Al-A'raaf 7:10

Al-A'raaf · from ayah 10

7:10

وَلَقَدْ مَكَّنّٰكُمْ فِی الْاَرْضِ وَجَعَلْنَا لَكُمْ فِیْهَا مَعَایِشَ ؕ— قَلِیْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ ۟۠وَلَقَدۡ مَكَّـنّٰكُمۡ فِى الۡاَرۡضِ وَجَعَلۡنَا لَـكُمۡ فِيۡهَا مَعَايِشَ ؕ قَلِيۡلًا مَّا تَشۡكُرُوۡنَ

اور ہم ہی نے زمین میں تمہارا ٹھکانہ بنایا اور اس میں تمہارے لیے سامان معشیت پیدا کئے۔ (مگر) تم کم ہی شکر کرتے ہو

— Fateh Muhammad Jalandhari

And We have certainly established you upon the earth and made for you therein ways of livelihood. Little are you grateful.

— Saheeh International

Juz 8 · Ruku 1 of surah · Ruku 8 of juzع

Read the whole surah · Surah Al-A'raaf

All translations of 7:10

ہم نے تمھیں زمین میں اختیارات کے ساتھ بسایا اور تمہارے لیے یہاں سامان زیست فراہم کیا، مگر تم لوگ کم ہی شکر گزار ہوتے ہو

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور ہم ہی نے زمین میں تمہارا ٹھکانہ بنایا اور اس میں تمہارے لیے سامان معشیت پیدا کئے۔ (مگر) تم کم ہی شکر کرتے ہو

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور بے شک ہم نے تم کو زمین پر رہنے کی جگہ دی اور ہم نے تمہارے لئے اس میں سامان رزق پیدا کیا، تم لوگ بہت ہی کم شکر کرتے ہو

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور کھلی بات ہے کہ ہم نے تمہیں زمین میں رہنے کی جگہ دی، اور اس میں تمہارے لیے روزی کے اسباب پیدا کیے۔ (پھر بھی) تم لوگ شکر کم ہی ادا کرتے ہو۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور بیشک ہم نے تمہیں زمین میں جماؤ (ٹھکانا) دیا اور تمہارے لیے اس میں زندگی کے اسباب بنائے بہت ہی کم شکر کرتے ہو

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور بیشک ہم نے تم کو زمین میں تمکّن و تصرّف عطا کیا اور ہم نے اس میں تمہارے لئے اسبابِ معیشت پیدا کئے، تم بہت ہی کم شکر بجا لاتے ہو،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور بلاشبہ یقینا ہم نے تمہیں زمین میں ٹھکانا دیا اور ہم نے تمہارے لیے اس میں زندگی کے سامان بنائے، بہت کم تم شکر کرتے ہو۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

ہم نے تمہیں زمین میں اختیار دیا اور تمہارے لیے سامان زیست بنایا۔ مگر تم لوگ کم ہی شکر ادا کرتے ہو

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور ہم نے تمہیں اس ملک میں اقتدار بخشا اور تمہارے لیے معاش کی راہیں کھولیں، پر تم بہت ہی کم شکر گزار ہوتے ہو

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور بلاشبہ ہم ہی نے تم کو ٹھکانا دیا زمین میں (اے لوگو) ، اور رکھ دیئے ہم نے اس میں تمہارے لئے طرح طرح کے سامان ہائے زیست (مگر) تم لوگ کم ہی شکر کرتے ہو

— مولانا اسحاق مدنی

اور بالیقین ہم نے تمہیں زمین پر رہنے کو جگہ دی اور ہم نے تمہارے لئے اس میں سامان زندگی پیدا کیا بہت ہی کم تم لوگ شکر کرتے ہو ۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور (دیکھو انسانو !) ہم نے تمہیں زمین میں تمکن عطا فرمایا اور اس میں تمہارے لیے معاش کے سارے سامان رکھ دیے (لیکن) بہت ہی کم ہے جو شکر تم کرتے ہو۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور ہم نے ہی زمین میں تمہارا ٹھکانا بنایا اور اس میں تمہارے لیے رہن سہن کے تمام بندوبست کئے مگر تم کم ہی شکر کرتے ہو۔

— محترمہ رفعت اعجاز

We assuredly established you in the earth and arranged for your livelihood in it. Little do you give thanks.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

We established you on earth, and created in it means of living for you. Little you appreciate.

— Muhammad Taqi Usmani

We established you on earth, and created in it means of living for you. Little you appreciate.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And surely, We gave you authority on the earth and appointed for you therein livelihoods. Little thanks do you give.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And We have given you (mankind) power in the earth, and appointed for you therein livelihoods. Little give ye thanks!

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And We have certainly established you upon the earth and made for you therein ways of livelihood. Little are you grateful.

— Saheeh International

We have made you inhabit the land and provided you with the means of sustenance. Only a few of you give thanks.

— Muhammad Sarwar

And certainly We have established you in the earth and made in it means of livelihood for you; little it is that you give thanks.

— Muhammad Habib Shakir

And assuredly We established you in the earth and appointed for you livelihoods therein; yet little thanks ye return.

— Abdul Majid Daryabadi

It is We Who have placed you with authority on earth, and provided you therein with means for the fulfilment of your life: small are the thanks that ye give!

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 7:10

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

اللہ تعالیٰ کے احسانات اللہ تعالیٰ اپنا احسان بیان فرما رہا ہے کہ اس نے زمین اپنے بندوں کے رہنے سہنے کیلئے بنائی۔ اس میں مضبوط پہاڑ گاڑ دیئے کہ ہلے جلے نہیں اس میں چشمے جاری کئے اس میں منزلیں اور گھر بنانے کی طاقت انسان کو عطا فرمائی اور بہت سے نفع کی چیزیں اس لئے پیدائش فرمائیں۔ ابر مقرر کر کے اس میں سے پانی برسا کر ان کے لئے کھیت اور باغات پیدا کئے۔ تلاش معاش کے وسائل مہیا فرمائے۔ تجارت اور کمائی کے طریقے سکھا دیئے۔ باوجود اس کے اکثر لوگ پوری شکر گذاری نہیں کرتے ایک آیت میں فرمان ہے (وَاِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ لَا تُحْصُوْهَا ۭ اِنَّ اللّٰهَ لَغَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ 18) 16۔ النحل) یعنی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 10–11

سورة الْاَعْرَاف 10 تقابل کے لیے ماحظہ ہو سورة بقرہ۔ آیات 30 تا 39۔ سورة بقرہ میں حکم سجدہ کا ذکر جن الفاظ میں آیا ہے ان سے شبہ ہوسکتا تھا کہ فرشتوں کو سجدہ کرنے کا حکم صرف آدم ؑ کی شخصیت کے لیے دیا گیا تھا۔ مگر یہاں وہ شبہ دور ہوجاتا ہے۔ یہاں جو انداز بیان اختیار کیا گیا ہے اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ آدم ؑ کو جو سجدہ کرایا گیا تھا وہ آدم ہونے کی حیثیت سے نہیں بلکہ نوع انسانی کا نمائندہ فرد ہونے کی حیثیت سے تھا۔ اور یہ جو فرمایا کہ ”ہم نے تمہاری تخلیق کی ابدا کی، پھر تمہیں صورت بخشی، پھر فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کو سجدہ کرو،“ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے پہلے تمہاری تخلیق کا منصوبہ بنایا اور…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 8–10

خلاصہ تفسیر اور اس روز (یعنی قیامت کے دن اعمال و عقائد کا) وزن واقع ہونے والا ہے (تاکہ عام طور پر ہر ایک کی حالت ظاہر ہوجائے) پھر (وزن کے بعد) جس شخص کا پلّہ (ایمان کا) بھاری ہوگا (یعنی وہ مومن ہوگا) سو ایسے لوگ (تو) کامیاب ہوں گے (یعنی نجات پائیں گے) اور جس شخص کا پلّہ (ایمان کا) ہلکا ہوگا (یعنی وہ کافر ہوگا) تو یہ لوگ وہ ہوں گے جنہوں نے اپنا نقصان کرلیا بسبب اس کے کہ ہماری آیتوں کی حق تلفی کیا کرتے تھے، اور بیشک ہم نے تم کو زمین پر رہنے کی جگہ دی، اور ہم نے تمہارے لئے اس (زمین) میں سامان زندگی پیدا کیا (جس کا مقتضیٰ یہ تھا کہ تم اس کے شکریہ میں فرمانبردار و اطاعت شعار ہوتے، لیکن) تم لوگ بہت…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

وَلَقَدْ مَكَّنّٰكُمْ فِي الْاَرْضِ وَجَعَلْنَا لَكُمْ فِيْهَا مَعَايِشَ ۭقَلِيْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ ارض سے مراد سرزمین حرم ہے۔ ‘ تمکین فی الارض ’ سے مراد زمین میں اختیار و اقتدار بخشنا ہے۔ مثلاً وکذلک منکنا لیوسف فی الارض (اور اس طرح ہم نے یوسف کو ملک مصر میں اختیار و اقتدار بخشا)۔ ارض اگرچہ لفظاً عام ہے لیکن خطاب چونکہ قریش سے ہے اس وجہ سے اس سے مراد یہاں سرزمین حرم ہے جس میں قریش کو اختیار و اقتدار حاصل تھا۔ معایش سے اشارہ ان معاشی سہولتوں اور برکتوں کی طرف ہے جو ایک وادی غیر ذی زرع میں حضرت ابراہیم کی دعا اور بیت اللہ کی برکت سے اہل عرب کو عموماً اور قریش کو خصوصاً حاصل ہوئیں۔ قرا ان میں…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 9–10

9۔ 1 ان آیات میں وزن اعمال کا مسئلہ بیان کیا گیا ہے جو قیامت والے دن ہوگا جسے قرآن کریم میں بھی متعدد جگہ اور احادیث میں بھی بیان کیا گیا ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ ترازو میں اعمال تولے جائیں گے۔ جس کا نیکیوں کا پلا بھاری ہوگا، وہ کامیاب ہوگا اور جس کا بدیوں والا پلڑا بھاری ہوگا، وہ ناکام ہوگا۔ یہ اعمال کس طرح تولے جائیں گے جب کہ یہ اعراض ہیں یعنی ان کا ظاہری وجود اور جسم نہیں ہے ؟ اس بارے میں ایک رائے تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ قیامت والے دن ان کو اجسام میں تبدیل فرمادے گا اور ان کا وزن ہوگا۔ دوسری رائے یہ ہے کہ وہ صحیفے اور رجسٹر تولے جائیں گے۔ جن میں انسان کے اعمال درج ہونگے۔ تیسری رائے یہ ہے کہ…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 2–10

2: آپ کو یہ پریشانی نہیں ہونی چاہیے کہ اس کے مضامین کو آپ لوگوں سے کیسے منوائیں گے اور اگر لوگ نہ مانے تو کیا ہوگا ؟ کیونکہ آپ کا فریضہ لوگوں کو ہوشیار اور خبردار کرنا ہے ان کے ماننے نہ ماننے کی ذمہ داری آپ پر نہیں ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

درس نمبر 73 تشریح آیات : 10۔۔۔۔۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 25۔ یہاں سے انسانیت کے عظیم سفر کا آغاز ہوتا ہے اور نسل انسانی کو کرہ ارض کا چارج دیا جاتا ہے ۔ یہ فقرہ قصہ انسانیت کے لئے ایک تمہید ہے ۔ تفصیلات آگے آرہی ہیں۔ آیت ” نمبر 10۔ اس زمین اور انسانوں کے خالق ہی نے یہاں انسانوں کو بسایا اور اسی نے زمین کے اندر وہ وسائل وخصائص پیدا کئے جو انسانی زندگی کے لئے سازگار ہیں جو انسانوں کے لئے قوت و ضروریات مہیا کرتے ہیں اور اس نگہداشت کرتے ہیں جن میں وسائل رزق ومعاش شامل ہیں۔ یہ اللہ ہی ہے کہ جس نے کرہ ارض کو ایک ایسے مقام پر رکھا جو انسانوں کی نشوونما کے لئے ساز گار ہے ۔ زمین اپنی ترکیب ‘ حجم اور سورج و…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

6 یہاں سے بعض آیات آفاقیہ و انفسیہ کا بیان شروع کیا ہے جس سے ایک طرف حق تعالیٰ کے وجود پر کارخانہ عالم کے حکیمانہ نظم ونسق سے استدلال اور احسانات و انعامات الہٰیہ کا تذکرہ فرما کر اس کی شکر گذاری کی طرف توجہ دلائی گئی ہے اور دوسری طرف نبوت کی ضرورت انبیاء (علیہم السلام) کی آمد، ان کی سیرت، ان کے متبعین و مخالفین کا انجام جو اس سورت کا اصلی موضوع معلوم ہوتا ہے، اس کے بیان کے لئے یہ آیات بطور توطیہ و تمہید کے مقدم کی گئی ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 10 وَلَقَدْ مَکَّنّٰکُمْ فِی الْاَرْضِ وَجَعَلْنَا لَکُمْ فِیْہَا مَعَایِشَ ط قَلِیْلاً مَّا تَشْکُرُوْنَ تم لوگوں کو تو ہر وقت یہ دھڑکا لگا رہتا ہے کہ زمین کے وسائل انسان کے مسلسل استعمال سے ختم نہ ہوجائیں ‘ انسانی و حیوانی خوراک کا قحط نہ پڑجائے۔ مگر تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ کے خزانے ختم ہونے والے نہیں ہیں۔ ہم نے تمہیں اس زمین میں بسایا ہے تو یہاں تمہارے معاش کا پورا پورا بندوبست بھی کیا ہے۔ اس دنیوی زندگی میں تمہاری اور تمہاری آئندہ نسلوں کی ہر قسم کی جسمانی ضرورتیں یہیں سے پوری ہوں گی۔ اس موضوع کی اہمیت کے پیش نظر اگلے دوسرے رکوع میں بھی اسی مضمون یعنی تمکن فی الارض کی تفصیل…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

8 یعنی انسان پر اللہ تعالیٰ کے انعامات اس قدر زیادہ ہیں کہ اگر ان میں سے کوئی بھی ایک کم کردیا جائے مثلاً ہوا کا وجود ہی ختم ہوجائے یا دھوپ کبھی نہ نکلے تو اس دنیا میں اس کا جینا محال ہوجائے ان احسانات کا بدلہ تو یہ ہونا چاہیے کہ انسان اللہ کے شکر گزار بندے بن جاتے مگر ایسا خیال کم ہی لوگوں کو آتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

1 1 ۔ (اے انسانو ! ) خطاب عام عالم انسانی کو ہے۔ (آیت) ” قلیلاماتشکرون “۔ گرفت کے قابل اور اصل جرم یہ عدم شکر گزاری یا برائے نام شکرگزاری ہے۔ اور ادائے شکر کے معنی ادائے حقوق کے ہیں۔ یعنی جس نعمت کے برتنے کے جو حقوق شریعت الہی نے بتائے ہیں انہیں برتنا۔ (آیت) ” ولقد مکنکم فی الارض وجعلنا لکم فیھا معایش “۔ زمین پر سکھ کے ساتھ رہنے سہنے کی جگہ ملنا، سامان معیشت بہ افراط ملنا، خاص طور پر محرکات شکر ہیں۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ یہاں جن دونعمتوں کا ذکر ہے۔ ان سے اول کا حاصل جاہ ہے اور دوسرے کا خلاصہ مال، تو جاہ ومال کا ذکر موقع نعمت پر آنے سے معلوم ہوا کہ یہ دونوں چیزوں مطلق صورت میں مذموم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 8–10

وَالوزن یومَئِذِن الحق، (الآیۃ) یعنی روز قیامت وزن اعمال برحق ہے اس میں کسی کو شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہوئی چاہیے، یہ شبہ نہ ہونا چاہیے کہ وزن تو اجسام کا ہوتا ہے اور اعمال خواہ اچھے ہوں یا برے ازقبیلہ اعراض ہیں جن کا کوئی جرم و جسم نہیں ہوتا، پھر اعمال کے وزن کی کیا صورت ہوگی ؟ اس بارے میں پہلی بات تو یہ ہے کہ اللہ رب العلمین قادر مطلق ہے اور ہر شئ پر قادر ہے اس کی قدرت سے کوئی شئ خارج نہیں ہے یہ کیا ضروری ہے کہ جس چیز کو ہم نے تول سکیں حق تعالیٰ بھی نہ تول سکیں، اس کے علاوہ جدید دور کی جدید ایجادات نے تو اس مسئلہ کو بالکل واضح اور صاف کردیا ہے اب کوئی شک و شبہ کی گنجائش ہی نہیں رہی، اب نئے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ولقد مکنکم فی الارض اور بیشک ہم نے تم کو زمین پر جمایا۔ یعنی زمین پر رہنے کھیتی اور دوسرے کاروبار کرنے کی ہم نے تم کو قدرت عطا کی۔ وجعلنا لکم فیہا معایش اور ہم نے تمہارے لئے اس میں سامان زندگی پیدا کیا۔ معایش مَعِیْشَۃٌکی جمع ہے یعنی زندگی بسر کرنے کے اسباب کھیتی باڑی مویشی کھانے پینے کا سامان ‘ تجارت اور کمائی کے پیشے وغیرہ۔ قلیلا ما تشکرون (مگر) تم لوگ بہت ہی کم شکر کرتے ہو۔ یعنی میرے ان احسانات کا تم تھوڑا شکریہ یا تھوڑے وقت شکریہ ادا کرتے ہو۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(10) ہم نے تمہیں زمین کی بادشاہت دی اور تمہارے کھانے پینے اور پہننے کے لیے اسباب مہیا کیے، پھر نہ تم معمولی چیز پر شکر کرتے ہو اور نہ زیادہ پر، یا یہ کہ اتنے انعامات کے باوجود تم لوگ بہت ہی کم شکر کرنے والے ہو اور ہم نے تمہیں حضرت آدم ؑ سے اور آدم ؑ کو مٹی سے پیدا کیا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَلَقَدْ مَكَّنّٰكُمْ فِي الْاَرْضِ۔۔ : اوپر کی آیات میں انذار وتبشیر کے ساتھ لوگوں کو انبیاء کی دعوت قبول کرنے کی ترغیب دی اور ترغیب میں نعمتوں کی کثرت کی طرف اشارہ تھا، اب یہاں سے نعمتوں کے بیان کا سلسلہ شروع ہوتا ہے، ساتھ ہی شیطان کے حسد اور انسان کو اللہ کی نعمتوں سے محروم کرنے کی جد و جہد کا ذکر ہے، تاکہ ہم اس سے بچ سکیں۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر : 10 یعنی ہم نے زمین کو تمہارے لیے سکونت کی جگہ اور بچھونا بنا دیا اور ہم نے تمہارے لیے اس میں اسباب معیشت پیدا فرما دیئے۔ معایش معشۃ کی جمع ہے، یعنی کھانے پینے میں سے وہ چیزیں جن کے لیے کوشش کی جاتی ہے اور جن کے ساتھ زندگی قائم ہوتی ہے۔ کہا جاتا ہے : عاش یعیش عیشا ومعاشا ومعیشا ومعیشۃ وعیشۃ۔ اور زجاج نے کہا ہے : معیشۃ سے مراد وہ سبب زندگی ہے جس کے ساتھ زندگی متصل ہوتی ہے۔ اخفش اور کثیر نحویوں کے نزدیک معیشۃ مفعلۃ کے وزن پر ہے ( یعنی مصدر میمی ) ۔ اور اعراج نے معائش ہمزہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ اور اسی طرح خارجہ ابن مصعف نے نافع سے روایت کیا ہے۔ نحاس نے کہا ہے : ہمزہ غلطی ہے جائز نہیں ہے،…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 8–10

(1) امام اللالکائی نے سنۃ میں اور بیہقی نے البعث میں عمر بن خطاب ؓ سے روایت کیا کہ ہم لوگ رسول اللہ ﷺ کے گرد بیٹھے ہوئے تھے اچانک ایک آدمی آیا جس پر سفر کا نشان نہیں تھا اور وہ شہر والوں میں سے نہیں تھا۔ وہ پھلاندتا ہوا رسول اللہ ﷺ کے سامنے دوزانوں بیٹھ گیا۔ جیسے کہ ہم میں سے ایک نماز میں بیٹھتا ہے۔ پھر اس نے اپنے ہاتھ رسول اللہ ﷺ کے گھٹنوں پر رکھ دیئے اور پوچھا اے محمد ! اسلام کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا اسلام یہ ہے کہ تو اس بات کی گواہی دے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں اور تو نماز کو قائم کرے زکوٰۃ کو ادا کرے اور حج اور عمرہ بھی کرے اور ناپاک ہوجانے پر غسل کرے۔…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَلَقَدْ مَكَّنّٰكُمْ [ اور بیشک ہم نے اختیار دیا ہے تم کو ] فِي الْاَرْضِ [ زمین میں ] وَجَعَلْنَا [ اور ہم نے بنایا ] لَكُمْ [ تمہارے لیے ] فِيْهَا [ اس میں ] مَعَايِشَ ۭ قَلِيْلًا مَّا [ بہت کم ہے جو ] تَشْكُرُوْنَ [ تم لوگ حق مانتے ہو ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

بنی آدم پر اللہ تعالیٰ کے انعامات اور شیطان کی ملعونیت کا تذکرہ یہ متعدد آیات ہیں پہلی آیت میں (جو بعد میں آنے والی آیات کی تمہید ہے) فرمایا کہ ہم نے تمہیں زمین میں جگہ دی اور نہ صرف جگہ دی بلکہ تمہارے لیے معیشت کا سامان بھی پیدا کیا کھانے پینے کی چیزیں پیدا فرمائیں۔ پہننے اور اوڑھنے بچھانے کے لیے کپڑے پیدا کیے۔ زمین کو نرم پیدا کیا اس کو کھودو بنیادیں ڈالو، عمارتیں بناؤ درخت لگاؤ، کھیتیاں بوؤ جانوروں کو چارہ کھلاؤ اور خود بھی کھاؤ۔ طرح طرح کا سامان تمہارے لیے پیدا کردیا۔ ان سب نعمتوں کو استعمال کرو اور خالق کائنات جل شانہٗ کا شکر ادا کرو، لیکن تم بہت کم شکر ادا کرتے ہو۔ اس تمہید کے بعد جس…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–18

قال اللہ تعالیٰ ۔ المص۔ کتاب انزل الیک۔۔۔ الی۔۔۔ بما کانو بایاتنا یظلمون (ربط) گذشتہ سورت کے آخری رکوع میں قرآن مجید کے اتباع کا حکم اور اس کی ترغیب تھی اور اس سے انحراف اور اعراض پر نزول عذاب کی وعید تھی اور اسی بناء پر گزشتہ سورت کے آخری رکوع کو ان ربک سریع العقاب وانہ لغفور رحیم پر ختم فرمایا اب اس سورت کے آغاز میں قرآن مجید کے اتباع کا حکم دیتے ہیں اور گزشتہ امتوں کے منکرین حق اور مکذبین حق کی ہلاکت اور بربادی کا ذکر کرتے ہیں تاکہ منکرین قرآن اس سے عبرت پکڑیں۔ چناچہ فرماتے ہیں۔ المص سورة بقرہ کے شروع ہی میں اس قسم کے حروف مقطعات کے متعلق مفسرین کے اقوال بسط اور تفصیل کے ساستھ گزر چکے ہیں…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

9 یہ حضرت پیغمبر خدا ﷺ کی دعوت قبول کرنے کی ترغیب ہے۔ “ مَعَايِشَ ”، معیشۃ کی جمع ہے مراد ذریعہ معاش ہے۔ یعنی ہم نے زمین میں تم کو تمکین دی اور اس میں تمہاری روزی کے لیے کئی اسباب و ذرائع مہیّا کیے اللہ کے ان انعامات کے شکرانے میں تمہیں اس کے احکام کا اتباع کرنا چاہئے اور اس کے رسول کی دعوت کو دل و جان سے قبول کرنا چاہئے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 8–10

ربط آیات سورۃ اعراف کی ابتدائی آیات میں اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کے اتباع کا حکم دیا ہے جو چیز اللہ تعالیٰ نے تمہاری بہتری کے لیے وحی کے ذریعے نازل کی ہے صرف اسی کا اتباع کرو اور اس ک علاوہ کسی دوسرے پروگرام کی پیروی نہ کرو کہ یہ تمہارے لیے خسارے کا باعث ہوگا اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر کو دین حق آگے پہنچانے کے لیے ہم تو جرات دلائی اور فرمایا کہ آپ کے دل میں کسی قسم کی گھٹن یا تنگی نہیں ہونی چاہیے اور نہ ہی اس معاملہ میں کسی شک و تردد میں پڑنا چاہیے۔ اس سورة میں اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح (علیہ السلام) سے لے کر کئی انبیا کا ذکر کیا ہے ان کیک طریق پر روشنی ڈالی ہے اور پھر ان کے راستے میں آنے والی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَلَقَدْ مَكَّنّٰكُمْ فِي الْاَرْضِ وَجَعَلْنَا لَكُمْ فِيْہَا مَعَايِشَ۝ 0 قَلِيْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ۝ 10 ۧ مكن المَكَان عند أهل اللّغة : الموضع الحاوي للشیء، قال : وَلَقَدْ مَكَّنَّاكُمْ فِي الْأَرْضِ [ الأعراف/ 10] وقوله : ذِي قُوَّةٍ عِنْدَ ذِي الْعَرْشِ مَكِينٍ [ التکوير/ 20] أي : متمکّن ذي قدر ومنزلة . ومَكِنَات الطّيرِ ومَكُنَاتها : مقارّه، والمَكْن : بيض الضّبّ ، وبَيْضٌ مَكْنُونٌ [ الصافات/ 49] . قال الخلیل المکان مفعل من الکون، ولکثرته في الکلام أجري مجری فعال «فقیل : تمكّن وتمسکن، نحو : تمنزل . ( م ک ن ) المکان اہل لغت کے نزدیک مکان اس جگہ کو کہتے ہیں جو کسی جسم پر حاوی ہو ۔ قرآن…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 10–13

ترکیب : معایش مفعول جعلنا جمع معیشۃ۔ ان لا لا زائدہ اور من جار حذف یہ مفعول ثانی ہے منع کا یا موضع حال میں اذ ظرف ہے تسجد کا منہا اے من الجنۃ وقیل من السموات فبماب قسم کے لئے ما مصدریہ لا قعدن جواب قسم۔ تفسیر : پہلے اس سے لوگوں کو انبیاء کی فرمانبرداری کا حکم دیا تھا اور مخالفت میں عذاب دنیوی سے بقولہ وکم قریۃ اھلکناھا اور آخرت کے عذاب سے سوال و وزن کرنے سے ڈرایا تھا۔ انسان کی جبلی عادت ہے کہ وہ خوف اور نعماء و احسانات سے مسخر و مطیع ہوتا ہے۔ اس لئے خوف مضرت دارین کے بعد بنی آدم پر ان کے بزرگ و جد امجد حضرت آدم (علیہ السلام) پر جو کچھ انعام و احسان کئے ہیں ان کو یاد دلاتا ہے اور لطف یہ ہے کہ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَلَقَدْ مَکَّنّٰکُمْ فِی الْاَرْضِ وَ جَعَلْنَا لَکُمْ فِیْھَا مَعَایِشَ ط قَلِیْلًا مَّا تَشْکُرُوْنَ ۔ (الاعراف : 10) ” اور ہم نے تمہیں زمین میں اقتدار بخشا اور تمہارے لیے معاش کی راہیں کھولیں پر تم بہت ہی کم شکر گزار ہوتے ہو “۔ احسانات کے ذکر سے ملامت بھی اور دعوت بھی اس آیت کے الفاظ کو دیکھیں تو ان میں چونکہ عمومیت پائی جاتی ہے اس لیے ہم کہہ سکتے ہیں کہ اس میں خطاب پوری نوع انسانی کو ہے کیونکہ آنحضرت ﷺ تمام نوع انسانی کی طرف اللہ کے رسول بن کے آئے اور یہ قرآن سب کی طرف اللہ کا پیغام ہے اس لیے تمام انسانوں سے خطاب کر کے فرمایا جا رہا ہے کہ دیکھو اس زمین پر اللہ نے تمہیں رہنے کی سہولتیں…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 10–11

فہم القرآن ربط کلام : پہلی آیات میں قیامت کے دن اعمال کا وزن کرنے، انبیاء اور امتوں سے ان کے کردار کے بارے میں پوچھ گچھ کرنے کا ذکر کرنے کے ساتھ ہی فرمایا کہ ہم نے ہی تمہیں زمین میں ٹھہرایا اور تمہاری حیثیت کا انتظام کیا۔ اب فرمایا کہ اے انسان ہم نے تمہیں پیدا کیا اور بہترین شکل و صورت سیمزین کیا۔ پھر تمہارے باپ آدم کو مسجود ملائکہ کا اعزاز بخشا۔ اس آیت کے الفاظ اور انداز سے یوں معلوم ہوتا ہے کہ جیسے اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں کو بیک وقت پیدا فرما کر انہیں شکل و صورت سے نوازا بعد ازاں ملائکہ کو حکم دیا کہ آدم کو سجدہ کریں جبکہ قرآن مجید میں ہی موجود ہے کہ سب سے پہلے صرف آدم (علیہ السلام) کو…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

انعامات معیشت کا تذکرہ : آیت 10: وَلَقَدْ مَکَّنّٰکُمْ فِی الْاَرْضِ (اور بیشک ہم نے تم کو زمین پر جمایا) ہم نے اس زمین میں تمہارے لئے جگہ اور ٹھہرنے کا مقام بنایا ہم نے تمہیں اس میں اقتدار دیا اور تصرف پر قدرت دی۔ وَجَعَلْنَا لَکُمْ فِیْھَا مَعَایِشَ (اور ہم نے تمہارے لئے اس میں سامان زندگی پیدا کیا) جمع معیشۃ ہے اس سے مراد وہ چیزیں ہیں جن پر انسانی گزر اوقات ہے مثلاً مطعومات و مشروبات وغیرہ۔ قراءت : معایش میں یا کا ظاہر کرنا اصل ہے کیونکہ یا اصل ہے اس کو صحائف پر قیاس نہیں کرسکتے کیونکہ یا اس میں زائدہ ہے نافع نے ہمزہ پڑھا ہے۔ جیسا کہ صحائف میں پڑھا جاتا ہے۔ قَلِیْلاً مَّا تَشْکُرُوْنَ (تم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر (10) ولقد مکنکم فی الارض) ” تمکین “ سے مراد مالک بنانا اور قدرت دینا ہے۔ (وجعلنا لکم فیھا معایش) یعنی ایسے اسباب جن کے ذریعے تم اپنی زندگی معاش حاصل کرتے ہو جیسے تجارت، مزدوری، کھانے، پینے، ” معایش معیشۃ “ کی جمع ہے۔ (قلیلاً ماتشکرون)

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 10–11

(10 ۔ 12) ۔ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنے ان احسانوں کو جتایا ہے جو اس نے اپنے بندوں پر کئے ہیں تاکہ بندے ان احسانوں کے شکر گذرا ہوجاویں اور سوا اللہ کے اوروں کی پرستش چھوڑ دیویں اس لئے فرماتا ہے کہ ہم نے تم کو زمین میں رہنے اور گھر بنانے کی جگہ دی مکان بنانے کے باغ لگانے کی کھیتی کرنے کی تم کو عقل دی زمین کی مضبوطی کے لئے پہاڑ پیدا کئے زمین کی سر سبزی کے لئے نہریں بہادیں کھیتی سودا گری کے ہزارہا سامان معاش کے تمہارے لئے زمین میں پیدا کردئے باوجود اس کے تمہاری یہ ناشکری ہے کہ ایسے بڑے مالک کو چھوڑ کر اوروں کو پوجا کرتے ہو علاوہ اس کے تمہارے باپ آدم (علیہ السلام) کو یہ بزرگی عطا فرمائی کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

آیت 10 اللہ تبارک و تعالیٰ معاش و مسکن کا ذکر کرتے ہوئے اپنے بندوں پر احسان جتلاتا ہے (ولقد مکنکم فی الارض) ” اور ہم نے تمہیں زمین میں ٹھکانا مہیا کیا “ جس سے تم زمین میں گھر بناتے ہو، کھیتی باڑی کرتے ہو اور بعض دیگر وجوہ سے اس سے استفادہ کرتے ہو (وجعلنا لکم فیھا معایش) ” اور مقرر کردیں ہم نے اس میں تمہارے لئے روزیاں “ تمام معاش کا دار و مدار ان چیزوں پر ہے جو درختوں، نباتات، معدنیات، مختلف قسم کی صنعتوں اور تجارت سے ہوتی ہیں۔ وہی ہے جس نے تمہیں یہ تمام چیزیں مہیا کیں اور مختلف اسباب کو تمہارے لئے مسخر کیا تجارت سے ہوتی ہیں۔ وہی ہے جس نے تمہیں یہت مام چیزیں مہیا کیں اور مختلف اسباب کو تمہارے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 3–16

پیروی قرآن قول باری ہے اتبعواماانزل الیکم من ربکم۔ لوگوں جو کچھ تمہارے رب کی طرف سے تم پر نازل کیا گیا ہے اس کی پیروی کرو) اس کا مفہوم یہ ہے کہ بندوں کے تمام تصرفات کا دائرہ اللہ کے حکم کی مراد تک محدود ہو یعنی اس کے حکم کی جو مراد ہو اس کے بندے اس کے مطابق عمل کریں۔ یہ اہتمام یعنی اقتداء کی نظیر ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ کے حکم کی مراد کی اتباع اور اس پر عمل میں اس کی اس طرح اقتداء کی جائے کہ وہ اس کے دائرہ تدبیر سے خارج نہ ہو۔ اگر یہ کہا جائے کہ آیا مباح پر عمل کرنے والا اللہ کے حکم کا متبع ہوتا ہے ؟ تو اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ ایسا شخص اس وقت اللہ کے حکم کا متبع ہوتا ہے جب وہ اللہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

14 سامانہائے زیست ذریعہ تذکیر و شکر خداوندی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ہم نے تمہارے لیے زمین کے اندر طرح طرح کے سامانہائے زیست رکھ دے مگر تم لوگ کم ہی شکر کرتے ہو۔ یعنی یہ طرح طرح کی نعمتیں اور قسما قسم کے سامانہائے زیست جن سے تم لوگ ہر ہر لمحہ اور طرح طرح سے مستفید ہوتے رہتے ہو، مگر یہ نہیں سوچتے کہ تمہیں یہ سب کچھ بخشا کس نے اور اس کا تم پر حق کیا ہے ؟ اور اس منعم حقیقی اور واہب مطلق کا حقِّ شکر کس طرح ادا کیا جاسکتا ہے ؟ سو انسان اگر حق کے بخشے ہوئے ان سامانہائے زیست میں غور و فکر سے کام لے جن سے وہ دن رات اور طرح طرح سے مستفید ہوتا رہتا ہے تو یہی دنیا اس کیلئے دین بن جائے۔ اور وہ دل و جان…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 8–10

اعمال کا وزن ہو گا تشریح :۔ حساب کا دن ضرور آئے گا۔ یہ اللہ ذوالجلال کا فرمان ہے اور اس میں وہ کچھ ہوگا جو اوپر آیات میں بیان کیا گیا ہے۔

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–10

رکوع نمبر 1 ۔ آیات نمبر 1 تا 10 ۔ اسرار و معارف : کتاب کا مفہوم : حفورف مقطعات کے متعلق شروع میں ہی عرض کیا جا چکا ہے کہ انھا سر بین اللہ ورسولہ نیز جنہیں قلب اطہر سے نسبت تام نصیب ہوجائے اللہ کی عطا سے وہ بھی اپنی حیثیت کے مطابق آگاہ ہوجاتے ہیں ان پر ایمان ضروری ہے اور تلاوت سے وہ فائدہ جو مقصود ہے نصیب ہوجاتا ہے لہذا ہر کس و ناکس کو معافی کی کرید نہ کرنا چاہئے۔ یہ کتاب ہے جامع مکمل اور سچی محض اوراق لکھ کر جوڑ دینا کتاب کا مفہوم ادا نہیں کرتا اس لیے کہ ہر کتاب کسی موضوع پر ہوتی ہے اور حق یہ ہے کہ اسے موضوع کے بارے مکمل سچی اور حتی بات قاری تک پہنچانا چاہئے۔ انسانی اندازے تو ہوتے ہیں قطعی…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 10–11

ف 2 وپر کی آیت میں تخویف وتر غیب کے ساتھ لوگوں کو انبیا کی دعوت قبول کرنے کی ترغیب دی اور ترغیب میں کثرت نعم کی طرف اشارہ تھا۔ اب یہاں سے انعامات کے بیان کا سلسلہ شروع ہوا ہے اور خلق آدم سے اس سلسلہ کا آغاز فرمایا (کبیر) مطلب یہ ہے کہ پہلے آدم کا ہیولی بنایا اور پھر اس کی شکل و صورت بنائی۔3 اس سجدہ سے مراد مطلق تعظیم ہے یا حقیق طور پر سجدہ تفصیل کے لیے دیکھئے سورة بقرہ آیت 24)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(7:10) مکنکم۔ ماضی جمع متکلم۔ تمکین (تفعیل) مصدر۔ ہم نے ان کو جماؤ عطا کیا۔ ہم نے ان کو با اقتدار بنایا۔ ہم نے ان کو آباد کیا۔ معایش۔ معیشۃ کی جمع۔ سامان زندگی۔ زندہ رہنے کے اسباب۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 6–10

لغات القرآن : آیت نمبر 6 تا 10 : نسئلن (ہم ضرور پوچھیں گے) نقصن ( ہم ضرور بتائیں گے) غآ ئبین ( غائب رہنے والے) ثقلت (بھاری ہوئے) موازین ( موزون) ۔ وزن۔ تول ‘ خفت (ہلکے ہوئے) خسروا (انہوں نے نقصان اٹھایا) ‘ مکنا ( ہم نے ٹھکانا دیا (معایش (معیشۃ) ۔ زندگی گذارنے کا سامان۔ تشریح : آیت نمبر 6 تا 10 : سورۃ الاعراف کی آیت نمبر 4 تا 5 میں اللہ تعالیٰ نے بہت سی بستیوں اور شہر والوں کا ذکر کیا ہے جن کے برے اعمال اور بد کرداریوں کی وجہ سے مختلف وقتوں میں مختلف عذاب آئے ‘ کسی قوم کی شکل بدل دی گئی ‘ کہیں پتھربرسائے گئیے ‘ بہت سی بستیوں کو ان پر الٹ دیا گیا ‘ زلزلے ‘ سیلاب بیماریوں اور آفتوں میں مبتلا کیا…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 9–10

ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے احسانوں کے شکر گزار ہو اور سوا اللہ کے اوروں کی پرستش چھور دو ۔ اس لئے فرمایا کہ ہم نے تم کو زمین میں رہنے اور گھر بنانے، باغ وکھیتی کرنے کی تم کو عقل دی۔ غرضیکہ ہر طرح کی نعمت دی باوجود اس کے تمہاری یہ ناشکری ہے کہ اللہ کو چھوڑ کر اوروں کی پوجا کرتے ہو۔ علاوہ اس کے تمہارے باپ حضرت آدم (علیہ السلام) کی یہ بزرگی عطا فرمائی کہ تمام فرشتوں کو حکم سجدہ کرنے کا دیا، سب فرشتوں نے سجدہ کیا ابلیس نے نہیں کیا بہ سبب حسد کے اور عدول حکمی (نافرمانی) کی اور یہ ابلیس تمہارا موروثی دشمن ہے۔ اس سے بچتے رہو۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 3–11

[2] یعنی تمہارے باپ آدم کو۔ [3] یعنی تمہارے باپ آدم کی صورت بنائی۔ [4] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة بقرہ حاشیہ 28 صفحہ 96۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 9–10

وزن اعمال : (ف 1) اعمال کا وزن ضرور ہوگا وہ لوگ جن کے نیک اعمال زیادہ ہوں گے بخشش ورحمت کے سزاوار ہوں گے ، اور جن کے اعمال میزان پر پورے نہ اتریں گے ، گھاٹے اور ٹوٹے میں رہیں گے مگر اعمال کے وزن کی صورت کیا ہوگی ہمیں یہ نہیں بتلایا گیا ، کیونکہ اس کا تعلق عالم غیب سے ہے ، البتہ مکافات عمل کے اصول کے مطابق ہمیں یقین ہے کہ محاسبہ قطعی ہوگا ، اور پورے پورے انداز سے ہوگا ۔ حل لغات : مکنکم : مصدر تمکن ثبات ، قرار ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

10 اور بلاشبہ ہم نے تم کو زمین پر بسنے اور رہنے کو جگہ دی اور زمین میں ہم نے تمہارے لئے اسبابِ زندگی اور سامانِ معیشت پیدا کئے لیکن باوجود اس کے تم لوگ بہت ہی کم شکر ادا کرتے ہو۔ یعنی بجائے شکر کی بجاآوری کے کفرانِ نعمت کرتے ہو اور شکر کثیر کی جگہ بہت کم شکر بجا لاتے ہو۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

زمین میں ٹھکانا دینے والے اور معیشت کو بحال رکھنے والے کا شکریہ بھی ادا نہ کرسکے : 10: ” مَعَایِشَ ، معیشۃ “ کی جمع ہے یعنی عیش یا روزی کے سامان (راغب) لفظ عیش حیوان کی زندگی سے مخصوص ہے یعنی ایسی زندگی جس سے جسمانیت کا جزو غیر منفک ہے اور اسی طرح قرآن کریم میں روحانی زندگی پر بھی لفظ عیش کا بولا گیا ہے جیسے عِیْشَةٍ رَّاضِیَةٍؕ007 (القارعہ 101 : 7) زیر نظر آیت سے بعض آیات آفاقیہ وانفسیہ کا بیان شروع ہوتا ہے جس سے ایک طرف حق تعالیٰ کے وجود پر کارخانہ عالم کے حکیمانہ نظم ونسق سے استدلال کر کے اور احسانات و انعامات خداوندی کا تذکرہ کر کے اس کی شکر گزاری کی طرف توجہ دلائی گئی ہے اور دوسری طرف…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 8–11

Commentary In the first verse, it was said: وَالْوَزْنُ يَوْمَئِذٍ الْحَقُّ ` (And the Weighing on that day is definite). It means that the weighing of good and bad deeds on the day of Judgment is due and true. There is no room for doubt in it. Here, the hint given is that let no one be deceived by the idea that things which usually get to be weighed or measured are things having some weight or heaviness. Human deeds, good or bad, have no body or mass which could be weighed. How, then, would deeds be weighed? First of all, the reason is that the authority of Allah is absolute. He is powerful…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 10–11

10. These verses should he read in conjunction with al-Baqarah 2: 30-9. The words in which the command to prostrate before Adam is mentioned may give rise to the misapprehension that it was Adam as such who is the object of prostration. This misapprehension should be removed by what has been said here. The text makes it very clear that prostration before Adam was in his capacity, as the representative of all mankind and not in his personal capacity. The successive stages of man's creation mentioned in the present verse ('We initiated your creation, then We gave you each a shape'), means that…

Read the full tafseer →