Explained with ayahs 13–15
نافرمانی کی سزا
ابلیس کو اسی وقت حکم ملا کہ میری نافرمانی اور میری اطاعت سے رکنے کے باعث اب تو یہاں جنت میں نہیں رہ سکتا، یہاں سے اتر جا کیونکہ یہ جگہ تکبر کرنے کی نہیں۔ بعض نے کہا ہے (فیھا) کی ضمیر کا مرجع منزلت ہے یعنی جن ملکوت اعلی میں تو ہے اس مرتبے میں کوئی سرکش رہ نہیں سکتا۔ جا یہاں سے چلا جا تو اپنی سرکشی کے بدلے ذلیل و خوار ہستیوں میں شامل کردیا گیا۔ تیری ضد اور ہٹ کی یہی سزا ہے۔ اب لعین گھبرایا اور اللہ سے مہلت چاہنے لگا کہ مجھے قیامت تک کی ڈھیل دی جائے۔ چونکہ جناب باری جل جلالہ کی اس میں مصلحتیں اور حکمتیں تھیں بھلے بروں کو دنیا میں ظاہر کرنا تھا اور اپنی حجت پوری کرنا تھی اس ملعون…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
سورة الْاَعْرَاف 11
اصل میں لفظ صاغیرین استعمال ہوا ہے۔ صاغر کے معنی ہیں الراضی بالذُّل، یعنی وہ جو ذلت اور صغار اور چھوٹی حیثیت کو خود اختیار کرے۔ پس اللہ تعالیٰ کے ارشاد کا مطلب یہ تھا کہ بندہ اور مخلوق ہونے کے باوجود تیرا اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں مبتلا ہونا اور اپنے رب کے حکم سے اس بنا پر سرتابی کرنا کہ اپنی عزّت و برتری کا جو تصوّر تو نے خود قائم کرلیا ہے اس کے لحاظ سے وہ حکم تجھے اپنے لیے موجب توہین نظر آتا ہے، یہ دراصل یہ معنی رکھتا ہے کہ تو خود اپنی ذلت چاہتا ہے۔ بڑائی کا جھوٹا پندار، عزت کا بےبنیاد ادعا، اور کسی ذاتی استحقاق کے بغیر اپنے آپ کو خواہ مخواہ بزرگی کے منصب پر فائز سمجھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–18
معارف و مسائل
حضرت آدم ؑ اور شیطان کا یہ واقعہ جو یہاں مذکور ہے اس سے پہلے سورة بقرہ کے چوتھے رکوع میں بیان ہوچکا ہے، اس کے متعلقہ بہت سے تحقیق طلب امور کا بیان وہاں ہوا ہے، یہاں مزید چند امور تحقیق طلب کا جواب لکھا جاتا ہے۔
ابلیس کی دعاء قیامت تک زندگی کی قبول ہوئی یا نہیں، بصورت قبول دو آیتوں کے متعارض الفاظ کی تطبیق
ابلیس نے عین اس وقت جب کہ اس پر عتاب و عقاب ہو رہا تھا اللہ تعالیٰ سے ایک دعا مانگی اور وہ بھی عجیب دعا کہ حشر تک کی زندگی کی مہلت عطا فرما دیجئے، اس کے جواب میں جو ارشاد حق تعالیٰ نے فرمایا اس کے الفاظ اس جگہ مذکورہ آیت میں تو صرف یہ ہیں (آیت) انک من المنظرین، ”یعنی تجھ کو…
Read the full tafseer →قَالَ فَاهْبِطْ مِنْهَا فَمَا يَكُوْنُ لَكَ اَنْ تَتَكَبَّرَ فِيْهَا الایہ ،۔ تکبر شرک ہے :۔ جانتے بوجھتے خدا کے حکم سے سرکشی تکبر ہے جو اس تکبر میں مبتلا ہوتا ہے وہ اپنے آپ کو خدا سے بڑا یا اس کا ہم سر ٹھہراتا ہے جو صریحاً شرک ہے۔ کبریائی صرف خدا کے لیے زیبا ہے جو اس میں حصہ بٹانے کے مدعی بنتے ہیں ان پر خدا کی طرف سے ذلت کی مار پڑتی ہے۔ متکبر کے لیے خدا کی بہشت میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ بہشت صرف خاشعین و عابدین کی جگہ ہے اس وجہ سے ابلیس کو وہاں سے نکلنے کا حکم ہوا اور اس کے تکبر کے جرم میں اس کو دائمی ذلت کی سزا دی گئی۔ آگے اسی طرح کے متکبرین کے بارے میں فرمایا ہے کہ جس طرح اونٹ سوئی کے ناکے میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
13۔ 1 مِنْھَا کی ضمیر کا مرجع اکثر مفسرین نے جنت قرار دیا اور بعض نے اس مرتبہ کو جو ملکوت اعلٰی میں اسے حاصل تھا۔ فاضل مترجم نے اسی دوسرے مفہوم کے مطابق آسان ترجمہ کیا ہے۔ نکل بیشک تو ذلیلوں میں سے ہے (2)
13۔ 2 اللہ کے حکم کے مقابلے میں تکبر کرنے والا احترام و تعظیم کا نہیں، ذلت اور خواری کا مستحق ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–14
3: اس واقعے کی کچھ تفصیلات سورة بقرہ (34:2 تا 39) میں گذری ہیں۔ ان آیتون پر جو حواشی ہم نے لکھے ہیں، ان میں واقعے سے متعلق کئی سوالات کا جواب آگیا ہے۔ انہیں ملاحظہ فرما لیا جائے۔
Read the full tafseer →آیت ” قَالَ فَاہْبِطْ مِنْہَا فَمَا یَکُونُ لَکَ أَن تَتَکَبَّرَ فِیْہَا فَاخْرُجْ إِنَّکَ مِنَ الصَّاغِرِیْنَ (13)
” فرمایا : ” اچھا “ تو یہاں سے نیچے اتر تجھے حق نہیں ہے کہ یہاں بڑائی کا گھمنڈ کرے ۔ نکل جا کہ درحقیقت تو ان لوگوں میں سے ہے جو خود اپنی ذلت چاہتے ہیں ۔ “
یہاں اب اس کا علم اس کے لئے نفع بخش نہیں رہا ‘ وہ اللہ کی ذات وصفات سے خوف واقف ہے ۔ لیکن یہ علم اس کے لئے نفع بخش نہیں ہے ۔ یہی حال ہر اس شخص کا ہوگا جس تک اللہ کا حکم پہنچ جاتا ہے اور اس کے بعد وہ پھر اپنی فکر ونظر کے گھوڑے دوڑاتا ہے اور خود فیصلہ کرتا ہے کہ وہ اسے قبول کرے یا نہ کرے ۔ ایک مسئلہ اس کے سامنے ہے جس کا فیصلہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–13
1 یعنی تمہاری تخلیق سے پہلے رہنے سہنے اور کھانے پینے کا سامان کیا۔ پھر تمہارا مادہ پیدا فرمایا۔ پھر اس مادہ کو ایسا دلکش نقشہ اور حسین و جمیل صورت عطا کی جو کسی دوسری مخلوق کو عطا نہ کی گئی تھی۔ پھر اس تصویر خاکی کو وہ روح اور حقیقت مرحمت ہوئی جس کی بدولت تمہارے باپ آدم (علیہ السلام) جن کا وجود تمام افراد انسانی کے وجود پر اجمالاً مشتمل تھا۔ " خلیفتہ اللہ " و " مسجود ملائکہ " بنے۔ پھر جس نے اس وقت سجود تعظیمی سے سرتابی کی وہ مردود ازلی ٹھہرا کیونکہ وہ سجود خلافت الہٰیہ کے نشان کے طور پر تھا " ملائیکۃ اللہ " جو بحث و تمحیص اور صریح امتحان کے بعد آدم کی علمی فضیلت اور روحانی کمالات پر مطلع…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–15
قَالَ اَنَا خَیْرٌ مِّنْہُ ج خَلَقْتَنِیْ مِنْ نَّارٍ وَّخَلَقْتَہٗ مِنْ طِیْنٍ
اس نے اپنے استکبار کی بنیاد پر ایسا کہا۔ یہاں اس کا جو قول نقل کیا گیا ہے اس کے ایک ایک لفظ سے تکبر جھلکتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
12 حقیقتاً ابلیس کے تین قصور تھے ایک اللہ کے حکم کو نہ مانا، دوسرے فرشتوں کی جس جماعت میں وہ رہتا تھا سجدہ کرتے وقت وہ اس جماعت سے الگ ہوا تیسرے اس نافرمانی پر نادم ہونے کی بجائے تکبر کیا، خود کو بڑا سمجھا اور سیدنا آدم (علیہ السلام) کو حقیر سمجھا لہذا اس پر اللہ کی لعنت و پھٹکار ہوئی اور ذلیل و خوار ہوا اور یہ لعنت و پھٹکار ہمیشہ کے لیے اس کا مقدر ہوگئی۔
Read the full tafseer →16 ۔ یعنی یہ جگہ تو خاشعین اور فرمانبرداروں کے لیے ہے، تجھ بڑائی ہانکنے والے کا یہاں کیا کام، تو نکل یہاں سے حقیر و خوار ہوکر۔ (آیت) ” انک من الصغرین “۔ فقہاء ومفسرین نے اس سے یہ نکالا ہے کہ معصیت ونافرمانی میں بندہ کی ذلت ہے۔ دل ھذا ان من عصی مولاہ فھو ذلیل “ (قرطبی) (آیت) ” فاھبط منھا “۔ یہ نکلنے اور نیچے اترنے کا حکم کہاں سے ہورہا ہے ؟ ہبوط آسمان سے زمین کی طرف بھی مراد ہوسکتا ہے۔ قیل من السماء الی الارض (معالم) ای من السماء (قرطبی) لیکن اکثر نے ضمیر ھا جنت کی جانب سمجھی ہے۔ ؛ اور قول اصح یہی ہے کہ حکم جنت سے نکل جانے کا مل رہا ہے۔ قال کثیر من المفسرین عائد الی الجنۃ (ابن کثیر) ۔ ای من…
Read the full tafseer →قال فاھبط منھا، منھا کی ضمیر کا مرجع اکثر مفسرین نے جنت کو قرار دیا ہے اور بعض نے اس مرتبہ کو جو ملکوے اعلی میں سے حاصل تھا مطلب یہ ہے کہ اللہ کے حکم کے مقابلہ میں تکبر کرنے والا احترام و تعظیم کا نہیں ذلت و خواری کا مستحق ہے۔
Read the full tafseer →قال فاہبط منہا پس اللہ نے (ابلیس سے) فرمایا یہاں (یعنی جنت یا آسمان سے) اتر جا۔ یعنی جب تو مغرور ہے تو اتر جا یہ جگہ اہل تواضع اور اطاعت شعار بندوں کی ہے۔
فما یکون لک ان تتکبر فیہا ہو نہیں سکتا کہ آسمان میں رہ کر تو تکبر کرے یعنی تیرے لئے آسمان میں رہ کر تکبر جائز نہیں۔ اس جملہ میں اس امر پر تنبیہ ہے کہ اہل جنت کے لئے تکبر زیبا نہیں۔ کبریائی تو اللہ ہی کے لئے ہے ابلیس تکبر کی وجہ سے ہی راندۂ درگاہ ہوا اور آسمان سے نکالا گیا۔ حضرت ابن مسعود ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس کے دل میں رائی کے دانہ کے برابر بڑائی ہوگی جنت میں نہیں جائے گا۔ رواہ مسلم۔ مسلم کی دوسری روایت میں اس کے بعد یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–15
(13۔ 14۔ 15) اللہ تعالیٰ نے اس سے فرمایا، آسمان سے اتر جا اور یہ کہ فرشتوں کی شکل و صورت سے خارج ہوجا، اب تجھے فرشتوں کا لباس پہن کر انسانوں پر تکبر کرنے کا کوئی حق حاصل نہیں، تو فرشتوں کے لباس سے نکل جا اور یہاں سے دور ہوجا، تو اپنے تکبر کی وجہ سے ذلیلوں میں شمار ہوگیا، شیطان کہنے لگا کہ قیامت تک مجھے موت سے مہلت دیجیے، ارشاد ہوا کہ صور پھونکے جانے تک تجھ کو موت سے مہلت دی گئی ،
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
فَمَا يَكُوْنُ لَكَ اَنْ تَتَكَبَّرَ فِيْهَا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ کبریائی (بڑائی) میری رداء (اوپر کی چادر) اور عزت میری ازار (نیچے کی چادر) ہے جو ان میں سے ایک بھی مجھ سے چھیننے کی کوشش کرے گا میں اسے آگ میں پھینکوں گا۔“ [ مسلم، البر والصلۃ، باب تحریم الکبر : 2620، عن أبی ہریرہ ] یعنی تکبر کے بعد جنت میں رہنے کا شرف تیرے پاس رہنا ممکن ہی نہیں۔ یہی حال ہر تکبر اور غرور والے کا ہوگا۔
Read the full tafseer →قولہ تعالیٰ : آیت : قال فاھبط منھا یعنی فرمایا : تو آسمان سے اتر جا۔ آیت : فما یکون لک ان تتکبر فیھا کیونکہ اس کے باسی تواضع اور انکساری کرنے والے فرشتے ہیں۔ آیت : فاخرض انک من الصغرین پس تو نکل جا بلاشبہ تو ذلیلوں میں سے ہے۔ اور یہ اس ل پر دلیل ہے کہ جس نے اپنے مولی کی نافرمانی کی تو وہ ذلیل ہے۔
ابو روق اور بجلی نے کہا : آیت : فاھبط منھا یعنی تو اپنی اس صورت سے الگ ہوجا جس میں تو ہے، کیونکہ اس نے اس پر فخر کیا کہ وہ آگ سے ہے پس اس کی صورت تاریکیوں کے ساتھ اور اس کی چمک اور روشنی کے زوال کے ساتھ بدشکل ہوگئی۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : آیت : فاھبط منھا یعنی تو زمین سے سمندروں کے جزیروں کی طرف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–15
(1) امام ابو الشیخ نے سدی (رح) سے روایت فرمائی لفظ آیت ” فما یکون لک ان تتکبر فیہا “ یعنی تیرے لئے یہ لائق نہیں تھا کہ تو اس میں تکبر کرتا۔
Read the full tafseer →قَالَ [ (اللہ نے ) کہا ] فَاهْبِطْ [ پس تو نیچے اتر ] مِنْهَا [ اس سے ] فَمَا يَكُوْنُ [ تو نہیں ہے ] لَكَ [ تیرے لئے ] اَنْ [ کہ ] تَتَكَبَّرَ [ تو بڑا بنے ] فِيْهَا [ اس میں ] فَاخْرُجْ [ پس تو نکل ] اِنَّكَ [ یقینا تو ] مِنَ الصّٰغِرِيْنَ [ حقیر ہونے والوں میں سے ہے ]
(آیت ۔ 13) فاھبط منھا میں اور آگے فیھا میں ھا کی ضمیریں جنت کے لیے ہیں ۔ حالانکہ ان آیات میں جنت کا ذکر نہیں ہے لیکن قرآن کے دوسرے مقامات کے مطالعہ سے قرآن کے قاری کے لیے یہ بات معروف ہوجاتی ہے کہ یہ واقعہ جنت کا ہے۔ اس لیے جنت کا ذکر کیے بغیر یہاں اس کے لیے ضمیر استعمال کی گئی ہے ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
ابلیس کا نکالا جانا :
ابلیس کو اس کی انا (میں) لے ڈوبی۔ اگر وہ واقعتہً آدم (علیہ السلام) سے افضل ہوتا تب بھی احکم الحاکمین کا حکم بجا لانا ضروری تھا۔ لیکن اللہ کے حکم کو غلط قرار دیا اور حجت بازی پر اترآیا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا (فَاھْبِطْ مِنْھَا فَمَا یَکُوْنُ لَکَ اَنْ تَتَکَبَّرَ فِیْھَا) (تو یہاں سے اتر جا تیرے لیے یہ درست نہیں تھا کہ تو اس میں تکبر کرے) (فَاخْرُجْ اِنَّکَ مِنَ الصّٰغِرِیْنَ ) (تو نکل جا بیشک تو ذلیلوں میں سے ہے) مِنْھَا اور فِیْھَا کی ضمیر کس طرف راجع ہے اس کے بارے میں صاحب روح المعانی (ج 8 ص 90) لکھتے ہیں کہ ضمیر جنت کی طرف راجع ہے اور ابلیس پہلے سے وہاں رہتا تھا پھر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–18
قال اللہ تعالیٰ ۔ المص۔ کتاب انزل الیک۔۔۔ الی۔۔۔ بما کانو بایاتنا یظلمون
(ربط) گذشتہ سورت کے آخری رکوع میں قرآن مجید کے اتباع کا حکم اور اس کی ترغیب تھی اور اس سے انحراف اور اعراض پر نزول عذاب کی وعید تھی اور اسی بناء پر گزشتہ سورت کے آخری رکوع کو ان ربک سریع العقاب وانہ لغفور رحیم پر ختم فرمایا اب اس سورت کے آغاز میں قرآن مجید کے اتباع کا حکم دیتے ہیں اور گزشتہ امتوں کے منکرین حق اور مکذبین حق کی ہلاکت اور بربادی کا ذکر کرتے ہیں تاکہ منکرین قرآن اس سے عبرت پکڑیں۔ چناچہ فرماتے ہیں۔ المص سورة بقرہ کے شروع ہی میں اس قسم کے حروف مقطعات کے متعلق مفسرین کے اقوال بسط اور تفصیل کے ساستھ گزر چکے ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–15
10: یہ دوسرے دعوے کی تمہید ہے جو اس پورے رکوع میں ذکر کی گئی ہے۔ اس میں حضرت آدم (علیہ السلام) کے سامنے فرشتوں کو سجدہ کرنے کا حکم، ابلیس کی نافرمانی اس کے ملعون و مطرود ہونے اور آدم و حواعلیہما السلام سے اس کی عداوت اور اس کی وجہ سے جنت میں ان کے برہنہ ہوجانے کا ذکر کیا گیا ہے۔ “ ثُمَّ قُلْنَا الخ ”“ ثُمَّ ” یہاں تعقیب ذکری کے لیے ہے ورنہ ماقبل سے مرتبط نہیں ہوسکے گا۔ کیونکہ آدم (علیہ السلام) کو سجدہ کرنے کا حکم اولاد آدم کی پیدائش سے پہلے ہوا تھا۔ مطلب یہ ہے کہ یہ واقعہ بھی اس کے بعد بیان کرو۔ لہذا اس سے یہ مطلب نکالنا کہ حضرت آدم (علیہ السلام) سے پہلے بھی دنیا میں انسان موجود تھے۔ سراسر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–13
ربط آیات
سورۃ کی ابتداء میں اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کے نزول اور اس کی اشاعت کا تذکرہ کیا اور منکرین کو اس دنیا اور آخرت کے انجام سے آگاہ کیا پھر گزشتہ درس میں انسانی اعمال کی حفاظت اور آخرت میں ان کے وزن کا بیان آیا اور اس کے نتیجے میں نجات یا خسارے کا ذکر بھی اللہ تعالیٰ نے فرمایا پھر اللہ نے ان دو عظیم نعمتوں کا ذکر کیا جو اس نے انسان کو عطا فرمائی ہیں یعنی زمین میں اقتدار اور معیشت کے سامان ، مگر بطورشکوہ یہ بھی بیان فرمایا کہ اکثر لوگ ان نعمتوں کی ناقدری کرتے ہیں اور ان کا غلط استعمال کرتے ہیں اور بالآخر ناکام رہتے ہیں اللہ نے فرمایا کہ بہت قلیل لوگ ہیں جو ان نعمتوں کا حق ادا کرتے…
Read the full tafseer →قَالَ فَاہْبِطْ مِنْہَا فَمَا يَكُوْنُ لَكَ اَنْ تَتَكَبَّرَ فِيْہَا فَاخْرُجْ اِنَّكَ مِنَ الصّٰغِرِيْنَ 13
هبط
الهُبُوط : الانحدار علی سبیل القهر كهبوط الحجر، والهَبُوط بالفتح : المنحدر . يقال :
هَبَطْتُ أنا، وهَبَطْتُ غيري، يكون اللازم والمتعدّي علی لفظ واحد . قال تعالی: وَإِنَّ مِنْها لَما يَهْبِطُ مِنْ خَشْيَةِ اللَّهِ [ البقرة/ 74] يقال : هَبَطْتُ وهَبَطْتُهُ هَبْطاً ، وإذا استعمل في الإنسان الهُبُوط فعلی سبیل الاستخفاف بخلاف الإنزال، فإنّ الإنزال ذكره تعالیٰ في الأشياء التي نبّه علی شرفها، كإنزال الملائكة والقرآن والمطر وغیر ذلك . والهَبُوطُ ذکر حيث نبّه علی الغضّ نحو : وَقُلْنَا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–13
ترکیب : معایش مفعول جعلنا جمع معیشۃ۔ ان لا لا زائدہ اور من جار حذف یہ مفعول ثانی ہے منع کا یا موضع حال میں اذ ظرف ہے تسجد کا منہا اے من الجنۃ وقیل من السموات فبماب قسم کے لئے ما مصدریہ لا قعدن جواب قسم۔
تفسیر : پہلے اس سے لوگوں کو انبیاء کی فرمانبرداری کا حکم دیا تھا اور مخالفت میں عذاب دنیوی سے بقولہ وکم قریۃ اھلکناھا اور آخرت کے عذاب سے سوال و وزن کرنے سے ڈرایا تھا۔ انسان کی جبلی عادت ہے کہ وہ خوف اور نعماء و احسانات سے مسخر و مطیع ہوتا ہے۔ اس لئے خوف مضرت دارین کے بعد بنی آدم پر ان کے بزرگ و جد امجد حضرت آدم (علیہ السلام) پر جو کچھ انعام و احسان کئے ہیں ان کو یاد دلاتا ہے اور لطف یہ ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–22
وَلَقَدْ خَلَقْنٰکُمْ ثُمَّ صَوَّرْنٰکُمْ ثُمَّ قُلْنَا لِلْمَلٰٓئِکَۃِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ صلے ق فَسَجَدُوْٓا اِلَّا اِبْلِیْسَ ط لَمْ یَکُنْ مِّنَ السّٰجِدِیْنَ ۔ (الاعراف : 11)
” اور ہم نے تمہارا خاکہ بنایا پھر تمہاری صورت گری کی پھر فرشتوں کو فرمایا کہ آدم کو سجدہ کرو سب نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے وہ سجدہ کرنے والوں میں شامل نہ ہوا “۔
تخلیقِ انسان کا اسلامی نقطہ نگاہ اور اس کی وضاحت
سب سے پہلے آیت کے بعض الفاظ پر غور فرمایئے۔ سب سے پہلے فرمایا خَلَقْنٰکُمْ اور پھر فرمایا صَوَّرْنٰکُمْ ۔ بات اصل میں یہ ہے کہ جب خَلَقَ کا لفظ اکیلا استعمال ہوتا ہے تو یہ اپنے لوازم سمیت استعمال ہوتا ہے یعنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
فہم القرآن
ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ۔
سجدہ کا حکم ہوتے ہی تمام ملائکہ آدم (علیہ السلام) کے حضور سر بسجود ہوئے لیکن شیطان نے حضرت آدم (علیہ السلام) کا احترام و مقام دیکھ کر حسد اور تکبر کی وجہ سے سجدہ ریز ہونے سے نہ صرف انکار کیا بلکہ وہ جرم پر جرم اور گستاخی پر گستاخی کرتا چلا گیا۔ اس جگہ اجمال ہے جبکہ دوسرے مقامات پر شیطان کے انکار کی تفصیلات یوں بیان کی گئی ہیں۔
( وَ اِذْ قُلْنَا لِلْمَلآءِکَۃِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْٓا اِلَّآ اِبْلِیْسَ ط قَالَ ءَ اَسْجُدُ لِمَنْ خَلَقْتَ طِیْنًا)[ الاسراء : 61]
” اور جب ہم نے فرشتوں سے کہا آدم کو سجدہ کرو ابلیس کے علاوہ سب نے سجدہ کیا اور اس نے…
Read the full tafseer →آیت 13: قَالَ فَاھْبِطْ مِنْھَا (اللہ تعالیٰ نے فرمایا تو یہاں سے اترجا) جنت سے یا آسمان سے کیونکہ وہ آسمان میں تھا اور وہ متواضع اور مطیع لوگوں کا مقام ہے فاھبط کی فاؔ، انا خیر کے جواب میں ہے ای ان کنت تتکبر فاھبط۔ اگر تو تکبر کرتا ہے تو اتر جا۔ فَمَا یَکُوْنُ لَکَ (تجھ کو حق نہیں) تیرے لیے صحیح نہیں۔
ذلت لازمہ تکبر ہے :
اَنْ تَتَکَبَّرَ فِیْھَا (کہ تو یہاں رہ کر تکبر کرے) کہ تو نافرمانی کرے۔ فَاخْرُجْ اِنَّکَ مِنَ الصّٰغِرِیْنَ (پس نکل بیشک تو ذلیلوں میں شمار ہونے لگا) اہل ذلت تو اللہ تعالیٰ اور ان کے دوستوں کے ہاں ذلت و رسوائی والوں میں سے ہے۔ ہر انسان تیری مذمت کرے گا۔ اور تکبر کی بنیاد…
Read the full tafseer →تفسیر (13) (قال فاھبط منھا) جنت سے ۔ بعض نے کہا آسمان سے زمین کی طرف اتر۔ پھر اس کو زمین سے سمندر کے جزیروں کی طرف نکال دیا اس کا تخت سبز سمندر میں ہے اب وہ زمین میں ڈرتے ہوئے چپکے سے چور کی طرح داخل ہوتا ہے اس بوڑھے کی طرح جس پر پرانے کپڑے ہوں جن میں لوٹ رہا ہو، یہاں تک کہ اس سے نکل جائے۔ (فما یکون لک ان تنکبر فیھا فاخرج انک من الصغرین) امر کی مخالفت کر کے یہاں جنت میں اور یہ مناسب نہیں کہ جنت اور آسمان میں متکبر، اللہ کے امر کی مخالفت کرنے والا رہے۔ ذلیل اور گھٹیا لوگوں میں سے ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–16
(13 ۔ 16) ۔ جب شیطان نے بموجب حکم خدا کے حضرت آدم کو سجدہ نہ کیا اور اپنے آپ کو بہتر اور بڑا جانا تو خدا تعالیٰ نے اس کو ذلیل و خوار کر کے جنت سے نکال دیا اور فرمایا کہ جنت میں رہ کر تجھ کو تکبر کرنا نہیں پہنچتا کیونکہ جنت فرمانبرداروں کی جگہ ہے نافرمانوں کی جگہ نہیں ہے اس لئے تو اس سے نکل اور زمین پر اتر جا کہ تیرے تکبر کی یہی سزا ہے اس وقت شیطان نے سوچ کر اپنے لئے قیامت تک جیتے رہنے کی مہلت مانگی خدا تعالیٰ نے اس کو پہلے صورت کی مہلت دی تاکہ شیطان کے بہکانے کے بعد فرمانبردار اور نافرمان بندے پہچانے جاویں مہلت مل جانے کے بعد شیطان نے سرکشی سے کہا کہ جس طرح میں گمراہ ہوا اسی طرح میں تیرے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–16
آیت 11
اللہ تبارک و تعالیٰ بنی آدم سے مخاطب ہو کر فرماتا ہے : (ولقد خلقنکم) ” اور ہم نے تمہیں پیدا کیا “ یعنی تمہارے جد امجد آدم کی اصل اور اس کے مادے کی تخلیق کی، جس سے تم سب پیدا کئے گئے (ثم صورنکم) ” پھر تمہاری صورت شکل بنائی۔ “ پھر ہم نے تمہیں بہترین صورت اور بہترین قامت عطا کی۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے آدم کو تمام چیزوں کے نام سکھائے جس سے اس کی باطنی صورت کی تکمیل ہوئی، پھر باعزت فرشتوں کو حکم دیا کہ وہ آدم کے اکرام و احترام اور اس کی فضیلت کے اعتراف کے طور پر اسے سجدہ کریں۔ چناچہ انہوں نے اپنے رب کے حکم کی تعمیل کی (فسجدوآ) ” پس انہوں نے سجدہ کیا۔ “ یعنی تمام فرشتوں نے سجدہ کیا (الا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–16
پیروی قرآن
قول باری ہے اتبعواماانزل الیکم من ربکم۔ لوگوں جو کچھ تمہارے رب کی طرف سے تم پر نازل کیا گیا ہے اس کی پیروی کرو) اس کا مفہوم یہ ہے کہ بندوں کے تمام تصرفات کا دائرہ اللہ کے حکم کی مراد تک محدود ہو یعنی اس کے حکم کی جو مراد ہو اس کے بندے اس کے مطابق عمل کریں۔ یہ اہتمام یعنی اقتداء کی نظیر ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ کے حکم کی مراد کی اتباع اور اس پر عمل میں اس کی اس طرح اقتداء کی جائے کہ وہ اس کے دائرہ تدبیر سے خارج نہ ہو۔ اگر یہ کہا جائے کہ آیا مباح پر عمل کرنے والا اللہ کے حکم کا متبع ہوتا ہے ؟ تو اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ ایسا شخص اس وقت اللہ کے حکم کا متبع ہوتا ہے جب وہ اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
17 اللہ کے حکم سے سرتابی باعث ذلت و خواری ۔ والعیاذ باللہ : سو اس گستاخی اور بدتمیزی پر ابلیس کو حکم ہوا کہ نکل جا یہاں سے کہ تو ذلیلوں میں سے ہے کہ حق تعالیٰ کے حکم سے سرتابی کا نتیجہ یہی ہوتا ہے کہ اس سے سرتابی کرنے والا ذلیل و خوار اور خائب و خاسر ہوجاتا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو اس لعین نے تو اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں مبتلا ہو کر حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کے حکم سے سرتابی کی تھی لیکن اس سے وہ ہمیشہ ہمیش کیلئے ذلیل و خوار اور مردود و مطرود ہوگیا۔ سو یہی نتیجہ و انجام ہوتا ہے اپنی بڑائی کے گھمنڈ کا۔ جیسا کہ بعض روایات میں وارد ہوا کہ اللہ تعالیٰ متکبروں کو قیامت کے روز سب سے زیادہ حقیر صورتوں میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–18
تخلیق آدم پر ابلیس کا مکالمہ
تشریح : ان آیات کا ذکر پہلے بھی گزر چکا ہے اور ان کی عبارت بڑی عام فہم اور آسان ہے، لہٰذا صرف وہ نکات بیان کئے جائیں گے جو خاص خاص ہیں۔
-1 انسان کے رہنے، کھانے اور پینے کا بندوبست جو اللہ رب العزت نے کیا ہے لاجواب ہے۔ مگر انسان ناشکرا ہے۔
-2 انسان کی پیدائش کا معجزہ جو تمام موجودہ تحقیقات کو غلط ثابت کرتا ہے خاص طور سے ڈارون کی تھیوری کہ انسان بندر سے موجودہ شکل میں آیا ہے۔ اللہ کی قدرت کاملہ اور بےمثال طاقت کا مظاہرہ سیدنا آدم (علیہ السلام) کی پیدائش ہے۔
-3 انسان کا بلند درجہ کہ جس کی وجہ سے وہ زمین میں اللہ کا خلیفہ اور تمام مخلوقات سے افضل مخلوق بنائی گئی۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–25
رکوع نمبر 2 ۔ آیات نمبر 11 تا 25:
اسرار و معارف :
انسانی زندگی محض ایک حادثہ نہیں اور نہ نیک و بد کی آویزش محض کھیل ہے اس کا ایک پس منظر ہے جو تمہاری بھلائی کے لیے بیان کردیا جاتا ہے مقصد سامنے آجائے گا تو کامیابی اور ناکامی کا اندازہ کرنا تمہیں آسان ہوگا اب تو صرف مادی ترقی کو کمال سمجھ رہے ہو پھر جان سکو گے کہ اول ضرورت روحانی ترقی کی ہے مادی کمالات اس کے تابع ہیں اگر روحانی ارتقا سے آدمی محروم ہوجائے تو مادی انکشافات دکھوں میں اضافہ ہی کرتے ہیں ان میں سے بھی بھلائی اور بہتری کا پہلو رخصت ہوجاتا ہے۔ اصل بات یوں ہے۔
انانیت : کہ ہم نے تمہیں یعنی تمہارے جد آدم (علیہ السلام) کو اس طرح پیدا…
Read the full tafseer →ف 5 جو بھی غرور تکبر سے کام لے گا وہ ذلیل و خوار ہوگا۔
Read the full tafseer →(7:13) فاہبط منھا۔ امر واحد مذکر حاضر ۔ تو اترجا ۔ ھبط یھبط (ضرب) اترنا۔ ھبوط۔ مصدر ۔ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب۔ اس سے مراد یا تو جنت ہے یا آسمان سے زمین کی طرف مراد ہے ہبوط۔ بلندی سے پستی کی طرف ذلت و خواری کی صورت میں نیچے آنے کو کہتے ہیں۔ یہاں یہ بھی مطلب ہوسکتا ہے کہ ہماری بارگاہ سے دفع ہوجاؤ۔
فما یکون لک۔ یہ تیرے لئے درست نہیں ہے۔ تجھ کو کوئی حق حاصل نہیں ہے۔ ان تتکبرفیہا کہ تو تکبر و غرور کرے اس جگہ۔ (جنت یا سمار یا بارگاہ خداوندی میں) یعنی تیرا کوئی حق نہیں کہ تکبر کرے اور پھر بھی تو یہاں رہے۔
الصغرین۔ ذلیل۔ بےعزت لوگ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–18
لغات القرآن : آیت نمبر 11 تا 18 :
صورنا ( ہم نے صورت شکل بنائی) اسجدوا (تم سجدہ کرو) ابلیس (شیطان) الا تسجد ( یہ کہ تو نے سجدہ نہیں کیا) امرت ( میں نے حکم دیا تھا) ‘ اناخیر ( میں زیادہ بہتر ہوں) خلقتنی ( تو نے مجھے پیدا کیا) نار (آگ) طین (مٹی) اھبط ( اترجا) ان تتکبر ( یہ کہ تو بڑائی کرے۔ تکبر کرے) اخرج ( تو نکل جا) الصغرین ( صاغر) ذلیل۔ رسوائی والے) انظرنی ( تو مجھے مہلت دے دے) یبعثون ( وہ اٹھائے جائیں گے) المنظرین ( مہلت دیئے گئے) ‘ اغویتنی ( تو نے مجھے گمراہ کیا) اقعدن ( میں ضرور بیٹھوں گا) ‘ اتین ( میں ضرور آؤں گا) بین ایدی (سامنے) خلف ( پیچھے) ایمان (داہنی جانب) شمائل ( بائیں جانب) لاتجدو…
Read the full tafseer →شیطان کا حملہ کرنا اور اللہ تعالیٰ کا کرم کرنا
جب شیطان نے بموجب حکم خدا کے حضرت آدم (علیہ السلام) کو سجدہ نہیں کیا تو خدا تعالیٰ نے اس کو ذلیل و خوار کر کے جنت سے نکال دیا اور فرمایا کہ جنت میں رہ کر تجھ کو تکبر کرنا نہیں پہنچتا، کیونکہ جنت فرمانبرداروں کی جگہ ہے، نافرمانوں کی جگہ نہیں ہے۔ اس وقت شیطان نے سوچ کر اپنے لئے قیامت تک جیتے رہنے کی مہلت مانگی۔ اللہ تعالیٰ نے اس کو پہلے صور تک کی مہلت دی تاکہ شیطان کے بہکانے کے بعد فرمانبردار اور نافرمان بندے پہچانے جاویں۔ مہلت مل جانے کے بعد شیطان نے سرکشی سے کہا کہ جس طرح میں گمراہ ہوا، اسی طرح میں تیرے بندوں کو جو حضرت آدم (علیہ السلام) کی نسل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–16
[5] جس طرح اللہ ہر شے کا آخری سبب اور بیماری، بدکاری اور زہر کا خالق ہے ابلیس کی گمراہی کا بھی آخری سبب وہی ہے۔ ابلیس نے یہاں یہی معنی لئے ہیں اور اپنی گمراہی کا ذمہ دار اللہ کو ٹھہرایا ہے جو حقیقت و صداقت کے صریحاً خلاف ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–16
(ف 2) شیطان کا یہ استدلال اس لئے صحیح نہیں کہ عزت وشرف خدا کی اطاعت وفرمانبرداری میں ہے اصل ومبنی کے لحاظ سے نہیں ،
آدم (علیہ السلام) کہ اس نے عہد الست کا جواب لبیک و بلےٰ سے دیا ، اور شیطان اس لئے راندہ درگاہ رب جلیل ہے کہ اس نے اللہ کی اطاعت سے منہ موڑا ۔
Read the full tafseer →13 اللہ تعالیٰ نے فرمایا جا یہاں سے نیچے اتر جا تجھ کو کوئی حق نہیں اور تیرے لئے اس امر کی بالکل گنجائش نہیں کہ تو یہاں رہ کر تکبر کرے لہٰذا یہاں سے نکل جا یقیناً تو ذلیلوں میں سے ہے اور تیرا شمار ذلیلوں میں ہونے لگا یعنی اس ادعا کے اور اظہار تکبر کے بعد تو عالم بالا کی مخلوق کے ہمراہ نہیں رہ سکتا اس عالم بالا سے مراد ظاہر تو یہی ہے کہ آسمان مراد ہیں اور ہوسکتا ہے کہ جنت ہو اللہ تعالیٰ کے حکم پر اعتراض کرنے اور تکبر کے ارتکاب کے بعد تیرا شمار ذلیل لوگوں میں ہوگیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–14
ف 3۔ مراد شکر سے اطاعت ہے۔
Read the full tafseer →یہاں سے نکل جا کہ تو یہاں رہنے کے قابل نہیں تیرا شمار ذلیلوں میں ہے :
13: ” یہاں سے نکل جا “ فَاہْبِطْ مِنْهَا ، کہاں سے نکل جا ؟ کسی نے کہا آسمان سے دور ہو ، کسی نے کہا ملائکہ سے نکل جا۔ آسمان کا تو اوپر کہیں دور دور تک ذکر موجود نہیں ہاں ! فرشتوں کا ذکر ضرور ہے لیکن شیطان یعنی ابلیس فرشتوں میں سے نہیں تھا بلکہ ” كَانَ مِنَ الْجِنِّ “ (الکہف 18 : 50) وہ تو تھا ہی جنوں سے۔ زیر نظر آیت میں قریب تو ذکر اس کا اپنی فضیلت کو پیش کرنا یا اپنی فضیلت ظاہر کرنا ہے اس لئے اس مبوط کا حکم بھی اس کو اس حالت ہی سے نکلنے سے ہے کہ تو نے اپنے آپ کو ” اَنَا خَیْرٌ مِّنْهُ 1ۚ “ کہا ہے تو اس حالت سے نکل جا اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–18
Commentary
The event relating to Sayyidna 'Adam (علیہ السلام) and the Shaytan has appeared earlier in Section four of Surah Al-Baqarah (Ma` ariful-Qur'an, English Translation, under verse 34). Some aspects of the subject have been covered in comments given there. Answers to some others are being given here.
How Long was the Respite given to Iblis?
It was exactly at the time Iblis was under the wrath of Allah, he made a prayer, a strange prayer indeed. He asked for a lease of life until the day of Resurrection. The words in which Allah Ta` ala answered the prayer, as they appear in this…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
11. Implicit in the Qur'anic expression (sagharin) is the idea of contentment with one's disgrace and indignity, for saghir is he who invites disgrace and indignity, upon himself. Now, Satan was a victim of vanity and pride, and for that very reason defied God's command to prostrate himself before Adam. Satan was therefore, guilty of self-inflicted degradation. False pride, baseless notions of glory, ill-founded illusions of greatness failed to confer any greatness upon him. They could only bring upon him disgrace and indignity. Satan could blame none but himself for this sordid end.
Read the full tafseer →