Al-A'raaf 7:85

Al-A'raaf · from ayah 85

7:85

وَاِلٰی مَدْیَنَ اَخَاهُمْ شُعَیْبًا ؕ— قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ ؕ— قَدْ جَآءَتْكُمْ بَیِّنَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ فَاَوْفُوا الْكَیْلَ وَالْمِیْزَانَ وَلَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْیَآءَهُمْ وَلَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلَاحِهَا ؕ— ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ ۟ۚوَاِلٰى مَدۡيَنَ اَخَاهُمۡ شُعَيۡبًا‌ ؕ قَالَ يٰقَوۡمِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ مَا لَـكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرُهٗ‌ ؕ قَدۡ جَآءَتۡكُمۡ بَيِّنَةٌ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ‌ فَاَوۡفُوا الۡكَيۡلَ وَالۡمِيۡزَانَ وَلَا تَبۡخَسُوا النَّاسَ اَشۡيَآءَهُمۡ وَلَا تُفۡسِدُوۡا فِى الۡاَرۡضِ بَعۡدَ اِصۡلَاحِهَا‌ ؕ ذٰ لِكُمۡ خَيۡرٌ لَّـكُمۡ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ‌

اور مَدین کی طرف ان کے بھائی شعیب کو بھیجا۔ (تو) انہوں نے کہا کہ قوم! خدا ہی کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے نشانی آچکی ہے تو تم ناپ تول پوری کیا کرو اور لوگوں کو چیزیں کم نہ دیا کرو۔ اور زمین میں اصلاح کے بعد خرابی نہ کرو۔ اگر تم صاحب ایمان ہو تو سمجھ لو کہ یہ بات تمہارے حق میں بہتر ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And to [the people of] Madyan [We sent] their brother Shu'ayb. He said, "O my people, worship Allah; you have no deity other than Him. There has come to you clear evidence from your Lord. So fulfill the measure and weight and do not deprive people of their due and cause not corruption upon the earth after its reformation. That is better for you, if you should be believers.

— Saheeh International

Juz 8 · Ruku 11 of surah · Ruku 18 of juz

Read the whole surah · Surah Al-A'raaf

All translations of 7:85

اور مدین والوں کی طرف ہم نے ان کے بھائی شعیبؑ کو بھیجا اس نے کہا "اے برادران قوم، اللہ کی بندگی کرو، اُس کے سوا تمہارا کوئی خدا نہیں ہے تمہارے پاس تمہارے رب کی صاف رہنمائی آ گئی ہے، لہٰذا وزن اور پیمانے پورے کرو، لوگوں کو اُن کی چیزوں میں گھاٹا نہ دو، اور زمین میں فساد برپا نہ کرو جب کہ اس کی اصلاح ہو چکی ہے، اسی میں تمہاری بھلائی ہے اگر تم واقعی مومن ہو

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور مَدین کی طرف ان کے بھائی شعیب کو بھیجا۔ (تو) انہوں نے کہا کہ قوم! خدا ہی کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے نشانی آچکی ہے تو تم ناپ تول پوری کیا کرو اور لوگوں کو چیزیں کم نہ دیا کرو۔ اور زمین میں اصلاح کے بعد خرابی نہ کرو۔ اگر تم صاحب ایمان ہو تو سمجھ لو کہ یہ بات تمہارے حق میں بہتر ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور ہم نے مدین کی طرف ان کے بھائی شعیب ؑ کو بھیجا۔ انہوں نے فرمایا اے میری قوم! تم اللہ کی عبادت کرو اس کے سوا کوئی تمہارا معبود نہیں، تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے واضح دلیل آچکی ہے۔ پس تم ناپ اور تول پورا پورا کیا کرو اور لوگوں کو ان کی چیزیں کم کرکے مت دو اور روئے زمین میں، اس کے بعد کہ اس کی درستی کردی گئی، فساد مت پھیلاؤ، یہ تمہارے لئے نافع ہے اگر تم تصدیق کرو

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور مدین کی طرف ہم نے ان کے بھائی شعیب کو بھیجا۔ انہوں نے کہا : اے میری قوم کے لوگو ! اللہ کی عبادت کرو۔ اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں ہے۔ تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے ایک روشن دلیل آچکی ہے۔ لہذا ناپ تول پورا پورا کیا کرو۔ اور جو چیزیں لوگوں کی ملکیت میں ہیں ان میں ان کی حق تلفی نہ کرو۔ اور زمین میں اس کی اصلاح کے بعد فساد برپا نہ کرو۔ لوگو ! یہی طریقہ تمہارے لیے بھلائی کا ہے، اگر تم میری بات مان لو۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور مدین کی طرف ان کی برادری سے شعیب کو بھیجا کہا اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں، بے شک تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے روشن دلیل آئی تو ناپ اور تول پوری کرو اور لوگوں کی چیزیں گھٹا کر نہ دو اور زمین میں انتظام کے بعد فساد نہ پھیلاؤ، یہ تمہارا بھلا ہے اگر ایمان لاؤ،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور مدین کی طرف (ہم نے) ان کے (قومی) بھائی شعیب ؑ کو (بھیجا)، انہوں نے کہا: اے میری قوم! تم اﷲ کی عبادت کیا کرو، اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں، بیشک تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے روشن دلیل آچکی ہے سو تم ماپ اور تول پورے کیا کرو اور لوگوں کو ان کی چیزیں گھٹا کر نہ دیا کرو اور زمین میں اس (کے ماحولِ حیات) کی اصلاح کے بعد فساد بپا نہ کیا کرو، یہ تمہارے حق میں بہتر ہے اگر تم (اس الُوہی پیغام کو) ماننے والے ہو،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور مدین کی طرف ان کے بھائی شعیب کو (بھیجا) ، اس نے کہا اے میری قوم ! اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں، بیشک تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے ایک واضح دلیل آچکی۔ پس ماپ اور تول پورا کرو اور لوگوں کو ان کی چیزیں کم نہ دو اور زمین میں اس کی اصلاح کے بعد فساد نہ پھیلاؤ، یہ تمہارے لیے بہتر ہے، اگر تم مومن ہو۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور اہل مدین کی طرف ہم نے ان کے بھائی شعیب کو (بھیجا) اس نے کہا : اے میری قوم ! اللہ کی عبادت کرو تمہارے لیے اس کے سوا کوئی الٰہ نہیں۔ تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے ایک واضح دلیل آچکی ہے لہذا ناپ اور تول پورا رکھا کرو اور لوگوں کو ان کی چیزیں کم نہ دیا کرو۔ اور زمین میں اصلاح ہوجانے کے بعد اس میں بگاڑ پیدا نہ کرو۔ یہی بات تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم واقعی مومن ہو

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور مدین کی طرف ہم نے ان کے بھائی شعیب کو بھیجا، اس نے دعوت دی، اے میرے ہم قومو، اللہ ہی کی بندگی کرو، اس کے سوا کوئی تمہارا معبود نہیں، تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے واضح حجت آچکی ہے تو ناپ تول پوری کرو، لوگوں کی چیزوں میں کوئی کمی نہ کرو اور زمین میں، اس کی اصلاح کے بعد، فساد نہ برپا کرو، یہی تمہارے حق میں بہتر ہے اگر تم ایمان لانے والے ہو

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور مدین کی طرف ان کے بھائی شعیب کو بھیجا، انہوں نے بھی یہی دعوت دی کہ اے میری قوم ! تم اللہ ہی کی بندگی کرو کہ اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں، بلاشبہ آچکی تمہارے پاس، ایک روشن دلیل، تمہارے رب کی جانب سے، پس تم پورا کرو ناپ اور تول کو، اور کم کر کے نہ دو لوگوں کو ان کی چیزیں، اور فساد مت پھیلاؤ تم لوگ (اللہ کی) زمین میں، اس کی اصلاح کے بعد، یہی (جو کچھ میں کہہ رہا ہوں) بہتر ہے تمہارے لئے اگر تم لوگ ایماندار ہو،

— مولانا اسحاق مدنی

اور مدین کی طرف (ہم نے) ان کے بھائی شعیب ؑ کو (بھیجا) ۔ انہوں نے کہا اے میری قوم والو ! اللہ ہی کی پرستش کرو بجز اس کے تمہارا کوئی معبود نہیں اب تو تمہارے پاس کھلا نشان بھی تمہارے پروردگار کی طرف سے آچکا۔ سو تم ناپ اور تول پوری کیا کرو اور لوگوں کا نقصان ان کی چیزوں میں مت کیا کرو ملک میں فساد نہ مچاؤ اس کی درستی کے بعد یہی تمہارے حق میں بہتر ہے اگر تم ایمان والے ہو۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور قوم مدین کی طرف (ہم نے بھیجا) ان کے بھائی شعیب ؑ کو) اس ؑ نے کہا کہ اے میری قوم کے لوگو ! اللہ کی بندگی کرو تمہارا کوئی معبود نہیں ہے اس کے سوا۔ تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے کھلی دلیل آچکی ہے تو ماپ اور تول پورا کیا کرو اور لوگوں سے ان کی چیزیں کم نہ کیا کرو اور زمین میں اس کی اصلاح کے بعد فساد مت مچاؤ یہی تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم مؤمن ہو۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور اہل مدین کی طرف ان کے بھائی شعیب کو بھیجا تو انہوں نے کہا اے میری قوم ! اللہ ہی کی عبادت کرو، اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں، تمہارے رب کی طرف سے نشانی آچکی ہے تو تم ماپ اور تول پورا کیا کرو اور لوگوں کو چیزیں کم نہ دیا کرو اور زمین میں اصلاح کے بعد خرابی نہ کرو۔ اگر تم ایمان والے ہو تو سمجھ لو یہ بات تمہارے حق میں بہتر ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

And to Midian We sent forth their brother Shu'ayb He exhorted them: O my people! Serve Allah, you have no god but Him. Indeed a clear proof has come to you from your Lord. So give just weight and measure and diminish not to men their things ' and make no mischief on the earth after it has been set in good order. That is to your own good, if you truly believe.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And to Madyan (We sent) their brother Shu'aib. He said, :O my people, worship Allah. You have no god other than Him. There has come to you a clear sign from your Lord. Give the measure and weight in full, and do not make people short of their things, and do not make mischief on the earth after it has been set in order. That is good for you, if you are believers.

— Muhammad Taqi Usmani

And to Madyan (We sent) their brother Shuaib. He said, :O my people, worship Allah. You have no god other than Him. There has come to you a clear sign from your Lord. Give the measure and weight in full, and do not make people short of their things, and do not make mischief on the earth after it has been set in order. That is good for you, if you are believers.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And to (the people of) Madyan, (We sent) their brother Shu`ayb. He said: "O my people! Worship Allah! You have no other God but Him. Verily, a clear proof (sign) from your Lord has come unto you; so give full measure and full weight and wrong not men in their things, and do not do mischief on the earth after it has been set in order, that will be better for you, if you are believers.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And unto Midian (We sent) their brother, Shu'eyb. He said: O my people! Serve Allah. Ye have no other Allah save Him. Lo! a clear proof hath come unto you from your Lord; so give full measure and full weight and wrong not mankind in their goods, and work not confusion in the earth after the fair ordering thereof. That will be better for you, if ye are believers.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And to [the people of] Madyan [We sent] their brother Shu'ayb. He said, "O my people, worship Allah; you have no deity other than Him. There has come to you clear evidence from your Lord. So fulfill the measure and weight and do not deprive people of their due and cause not corruption upon the earth after its reformation. That is better for you, if you should be believers.

— Saheeh International

We sent to the people of Midian their brother Shu'ayb who also told his people to worship God their only Lord. He said, "A guidance has come to you from your Lord. Maintain proper measures and weights in trade. Do not cause any deficiency in people's property or destroy the land after it has been reformed. This is for your own good, if you have any faith.

— Muhammad Sarwar

And to Madyan (We sent) their brother Shu'aib. He said: O my people! serve Allah, you have no god other than Him; clear proof indeed has come to you from your Lord, therefore give full measure and weight and do not diminish to men their things, and do not make mischief in the land after its reform; this is better for you if you are believers:

— Muhammad Habib Shakir

And unto Madyan We sent their brother Shu'aib. He said: O my people! worship Allah, no god ye have buthe; surely there hath come unto you an evidence from your Lord. So give full measure and weight, and defraud not people of their things, and act not corruptly on the earth after the ordering thereof; thatis best for you if ye be believers.

— Abdul Majid Daryabadi

To the Madyan people We sent Shu'aib, one of their own brethren: he said: "O my people! worship Allah; Ye have no other god but Him. Now hath come unto you a clear (Sign) from your Lord! Give just measure and weight, nor withhold from the people the things that are their due; and do no mischief on the earth after it has been set in order: that will be best for you, if ye have Faith.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 7:85

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

خطیب الانبیاء شعیب علیہ اسلام مشہور مؤرخ حضرت امام محمد بن اسحاق ؒ فرماتے ہیں یہ لوگ مدین بن ابراہیم کی نسل سے ہیں۔ حضرت شعیب میکیل بن نیشجر کے لڑکے تھے ان کا نام سریانی زبان میں یژون تھا۔ یہ یاد رہے کہ قبیلے کا نام بھی مدین تھا اور اس بستی کا نام بھی یہی تھا یہ شہر معان سے ہوتے ہوئے حجاز جانے والے کے راستے میں آتا ہے۔ آیت قرآن ولما و رد ماء مدین میں شہر مدین کے کنویں کا ذکر موجود ہے اس سے مراد ایکہ والے ہیں جیسا کہ انشاء اللہ بیان کریں گے۔ آپ نے بھی تمام رسولوں کی طرح انہیں توحید کی اور شرک سے بچنے کی دعوت دی اور فرمایا کہ اللہ کی طرف سے میری نبوت کی دلیلیں تمہارے سامنے آچکی ہیں۔ خالق کا حق…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْاَعْرَاف 69 مدین کا اصل علاقہ حجاز کے شمال مغرب اور فلسطین کے جنوب میں بحر احمر اور خلیج عقبہ کے کنارے پر واقع تھا مگر جزیرہ نمائے سینا کے مشرقی ساحل پر بھی اس کا کچھ سلسلہ پھیلا ہوا تھا۔ یہ ایک بڑی تجارت پیشہ قوم تھی۔ قدیم زمانہ میں جو تجارتی شاہراہ بحِر احمر کے کنارے یمن سے مکہ اور ینبوع ہوتی ہوئی شام تک جاتی تھی، اور ایک دوسری تجارتی شاہراہ جو عراق سے مصر کی طرف جاتی تھی، اس کے عین چورا ہے پر اس قوم کی بستیاں واقع تھیں۔ اسی بناء پر عرب کا بچہ بچہ مدین سے واقف تھا اور اس کے مٹ جانے کے بعد بھی عرب میں اس کی شہرت برقرار رہی۔ کیونکہ عربوں کے تجارتی قافلے مصر اور شام کی طرف جاتے ہوئے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

خلاصہ تفسیر اور ہم نے مدین (والوں) کی طرف ان کے بھائی شعیب ؑ کو (پیغمبر بنا کر) بھیجا انہوں نے (اہل مدین سے) فرمایا کہ میری قوم تم (صرف) اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اس کے سوا کوئی تمہارا معبود (بننے کے قابل) نہیں تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے (میرے نبی ہونے پر) واضح دلیل (کہ کوئی معجزہ ہے) آچکی ہے (جب میری نبوت ثابت ہے) تو (احکام شرعیہ میں میرا کہنا مانو چناچہ میں کہتا ہوں کہ) تم ناپ اور تول پوری پوری کیا کرو اور لوگوں کا ان کی چیزوں میں نقصان مت کیا کرو (جیسا کہ تمہاری عادت ہے) اور روئے زمین میں بعد اس کے کہ (تعلیم و توحید و بعثت انبیاء و ایجاب عدل و ادائے حقوق مکیال و میزان سے) اس کی…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

وَاِلٰي مَدْيَنَ اَخَاهُمْ شُعَيْبًا۔ اہل معین اور حضرت شعیب ؑ کی سرگزشت : قومِ مدین کا مسکن بحر احمر کے ساحل پر کوہ طور کے جنوب و مشرق میں تھا۔ ان کے پیغمبر حضرت شعیب ہوئے۔ یہ وہی حضرت شعیب ہیں جنہوں نے اپنی ایک صاحب زادی کا نکاح حضرت موسیٰ کے ساتھ کیا تھا۔ اور حضرت موسیٰ نے ایک طویل عرصہ تک ان کے پاس قیام کیا اور ان کی بکریاں چرائیں۔ یہ پوری سرگزشت سورة قصص میں بیان ہوئی ہے اور اللہ کے پاکیزہ خصائل بندوں کی نہایت پاکیزہ اور موثر سرگزشت ہے۔ مدین کے لوگ چونکہ ایک اہم تجارتی گزر گار پر تھے اس وجہ سے انہوں نے تجارت میں بہت ترقی کی اور پھر ان کے اندر عقائدی خرابیوں کے ساتھ ساتھ وہ برائیاں بھی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

85۔ 1 مدین حضرت ابراہیم ؑ کے بیٹے یا پوتے کا نام تھا پھر انہیں کی نسل پر مبنی قبیلے کا نام مدین اور جس بستی میں یہ رہائش پذیر تھے اس کا نام بھی مدین پڑگیا۔ یوں اس کا اطلاق قبیلے اور بستی دونوں پر ہوتا ہے۔ یہ بستی حجاز کے راستے میں معان کے قریب انہی کو قرآن میں دوسرے مقام پر اَصْحَابُ الأیْکَۃِ (بن کے رہنے والے) بھی کہا گیا ہے۔ ان کی طرف حضرت شعیب ؑ نبی بنا کر بھیجے گئے (دیکھئے الشعرا۔ 176 کا حاشیہ) ملحوظہ : ہر نبی کو اس قوم کا بھائی کہا گیا ہے، جس کا مطلب اسی قوم اور قبیلے کا فرد ہے جس کو بعض جگہ رسول منھم یا من انفسہم سے بھی تعبیر کی گیا ہے، اور مطلب ان سب کا یہ ہے کہ رسول اور نبی انسانوں…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

41: مدین ایک قبیلے کا نام ہے اور اسی کے نام پر ایک بستی بھی ہے جس میں حضرت شعیب ؑ کو پیغمبر بناکر بھیجا گیا تھا، ان کا زمانہ حضرت موسیٰ ؑ سے کچھ پہلے کا ہے اور بعض روایات میں ہے کہ وہی حضرت موسیٰ ؑ کے خسر تھے، یہ ایک سرسبز شاداب علاقہ تھا اور یہاں کے لوگ خاصے خوش حال تھے، رفتہ رفتہ ان میں کفر وشرک کے علاوہ بہت سی بد عنوانیاں رواج پاگئیں، ان کے بہت سے لوگ ناپ تول میں دھوکا دیتے تھے، بہت سے زور آور لوگوں نے راستوں پر چوکیاں بنا رکھی تھیں جو گزرنے والوں سے زبردستی کا ٹیکس وصول کرتے تھے، کچھ لوگ ڈاکے بھی ڈالتے تھے، نیز جو لوگ حضرت شعیب ؑ کے پاس جاتے نظر آتے انہیں روکتے اور تنگ کرتے تھے، ان کی بد…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 85–86

آیت ” نمبر 85 تا 93۔ یہ قصہ دوسروں کے مقابلے میں قدرے طویل ہے دوسرے قصص کی نسبت کیونکہ اس میں اسلامی نظریہ حیات کے علاوہ بعض دوسرے معاملات بھی موجود ہیں ۔ اگرچہ اس میں بھی وہی طرز ادا اختیار کی گئی ہے ۔ جس طرح اس سے قبل دوسروں قصوں میں اختیار کی گئی ہے ۔ آیت ” وَإِلَی مَدْیَنَ أَخَاہُمْ شُعَیْْباً قَالَ یَا قَوْمِ اعْبُدُواْ اللّہَ مَا لَکُم مِّنْ إِلَـہٍ غَیْْرُہُ “۔ (7 : 85) ” اور مدین والوں کی طرف ہم نے ان کے بھائی شعیب کو بھیجا ‘ اس نے کہا : ’ اے برادران قوم ‘ اللہ کی بندگی کرو ‘ اس کے سوا تمہارا کوئی خدا نہیں ہے ۔ “ یہ دعوت اسلامی کا بنیادی عقیدہ ہے اور یہ ہر پیغمبر کی دعوت کا اساسی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

4 قرآن میں دوسری جگہ حضرت شعیب کا " اصحاب ایکہ " کی طرف مبعوث ہونا مذکور ہے اگر اہل مدین اور اصحاب ایکہ ایک ہی قوم ہے فبہا و نعمت۔ اور دو جداگانہ قومیں میں تو دونوں کی طرف مبعوث ہوئے ہوں گے اور دونوں میں کم تولنے ناپنے کا مرض مشترک ہوگا۔ بہرحال حضرت شعیب نے علاوہ توحید وغیرہ کی عام دعوت کے خاص معاشرتی معاملات کی اصلاح اور حقوق العباد کی حفاظت کی طرف بڑے زور سے توجہ دلائی جیسا کہ آئندہ آیات میں مذکور ہے حضرت شعیب کو کمال فصاحت کی وجہ سے " خطیب الانبیاء " کہا جاتا ہے۔ 5 یعنی میری صداقت کی دلیل ظاہر ہوچکی اب جو نصیحت کی بات تم سے کہوں اسے قبول کرو اور جن خطرناک عواقب پر متنبہ کروں، ان سے ہوشیار…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 85 وَاِلٰی مَدْیَنَ اَخَاہُمْ شُعَیْبًا ط حضرت شعیب علیہ السلام کا تعلق اسی قوم سے تھا ‘ اس لیے آپ علیہ السلام کو ان کا بھائی قرار دیا گیا۔ جیسا کہ پہلے بھی ذکر ہوچکا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی تیسری بیوی کا نام ’ قطورا ‘ تھا۔ ان سے آپ علیہ السلام کے کئی بیٹے ہوئے ‘ جن میں سے ایک کا نام مدین تھا جو اپنی اولاد کے ساتھ خلیج عقبہ کے مشرقی ساحل پر آباد ہوگئے تھے۔ یہ علاقہ ان لوگوں کی وجہ سے بعد میں مدین ہی کے نام سے معروف ہوا۔ مدین کا علاقہ بھی اس زمانے کی بین الاقوامی تجارتی شاہراہ پر واقع تھا۔ یہ شاہراہ شمالاً جنوباً فلسطین سے یمن کو جاتی تھی۔ اس لحاظ سے اہل مدین بہت خوشحال لوگ تھے۔…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

90 شعیب (علیہ السلام) کا مرکز تبلیغ :۔ مدین کا علاقہ حجاز کے شمال مغرب اور فلسطین کے جنوب میں بحر احمر اور خلیج عقبہ کے کنارے پر واقع تھا اور جو تجارتی قافلے یمن سے ساحل سمندر کے ساتھ راستہ اختیار کر کے شام اور فلسطین جاتے نیز جو قافلے مصر سے اسی غرض کے لیے جاتے ہیں ان کے راستہ میں پڑتا ہے بلکہ اس قوم کی بستیاں ان دونوں تجارتی شاہراہوں کے چوراہوں میں واقع تھیں لہذا یہ علاقہ پورے کا پورا ایک تجارتی مرکز بن گیا تھا، اور مدین کے لوگ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کے بیٹے مدیان کی اولاد سے تعلق رکھتے تھے۔ اسی نسبت سے انہیں آل مدیان اور ان کے علاقہ کو مدین یا مدیان کہا جاتا تھا یہ لوگ دین ابراہیم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

112 ۔ ان پیغمبر شعیب (علیہ السلام) بن میکیل کا نام تو ریت میں کہیں توتیروآیا ہے۔ (مثلا خروج 3: 1 میں) اور کہیں حوباب (مثلا گنتی 10:29 میں) نسب نامہ ہماری تفسیروں میں یوں درج ہے۔ شعیب (علیہ السلام) بن میکیل بن یشجر بن مدین بن ابراہیم (علیہ السلام) ۔ (آیت) ” مدین “۔ اس شہر کا محل وقوع بحراحمر کا ساحل عرب تھا۔ کوہ طور کے جنوب ومشرق میں شمالا جنوب عرض البلد 29 درجہ، 29 دقیقہ اور 27 درجہ 39 دقیقہ کے درمیان۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی ایک زوجہ محترمہ بیوی قطورہ تھیں۔ انہی کے بطن سے ایک صاحبزادہ مدین نامی تھے۔ شہر جب آباد ہوا تو قدیم دستور کے مطابق انہی کے نام سے موسوم ہوا۔ 113 ۔ ممکن ہے کوئی خاص…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 85–87

آیت نمبر 85 تا 87 ترجمہ : اور ہم نے مدین کی طرف ان کے بھائی شعیب (علیہ السلام) کو بھیجا، انہوں نے کہا اے میری قوم، تم اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں، تمہارے پاس میری صداقت کی تمہارے پروردگار کی طرف سے معجزہ کی شکل میں واضح دلیل آچکی ہے تم ناپ تول پوری پوری کیا کرو لوگوں کو چیزیں کم مت دیا کرو، اور رسولوں کو بھیج کر زمین کی اصلاح کے بعد کفر و معاصی کے ذریعہ زمین میں فساد برپا نہ کرو اسی مذکور میں تمہارے لئے خیر ہے اگر تمہارا ایمان کا ارادہ ہے تو اس کی طرف جلدی کرو اور تم راستوں پر اسلئے نہ بیٹھا کرو کہ لوگوں کو ان کے کپڑے چھین کر یا ان سے ٹیکس وصول کرے خوف زدہ کرو اور اللہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

والی مدین اخاہم شعیبا اور ہم نے مدین کی طرف ان کے (نسبی) برادر شعیب ( علیہ السلام) کو بھیجا۔ مدینحضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کے بیٹے کا نام تھا۔ یہاں مدین کی نسل مراد ہے۔ بغوی نے لکھا یہ ہی اصحاب الایکۃ (بن والے) تھے۔ عطاء کا قول ہے کہ حضرت شعیب ( علیہ السلام) توبہ بن حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کے بیٹے تھے محمد بن اسحاق نے کہا میکیل کے بیٹے تھے اور میکیل یشجر کے اور یشجر مدین کے اور مدین حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کے بیٹے تھے۔ ابن اسحاق کی ایک روایت یہ بھی ہے کہ میکیل حضرت لوط ( علیہ السلام) کی بیٹی کا نام تھا۔ بعض کے نزدیک حضرت شعیب یثرون بن نوس بن مدین کے بیٹے تھے۔ حضرت شعیب ( علیہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(85) اور ہم نے مدین کی طرف ان ہی میں سے نبی بھیجا جن کی تبلیغ یہی تھی کہ اللہ تعالیٰ کی توحید کے قائل ہوجاؤ اور جس اللہ پر میں تمہیں ایمان لانے کا حکم دیتا ہوں، اس کے علاوہ اور کوئی عبادت کے لائق نہیں میرے رسول اللہ ہونے پر ایک واضح دلیل آچکی ہے۔ ماپ تول کو پورا کرو۔ اور ماپ تول کے ذریعے لوگوں کے حقوق میں کمی نہ کرو اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور غیر اللہ کی پرستش اور ماپ وتول میں عبادت و اطاعت الہی اور ماپ تول کو پورا کرنے کے بعد کمی نہ کرو۔ جن باتوں پر تم قائم ہو توحید اور ماپ تول کو پورا کرنا اس سے بہتر ہے اگر تم میری باتوں کی تصدیق کرتے ہو۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَاِلٰي مَدْيَنَ اَخَاهُمْ شُعَيْبًا ۭ : مدین کا علاقہ حجاز کے شمال مغرب اور فلسطین کے جنوب میں بحر احمر اور خلیج عقبہ کے کنارے پر واقع تھا اور آج بھی اس علاقے میں ایک جگہ اسی نام سے مشہور ہے۔ شعیب ؑ کا نسب نامہ امام نووی ؓ نے یوں بیان کیا ہے، شعیب بن میکائیل بن یشجر بن مدین بن ابراہیم۔ (المنار) مگر اس کے صحیح ہونے کی کوئی دلیل نہیں ہے۔ شعیب ؑ کو اہل مدین کا بھائی قرار دیا، کیونکہ وہ اس قوم سے تھے اور ان کا قبیلہ بہت زبردست تھا جس کی وجہ سے ان کے کفار آپ کو نقصان پہنچانے سے ڈرتے تھے، اس لیے انھوں نے کہا تھا : (ۚ وَلَوْلَا رَهْطُكَ لَرَجَمْنٰكَ ۡ) [ ہود : 91 ] ”اور اگر تیری برادری نہ ہوتی تو…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 85–87

اس میں چار مسائل ہیں : مسئلہ نمبر۔ 1 قولہ تعالیٰ : آیت : والی مدین مدین کے بارے میں کہا گیا ہے کہ یہ بلد اور رقطر کا نام ہے (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 426 ) ۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ قبیلہ کا نام ہے جیسے بکر اور تمیم قبیلوں کے نام ہیں۔ اور یہ قول بھی ہے کہ وہ مدین بن ابراہیم الخلیل (علیہ السلام) کی اولاد میں سے تھے۔ پس جن کی رائے ہے کہ مدین آدمی کا نام ہے ان کے نزدیک یہ غیر منصرف ہے، کیونکہ اس میں معرفہ اور عجمہ پائے جاتے ہیں۔ اور جن کی رائے ہے کہ یہ قبیلہ یا زمین کا نام ہے تو یہ زیادہ مناسب ہے کہ وہ اسے منصرف قرار نہ دیں۔ مہدوی نے کہا ہے : یہ روایت ہے کہ یہ حضرت لوط (علیہ السلام) کی بیٹی کا…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 85–93

توراۃ میں شعیب (علیہ السلام) کا نام (1) امام ابن عساکر نے اسحاق بن بشیر (رح) سے روایت کیا کہ مجھ کو عبید اللہ بن زیاد بن سمعان (رح) نے ایک اس شخص سے مجھ کو خبر دی جو کتاب کو پڑھنے والا تھا کہ اہل تورات گمان کرتے ہیں کہ شعیب کا نام تورات میں میکائل ہے اور ان کا نام سریانی زبان میں جزی بن بشخر ہے اور عبرانی زبان میں شعیب بن بشخر بن لاوی بن یعقوب (علیہ السلام) ہے۔ (2) امام ابن عساکر نے اسحاق بن بشر کے طریق سے شرق بن قطامی (رح) سے روایت کی ہے کہ جو علم انساب کے ماہر سعید عالم تھے انہوں نے فرمایا کہ شیعب (علیہ السلام) کا نام عبرانی زبان میں یثرب ہے اور شعیب عربی زبان میں ابن عیفا بن یوبب بن…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ وَاِلٰي مَدْيَنَ : اور (بیشک ہم بھیج چکے ہیں ) مدین والوں کی طرف ] [ اَخَاهُمْ : ان کے بھائی ] [ شُعَيْبًا : شعیب کو ] [ ۭقَالَ : انہوں نے کہا ] [ يٰقَوْمِ : اے میری قوم ] [ اعْبُدُوا : تم لوگ بندگی کرو ] [ اللّٰهَ : اللہ کی ] [ مَا لَكُمْ : نہیں ہے تمہارے لیے ] [ مِّنْ اِلٰهٍ : کوئی بھی الہ ] [ غَيْرُهٗ : اس کے علاوہ ] ۭقَدْ جَاۗءَتْكُمْ : آچکی ہے تمہارے پاس ] [ بَيِّنَةٌ: ایک واضح (نشانی ) ] [ مِّنْ رَّبِّكُمْ : تمہارے رب (کی طرف ) سے ] [ فَاَوْفُوا : پس تم لوگ پورا کرو ] [ الْكَيْلَ : ناپنے کو ] [ وَالْمِيْزَانَ : اور ترازو کو ] [ وَلَا تَبْخَسُوا : اور حق سے کم تم مت دو [ النَّاسَ :…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 84–85

حضرت شعیب (علیہ السلام) کا اپنی امت کو تبلیغ فرمانا اور نافرمانی کی وجہ سے ان لوگوں کا ہلاک ہونا جو امتیں حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) کی دعوت قبول نہ کرنے اور ضد وعناد پر کمر باندھنے کی وجہ سے ہلاک ہوئیں ان میں سیدنا حضرت شعیب (علیہ السلام) کی امت بھی تھی۔ ان لوگوں میں کفر وعناد تو تھا ہی کیل اور وزن میں کمی کرنا بھی ان میں رواج پذیر تھا بیچتے تھے تو کیل میں یعنی ناپ کردینے میں اور وزن میں کمی کردیتے تھے۔ اور راستوں میں بیٹھ جاتے تھے اور اللہ کی راہ سے روکتے بھی تھے یعنی حضرت شعیب (علیہ السلام) کی دعوت قبول کرنے اور ایمان لانے سے منع کرتے تھے۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) نے ان کو توحید کی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 85–87

قصہ پنجم شعیب (علیہ السلام) با قوم او قال اللہ تعالیٰ ٰ والی مدین اخاھم شعیبا۔۔۔ الی۔۔۔ وھو خیر الحکمین (ربط) یہ پانچواں قصہ حضرت شعیب (علیہ السلام) کا ہے جو قوم لوط کی تباہی کے بعد پیش آیا۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) مدین کی طرف مبعوث ہوئے۔ مدین اصل میں حضرت ابراہیم کے ایک بیٹے کا نام ہے جو ملک عرب میں آکر آباد ہوگئے تھے ان کی نسل کے لوگ اس جگہ رہتے تھے اس لیے اس بستی کو یا اس قبیلہ کو مدین کہا جاتا ہے مدین کا اطلاق قبیلہ اور شہر دونوں پر آتا ہے اور یہ قبیلہ حجاز میں شام کے قریب آباد تھا یہ حجاز کا آخری حصہ ہے اسی قبیلہ میں سے اللہ تعالیٰ نے شعیب (علیہ السلام) کو ان کی طرف نبی بنا کر بھیجا۔…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

89: یہ پانچواں قصہ ہے اور دوسرے اور تیسرے دونوں دعو وں سے متعلق ہے۔ “ یٰقَوْمِ اعْبُدُوْا اللّٰهَ مَا لَکُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُہٗ ” میں تیسرا دعوی مذکور ہے۔ یعنی اے میری قوم تم صرف اللہ ہی کی عبادت کرو اور صرف اسی کو پکارو۔ اللہ کے سوا کوئی تمہارا کارساز نہیں۔ اور “ فَاَوْفُوْا الْکَیْلَ وَالْمِیْزَانَ وَ لَا تَبْخَسُوْا النَّاسَ اَشْیَاءَھُمْ ” الخ میں دوسرا دعویٰ مذکور ہے۔ قوم شعیب (علیہ السلام) ان محرمات الٰہیہ کے ساتھ حرام کا برتاؤ نہیں کرتی تھی بلکہ ناپ تول کے ذریعے دوسرے کا حق مار لینے کو جائز سمجھتی تھی۔ اس لیے ان کو حکم دیا گیا کہ وہ ان محرمات کو حرام سمجھیں اور ان ناجائز طریقوں سے…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 85–87

ربط آیات تبلیغ رسالت کے سلسلے میں اس سے پہلے حضرت نوح (علیہ السلام) ، حضرت ہود (علیہ السلام) ، حضرت صالح (علیہ السلام) اور حضرت لوط (علیہ السلام) کا تذکرہ ہوچکا ہے اب پانچویں نمبر پر اللہ تعالیٰ نے حضرت شعیب (علیہ السلام) کا حال بیان فرمایا ہے اگرچہ ان انبیاء کی پوری تفصیلات تو یوں بیان نہیں کی گئیں تاہم یہ ان کی تاریخ کے بعض اہم حصے ہیں شعیب (علیہ السلام) اور ان کی قوم کے واقعات سورة ، سورة شعراء اور بعض دیگر سورتوں میں بھی بیان ہوئے ہیں ان واقعات سے یہ بتانا مقصود ہے کہ اللہ تعالیٰ کے انبیاء نے کس قدر نامساعد حالات میں تبلیغ کا حق ادا کیا اور لوگوں تک خدا کا پیغام پہنچایا امت آخر الزمان کو…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَلَا تَقْعُدُوْا بِكُلِّ صِرَاطٍ تُوْعِدُوْنَ وَتَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِيْلِ اللہِ مَنْ اٰمَنَ بِہٖ وَتَبْغُوْنَہَا عِوَجًا۝ 0 ۚ وَاذْكُرُوْٓا اِذْ كُنْتُمْ قَلِيْلًا فَكَثَّرَكُمْ۝ 0 ۠ وَانْظُرُوْا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَۃُ الْمُفْسِدِيْنَ۝ 86 قعد القُعُودُ يقابل به القیام، والْقَعْدَةُ للمرّة، والقِعْدَةُ للحال التي يكون عليها الْقَاعِدُ ، والقُعُودُ قد يكون جمع قاعد . قال : فَاذْكُرُوا اللَّهَ قِياماً وَقُعُوداً [ النساء/ 103] ، الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللَّهَ قِياماً وَقُعُوداً [ آل عمران/ 191] ، والمَقْعَدُ : مكان القعود، وجمعه : مَقَاعِدُ. قال تعالی: فِي مَقْعَدِ صِدْقٍ عِنْدَ مَلِيكٍ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 85–86

ترکیب : لاتبخسوا دو مفعول کی طرف متعدی ہے ایک الناس ہے دوسرا اشیاء ھم۔ تو عدون و تصدون حال ہیں ضمیر تقعدوا سے من امن تصدون کا مفعول النجس نقص۔ تفسیر : یہ پانچواں قصہ حضرت شعیب (علیہ السلام) کا ہے جو لوط (علیہ السلام) کے واقعہ عبرت خیز کے بعد گذرا۔ مدین عرب کے شمالی و مغربی حصہ میں ان بیابانوں میں ایک بستی ہے جہاں کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) قلزم کو عبور کرکے کوہ سینا اور اس کے اطراف میں بنی اسرائیل کو لئے پھرتے تھے۔ مدین حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ایک بیٹے کا نام ہے جو ملک عرب میں آرہے تھے۔ اس لئے اس بستی یا قبیلہ کو مدین کہتے تھے۔ انہیں میں سے ایک شخص حضرت شعیب بن صیفون بن عیفا بن ثابت بن…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 85–86

مشرکین مکہ اور دوسرے لوگوں کو عبرت دلانے کے لیے چار معذب قوموں کا تذکرہ ہوچکا۔ اب پانچویں قوم قوم شعیب کا تذکرہ کیا جا رہا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے : وَاِلٰی مَدْیَنَ اَخَاھُمْ شُعَیْبًا ط قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللہ َ مَالَکُمْ مِّنْ اِلٰہٍ غَیْرُہٗ ط قَدْ جَآئَتْکُمْ بَیِّنَۃٌ مِّنْ رَّبِّکُمْ فَاَوْفُوا الْکَیْلَ وَالْمِیْزَانَ وَلَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْیَآئَھُمْ وَلَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلَاحِھَا ط ذٰلِکُمْ خَیْرٌ لَّکُمْ اِنْ کُنْتُمْ مُّؤمِنِیْنَ ۔ وَ لاَ تَقْعُدُوما بِکُلِّ صِرَاطٍ تُوْعِدُوْنَ وَ تَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللہِ مَنْ اٰمَنَ بِہٖ وَ تَبْغُوْنَھَا…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 85–87

فہم القرآن حضرت شعیب (علیہ السلام) : حضرت شعیب (علیہ السلام) کو مؤرخین اور سیرت نگاروں نے خطیب الانبیاء کے نام سے یاد کیا ہے۔ آپ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بیٹے ” مدیان “ کی اولاد سے تعلق رکھتے ہیں۔ جس کی بنا پر ان کو قوم مدین کہا جاتا ہے۔ اس قوم کا سب سے بڑا شہر ان کے قومی نام مدین سے ہی معروف تھا۔ اس لیے قرآن مجید نے انھیں اہل مدین کے نام سے پکارا ہے۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) کو ان کی قوم میں ہی رسول مبعوث کیا گیا تاکہ آپ اپنی قوم کو راہ راست پر لانے کی جدوجہد فرمائیں۔ اہل مدین کو قرآن میں اصحاب الایکہ بھی کہا گیا ہے۔ (الشعراء : 176) اہل مدین کا عقیدہ اور گھناؤنا کردار : 1۔ اہل مدین بھی…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

قوم شعیب ( علیہ السلام) کا تذکرہ : آیت 85: وَاِلٰی مَدْیَنَ (اور ہم نے مدین کی طرف بھیجا) اور ہم نے بھیجا مدین کی طرف۔ مدین یہ ایک قبیلہ کا نام ہے۔ اَخَاھُمْ شُعَیْبًا (ان کے بھائی شعیب ( علیہ السلام) کو) ان کو خطیب الانبیاء کہا جاتا ہے اس لئے کہ قوم کو انہوں نے خوب جواب دئیے اور عمدہ انداز سے سمجھایا وہ ماپ تول میں کمی کرنے والے تھے۔ خطیب الانبیاء کی شاندار تقریر : قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُ وا اللّٰہَ مَالَکُمْ مِّنْ اِلٰہٍ غَیْرُہٗ قَدْ جَآئَ تْکُمْ بِیِّنَۃٌ مِّنْ رَّبِّکُمْ (انہوں نے فرمایا اے میری قوم تم اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اس کے سوا کوئی تمہارا معبود نہیں۔ تمہارے پاس تمہارے معبود کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

(85) (والی مدین اخاھم شعیباً ) یعنی مدین کی اولاد کی طرف ہم نے بھیجا اور مدین ابراہیم خلیل الرحمٰن (علیہ السلام) کی نسل میں سے ہیں۔ یہ ” ایکۃ “ والے ہیں۔ شعیب (علیہ السلام) ان کے نسبی بھائی تھے دینی بھائی نہ تھے۔ عطاء (رح) فرماتے ہیں کہ یہ شعیب (علیہ السلام) بن توبتہ بن مدین بن ابراہیم (علیہ السلام) تھے۔ ابن اسحاق (رح) نے نسب نامہ یہ بتایا ہے کہ شعیب بن میکائیل بن یزجرین مدین بن ابراہیم (علیہ السلام) اور میکائیل کی والدہ حضرت لوط (علیہ السلام) کی صاحبزادی تھیں اور بعض نے یہ بیان کیا ہے کہ شعیب بن یثرون بن مدین بن ابراہیم (علیہ السلام) ان کو خطیب الانبیاء کہا جاتا تھا کیونکہ یہ اپنی قوم کو بڑے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 85–93

(85 ۔ 93) ۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) کی امت میں مفسروں کا اختلاف ہے بعضے کہتے ہیں کہ حضرت شعیب ( علیہ السلام) کی روایتوں میں اور سوا حضرت شعیب ( علیہ السلام) کے اور کوئی نبی دو امتوں کی ہدایت کے لئے نہیں بھیجا گیا ایک امت ان کی یہ قبیلہ ہے جس کا نام مدین ہے اور حضرت شعیب ( علیہ السلام) بھی اسی قبیلہ میں کے ہی اسی واسطے اللہ تعالیٰ نے حضرت شعیب ( علیہ السلام) کو اس قبیلہ کا بھائی فرمایا ہے اور دوسری امت بن کے رہنے والے لوگ ہیں جن سورة شعراء میں اصحاب الایکہ فرمایا ہے اور بعضے مفسر کنویں والے لوگوں کو بھی جن کو سورة فرقان اور سورة قاف میں اصحاب الرس فرمایا ہے ان کی ہی امت میں شمار کر کے یوں کہتے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 80–86

آیت 80 (ولوطا) یعنی ہمارے بندے لوط کا ذکر کیجیے جب ہم نے ان کو ان کی قوم کی طرف مبعوث کیا کہ وہ انہیں صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کا حکم دیں اور انہیں اس برائی سے روکیں جو پورے جہاں میں ان سے پہلے کسی نے نہیں کی۔ لوط نے کہا (اتاتون الفاحشۃ) ” کیا تم کرتے ہو ایسی بےحیائی “ یعنی تم ایک ایسے گناہ کا ارتکاب کرتے ہوئے جس کی قباحت اتنی زیادہ ہے کہ فواحش کی تمام اقسام کو اس نے اپنے اندر سمیٹ لیا ہے۔ (ماسبقکم بھامن احدمن العلمین) ” کہ تم سے پہلے نہیں کیا اس کو کسی نے جہان میں “ اس کا فحش ہونا قبیح ترین چیز ہے اور یہ کہ اس قبیح فعل کو ان لوگوں نے شروع کر کے بعد میں آنے والوں کے لئے رواج دیا تھا، اس سے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 55–141

دعا کا طریقہ قول باری ہے وادعواربکم تضرعاً عاوخفیۃ۔ اپنے رب کو پکارو گڑگڑاتے ہوئے اور چپکے چپکے) آیت میں چپکے چپکے رب کو پکارنے کا حکم ہے حسن کا قول ہے کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے تمہیں اس بات کی تعلیم دی ہے کہ تم اپنے رب کو کس طرح پکارو۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک عہد صالح کا ذکر فرمایا جس کی پکار کو اس نے پسند فرمایا تھا چناچہ ارشاد ہے اذنادی ربہ نداء خفیا۔ جبکہ اس نے اپنے رب کو چپکے چپکے پکارا) یعنی حضرت زکریاعلیہ السلام عبداللہ بن المبارک نے حسن بصری سے روایت کی ہے کہ لوگ یعنی صحابہ کرام بڑی عاجزی اور نیاز مندی کے ساتھ دعائیں مانگا کرتے تھے اور صرف سرگوشی کی آواز سنائی دیتی تھی۔ حضرت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

115 پیغمبر کی زندگی کا اصل مرحلہ دعوت و تبلیغِ حق : یہ اسی حقیقت کا اعادہ و تکرار ہے جو کئی بار بیان ہوچکی ہے کہ اصل چیز دعوت و تبلیغ کا کام ہے نہ کہ ولادت و میلاد کا ذکر وبیان۔ اور اس نام سے ان حضرات کے ایام ولادت پر جشن منانا۔ اسی لیے ہر پیغمبر کا ذکر اس کی بعثت اور دعوت کے مرحلے سے ہی شروع ہوتا ہے اور ان کی ولادت و میلاد وغیرہ کا کہیں کوئی ذکر نہیں کیا جاتا۔ نیز یہ کہ پیغمبر کو اپنی امت کا بھائی کہنامنع نہیں۔ جیسا کہ بعض برخود غلط لوگوں کا کہنا ہے۔ کہ اس آیت کریمہ میں اور اس جیسی متعدد آیات کریمہ میں حضرات انبیائے کرام ۔ علیہم الصلوۃ والسلام ۔ کو ان کی قوموں کا بھائی فرمایا گیا ہے کہ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 85–87

مدین کا انجام اور سبق آموز بیان تشریح : مدین کا اصل علاقہ حجاز کے شمال مغرب میں ہے اس کے جنوب میں بحر احمر اور خلیج عقبہ کے کنارے واقع تھا۔ یہ بہت بڑی تجارت پیشہ قوم تھی۔ قدیم زمانہ میں تجارتی شاہراہ جو یمن، مکہ اور ہنبوع سے ہوتی ہوئی شام تک جاتی تھی۔ دوسری شاہراہ جو عراق سے مصر کو جاتی تھی۔ اسکے عین چورا ہے پر ان کی بستیاں آباد تھیں اسی لیے مدین کافی مشہور جگہ تھی۔ اور پھر بعد میں عربوں کے تجارتی قافلے مصر و شام جاتے ہوئے مدین کے کھنڈرات کے بیچ میں سے گزرتے تھے اہل مدین سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کے صاحبزادے مدیان کی طرف منسوب ہیں اس قوم کو دین حق کی آواز سیدنا شعیب (علیہ السلام) کے ذریعے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 85–87

رکوع نمبر 11 ۔ آیات 85 تا 87 ۔ اسرار ومعارف : پھر اہل مدین آباد ہوئے یہ قوم بڑھی مفسرین کے مطابق مدین بھی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بیٹے تھے ان کی اولاد بھی اور آبادی بھی مدین ہی کہلائی یہ خوب پھولے پھلے تو نفس نے انہیں دولت جمع کرنے کے لالچ میں مبتلا کردیا چناچہ انہوں نے ناپ تول میں کمی اور لوٹ کھسوٹ کو وطیرہ بنا لیا راستوں پر لوگوں کو لوٹ لیتے یا ناجائز ٹیکس لگا کر دولت بڑھانے کی فکر میں رہتے رحمت باری نے ان کی دستگیری فرمائی اور حضرت شعیب (علیہ السلام) کو مبعوث فرما دیا ان کی بھی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت لوط (علیہ السلام) سے رشتہ داری تھی اور مدین والوں کے نسبی بھائی تھے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 4 مدین کا علاقہ حجاز کے شمال مغرب اور فسلطین کے جنوب میں بحراحمر اور خلیج عقبہ کے کنارے پر واقع تھا اور ا آج بھی اس علاقہ میں جگہ اسی نام سے مشہور ہے امام نو دی نے حضرت شعیب ( علیہ السلام) کا نسب یوں بیان کیا ہے شعیب بن مکائیل بن یشجر بن مدین ابراہیم ( علیہ السلام) واللہ اعلم ( المنار) حضرت شعیب کو اہل مدین کا بھائی اس لیے کہا گیا ہے کہ شاید وہ بھی سب حضرت ارابراہیم کے بیٹے مدین ہی کی نسل سے ہوں گے۔ ( رازی) حضرت شعیب اہل مدین اور اصحاب ایکہ کی طرفف مبعوث ہوئے ہوسکتا ہے کہ یہ ایک ہی قوم ہو اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ دو قومیں ہوں۔ ( ابن کثیر۔ ابو الفدار) اور کمال فصاحت کی وجہ سے حضرت شعیب علی…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(7:85) اخاہم۔ ان کا بھائی۔ اس سے قبل ارسلنا محذوف ہے۔ اوفوا۔ تم پور اکرو۔ ایفاء (افعال) سے امر کا صیغہ جمع مذکر حضر۔ لفیف مفروق وفی یفی ایفاء پورا کرنا۔ اوفی یوفی ایفاء (افعال) پورا کرنا۔ اوفی بالوعد۔ وعدہ پورا کیا۔ اوفی الکیل۔ پیمانہ پورا ناپنا۔ اوفوا الکیل پیمانہ پورا ناپو۔ الکیل۔ غلہ سے پیمانہ بھرنا۔ پیمانہ سے غلہ ناپنا۔ المیزان۔ وزن سے وزن کرنا۔ ای اوفوا المیزان۔ وزن کو پورا کرو۔ یعنی پورا پورا تولو۔ لا تبخسوا۔ تم گھٹا کر نہ دو ۔ بخس سے جس کے معنی ظلم سے کسی چیز کے گھٹانے اور کم کرنے کے ہیں۔ فعل نہی جمع مذکر حاضر۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 85–87

لغات القرآن آیت نمبر (85 تا 87 ) ۔ ارفوا (پورا کرو) ۔ الکیل (ماپ) ۔ المیزان (تول) ۔ لا تبخسوا (نہ گھٹاؤ) ۔ لا تقعدوا (تم نہ بیٹھو ) ۔ صراط (راستہ ) ۔ توعدون (تم ڈراتے ہو ) ۔ تصدون (تم روکتے ہو ) ۔ تبغون (تم تلاش کرتے ہو ) ۔ عوج (کجی۔ ٹیڑ ھاپن) ۔ کثر (اس نے بہت کردیا ) ۔ طائفتہ (جماعت۔ گروہ) ۔ ارسلت ( بھیجی گئی) ۔ حتی یحکم اللہ (یہاں تک کہ اللہ فیصلہ کردے گا ) ۔ تشریح : آیت نمبر (85 تا 87) ۔ ” گاہک کو نقصان پہنچانے کے نہ جانے کتنے طریقے ان دنوں رائج تھے اور آج بھی رائج ہیں ڈندی مارنا، نمونہ کچھ مال کچھ بلیک ماکٹنگ، ذخیرہ اندوزی، لازمی اشیا کا بازار سے غائب کر ادینا۔ کارنر کرنا سینڈی کیٹ بنانا…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 81–85

حضرت شعیب علیہ السلام۔ عذاب آگ اور زلزلہ حضرت شعیب (علیہ السلام) کی دو امتیں ہیں اور سوا حضرت شعیب (علیہ السلام) کے اور کوئی نبی دو امتوں کی ہدایت کے لئے نہیں بھیجا گیا۔ ایک امت ان کی یہ قبیلہ ہے جس کا نام مدین ہے، اور حضرت شعیب (علیہ السلام) بھی اسی قبیلہ سے ہیں۔ اسی واسطے اللہ تعالیٰ نے حضرت شعیب (علیہ السلام) کو اس قبیلہ کا بھائی فرمایا ہے اور دوسری امت بن کے رہنے والے لوگ ہیں جن کو اصحاب الدی کہ فرمایا ہے اصحاب الدی کہ کے لوگ کم تولتے اور کم ناپتے تھے اور یہ لوگ پیڑوں کی بھی پوجا کیا کرتے تھے۔ لیکن قبیلہ مدین اور اصحاب الئی کہ ایک ہی امت تھے، جن کی ہدایت کے لئے حضرت شعیب (علیہ السلام)…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[39] مدین اصل میں ابراہیم (علیہ السلام) کے ایک فرزند کا نام تھا پھر اس کا اطلاق قبیلے پر ہونے لگا جو ان کی نسل سے وجود میں آیا۔ جس علاقے میں یہ آباد تھا اس کا نام بھی مدین مشہور ہوگیا۔ یہ علاقہ بحر احمر کے ساحل عرب پر واقع تھا۔ [40] یہ کھلی دلیل کیا تھی قرآن میں اس کی صراحت نہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ قرآن کے نزدیک انبیاء کی تعلیم بجائے خود دلیل اور حجت ہے اور یہ ضروری نہیں کہ اس کے ساتھ کوئی معجزہ بھی ہو۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 85–87

حضرت شعیب (علیہ السلام) (ف 1) مدین والوں میں یہ نقص تھا کہ وہ لین دین میں ایماندار نہیں تھے ، حضرت شعیب (علیہ السلام) نے توحید کے بعد معاملات کی طرف توجہ کی ، اور کہا یہ بددیانتی جائز نہیں ، اس سے اخلاق بگڑتے ہیں ، تم اگر مومن ہو تو ناپ اور تول میں کوئی فریب دغا نہ کرو ، کیونکہ ایمان کا تعلق صرف عبادت اور عبادت گاہ سے نہیں ، بلکہ چھوٹے چھوٹے کاموں میں سے بھی ایمان کا اظہار ہونا چاہئے ، اگر مسجد میں ذکر خدا ہے تو ہاٹ میں بیٹھ کر بھی اسے فراموش نہ کرو ، اور حقیقت میں یہی سچا مذہب ہے ، جو تمہاری ایک ایک بات سے عیاں ہو ، طویل عبادتیں مشکل ریاضتیں معاملات کی صفائی نہ ہو ، تو کوئی قیمت نہیں…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

85 اور ہم نے اہل مدین کی طرف ان کے بھائی حضرت شعیب (علیہ السلام) کو پیغامبر بناکر بھیجا۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) نے کہا اے میری قوم تم فقط اللہ تعالیٰ ہی کی بندگی اور پوجا کیا کرو اس کے سوا تمہارا اور کوئی معبود نہیں ہے۔ بلاشبہ تمہارے پاس تمہارے رب کی جانب سے کھلی اور واضح دلیل آچکی لہٰذا اب تم سیدھی تول تولا کرو اور پورا پیمانہ بھر کردیا کرو اور لوگوں کو ان کی چیزوں میں نقصن نہ پہنچایا کرو اور دیکھو زمین کی اصلاح اور درستی اور امن قائم ہوجانے کے بعد زمین میں فساد نہ پھیلائو یہ باتیں تہارے لیے بہتر ہیں اگر تم میں ایمان ہو اور تم مومن ہو۔ یعنی یہ مدین والے کم تولتے اور ناپ میں کم ناپتے تھے ان…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 85–87

ف 1۔ قرآن میں شعیب (علیہ السلام) کا اہل مدین اور اصحاب ایکہ کی طرف مبعوث ہونا اور اہل مدین پر کہیں صیحہ اور کہیں رجفہ کا عذاب اور اصحاب ایکہ پر ظلہ کا عذاب ہونا مذکور ہے بعض نے تو دونوں قوموں کو ایک ہی کہا ہے اور بعض نے تو دونوں قوموں کو ایک ہی کہا ہے اور بعض نے الگ الگ کہا ہے کہ ایک قوم یعنی اہل مدین کے ہلاک کے بعد دوسروں کی یعنی اصحاب ایکہ کی طرف جو مدین کے قریب رہتے تھے اور اس قرب کی وجہ سے ان میں بھی کم تولنے ناپنے کا مرض تھا مبعوث ہوئے اور اکثر کا قول یہی ہے اور انواع عذاب میں دو کا یا تینوں کا جمع ہوجانا کچھ مستبعد نہیں اور بعد ہلاک ان کفار کے آپ مکہ میں آرہے تھے اور وہاں ہی وفات پائی…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

شعیب (علیہ السلام) کی دعوت کا ذکر جو اہل مدین کو آپ (علیہ السلام) نے دی : 96: حضرت شعیب (علیہ السلام) کی بعثت مدین یا مدیان میں ہوئی تھی اور مدین کسی مقام کا نام نہیں ہے بلکہ قبیلہ کا نام ہے اور بعد ازیں اسی قبیلہ کے نام پر بستی کا نام ” مدین “ مشہور ہوا۔ یہ قبیلہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بیٹے ” مدین “ کی نسل سے تھا جو ان کی تیسری بیوی قطوار کے بطن سے پیدا ہوا تھا اس لئے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا یہ تیسرا خاندان بنو قطوراء کہلایا۔ ” مدین “ اپنے اہل و عیال کے ساتھ اپنے سوتیلے بھائی حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کے پہلو ہی میں حجاز میں آباد ہوگیا تھا۔ یہی خاندان آگے چل کر ایک بہت بڑا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Commentary The series of stories relating to prophets (علیہم السلام) continues. The fifth story appears in the verses quoted above. This is the story of Sayyidna Shu'aib (علیہ السلام) and his eople. Sayyidna Shu'aib علیہ السلام according to Muhammad ibn Ishaq, is among the progeny of Madyan, the son of Sayyidna Ibrahim (علیہ السلام) and he is also related to Sayyidna Lut (علیہ السلام) . The lineal descendants of Madyan, the son of Sayyidna Ibrahim (علیہ السلام) also came to be known by the name, Madyan - and the locality where they lived is also called Madyan. Thus, Madyan is the name of a…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

69. The territory of Madyan (Midian) lay to the north-west of Hijaz and south of Palestine on the coast of the Red Sea and the Gulf of Aqaba, and part of the territory stretched to the northern border of the Sinai Peninsula. The Midianites and their towns were situated at the crossroads of the trade routes from Yemen through Makka and Yanbu' to Syria along the Red Sea coast, and from Iraq to Egypt. Midian was, therefore, quite well known to the Arabs. In fact it persisted in their memory long after its destruction for the Arab trade caravans en route to Syria and Egypt passed through…

Read the full tafseer →