Explained with ayahs 8–9
میزان اور اعمال کا دین
قیامت کے دن نیکی بدی انصاف و عدل کے ساتھ تولی جانے کی، اللہ تعالیٰ کسی پر ظلم نہ کرے گا۔ جیسے فرمان ہے آیت (ونضع الموازین القسط لیوم القیامتہ) الخ، قیامت کے دن ہم عدل کی ترازو رکھیں گے، کسی پر کوئی ظلم نہ ہوگا، رائی کے دانے کے برابر بھی عمل ہوگا تو ہم اسے لے آئیں گے اور ہم حساب لینے میں کافی ہیں اور آیت میں ہے " اللہ تعالیٰ ایک ذرے کے برابر بھی ظلم نہیں کرتا، وہ نیکی کو بڑھاتا ہے اور اپنے پاس سے اجر عظیم عطا فرماتا ہے۔ سورة قارعہ میں فرمایا جس کا نیکیوں کا پلڑا بھاری ہوگیا اسے عیش و نشاط کی زندگی ملی اور جس کا نیکیوں کا پلڑا ہلکا ہوگیا اس کا ٹھکانا (ہاویہ) ہے جو بھڑکتی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
سورة الْاَعْرَاف 8
اس کا مطلب یہ ہے کہ اس روز خدا کی میزان عدل میں وزن اور حق دونوں ایک دوسرے کے ہم معنی ہوں گے۔ حق کے سوا کوئی چیز وہاں وزنی نہ ہوگیا اور وزن کے سوا کوئی چیز حق نہ ہوگی۔ جس کے ساتھ جتنا حق ہوگا اتنا ہی وہ با وزن ہوگا۔ اور فیصلہ جو کچھ بھی ہوگا وزن کے لحاظ سے ہوگا، کسی دوسری چیز کا ذرہ برابر لحاظ نہ کیا جائے گا۔ باطل کی پوری زندگی خواہ دنیا میں وہ کتنی ہی طویل و عریض رہی ہو اور کتنے ہی بظاہر شاندار کارنامے اس کی پشت پر ہوں، اس ترازو میں سراسر بےوزن قرار پائے گی۔ باطل پرست جب اس میزان میں تولے جائیں گے تو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے کہ دنیا میں جو کچھ وہ مدّت العمر کرتے رہے وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–10
خلاصہ تفسیر
اور اس روز (یعنی قیامت کے دن اعمال و عقائد کا) وزن واقع ہونے والا ہے (تاکہ عام طور پر ہر ایک کی حالت ظاہر ہوجائے) پھر (وزن کے بعد) جس شخص کا پلّہ (ایمان کا) بھاری ہوگا (یعنی وہ مومن ہوگا) سو ایسے لوگ (تو) کامیاب ہوں گے (یعنی نجات پائیں گے) اور جس شخص کا پلّہ (ایمان کا) ہلکا ہوگا (یعنی وہ کافر ہوگا) تو یہ لوگ وہ ہوں گے جنہوں نے اپنا نقصان کرلیا بسبب اس کے کہ ہماری آیتوں کی حق تلفی کیا کرتے تھے، اور بیشک ہم نے تم کو زمین پر رہنے کی جگہ دی، اور ہم نے تمہارے لئے اس (زمین) میں سامان زندگی پیدا کیا (جس کا مقتضیٰ یہ تھا کہ تم اس کے شکریہ میں فرمانبردار و اطاعت شعار ہوتے، لیکن) تم لوگ بہت…
Read the full tafseer →وَالْوَزْنُ يَوْمَىِٕذِۨ الْحَقُّ۔ مطلب یہ ہے کہ اس دن وزن رکھنے والی شے صرف حق ہوگا۔ باطل میں میرے سے کوئی وزن ہی نہیں ہوگا۔ قیامت میں اللہ تعالیٰ جو ترازو نصب فرمائے گا وہ ہر ایک کے اعمال تول کر بتا دے گی کہ اس میں حق کا حصہ کتان ہے۔ پھر جس کے پلڑے بھاری ہوں گے، یعنی حق کی مقدار ان کے ساتھ زیادہ ہوگی، وہ فلاح پانے والے بنیں گے اور جن کے پلڑے ہلکے ہوں گے وہ خائب و خاسر ہوں گے۔ اعمال کے باوزن اور بےوزن ہونے کے باب میں قرآن نے یہ اصول بھی بیان فرمایا ہے۔“ قُلْ هَلْ نُنَبِّئُكُمْ بِالأخْسَرِينَ أَعْمَالا (103) الَّذِينَ ضَلَّ سَعْيُهُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَهُمْ يَحْسَبُونَ أَنَّهُمْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
7۔ 1 چونکہ ہر ظاہر اور پوشیدہ بات کا علم رکھتے ہیں اس لئے پھر ہم دونوں (امتیوں اور پیغمبروں) کے سامنے ساری باتیں بیان کریں گے اور جو جو کچھ انہوں نے کیا ہوگا، ان کے سامنے رکھ دیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–10
2: آپ کو یہ پریشانی نہیں ہونی چاہیے کہ اس کے مضامین کو آپ لوگوں سے کیسے منوائیں گے اور اگر لوگ نہ مانے تو کیا ہوگا ؟ کیونکہ آپ کا فریضہ لوگوں کو ہوشیار اور خبردار کرنا ہے ان کے ماننے نہ ماننے کی ذمہ داری آپ پر نہیں ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–9
آیت ” فَلَنَسْأَلَنَّ الَّذِیْنَ أُرْسِلَ إِلَیْْہِمْ وَلَنَسْأَلَنَّ الْمُرْسَلِیْنَ (6) فَلَنَقُصَّنَّ عَلَیْْہِم بِعِلْمٍ وَمَا کُنَّا غَآئِبِیْنَ (7) وَالْوَزْنُ یَوْمَئِذٍ الْحَقُّ فَمَن ثَقُلَتْ مَوَازِیْنُہُ فَأُوْلَـئِکَ ہُمُ الْمُفْلِحُونَ (8) وَمَنْ خَفَّتْ مَوَازِیْنُہُ فَأُوْلَـئِکَ الَّذِیْنَ خَسِرُواْ أَنفُسَہُم بِمَا کَانُواْ بِآیَاتِنَا یِظْلِمُونَ (9)
” پس یہ ضرور ہو کر رہنا ہے کہ ہم ان لوگوں سے باز پرس کریں جن کی طرف ہم نے پیغمبر بھیجے ہیں اور پیغمبروں سے بھی پوچھیں ۔ پھر ہم خود پورے علم کے ساتھ ساری سرگزشت ان کے آگے پیش کردیں ‘ آخر ہم کہیں غائب تو نہیں تھے اور وزن اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
4 قیامت کے دن سب لوگوں کے اعمال کا وزن دیکھا جائے گا۔ جن کے اعمال قلبیہ و اعمال جوارح وزنی ہوں گے وہ کامیاب ہیں اور جن کا وزن ہلکا رہا وہ خسارہ میں رہے۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں کہ " شخص کے عمل وزن کے موافق لکھے جاتے ہیں۔ ایک ہی کام ہے، اگر اخلاص و محبت سے حکم شرعی کے موافق کیا۔ اور برمحل کیا، تو اس کا وزن بڑھ گیا اور دکھاوے کو یا ریس کو کیا یا موافق حکم نہ کیا یا ٹھکانے پر نہ کیا تو وزن گھٹ گیا۔ آخرت میں وہ کاغذ تلیں گے جس کے نیک کام بھاری ہوئے تو برائیوں سے درگزر ہوا اور ہلکے ہوئے تو پکڑا گیا " بعض علماء کا خیال ہے کہ اعمال جو اس وقت اعراض ہیں، وہاں اعیان کی صورت میں مجسد کردیے جائیں گے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
آیت 8 وَالْوَزْنُ یَوْمَءِذِ نِ الْحَقُّ ج
اس روز اللہ تعالیٰ ترازو نما کوئی ایسا نظام قائم کرے گا ‘ جس کے ذریعے سے اعمال کا ٹھیک ٹھیک وزن ہوگا ‘ مگر اس دن وزن صرف حق ہی میں ہوگا ‘ یعنی صرف اعمال صالحہ ہی کا وزن ہوگا ‘ باطل اور برے کاموں میں سرے سے کوئی وزن نہیں ہوگا ‘ ریاکاری کی نیکیاں ترازو میں بالکل بےحیثیت ہوں گی۔ وَالْوَزْنُ یَوْمَءِذِ نالْحَقُّ ج کا دوسرا مفہوم یہ بھی ہے کہ اس دن وزن ہی حق ہوگا ‘ وزن ہی فیصلہ کن ہوگا۔ اگر دو پلڑوں والی ترازو کا تصور کریں تو جس کا نیکیوں والا پلڑا بھاری ہوگا نجات بس اسی کے لیے ہوگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
6 انصاف کا تقاضا اور شہادت کی اہمیت :۔ یعنی کسی قوم پر ایسا عذاب آنا اس کے جرائم کی مکمل سزا نہیں ہوتی بلکہ اس کی مثال ایسی ہی ہوتی ہے جیسے کسی عادی مجرم کو گرفتار کرلیا جائے تاکہ آئندہ اس کے ظلم سے لوگ محفوظ رہیں بالفاظ دیگر اس قوم کے مظالم دوسری اقوام کو بھی متاثر نہ کرنے لگیں۔ پھر ایسے مجرموں پر اللہ تعالیٰ کی عدالت میں باقاعدہ مقدمہ پیش ہوگا۔ ایک فریق تو رسول ہوں گے جو ان کی طرف بھیجے گئے تھے اور دوسرا فریق یہ مجرم قوم ہوگی، دونوں کی شہادتیں ہوں گی، رسول کی شہادت یہ ہوگی کہ یا اللہ میں نے اس قوم کو تیرا پیغام پہنچا دیا تھا۔ مگر چونکہ قوم کو سزا کا خوف ہوگا اس لیے اسے رسول کی شہادت کے خلاف…
Read the full tafseer →9 ۔ الفاظ میں ” وزن “ ہونا رائے میں ” وزن “ ہونا، معانی میں ” وزن “ ہونا یہ تو ہم لوگ گفتگو میں روز مرہ بولتے اور مجازی حیثیت سے برابر تسلیم ہی کرتے ہیں یوم حشر کشف حقائق کا دن ہوگا، ہر مجاز عین حقیقت بن جائے گا۔ ” وزن “ کے لیے جسمیت کی شرط تو مخصوص اس عالم ناسوت کے ساتھ ہے۔ اس عالم میں تو مجردات بھی محسوسات کے لباس میں ملبوس ہوں گے۔ (آیت) ” الوزن “ کے مجازی معنی یہی کیے گئے ہیں۔ لیکن اکابر اہل سنت کے یہاں بلاضرورت ظاہر کو چھوڑ کر مجاز ماننا درست نہیں۔ وقد اجمعت الامۃ فی الصدر الاول علی الاخذ بھذہ الظواھر من غیر تاویل واذا اجمعوا علی منع التاویل وجب الاخذ بالظاھر وصارت ھذہ الظواھر نصوصا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–10
وَالوزن یومَئِذِن الحق، (الآیۃ) یعنی روز قیامت وزن اعمال برحق ہے اس میں کسی کو شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہوئی چاہیے، یہ شبہ نہ ہونا چاہیے کہ وزن تو اجسام کا ہوتا ہے اور اعمال خواہ اچھے ہوں یا برے ازقبیلہ اعراض ہیں جن کا کوئی جرم و جسم نہیں ہوتا، پھر اعمال کے وزن کی کیا صورت ہوگی ؟ اس بارے میں پہلی بات تو یہ ہے کہ اللہ رب العلمین قادر مطلق ہے اور ہر شئ پر قادر ہے اس کی قدرت سے کوئی شئ خارج نہیں ہے یہ کیا ضروری ہے کہ جس چیز کو ہم نے تول سکیں حق تعالیٰ بھی نہ تول سکیں، اس کے علاوہ جدید دور کی جدید ایجادات نے تو اس مسئلہ کو بالکل واضح اور صاف کردیا ہے اب کوئی شک و شبہ کی گنجائش ہی نہیں رہی، اب نئے…
Read the full tafseer →والوزن یومئذ الحق اور ٹھیک ٹھیک تول اس روز ہوگی۔
یعنی جس روز پیغمبروں سے اور ان کی امتوں سے سوال ہوگا۔ اس روز میزان عدل سے اعمال کا ٹھیک ٹھیک وزن ضرور ہوگا۔ الوزنمبتدا ہے اور یومئذخبر اور الحقمبتدا کی صفت۔ الحق سے مراد ہے ٹھیک برابر یا الحق خبر ہے اور مبتدا محذوف ہے یعنی وہ حق ہے اس میں کوئی شک نہیں اس پر ایمان لانا واجب ہے۔
حدیث جبرئیل ( علیہ السلام) میں حضرت عمر بن خطاب کی روایت سے آیا ہے کہ حضرت جبرئیل ( علیہ السلام) نے کہا محمد ﷺ ایمان (سے مراد) کیا ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا (ایمان یہ ہے کہ) تم اللہ کو اس کے فرشتوں اور اس کے پیغمبروں کو مانو اور جنت و دوزخ اور میزان پر یقین رکھو اور مرنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
(8۔ 9) اور قیامت کے دن پورے انصاف کے ساتھ اعمال کا وزن ہوگا سو جن کی نیکیاں ترازو میں وزنی ہوں گی وہ اللہ تعالیٰ کی ناراضگی اور عذاب سے محفوظ ہوں گے اور جن کی نیکیاں ہلکی ہوں گی تو یہ وہی لوگ ہوں گے جو رسول اکرم ﷺ اور قرآن حکیم کا انکار کرکے سزا کے مستحق ہوگئے۔
Read the full tafseer →وَالْوَزْنُ يَوْمَىِٕذِۨ الْحَقُّ ۚ: اوپر کی آیت میں سوال اور حساب کا ذکر ہے، اس آیت میں وزن اعمال کا، یعنی ہر ایک کے نیک و بد اعمال کا وزن ہوگا۔ یہاں اس اشکال کی بنا پر کہ ان اعمال کا تو اس وقت وجود ہی ختم ہوچکا ہوگا، بعض عقل پرستوں نے وزن اعمال ہی سے انکار کردیا، مگر اللہ تعالیٰ کی بات کیسے غلط ہوسکتی ہے۔ امام بخاری ؓ نے اپنی صحیح بخاری کو ختم ہی اس بات کو قرآن و سنت کے دلائل کے ساتھ ثابت کرنے سے کیا ہے۔ مزید دیکھیے سورة انبیاء (47) یہ وزن کیسے ہوگا، کچھ اہل علم نے کہا کہ وہ کاغذ تولے جائیں گے جن میں عمل لکھے ہوں گے۔ بعض نے کہا کہ ان اعمال کو جسم دے کر وہ جسم تولے جائیں گے۔ بعض نے کہا کہ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
قولہ تعالیٰ : والوزن یومئذا لحق یہ مبتدا اور خبر ہے اور یہ بھی جائز ہے کہ الحق صفت ہو اور خبر یومئذ ہو اور یہ بھی جائز ہے الحق مصدر کی بنا پر منصوب ہو۔
اور وزن سے مراد میزان ( ترازو) کے ساتھ بندوں کے اعمال کا وزن کرنا ہے۔ حضرت ابن عمرؓ نے فرمایا : بندوں کے صحائف اعمال کا وزن کیا جائے گا اور یہی صحیح ہے اور اسی کے بارے حدیث میں ہے جو آگے آرہی ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : میزان سے مراد وہ کتاب ہے جس میں مخلوق کے اعمال درج ہیں۔ اور حضرت مجاہد (رح) نے فرمایا : میزان سے مرادنیکیوں اور گناہوں کا عیاں ہونا ہے۔ اور آپ سے حضرت ضحاک اور اعمش سے یہ بھی مروی ہے کہ وزن اور میزان عدل اور قضا ( عدل و انصاف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–10
(1) امام اللالکائی نے سنۃ میں اور بیہقی نے البعث میں عمر بن خطاب ؓ سے روایت کیا کہ ہم لوگ رسول اللہ ﷺ کے گرد بیٹھے ہوئے تھے اچانک ایک آدمی آیا جس پر سفر کا نشان نہیں تھا اور وہ شہر والوں میں سے نہیں تھا۔ وہ پھلاندتا ہوا رسول اللہ ﷺ کے سامنے دوزانوں بیٹھ گیا۔ جیسے کہ ہم میں سے ایک نماز میں بیٹھتا ہے۔ پھر اس نے اپنے ہاتھ رسول اللہ ﷺ کے گھٹنوں پر رکھ دیئے اور پوچھا اے محمد ! اسلام کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا اسلام یہ ہے کہ تو اس بات کی گواہی دے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں اور تو نماز کو قائم کرے زکوٰۃ کو ادا کرے اور حج اور عمرہ بھی کرے اور ناپاک ہوجانے پر غسل کرے۔…
Read the full tafseer →وَالْوَزْنُ [ اور تولنا ] يَوْمَىِٕذِۨ [ اس دن ] الْحَقُّ ۚ [ حق ہے ] فَمَنْ [ پس وہ ] ثَقُلَتْ [ بھاری ہوئے ] مَوَازِيْنُهٗ [ جن کے ترازو ] فَاُولٰۗىِٕكَ [ تو وہ لوگ ] هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ (8) [ ہی فلاح پانے والے ہیں ]
نوٹ ۔ 2: وَالْوَزْنُ يَوْمَىِٕذِۨ الْحَقُّ ۚ ۔ میں اس طرف اشارہ ہے کہ لوگ اس سے دھوکا نہ کھائیں کہ انسان کے اعمال کا کوئی جسم یا حجم نہیں ہوتا تو پھر ان کا وزن کیسے ہوگا ۔ یہ ضروری نہیں ہے کہ جس چیز کو ہم نہ تول سکیں اسے اللہ تعالیٰ بھی نہ تول سکے، کیونکہ وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اس کے علاوہ آج کل تو وہ چیزیں بھی تولی جاتی ہیں جن کے تولنے کا آج سے پہلے کوئی تصور بھی نہیں تھا ۔…
Read the full tafseer →اعمال کا وزن، بھاری اوزان والوں کی کامیابی :
اللہ رب العزت ہمیشہ سے ساری مخلوق کے اعمال سے واقف ہے اگر قیامت کے میدان میں صرف اپنی معلومات کی بناء پر اعمال کی جزا و سزا دے تو اس کو اس کا بھی حق ہے، لیکن میدان حشر میں ایسا نہ کیا جائے گا بلکہ بندوں کے سامنے ان کے اعمال نامے پیش کیے جائیں گے وزن ہوگا گواہیاں ہوں گی، اور مجرمین انکاری بھی ہوں گے اور دلیل سے جرم کا اثبات بھی کیا جائے گا تاکہ سزا بھگتنے والے یوں نہ کہہ سکیں کہ ہم کو ظلماً بلا وجہ عذاب میں ڈالا گیا۔ اسی کو فرمایا (وَ الْوَزْنُ یَوْمَءِذِ نِ الْحَقُّ ) اور اس دن وزن کرنا حق ہے سو جن کی تولیں بھاری پڑیں وہی لوگ با مراد ہوں گے، اور جن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–18
قال اللہ تعالیٰ ۔ المص۔ کتاب انزل الیک۔۔۔ الی۔۔۔ بما کانو بایاتنا یظلمون
(ربط) گذشتہ سورت کے آخری رکوع میں قرآن مجید کے اتباع کا حکم اور اس کی ترغیب تھی اور اس سے انحراف اور اعراض پر نزول عذاب کی وعید تھی اور اسی بناء پر گزشتہ سورت کے آخری رکوع کو ان ربک سریع العقاب وانہ لغفور رحیم پر ختم فرمایا اب اس سورت کے آغاز میں قرآن مجید کے اتباع کا حکم دیتے ہیں اور گزشتہ امتوں کے منکرین حق اور مکذبین حق کی ہلاکت اور بربادی کا ذکر کرتے ہیں تاکہ منکرین قرآن اس سے عبرت پکڑیں۔ چناچہ فرماتے ہیں۔ المص سورة بقرہ کے شروع ہی میں اس قسم کے حروف مقطعات کے متعلق مفسرین کے اقوال بسط اور تفصیل کے ساستھ گزر چکے ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
7: علماء کا اس میں اختلاف ہے کہ قیامت کے دن جو میزان (ترازو) نصب کیا جائے گا۔ اس میں کیا تولا جائے گا۔ بعض علماء نے کہا ہے کہ وہ اعمالنامے تولے جائیں گے جن میں حسنات و سیئات لکھے جاتے ہیں اور بعض کا قول ہے کہ قیامت کے دن اعمال حسنہ کو اچھی صورت میں اور اعمال سیئہ کو قبیح صورت میں مصور و مجسم کیا جائے گا اور پھر ان کو ترازو کے پلڑوں میں ڈال کر تولا جائے گا۔ قال بعضہم توزن صحائف الاعمال المکتوبۃ فیھا الحنات والسیئات۔ و قال ابن عباس یوتی بالاعمال الحسنۃ علی صورۃ حسنۃ و بالاعمال السیئۃ علی صورۃ قبیحۃ فتوضع فی المیزان (خازن ج 2 ص 174) ۔
8 یہ بشارت اخروی ہے۔ “ وَ مَنْ خَفَّتْ مَوَازِینُهٗ ” یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–10
ربط آیات
سورۃ اعراف کی ابتدائی آیات میں اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کے اتباع کا حکم دیا ہے جو چیز اللہ تعالیٰ نے تمہاری بہتری کے لیے وحی کے ذریعے نازل کی ہے صرف اسی کا اتباع کرو اور اس ک علاوہ کسی دوسرے پروگرام کی پیروی نہ کرو کہ یہ تمہارے لیے خسارے کا باعث ہوگا اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر کو دین حق آگے پہنچانے کے لیے ہم تو جرات دلائی اور فرمایا کہ آپ کے دل میں کسی قسم کی گھٹن یا تنگی نہیں ہونی چاہیے اور نہ ہی اس معاملہ میں کسی شک و تردد میں پڑنا چاہیے۔ اس سورة میں اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح (علیہ السلام) سے لے کر کئی انبیا کا ذکر کیا ہے ان کیک طریق پر روشنی ڈالی ہے اور پھر ان کے راستے میں آنے والی…
Read the full tafseer →وَالْوَزْنُ يَوْمَىِٕذِۨ الْحَقُّ 0 ۚ فَمَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِيْنُہٗ فَاُولٰۗىِٕكَ ہُمُ الْمُفْلِحُوْنَ 8
وزن
الوَزْنُ : معرفة قدر الشیء . يقال : وَزَنْتُهُ وَزْناً وزِنَةً ، والمتّعارف في الوَزْنِ عند العامّة : ما يقدّر بالقسط والقبّان . وقوله : وَزِنُوا بِالْقِسْطاسِ الْمُسْتَقِيمِ [ الشعراء/ 182] ، وَأَقِيمُوا الْوَزْنَ بِالْقِسْطِ [ الرحمن/ 9] إشارة إلى مراعاة المعدلة في جمیع ما يتحرّاه الإنسان من الأفعال والأقوال . وقوله تعالی: فَلا نُقِيمُ لَهُمْ يَوْمَ الْقِيامَةِ وَزْناً
[ الكهف/ 105] وقوله : وَأَنْبَتْنا فِيها مِنْ كُلِّ شَيْءٍ مَوْزُونٍ [ الحجر/ 19] فقد قيل : هو المعادن کالفضّة…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–8
ترکیب : الذین صلہ و موصولہ مفعول ہے لنسئلن کا بعلم لنقصن سے متعلق یا مفعول اس کا علیہم فعل سے متعلق۔ والوزن مبتدا یومئذ ثابت کے متعلق ہو کر خبر الحق الوزن کی صفت اور بھی احتمال ہے۔
تفسیر : رسول کو تبلیغ پر اور امت کو قبول پر مامور کرکے اول رسول کی مخالفت کا دنیاوی نتیجہ بیان فرمایا تھا کہ ہم ان کو یکایک مبتلائے بلا کردیں گے (مسلمانوں پر جو آج کل نحوست ہے وہ نافرمانی رسول کریم ﷺ کا نتیجہ ہے) اب یہاں آخرت کا نتیجہ بیان کرتا ہے اور ضمناً عالم آخرت میں پیش آنے والی حالتیں بھی بیان فرماتا ہے۔ اول یہ کہ ہم ان لوگوں سے کہ جن کے پاس رسول یا ان کے نائب آئے اور انہوں نے نہ مانا ٗ بازپرس کریں گے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
ارشاد فرمایا :
وَالْوَزْنُ یَوْمَئِذِ نِ الْحَقُّ ج فَمَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِیْنُہٗ فَاُولٰٓئِکَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ ۔ وَمَنْ خَفَّتْ مِوَازِیْنُہٗ فَاُولٰٓئِکَ الَّذِیْنَ خَسِرُوْٓا اَنْفُسَھُمْ بِمَا کَانُوْا بِاٰیٰتِنَا یَظْلِمُوْنَ ۔ (الاعراف : 8، 9)
” اس دن وزن دار صرف حق ہوگا تو جن کے پلڑے بھاری ٹھہریں گے وہی لوگ فلاح پانے والے بنیں گے اور جن کے پلڑے ہلکے ہوئے وہی لوگ ہیں جنھوں نے اپنے آپ کو گھاٹے میں ڈالاکیون کہ وہ ہماری آیات کے ساتھ ظالمانہ برتائو کرتے رہے تھے “۔
بعض بزرگوں نے اس کے پہلے جملے کا ترجمہ اس طرح کیا ہے ” اور تول اس دن ٹھیک ہوگی “ لیکن دونوں صورتوں میں مطلب اور مفہوم میں…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : سابقہ آیات میں ارشاد ہے کہ ہم انبیاء اور ان کی امتوں سے پوچھیں گے۔ پھر انہیں ان کے اعمال کے بارے میں بتلائیں گے یہاں ارشاد ہے کہ اعمال کا وزن کیا جائے گا۔ پھر وزن کی بنیاد پر جنت یا جہنم کا فیصلہ ہوگا۔ گو یا کہ یہ پوچھ نہیں بلکہ جزا سزا بھی ہوگی۔
منکرین قرآن اور آخرت کے عقیدہ کا انکار کرنے والے کہا کرتے تھے کہ اعمال کا وزن کس طرح ہوگا۔ یہ نبی جھوٹ بولتا ہے الفاظ ہوا میں تحلیل ہوجاتے ہیں زنا کرتا ہے اس کا وزن کیسے ہوگا۔ کفر و شرک کا تعلق عقیدہ کے ساتھ ہے۔ عقیدہ فکر کا نام ہے۔ فکر کی پیمائش اور وزن ہو نہیں سکتا۔ لیکن سائنس نے کا فی حد تک ثابت کردیا ہے کہ ہوا کا وزن ہوسکتا…
Read the full tafseer →وزن اعمال اظہار انصاف اور قطع معذرت کیلئے ہے :
آیت 8: وَالْوَزْنُ یَوْمَپذِ ڑ (اور ٹھیک ٹھیک تول اس روز ہوگی) وزن اعمال اور ہلکے بھاری کا فرق۔
نحو : یہ مبتدا ہے اور یومپذ اس کی خبر ہے مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس دن امتوں اور رسولوں سے پوچھیں گے جملہ کو حذف کر کے اس کی جگہ تنوین لائے۔ الْحَقُّ عدل یہ وزن کی صفت ہے۔ اقوال نمبر 1۔ ایک ایسے میزان کے ساتھ جس کی زبان اور دو پلڑے ہونگے اظہار انصاف اور قطع معذرت کے لئے صحائف اعمال کا وزن کیا جائے گا۔ نمبر 2۔ یہ برابر فیصلے اور عادلانہ حکم کی تعبیر ہے اللہ تعالیٰ کو اس کی کیفیت کا علم ہے۔ فَمَنْ ثَقُلتْ مَوَازِیْنُہٗ (پس جن لوگوں کے پلڑے بھاری ہونگے)…
Read the full tafseer →(8) (والوزن یومئذ الحق) یعنی سوال کے دن۔
قیامت کے دن دن وزن اعمال کا ہوگا یا صاحب اعمال کا ؟
مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ مطلب یہ ہے کہ فیصلہ اسی دن انصاف کے ساتھ ہوگا اور اکثر حضرات نے فرمایا ہے کہ مراد یہ ہے کہ اعمال کا وزن ترازو کے ساتھ ہوگا کیونکہ اللہ تعالیٰ ایک ترازو لگائیں گے اس کی ایک زبان اور دو پ لڑے ہوں گے۔ ہر پلڑا مشرق و مغرب کے درمیان جتنا بڑا ہوگا اس وزن کی کیفیت میں اختلاف ہے۔ بعض نے کہا ہے کہ اعمال کے صحیفوں کا وزن کیا جائے گا۔
ہم تک روایت پہنچی ہے کہ ایک آدمی پر ننانوے رجسٹر کھولے جائیں گے۔ پھر اس کے لئے ایک کاغذ نکالا جائے گا جس پر ” اشھد ان لا الہ الا اللہ واشھد ان محمداً عبدہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
(8 ۔ 9) ۔ اللہ کے حکم سے قیامت کے دن عملوں کو ایک طرح کا جسم دیا جاوے گا جسم میں نیکی کے سب سے ایک بھاری پن اور بدی کے سبب سے ایک ہلکا پن ہوگا غیر جسمی چیزوں کے لئے ایک طرح کا جسم پیدا ہوجانا جیسا کہ حدیث میں آیا ہے کہ بلا اور دعا آپس میں لڑتے ہیں یا قبر میں نیک عمل نیک صورت بن کر اور بدعمل بری صورت بن کر مردہ کے پاس آتے ہیں یہ قدرت الٰہی سے کچھ بعید نہیں ہے اس واسطے یہ تاویل کرنا کہ صاحب عمل لوگوں کا جسم تولا جاویگا ایک بعید تاویل ہے اور بعضے مفسروں نے صحیحین کی اس حدیث سے کہ قیامت کے دن بڑے بڑے موٹے اور جسیم آدمی ہوں گے جو اللہ کے نزدیک مچھر کے پر کی برابر نہ جچیں گے صاحب عمل کے تولنے کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
آیت 1
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسول محمد مصطفیٰ ﷺ سے قرآن کی عظمت بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے : (کتب انزل الیک) ” یہ کتاب اتاری گئی ہے آپ پر ‘ یعنی یہ نہایت جلیل القدر کتاب جو ان امور پر مشتمل ہے جن کے بندے محتاج ہیں اور اس میں تمام مطالب الہیہ اور مقاصد شرعیہ محکم اور فمصل طور پر موجود ہیں (فلایکن فی صدرک حرج منہ) ” پس آپ کا سینہ اس (کے پہنچانے) سے تنگ نہ ہو “ یعنی آپ کے دل میں کوئی تنگی اور شک و شبہ نہ ہو۔ تاکہ آپ جان لیں کہ یہ حکمت والی اور قابل تعریف ہستی کی طرف سے نازل کردہ کتاب ہے اور سب سے سچا کلام ہے۔ (لایتیہ الباطل من بین یدیہ ولا من خلفہ) (حم السجدہ :62/31) ” باطل اس کے آگے سے آسکتا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–16
پیروی قرآن
قول باری ہے اتبعواماانزل الیکم من ربکم۔ لوگوں جو کچھ تمہارے رب کی طرف سے تم پر نازل کیا گیا ہے اس کی پیروی کرو) اس کا مفہوم یہ ہے کہ بندوں کے تمام تصرفات کا دائرہ اللہ کے حکم کی مراد تک محدود ہو یعنی اس کے حکم کی جو مراد ہو اس کے بندے اس کے مطابق عمل کریں۔ یہ اہتمام یعنی اقتداء کی نظیر ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ کے حکم کی مراد کی اتباع اور اس پر عمل میں اس کی اس طرح اقتداء کی جائے کہ وہ اس کے دائرہ تدبیر سے خارج نہ ہو۔ اگر یہ کہا جائے کہ آیا مباح پر عمل کرنے والا اللہ کے حکم کا متبع ہوتا ہے ؟ تو اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ ایسا شخص اس وقت اللہ کے حکم کا متبع ہوتا ہے جب وہ اللہ…
Read the full tafseer →12 وزن کے حق ہونے کا مطلب ؟ : یعنی وہ ضرور ہو کر رہے گا۔ اس کے نہ ہونے کا کوئی سوال ہی نہیں۔ اور دوسرا مطلب اس کا یہ بھی ہے کہ اس روز وزن صرف حق ہی کا ہوگا باطل کا کوئی وزن سرے سے ہوگا ہی نہیں۔ سو حساب کے اس یوم عظیم میں اعمال کو تولا جائے گا۔ پھر جس کے نیک اعمال کا پلڑا بھاری ہوگا وہی لوگ کامیاب ہوں گے اور جس کے نیک اعمال کے پلڑے ہلکے ہوں گے وہی خسارے والے ہوں گے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف اس ارشاد سے یہ دونوں اہم اور بنیادی حقیقتیں واضح ہوجاتی ہیں۔ ایک یہ کہ اس روز وزن ضرور ہوگا تاکہ حق و انصاف کے تقاضے پورے ہو سکیں۔ اور دوسری حقیقت یہ واضح ہوجاتی ہے کہ وزن اس روز صرف حق ہی کا ہوگا۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–10
اعمال کا وزن ہو گا
تشریح :۔ حساب کا دن ضرور آئے گا۔ یہ اللہ ذوالجلال کا فرمان ہے اور اس میں وہ کچھ ہوگا جو اوپر آیات میں بیان کیا گیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
رکوع نمبر 1 ۔ آیات نمبر 1 تا 10 ۔
اسرار و معارف :
کتاب کا مفہوم :
حفورف مقطعات کے متعلق شروع میں ہی عرض کیا جا چکا ہے کہ انھا سر بین اللہ ورسولہ نیز جنہیں قلب اطہر سے نسبت تام نصیب ہوجائے اللہ کی عطا سے وہ بھی اپنی حیثیت کے مطابق آگاہ ہوجاتے ہیں ان پر ایمان ضروری ہے اور تلاوت سے وہ فائدہ جو مقصود ہے نصیب ہوجاتا ہے لہذا ہر کس و ناکس کو معافی کی کرید نہ کرنا چاہئے۔
یہ کتاب ہے جامع مکمل اور سچی محض اوراق لکھ کر جوڑ دینا کتاب کا مفہوم ادا نہیں کرتا اس لیے کہ ہر کتاب کسی موضوع پر ہوتی ہے اور حق یہ ہے کہ اسے موضوع کے بارے مکمل سچی اور حتی بات قاری تک پہنچانا چاہئے۔ انسانی اندازے تو ہوتے ہیں قطعی…
Read the full tafseer →ف 16 یعنی ہر ایک کے نامہ اعمال کو تو لا جائے گا اور اس تولنے میں کوئی کمی یا زیادتی نہیں ہوگی، اوپر کی آیت میں سوال اور حساب کا ذکر ہے اور اس آیت میں وزن اعمال کا۔ حدیث میں ہے کہ قیامت کے دن اعمال کے صحیفے تولے جائیں گے۔ یہی قول مفسرین کا ہے۔ (کبیر) آخرت میں ہو کا غذ تو لینگے جس کے نیک کام بھاری ہوئے تو برے کام بخشے گئے اور ہلکے ہوئے ت پکڑا گیا (موضح)
Read the full tafseer →(7:8) الوزن۔ (تولنا) یعنی کسی چیز کی مقدار معلوم کرنا۔
وزن یزن (ضرب) کا مصدر ہے۔ عرف عام میں وزن اس مقدار خاص کو کہتے ہیں جو ترازو۔ یا قبان کے ذریعہ معین کی جاتی ہے۔ واقیموا الوزن بالقسط (55:9) اور انصاف کے ساتھ ٹھیک تولو۔
الحق۔ حق ۔ برحق۔ الوزن یؤمئذن الحق کی مندرجہ ذیل صورتیں ہوسکتی ہیں :۔
(1) الوزن موصوف۔ الحق صفت۔ صفت موصوف مل کر مبتدائ۔ یؤمئذ خبر۔ (یؤمئذ اصل میں جملہ محذوف یوم یسئل اللہ الامم ورسلہم کی جگہ آیا ہے) ۔
(2) الوذن۔ مبتداء اور الحق خبر۔ یؤمئذ متعلق خبر۔ پہلی صورت میں معنی ہوں گے۔ جس دن رسل اور مرسل الیہم سے پوچھ گچھ ہوگی۔ اس دن پورا پورا تول تولا جائے گا۔ دوسری صورت میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–10
لغات القرآن : آیت نمبر 6 تا 10 :
نسئلن (ہم ضرور پوچھیں گے) نقصن ( ہم ضرور بتائیں گے) غآ ئبین ( غائب رہنے والے) ثقلت (بھاری ہوئے) موازین ( موزون) ۔ وزن۔ تول ‘ خفت (ہلکے ہوئے) خسروا (انہوں نے نقصان اٹھایا) ‘ مکنا ( ہم نے ٹھکانا دیا (معایش (معیشۃ) ۔ زندگی گذارنے کا سامان۔
تشریح : آیت نمبر 6 تا 10 :
سورۃ الاعراف کی آیت نمبر 4 تا 5 میں اللہ تعالیٰ نے بہت سی بستیوں اور شہر والوں کا ذکر کیا ہے جن کے برے اعمال اور بد کرداریوں کی وجہ سے مختلف وقتوں میں مختلف عذاب آئے ‘ کسی قوم کی شکل بدل دی گئی ‘ کہیں پتھربرسائے گئیے ‘ بہت سی بستیوں کو ان پر الٹ دیا گیا ‘ زلزلے ‘ سیلاب بیماریوں اور آفتوں میں مبتلا کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–8
حشر کا بیان
مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے قیامت کے دن عملوں کو ایک طرح کا جسم دیا جائے گا جس سے جسم میں نیکی کے سبب سے ایک بھاری پر اور بدی کے سبب سے ہلکا پن ہوگا۔ اب عملوں کے تولے جانے کے بعد جن کے نیک عملوں کا پلڑا بھاری ہوگا وہ جنتی قرار پاویں گے، اور جن کا نیکی کا پلڑا ہلکا ہوگا وہ دوزخ میں جاویں گے۔ دوزخ میں جانے کے بعد جس شخص کے دل میں ذرہ برابر بھی ایمان ہوگا آخر کو وہ دوزخ سے نکال کر جنت میں بھیجا جاوے گا، اور برابر والا اعراف پر، جنتیوں اور دوزخیوں کے فیصلہ آخیر تک ٹھہرائے جا کر پھر جنت میں جاوے گا۔ اعراف : جنت اور دوزخ کے درمیان ایک دیوار ہے۔ قیامت کے تین مقام بڑے خوفناک اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–11
[2] یعنی تمہارے باپ آدم کو۔
[3] یعنی تمہارے باپ آدم کی صورت بنائی۔
[4] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة بقرہ حاشیہ 28 صفحہ 96۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–8
(ف 3) یعنی جب لوگوں نے احکام الہی کو تمردو سرکشی کی وجہ سے ٹھکرا دیا ہے تو عذاب نے آگھیرا ہے ، رات کو سوئے ہیں ، اور پھر نہیں اٹھے ، یا دن کو دوپہر کے وقت لیٹے ہیں ، اور خدا کی غیر جوش میں آگئی ، بستیاں الٹ گئیں ، اور یہ مٹ گئے ،
(آیت) ” فلنسئلن “ سے مراد یہ ہے کہ یہ سب کچھ اتمام حجت کے بعد ہوگا ، مجرم پکار اٹھیں گئے کہ واقعی ہم سزاوار تعزیر تھے اور انبیاء (علیہم السلام) برملا کہہ دیں گے کہ ہم نے تمام احکام بلاکم وکاست ان لوگوں تک پہنچا دیئے ،
حل لغات :
بیاتا : سوتے وقت بیات کے معنی رات گزارنے ، کے ہیں ، بیت : اس گھر کو کہتے ہیں جن میں رات گزاری جائیے ، قائلون : ، قیلولۃ یعنی دوپہر کو آرام…
Read the full tafseer →8 اور اس دن یعنی قیامت کے دن اعمال کا وزن ایک امر واقعی اور غیر مشتبہ حقیقت ہے پھر جن کا پلہ بھاری ہوگا تو وہی لوگ کامیاب ہونے والے ہیں یعنی مومن ہو اور ایمان کا پلہ بھاری ہو اور ایمان اسی کا بھاری ہوگا جس کے علم صالح ہوں گے اور اعمال میں خلوص ہوگا۔
Read the full tafseer →ف 1۔ یعنی قیامت کے روز۔
Read the full tafseer →اعمال کی جانچ لازم ہے فلاح وہی پائیں گے جن کے اچھے اعمال بھاری ہوں گے :
8: فرمایا حق کا تقاضا ہے کہ اعمال تو لے جائیں اور وہ یقیناً تو لے جائیں گے۔ اعمال کے وزن سے کیا مراد ہے ؟ اس میزان کی شکل و صورت کیا ہوگی ؟ جو کچھ تو لا جائے گا وہ فی نفسہ وہ اعمال ہوں گے یا ان اعمال کے وہ صحائف جن میں وہ اعمال لکھے گئے ہیں ؟ یہ اور اس طرح کے کتنے ہی سوال ہیں جو لوگوں نے خود اٹھائے ہیں اور پھر خود ہی ان کا جواب بھی دیا ہے اور پھر ایک دوسرے سے اختلاف کر کے اس قدر دور نکل گئے ہیں کہ ان کو اپنے چلنے کی جگہ کا پتہ ہی نہیں رہا کہ ہم کہاں سے چلے تھے اور کہاں نکل گئے۔ بعد میں آنے والوں نے ان بحثوں کو پڑھا تو کسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–11
Commentary
In the first verse, it was said: وَالْوَزْنُ يَوْمَئِذٍ الْحَقُّ ` (And the Weighing on that day is definite). It means that the weighing of good and bad deeds on the day of Judgment is due and true. There is no room for doubt in it. Here, the hint given is that let no one be deceived by the idea that things which usually get to be weighed or measured are things having some weight or heaviness. Human deeds, good or bad, have no body or mass which could be weighed. How, then, would deeds be weighed? First of all, the reason is that the authority of Allah is absolute. He is powerful…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
8. This means that when the Balance is fixed on the Day of Judgement, 'truth' and weight will be identical. The more truth one has to one's credit, the more truth one has to one's credit, the more the weight in one's scale; and vice versa. One will be judged solely on the basis of this weight. In other words, no consideration other than truth will enter into the calculation. A life of falsehood, however long it lasted, and however full of worldly achievements, will carry no weight at all. Weighed in the Balance, the devotees of falsehood will discover that their life-long deeds do not even…
Read the full tafseer →