٕفَۃٌ لَّمْ يُؤْمِنُوْا فَاصْبِرُوْا حَتّٰي يَحْكُمَ اللہُ بَيْنَنَا 0 ۚ وَہُوَخَيْرُ الْحٰكِمِيْنَ 87
طَّائِفَةُ
وَالطَّائِفَةُ من الناس : جماعة منهم، ومن الشیء : القطعة منه، وقوله تعالی:
فَلَوْلا نَفَرَ مِنْ كُلِّ فِرْقَةٍ مِنْهُمْ طائِفَةٌ لِيَتَفَقَّهُوا فِي الدِّينِ [ التوبة/ 122] ، قال بعضهم : قد يقع ذلک علی واحد فصاعدا وعلی ذلک قوله : وَإِنْ طائِفَتانِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ [ الحجرات/ 9] ، إِذْ هَمَّتْ طائِفَتانِ مِنْكُمْ [ آل عمران/ 122] ، والطَّائِفَةُ إذا أريد بها الجمع فجمع طَائِفٍ ، وإذا أريد بها…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–86
ترکیب : لاتبخسوا دو مفعول کی طرف متعدی ہے ایک الناس ہے دوسرا اشیاء ھم۔ تو عدون و تصدون حال ہیں ضمیر تقعدوا سے من امن تصدون کا مفعول النجس نقص۔
تفسیر : یہ پانچواں قصہ حضرت شعیب (علیہ السلام) کا ہے جو لوط (علیہ السلام) کے واقعہ عبرت خیز کے بعد گذرا۔ مدین عرب کے شمالی و مغربی حصہ میں ان بیابانوں میں ایک بستی ہے جہاں کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) قلزم کو عبور کرکے کوہ سینا اور اس کے اطراف میں بنی اسرائیل کو لئے پھرتے تھے۔
مدین حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ایک بیٹے کا نام ہے جو ملک عرب میں آرہے تھے۔ اس لئے اس بستی یا قبیلہ کو مدین کہتے تھے۔ انہیں میں سے ایک شخص حضرت شعیب بن صیفون بن عیفا بن ثابت بن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–86
مشرکین مکہ اور دوسرے لوگوں کو عبرت دلانے کے لیے چار معذب قوموں کا تذکرہ ہوچکا۔ اب پانچویں قوم قوم شعیب کا تذکرہ کیا جا رہا ہے۔
ارشاد ہوتا ہے :
وَاِلٰی مَدْیَنَ اَخَاھُمْ شُعَیْبًا ط قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللہ َ مَالَکُمْ مِّنْ اِلٰہٍ غَیْرُہٗ ط قَدْ جَآئَتْکُمْ بَیِّنَۃٌ مِّنْ رَّبِّکُمْ فَاَوْفُوا الْکَیْلَ وَالْمِیْزَانَ وَلَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْیَآئَھُمْ وَلَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلَاحِھَا ط ذٰلِکُمْ خَیْرٌ لَّکُمْ اِنْ کُنْتُمْ مُّؤمِنِیْنَ ۔ وَ لاَ تَقْعُدُوما بِکُلِّ صِرَاطٍ تُوْعِدُوْنَ وَ تَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللہِ مَنْ اٰمَنَ بِہٖ وَ تَبْغُوْنَھَا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–87
فہم القرآن
حضرت شعیب (علیہ السلام) :
حضرت شعیب (علیہ السلام) کو مؤرخین اور سیرت نگاروں نے خطیب الانبیاء کے نام سے یاد کیا ہے۔ آپ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بیٹے ” مدیان “ کی اولاد سے تعلق رکھتے ہیں۔ جس کی بنا پر ان کو قوم مدین کہا جاتا ہے۔ اس قوم کا سب سے بڑا شہر ان کے قومی نام مدین سے ہی معروف تھا۔ اس لیے قرآن مجید نے انھیں اہل مدین کے نام سے پکارا ہے۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) کو ان کی قوم میں ہی رسول مبعوث کیا گیا تاکہ آپ اپنی قوم کو راہ راست پر لانے کی جدوجہد فرمائیں۔
اہل مدین کو قرآن میں اصحاب الایکہ بھی کہا گیا ہے۔ (الشعراء : 176)
اہل مدین کا عقیدہ اور گھناؤنا کردار :
1۔ اہل مدین بھی…
Read the full tafseer →قوم کا مزاج ڈاکہ زنی :
آیت 86: وَلَا تَقْعُدُ وْا بِکُلِّ صِرَاطٍ (اور تم سڑکوں پر اس غرض سے مت بیٹھا کرو) ہر راستے پر تُوْعِدُوْنَ (کہ دھمکیاں دو ) ان کو جو شعیب ( علیہ السلام) پر ایمان لاتے ہیں سزا کے ساتھ۔ وَتَصُدُّّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ مَنْ ٰامَنَ بِہٖ (اور ایمان والوں کو اللہ کی راہ سے روکو) عبادت سے مومنوں کو اور یہ بھی قول ہے کہ وہ راستے پر ڈاکے ڈالتے دوسرا قول یہ ہے کہ چنگی وصول کرتے۔ وَتَبْغُوْنَھَا عِوَجًا (اور اس میں کجی کی تلاش میں لگے رہو) اللہ تعالیٰ کی راہ کے لیے تم ڈھونڈتے ہو۔ یعنی اس کے متعلق لوگوں کو کہتے ہو کہ یہ ٹیٹرھا راستہ ہے درست و سیدھا نہیں ہے تاکہ لوگ اس پر…
Read the full tafseer →تفسیر 86(ولا تقعدوا بکل صراط) ہر راستے پر (توعدون) ڈرانے کی غرض سے (وتصدون عن سبیل اللہ) اور مت بیٹھو راستوں پر یہ راستے پر کہ ڈرائو دھمکیاں دو اور روکو اللہ کے راستے سے اللہ کے دین سے۔ (من امن بہ وتبغونھا عوجاً ) بعض نے کہا کہ تم دین میں عیب تلاش کرتے ہو اور سیدھے راستے سے نکلنے کا طریقہ کیونکہ وہ رساتوں پر بیٹھ جاتے تھے اور جو شخص شعیب (علیہ السلام) پر ایمان لانے کا ارادہ کرتا۔ اس کو کہتے کہ شعیب (علیہ السلام) جھوٹا ہے وہ تجھے تیرے دین سے نہ پھسلا دے اور مئومنین کو قتل کی دھمکیاں دیتے تھے (واذکروا اذکنتم قلیلاً فکثرکم ) تمہاری تعداد زیادہ کی (وانظروا کیف کان عاقبۃ المفسدین) یعنی لوط (علیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–93
(85 ۔ 93) ۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) کی امت میں مفسروں کا اختلاف ہے بعضے کہتے ہیں کہ حضرت شعیب ( علیہ السلام) کی روایتوں میں اور سوا حضرت شعیب ( علیہ السلام) کے اور کوئی نبی دو امتوں کی ہدایت کے لئے نہیں بھیجا گیا ایک امت ان کی یہ قبیلہ ہے جس کا نام مدین ہے اور حضرت شعیب ( علیہ السلام) بھی اسی قبیلہ میں کے ہی اسی واسطے اللہ تعالیٰ نے حضرت شعیب ( علیہ السلام) کو اس قبیلہ کا بھائی فرمایا ہے اور دوسری امت بن کے رہنے والے لوگ ہیں جن سورة شعراء میں اصحاب الایکہ فرمایا ہے اور بعضے مفسر کنویں والے لوگوں کو بھی جن کو سورة فرقان اور سورة قاف میں اصحاب الرس فرمایا ہے ان کی ہی امت میں شمار کر کے یوں کہتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–86
آیت 80
(ولوطا) یعنی ہمارے بندے لوط کا ذکر کیجیے جب ہم نے ان کو ان کی قوم کی طرف مبعوث کیا کہ وہ انہیں صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کا حکم دیں اور انہیں اس برائی سے روکیں جو پورے جہاں میں ان سے پہلے کسی نے نہیں کی۔ لوط نے کہا (اتاتون الفاحشۃ) ” کیا تم کرتے ہو ایسی بےحیائی “ یعنی تم ایک ایسے گناہ کا ارتکاب کرتے ہوئے جس کی قباحت اتنی زیادہ ہے کہ فواحش کی تمام اقسام کو اس نے اپنے اندر سمیٹ لیا ہے۔ (ماسبقکم بھامن احدمن العلمین) ” کہ تم سے پہلے نہیں کیا اس کو کسی نے جہان میں “ اس کا فحش ہونا قبیح ترین چیز ہے اور یہ کہ اس قبیح فعل کو ان لوگوں نے شروع کر کے بعد میں آنے والوں کے لئے رواج دیا تھا، اس سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–141
دعا کا طریقہ
قول باری ہے وادعواربکم تضرعاً عاوخفیۃ۔ اپنے رب کو پکارو گڑگڑاتے ہوئے اور چپکے چپکے) آیت میں چپکے چپکے رب کو پکارنے کا حکم ہے حسن کا قول ہے کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے تمہیں اس بات کی تعلیم دی ہے کہ تم اپنے رب کو کس طرح پکارو۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک عہد صالح کا ذکر فرمایا جس کی پکار کو اس نے پسند فرمایا تھا چناچہ ارشاد ہے اذنادی ربہ نداء خفیا۔ جبکہ اس نے اپنے رب کو چپکے چپکے پکارا) یعنی حضرت زکریاعلیہ السلام عبداللہ بن المبارک نے حسن بصری سے روایت کی ہے کہ لوگ یعنی صحابہ کرام بڑی عاجزی اور نیاز مندی کے ساتھ دعائیں مانگا کرتے تھے اور صرف سرگوشی کی آواز سنائی دیتی تھی۔ حضرت…
Read the full tafseer →120 راہ حق سے روکنا اہل باطل کا پرانا طریقہ و وطیرہ : روایات کے مطابق وہ لوگ راستوں پر بیٹھ کر دوسروں کو حضرت شعیب تک پہنچنے سے روکتے اور انہیں طرح طرح کی دھمکیاں دیتے تھے۔ اس لئے ان کو اس فعل شنیع سے روکا اور منع کیا گیا۔ (جامع البیان، صفوۃ التفاسیر وغیرہ) ۔ سو دین حق اور دعاۃِ حق سے روکنا اہل کفر و باطل کا پرانا طریقہ ہے جو جب سے اب تک جوں کا توں موجود ہے۔ اور اس کے مظاہر آج بھی جگہ جگہ اور طرح طرح سے نظر آتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف حضرت شعیب نے اپنی قوم کے ان کھڑپنچوں اور متکبر سرداروں کے ضمیروں کو دستک دیتے ہوئے ان سے فرمایا کہ تم لوگ اپنی اس طرح کی معاندانہ اور سرکشانہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–87
مدین کا انجام اور سبق آموز بیان
تشریح : مدین کا اصل علاقہ حجاز کے شمال مغرب میں ہے اس کے جنوب میں بحر احمر اور خلیج عقبہ کے کنارے واقع تھا۔ یہ بہت بڑی تجارت پیشہ قوم تھی۔ قدیم زمانہ میں تجارتی شاہراہ جو یمن، مکہ اور ہنبوع سے ہوتی ہوئی شام تک جاتی تھی۔ دوسری شاہراہ جو عراق سے مصر کو جاتی تھی۔ اسکے عین چورا ہے پر ان کی بستیاں آباد تھیں اسی لیے مدین کافی مشہور جگہ تھی۔ اور پھر بعد میں عربوں کے تجارتی قافلے مصر و شام جاتے ہوئے مدین کے کھنڈرات کے بیچ میں سے گزرتے تھے اہل مدین سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کے صاحبزادے مدیان کی طرف منسوب ہیں اس قوم کو دین حق کی آواز سیدنا شعیب (علیہ السلام) کے ذریعے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–87
رکوع نمبر 11 ۔ آیات 85 تا 87 ۔
اسرار ومعارف :
پھر اہل مدین آباد ہوئے یہ قوم بڑھی مفسرین کے مطابق مدین بھی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بیٹے تھے ان کی اولاد بھی اور آبادی بھی مدین ہی کہلائی یہ خوب پھولے پھلے تو نفس نے انہیں دولت جمع کرنے کے لالچ میں مبتلا کردیا چناچہ انہوں نے ناپ تول میں کمی اور لوٹ کھسوٹ کو وطیرہ بنا لیا راستوں پر لوگوں کو لوٹ لیتے یا ناجائز ٹیکس لگا کر دولت بڑھانے کی فکر میں رہتے رحمت باری نے ان کی دستگیری فرمائی اور حضرت شعیب (علیہ السلام) کو مبعوث فرما دیا ان کی بھی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت لوط (علیہ السلام) سے رشتہ داری تھی اور مدین والوں کے نسبی بھائی تھے…
Read the full tafseer →ف 8 حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ حضرت شعیب ( علیہ السلام) کی قوم کے بد معاش لوگ راستوں میں بیٹھے رہتے وار جو لوگ حضرت شعیب ( علیہ السلام) کے پاس دین سیکھنے کے لیے آتے انہیں ڈراتے اور کبھی ان سے کہتے کہ یہ شخص جھوٹا ہے اس کے پاس مت جا و ( ابن جریر)9 یعنی تمہاری نسل بڑھائی یا تم مفلس تھے اس نے تمہیں مالدار کیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 86–87
(7:86) لاتفعدوا۔ فعل نہی جمع مذکر حاضر۔ تم نہ بیٹھو۔ تم نہ بیٹھا کرو۔ قعود سے بمعنی بیٹھنا۔ (باب نصر) ۔
توعدون۔ تم ڈراتے ہو۔
لاتقعدوا۔ توعدون۔ تمام راستوں پر مت بیٹھو کہ لوگوں کو (شعیب (علیہ السلام) اور حق پر ایمان لانے سے) ڈراؤ۔ یعنی شعیب (علیہ السلام) اور احق پر ایمان لانے کے تمام راستوں کو دھمکیوں اور تہدید سے بند مت کرو۔ کل طریق سے مطلب کل طریق من الحق والدین (حق اور دین کی طرف جانے والے تمام راستے) ۔
وتصدون عن سبیل اللہ من امن بہ۔ (ای ولا تقعدوا بکل صراط تصدون عن سبیل اللہ من امن بہ۔ ای ولا تمنعوا من یرید الایمان باللہ۔ اور جو اللہ پر ایمان لانا چاہتا ہے اس کو خدا کی راہ سے روکنے کے لئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–87
لغات القرآن آیت نمبر (85 تا 87 ) ۔
ارفوا (پورا کرو) ۔ الکیل (ماپ) ۔ المیزان (تول) ۔ لا تبخسوا (نہ گھٹاؤ) ۔ لا تقعدوا (تم نہ بیٹھو ) ۔ صراط (راستہ ) ۔ توعدون (تم ڈراتے ہو ) ۔ تصدون (تم روکتے ہو ) ۔ تبغون (تم تلاش کرتے ہو ) ۔ عوج (کجی۔ ٹیڑ ھاپن) ۔ کثر (اس نے بہت کردیا ) ۔ طائفتہ (جماعت۔ گروہ) ۔ ارسلت ( بھیجی گئی) ۔ حتی یحکم اللہ (یہاں تک کہ اللہ فیصلہ کردے گا ) ۔
تشریح : آیت نمبر (85 تا 87) ۔ ” گاہک کو نقصان پہنچانے کے نہ جانے کتنے طریقے ان دنوں رائج تھے اور آج بھی رائج ہیں ڈندی مارنا، نمونہ کچھ مال کچھ بلیک ماکٹنگ، ذخیرہ اندوزی، لازمی اشیا کا بازار سے غائب کر ادینا۔ کارنر کرنا سینڈی کیٹ بنانا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 86–88
قوم شعیب کی ہلاکت
مطلب یہ ہے کہ حضرت شعیب (علیہ السلام) پر جو ایمان لائے تھے وہ بیشتر غریب تھے۔ اس لئے ایک روز وہاں کے سرداروں نے متفق ہوکر حضرت شعیب (علیہ السلام) سے کہا کہ یا تو آپ مع اپنے ہمراہیوں کے پھر ہمارے مذہب و طریقہ کو اختیار کرلیں ورنہ ہمارے شہر سے نکل جاویں۔ اگرچہ ابتدائے عمر سے حضرت شعیب (علیہ السلام) ان کی ملت و مذہب پرستی کے شریک نہ تھے مگر نبوت اور منادی (اعلان) سے پہلے ان کی سکونت کو وہ اپنے مذہب و ملت میں شامل رہنا خیال کرتے تھے۔ جس لئے پھر انہوں نے ملت میں لوٹ آنے لفظ استعمال کیا۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) نے کہا :” ہم کو اس مذہب سے نفرت ہے ہم سے کب ہوسکتا ہے کہ پھر اس میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 86–102
[41] یعنی یہ لوگ مبتلائے مصیبت ہو کر ایمان لانے کا عہد کرتے اور کہتے کہ اگر ہمیں اس سے نجات مل گئی تو ہم ضرور ایمان لائیں گے پھر جب نجات پاتے تو عہد سے پھرجاتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–87
حضرت شعیب (علیہ السلام)
(ف 1) مدین والوں میں یہ نقص تھا کہ وہ لین دین میں ایماندار نہیں تھے ،
حضرت شعیب (علیہ السلام) نے توحید کے بعد معاملات کی طرف توجہ کی ، اور کہا یہ بددیانتی جائز نہیں ، اس سے اخلاق بگڑتے ہیں ، تم اگر مومن ہو تو ناپ اور تول میں کوئی فریب دغا نہ کرو ، کیونکہ ایمان کا تعلق صرف عبادت اور عبادت گاہ سے نہیں ، بلکہ چھوٹے چھوٹے کاموں میں سے بھی ایمان کا اظہار ہونا چاہئے ، اگر مسجد میں ذکر خدا ہے تو ہاٹ میں بیٹھ کر بھی اسے فراموش نہ کرو ، اور حقیقت میں یہی سچا مذہب ہے ، جو تمہاری ایک ایک بات سے عیاں ہو ، طویل عبادتیں مشکل ریاضتیں معاملات کی صفائی نہ ہو ، تو کوئی قیمت نہیں…
Read the full tafseer →86 اور تم ہر راستے پر اس غرض سے نہ بیٹھا کرو کہ جو شخص دین حق کو قبول کرنے کی غرض سے آئے اس کو ڈرائو اور قتل کی دھمکیاں دو اور لوگوں کو اللہ کے صحیح راستے سے روکو اور اس صحیح راہ اور سیدھے راستے میں شکوک و شبہات پیدا کرو اور اس راہ میں ٹیڑھا پن اور کجی تلاش کرنے کے درپے ہو اور دیکھو اس موقعہ کو یاد کرو جب تمہاری تعداد کم تھی پھر اللہ تعالیٰ نے تمہاری اکثریت کردی اور تم کو بڑھا دیا اور اس بات کو دیکھو کہ فساد برپا کرنے والوں کا انجام کیا ہوا اور کیسا ہوا۔
یعنی مدین والوں کی یہ حرکت بہت ہی بری تھی کہ جو لوگ حضرت شعیب (علیہ السلام) کی خدمت میں دین حق کو سمجھنے اور قبول کرنے کی غرض سے آتے ان کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–87
ف 1۔ قرآن میں شعیب (علیہ السلام) کا اہل مدین اور اصحاب ایکہ کی طرف مبعوث ہونا اور اہل مدین پر کہیں صیحہ اور کہیں رجفہ کا عذاب اور اصحاب ایکہ پر ظلہ کا عذاب ہونا مذکور ہے بعض نے تو دونوں قوموں کو ایک ہی کہا ہے اور بعض نے تو دونوں قوموں کو ایک ہی کہا ہے اور بعض نے الگ الگ کہا ہے کہ ایک قوم یعنی اہل مدین کے ہلاک کے بعد دوسروں کی یعنی اصحاب ایکہ کی طرف جو مدین کے قریب رہتے تھے اور اس قرب کی وجہ سے ان میں بھی کم تولنے ناپنے کا مرض تھا مبعوث ہوئے اور اکثر کا قول یہی ہے اور انواع عذاب میں دو کا یا تینوں کا جمع ہوجانا کچھ مستبعد نہیں اور بعد ہلاک ان کفار کے آپ مکہ میں آرہے تھے اور وہاں ہی وفات پائی…
Read the full tafseer →شعیب (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کے مختلف احسانات کا ذکر بھی کیا :
97: شعیب (علیہ السلام) نے فرمایا کہ اللہ کے احسانات کو یاد کرو کہ تم کو اس نے کس قدر انعامات دئیے ہیں کل تک ممکن ہے کہ تم کو ان بد اخلاقوں کی برائیوں کا حال معلوم نہ ہوا ہو مگر آج تمہارے پاس اللہ کی طرف سے حجت وبرہان آچکی ہے اب جہل و نادانی ، عفو و درگزر کے قابل نہیں ہے۔ حق کو قبول کرو اور باطل سے باز آئو کہ یہی کامرانی اور کامیابی کی راہ ہے اور اللہ کی زمین میں فتنہ و فساد نہ کرو جب کہ اللہ تعالیٰ نے اس کی صلاح و خیر کے تمام سامان مہیا کر دئیے اگر تم میں ایمان و یقین کی صداقت موجود ہے تو سمجھ لو کہ یہی فلاح و بہبود کی راہ ہے…
Read the full tafseer →In the last sentence of verse 86, it was said: وَاذْكُرُوا إِذْ كُنتُمْ قَلِيلًا فَكَثَّرَكُمْ ۖ وَانظُرُوا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِينَ. (And remember the time when you were few, then He increased you in number. And look, how was the fate of mischief makers). The twin aspects of persuasion and intimidation were employed to warn these people. The first was persuasion when they were reminded of the blessing of Allah who increased their insignificant numbers to become a large nation, or changed their economic weakness into need-free financial strength. Then, to chasten them through…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 86–89
73. This phrase signifies substantively what is meant by the commonly used Islamic formula In-sha' Allah ('If Allah so wills'). Its meaning is evident from al-Kahf 18: 23-4, in which the believers are directed not to make definitive statements about what they will do without making such actions contingent on God's will. This is understandable since a believer firmly believes in God's power and is ever conscious that his destiny is inalienably tied to God's will. It is impossible for such a person to make foolish statements about what he will do and what he will not do. He is bound to make it…
Read the full tafseer →