عذر گناہ بدتر از گناہ
(الا تسجد) میں لا بقول بعض نحویوں کے زائد ہے اور بعض کے نزدیک انکار کی تاکید کیلئے ہے۔ جیسے کہ شاعر کے قول ما ان رایت ولا سمعت بمثلہ میں ما نافیہ پر ان نفی کے لئے صرف تاکیداً داخل ہوا ہے اسی طرح یہاں بھی ہے کہ پہلے آیت (لم یکن من الساجدین) ہے پھر (ما منعک الا تسجد) ہے امام ابن جریر ؒ ان دونوں قولوں کو بیان کر کے انہیں رد کرتے ہیں اور فرماتے ہیں (منعک) ایک دوسرے فعل مقدر کا متضمن ہے تو تقریر عبارت یوں ہوئی (ما احوجک والزمک وا ضطرک الا تسجد اذا مرتک) یعنی تجھے کس چیز نے بےبس محتاج اور ملزم کردیا کہ تو سجدہ نہ کرے ؟ وغیرہ۔ یہ قول بہت ہی قوی ہے اور بہت عمدہ ہے۔ واللہ اعلم۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
سورة الْاَعْرَاف 11
اصل میں لفظ صاغیرین استعمال ہوا ہے۔ صاغر کے معنی ہیں الراضی بالذُّل، یعنی وہ جو ذلت اور صغار اور چھوٹی حیثیت کو خود اختیار کرے۔ پس اللہ تعالیٰ کے ارشاد کا مطلب یہ تھا کہ بندہ اور مخلوق ہونے کے باوجود تیرا اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں مبتلا ہونا اور اپنے رب کے حکم سے اس بنا پر سرتابی کرنا کہ اپنی عزّت و برتری کا جو تصوّر تو نے خود قائم کرلیا ہے اس کے لحاظ سے وہ حکم تجھے اپنے لیے موجب توہین نظر آتا ہے، یہ دراصل یہ معنی رکھتا ہے کہ تو خود اپنی ذلت چاہتا ہے۔ بڑائی کا جھوٹا پندار، عزت کا بےبنیاد ادعا، اور کسی ذاتی استحقاق کے بغیر اپنے آپ کو خواہ مخواہ بزرگی کے منصب پر فائز سمجھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–18
معارف و مسائل
حضرت آدم ؑ اور شیطان کا یہ واقعہ جو یہاں مذکور ہے اس سے پہلے سورة بقرہ کے چوتھے رکوع میں بیان ہوچکا ہے، اس کے متعلقہ بہت سے تحقیق طلب امور کا بیان وہاں ہوا ہے، یہاں مزید چند امور تحقیق طلب کا جواب لکھا جاتا ہے۔
ابلیس کی دعاء قیامت تک زندگی کی قبول ہوئی یا نہیں، بصورت قبول دو آیتوں کے متعارض الفاظ کی تطبیق
ابلیس نے عین اس وقت جب کہ اس پر عتاب و عقاب ہو رہا تھا اللہ تعالیٰ سے ایک دعا مانگی اور وہ بھی عجیب دعا کہ حشر تک کی زندگی کی مہلت عطا فرما دیجئے، اس کے جواب میں جو ارشاد حق تعالیٰ نے فرمایا اس کے الفاظ اس جگہ مذکورہ آیت میں تو صرف یہ ہیں (آیت) انک من المنظرین، ”یعنی تجھ کو…
Read the full tafseer →عربیت کا ایک اسلوب :۔ قَالَ مَا مَنَعَكَ اَلَّا تَسْجُدَ اِذْ اَمَرْتُكَ۔ قرٓان میں دوسرے مقام میں یہی بات یوں فرمائی گئی ہے قَالَ يَا إِبْلِيسُ مَا مَنَعَكَ أَنْ تَسْجُدَ لِمَا خَلَقْتُ بِيَدَيَّ (ص :70) (فرمایا، اے ابلیس تجھے اس چیز کو سجدہ کرنے سے کس چیز نے روکا جس کو میں نے اپنے ہاتھ سے بنایا)۔ دونوں آیتوں پر غور کیجیے تو معلوم ہوگا کہ ایک جگہ ما منعک کے بعد لا ہے دوسری جگہ نہیں ہے۔ اس فرق کی وجہ یہ ہے کہ ما منعک میں چونکہ خود لا کا مضمون موجود ہے۔ اس وجہ سے اس کے بعد اس کا لانا ضروری نہیں ہے لیکن لائیں تو اس سے شدت نکیر کا مضمون پیدا ہوگا۔ چناچہ اس فقرے میں شیطان کے عدم سجدہ کی شناعت…
Read the full tafseer →12۔ 1 ان لا تسجدوا میں لا زائد ہے یعنی ان تسجد تجھے سجدہ کرنے سے کس نے روکا ؟ یا عبارت محذوف ہے یعنی تجھے کس چیز نے اس بات پر مجبور کیا کہ تو سجدہ نہ کرے، شیطان فرشتوں میں سے نہیں تھا بلکہ خود قرآن کی صراحت کے بموجب وہ جنات میں سے تھا (الکہف۔ 50) لیکن آسمان پر فرشتوں کے ساتھ رہنے کی وجہ سے اس سجدہ حکم میں شامل تھا جو اللہ نے فرشتوں کو دیا تھا۔ اس لئے اس سے باز پرس بھی ہوئی اور اس پر عتاب بھی نازل ہوا۔ اگر وہ اس حکم میں شامل یہ نہ ہوتا تو اس سے باز پرس ہوتی نہ وہ راندہ درگاہ قرار پاتا۔
12۔ 2 شیطان کا یہ عذر ' عذر گناہ بدتر از گناہ ' جس کا آئینہ دار ہے۔ ایک تو اس کا سمجھنا کہ افضل کو مفعول کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–14
3: اس واقعے کی کچھ تفصیلات سورة بقرہ (34:2 تا 39) میں گذری ہیں۔ ان آیتون پر جو حواشی ہم نے لکھے ہیں، ان میں واقعے سے متعلق کئی سوالات کا جواب آگیا ہے۔ انہیں ملاحظہ فرما لیا جائے۔
Read the full tafseer →آیت ” قَالَ مَا مَنَعَکَ أَلاَّ تَسْجُدَ إِذْ أَمَرْتُکَ قَالَ أَنَاْ خَیْْرٌ مِّنْہُ خَلَقْتَنِیْ مِن نَّارٍ وَخَلَقْتَہُ مِن طِیْنٍ (12)
” پوچھا ” تجھے کس چیز نے سجدہ کرنے سے روکا جب میں نے تجھ کو حکم دیا تھا ۔ “ بولا : ” میں اس سے بہتر ہوں ‘ تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا اور اسے مٹی سے ۔ “
ابلیس کا قصور یہ تھا کہ نص صریح کے ہوتے بھی اس نے یہ سوچا کہ وہ اپنی رائے پر عمل کرسکتا ہے اور اگر حکم کے باوجود کوئی سبب اور علت اور علت ہو تو اس پر عمل کیا جاسکتا ہے ۔ حالانکہ جب نص صریح آجائے تو پھر فکر ونظر کی کوئی گنجائش نہیں رہتی ۔ اب صرف یہ صورت رہتی ہے کہ اطاعت کی جائے اور حکم کو نافذ کیا جائے ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–13
1 یعنی تمہاری تخلیق سے پہلے رہنے سہنے اور کھانے پینے کا سامان کیا۔ پھر تمہارا مادہ پیدا فرمایا۔ پھر اس مادہ کو ایسا دلکش نقشہ اور حسین و جمیل صورت عطا کی جو کسی دوسری مخلوق کو عطا نہ کی گئی تھی۔ پھر اس تصویر خاکی کو وہ روح اور حقیقت مرحمت ہوئی جس کی بدولت تمہارے باپ آدم (علیہ السلام) جن کا وجود تمام افراد انسانی کے وجود پر اجمالاً مشتمل تھا۔ " خلیفتہ اللہ " و " مسجود ملائکہ " بنے۔ پھر جس نے اس وقت سجود تعظیمی سے سرتابی کی وہ مردود ازلی ٹھہرا کیونکہ وہ سجود خلافت الہٰیہ کے نشان کے طور پر تھا " ملائیکۃ اللہ " جو بحث و تمحیص اور صریح امتحان کے بعد آدم کی علمی فضیلت اور روحانی کمالات پر مطلع…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–15
قَالَ اَنَا خَیْرٌ مِّنْہُ ج خَلَقْتَنِیْ مِنْ نَّارٍ وَّخَلَقْتَہٗ مِنْ طِیْنٍ
اس نے اپنے استکبار کی بنیاد پر ایسا کہا۔ یہاں اس کا جو قول نقل کیا گیا ہے اس کے ایک ایک لفظ سے تکبر جھلکتا ہے۔
Read the full tafseer →11 آگ اور مٹی کے خواص کا تقابل :۔ ابلیس کا گمان یہ تھا کہ آگ مٹی سے افضل ہے کیونکہ آگ لطیف ہوتی ہے اور مٹی کثیف۔ آگ نیچے سے اوپر کو اٹھتی ہے اور مٹی اوپر سے نیچے کو گرتی ہے آگ اپنی شکل اور رنگ بدل سکتی ہے مگر مٹی میں بغیر محنت شاقہ کے یہ صفت نہیں پائی جاتی اس ظاہری برتری کے بعد اگر نتیجہ دیکھیں تو آگ ہر چیز کو جلا کر فنا کردیتی ہے جبکہ مٹی سے نباتات یا ہر قسم کے پھل، غلے اور درخت پیدا ہوتے ہیں آگ کی طبیعت میں سرکشی ہے، مٹی کی طبیعت میں انکسار اور تواضع ہے۔ اسی آگ کی فطرت کی بنا پر ابلیس نے اللہ کی نافرمانی کی اور تکبر کی راہ اختیار کی اور راندہ درگاہ الٰہی بن گیا اور آدم (علیہ السلام) سے اللہ…
Read the full tafseer →14 ۔ ارشاد الہی کا کوئی اور جواب بجز تعمیل کے ممکن ہی نہیں، پھر تجھے آخر نافرمانی کیا سوجھی ؟ کونسی چیز تجھے اس پر لائی ؟ (آیت) ” الا “۔ یہاں لا نافیہ یا ناہبہ نہیں بلکہ زایدہ ہے۔ اور زایدہ اصطلاح نحو میں حشو کے مرادف نہیں بلکہ یہ لا جو مضمون بیان ہورہا ہے اس میں اور زور وتاکید پیدا کردیتا ہے۔ زائدۃ ای لتاکید معنی النفی فی منعک (جمل)
15 ۔ (اور یہ دلیل ہے میری افضیلت کی) ابلیس کے اس دعوی اور دلیل کو منطقی شکل میں اگر مرتب کیا جائے تو مقدمات اور نتائج کی صورت حسب ذیل ہوگی :۔ ( 1) آگ خاک سے افضل ہے۔ (2) افضل غیر افضل کے آگے نہیں جھک سکتی، لہذا آگ خاک کے آگے نہیں جھک سکتی، میں فرع ہوں آگ کی، اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
آیت نمبر 11 تا 25
ترجمہ : اور ہم نے تم کو یعنی تمہارے دادا آدم کو پیدا کیا پھر تمہاری صورتیں بنائیں یعنی تمہاری صورتیں اس حال میں بنائیں کہ تم آدم (علیہ السلام) کی پشت میں تھے، پھر ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کو سجدہ کرو، جھک کر سجدہ تعظیمی، تو سب نے سجدہ کیا بجز ابو الجن ابلیس کے اور وہ فرشتوں کے درمیان بودوباش رکھتا تھا، اور وہ سجدہ کرنے والوں میں شامل نہ ہوا اللہ تعالیٰ نے فرمایا کس چیز نے تجھ کو سجدہ کرنے سے روکا جبکہ میں تجھ کو حکم دے چکا، لا، زائدہ ہے، (تو) کہنے لگا میں اس سے بہتر ہوں (اسلئے کہ) تو نے مجھے آگ سے اور اسکو مٹی سے پیدا کیا، حق تعالیٰ نے فرمایا تو جنت سے اتر اور کہا گیا…
Read the full tafseer →قال ما منعک الا تسجد اذ امرتک اللہ نے فرمایا (اے ابلیس) جب میں نے تجھ کو حکم دے دیا تو سجدہ نہ کرنے کی وجہ مانع کون سی ہے۔ اَلاَّ تَسْجُدَمیں لا زائد ہے جیسے لئلا یعلم میں یہ جس فعل پر داخل ہوا ہے اس کو مضبوط کر رہا ہے اور اس بات پر تنبیہ کر رہا ہے کہ ترک سجود موجب سرزنش ہے بعض نے کہا کہ (لازائد نہیں ہے) جس شخص کو کسی کام سے روک دیا جائے تو وہ اس کام کے مخالف کام کرنے پر مجبور ہوتا ہے گویا اس وقت مطلب اس طرح ہوگا کس چیز نے سجدہ نہ کرنے پر تجھے مجبور کیا۔ بعض نے کہا کلام کا کچھ حصہ محذوف ہے اصل کلام اس طرح تھا تجھے تعمیل حکم سے کس چیز نے روکا اور سجدہ نہ کرنے کا باعث کیا ہے۔ اللہ کو تعمیل حکم…
Read the full tafseer →(12) اللہ تعالیٰ نے شیطان سے فرمایا آدم ؑ کو سجدہ کرنے سے کس چیز نے تمہیں منع کیا وہ کہنے لگا کہ مجھے آپ نے آگ سے اور آدم ؑ کو مٹی سے بنایا اور آگ کو مٹی پر فوقیت اور برتری حاصل ہے۔
Read the full tafseer →قَالَ مَا مَنَعَكَ اَلَّا تَسْجُدَ اِذْ اَمَرْتُكَ ۭ : یہاں ”الا“ زور اور تاکید کے لیے ہے، اس کی دلیل یہ ہے کہ سورة صٓ (75) میں فرمایا : (مَا مَنَعَكَ اَنْ تَسْجُدَ) ”تجھے سجدہ کرنے سے کس چیز نے روکا۔“ اور یہاں ہے کہ تجھے کس نے روکا کہ اس کے روکنے کے باعث تو نے سجدہ نہ کیا۔
اس سے وہ مشکل حل ہوجاتی ہے کہ سجدے کا حکم تو فرشتوں کو تھا، ابلیس جنوں میں سے تھا، فرشتہ تھا ہی نہیں تو وہ نافرمان کیوں ٹھہرا ؟ اس کے عجیب و غریب جواب دیے گئے ہیں۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ فرشتوں کے علاوہ ابلیس کو بطور خاص مخاطب کر کے حکم دیا گیا تھا۔
خَلَقْتَنِيْ مِنْ نَّارٍ : آگ مٹی سے افضل ہے اور افضل اپنے سے کم درجہ کو…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 12
اس میں چار مسائل ہیں۔
مسئلہ نمبر 1۔ قولہ تعالیٰ : ما منعک، مامبتدا ہونے کی وجہ سے محل رفع میں ہے، یعنی ای شی منعک ؟ ( کون سی شے ہے جس نے تجھے روکا ہے ؟ ) یہ سوال زجر وتوبیخ کے لیے ہے۔ الا تسجد یہ محل نصب میں ہے، یعنی من ان تسجد ( تجھے سجدہ کرنے سے) اور لا زائدہ ہے۔ اور سورة ” ص “ آیت 75 میں ہے آیت : ما معنک ان تسجد ( کس چیز نے باز رکھا تمہیں اس کو سجدہ کرنے سے) اور شاعر نے کہا ہے :
ابی جو دہ لا البخل فاستعجلت بہ نعم من فتی لا یمنع الجود نائلہ (المحررالوجیز، جلد 2، صفحہ 378)
اس میں مراد ابی جو دہ البخل ہے، اس میں لا زائدہ ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ کہ لا زائدہ نہیں ہے، کیونکہ…
Read the full tafseer →(1) امام عبد بن حمید، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے قیادہ (رح) سے روایت کیا لفظ آیت ” قال انا خیر منہ، خلقتنی من نار وخلقتہ من طین “ سے مراد ہے اللہ کے دشمن ابلیس نے آدم (علیہ السلام) پر حسد کیا اس چیز پر جو اللہ تعالیٰ نے ان کو عزت و کرامت عطا فرمائی اور اس نے کہا میں آگ سے پیدا کیا گیا ہوں۔ یہ مٹی سے پیدا کیا گیا۔ گناہوں کی ابتداء تکبر سے ہوئی۔ اللہ کے دشمن نے آدم (علیہ السلام) کو سجدہ کرنے سے تکبر کیا تو اللہ تعالیٰ نے اس کو ہلاک کردیا اس کے تکبر اور اس کے حسد کی وجہ سے۔
(2) امام ابو الشیخ نے ابو صالح (رح) سے روایت کیا کہ عزت کی آگ سے ابلیس پیدا کیا گیا اور عزت کے نور سے فرشتے…
Read the full tafseer →قَالَ [ (اللہ نے ) کہا ] مَا [ کس چیز نے ] مَنَعَكَ [ تجھے روکا ] اَلَّا تَسْجُدَ [ کہ تو سجدہ نہ کرے ] اِذْ [ جب (کہ ) ] اَمَرْتُكَ ۭ [ میں نے حکم دیا ] قَالَ [ (ابلیس نے ) کہا ] اَنَا [ میں ] خَيْرٌ [ بہتر ہوں ] مِّنْهُ ۚ [ اس سے ] خَلَقْتَنِيْ [ تو نے پیدا کیا مجھ کو ] مِنْ نَّارٍ [ آگ سے ] وَّخَلَقْتَهٗ [ اور تو نے پیدا کیا اس کو ] مِنْ طِيْنٍ [ گارے سے ]
ترکیب : (آیت ۔ 12) الا دراصل ان لا ہے ۔ اس میں شامل ان نے تسجد کو نصب دی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
ابلیس کا نکالا جانا :
ابلیس کو اس کی انا (میں) لے ڈوبی۔ اگر وہ واقعتہً آدم (علیہ السلام) سے افضل ہوتا تب بھی احکم الحاکمین کا حکم بجا لانا ضروری تھا۔ لیکن اللہ کے حکم کو غلط قرار دیا اور حجت بازی پر اترآیا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا (فَاھْبِطْ مِنْھَا فَمَا یَکُوْنُ لَکَ اَنْ تَتَکَبَّرَ فِیْھَا) (تو یہاں سے اتر جا تیرے لیے یہ درست نہیں تھا کہ تو اس میں تکبر کرے) (فَاخْرُجْ اِنَّکَ مِنَ الصّٰغِرِیْنَ ) (تو نکل جا بیشک تو ذلیلوں میں سے ہے) مِنْھَا اور فِیْھَا کی ضمیر کس طرف راجع ہے اس کے بارے میں صاحب روح المعانی (ج 8 ص 90) لکھتے ہیں کہ ضمیر جنت کی طرف راجع ہے اور ابلیس پہلے سے وہاں رہتا تھا پھر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–18
قال اللہ تعالیٰ ۔ المص۔ کتاب انزل الیک۔۔۔ الی۔۔۔ بما کانو بایاتنا یظلمون
(ربط) گذشتہ سورت کے آخری رکوع میں قرآن مجید کے اتباع کا حکم اور اس کی ترغیب تھی اور اس سے انحراف اور اعراض پر نزول عذاب کی وعید تھی اور اسی بناء پر گزشتہ سورت کے آخری رکوع کو ان ربک سریع العقاب وانہ لغفور رحیم پر ختم فرمایا اب اس سورت کے آغاز میں قرآن مجید کے اتباع کا حکم دیتے ہیں اور گزشتہ امتوں کے منکرین حق اور مکذبین حق کی ہلاکت اور بربادی کا ذکر کرتے ہیں تاکہ منکرین قرآن اس سے عبرت پکڑیں۔ چناچہ فرماتے ہیں۔ المص سورة بقرہ کے شروع ہی میں اس قسم کے حروف مقطعات کے متعلق مفسرین کے اقوال بسط اور تفصیل کے ساستھ گزر چکے ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–15
10: یہ دوسرے دعوے کی تمہید ہے جو اس پورے رکوع میں ذکر کی گئی ہے۔ اس میں حضرت آدم (علیہ السلام) کے سامنے فرشتوں کو سجدہ کرنے کا حکم، ابلیس کی نافرمانی اس کے ملعون و مطرود ہونے اور آدم و حواعلیہما السلام سے اس کی عداوت اور اس کی وجہ سے جنت میں ان کے برہنہ ہوجانے کا ذکر کیا گیا ہے۔ “ ثُمَّ قُلْنَا الخ ”“ ثُمَّ ” یہاں تعقیب ذکری کے لیے ہے ورنہ ماقبل سے مرتبط نہیں ہوسکے گا۔ کیونکہ آدم (علیہ السلام) کو سجدہ کرنے کا حکم اولاد آدم کی پیدائش سے پہلے ہوا تھا۔ مطلب یہ ہے کہ یہ واقعہ بھی اس کے بعد بیان کرو۔ لہذا اس سے یہ مطلب نکالنا کہ حضرت آدم (علیہ السلام) سے پہلے بھی دنیا میں انسان موجود تھے۔ سراسر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–13
ربط آیات
سورۃ کی ابتداء میں اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کے نزول اور اس کی اشاعت کا تذکرہ کیا اور منکرین کو اس دنیا اور آخرت کے انجام سے آگاہ کیا پھر گزشتہ درس میں انسانی اعمال کی حفاظت اور آخرت میں ان کے وزن کا بیان آیا اور اس کے نتیجے میں نجات یا خسارے کا ذکر بھی اللہ تعالیٰ نے فرمایا پھر اللہ نے ان دو عظیم نعمتوں کا ذکر کیا جو اس نے انسان کو عطا فرمائی ہیں یعنی زمین میں اقتدار اور معیشت کے سامان ، مگر بطورشکوہ یہ بھی بیان فرمایا کہ اکثر لوگ ان نعمتوں کی ناقدری کرتے ہیں اور ان کا غلط استعمال کرتے ہیں اور بالآخر ناکام رہتے ہیں اللہ نے فرمایا کہ بہت قلیل لوگ ہیں جو ان نعمتوں کا حق ادا کرتے…
Read the full tafseer →قَالَ مَا مَنَعَكَ اَلَّا تَسْجُدَ اِذْ اَمَرْتُكَ 0 ۭ قَالَ اَنَا خَيْرٌ مِّنْہُ 0 ۚ خَلَقْتَنِيْ مِنْ نَّارٍ وَّخَلَقْتَہٗ مِنْ طِيْنٍ 12
منع
المنع يقال في ضدّ العطيّة، يقال : رجل مانع ومنّاع . أي : بخیل . قال اللہ تعالی: وَيَمْنَعُونَ
الْماعُونَ [ الماعون/ 7] ، وقال : مَنَّاعٍ لِلْخَيْرِ [ ق/ 25] ، ويقال في الحماية، ومنه :
مكان منیع، وقد منع وفلان ذو مَنَعَة . أي : عزیز ممتنع علی من يرومه . قال تعالی: أَلَمْ نَسْتَحْوِذْ عَلَيْكُمْ وَنَمْنَعْكُمْ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ [ النساء/ 141] ، وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنْ مَنَعَ مَساجِدَ اللَّهِ [ البقرة/ 114] ، ما مَنَعَكَ أَلَّا تَسْجُدَ إِذْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–13
ترکیب : معایش مفعول جعلنا جمع معیشۃ۔ ان لا لا زائدہ اور من جار حذف یہ مفعول ثانی ہے منع کا یا موضع حال میں اذ ظرف ہے تسجد کا منہا اے من الجنۃ وقیل من السموات فبماب قسم کے لئے ما مصدریہ لا قعدن جواب قسم۔
تفسیر : پہلے اس سے لوگوں کو انبیاء کی فرمانبرداری کا حکم دیا تھا اور مخالفت میں عذاب دنیوی سے بقولہ وکم قریۃ اھلکناھا اور آخرت کے عذاب سے سوال و وزن کرنے سے ڈرایا تھا۔ انسان کی جبلی عادت ہے کہ وہ خوف اور نعماء و احسانات سے مسخر و مطیع ہوتا ہے۔ اس لئے خوف مضرت دارین کے بعد بنی آدم پر ان کے بزرگ و جد امجد حضرت آدم (علیہ السلام) پر جو کچھ انعام و احسان کئے ہیں ان کو یاد دلاتا ہے اور لطف یہ ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–22
وَلَقَدْ خَلَقْنٰکُمْ ثُمَّ صَوَّرْنٰکُمْ ثُمَّ قُلْنَا لِلْمَلٰٓئِکَۃِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ صلے ق فَسَجَدُوْٓا اِلَّا اِبْلِیْسَ ط لَمْ یَکُنْ مِّنَ السّٰجِدِیْنَ ۔ (الاعراف : 11)
” اور ہم نے تمہارا خاکہ بنایا پھر تمہاری صورت گری کی پھر فرشتوں کو فرمایا کہ آدم کو سجدہ کرو سب نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے وہ سجدہ کرنے والوں میں شامل نہ ہوا “۔
تخلیقِ انسان کا اسلامی نقطہ نگاہ اور اس کی وضاحت
سب سے پہلے آیت کے بعض الفاظ پر غور فرمایئے۔ سب سے پہلے فرمایا خَلَقْنٰکُمْ اور پھر فرمایا صَوَّرْنٰکُمْ ۔ بات اصل میں یہ ہے کہ جب خَلَقَ کا لفظ اکیلا استعمال ہوتا ہے تو یہ اپنے لوازم سمیت استعمال ہوتا ہے یعنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
فہم القرآن
ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ۔
سجدہ کا حکم ہوتے ہی تمام ملائکہ آدم (علیہ السلام) کے حضور سر بسجود ہوئے لیکن شیطان نے حضرت آدم (علیہ السلام) کا احترام و مقام دیکھ کر حسد اور تکبر کی وجہ سے سجدہ ریز ہونے سے نہ صرف انکار کیا بلکہ وہ جرم پر جرم اور گستاخی پر گستاخی کرتا چلا گیا۔ اس جگہ اجمال ہے جبکہ دوسرے مقامات پر شیطان کے انکار کی تفصیلات یوں بیان کی گئی ہیں۔
( وَ اِذْ قُلْنَا لِلْمَلآءِکَۃِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْٓا اِلَّآ اِبْلِیْسَ ط قَالَ ءَ اَسْجُدُ لِمَنْ خَلَقْتَ طِیْنًا)[ الاسراء : 61]
” اور جب ہم نے فرشتوں سے کہا آدم کو سجدہ کرو ابلیس کے علاوہ سب نے سجدہ کیا اور اس نے…
Read the full tafseer →سوالِ توبیخ :
آیت 12: قَالَ مَا مَنَعَکَ اَلَّا تَسْجُدَ (اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ تو جو سجدہ نہیں کرتا تجھ کو اس سے کونسی بات مانع ہے) مَا، مرفوع ہے اور اَیُّ شَیْئٍ کے معنی میں ہے یعنی تمہیں کس چیز نے سجدہ سے منع کیا ہے اور لا زائدہ ہے اسکی دلیل یہ آیت ہے : مَا مَنَعَکَ اَنْ تَسْجُدَ لِمَا خَلَقْتُ بِیَدَیَّ 1 (ص : 75) اور اسکی نظیر یہ آیت ہے : لِّئَــلَّا یَعْلَمَ اَہْلُ الْکِتٰبِ (الحدید : 29) ای لیعلم۔ اِذْ اَمَرْتُکَ (جبکہ میں تجھ کو حکم دے چکا) یہ حصہ آیت دلیل ہے کہ امر و جوب کیلئے آتا ہے علم کے باوجود سجدہ نہ کرنے والے سے یہ سوال توبیخ کیلئے ہے اور اس بات کو واضح کرنے کیلئے کہ اس نے…
Read the full tafseer →(12) (قال ما منعک الا تسجد اذ امرتک) اللہ تعالیٰ نے اسے ابلیس ! (تجھ کو کیا مانع تھا کہ تو نے سجدہ نہ کیا جب میں نے حکم دیا )” الا تسجد ”‘ میں لاء زائد ہے جیسے ” و حرام علی قریۃ اھلکنا ھا انھم لایرجعن “ میں لا زائد ہے (قال لا خیر منہ خلفتنی من نار وخلقنہ من طین) اور آ گ مٹی سے بہتر اور روشن ہوتی ہے۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں پہلا قیاس ابلیس نے کیا اور اس میں غلطی کی۔ پس جو شخص دین میں اپنی رائے سے قیاس کرے تو اللہ تعالیٰ اس کو شیطان کے ساتھ ملا دیتے ہیں۔ ابن سیرین (رح) فرماتے ہیں کہ سورج کی عبادت قیاس کے ذریعے کی گئی ۔ محمد بن جریر (رح) کہتے ہیں کہ اس خبیث نے یہ گمان کیا کہ آگ کو مٹی پر فضیلت ہے…
Read the full tafseer →حسن بصری اور ابن سیرین اور اکثر بزرگان دین نے کہا ہے کہ حضرت آدم ( علیہ السلام) کو قبلہ ٹھہرا کر خدا تعالیٰ کا سجدہ کرنے کا حکم فرشتوں کے لئے اور ابلیس کے لئے ایک قطعی حکم تھا اور یہ ایسا حکم تھا کہ جس طرح کعبہ کو قبلہ ٹھہرا کر سجدہ کرنے نماز میں حکم ہے شیطان نے اس قطعی حکم کے مقابلہ میں جو قیاس کیا یہ پہلا قیاس ہے جو نص کے مقابلہ میں کیا گیا ہے اب بھی نص کے مقابلہ میں جو شخص اس طرح کی عقلی قیاس کرلے اس میں خصلت شیطانی کا اثر ہے اور ایسے شخص کا وہ انجام ہوگا جو شیطان کا انجام ہے ابن سیرین کہا کرتے تھے بتوں کی آگ کی سورج چاند کی غرض سوا اللہ تعالیٰ کے جس چیز کی پوجا زمین پر پھیلی ہے وہ سب قیاس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–16
آیت 11
اللہ تبارک و تعالیٰ بنی آدم سے مخاطب ہو کر فرماتا ہے : (ولقد خلقنکم) ” اور ہم نے تمہیں پیدا کیا “ یعنی تمہارے جد امجد آدم کی اصل اور اس کے مادے کی تخلیق کی، جس سے تم سب پیدا کئے گئے (ثم صورنکم) ” پھر تمہاری صورت شکل بنائی۔ “ پھر ہم نے تمہیں بہترین صورت اور بہترین قامت عطا کی۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے آدم کو تمام چیزوں کے نام سکھائے جس سے اس کی باطنی صورت کی تکمیل ہوئی، پھر باعزت فرشتوں کو حکم دیا کہ وہ آدم کے اکرام و احترام اور اس کی فضیلت کے اعتراف کے طور پر اسے سجدہ کریں۔ چناچہ انہوں نے اپنے رب کے حکم کی تعمیل کی (فسجدوآ) ” پس انہوں نے سجدہ کیا۔ “ یعنی تمام فرشتوں نے سجدہ کیا (الا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–16
پیروی قرآن
قول باری ہے اتبعواماانزل الیکم من ربکم۔ لوگوں جو کچھ تمہارے رب کی طرف سے تم پر نازل کیا گیا ہے اس کی پیروی کرو) اس کا مفہوم یہ ہے کہ بندوں کے تمام تصرفات کا دائرہ اللہ کے حکم کی مراد تک محدود ہو یعنی اس کے حکم کی جو مراد ہو اس کے بندے اس کے مطابق عمل کریں۔ یہ اہتمام یعنی اقتداء کی نظیر ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ کے حکم کی مراد کی اتباع اور اس پر عمل میں اس کی اس طرح اقتداء کی جائے کہ وہ اس کے دائرہ تدبیر سے خارج نہ ہو۔ اگر یہ کہا جائے کہ آیا مباح پر عمل کرنے والا اللہ کے حکم کا متبع ہوتا ہے ؟ تو اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ ایسا شخص اس وقت اللہ کے حکم کا متبع ہوتا ہے جب وہ اللہ…
Read the full tafseer →16 شیطان کی حکم الہی کے مقابلے میں ابلیسی منطق : سو شیطان نے حکم الہی سے روگردانی و سرتابی کو صحیح ثابت کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ کے سوال کے جواب میں اپنی ابلیسی منطق بگھارتے ہوئے کہا کہ میں اس سے بہتر ہوں کہ میری پیدائش آگ سے ہے اور آدم کی مٹی سے اور آگ مٹی سے بہتر ہے۔ لہٰذا میں آدم سے بہتر ہوں۔ تو پھر میں اس کو سجدہ کس طرح کروں ؟ مگر اس کا یہ کہنا سراسر باطل و مردود تھا کہ اول تو آگ کا مٹی سے بہتر ہونا ہی مسلم نہیں۔ بلکہ مٹی کے اندر کئی ایسی خوبیاں اور خصوصیات ہیں جو آگ میں نہیں۔ ان کے لحاظ سے مٹی آگ سے کہیں بہتر ہے۔ پھر یہاں تو معاملہ حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کے حکم و ارشاد کا ہے جس کے مقابلے میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–18
تخلیق آدم پر ابلیس کا مکالمہ
تشریح : ان آیات کا ذکر پہلے بھی گزر چکا ہے اور ان کی عبارت بڑی عام فہم اور آسان ہے، لہٰذا صرف وہ نکات بیان کئے جائیں گے جو خاص خاص ہیں۔
-1 انسان کے رہنے، کھانے اور پینے کا بندوبست جو اللہ رب العزت نے کیا ہے لاجواب ہے۔ مگر انسان ناشکرا ہے۔
-2 انسان کی پیدائش کا معجزہ جو تمام موجودہ تحقیقات کو غلط ثابت کرتا ہے خاص طور سے ڈارون کی تھیوری کہ انسان بندر سے موجودہ شکل میں آیا ہے۔ اللہ کی قدرت کاملہ اور بےمثال طاقت کا مظاہرہ سیدنا آدم (علیہ السلام) کی پیدائش ہے۔
-3 انسان کا بلند درجہ کہ جس کی وجہ سے وہ زمین میں اللہ کا خلیفہ اور تمام مخلوقات سے افضل مخلوق بنائی گئی۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–25
رکوع نمبر 2 ۔ آیات نمبر 11 تا 25:
اسرار و معارف :
انسانی زندگی محض ایک حادثہ نہیں اور نہ نیک و بد کی آویزش محض کھیل ہے اس کا ایک پس منظر ہے جو تمہاری بھلائی کے لیے بیان کردیا جاتا ہے مقصد سامنے آجائے گا تو کامیابی اور ناکامی کا اندازہ کرنا تمہیں آسان ہوگا اب تو صرف مادی ترقی کو کمال سمجھ رہے ہو پھر جان سکو گے کہ اول ضرورت روحانی ترقی کی ہے مادی کمالات اس کے تابع ہیں اگر روحانی ارتقا سے آدمی محروم ہوجائے تو مادی انکشافات دکھوں میں اضافہ ہی کرتے ہیں ان میں سے بھی بھلائی اور بہتری کا پہلو رخصت ہوجاتا ہے۔ اصل بات یوں ہے۔
انانیت : کہ ہم نے تمہیں یعنی تمہارے جد آدم (علیہ السلام) کو اس طرح پیدا…
Read the full tafseer →ف 4 اور آگ مٹی سے افضل ہے اور افضل اپنے سے کم درجہ کو کیسے سجدہ کرسکتا ہے خواہ اس کا حکم دینے ولا اس کا پر رو دگار ہی کیوں نہ ہو۔ اس طرح گویا شیطان نے واضح حکم کی موجوگی میں عقلی قیاس سے کام لیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ دھتکارا گیا اور اس پر اللہ تعالیٰ کا غضب نازل ہوا حضرت حسن بصری (رح) نے فرمایا سب سے پہلے جس نے دین کے معاملے کو اپنی رائے سے قیاس کیا وہ ابلیس ہے یعنی اللہ تعالیٰ ن اسے آدم ( علیہ السلام) کو سجدہ کرنے کا حکم دیامگر اس نے کہا میں آدم ( علیہ السلام) سے بہتر ہوں۔ ابن سیرین نے فرمایا شرک کی بنیاد بھی قیاس ہی تھا۔ ( ابن جریر) اب بھی نصوص کے مقابلہ میں جو شخص اس طرح عقلی قیاس سے کام لے گا…
Read the full tafseer →(7:12) طین۔ گارا ۔ خاک ۔ مٹی اور پانی دونوں کا آمیزہ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–18
لغات القرآن : آیت نمبر 11 تا 18 :
صورنا ( ہم نے صورت شکل بنائی) اسجدوا (تم سجدہ کرو) ابلیس (شیطان) الا تسجد ( یہ کہ تو نے سجدہ نہیں کیا) امرت ( میں نے حکم دیا تھا) ‘ اناخیر ( میں زیادہ بہتر ہوں) خلقتنی ( تو نے مجھے پیدا کیا) نار (آگ) طین (مٹی) اھبط ( اترجا) ان تتکبر ( یہ کہ تو بڑائی کرے۔ تکبر کرے) اخرج ( تو نکل جا) الصغرین ( صاغر) ذلیل۔ رسوائی والے) انظرنی ( تو مجھے مہلت دے دے) یبعثون ( وہ اٹھائے جائیں گے) المنظرین ( مہلت دیئے گئے) ‘ اغویتنی ( تو نے مجھے گمراہ کیا) اقعدن ( میں ضرور بیٹھوں گا) ‘ اتین ( میں ضرور آؤں گا) بین ایدی (سامنے) خلف ( پیچھے) ایمان (داہنی جانب) شمائل ( بائیں جانب) لاتجدو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
مطلب یہ ہے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) علم الٰہی میں نیک قرار پائے تھے، اس لئے گیہوں کھانے کے قصور کے بعد ان کو توبہ آسان ہوگئی اور شیطان علم الٰہی میں بد قرار پا چکا تھا، اس لئے سجدہ نہ کرنے کے قصور سے اس کو توبہ آسان نہیں ہوئی، بلکہ اس نے اپنے قیاس سے اس قصور کو قصور نہیں جانا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–16
[5] جس طرح اللہ ہر شے کا آخری سبب اور بیماری، بدکاری اور زہر کا خالق ہے ابلیس کی گمراہی کا بھی آخری سبب وہی ہے۔ ابلیس نے یہاں یہی معنی لئے ہیں اور اپنی گمراہی کا ذمہ دار اللہ کو ٹھہرایا ہے جو حقیقت و صداقت کے صریحاً خلاف ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–16
(ف 2) شیطان کا یہ استدلال اس لئے صحیح نہیں کہ عزت وشرف خدا کی اطاعت وفرمانبرداری میں ہے اصل ومبنی کے لحاظ سے نہیں ،
آدم (علیہ السلام) کہ اس نے عہد الست کا جواب لبیک و بلےٰ سے دیا ، اور شیطان اس لئے راندہ درگاہ رب جلیل ہے کہ اس نے اللہ کی اطاعت سے منہ موڑا ۔
Read the full tafseer →12 اللہ تعالیٰ نے فرمایا جب میں نے تجھ کو سجدہ کرنے کا حکم دے دیا تھا اور آدم (علیہ السلام) کی تعظیم و تکریم کا امر کرچکا تھا پھر تجھے آدم (علیہ السلام) کو سجدہ کرنے سے کس نے باز رکھا اور کیا چیز تیرے لئے مانع ہوئی ابلیس نے جواب دیا میں آدم (علیہ السلام) سے بہتر ہوں تو نے مجھ کو آگ سے پیدا کیا ہے اور آدم (علیہ السلام) کو مٹی سے بنایا ہے۔ یعنی آگ مٹی سے بہتر اور روشن اور بلند ہے تو نے بہتر کو کمتر کے آگے جھکنے کا حکم دیا تھا اس لئے میں نے اس غیر معقول حکم کی تعمیل نہیں کی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–14
ف 3۔ مراد شکر سے اطاعت ہے۔
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ کا استفسار کہ اے شیطان تجھ کو سجدہ شکر ادا کرنے سے کس چیز نے روکا ؟
12: اس آیت نے کچھ لوگوں کے اس کھپت کا علاج کردیا جن کو یہ وہم ہوا کہ سجدہ کا حکم تو فرشتوں کو ہوا تھا یہ ابلیس کہاں سے آگیا ؟ پھر انہوں نے ابلیس کا رشتہ فرشتوں سے جوڑنے کے لئے طرح طرح کے حیلے تراشے اور انجام کار اس کو فرشتوں میں شامل کردیا۔ اس آیت نے یہ کہہ کر : مَا مَنَعَكَ اَلَّا تَسْجُدَ اِذْ اَمَرْتُكَ 1ؕ، یعنی تجھے کس بات نے سجدہ شکر بجا لانے سے روکا جب کہ میں نے تجھے حکم دیا تھا۔ بات صاف کردی کہ حکم دئیے جانے والوں میں وہ بھی موجود تھا۔ بلکہ یہی وہ مقام ہے جہاں سرکش طاقتوں کو فرمانبردار طاقتوں سے بالکل الگ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–18
Commentary
The event relating to Sayyidna 'Adam (علیہ السلام) and the Shaytan has appeared earlier in Section four of Surah Al-Baqarah (Ma` ariful-Qur'an, English Translation, under verse 34). Some aspects of the subject have been covered in comments given there. Answers to some others are being given here.
How Long was the Respite given to Iblis?
It was exactly at the time Iblis was under the wrath of Allah, he made a prayer, a strange prayer indeed. He asked for a lease of life until the day of Resurrection. The words in which Allah Ta` ala answered the prayer, as they appear in this…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
11. Implicit in the Qur'anic expression (sagharin) is the idea of contentment with one's disgrace and indignity, for saghir is he who invites disgrace and indignity, upon himself. Now, Satan was a victim of vanity and pride, and for that very reason defied God's command to prostrate himself before Adam. Satan was therefore, guilty of self-inflicted degradation. False pride, baseless notions of glory, ill-founded illusions of greatness failed to confer any greatness upon him. They could only bring upon him disgrace and indignity. Satan could blame none but himself for this sordid end.
Read the full tafseer →