Explained with ayahs 96–99
عوام کی فطرت
لوگوں سے عام طور پر جو غلطی ہو رہی ہے اس کا ذکر ہے کہ عموماً ایمان سے اور نیک کاموں سے بھاگتے رہتے ہیں۔ صرف حضرت یونس ؑ کی پوری بستی ایمان لائی تھی اور وہ بھی اس وقت جبکہ عذابوں کو دیکھ لیا اور یہ بھی صرف ان کے ساتھ ہی ہوا کہ آئے ہوئے عذاب واپس کردیئے گئے اور دنیا و آخرت کی رسوائی سے بچ گئے یہ لوگ ایک لاکھ بلکہ زائد تھے۔ اپنی پوری عمر تک پہنچے اور دنیوی فائدے بھی حاصل کرتے رہے تو فرماتا ہے کہ اگر نبیوں کے آنے پر ان کے امتی صدق دل سے ان کی تابعداری کرتے، برائیوں سے رک جاتے اور نیکیاں کرنے لگتے تو ہم ان پر کشادہ طور پر بارشیں برساتے اور زمین سے پیداوار اگاتے۔ لیکن انہوں نے رسولوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 96–99
سورة الْاَعْرَاف 78
اصل میں لفظ مکر استعمال ہوا ہے جس کے معنی عربی زبان میں خفیہ تدبیر کے ہیں، یعنی کسی شخص کے خلاف ایسی چال چلنا کہ جب تک اس پر فیصلہ کن ضرب نہ پڑجائے اس وقت تک اسے خبر نہ ہو کہ اس کی شامت آنے والی ہے، بلکہ ظاہر حالات کو دیکھتے ہوئے وہ یہی سمجھتا رہے کہ سب اچھا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 96–99
تیسری آیت میں ارشاد فرمایا وَلَوْ اَنَّ اَهْلَ الْقُرٰٓي اٰمَنُوْا وَاتَّقَوْا لَفَتَحْنَا عَلَيْهِمْ بَرَكٰتٍ مِّنَ السَّمَاۗءِ وَالْاَرْضِ وَلٰكِنْ كَذَّبُوْا فَاَخَذْنٰهُمْ بِمَا كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ یعنی اگر ان بستیوں کے رہنے والے ایمان لے آتے اور نافرمانی سے پرہیز کرتے تو ہم ان پر آسمان اور زمین کی برکتیں کھول دیتے، لیکن انہوں نے تکذیب کی تو ہم نے ان کو ان کے اعمال کی وجہ سے پکڑلیا۔ برکت کے لفظی معنی زیادتی کے ہیں۔ آسمان اور زمین کی برکتوں سے مراد یہ ہے کہ ہر طرح کی بھلائی ہر طرف سے ان کے لئے کھول دیتے) آسمان سے پانی ضرورت کے مطابق وقت پر برستا۔ زمین سے ہر چیز خواہش کے مطابق پیدا ہوتی۔…
Read the full tafseer →وَلَوْ اَنَّ اَهْلَ الْقُرٰٓي اٰمَنُوْا وَاتَّقَوْا لَفَتَحْنَا عَلَيْهِمْ بَرَكٰتٍ مِّنَ السَّمَاۗءِ وَالْاَرْضِ وَلٰكِنْ كَذَّبُوْا فَاَخَذْنٰهُمْ بِمَا كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ۔ اھل القری سے مراد وہی قومیں ہیں جن کی تکذیب کی داستان اوپر بیان ہوئی ہے۔ فرمایا کہ اگر یہ لوگ ایمان لاتے اور تقوی کی راہ اختیار کرتے تو اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ یہ معاملہ نہ کرتا کہ ایک مہلت دینے کے بعد ان کو عذاب میں پکڑ لیتا بلکہ ان کے لیے آسمان و زمین دونوں طرف سے اپنی بےپایاں برکتوں کے دروازے کھول دیتا۔
دو اہم حقیقتیں : یہاں دو حقیقتیں واضح ہوئیں۔ ایک تو یہ کہ کسی قوم کو ڈھیل کے طور پر اسباب و مال کی جو فراخی حاصل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 95–98
95۔ 1 یعنی فقر و بیماری کو صحت و عافیت سے بدل دیا جب کے ان کے اندر رجوع الی اللہ کا داعیہ پیدا نہیں ہوا تو ہم نے ان کو تنگ دستی کو خوش حالی سے اور بیماری کو صحت عافیت سے بدل دیا تاکہ وہ اس پر اللہ کا شکر کریں۔ لیکن اس انقلاب حال سے بھی ان کے اندر کوئی تبدیلی نہیں آئی اور انہوں نے کہا یہ تو ہمیشہ سے ہوتا چلا آرہا ہے تو پھر ہم نے اچانک اپنے عذاب کی گرفت میں لے لیا۔ اسی لیے حدیث مومنوں کا معاملہ اس کے برعکس بیان فرمایا گیا ہے۔ کہ وہ ارام وراحت ملنے پر اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں اور تکلیف پہنچنے پر صبر سے کام لیتے ہیں یوں دونوں ہی حالتیں ان کے لیے خیر اور اجر کا باعث ہوتی ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–96
49:: بتایا یہ جارہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جن لوگوں کو اپنے عذاب سے ہلاک کیا انہیں (معاذاللہ) جلدی سے غصے میں آکر ہلاک نہیں کردیا، بلکہ انہیں سالہا سال تک راہ راست پر آنے کے بہت سے مواقع فراہم کئے، اول تو پیغمبر بھیجے جو انہیں برسوں تک ہوشیار کرتے رہے، پھر شروع میں انہیں کچھ معاشی بدحالی یا بیماریوں وغیرہ کی مصیبتوں سے دوچار کیا تاکہ ان کے دل کچھ نرم پڑیں کیونکہ بہت سے لوگ ایسے حالات میں اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتے ہیں اور تنگی ترشی میں بعض اوقات حق بات کو قبول کرنے کی صلاحیت زیادہ پیدا ہوجاتی ہے، جب ایسے حالات میں پیغمبر ان کو متنبہ کرتے ہیں کہ ذرا سنبھل جاؤ ابھی اللہ تعالیٰ نے ایک اشارہ دیا…
Read the full tafseer →یہ اللہ کی سنت جاریہ کا ایک دوسرا پہلو ہے ، اگر بستیوں کے لوگ جھٹلانے کے بجائے مان لیتے اور بدکرداری کے بجائے تقویٰ کی راہ اختیار کرتے تو اللہ ان پر آسمان و زمین کی برکتوں کے دروازے کھول دیتا۔ بَرَكٰتٍ مِّنَ السَّمَاۗءِ وَالْاَرْضِ ۔ اور بلا حساب ان کو دیتا رہتا ، آسمانوں سے اور زمین سے ان پر برکات کی بارش ہوتی۔ قرآن نے جو انداز تعبیر اختیار کیا ہے ، اس کے پیش نظر ہم اسے ہر طرح کی فراوانی سے تعبیر کرسکتے ہو جو کسی ایک جنس ضرورت کے ساتھ خاص نہیں ہے۔ ہر قسم اور ہر نوع کی فراوانی۔
اس آیت اور اس سے قبل کی آیت میں ہم ایک عظیم حقیقت سے دوچار ہوتے ہیں۔ اس حقیقت کا تعلق بیک وقت انسانی نظریات اور…
Read the full tafseer →3 یعنی ہم کو بندوں سے کوئی ضد نہیں جو لوگ عذاب الٰہی میں گرفتار ہوتے ہیں یہ انہی کی کرتوتوں کا نتیجہ ہے۔ اگر یہ لوگ ہمارے پیغمبروں کو مانتے اور حق کے سامنے گردن جھکاتے اور کفر و تکذیب وغیرہ سے بچ کر تقویٰ کی راہ اختیار کرتے تو ہم ان کو آسمانی و زمینی برکات سے مالا مال کردیتے۔ امام رازی (رح) نے فرمایا کہ برکت کا لفظ دو معنی میں استعمال ہوتا ہے کبھی تو خیر باقی و دائم کو برکت سے تعبیر کرتے ہیں اور کبھی کثرت آثار فاضلہ پر یہ لفظ اطلاق کیا جاتا ہے۔ لہذا آیت کی مراد یہ ہوگی کہ ایمان وتقویٰ اختیار کرنے پر ان آسمانی و زمینی نعمتوں کے دروازے کھول دئیے جاتے جو دائمی اور غیر منقطع ہوں یا جن کے آثار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 95–99
آیت 95 ثُمَّ بَدَّلْنَا مَکَان السَّیِّءَۃِ الْحَسَنَۃَ حَتّٰی عَفَوْا وَّقَالُوْا قَدْ مَسَّ اٰبَآءَ نَا الضَّرَّآءُ وَالسَّرَّآءُ فَاَخَذْنٰہُمْ بَغْتَۃً وَّہُمْ لاَ یَشْعُرُوْنَ
جب وہ اپنی ضد اور ہٹ دھرمی پر اڑے رہے تو ان پر دنیاوی آسائشوں کے دہانے کھول دیے گئے کہ اب کھاؤ ‘ پیو اور عیش کرو۔ پھر وہ عیش و عشرت کی زندگی میں اس قدر مگن ہوئے کہ سختیوں کے دور کو بالکل ہی بھول گئے اور کہنے لگے کہ ہمارے اسلاف پر بھی اچھے اور برے دن آتے ہی رہے ہیں ‘ اس میں امتحان اور آزمائش کی کون سی بات ہے ‘ حتیٰ کہ ان کی پکڑ کی گھڑی آن پہنچی اور انہیں اس کا شعور ہی نہیں تھا کہ اللہ تعالیٰ کی گرفت یوں اچانک آجائے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 96–97
101 اللہ کے فرمانبردار معاشرے پر برکتوں کا نزول :۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ایک ایسا اصول بیان فرمایا ہے جس کی ظاہر بین عقل پرستوں کو سمجھ آ ہی نہیں سکتی البتہ تجربہ اور مشاہدہ دونوں اس حقیقت پر گواہ ہیں کہ جس علاقے میں اللہ کے احکامات کی جس حد تک تعمیل کی جا رہی ہو اس علاقے پر اللہ کی رحمتوں اور برکتوں کا نزول شروع ہوجاتا ہے موجودہ دور میں اس کی مثال کسی حد تک سعودی عرب میں ملاحظہ کی جاسکتی ہے اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ اللہ کی مقرر کردہ حدود میں سے کسی ایک حد کے قائم کرنے سے اتنی برکات اور رحمتوں کا نزول ہوتا ہے جتنا چالیس دن کی بارش سے ہوتا ہے (نسائی۔ کتاب قطع السارق باب الترغیب فی…
Read the full tafseer →130 ۔ (اور ہلاک کردیا) (آیت) ” اھل القری “۔ وہی آبادیاں مراد ہیں۔ جن کی طرف پیغمبر بھیجے گئے تھے اور جو ان کی تکذیب کے پاداش میں ہلاک میں کردی گئیں۔ (آیت) ” ولو ان اھل القری امنوا واتقوا لفتحنا علیھم برکت من السمآء والارض “۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مومنین، متقین کے لئے غیب سے کارسازیاں ہوتی رہتی ہیں اور برکات سماوی وارضی سے مراد بھی وہ کل چیزیں ہیں جو انجام کار کے لحاظ سے مبارک ومفید ہوتی ہیں قیل المراد بالبرکات السماویۃ والارضیۃ الاشیاء التی تحمد عواقبھا ویسعد فی الدارین صاحبھا ولا یفتح ذلک الا للمومن (روح) (آیت) ” لفتحنا علیھم برکت من السمآء ولارض “۔ ہر طرح کی برکتیں ان پر نازل کرتے اور بلاؤں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–99
آیت نمبر 94 تا 99
ترجمہ : اور کبھی ایسا نہیں ہوا کہ ہم نے کسی بستی میں نبی بھیجا ہو اور انہوں نے اس کی تکذیب ہو مگر یہ کہ ہم نے اس بستی کے رہنے والوں کو فقر کی سختی اور مرض کی تکلیف میں نہ پکڑا ہوتا کہ وہ عاجزی کرنے لگیں اور ایمان لے آئیں، پھر ہم نے ان کی بدحالی عذاب کو خوشحالی غنیٰ اور صحت سے بدل دیا یہاں تک کہ ان کو خوب ترقی ہوئی (یعنی ان کی جان و مال میں کثرت ہوئی) اور نعمت کی ناشکری کرتے ہوئے کہنے لگے جس طرح ہم پر آئے ہیں ہمارے اسلاف پر بھی اچھے برے دن آتے ہی رہے ہیں زمانہ کا یہی دستور ہے، یہ اللہ کی جانب سے سزا نہیں ہے لہٰذا جس مذہب پر تم ہو اسی پر قائم رہو اللہ تعالیٰ نے فرمایا، تو ہم…
Read the full tafseer →ولو ان اہل القری امنوا واتقوا لفتحنا علیہم برکت من السمآء والارض ولکن کذبوا فاخذنہم بما کانوا یکسبون۔ اور اگر ان بستیوں کے رہنے والے ایمان لے آتے اور ڈرتے رہتے تو ہم ان پر آسمان و زمین کی برکتیں کھول دیتے لیکن انہوں نے تو پیغمبروں کی تکذیب کی اس لئے ہم نے بھی ان کے کرتوت کی وجہ سے ان کو پکڑ لیا۔
القرٰی میں الف لام عہد خارجی کا ہے یعنی انہی بستیوں والے جن کی ہدایت کے لئے پیغمبروں کو بھیجا گیا تھا۔ واتقوا اور اللہ کے عذاب سے ڈرتے جس کی صورت یہ تھی کہ اس کے حکم پر چلتے اور نافرمانی کو ترک کردیتے۔
من السماء والارض یعنی ہر طرف سے ہم خیر کے دروازے ان پر کھول دیتے اور اس خیر کو قائم رکھتے۔ بعض علماء…
Read the full tafseer →(96) اور جن بستیوں والوں کو ہم نے ہلاک کیا ہے اگر وہ آسمانی کتب اور رسولوں پر ایمان لے آتے اور کفر وشرک اور دیگر فواحش سے پرہیز کرتے اور توبہ کرتے تو ہم بارش برساتے اور سبزیاں اور پھل اگاتے مگر انہوں نے میرے رسول اور میری کتاب کی تکفیر وتکذیب کی تو ان کی تکفیر کی وجہ سے ہم نے انکو قحط کی سختی اور عذاب میں مبتلا کردیا۔
Read the full tafseer →وَلَوْ اَنَّ اَهْلَ الْقُرٰٓي اٰمَنُوْا وَاتَّقَوْا۔۔ : اگر واقعی بستیوں والے ایمان لاتے اور اللہ کی حدود کی پابندی کرتے تو اس ایمان اور تقویٰ کا نتیجہ ان انعامات کی شکل میں پاتے کہ۔۔ ! اور ایمان اور تقویٰ اختیار نہ کرنے کا نتیجہ عذاب الٰہی کی صورت میں نکلتا ہے کہ وہ برکات سے محروم ہو کر عذاب سے دو چار ہوتے ہیں۔
لَفَتَحْنَا عَلَيْهِمْ بَرَكٰتٍ : ”ْ بَرَكٰتٍ“ ”بَرَکَۃٌ“ کی جمع ہے، کسی چیز میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے خیر ہونا۔ اصل میں ”بَرَکَۃٌ“ حوض کو کہتے ہیں، جس طرح حوض میں پانی جمع ہوتا ہے، اسی طرح کسی چیز میں بہت سی خیر موجود ہونا ”بَرَکَۃٌ“ کہلاتا ہے۔ راغب نے فرمایا : ”چونکہ اللہ تعالیٰ کی…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 96
قولہ تعالیٰ : آیت : ولو ان اھل القری مدینہ ( شہر) کو قریہ کہا جاتا ہے اس لیے کہ اس میں لوگ جمع ہوتے ہیں یہ قریت الماء سے ماخوذ ہے، یہ تب کہا جاتا ہے جب تو پانی جمع کرے۔ یہ مکمل طور پر سورة البقرہ میں گزر چکا ہے۔ امنوا یعنی اگر بستیوں والے تصدیق کرتے۔ واتقوا اور وہ شرک سے بچتے۔ آیت : لفتحنا علیھم برکت من السماء والارض یعنی بارش اور نباتات ( اناج وغیرہ) انہیں عطا فرماتے۔ اور یہ ان اقوام میں خاص طور پر ہے جن کا ذکر جاری ہے۔ جب کبھی مومنین کو زندگی کی تنگی اور تلخیوں کے ساتھ آزمایا جاتا ہے تو وہ ان کے گناہوں کا کفارہ ہوجاتا ہے۔
کیا آپ جانتے نہیں ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح (علیہ…
Read the full tafseer →ایمان لانے کی برکات
(1) امام عبد حمید اور ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ولو ان اہل القری آمنوا “ اگر بستیوں والے ایمان لاتے اس چیز پر جو نازل کی گئی ” واتقوا “ اور بچتے اس چیز سے جو اللہ نے حرام کیا ” لفتحنا علیہم برکت من السماء والارض “ یعنی البتہ ان کو آسمان بھی اپنی برکتیں عطا کرتا اور زمین بھی اپنی نباتات اور سبزہ عطا کرتی۔
(2) امام ابن ابی حاتم نے معاذ بن رفاعۃ کے طریق سے موسیٰ طائفی ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا روٹی کی عزت کرو بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے اس کو نازل کیا ہے آسمان کی برکتوں سے اور اس کو نکالا ہے زمین کی برکتوں سے۔
(3) امام بزار اور طبرانی نے سند…
Read the full tafseer →[ وَلَوْ : اور اگر ] [ اَنَّ : یہ کہ ] [ اَهْلَ الْقُرٰٓي : ان بستیوں والے ] [ اٰمَنُوْا : ایمان لاتے ] [ وَاتَّقَوْا : اور تقوی اختیار کرتے ] [ لَفَتَحْنَا : تو ہم ضرور کھول دیتے ] [ عَلَيْهِمْ : ان پر ] [ بَرَكٰتٍ : برکتیں ] [ مِّنَ السَّمَاۗءِ : آسمان سے ] [ وَالْاَرْضِ : اور زمین سے ] [ وَلٰكِنْ : اور لیکن ] [ كَذَّبُوْا : انہوں نے جھٹلایا [ فَاَخَذْنٰهُمْ : تو ہم نے پکڑا ان کو ] [ بِمَا : بسبب اس کے جو ] [ كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ : وہ لوگ کمائی کرتے تھے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 95–96
اگر بستیوں کے رہنے والے ایمان لاتے تو ان کے لیے آسمان و زمین کی برکات کھول دی جاتیں
اس کے بعد فرمایا (وَ لَوْ اَنَّ اَھْلَ الْقُرآی اٰمَنُوْا وَ اتَّقَوْا لَفَتَحْنَا عَلَیْھِمْ بَرَکٰتٍ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ ) (اور اگر ان بستیوں والے ایمان لاتے اور پرہیز کرتے تو ہم ضرور ان پر آسمان اور زمین کی برکتیں کھول دیتے) (وَ لٰکِنْ کَذَّبُوْا فَاَخَذْنٰھُمْ بِمَا کَانُوْا یَکْسِبُوْنَ ) (اور لیکن انہوں نے جھٹلایا لہٰذا ہم نے ان کے اعمال کی وجہ سے ان کی گرفت کرلی) اس آیت میں ایک عمومی تکوینی قانون بتایا ہے اور وہ یہ کہ جب لوگوں میں ایمان ہوگا أعمال صالحہ ہوں گے کفر و شرک اور گناہوں سے پرہیز…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–102
بیان اجمالی حال و مآل امم سابقہ برائے عبرت ونصیحت امم حاضرہ
قال اللہ تعالیٰ وما ارسلنا فی قریۃ من نبی۔۔۔ الی۔۔۔ وان وجدنا اکثرھم لفسقین
(ربط) گزشتہ رکوعات میں امم سابقہ کے واقعات قرے تفصیل کے ساتھ بیان کیے اب ان کا اجمالی خلاصہ بیان کرتے ہیں تاکہ موجودہ زمانے کے لوگوں کے لیے عبرت اور نصیحت کا ذریعہ بنیں کہ اے لگو تمہیں ان واقعات سے انبیاء کرام کی تکذیب کے برے نتائج کا علم ہوگیا مگر یہ یاد رکھو کہ یہ سزائیں ان کو دفعۃً نہیں دی گئیں بلکہ تنبیہات کے بعد دی گئیں کیونکہ ہماری عادت یہ ہے کہ لوگ جب انبیاء کی تکذیب کرتے ہیں تو ہم شروع میں تنبیہ کے طور پر بیماری اور قحط اور مختلف قسم کی سختیوں اور…
Read the full tafseer →102: ایمان لانے کی ترکیب ہے۔ جن بستیوں میں اللہ کے پیغمبر آئے اگر ان بستیوں والے اللہ پر ایمان لے آتے اور اللہ کی ہدایت کے مطابق عمل کرتے تو اللہ تعالیٰ ان پر زمین و آسمان سے برکتوں کے دروازے کھول دیتا مگر انہوں نے تکذیب کی تو اللہ تعالیٰ نے ان کی بد اعمالیوں کے سبب ان کو پکڑ لیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 96–99
ربط آیات
تبلیغ رسالت کے سلسلے میں اللہ تعالیٰ نے اس سورة کی ابتداء میں تخلیق انسان اور خلاف ارضی کا ذکر کیا ہے پھر انبیاء کی بعثت اور سلسلہ تبلیغ کے ضمن میں پانچ انبیاء اور ان کی قوموں کا حال بیان کیا گزشتہ دو آیات میں اللہ نے اقوام عالم کی ذہنیت کا حال بیان فرمایا ، ان کی انبیاء دشمنی اور اللہ کی سنت کا ذکر کیا جب لوگوں انبیاء (علیہم السلام) کی مخالفت پر تل جاتے ہیں تو ابتداء میں اللہ تعالیٰ معمولی آزمائش میں ڈالتا ہے اندرونی اور بیرونی تکالیف میں ڈال کر قوم کو متنبہ کرتا ہے اگر لوگ اس تنبیہہ کا کوئی اثر قبول نہیں کرتے تو پھر اللہ تعالیٰ تکلیف کی جگہ راحت اور برائی کی جگہ اچھائی کو لے آتا ہے…
Read the full tafseer →وَلَوْ اَنَّ اَہْلَ الْقُرٰٓي اٰمَنُوْا وَاتَّقَوْا لَفَتَحْنَا عَلَيْہِمْ بَرَكٰتٍ مِّنَ السَّمَاۗءِ وَالْاَرْضِ وَلٰكِنْ كَذَّبُوْا فَاَخَذْنٰہُمْ بِمَا كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ 96
لو
لَوْ : قيل : هو لامتناع الشیء لامتناع غيره، ويتضمّن معنی الشرط نحو : قوله تعالی: قُلْ لَوْ أَنْتُمْ تَمْلِكُونَ [ الإسراء/ 100] .
( لو ) لو ( حرف ) بعض نے کہا ہے کہ یہ امتناع الشئی لا متناع غیر ہ کے لئے آتا ہے ( یعنی ایک چیز کا دوسری کے امتناع کے سبب ناممکن ہونا اور معنی شرط کو متضمن ہوتا ہے چناچہ قرآن پاک میں ہے : ۔ قُلْ لَوْ أَنْتُمْ تَمْلِكُونَ [ الإسراء/ 100] کہہ دو کہ اگر میرے پروردگار کی رحمت کے خزانے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 96–99
ولو ان اھل القریٰ امنوا واتقوا لفتحنا علیہم برکات من السماء والارض۔ یہاں یہ بات ظاہر کرتا ہے کہ وہ لوگ کہ جن پر ان کے گناہوں کی نحوست نازل ہوئی۔ اگر ایمان لاتے اور پرہیزگاری اختیار کرتے تو ہم ان پر آسمانوں اور زمین کی برکتیں کھول دیتے۔ آسمان کی برکتیں وقت پر پانی برسنا اور زمین کی برکات اچھی طرح نباتات کا اگانا کھیتی اور درختوں میں عمدہ پھول اور پھل آنا۔ اس عالم میں جو کچھ ہو رہا ہے اس کے دو سبب ہیں۔ ایک فاعلی جو سماوات ہیں۔ ان کی تاثیریں زمین پر پہنچتی ہیں۔ آفتاب کی گرمی اور ماہتاب کی رطوبت و برودت علی ہذا القیاس ہر ستارے اور ہر گردش فلک کی ایک تاثیر خاص اس فاعل حقیقی نے رکھی ہے۔ دوسرا سبب…
Read the full tafseer →وَلَوْ اَنَّ اَھْلَ الْقُرٰٓی اٰمَنُوْا وَاتَّقَوْا لَفَتَحْنَا عَلَیْھِمْ بَرَکٰتٍ مِّنَ السَّمَآئِ وَالْاَرْضِ وَلٰکِنْ کَذَّبُوْا فَاَخَذْنٰھُمْ بِمَا کَانُوْا یَکْسِبُوْنَ ۔ (الاعراف : 96)
” اگر بستیوں کے لوگ ایمان لاتے اور تقویٰ کی روش اختیار کرتے تو ہم ان پر آسمان اور زمین سے برکتوں کے دروازے کھول دیتے لیکن انھوں نے جھٹلایا تو ہم نے ان کی کرتوتوں کی پاداش میں ان کو پکڑ لیا “۔
یعنی پہلی امتوں پر جو عذاب آئے وہ اس لیے نہیں آئے کہ ہم انھیں عذاب دینا چاہتے تھے بلکہ یہ ان کی بداعمالیوں اور بداعتقادیوں کے لازمی اور منطقی نتائج تھے۔ اگر وہ ہمارے پیغمبروں پر ایمان لاتے اور ان کی دعوت کے مطابق…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : سرکشی اور بےدینی کی بنیاد پر ملنے والی فراوانی اور دین کی بدولت عطا ہونے والی خوشحالی کا فرق۔
اللہ تعالیٰ نے فرقان مجید کی سورة نساء کی آیت 115 میں ایک اصول بیان فرمایا ہے کہ ہدایت واضح ہونے کے باوجود جو شخص ہمارے رسول کی مخالفت کرے گا ہم اسے ادھر ہی پھیر دیں گے جدھر وہ جانا چاہتا ہے۔ سورة الشوریٰ کی آیت 20 میں فرمایا کہ جو دنیا چاہتے ہیں اسے اس کے نصیب کی دنیا دے دیتے ہیں۔ جو آخرت چاہتا ہے اسے آخرت عطا کردیتے ہیں۔ قرآن کی تعلیم یہ ہے کہ اگر لوگ ایمان اور تقویٰ کا راستہ اختیار کریں گے تو ہم ان کے لیے زمین و آسمان کی برکات کے دروازے کھول دیں گے۔ لیکن انسانوں کی اکثریت…
Read the full tafseer →اگر کفر و شرک سے بچتے تو ہمیں ان سے بیر نہ تھا :
آیت 96: وَلَوْ اَنَّ اَھْلَ الْقُرٰٓی (اور اگر ان بستیوں والے) القرٰی میں الف لام اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ القرٰی سے وہی بستی مراد ہے جو اس آیت میں مراد ہے۔ وما ارسلنا فی قریۃ من نبی گویا عبارت اس طرح ہے ولو ان اہل تلک القری الذین کذبوا و اھلکوا اگر وہ بستی والے جنہوں نے تکذیب کی اور ہلاکت کا شکار ہوئے۔ ٰامَنُوْا (ایمان لے آتے) کفر کے بدلے ایمان لاتے۔ وَاتَّقَوْا (اور پرہیزگاری اختیار کرتے) شرک سے بچتے ‘ بجائے اس کے ارتکاب کے لَفَتَحْنَا عَلَیْھِمْ (تو ہم ان پر کھول دیتے) قراءت : شامی نے لَفَتَّحْنَاپڑھا۔ بَرَکٰتٍ مِّنَ السَّمَآئِ وَالْاَرْضِ…
Read the full tafseer →96(ولو ان اھل القرٓی امنوا واتقوا لفتحنا علیھم برکت من السمآء والارض) یعنی آسمان سے بارش اور زمین سے نباتات اور ” برکۃ “ اصل یہ ہے کہ کوئی چیز لگاتا رہے یعنی ہم ان پر لگاتار بارش برساتے اور نباتات اگاتے اور ان سے قحط اور خشک سالی اٹھا لیتے ۔ (ولکن کذبوافاخذنھم بما کانوا یکسبون) خبیث اعمال سے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 96–99
(96 ۔ 99) ۔ ان آیتوں میں اللہ پاک ان لوگوں کے حال سے خبر دیتا ہے جن کے پاس اس نے اپنے رسول بھیجے اور انہوں نے رسولوں کو نہ مانا بلکہ ان کو جھٹلایا اس لئے فرمایا کہ اگر وہ لوگ ایمان لے آتے اور رسولوں کی باتیں مانتے اور ان کی راہ پر چلتے تو ہم آسمان اور زمین تمام جگہ کی برکتیں ان پر بھیج دیتے آسمان سے وہ مینہ برستا کہ زمین بالکل سرسبز و شاداب ہوجاتی اور پیداوار کی وہ کثرت ہوتی کہ کھاتے کھاتے وہ تھک جاتے مگر انہوں نے رسولوں کو جھٹلایا اس واسطے اللہ نے ان کو اپنے عذاب میں پکڑ لیا اور ان کے کئے کا ایسا بدلہ دیا کہ آخر ہلاک ہی ہوگئے جانبر نہ ہو سکے پھر اللہ پاک نے قریش کو اپنے عذاب سے ڈرایا کہ کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 96–101
آیت 96
اللہ تبارک و تعالیٰ نے جہاں انبیاء ومرسلین کو جھٹلانے والے گروہ کے بارے میں ذکر فرمایا کہ ان کو نصیحت اور تنبیہ کیلئے مصائب میں مبتلا کیا جاتا ہے اور مکرو استدراج کے طور پر انہیں آسانی اور فراخی عطا کی جاتی ہے۔ وہاں یہ بھی فرمایا کہ اگر بستیوں والے صدق دل سے ایمان لے آتے، ان کے اعمال اس ایمان کی تصدیق کرتے اور ظاہر و باطن میں تقویٰ سے کام لے کر اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ تمام چیزوں کو چھوڑ دیتے تو ان پر زمین و آسمان کی برکات کے دروازے کھول دیئے جاتے۔ پس اللہ تعالیٰ آسمان سے ان پر لگاتار بارش برساتا اور زمین سے ان کے لئے وہ کچھ اگاتا جس پر ان کی اور ان کے جانوروں کی معیشت کا دار و مدار ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–141
دعا کا طریقہ
قول باری ہے وادعواربکم تضرعاً عاوخفیۃ۔ اپنے رب کو پکارو گڑگڑاتے ہوئے اور چپکے چپکے) آیت میں چپکے چپکے رب کو پکارنے کا حکم ہے حسن کا قول ہے کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے تمہیں اس بات کی تعلیم دی ہے کہ تم اپنے رب کو کس طرح پکارو۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک عہد صالح کا ذکر فرمایا جس کی پکار کو اس نے پسند فرمایا تھا چناچہ ارشاد ہے اذنادی ربہ نداء خفیا۔ جبکہ اس نے اپنے رب کو چپکے چپکے پکارا) یعنی حضرت زکریاعلیہ السلام عبداللہ بن المبارک نے حسن بصری سے روایت کی ہے کہ لوگ یعنی صحابہ کرام بڑی عاجزی اور نیاز مندی کے ساتھ دعائیں مانگا کرتے تھے اور صرف سرگوشی کی آواز سنائی دیتی تھی۔ حضرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 96–97
134 متاع ایمان وتقویٰ سعادت دارین سے سرفرازی کا ذریعہ و وسیلہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اگر ان بستیوں والے ایمان لے آتے اور تقویٰ و پرہیزگاری کو اپناتے اور اختیار کرتے تو ہم یقینا ان پر آسمانوں اور زمین کی برکات کے دروازے کھول دیتے مگر انہوں نے اس کے برعکس کفر و انکار اور تکذیب حق و اہل حق کی روش ہی کو اپنائے رکھا یہاں تک کہ وہ اپنے آخری اور ہولناک انجام کو پہنچ کر رہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ ایمان اور تقویٰ کے یہ دو وصف آخرت کی دائمی سعادت اور حقیقی کامیابی سے پہلے اس دنیا میں بھی انسان کیلئے موجب خیر و برکت بنتے ہیں ۔ فَاِیَّاکَ نَسْاَلُ التَّوْفِیْقَ وَالسِّدَادَ یَا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–102
سیدنا شعیب (علیہ السلام) کی قوم پر عذاب الٰہی
تشریح : مدین کی قوم پچھلی قوموں، یعنی قوم نوح، عاد، ثمود، اور قوم لوط کی طرح اخلاقی، مذہبی اور تعلیمی لحاظ سے بالکل بگڑ چکی تھی۔ سیدنا شعیب (علیہ السلام) نے اللہ کے حکم سے ان کو راہ راست پر لانے کی ذمہ داری اٹھائی، یہ واقعہ یہاں صرف اس لیے بیان کیا گیا کہچو ن کہ یہ سورت مکہ میں نازل ہوئی اور اس وقت اہل مکہ کا حال بھی کچھ ایسا ہی تھا تو لوگوں کو عبرت دلانے کے لیے ان کو ان تمام قوموں کے حالات اور انجام بتایا گیا کہ عرب لوگ سبق سیکھیں اور راہ ہدایت اختیار کریں۔ اہل مدین اس وقت شرک، بد دیانتی، جھوٹ فریب، ظلم، قتل و فساد غیر اخلاقی وکردار کی انتہائی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–99
رکوع نمبر 12 ۔ آیات 94 تا 99 ۔
اسرار و معارف :
اللہ رب العزت بہت ہی زیادہ کریم ہیں اس قدر کہ انسانی علوم اندازہ کرنے سے قاصر ہیں یہاں ارشاد ہوتا ہے کہ جب بھی اور جہاں بھی کوئی نبی مبعوث فرمایا وہاں انسانی ضروریات میں ایک خاص شدت بھی پیدا کردی لوگوں میں اعراض اور بیماریاں پیدا کردیں یا مالی نقصان سے دوچار کردیا کہ پریشان ہو کر اس کے حل کی تلاش میں نکلیں یا کسی ایسی ہستی کو تلاش کریں جو ان مصائب سے نجات دلا دے تو نبی کی دعوت سنیں اور کم از کم ذاتی غرض کے لیے ہی سہی میرے دروازے پہ تو آئیں یعنی ہدایت و گمراہی میں ایک راستہ اختیار کرنے ک امجاز تو انسان کو بنا دیا پھر بھی اس کی رحمت ایسے اسباب پیدا…
Read the full tafseer →ف 6 آسمانوں سے بارش برساتے اور زمین سے خوب غلے اور پھل اگاتے
Read the full tafseer →Explained with ayahs 95–96
(7:95) السیئۃ اصل میں سوأۃ تھا واؤ کو ی سے بدل کر ی کو ی میں مدغم کردیا گیا ہے ۔ بمعنی برائی۔ خطاکاری۔ گناہ۔ فعل بد۔ ہر وہ شی جو فی نفسہ یا نتیجہ آسائش۔ فرحت و اطمینان کا باعث بنے۔ نیکی۔ نیکوکاری۔ خوشحالی۔ سلامتی۔
عفوا۔ عفا یعفوا (نصر) وہ بڑھ گئے۔ وہ زیادہ ہوگئے۔ عفو سے جس کے معنی زیادہ ہونے کے ہیں۔ عفوا۔ ای کثروا فی انفسھم واموالہم۔ مال و جان میں کثرت ہونا۔
السرائ۔ نعمت ۔ فراخی۔ خوشی۔ اصل میں حالت شادمانی کا نام سرا ہے۔ بغتۃ۔ اچانک۔ ایک دم۔ یکایک۔ دفعۃً ۔
آیات 94، 95 میں بعض کے نزدیک نبی کے بعد فکذبوہ محذوف ہے۔ یعنی ہم نے جب کبھی کسی بستی میں نبی بھیجا تو انہوں نے اسے جھٹلایا۔ تو ہم نے ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–99
لغات القرآن آیت نمبر (94 تا 99) ۔
یضرعون (وہ عاجزی کرتے ہیں) ۔ حتی عفوا (یہاں تک کہ وہ آگے بڑھ گئے) ۔ مس (چھولیا) ۔ بغتتہ (اچانک ) ۔ لفتحنا (البتہ ہم نے کھول دیا) ۔ یکسبون (وہ کمائی کرتے ہیں) ۔ افامن (کیا پھر وہ بےخوف ہوگئے) ۔ نائمون (سونے والے ) ۔ ضحی (دن چڑھے ) ۔ یلعبون (وہ کھیل رہے ہیں) ۔
تشریح : آیت نمبر (94 تا 99 ) ۔ ” گذشتہ آیات میں مسلسل پانچ قوموں کے عبرت انگیز واقعات بیان کر کے عرب کے کفار اور مشرکین کو نصیحت کی جارہی ہے کہ ذرا سوچو ! کیا یہی آزمائشیں تمہارے ساتھ پیش نہیں آرہی ہیں ؟ تم کس غفلت میں پڑے ہو ؟ کیا اللہ تعالیٰ کی خفیہ تدبیریں ٹیکی اس وقت اچانک تمہیں آ کر پکڑ نہیں سکتیں جب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 95–96
اب فرمایا کہ اگر وہ لوگ ایمان لے آتے اور رسولوں کی باتیں مانتے اور ان کی راہ پر چلتے تو ہم آسمان اور زمین تمام جگہ کی برکتیں ان پر بھیج دیتے۔ آسمان سے وہ مینہ برستا کہ زمین بالکل سر سبز و شاداب ہوجاتی اور پیداوار کی وہ کثرت ہوتی کہ کھاتے کھاتے وہ تھک جاتے مگر انہوں نے رسولوں کو جھٹلایا، اس واسطے اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے عذاب میں پکڑلیا اور ان کے کئے کا ایسا بدلہ دیا کہ آخر ہلاک ہی ہوگئے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے قریش کو اپنے عذاب سے ڈرایا کہ کیا یہ بستیوں اور گاؤں کے رہنے والے قریش بالکل بےخوف ہیں کہ ان پر عذاب نہ آئے گا۔ یہ کہیں نہیں بچ سکتے اگر ان پر راتوں رات سوتے میں یا دن کے وقت جب یہ لوگ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 86–102
[41] یعنی یہ لوگ مبتلائے مصیبت ہو کر ایمان لانے کا عہد کرتے اور کہتے کہ اگر ہمیں اس سے نجات مل گئی تو ہم ضرور ایمان لائیں گے پھر جب نجات پاتے تو عہد سے پھرجاتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 96–99
برکات کا نزول :
(ف 2) یعنی اگر یہ لوگ ایمان کی دعوت کو قبول کرلیں اور سچے معنوں میں مسلمان ہوجائیں ، تو پھر دیکھیں اللہ کی رحمتیں کیونکر ان پر نازل ہوتی ہیں ، وہ دیکھیں کہ کس طرح آسمان سے رحمتوں کی بارش ہوتی ہے اور انہیں محسوس ہو کہ ان کے لئے زمین برکات کے خزانے اگل رہی ہے ۔
گویا ایمان واتقاء کے بعد اللہ کی تائید وتضرت شامل حال ہوجاتی ہے ، اور مرد مومن کسی طرح بھی دنیا دار انسان سے حصول نعمت وجاہ میں پیچھے نہیں رہتا ۔
حل لغات :
یضرعون : مادہ ضراعۃ معنی عاجزی اور احتقار ۔
السیئۃ : تکلیف ، الحسنۃ مسرت ، خوشی دونوں لفظ برائی اور نیکی کے لئے بھی استعمال ہوتے ہیں ، یہاں مقصود دکھ اور سکھ ہے ۔
Read the full tafseer →96 اور اگر ان بستیوں کے رہنے والے ان نبیوں پر جن کو ہم نے بھیجا تھا ایمان لے آتے اور خدا سے ڈرتے اور ان نبیوں کی مخالفت سے پرہیز کرتے تو ہم ان پر بجائے آفات ارضی و سماوی کے آسمان و زمین کی برکتوں کے دروازے کھول دیتے لیکن انہوں نے تو پیغمبروں کو تکذیب کا شیوہ اختیار کیا اور ہمارے فرستادوں سے بغاوت کی لہٰذا ہم نے ان کے کرتوتوں کے سبب اور اس کمائی کے باعث جو وہ کمایا کرتے تھے ان کو پکڑ لیا یعنی ہماری گرفت محض دین حق کی مخالفت کے سبب تھی ورنہ اگر وہ راہ راست پر آجاتے اور انبیاء کی اطاعت قبول کرلیتے تو ہم ان پر آسمان و زمین کی برکتیں کھول دیتے آسمان سے خوب بارش ہوتی اور زمین سے خوب پیداوار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 96–98
ف 2۔ یعنی آسمان سے بارش اور زمین سے پیداوار ان کو برکت کے ساتھ عطا فرماتے ہیں اور گو اس ہلاکت سے پہلے ان کو خوش حالی ایک حکمت کے لیے دی گئی لیکن اس خوش حالی میں اس لیے برکت نہ تھی کہ آخر میں وہ وبال جان ہوگئی بخلاف ان نعمتوں کے جو ایمان و اطاعت کے ساتھ ملتی ہیں کہ ان میں یہ خیر و برکت ہوتی ہے کہ وہ وبال جان کبھی نہیں ہوتیں نہ دنیا میں نہ آخرت میں حاصل یہ کہ اگر وہ ایمان وتقوی اختیار کریں تو ان کو بھی یہ برکتیں دیتے۔
Read the full tafseer →کاش کہ یہ لوگ ایمان لاتے اور انعامات الٰہی دنیا و آخر میں حاصل کرتے :
107: یہ گزشتہ قوموں پر اظہار افسوس ہو رہا ہے کہ کاش ! یہ لوگ ایمان لاتے اور تقویٰ کی راہ اختیار کرتے تو اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ ایسا معاملہ کیوں کرتا کہ مہلت پر مہلت دینے کے بعد پھر ان کو عذاب کی نذر کردیتا۔ اگر وہ اچھے کام کرتے اور بروں سے باز آجاتے تو ان کے لئے آسمان و زمین دونوں طرف سے اپنی بےپایاں برکتوں کے دروازے کھول دیتا۔ اس سے دو حقیقتیں واضح ہوگئیں ایک یہ کہ کسی قوم کی ڈھیل کے طور پر اسباب و مال کی جو فراوانی حاصل ہوتی ہے وہ کبھی بھی اللہ تعالیٰ کی رحمت و برکت نہیں ہوتی بلکہ اس کی نوعیت مریض کے مرض الموت میں پہنچ کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 96–99
The Arabic word بَرَکَہ :'barakah' used in this verse and translated as blessing signifies increase or growth. The expression 'blessing of the heaven and the earth' refers to all means of prosperity, like proper and timely rain from heavens (clouds), abundant and healthy produce of the earth and, above all, carefree enjoyment from their possessions with no anxiety to spoil the pleasure of things. That is, everything would have been blessed with 'barakah'.
The barakah manifests itself in two different ways. Sometimes, the thing itself increases in quantity, as is reported happening with the…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 96–99
78. The expression makr signifies a secret strategy of which the victim has no inkling until the decisive blow is struck. Until then, the victim is under the illusion that everything is in good order.
Read the full tafseer →