ابلیس، آدم ؑ اور نسل آدم
انسان کے شرف کو اس طرح بیان فرماتا ہے کہ تمہارے باپ آدم کو میں نے خود ہی بنایا اور ابلیس کی عداوت کو بیان فرما رہا ہے کہ اس نے تمہارے باپ آدام کا حسد کیا۔ ہمارے فرمان سے سب فرشتوں نے سجدہ کیا مگر اس نے نافرمانی کی پس تمہیں چاہئے کہ دشمن کو دشمن سمجھو اور اس کے داؤ پیچ سے ہوشیار رہو اسی واقعہ کا ذکر آیت (وَاِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلٰۗىِٕكَةِ اِنِّىْ خَالِقٌۢ بَشَرًا مِّنْ صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَاٍ مَّسْنُوْنٍ 28) 15۔ الحجر) میں بھی ہے۔ حضرت آدم کو پروردگار نے اپنے ہاتھ سے مٹی سے بنایا انسانی صورت عطا فرمائی پھر اپنے پاس سے اس میں روح پھونکی پھر اپنی شان کی جلالت منوانے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
سورة الْاَعْرَاف 10
تقابل کے لیے ماحظہ ہو سورة بقرہ۔ آیات 30 تا 39۔
سورة بقرہ میں حکم سجدہ کا ذکر جن الفاظ میں آیا ہے ان سے شبہ ہوسکتا تھا کہ فرشتوں کو سجدہ کرنے کا حکم صرف آدم ؑ کی شخصیت کے لیے دیا گیا تھا۔ مگر یہاں وہ شبہ دور ہوجاتا ہے۔ یہاں جو انداز بیان اختیار کیا گیا ہے اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ آدم ؑ کو جو سجدہ کرایا گیا تھا وہ آدم ہونے کی حیثیت سے نہیں بلکہ نوع انسانی کا نمائندہ فرد ہونے کی حیثیت سے تھا۔
اور یہ جو فرمایا کہ ”ہم نے تمہاری تخلیق کی ابدا کی، پھر تمہیں صورت بخشی، پھر فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کو سجدہ کرو،“ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے پہلے تمہاری تخلیق کا منصوبہ بنایا اور…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
اور ہم نے تم کو پیدا (کرنے کا سامان شروع) کیا (یعنی آدم ؑ کا مادّہ بنایا، اسی مادّے سے تم سب لوگ ہو) پھر (مادہ بنا کر) ہم نے تمہاری صورت بنائی (یعنی اس مادّے میں آدم ؑ کی صورت بنائی، پھر وہی صورت ان کی اولاد میں چلی آرہی ہے، یہ نعمت ایجاد ہوئی) پھر (جب آدم ؑ بن گئے اور علوم اسماء سے مشرف ہوئے تو) ہم نے فرشتوں سے فرمایا کہ آدم کو (اب) سجدہ کرو (یہ نعمت اکرام ہوئی) تو سب فرشتوں نے سجدہ کیا، بجز ابلیس کے کہ وہ سجدہ کرنے والوں میں شامل نہ ہوا، حق تعالیٰ نے فرمایا تو جو سجدہ نہیں کرتا تجھ کو اس سے کونسا امر مانع ہے، جب کہ میں (خود) تجھ کو سجدہ کا حکم دے چکا، کہنے لگا (وہ مانع یہ ہے کہ)…
Read the full tafseer →آدم و ابلیس کا ماجرا اور اس کے مضمرات : اب یہ آدم اور ابلیس کا وہ ماجرا سنایا جا رہا ہے جس سے آدم اور ان کی ذریت کے ساتھ ابلیس اور اس کے ساتھیوں کی دشمنی کی تاریخ بھی سامنے آتی ہے، اس کا اصل سبب بھی واضح ہوتا ہے اور قیامت تک کے لیے اس کو باقی رکھنے اور اولادِ آدم سے انتقام لینے کا شیطان نے جو عہد کر رکھا ہے، اس کا بھی اظہار ہونا ہے، اس قصے کو پڑھتے ہوئے وہ مقصد نگاہ سے اوجھل نہ ہو جس کے لیے یہ سنایا گیا ہے۔
شیطان کو آدم اور ان کی ذریعت سے دشمنی اس حسد کی بنا پر ہے جو آدم کی تکریم کے حکم سے اس کو لاحق ہوا اس حکم کی تعمیل سے اس نے نہایت تکبر کے ساتھ انکار کیا جس کے نتیجہ میں وہ نہایت ذلت کے…
Read the full tafseer →11۔ 1 خَلَقْنَاکُمْ میں ضمیر اگرچہ جمع کی ہے لیکن مراد ابو البشر حضرت آدم ؑ ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–14
3: اس واقعے کی کچھ تفصیلات سورة بقرہ (34:2 تا 39) میں گذری ہیں۔ ان آیتون پر جو حواشی ہم نے لکھے ہیں، ان میں واقعے سے متعلق کئی سوالات کا جواب آگیا ہے۔ انہیں ملاحظہ فرما لیا جائے۔
Read the full tafseer →آیت ” نمبر 11 تا 18۔
یہ پہلا منظر ہے اس قصے کا ۔ نہایت ہی دلچسپ ‘ نہایت ہی اہم ۔ ہم اس قصے کے مناظر اس کی تفسیر سے پہلے پیش کریں گے ۔ ان مناظر سے فارغ ہونے کے بعد ہم اس قصے کے اشارات واثرات پیش کریں گے ۔
آیت ” وَلَقَدْ خَلَقْنَاکُمْ ثُمَّ صَوَّرْنَاکُمْ ثُمَّ قُلْنَا لِلْمَلآئِکَۃِ اسْجُدُواْ لآدَمَ فَسَجَدُواْ إِلاَّ إِبْلِیْسَ لَمْ یَکُن مِّنَ السَّاجِدِیْنَ (11)
” بیشک ہم نے تمہاری تخلیق کی ابتداء کی ‘ پھر تمہاری صورت بنائی ‘ پھر فرشتوں سے کہا آدم کو سجدہ کرو ‘ اس حکم پر سب نے سجدہ کیا مگر ابلیس سجدہ کرنے والوں میں شامل نہ ہوا ۔
لفظ خلق کبھی تو محض وجود میں لانے کے لئے آتا ہے ۔ اسی طرح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–13
1 یعنی تمہاری تخلیق سے پہلے رہنے سہنے اور کھانے پینے کا سامان کیا۔ پھر تمہارا مادہ پیدا فرمایا۔ پھر اس مادہ کو ایسا دلکش نقشہ اور حسین و جمیل صورت عطا کی جو کسی دوسری مخلوق کو عطا نہ کی گئی تھی۔ پھر اس تصویر خاکی کو وہ روح اور حقیقت مرحمت ہوئی جس کی بدولت تمہارے باپ آدم (علیہ السلام) جن کا وجود تمام افراد انسانی کے وجود پر اجمالاً مشتمل تھا۔ " خلیفتہ اللہ " و " مسجود ملائکہ " بنے۔ پھر جس نے اس وقت سجود تعظیمی سے سرتابی کی وہ مردود ازلی ٹھہرا کیونکہ وہ سجود خلافت الہٰیہ کے نشان کے طور پر تھا " ملائیکۃ اللہ " جو بحث و تمحیص اور صریح امتحان کے بعد آدم کی علمی فضیلت اور روحانی کمالات پر مطلع…
Read the full tafseer →آیت 11 وَلَقَدْ خَلَقْنٰکُمْ ثُمَّ صَوَّرْنٰکُمْ ثُمَّ قُلْنَا لِلْمَلآءِکَۃِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ ق
نظریۂ ارتقاء Evolution Theory کے حامی اس آیت سے بھی کسی حد تک اپنی نظریاتی غذا حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ قرآن حکیم میں انسان کی تخلیق کے مختلف مراحل کے بارے میں مختلف نوعیت کی تفصیلات ملتی ہیں۔ ایک طرف تو انسان کو مٹی سے پیدا کرنے کی بات کی گئی ہے۔ مثلاً سورة آل عمران آیت 59 میں بتایا گیا ہے کہ انسانِ اوّل کو مٹی سے بنا کر کُنْ کہا گیا تو وہ ایک زندہ انسان بن گیا فَیَکُوْن۔ یعنی یہ آیت ایک طرح سے انسان کی ایک خاص مخلوق کے طور پر تخلیق کی تائید کرتی ہے۔ جب کہ آیت زیر نظر میں اس ضمن میں تدریجی…
Read the full tafseer →9 تخلیق آدم اور نظریہ ارتقاء :۔ اس آیت سے جو یہ معلوم ہوتا ہے کہ سیدنا آدم (علیہ السلام) کو فرشتوں کے سجدہ کرنے کے حکم سے پہلے ہی انسانوں کی تخلیق ہوچکی تھی اور شکل و صورت بھی بنادی گئی تھی تو اس سے مراد یہ ہے کہ اس وقت سیدنا آدم (علیہ السلام) کی پشت سے قیامت تک پیدا ہونے والی اولاد کی ارواح پیدا کی گئی تھیں اور ان روحوں کو وہی صورت عطا کی گئی تھی جو اس دنیا میں آنے کے بعد اس روح کے جسم کی ہوگی اور انہیں ارواح ہی سے اللہ تعالیٰ نے عہد آیت (اَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ 172ۙ ) 7 ۔ الاعراف :172) لیا تھا۔ جسم میں روح کی یا روح کے جسم میں موجود ہونے کی مثال یوں دی جاتی ہے جیسے زیتون کے درخت میں روغن…
Read the full tafseer →12 ۔ یعنی پہلے تمہاری نوع کا سلسلہ قائم کرنے کو مادہ بنایا، پھر اس مادہ کو صورت بشری دی اور آدم (علیہ السلام) وجود میں آگئے۔
13 ۔ (از راہ استکبار) (آیت) ” قلنا للمآئکۃ “۔ یہ حکم جب ملائکہ کو ملا، تو جو مخلوق (مثلا جن) ان سے ادنی تھی، اس کو تو یہ حکم بدرجہ اولی ملا، ملاحظہ ہو حواشی نمبر 123، نمبر 124، پ 1، سجدوا۔ سجدہ کے لیے یہ ضروری نہیں کہ اس نماز والے سجدہ کی ہئیت متعارف ومخصوص کے ساتھ ہو، سجود کے لفظی معنی تو اضع وتذلل کے ہیں اور وہی یہاں مراد ہیں، تفصیل کے لیے ملاحظہ ہوپ 1، حاشیہ 125 ۔ (آیت) ” لادم “۔ ل، یہاں الی کا مرادف ہے۔ یعنی آدم (علیہ السلام) کی سمت میں (جیسے آج بھی کعبہ کی سمت میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
آیت نمبر 11 تا 25
ترجمہ : اور ہم نے تم کو یعنی تمہارے دادا آدم کو پیدا کیا پھر تمہاری صورتیں بنائیں یعنی تمہاری صورتیں اس حال میں بنائیں کہ تم آدم (علیہ السلام) کی پشت میں تھے، پھر ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کو سجدہ کرو، جھک کر سجدہ تعظیمی، تو سب نے سجدہ کیا بجز ابو الجن ابلیس کے اور وہ فرشتوں کے درمیان بودوباش رکھتا تھا، اور وہ سجدہ کرنے والوں میں شامل نہ ہوا اللہ تعالیٰ نے فرمایا کس چیز نے تجھ کو سجدہ کرنے سے روکا جبکہ میں تجھ کو حکم دے چکا، لا، زائدہ ہے، (تو) کہنے لگا میں اس سے بہتر ہوں (اسلئے کہ) تو نے مجھے آگ سے اور اسکو مٹی سے پیدا کیا، حق تعالیٰ نے فرمایا تو جنت سے اتر اور کہا گیا…
Read the full tafseer →ولقد خلقنکم اور ہم نے تمہارا اندازہ کیا۔ یعنی اپنے علم میں ہم نے تمہارا اندازہ کرلیا تھا جبکہ تم (عالم وجود و مادیت میں آنے سے پہلے) اعیان ثابتہ (حقائقِ کونیہ ماہیات امکانیہ اور مرتبۂ تقرر) میں تھے (اعیان ثابتہ کا مرتبہ وجود ہونے سے پہلے کا تھا جب کہ ہر ممکن الوجود چیز اللہ کے کشفی اجمالی علم کے اندر اپنی تمام کیفیات و کمیات کے ساتھ متقر تھی)
ثم صورنکم پھر تمہاری صورت بنائی یعنی تمہارے باپ آدم کی صورت بنائی مطلب یہ کہ تمہاری تخلیق اور صورت سازی کا آغاز اس طرح کیا کہ تمہارے باپ آدم ( علیہ السلام) کا اوّل علمی اندازہ کیا پھر اس کی صورت بنائی یہی تمہاری تخلیق و صورت گری کی ابتدا ہوئی۔ حضرت ابن…
Read the full tafseer →(11) اور ہم نے حضرت آدم ؑ کا پتلا مکہ مکرمہ اور طائف کے درمیان بنایا، پھر ہم نے سب فرشتوں کو سجدہ تعظہمی کرنے کا حکم دیا مگر شیطان نے آدم ؑ کو سجدہ کرنے سے انکار کردیا۔
Read the full tafseer →وَلَقَدْ خَلَقْنٰكُمْ ثُمَّ صَوَّرْنٰكُمْ : ”خَلَقَ“ کا اصل معنی جس چیز کا وجود نہ ہو اس کا صحیح خاکہ بنانا اور وجود میں لانا ہے۔ اس معنی میں خالق صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ ہاں، کسی چیز سے کوئی خاکہ تیار کرنے کو بھی ”خَلَقَ“ کہہ لیتے ہیں، یہ مخلوق بھی کرسکتی ہے، سورة مائدہ (110) میں عیسیٰ ؑ کے بارے میں آتا ہے : (ۚ وَاِذْ تَخْلُقُ مِنَ الطِّيْنِ) (راغب) ”خلق، برأ“ اور تصویر، پیدائش کے تین مراحل ہیں، سورة حشر (24) میں فرمایا : (هُوَ اللّٰهُ الْخَالِقُ الْبَارِئُ) تینوں الفاظ میں سے اکیلا کوئی بھی لفظ آئے تو پیدا کرنے کے معنی میں ہوتا ہے، اکٹھے آئیں تو کچھ فرق ہے، یعنی ہم نے تمہارا خاکہ بنایا، پھر…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 11
قولہ تعالیٰ : آیت : ولقد خلقنٰکم ثم صورنکم جب اللہ تعالیٰ اپنی نعمت کا ذکر کرچکا تو اس نے اپنی تخلیق کی ابتدا کا ذکر فرمایا۔ اور خلق کا معنی کئی مقامات پر پہلے گزر چکا ہے۔
آیت : ثم صورنکم یعنی ہم نے تمہیں نطفہ کی صورت میں تخلیق فرمایا، پھر ہم نے تمہاری خاص شکل و صورت بنائی پھر ہم تمہیں خبر دے رہے ہیں کہ ہم نے ملائکہ کو کہا : آدم (علیہ السلام) کو سجدہ کرو۔
اور حضرت ابن عباس اور ضحاک وغیرہما سے روایت ہے کہ اس کا معنی ہے ہم نے آدم (علیہ السلام) کو تخلیق فرمایا پھر ہم نے اس کی پشت میں تمہیں خاص شکل و صورت عطا فرمائی۔ اور اخفش نے کہا : ثم بمعنی واو ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : اس کا…
Read the full tafseer →(1) امام عبد الرزاق، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم، ابو الشیخ نے، اور بیہقی نے شعب الایمان میں اور امام حاکم نے تصحیح بھی کی ہے۔ ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ولقد خلقنکم ثم صورنکم “ سے مراد ہے کہ تم کو پیدا کیا مردوں کے صلبوں سے اور صورتیں بنائیں عورتوں کے رحموں میں بنائی گئیں۔
(2) امام فریابی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے اس آیت کے بارے میں فرمایا کہ آدم کی پشت میں ان کو پیدا کیا گیا پھر رحموں میں تمہاری صورتیں بنائی گئیں۔
(3) امام ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ” خلقنکم “ یعنی ہم نے آدم (علیہ السلام) کو پیدا فرمایا ” ثم صورنکم “ پھر…
Read the full tafseer →وَلَقَدْ خَلَقْنٰكُمْ [ اور بیشک ہم نے پیدا کیا ہے تم لوگوں کو ] ثُمَّ [ پھر ] صَوَّرْنٰكُمْ [ ہم نے شکل دی تمہیں ] ثُمَّ [ پھر ] قُلْنَا [ ہم نے کہا ] لِلْمَلٰۗىِٕكَةِ [ فرشتوں سے ] اسْجُدُوْا [ تم لوگ سجدہ کرو ] لِاٰدَمَ ڰ [ آدم کے لئے ] فَسَجَدُوْٓا [ تو انہوں نے سجدہ کیا ] اِلَّآ [ سوائے ] اِبْلِيْسَ ۭ [ ابلیس کے ] لَمْ يَكُنْ [ وہ نہیں تھا ] مِّنَ السّٰجِدِيْنَ [ سجدہ کرنے والوں میں سے ]
ذء م : (ف) ذاما ۔ عیب لگانا ۔ مذء وم ۔ اسم المفعول ہے ۔ عیب لگایا ہوا۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 18 ۔
دح ر : (ف) دحورا ۔ کسی کو کہیں سے زبردستی نکالنا ۔ ہانکنا ، کھدیرنا ۔ وَيُقْذَفُوْنَ مِنْ كُلِّ جَانِبٍ…
Read the full tafseer →ابلیس کا آدم (علیہ السلام) کو سجدہ کرنے سے انکار کرنا اور اللہ رب العزت پر اعتراض :
پھر فرشتوں سے فرمایا ان کو سجدہ کرو (جیسا کہ سورة بقرہ میں گزر چکا) سب فرشتوں نے سجدہ کرلیا (یہ سجدہ تعظیمی تھا سجدہ عبادت نہیں تھا) وہیں ابلیس بھی تھا۔ یہ تھا تو جنات میں سے لیکن زیادہ عبادت کرنے کی وجہ سے وہیں فرشتوں کے ساتھ آسمان میں رہتا تھا۔ اس کو بھی حکم دیا تھا کہ آدم کو سجدہ کر، اس نے صرف اتنا ہی نہیں کیا کہ حکم عدولی کی بلکہ باری تعالیٰ شانہٗ نے جب سوال فرمایا کہ میں نے تجھے ان کو سجدہ کرنے کا حکم دیا تو تو نے سجدہ کیوں نہ کیا ؟ اس پر وہ کٹ حجتی کرنے لگا اور اللہ تعالیٰ کے حکم ہی کو غلط بتادیا وہ کہنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–18
قال اللہ تعالیٰ ۔ المص۔ کتاب انزل الیک۔۔۔ الی۔۔۔ بما کانو بایاتنا یظلمون
(ربط) گذشتہ سورت کے آخری رکوع میں قرآن مجید کے اتباع کا حکم اور اس کی ترغیب تھی اور اس سے انحراف اور اعراض پر نزول عذاب کی وعید تھی اور اسی بناء پر گزشتہ سورت کے آخری رکوع کو ان ربک سریع العقاب وانہ لغفور رحیم پر ختم فرمایا اب اس سورت کے آغاز میں قرآن مجید کے اتباع کا حکم دیتے ہیں اور گزشتہ امتوں کے منکرین حق اور مکذبین حق کی ہلاکت اور بربادی کا ذکر کرتے ہیں تاکہ منکرین قرآن اس سے عبرت پکڑیں۔ چناچہ فرماتے ہیں۔ المص سورة بقرہ کے شروع ہی میں اس قسم کے حروف مقطعات کے متعلق مفسرین کے اقوال بسط اور تفصیل کے ساستھ گزر چکے ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–15
10: یہ دوسرے دعوے کی تمہید ہے جو اس پورے رکوع میں ذکر کی گئی ہے۔ اس میں حضرت آدم (علیہ السلام) کے سامنے فرشتوں کو سجدہ کرنے کا حکم، ابلیس کی نافرمانی اس کے ملعون و مطرود ہونے اور آدم و حواعلیہما السلام سے اس کی عداوت اور اس کی وجہ سے جنت میں ان کے برہنہ ہوجانے کا ذکر کیا گیا ہے۔ “ ثُمَّ قُلْنَا الخ ”“ ثُمَّ ” یہاں تعقیب ذکری کے لیے ہے ورنہ ماقبل سے مرتبط نہیں ہوسکے گا۔ کیونکہ آدم (علیہ السلام) کو سجدہ کرنے کا حکم اولاد آدم کی پیدائش سے پہلے ہوا تھا۔ مطلب یہ ہے کہ یہ واقعہ بھی اس کے بعد بیان کرو۔ لہذا اس سے یہ مطلب نکالنا کہ حضرت آدم (علیہ السلام) سے پہلے بھی دنیا میں انسان موجود تھے۔ سراسر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–13
ربط آیات
سورۃ کی ابتداء میں اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کے نزول اور اس کی اشاعت کا تذکرہ کیا اور منکرین کو اس دنیا اور آخرت کے انجام سے آگاہ کیا پھر گزشتہ درس میں انسانی اعمال کی حفاظت اور آخرت میں ان کے وزن کا بیان آیا اور اس کے نتیجے میں نجات یا خسارے کا ذکر بھی اللہ تعالیٰ نے فرمایا پھر اللہ نے ان دو عظیم نعمتوں کا ذکر کیا جو اس نے انسان کو عطا فرمائی ہیں یعنی زمین میں اقتدار اور معیشت کے سامان ، مگر بطورشکوہ یہ بھی بیان فرمایا کہ اکثر لوگ ان نعمتوں کی ناقدری کرتے ہیں اور ان کا غلط استعمال کرتے ہیں اور بالآخر ناکام رہتے ہیں اللہ نے فرمایا کہ بہت قلیل لوگ ہیں جو ان نعمتوں کا حق ادا کرتے…
Read the full tafseer →وَلَقَدْ خَلَقْنٰكُمْ ثُمَّ صَوَّرْنٰكُمْ ثُمَّ قُلْنَا لِلْمَلٰۗىِٕكَۃِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ 0 ۤۖ فَسَجَدُوْٓا اِلَّآ اِبْلِيْسَ 0 ۭ لَمْ يَكُنْ مِّنَ السّٰجِدِيْنَ 11
خلق
الخَلْقُ أصله : التقدیر المستقیم، ويستعمل في إبداع الشّيء من غير أصل ولا احتذاء، قال : خَلْقِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأنعام/ 1] ، أي : أبدعهما،
( خ ل ق ) الخلق
۔ اصل میں خلق کے معنی ( کسی چیز کو بنانے کے لئے پوری طرح اندازہ لگانا کسے ہیں ۔ اور کبھی خلق بمعنی ابداع بھی آجاتا ہے یعنی کسی چیز کو بغیر مادہ کے اور بغیر کسی کی تقلید کے پیدا کرنا چناچہ آیت کریمہ : ۔ خَلْقِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأنعام/ 1] اسی نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–13
ترکیب : معایش مفعول جعلنا جمع معیشۃ۔ ان لا لا زائدہ اور من جار حذف یہ مفعول ثانی ہے منع کا یا موضع حال میں اذ ظرف ہے تسجد کا منہا اے من الجنۃ وقیل من السموات فبماب قسم کے لئے ما مصدریہ لا قعدن جواب قسم۔
تفسیر : پہلے اس سے لوگوں کو انبیاء کی فرمانبرداری کا حکم دیا تھا اور مخالفت میں عذاب دنیوی سے بقولہ وکم قریۃ اھلکناھا اور آخرت کے عذاب سے سوال و وزن کرنے سے ڈرایا تھا۔ انسان کی جبلی عادت ہے کہ وہ خوف اور نعماء و احسانات سے مسخر و مطیع ہوتا ہے۔ اس لئے خوف مضرت دارین کے بعد بنی آدم پر ان کے بزرگ و جد امجد حضرت آدم (علیہ السلام) پر جو کچھ انعام و احسان کئے ہیں ان کو یاد دلاتا ہے اور لطف یہ ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–22
وَلَقَدْ خَلَقْنٰکُمْ ثُمَّ صَوَّرْنٰکُمْ ثُمَّ قُلْنَا لِلْمَلٰٓئِکَۃِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ صلے ق فَسَجَدُوْٓا اِلَّا اِبْلِیْسَ ط لَمْ یَکُنْ مِّنَ السّٰجِدِیْنَ ۔ (الاعراف : 11)
” اور ہم نے تمہارا خاکہ بنایا پھر تمہاری صورت گری کی پھر فرشتوں کو فرمایا کہ آدم کو سجدہ کرو سب نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے وہ سجدہ کرنے والوں میں شامل نہ ہوا “۔
تخلیقِ انسان کا اسلامی نقطہ نگاہ اور اس کی وضاحت
سب سے پہلے آیت کے بعض الفاظ پر غور فرمایئے۔ سب سے پہلے فرمایا خَلَقْنٰکُمْ اور پھر فرمایا صَوَّرْنٰکُمْ ۔ بات اصل میں یہ ہے کہ جب خَلَقَ کا لفظ اکیلا استعمال ہوتا ہے تو یہ اپنے لوازم سمیت استعمال ہوتا ہے یعنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
فہم القرآن
ربط کلام : پہلی آیات میں قیامت کے دن اعمال کا وزن کرنے، انبیاء اور امتوں سے ان کے کردار کے بارے میں پوچھ گچھ کرنے کا ذکر کرنے کے ساتھ ہی فرمایا کہ ہم نے ہی تمہیں زمین میں ٹھہرایا اور تمہاری حیثیت کا انتظام کیا۔ اب فرمایا کہ اے انسان ہم نے تمہیں پیدا کیا اور بہترین شکل و صورت سیمزین کیا۔ پھر تمہارے باپ آدم کو مسجود ملائکہ کا اعزاز بخشا۔
اس آیت کے الفاظ اور انداز سے یوں معلوم ہوتا ہے کہ جیسے اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں کو بیک وقت پیدا فرما کر انہیں شکل و صورت سے نوازا بعد ازاں ملائکہ کو حکم دیا کہ آدم کو سجدہ کریں جبکہ قرآن مجید میں ہی موجود ہے کہ سب سے پہلے صرف آدم (علیہ السلام) کو…
Read the full tafseer →تخلیق انسانی کا ذکر :
آیت 11: وَلَقَدْ خَلَقْنٰکُمْ ثُمَّ صَوَّرْنٰکُمْ (اور ہم نے تمہارا اندازہ کیا۔ پھر تمہاری صورت بنائی) ہم نے تمہارے باپ آدم کو پیدا کیا۔ ایسی مٹی سے جس پر تصویر نہ تھی پھر ہم نے ان کی تصویر بنادی۔ اس کی دلیل یہ آیت ہے۔ ثُمَّ قُلْنَا لِلْمَلٰٓپکَۃِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْٓ ا اِلَّآ اِبْلِیْسَ لَمْ یَکُنْ مِّنَ السّٰجِدِیْن (پھر ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کو سجدہ کرو پس سب نے سجدہ کیا مگر ابلیس کہ وہ سجدہ کرنے والوں میں شامل نہ ہوا) ان میں سے نہ ہوا جو سجدہ کرنے والے تھے۔
Read the full tafseer →(11) (ولقد خلقنکم ثم صورنکم) ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ تمہارے آباء و اجداد کو پیدا کیا۔ پھر تمہاری مائوں کے رحموں میں تمہاری صورتیں بنائیں۔ قتادہ، ضحاک، سدی رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ ” خلقناکم “ سے آدم (علیہ السلام) مراد ہیں اور ” صورناکم “ سے ان کی اولاد مجاہد (رح) فرماتے ہیں ” خلقنا کم “ آدم (علیہ السلام) کو ۔” ثم صورناکم “ آدم کی پشت میں جمع کے لفظ سے ذکر کیا ہے اس لئے کہ وہ ابوالبشر ہیں تو ان کی تخلیق میں ان لوگوں کی بھی تخلیق ہے جو ان کی پشت سے نکلیں گے اور بعض نے کہا ہے کہ ” خلقنا کم، آدم (علیہ السلام) کی پشت میں ” ثم صورنا کم میثاق “ کے دن جب تم کو چیونٹیوں کی طرح نکالا تھا اور عکرمہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
(10 ۔ 12) ۔ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنے ان احسانوں کو جتایا ہے جو اس نے اپنے بندوں پر کئے ہیں تاکہ بندے ان احسانوں کے شکر گذرا ہوجاویں اور سوا اللہ کے اوروں کی پرستش چھوڑ دیویں اس لئے فرماتا ہے کہ ہم نے تم کو زمین میں رہنے اور گھر بنانے کی جگہ دی مکان بنانے کے باغ لگانے کی کھیتی کرنے کی تم کو عقل دی زمین کی مضبوطی کے لئے پہاڑ پیدا کئے زمین کی سر سبزی کے لئے نہریں بہادیں کھیتی سودا گری کے ہزارہا سامان معاش کے تمہارے لئے زمین میں پیدا کردئے باوجود اس کے تمہاری یہ ناشکری ہے کہ ایسے بڑے مالک کو چھوڑ کر اوروں کو پوجا کرتے ہو علاوہ اس کے تمہارے باپ آدم (علیہ السلام) کو یہ بزرگی عطا فرمائی کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–16
آیت 11
اللہ تبارک و تعالیٰ بنی آدم سے مخاطب ہو کر فرماتا ہے : (ولقد خلقنکم) ” اور ہم نے تمہیں پیدا کیا “ یعنی تمہارے جد امجد آدم کی اصل اور اس کے مادے کی تخلیق کی، جس سے تم سب پیدا کئے گئے (ثم صورنکم) ” پھر تمہاری صورت شکل بنائی۔ “ پھر ہم نے تمہیں بہترین صورت اور بہترین قامت عطا کی۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے آدم کو تمام چیزوں کے نام سکھائے جس سے اس کی باطنی صورت کی تکمیل ہوئی، پھر باعزت فرشتوں کو حکم دیا کہ وہ آدم کے اکرام و احترام اور اس کی فضیلت کے اعتراف کے طور پر اسے سجدہ کریں۔ چناچہ انہوں نے اپنے رب کے حکم کی تعمیل کی (فسجدوآ) ” پس انہوں نے سجدہ کیا۔ “ یعنی تمام فرشتوں نے سجدہ کیا (الا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–16
پیروی قرآن
قول باری ہے اتبعواماانزل الیکم من ربکم۔ لوگوں جو کچھ تمہارے رب کی طرف سے تم پر نازل کیا گیا ہے اس کی پیروی کرو) اس کا مفہوم یہ ہے کہ بندوں کے تمام تصرفات کا دائرہ اللہ کے حکم کی مراد تک محدود ہو یعنی اس کے حکم کی جو مراد ہو اس کے بندے اس کے مطابق عمل کریں۔ یہ اہتمام یعنی اقتداء کی نظیر ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ کے حکم کی مراد کی اتباع اور اس پر عمل میں اس کی اس طرح اقتداء کی جائے کہ وہ اس کے دائرہ تدبیر سے خارج نہ ہو۔ اگر یہ کہا جائے کہ آیا مباح پر عمل کرنے والا اللہ کے حکم کا متبع ہوتا ہے ؟ تو اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ ایسا شخص اس وقت اللہ کے حکم کا متبع ہوتا ہے جب وہ اللہ…
Read the full tafseer →15 آدم کے لئے سجدے کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ہم نے حکم دیا فرشتوں کو کہ تم سجدہ ریز ہوجاؤ آدم کے لیے۔ سو آدم کو سجدہ کرنے کا یہ حکم ایک بڑا اعزاز ہے جس سے حضرت ابو البشر کو نوازا گیا تاکہ اس طرح آدم اور اولاد آدم کی عظمت شان کا اظہار ہو سکے۔ سو اس طرح حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ نے تمہیں بیشمار اور عظیم الشان حسی اور معنوی نعمتوں سے نوازا، جس کا لازمی اور بدیہی تقاضا یہ تھا اور یہ ہے کہ تم اس واہب مطلق ۔ جل وعلا ۔ کے آگے دل و جان سے جھک جاؤ اور خلافت ارضی کے جس تاج سے اس نے تم کو نوازا ہے اس پر تم اس کا حق ادا کرو۔ اور اس طرح دارین کی سعادت و سرخروئی سے بہرہ ور ہو سکو۔ سو فرشتوں کو آدم کے آگے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–18
تخلیق آدم پر ابلیس کا مکالمہ
تشریح : ان آیات کا ذکر پہلے بھی گزر چکا ہے اور ان کی عبارت بڑی عام فہم اور آسان ہے، لہٰذا صرف وہ نکات بیان کئے جائیں گے جو خاص خاص ہیں۔
-1 انسان کے رہنے، کھانے اور پینے کا بندوبست جو اللہ رب العزت نے کیا ہے لاجواب ہے۔ مگر انسان ناشکرا ہے۔
-2 انسان کی پیدائش کا معجزہ جو تمام موجودہ تحقیقات کو غلط ثابت کرتا ہے خاص طور سے ڈارون کی تھیوری کہ انسان بندر سے موجودہ شکل میں آیا ہے۔ اللہ کی قدرت کاملہ اور بےمثال طاقت کا مظاہرہ سیدنا آدم (علیہ السلام) کی پیدائش ہے۔
-3 انسان کا بلند درجہ کہ جس کی وجہ سے وہ زمین میں اللہ کا خلیفہ اور تمام مخلوقات سے افضل مخلوق بنائی گئی۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–25
رکوع نمبر 2 ۔ آیات نمبر 11 تا 25:
اسرار و معارف :
انسانی زندگی محض ایک حادثہ نہیں اور نہ نیک و بد کی آویزش محض کھیل ہے اس کا ایک پس منظر ہے جو تمہاری بھلائی کے لیے بیان کردیا جاتا ہے مقصد سامنے آجائے گا تو کامیابی اور ناکامی کا اندازہ کرنا تمہیں آسان ہوگا اب تو صرف مادی ترقی کو کمال سمجھ رہے ہو پھر جان سکو گے کہ اول ضرورت روحانی ترقی کی ہے مادی کمالات اس کے تابع ہیں اگر روحانی ارتقا سے آدمی محروم ہوجائے تو مادی انکشافات دکھوں میں اضافہ ہی کرتے ہیں ان میں سے بھی بھلائی اور بہتری کا پہلو رخصت ہوجاتا ہے۔ اصل بات یوں ہے۔
انانیت : کہ ہم نے تمہیں یعنی تمہارے جد آدم (علیہ السلام) کو اس طرح پیدا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
ف 2 وپر کی آیت میں تخویف وتر غیب کے ساتھ لوگوں کو انبیا کی دعوت قبول کرنے کی ترغیب دی اور ترغیب میں کثرت نعم کی طرف اشارہ تھا۔ اب یہاں سے انعامات کے بیان کا سلسلہ شروع ہوا ہے اور خلق آدم سے اس سلسلہ کا آغاز فرمایا (کبیر) مطلب یہ ہے کہ پہلے آدم کا ہیولی بنایا اور پھر اس کی شکل و صورت بنائی۔3 اس سجدہ سے مراد مطلق تعظیم ہے یا حقیق طور پر سجدہ تفصیل کے لیے دیکھئے سورة بقرہ آیت 24)
Read the full tafseer →(7:11) صورناکم۔ ماضی جمع متکلم کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ صور یصور (باب تفعیل) تمہاری شکل و صورت بنائی۔
یہاں خطاب تو حاضرین کو ہے لیکن مراد حضرت آدم (علیہ السلام) ہیں یعنی ہم نے آدم کو پیدا کیا اس کو اچھی صورت بخشی اور پھر مرشتوں کو اسے سجدہ کرنے کا حکم دیا۔
یہ اسلوب بیان قرآن میں عام ہے مثلاً حضور ﷺ کے ہمعصر یہودیوں کو فرمایا گیا واذ نجینکم من ال فرعون (2:49) اور یاد کرو اس وقت کو جب ہم نے تم کو آل فرعون سے نجات دلائی۔ اس میں حالانکہ خطاب رسول اکرم کے زمانہ کے یہودیوں سے ہے لیکن مراد ان کے اسلاف ہیں جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے زمانہ میں ہو گزرے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–18
لغات القرآن : آیت نمبر 11 تا 18 :
صورنا ( ہم نے صورت شکل بنائی) اسجدوا (تم سجدہ کرو) ابلیس (شیطان) الا تسجد ( یہ کہ تو نے سجدہ نہیں کیا) امرت ( میں نے حکم دیا تھا) ‘ اناخیر ( میں زیادہ بہتر ہوں) خلقتنی ( تو نے مجھے پیدا کیا) نار (آگ) طین (مٹی) اھبط ( اترجا) ان تتکبر ( یہ کہ تو بڑائی کرے۔ تکبر کرے) اخرج ( تو نکل جا) الصغرین ( صاغر) ذلیل۔ رسوائی والے) انظرنی ( تو مجھے مہلت دے دے) یبعثون ( وہ اٹھائے جائیں گے) المنظرین ( مہلت دیئے گئے) ‘ اغویتنی ( تو نے مجھے گمراہ کیا) اقعدن ( میں ضرور بیٹھوں گا) ‘ اتین ( میں ضرور آؤں گا) بین ایدی (سامنے) خلف ( پیچھے) ایمان (داہنی جانب) شمائل ( بائیں جانب) لاتجدو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
مطلب یہ ہے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) علم الٰہی میں نیک قرار پائے تھے، اس لئے گیہوں کھانے کے قصور کے بعد ان کو توبہ آسان ہوگئی اور شیطان علم الٰہی میں بد قرار پا چکا تھا، اس لئے سجدہ نہ کرنے کے قصور سے اس کو توبہ آسان نہیں ہوئی، بلکہ اس نے اپنے قیاس سے اس قصور کو قصور نہیں جانا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–11
[2] یعنی تمہارے باپ آدم کو۔
[3] یعنی تمہارے باپ آدم کی صورت بنائی۔
[4] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة بقرہ حاشیہ 28 صفحہ 96۔
Read the full tafseer →نوع انسانی کی عزت و حرمت :
(ف 1) ” خلقنکم “۔ اور ” ثم صورنکم “ میں تمام انسانوں کو مخاطب فرمایا ہے اور اس کے بعد صرف آدم (علیہ السلام) کا ذکر ، اس کے صاف صاف معنی یہ ہیں کہ گو فرشتے آدم (علیہ السلام) کے سامنے جھکے ، مگر مقصود نوع انسانی کا اعزاز تھا ، اور یہ بتانا تھا کہ آدم (علیہ السلام) کی اس عزت افزائی میں تمام بنی آدم (علیہ السلام) شریک وسہیم ہیں یعنی انسان اس درجہ معزز ومفتحز ہے ، کہ کائنات کا حصہ اعلی کھلے بندوں اس کی فضیلت وتمجید کا اعتراف کرتا ہے ۔
شیطان کی نافرمانی کے معنی یہ ہیں کہ جو قومیں تمہارے سامنے نہ جھکیں انہیں مسخر کرنے کی خود کوشش کرو ، آدم (علیہ السلام) اور شیطان کے قصہ کو…
Read the full tafseer →1 1 اور بالتحقیق ہم ہی نے تم کو یعنی تمہارے باپ آدم (علیہ السلام) کو بنایا۔ پھر ہم نے تمہاری صورت بنائی یعنی تمہارے باپ آدم (علیہ السلام) کی شکل و صورت بنائی پھر ہم نے تمام فرشتوں سے کہا کہ آدم (علیہ السلام) کے سامنے سجدہ کرو پس سب نے سجدہ کیا مگر ابلیس نے سجدہ نہیں کیا اور وہ سجدہ کرنے والوں میں شامل نہیں ہوا۔ یعنی ابتداً حضرت آدم (علیہ السلام) کو پیدا کیا اور مٹی سے ان کی لگدی بنائی گئی پھر اس لگدی میں آدم (علیہ السلام) کی شکل و صورت بنائی گئی پھر آدم (علیہ السلام) کو اشیاء کے نام کی تعلیم دینے کے بعد ان کی اشرفیت اور ان کی فوقیت کے اظہار کے لئے سجدے کا حکم دیا گیا۔ اس حکم کی سوائے ابلیس کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–14
ف 3۔ مراد شکر سے اطاعت ہے۔
Read the full tafseer →آدم (علیہ السلام) کے خلیفہ بنائے جانے کی خوشی میں سجدہ شکر ادا کرنے کا حکم :
11: اس بات کی وضاحت ہم پہلے کرچکے ہیں کہ تخلیق اول میں بہت سے مرد اور عورتیں اللہ نے پیدا کئے جن میں سے حضرت آدم (علیہ السلام) کو خلافت ارضی سونپی گئی اور اس تخلیق اول کے بعد انسانی پیدائش کا ایک ضابطہ مقرر کردیا گیا جو قیامت تک جاری وساری رہے گا۔ زیر نظر آیت ہی سے ہم نے یہ سمجھا کہ ارشاد الٰہی اس طرح ہے کہ ” وَ لَقَدْ خَلَقْنٰكُمْ “ بلاشبہ ہم نے تم کو پیدا کیا یعنی پیدائش اول کے انسانوں کو خواہ ان کی تعداد کتنی تھی اور وہ کہاں کہاں پیدا ہوئے تھے۔ خواہ ان کے اجسام ایک بار بنائے گئے یا کئی منازل سے گزرتے ہوئے انسان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–11
Commentary
In the first verse, it was said: وَالْوَزْنُ يَوْمَئِذٍ الْحَقُّ ` (And the Weighing on that day is definite). It means that the weighing of good and bad deeds on the day of Judgment is due and true. There is no room for doubt in it. Here, the hint given is that let no one be deceived by the idea that things which usually get to be weighed or measured are things having some weight or heaviness. Human deeds, good or bad, have no body or mass which could be weighed. How, then, would deeds be weighed? First of all, the reason is that the authority of Allah is absolute. He is powerful…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
10. These verses should he read in conjunction with al-Baqarah 2: 30-9. The words in which the command to prostrate before Adam is mentioned may give rise to the misapprehension that it was Adam as such who is the object of prostration. This misapprehension should be removed by what has been said here. The text makes it very clear that prostration before Adam was in his capacity, as the representative of all mankind and not in his personal capacity.
The successive stages of man's creation mentioned in the present verse ('We initiated your creation, then We gave you each a shape'), means that…
Read the full tafseer →