Explained with ayahs 8–9
میزان اور اعمال کا دین
قیامت کے دن نیکی بدی انصاف و عدل کے ساتھ تولی جانے کی، اللہ تعالیٰ کسی پر ظلم نہ کرے گا۔ جیسے فرمان ہے آیت (ونضع الموازین القسط لیوم القیامتہ) الخ، قیامت کے دن ہم عدل کی ترازو رکھیں گے، کسی پر کوئی ظلم نہ ہوگا، رائی کے دانے کے برابر بھی عمل ہوگا تو ہم اسے لے آئیں گے اور ہم حساب لینے میں کافی ہیں اور آیت میں ہے " اللہ تعالیٰ ایک ذرے کے برابر بھی ظلم نہیں کرتا، وہ نیکی کو بڑھاتا ہے اور اپنے پاس سے اجر عظیم عطا فرماتا ہے۔ سورة قارعہ میں فرمایا جس کا نیکیوں کا پلڑا بھاری ہوگیا اسے عیش و نشاط کی زندگی ملی اور جس کا نیکیوں کا پلڑا ہلکا ہوگیا اس کا ٹھکانا (ہاویہ) ہے جو بھڑکتی…
Read the full tafseer →سورة الْاَعْرَاف 9
اس مضمون کو یوں سمجھیے کہ انسان کا کارنامہ زندگی دو پہلوؤں میں تقسیم ہوگا۔ ایک مثبت پہلو اور دوسرا منفی پہلو۔ مثبت پہلو میں صرف حق کو جاننا اور ماننا اور حق کی پیروی میں حق ہی کی خاطر کام کرنا شمار ہوگا اور آخرت میں اگر کوئی چیز وزنی اور قیمتی ہوگی تو وہ بس یہی ہوگی۔ بخلاف اس کے حق سے غافل ہو کر یا حق سے منحرف ہو کر انسان جو کچھ بھی اپنی خواہش نفس یا دوسرے انسانوں اور شیطانوں کی پیروی کرتے ہوئے غیر حق کی راہ میں کرتا ہے وہ سب منفی پہلو میں جگہ پائے گا اور صرف یہی نہیں کہ یہ منفی پہلو بجائے خود بےقدر ہوگا یہ آدمی کے مثبت پہلوؤں کی قدر بھی گھٹا دے گا۔
پس آخرت میں انسان کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–10
خلاصہ تفسیر
اور اس روز (یعنی قیامت کے دن اعمال و عقائد کا) وزن واقع ہونے والا ہے (تاکہ عام طور پر ہر ایک کی حالت ظاہر ہوجائے) پھر (وزن کے بعد) جس شخص کا پلّہ (ایمان کا) بھاری ہوگا (یعنی وہ مومن ہوگا) سو ایسے لوگ (تو) کامیاب ہوں گے (یعنی نجات پائیں گے) اور جس شخص کا پلّہ (ایمان کا) ہلکا ہوگا (یعنی وہ کافر ہوگا) تو یہ لوگ وہ ہوں گے جنہوں نے اپنا نقصان کرلیا بسبب اس کے کہ ہماری آیتوں کی حق تلفی کیا کرتے تھے، اور بیشک ہم نے تم کو زمین پر رہنے کی جگہ دی، اور ہم نے تمہارے لئے اس (زمین) میں سامان زندگی پیدا کیا (جس کا مقتضیٰ یہ تھا کہ تم اس کے شکریہ میں فرمانبردار و اطاعت شعار ہوتے، لیکن) تم لوگ بہت…
Read the full tafseer →وَمَنْ خَفَّتْ مَوَازِيْنُهٗ فَاُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ خَسِرُوْٓا اَنْفُسَهُمْ بِمَا كَانُوْا بِاٰيٰتِنَا يَظْلِمُوْنَ :۔
زبان کا ایک اسلوب : ہم ایک سے زیادہ مقامات میں زبان کے اس اسلوب کی طرف اشارہ کرچکے ہیں کہ جب صلہ اور فعل میں مناسبت نہ ہو تو وہاں تضمین ہوتی ہے یعنی کوئی ایسا فعل وہاں محذوف مانیں گے جو موجود خلا کو بھر سکے۔ اس کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ لفط کم استعمال ہوتے ہیں، لیکن معنی میں بہت وسعت ہوجاتی ہے۔ یہاں تضمین کھول دی جائے تو پوری بات یوں ہوگی بِمَا كَانُوْا یکفرون بِاٰيٰتِنَا و يَظْلِمُوْنَ انفسہم، بوجہ اس کے وہ ہماری آیات کا انکار کرتے اور اپنی جانوں پر ظلم ڈھاتے رہے۔
اگلی آیات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
9۔ 1 ان آیات میں وزن اعمال کا مسئلہ بیان کیا گیا ہے جو قیامت والے دن ہوگا جسے قرآن کریم میں بھی متعدد جگہ اور احادیث میں بھی بیان کیا گیا ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ ترازو میں اعمال تولے جائیں گے۔ جس کا نیکیوں کا پلا بھاری ہوگا، وہ کامیاب ہوگا اور جس کا بدیوں والا پلڑا بھاری ہوگا، وہ ناکام ہوگا۔ یہ اعمال کس طرح تولے جائیں گے جب کہ یہ اعراض ہیں یعنی ان کا ظاہری وجود اور جسم نہیں ہے ؟ اس بارے میں ایک رائے تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ قیامت والے دن ان کو اجسام میں تبدیل فرمادے گا اور ان کا وزن ہوگا۔ دوسری رائے یہ ہے کہ وہ صحیفے اور رجسٹر تولے جائیں گے۔ جن میں انسان کے اعمال درج ہونگے۔ تیسری رائے یہ ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–10
2: آپ کو یہ پریشانی نہیں ہونی چاہیے کہ اس کے مضامین کو آپ لوگوں سے کیسے منوائیں گے اور اگر لوگ نہ مانے تو کیا ہوگا ؟ کیونکہ آپ کا فریضہ لوگوں کو ہوشیار اور خبردار کرنا ہے ان کے ماننے نہ ماننے کی ذمہ داری آپ پر نہیں ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–9
آیت ” فَلَنَسْأَلَنَّ الَّذِیْنَ أُرْسِلَ إِلَیْْہِمْ وَلَنَسْأَلَنَّ الْمُرْسَلِیْنَ (6) فَلَنَقُصَّنَّ عَلَیْْہِم بِعِلْمٍ وَمَا کُنَّا غَآئِبِیْنَ (7) وَالْوَزْنُ یَوْمَئِذٍ الْحَقُّ فَمَن ثَقُلَتْ مَوَازِیْنُہُ فَأُوْلَـئِکَ ہُمُ الْمُفْلِحُونَ (8) وَمَنْ خَفَّتْ مَوَازِیْنُہُ فَأُوْلَـئِکَ الَّذِیْنَ خَسِرُواْ أَنفُسَہُم بِمَا کَانُواْ بِآیَاتِنَا یِظْلِمُونَ (9)
” پس یہ ضرور ہو کر رہنا ہے کہ ہم ان لوگوں سے باز پرس کریں جن کی طرف ہم نے پیغمبر بھیجے ہیں اور پیغمبروں سے بھی پوچھیں ۔ پھر ہم خود پورے علم کے ساتھ ساری سرگزشت ان کے آگے پیش کردیں ‘ آخر ہم کہیں غائب تو نہیں تھے اور وزن اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
4 قیامت کے دن سب لوگوں کے اعمال کا وزن دیکھا جائے گا۔ جن کے اعمال قلبیہ و اعمال جوارح وزنی ہوں گے وہ کامیاب ہیں اور جن کا وزن ہلکا رہا وہ خسارہ میں رہے۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں کہ " شخص کے عمل وزن کے موافق لکھے جاتے ہیں۔ ایک ہی کام ہے، اگر اخلاص و محبت سے حکم شرعی کے موافق کیا۔ اور برمحل کیا، تو اس کا وزن بڑھ گیا اور دکھاوے کو یا ریس کو کیا یا موافق حکم نہ کیا یا ٹھکانے پر نہ کیا تو وزن گھٹ گیا۔ آخرت میں وہ کاغذ تلیں گے جس کے نیک کام بھاری ہوئے تو برائیوں سے درگزر ہوا اور ہلکے ہوئے تو پکڑا گیا " بعض علماء کا خیال ہے کہ اعمال جو اس وقت اعراض ہیں، وہاں اعیان کی صورت میں مجسد کردیے جائیں گے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
آیت 8 وَالْوَزْنُ یَوْمَءِذِ نِ الْحَقُّ ج
اس روز اللہ تعالیٰ ترازو نما کوئی ایسا نظام قائم کرے گا ‘ جس کے ذریعے سے اعمال کا ٹھیک ٹھیک وزن ہوگا ‘ مگر اس دن وزن صرف حق ہی میں ہوگا ‘ یعنی صرف اعمال صالحہ ہی کا وزن ہوگا ‘ باطل اور برے کاموں میں سرے سے کوئی وزن نہیں ہوگا ‘ ریاکاری کی نیکیاں ترازو میں بالکل بےحیثیت ہوں گی۔ وَالْوَزْنُ یَوْمَءِذِ نالْحَقُّ ج کا دوسرا مفہوم یہ بھی ہے کہ اس دن وزن ہی حق ہوگا ‘ وزن ہی فیصلہ کن ہوگا۔ اگر دو پلڑوں والی ترازو کا تصور کریں تو جس کا نیکیوں والا پلڑا بھاری ہوگا نجات بس اسی کے لیے ہوگی۔
Read the full tafseer →7 اعمال کا وزن حق کے ساتھ کیسے ؟ آیت کے الفاظ یہ ہیں آیت (وَالْوَزْنُ يَوْمَىِٕذِۨ الْحَقُّ ) 7 ۔ الاعراف :8) (یعنی اس دن وزن صرف حق یا حقیقت کا ہوگا) یعنی جتنی کسی عمل میں حقیقت ہوگی اتنا ہی وہ عمل وزنی ہوگا مثلاً ایک شخص اپنی نماز نہایت خلوص نیت سے اللہ کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے اس کی رضامندی چاہتے ہوئے خشوع و خضوع کے ساتھ ادا کرتا ہے تو اس کا یہ عمل یقیناً اس شخص کی نماز سے بہت زیادہ وزنی ہوگا جس نے اپنی نماز بےدلی سے، سستی کے ساتھ اور دنیوی خیالات میں مستغرق رہ کر ادا کی اور جس عمل میں حق کا کچھ بھی حصہ نہ ہوگا اس کا وزن کیا ہی نہیں جائے گا، جیسے سورة کہف کی آیت نمبر 105 میں مذکور ہے کہ…
Read the full tafseer →10 ۔ دین حق کو نہ قبول کرنا اور نظام خداوندی سے انکار وبغاوت کیے جانا آیات الہی کے حق میں ظلم وبے انصافی کرنا ہے۔ اصل زندگی اصل جان، اصل حسن، اصل وزن، صرف طاعتوں یا نیکیوں میں ہے جو یہاں سے کہیں بڑھ کر وہاں نمایاں ہوگا۔ اور ہر معصیت وبدی کی زندگی عارضی ونمائشی ہے۔ ان کا کھوکھلاپن بھی حشرہی میں جو کشف حقائق کا مقام ہے خوب نمایاں ہوگا۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ ان دونوں آیتوں کے ملانے سے وہاں نمایاں ہوگا۔ اور ہر معصیت وبدی کی زندگی عارضی ونمائشی ہے۔ ان کا کھوکھلا پن بھی حشر ہی میں جو کشف حقائق کا مقام ہے خوب نمایاں ہوگا۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ ان دونوں آیتوں کے ملانے سے دنیا میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–10
وَالوزن یومَئِذِن الحق، (الآیۃ) یعنی روز قیامت وزن اعمال برحق ہے اس میں کسی کو شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہوئی چاہیے، یہ شبہ نہ ہونا چاہیے کہ وزن تو اجسام کا ہوتا ہے اور اعمال خواہ اچھے ہوں یا برے ازقبیلہ اعراض ہیں جن کا کوئی جرم و جسم نہیں ہوتا، پھر اعمال کے وزن کی کیا صورت ہوگی ؟ اس بارے میں پہلی بات تو یہ ہے کہ اللہ رب العلمین قادر مطلق ہے اور ہر شئ پر قادر ہے اس کی قدرت سے کوئی شئ خارج نہیں ہے یہ کیا ضروری ہے کہ جس چیز کو ہم نے تول سکیں حق تعالیٰ بھی نہ تول سکیں، اس کے علاوہ جدید دور کی جدید ایجادات نے تو اس مسئلہ کو بالکل واضح اور صاف کردیا ہے اب کوئی شک و شبہ کی گنجائش ہی نہیں رہی، اب نئے…
Read the full tafseer →ومن خفت موازنیہ فاولئک الذین خسروا انفسہم بما کانوا بایتنا یظلمون : اور جن (کی نیکیوں) کے پلڑے ہلکے ہوں گے سو وہ لوگ وہی ہوں گے جنہوں نے خود اپنا نقصان کرلیا ہماری آیتوں کی حق تلفی کرنے کے سبب۔
موازین سے اس جگہ بھی نیکیاں یا نیکیوں کا پلڑا مراد ہے۔ بظاہر اس آیت کے عموم میں بدکار کافر بھی داخل ہیں اور مؤمن بھی جن کی بدیوں کا پلڑا نیکیوں کے پلڑے سے بھاری ہو لیکن اس جگہ صرف کفار مراد ہیں کیونکہ قرآنی بیان کا اسلوب ہی یہ ہے کہ نیکو کار مومنوں کے مقابلہ میں کافروں کا تذکرہ کرتا ہے باقی جو مسلمان مخلوط الاعمال ہیں نیکیاں بھی کرتے ہیں اور بدیاں بھی ان کا ذکر عموما نہیں کیا جاتا۔ الذین خسروا سے یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
(8۔ 9) اور قیامت کے دن پورے انصاف کے ساتھ اعمال کا وزن ہوگا سو جن کی نیکیاں ترازو میں وزنی ہوں گی وہ اللہ تعالیٰ کی ناراضگی اور عذاب سے محفوظ ہوں گے اور جن کی نیکیاں ہلکی ہوں گی تو یہ وہی لوگ ہوں گے جو رسول اکرم ﷺ اور قرآن حکیم کا انکار کرکے سزا کے مستحق ہوگئے۔
Read the full tafseer →وَمَنْ خَفَّتْ مَوَازِيْنُهٗ۔۔ : اکثر مفسرین کے نزدیک اس سے مراد کافر ہیں، کیونکہ قرآن نے انھیں ”خَسِرُوْٓا اَنْفُسَهُمْ“ قرار دیا ہے، مومن گناہ گار تو آخر کار کسی نہ کسی طرح اللہ تعالیٰ کے جوار رحمت میں پہنچ جائیں گے۔ (کبیر) مزید دیکھیے سورة حاقہ (25 تا 29) کی تفسیر۔ عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا : ”میری امت کے ایک شخص کو قیامت کے روز سب کے سامنے لایا جائے گا، اس کے ننانویں اعمال نامے پھیلائے جائیں گے اور ان میں سے ہر ایک اتنا لمبا ہوگا جتنی دور نگاہ جاتی ہے، پھر پروردگار اس سے فرمائے گا : ”کیا تم ان میں سے کسی عمل سے انکار کرتے ہو ؟“ وہ عرض کرے گا : ”نہیں۔“ پھر پروردگار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
قولہ تعالیٰ : والوزن یومئذا لحق یہ مبتدا اور خبر ہے اور یہ بھی جائز ہے کہ الحق صفت ہو اور خبر یومئذ ہو اور یہ بھی جائز ہے الحق مصدر کی بنا پر منصوب ہو۔
اور وزن سے مراد میزان ( ترازو) کے ساتھ بندوں کے اعمال کا وزن کرنا ہے۔ حضرت ابن عمرؓ نے فرمایا : بندوں کے صحائف اعمال کا وزن کیا جائے گا اور یہی صحیح ہے اور اسی کے بارے حدیث میں ہے جو آگے آرہی ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : میزان سے مراد وہ کتاب ہے جس میں مخلوق کے اعمال درج ہیں۔ اور حضرت مجاہد (رح) نے فرمایا : میزان سے مرادنیکیوں اور گناہوں کا عیاں ہونا ہے۔ اور آپ سے حضرت ضحاک اور اعمش سے یہ بھی مروی ہے کہ وزن اور میزان عدل اور قضا ( عدل و انصاف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–10
(1) امام اللالکائی نے سنۃ میں اور بیہقی نے البعث میں عمر بن خطاب ؓ سے روایت کیا کہ ہم لوگ رسول اللہ ﷺ کے گرد بیٹھے ہوئے تھے اچانک ایک آدمی آیا جس پر سفر کا نشان نہیں تھا اور وہ شہر والوں میں سے نہیں تھا۔ وہ پھلاندتا ہوا رسول اللہ ﷺ کے سامنے دوزانوں بیٹھ گیا۔ جیسے کہ ہم میں سے ایک نماز میں بیٹھتا ہے۔ پھر اس نے اپنے ہاتھ رسول اللہ ﷺ کے گھٹنوں پر رکھ دیئے اور پوچھا اے محمد ! اسلام کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا اسلام یہ ہے کہ تو اس بات کی گواہی دے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں اور تو نماز کو قائم کرے زکوٰۃ کو ادا کرے اور حج اور عمرہ بھی کرے اور ناپاک ہوجانے پر غسل کرے۔…
Read the full tafseer →وَمَنْ [ اور وہ ] خَفَّتْ [ ہلکے ہوئے ] مَوَازِيْنُهٗ [ جن کے ترازو ] فَاُولٰۗىِٕكَ [ تو وہ لوگ ] الَّذِيْنَ [ وہ ہیں جنہوں نے ] خَسِرُوْٓا [ گھاٹے میں ڈالا ] اَنْفُسَهُمْ [ اپنے آپ کو ] بِمَا [ بسبب اس کے جو ] كَانُوْا [ وہ لوگ ] بِاٰيٰتِنَا [ ہماری نشانیوں پر ] يَظْلِمُوْنَ [ ظلم کرتے تھے ]
Read the full tafseer →کفار کی نیکیاں بےوزن ہونگی :
سورۂ کہف کے آخری رکوع میں ارشاد ہے کہ (قُلْ ھَلْ نُنَبِّءُکُمْ بالْاَخْسَرِیْنَ اَعْمَالًا اَلَّذِیْنَ ضَلَّ سَعْیُھُمْ فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَ ھُمْ یَحْسَبُوْنَ اَنَّھُمْ یُحْسِنُوْنَ صُنَعًا اُولٰٓءِکَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّھِمْ وَ لِقَآءِہٖ فَحَبِطَتْ اَعْمَالُھُمْ فَلَا نُقِیْمُ لَھُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ وَزْنًا) آپ فرمادیجیے کیا ہم تم کو ایسے لوگ بتائیں جو اعمال کے اعتبار سے بڑے گھاٹے میں ہیں (یہ) وہ لوگ ہیں جن کی کوشش اکارت گئی دنیاوی زندگی میں وہ سمجھتے رہے کہ اچھے کام کر رہے ہیں (یہ) وہی ہیں جو منکر ہوئے اپنے رب کی آیتوں کے اور اس کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–18
قال اللہ تعالیٰ ۔ المص۔ کتاب انزل الیک۔۔۔ الی۔۔۔ بما کانو بایاتنا یظلمون
(ربط) گذشتہ سورت کے آخری رکوع میں قرآن مجید کے اتباع کا حکم اور اس کی ترغیب تھی اور اس سے انحراف اور اعراض پر نزول عذاب کی وعید تھی اور اسی بناء پر گزشتہ سورت کے آخری رکوع کو ان ربک سریع العقاب وانہ لغفور رحیم پر ختم فرمایا اب اس سورت کے آغاز میں قرآن مجید کے اتباع کا حکم دیتے ہیں اور گزشتہ امتوں کے منکرین حق اور مکذبین حق کی ہلاکت اور بربادی کا ذکر کرتے ہیں تاکہ منکرین قرآن اس سے عبرت پکڑیں۔ چناچہ فرماتے ہیں۔ المص سورة بقرہ کے شروع ہی میں اس قسم کے حروف مقطعات کے متعلق مفسرین کے اقوال بسط اور تفصیل کے ساستھ گزر چکے ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
7: علماء کا اس میں اختلاف ہے کہ قیامت کے دن جو میزان (ترازو) نصب کیا جائے گا۔ اس میں کیا تولا جائے گا۔ بعض علماء نے کہا ہے کہ وہ اعمالنامے تولے جائیں گے جن میں حسنات و سیئات لکھے جاتے ہیں اور بعض کا قول ہے کہ قیامت کے دن اعمال حسنہ کو اچھی صورت میں اور اعمال سیئہ کو قبیح صورت میں مصور و مجسم کیا جائے گا اور پھر ان کو ترازو کے پلڑوں میں ڈال کر تولا جائے گا۔ قال بعضہم توزن صحائف الاعمال المکتوبۃ فیھا الحنات والسیئات۔ و قال ابن عباس یوتی بالاعمال الحسنۃ علی صورۃ حسنۃ و بالاعمال السیئۃ علی صورۃ قبیحۃ فتوضع فی المیزان (خازن ج 2 ص 174) ۔
8 یہ بشارت اخروی ہے۔ “ وَ مَنْ خَفَّتْ مَوَازِینُهٗ ” یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–10
ربط آیات
سورۃ اعراف کی ابتدائی آیات میں اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کے اتباع کا حکم دیا ہے جو چیز اللہ تعالیٰ نے تمہاری بہتری کے لیے وحی کے ذریعے نازل کی ہے صرف اسی کا اتباع کرو اور اس ک علاوہ کسی دوسرے پروگرام کی پیروی نہ کرو کہ یہ تمہارے لیے خسارے کا باعث ہوگا اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر کو دین حق آگے پہنچانے کے لیے ہم تو جرات دلائی اور فرمایا کہ آپ کے دل میں کسی قسم کی گھٹن یا تنگی نہیں ہونی چاہیے اور نہ ہی اس معاملہ میں کسی شک و تردد میں پڑنا چاہیے۔ اس سورة میں اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح (علیہ السلام) سے لے کر کئی انبیا کا ذکر کیا ہے ان کیک طریق پر روشنی ڈالی ہے اور پھر ان کے راستے میں آنے والی…
Read the full tafseer →وَمَنْ خَفَّتْ مَوَازِيْنُہٗ فَاُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ خَسِرُوْٓا اَنْفُسَہُمْ بِمَا كَانُوْا بِاٰيٰتِنَا يَظْلِمُوْنَ 9
خفی
خَفِيَ الشیء خُفْيَةً : استتر، قال تعالی: ادْعُوا رَبَّكُمْ تَضَرُّعاً وَخُفْيَةً [ الأعراف/ 55] ،
( خی ) خفی ( س )
خفیتہ ۔ الشیء پوشیدہ ہونا ۔ قرآن میں ہے : ادْعُوا رَبَّكُمْ تَضَرُّعاً وَخُفْيَةً [ الأعراف/ 55] اپنے پروردگار سے عاجزی سے اور چپکے چپکے دعائیں مانگا کرو ۔
خسر
ويستعمل ذلک في المقتنیات الخارجة کالمال والجاه في الدّنيا وهو الأكثر، وفي المقتنیات النّفسيّة کالصّحّة والسّلامة، والعقل والإيمان، والثّواب، وهو الذي جعله اللہ تعالیٰ الخسران المبین، وقال :…
Read the full tafseer →3 ؎ آیتوں کو جھٹلانا ان پر ظلم کرنا ہے۔ 12 منہ
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
ارشاد فرمایا :
وَالْوَزْنُ یَوْمَئِذِ نِ الْحَقُّ ج فَمَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِیْنُہٗ فَاُولٰٓئِکَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ ۔ وَمَنْ خَفَّتْ مِوَازِیْنُہٗ فَاُولٰٓئِکَ الَّذِیْنَ خَسِرُوْٓا اَنْفُسَھُمْ بِمَا کَانُوْا بِاٰیٰتِنَا یَظْلِمُوْنَ ۔ (الاعراف : 8، 9)
” اس دن وزن دار صرف حق ہوگا تو جن کے پلڑے بھاری ٹھہریں گے وہی لوگ فلاح پانے والے بنیں گے اور جن کے پلڑے ہلکے ہوئے وہی لوگ ہیں جنھوں نے اپنے آپ کو گھاٹے میں ڈالاکیون کہ وہ ہماری آیات کے ساتھ ظالمانہ برتائو کرتے رہے تھے “۔
بعض بزرگوں نے اس کے پہلے جملے کا ترجمہ اس طرح کیا ہے ” اور تول اس دن ٹھیک ہوگی “ لیکن دونوں صورتوں میں مطلب اور مفہوم میں…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے انسان کو زمین پر اس لیے بھیجا ہے کہ وہ نیک اعمال کرکے نیکیوں کے پلڑے کو بھاری بنائے لیکن اس نے برائی کے پلڑے کو بھاری بنایا اور جہنم کا ایندھن بنا۔
انسان کو زمین پر بھیجتے وقت ہدایت کی گئی تھی کہ اب تیرا رہنا، مرنا اور محشر کے دن اٹھنا زمین سے ہی ہوگا۔ لہٰذا زمین ہی تیرا ٹھکانہ اور اس میں تیرے لیے زینت کا سامان ہے۔ ہاں یا درکھنا میری طرف سے تیری رہنمائی کے لیے احکام نازل ہوتے رہیں گے۔ جس نے اس رہنمائی کے مطابق زندگی بسر کی۔ اسے دنیا اور آخرت میں خوف و خطر نہیں ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو زمین پر بسنے کے لیے وسائل اور کچھ اختیارات دیے ہیں تاکہ اسے آزمائے…
Read the full tafseer →خفت وزن :
آیت 9: وَمَنْ خَفَّتْ مَوَازِیْنُہٗ (اور جن کے پلڑے ہلکے ہونگے) وہ کفار ہیں ان میں ایمان ہی نہیں۔ کہ جس کے ساتھ عمل معتبر ہوتا۔ ان کے میزان میں خیر نہ ہوگی۔ پس ان کے میزان ہلکے ہونگے۔ فَاُولٰٓپکَ الَّذِیْنَ خَسِرُوْٓا اَنْفُسَھُمْ بِمَا کَانُوْا بِاٰیٰتِنَا یَظْلِمُوْنَ ۔ (پس وہ لوگ وہی ہونگے جنہوں نے خود اپنا نقصان کرلیا۔ ہماری آیات کی حق تلفی کرنے کے سبب) یظلمون کا معنی زور سے انکار کرنا۔ آیات سے دلائل مراد ہیں اور آیات سے ظلم کا مطلب ان کو ان کے مقامات سے ہٹانا یعنی انکار کرنا اور ان کو تسلیم نہ کرنا۔
Read the full tafseer →(9) (ومن خفت موازینہ فاولئک الذین خسروا انفسھم بما کانوا باتینا یظلمون) حضرت ابوبکر ؓ نے اپنی وفات کے وقت حضرت عمر ؓ کو ویت کی کہ اس شخص کی تولیں بھاری ہوں گی جس نے دنیا میں حق کا اتباع کیا اور اس شخص کی تولیں ہلکی ہوں گی جس نے دنیا میں باطل کا اتباع کیا۔ اگر یہ اعتراض ہو کہ ” موازینہ “ جمع ہے حالانکہ ترازو نو قیامت کے دن ایک ہوگا ؟ تو جواب یہ ہے کہ اس جمع سے ایک مراد ہے جیسے ” یا ایھا الرسل “ میں جمع ہے لیکن مراد ایک ہے اور بعض نے کہا ہر بندے کا الگ ترازو ہوگا۔ بعض نے کہا کہ میزان دو پلڑوں دو گواہوں اور ایک زبان پر مشتمل ہے اور وزن ان کے مجموعہ سے مکمل ہوگا اس لئے جمع کا صیغہ ذکر کیا گیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
(8 ۔ 9) ۔ اللہ کے حکم سے قیامت کے دن عملوں کو ایک طرح کا جسم دیا جاوے گا جسم میں نیکی کے سب سے ایک بھاری پن اور بدی کے سبب سے ایک ہلکا پن ہوگا غیر جسمی چیزوں کے لئے ایک طرح کا جسم پیدا ہوجانا جیسا کہ حدیث میں آیا ہے کہ بلا اور دعا آپس میں لڑتے ہیں یا قبر میں نیک عمل نیک صورت بن کر اور بدعمل بری صورت بن کر مردہ کے پاس آتے ہیں یہ قدرت الٰہی سے کچھ بعید نہیں ہے اس واسطے یہ تاویل کرنا کہ صاحب عمل لوگوں کا جسم تولا جاویگا ایک بعید تاویل ہے اور بعضے مفسروں نے صحیحین کی اس حدیث سے کہ قیامت کے دن بڑے بڑے موٹے اور جسیم آدمی ہوں گے جو اللہ کے نزدیک مچھر کے پر کی برابر نہ جچیں گے صاحب عمل کے تولنے کی…
Read the full tafseer →آیت 9
پھر اعمال کی جزا بیان فرمائی۔ یعنی قیامت کے روز اعمال کا زن عدل و انصاف کیساتھ کیا جائے گا۔ کسی بھی لحاظ سے کسی پر کوئی ظلم نہ ہوگا (فمن ثقلت موازینہ) ” تو جن لوگوں کے وزن بھاری ہوں گے۔ “ یعنی جن کی نیکیوں کا پلڑا برائیوں کے پلڑے سے بھاری ہوگا (فاولئک ھم المفلحون) ” تو وہی نجات پانے والے ہوں گے۔ “ یہی لوگ ہیں جو ناپسندیدہ امور سے نجات حاصل کریں گے اور اپنے محبوب امور کو پالیں گے جن کو بہت بڑا نفع اور دائمی سعادت حاصل ہوگی۔ (ومن خفت موازینہ) ” اور جن کے وزن ہلکے ہوں گے “ یعنی جن کی برائیوں کا پلڑا بھاری ہوا، ان کا معاملہ اس کے مطابق ہوگا (فاؤلئک الذین خسروآ انفسھم) ” پس یہی وہ لوگ ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–16
پیروی قرآن
قول باری ہے اتبعواماانزل الیکم من ربکم۔ لوگوں جو کچھ تمہارے رب کی طرف سے تم پر نازل کیا گیا ہے اس کی پیروی کرو) اس کا مفہوم یہ ہے کہ بندوں کے تمام تصرفات کا دائرہ اللہ کے حکم کی مراد تک محدود ہو یعنی اس کے حکم کی جو مراد ہو اس کے بندے اس کے مطابق عمل کریں۔ یہ اہتمام یعنی اقتداء کی نظیر ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ کے حکم کی مراد کی اتباع اور اس پر عمل میں اس کی اس طرح اقتداء کی جائے کہ وہ اس کے دائرہ تدبیر سے خارج نہ ہو۔ اگر یہ کہا جائے کہ آیا مباح پر عمل کرنے والا اللہ کے حکم کا متبع ہوتا ہے ؟ تو اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ ایسا شخص اس وقت اللہ کے حکم کا متبع ہوتا ہے جب وہ اللہ…
Read the full tafseer →13 دولت ایمان سے محرومی سب سے بڑی محرومی ۔ والعیاذ باللہ : ۔ سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ ایمان سے محروم لوگ ہی خسارے میں ہوں گے کہ انہوں نے حق سے منہ موڑ کر اور اپنی متاع حیات کو دنیاوی مفاد اور اس کے عارضی فوائد و منافع کے حصول کے لئے ضائع کردیا اور آخرت کے لئے کچھ نہ کمایا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو دین حق کی تکذیب اور اس سے اعراض و انکار وہ ہولناک خسارہ ہے جس جیسا دوسرا کوئی خسارہ نہیں ہوسکتا۔ اور یہ ایسا خسارہ ہے جسکی تلافی اور تدارک کی پھر کوئی صورت ممکن نہیں ہوگی۔ سو ایمان و یقین کی دولت سے سرفرازی دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی ہے۔ اور اس سے محرومی دنیا و آخرت کی محرومی ہے ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–10
اعمال کا وزن ہو گا
تشریح :۔ حساب کا دن ضرور آئے گا۔ یہ اللہ ذوالجلال کا فرمان ہے اور اس میں وہ کچھ ہوگا جو اوپر آیات میں بیان کیا گیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
رکوع نمبر 1 ۔ آیات نمبر 1 تا 10 ۔
اسرار و معارف :
کتاب کا مفہوم :
حفورف مقطعات کے متعلق شروع میں ہی عرض کیا جا چکا ہے کہ انھا سر بین اللہ ورسولہ نیز جنہیں قلب اطہر سے نسبت تام نصیب ہوجائے اللہ کی عطا سے وہ بھی اپنی حیثیت کے مطابق آگاہ ہوجاتے ہیں ان پر ایمان ضروری ہے اور تلاوت سے وہ فائدہ جو مقصود ہے نصیب ہوجاتا ہے لہذا ہر کس و ناکس کو معافی کی کرید نہ کرنا چاہئے۔
یہ کتاب ہے جامع مکمل اور سچی محض اوراق لکھ کر جوڑ دینا کتاب کا مفہوم ادا نہیں کرتا اس لیے کہ ہر کتاب کسی موضوع پر ہوتی ہے اور حق یہ ہے کہ اسے موضوع کے بارے مکمل سچی اور حتی بات قاری تک پہنچانا چاہئے۔ انسانی اندازے تو ہوتے ہیں قطعی…
Read the full tafseer →ف 1 کثر مفسرین (رح) کے نزدیک اس سے مراد کافر ہے کیونکہ قرآن نے ان کو خسر وا انفسھم قرار دیا ہے۔ مومن گنہگار تو آخر کار کسی نہ کسی طرح اللہ تعالیٰ کے جوار رحمت میں پہنچ جائیں گے (کبیر) حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا میری امت کے ایک شخص کو قیامت کے روز سب کے سامنے لایا جائے گا اس کے ننانوے اعمال پھیلائے جائیں گے اور ان میں سے ہر اک اتنا لمبا ہوگا جتنی دور نگاہ جاتی ہے۔ پھر پروردگار اس سے دریافت فرمائے گا کیا تم ان میں م سے کسی عمل سے انکار کرتے ہو َ وہ عرض کرے گا نہیں پھر پروردگار فرمائے گا تمہاری ایک نیکی بھی ہمارے پاس ہے اور ا آج تم سے کوئی نے انصافی نہیں کی جائے گی پھر…
Read the full tafseer →(7:9) خسروا (باب سمع) خسران مصدر۔ خسروا انفسھم۔ انہوں نے اپنی جانوں کو گھاٹے میں ڈالا۔
بما کانوا بایتنا یظلمون۔ ای یکذبون۔ جھٹلاتے تھے۔ یا بےانصافی کیا کرتے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–10
لغات القرآن : آیت نمبر 6 تا 10 :
نسئلن (ہم ضرور پوچھیں گے) نقصن ( ہم ضرور بتائیں گے) غآ ئبین ( غائب رہنے والے) ثقلت (بھاری ہوئے) موازین ( موزون) ۔ وزن۔ تول ‘ خفت (ہلکے ہوئے) خسروا (انہوں نے نقصان اٹھایا) ‘ مکنا ( ہم نے ٹھکانا دیا (معایش (معیشۃ) ۔ زندگی گذارنے کا سامان۔
تشریح : آیت نمبر 6 تا 10 :
سورۃ الاعراف کی آیت نمبر 4 تا 5 میں اللہ تعالیٰ نے بہت سی بستیوں اور شہر والوں کا ذکر کیا ہے جن کے برے اعمال اور بد کرداریوں کی وجہ سے مختلف وقتوں میں مختلف عذاب آئے ‘ کسی قوم کی شکل بدل دی گئی ‘ کہیں پتھربرسائے گئیے ‘ بہت سی بستیوں کو ان پر الٹ دیا گیا ‘ زلزلے ‘ سیلاب بیماریوں اور آفتوں میں مبتلا کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے احسانوں کے شکر گزار ہو اور سوا اللہ کے اوروں کی پرستش چھور دو ۔ اس لئے فرمایا کہ ہم نے تم کو زمین میں رہنے اور گھر بنانے، باغ وکھیتی کرنے کی تم کو عقل دی۔ غرضیکہ ہر طرح کی نعمت دی باوجود اس کے تمہاری یہ ناشکری ہے کہ اللہ کو چھوڑ کر اوروں کی پوجا کرتے ہو۔ علاوہ اس کے تمہارے باپ حضرت آدم (علیہ السلام) کی یہ بزرگی عطا فرمائی کہ تمام فرشتوں کو حکم سجدہ کرنے کا دیا، سب فرشتوں نے سجدہ کیا ابلیس نے نہیں کیا بہ سبب حسد کے اور عدول حکمی (نافرمانی) کی اور یہ ابلیس تمہارا موروثی دشمن ہے۔ اس سے بچتے رہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–11
[2] یعنی تمہارے باپ آدم کو۔
[3] یعنی تمہارے باپ آدم کی صورت بنائی۔
[4] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة بقرہ حاشیہ 28 صفحہ 96۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
وزن اعمال :
(ف 1) اعمال کا وزن ضرور ہوگا وہ لوگ جن کے نیک اعمال زیادہ ہوں گے بخشش ورحمت کے سزاوار ہوں گے ، اور جن کے اعمال میزان پر پورے نہ اتریں گے ، گھاٹے اور ٹوٹے میں رہیں گے مگر اعمال کے وزن کی صورت کیا ہوگی ہمیں یہ نہیں بتلایا گیا ، کیونکہ اس کا تعلق عالم غیب سے ہے ، البتہ مکافات عمل کے اصول کے مطابق ہمیں یقین ہے کہ محاسبہ قطعی ہوگا ، اور پورے پورے انداز سے ہوگا ۔
حل لغات :
مکنکم : مصدر تمکن ثبات ، قرار ۔
Read the full tafseer →9 اور وہ لوگ جن کا پلہ تول میں ہلکا ہوگا تو یہ لوگ وہی ہیں جنہوں نے اپنے آپ کو خسارہ میں ڈال لیا بہ سبب اس کے کہ وہ ہماری آیتوں کے ساتھ غیر منصفانہ برتائو کیا کرتے تھے۔ یعنی منکر اس دن خسارے میں پڑجائیں گے اور ان کو سخت ٹوٹا ہوگا۔
Read the full tafseer →ف 2۔ میزان میں ایمان وکفر کا وزن کیا جائے گا اور اسی وزن میں ایک پلہ خالی رہ جائے گا اور ایک پلہ میں اگر وہ مومن ہے تو ایمان اور اگر وہ کافر ہے تو کفر رکھا جائے گا جب اس تول سے مومن و کافر متمیز ہوجائیں گے تو پھر خاص مومنین کے لیے ایک پلہ میں ان کے حسنات اور دوسرے پلہ میں ان کے سیئات رکھ کر ان اعمال کا وزن ہوگا اور جیسا کہ در منثور میں ابن عباس سے مروی ہے اگر حسنات غالب ہوئے تو جنت اور اگر سیئات غالب ہوئے تو دوزخ اور اگر دونوں برابر ہوئے تو اعراف اس کے لیے تجویز ہوگی پھر خواہ شفاعت سے قبل سزا خواہ سزا کے بعد مغفرت ہوجائے گی۔
Read the full tafseer →جن کا تول ہلکا ہوگا وہ وہی ہوں گے جو اپنی جانوں پر ظلم کرتے رہے :
9: یہ اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے کون ہیں ؟ وہی جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی آیات کا مذاق اڑایا اور حق کے قریب بھی نہ گئے۔ رسول کی فرمانبرداری کا وقت آیا تو ان کو باپ دادا یاد آگیا اور رسول ﷺ کی لائی ہوئی ہدایت کو چھوڑ کر انہوں نے باپ دادا کی رسومات کو اپنایا اور اختیار کیا۔ ان کو توجہ دلائی گئی تو انہوں نے مذاق اڑا دیا پھر جب اعمال کے خسارے میں رہے اس کا اندازہ کون کرسکتا ہے ؟ ہر وہ شخص جو ” زیرو “ کی حقیقت کو سمجھتا ہے اور آج کل لوگ اس کو ” گول انڈا “ کے نام سے بھی یاد کرتے ہیں۔ یہ لوگ کون ہیں ؟ وہی جو آیات الٰہی سے بےانصافی اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–11
Commentary
In the first verse, it was said: وَالْوَزْنُ يَوْمَئِذٍ الْحَقُّ ` (And the Weighing on that day is definite). It means that the weighing of good and bad deeds on the day of Judgment is due and true. There is no room for doubt in it. Here, the hint given is that let no one be deceived by the idea that things which usually get to be weighed or measured are things having some weight or heaviness. Human deeds, good or bad, have no body or mass which could be weighed. How, then, would deeds be weighed? First of all, the reason is that the authority of Allah is absolute. He is powerful…
Read the full tafseer →9. For a full appreciation of this point it is necessary, to remember that man's deeds will be classified into positive and negative categorics. The positive category will consist of knowing the truth, believing in it, acting upon it, and striving to make it prevail. It is such acts alone which will have weight in the Hereafter. Conversely, whenever someone follows and goes after lusts or blindly follows other humans or satans, his acts will be reckoned as 'negative'. Such acts will not only be of no value at all, but will also have the effect of reducing the total weight of one's positive…
Read the full tafseer →