Explained with ayahs 13–15
نافرمانی کی سزا
ابلیس کو اسی وقت حکم ملا کہ میری نافرمانی اور میری اطاعت سے رکنے کے باعث اب تو یہاں جنت میں نہیں رہ سکتا، یہاں سے اتر جا کیونکہ یہ جگہ تکبر کرنے کی نہیں۔ بعض نے کہا ہے (فیھا) کی ضمیر کا مرجع منزلت ہے یعنی جن ملکوت اعلی میں تو ہے اس مرتبے میں کوئی سرکش رہ نہیں سکتا۔ جا یہاں سے چلا جا تو اپنی سرکشی کے بدلے ذلیل و خوار ہستیوں میں شامل کردیا گیا۔ تیری ضد اور ہٹ کی یہی سزا ہے۔ اب لعین گھبرایا اور اللہ سے مہلت چاہنے لگا کہ مجھے قیامت تک کی ڈھیل دی جائے۔ چونکہ جناب باری جل جلالہ کی اس میں مصلحتیں اور حکمتیں تھیں بھلے بروں کو دنیا میں ظاہر کرنا تھا اور اپنی حجت پوری کرنا تھی اس ملعون…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–17
سورة الْاَعْرَاف 12
یہ وہ چیلنج تھا جو ابلیس نے خدا کو دیا۔ اس کے کہنے کا مطلب یہ تھا کہ یہ مہلت جو آپ نے مجھے قیامت تک کے لیے دی ہے اس سے فائدہ اٹھا کر میں یہ ثابت کرنے کے لیے پورا زور صرف کر دوں گا کہ انسان اس فضیلت کا مستحق نہیں ہے جو آپ نے میرے مقابلہ میں اسے عطا کی ہے۔ میں آپ کو دکھا دوں گا کہ یہ کیسے ناشکرا، کیسا نمک حرام اور کیسا احسان فراموش ہے۔
یہ مہلت جو شیطان نے مانگی اور خدا نے اسے عطا فرمادی، اس سے مراد محض وقت ہی نہیں ہے بلکہ اس کام کا موقع دینا بھی ہے جو وہ کرنا چاہتا تھا۔ یعنی اس کا مطالبہ یہ تھا کہ مجھے انسان کو بہکانے اور اس کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھا کر اس کی نااہلی ثابت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–18
معارف و مسائل
حضرت آدم ؑ اور شیطان کا یہ واقعہ جو یہاں مذکور ہے اس سے پہلے سورة بقرہ کے چوتھے رکوع میں بیان ہوچکا ہے، اس کے متعلقہ بہت سے تحقیق طلب امور کا بیان وہاں ہوا ہے، یہاں مزید چند امور تحقیق طلب کا جواب لکھا جاتا ہے۔
ابلیس کی دعاء قیامت تک زندگی کی قبول ہوئی یا نہیں، بصورت قبول دو آیتوں کے متعارض الفاظ کی تطبیق
ابلیس نے عین اس وقت جب کہ اس پر عتاب و عقاب ہو رہا تھا اللہ تعالیٰ سے ایک دعا مانگی اور وہ بھی عجیب دعا کہ حشر تک کی زندگی کی مہلت عطا فرما دیجئے، اس کے جواب میں جو ارشاد حق تعالیٰ نے فرمایا اس کے الفاظ اس جگہ مذکورہ آیت میں تو صرف یہ ہیں (آیت) انک من المنظرین، ”یعنی تجھ کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
قَالَ اَنْظِرْنِيْٓ اِلٰي يَوْمِ يُبْعَثُوْنَ قَالَ اِنَّكَ مِنَ الْمُنْظَرِيْنَ۔ انسان کے لیے اصل معرکہ امتحان : ابلیس کو چونکہ ذلت کے ساتھ جنت سے نکل جانے کا حکم ہوا اس وجہ سے اس کو گمان ہوا کہ اب اس کے لیے سعی و عمل کی کوئی مہلت باقی نہیں رہی ہے۔ اس اس نے خدا سے درخواست کی کہ اسے مہلت عطا کی جائے کہ وہ ثابت کرسکے کہ انسان فی الواقع اس شرف کا سزا وار نہیں ہے جو اسے بخشا گیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کو یہ مہلت دے دی۔ یہی وہ موڑ ہے جہاں سے انسان کی زندگی کارزار امتحان میں داخل ہوتی ہے۔ شیطان نے، جیسا کہ آگے آ رہا ہے، اپنا پورا زور اس بات کے لیے لگانے کا منصوبہ بنایا کہ وہ انسان کو نااہل و نالائق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
13۔ 1 مِنْھَا کی ضمیر کا مرجع اکثر مفسرین نے جنت قرار دیا اور بعض نے اس مرتبہ کو جو ملکوت اعلٰی میں اسے حاصل تھا۔ فاضل مترجم نے اسی دوسرے مفہوم کے مطابق آسان ترجمہ کیا ہے۔ نکل بیشک تو ذلیلوں میں سے ہے (2)
13۔ 2 اللہ کے حکم کے مقابلے میں تکبر کرنے والا احترام و تعظیم کا نہیں، ذلت اور خواری کا مستحق ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–14
3: اس واقعے کی کچھ تفصیلات سورة بقرہ (34:2 تا 39) میں گذری ہیں۔ ان آیتون پر جو حواشی ہم نے لکھے ہیں، ان میں واقعے سے متعلق کئی سوالات کا جواب آگیا ہے۔ انہیں ملاحظہ فرما لیا جائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–17
آیت ” قَالَ أَنظِرْنِیْ إِلَی یَوْمِ یُبْعَثُونَ (14) قَالَ إِنَّکَ مِنَ المُنظَرِیْنَ (15) قَالَ فَبِمَا أَغْوَیْْتَنِیْ لأَقْعُدَنَّ لَہُمْ صِرَاطَکَ الْمُسْتَقِیْمَ (16) ثُمَّ لآتِیَنَّہُم مِّن بَیْْنِ أَیْْدِیْہِمْ وَمِنْ خَلْفِہِمْ وَعَنْ أَیْْمَانِہِمْ وَعَن شَمَآئِلِہِمْ وَلاَ تَجِدُ أَکْثَرَہُمْ شَاکِرِیْنَ (17) “۔ (7 : 14 تا 17)
” بولا : ” مجھے اس دن تک مہلت دے جبکہ یہ سب دوبارہ اٹھائے جائیں گے ۔ “ فرمایا : ” تجھے مہلت ہے ۔ “ بولا : ” اچھا تو جس طرح تو نے مجھے گمراہی میں مبتلا کیا ہے میں بھی اب تیری سیدھی راہ پر ان انسانوں کی گھات میں لگا رہوں گا ‘ آگے اور پیچھے ‘ دائیں اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
3 یعنی جب تو نے یہ درخواست کی تو سمجھ لے کہ یہ پہلے سے علم الہٰی میں طے شدہ ہے کہ تجھ کو مہلت دی جائے۔ جب حکمت الہٰیہ مقتضی ہوئی کہ حق تعالیٰ اپنی صفات کمالیہ و شہنشاہانہ عظمت و جبروت کا مظاہرہ کرے تو اس نے عالم کو پیدا فرمایا۔ (اَللّٰهُ الَّذِيْ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ وَّمِنَ الْاَرْضِ مِثْلَهُنَّ ۭ يَـتَنَزَّلُ الْاَمْرُ بَيْنَهُنَّ لِتَعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ ڏ وَّاَنَّ اللّٰهَ قَدْ اَحَاطَ بِكُلِّ شَيْءٍ عِلْمًا) 65 ۔ الطلاق :12) یعنی زمین و آسمان کی تخلیق اور ان کے کل نظم و نسق سے مقصود یہ ہے کہ خدا کی قدرت کاملہ اور علم محیط وغیرہ صفات کی معرفت لوگوں کو حاصل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–15
قَالَ اَنَا خَیْرٌ مِّنْہُ ج خَلَقْتَنِیْ مِنْ نَّارٍ وَّخَلَقْتَہٗ مِنْ طِیْنٍ
اس نے اپنے استکبار کی بنیاد پر ایسا کہا۔ یہاں اس کا جو قول نقل کیا گیا ہے اس کے ایک ایک لفظ سے تکبر جھلکتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
12 حقیقتاً ابلیس کے تین قصور تھے ایک اللہ کے حکم کو نہ مانا، دوسرے فرشتوں کی جس جماعت میں وہ رہتا تھا سجدہ کرتے وقت وہ اس جماعت سے الگ ہوا تیسرے اس نافرمانی پر نادم ہونے کی بجائے تکبر کیا، خود کو بڑا سمجھا اور سیدنا آدم (علیہ السلام) کو حقیر سمجھا لہذا اس پر اللہ کی لعنت و پھٹکار ہوئی اور ذلیل و خوار ہوا اور یہ لعنت و پھٹکار ہمیشہ کے لیے اس کا مقدر ہوگئی۔
Read the full tafseer →17 ۔ مہلت کس چیز سے ؟ موت اور عذاب سے۔ سأل النظرۃ والامھال الی یوم البعث والحساب (قرطبی) (آیت) ” الی یوم یبعثون “۔ یعنی قیامت تک، شیطان کا صاحب کشف ہونا اسی درخواست سے ظاہر ہے۔ جانتا تھا ضرور منظور ہوجائے گی، باوجود عتاب شدید کے موقع کے پیش کردی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–22
قال انظرنی الی یوم یبعثون، ای امھلنی الی یوم البعث، یوم بعث تک مہلت طلب کرنے کا مطلب تھا کہ مجھے موت نہ آئے اس لئے کہ یوم بعث کے بعد موت نہیں ہوگی اللہ تعالیٰ نے ابلیس کی یہ درخواست یہ کہتے ہوئے منظور فرمالی ” اِنَّکَ من المنظرین “ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ شاید اللہ تعالیٰ نے ابلیس کی یہ دعاء بعینہٖ قبول فرمالی، مگر دوسری آیت ” الی یوم الوقت المعلوم “ سے معلوم ہوتا ہے کہ نفخہ اولی تک مہلت قبول فرمائی اس سے معلوم ہوا کہ جسطرح پوری کائنات پر موت طاری ہوگی ابلیس پر بھی موت طاری ہوگی
Read the full tafseer →قال انظرنی الی یوم یبعثون ابلیس نے کہا مجھے اس دن تک چھوٹ دے دے جس دن لوگوں کو اٹھایا جائے گا یعنی تو میری میعاد زندگی طویل کر دے اور روز بعثت تک یعنی اس روز تک کہ دوبارہ صور پھونکا جائے اور لوگوں کو قبروں سے اٹھایا جائے مجھ پر موت کو مسلط نہ کر۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–15
(13۔ 14۔ 15) اللہ تعالیٰ نے اس سے فرمایا، آسمان سے اتر جا اور یہ کہ فرشتوں کی شکل و صورت سے خارج ہوجا، اب تجھے فرشتوں کا لباس پہن کر انسانوں پر تکبر کرنے کا کوئی حق حاصل نہیں، تو فرشتوں کے لباس سے نکل جا اور یہاں سے دور ہوجا، تو اپنے تکبر کی وجہ سے ذلیلوں میں شمار ہوگیا، شیطان کہنے لگا کہ قیامت تک مجھے موت سے مہلت دیجیے، ارشاد ہوا کہ صور پھونکے جانے تک تجھ کو موت سے مہلت دی گئی ،
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
فَمَا يَكُوْنُ لَكَ اَنْ تَتَكَبَّرَ فِيْهَا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ کبریائی (بڑائی) میری رداء (اوپر کی چادر) اور عزت میری ازار (نیچے کی چادر) ہے جو ان میں سے ایک بھی مجھ سے چھیننے کی کوشش کرے گا میں اسے آگ میں پھینکوں گا۔“ [ مسلم، البر والصلۃ، باب تحریم الکبر : 2620، عن أبی ہریرہ ] یعنی تکبر کے بعد جنت میں رہنے کا شرف تیرے پاس رہنا ممکن ہی نہیں۔ یہی حال ہر تکبر اور غرور والے کا ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
آیت نمبر : 14۔ 15
اس نے قبروں سے اٹھانے اور حساب کے دن تک باقی رہنے کی مہلت مانگی۔ اس نے مطالبہ کیا کہ وہ نہ مرے، کیونکہ یوم البعث کے بعد پھر کوئی موت نہیں۔ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا : آیت : انک من الصغرین بیشک تو مہلت دیئے ہوؤں میں سے ہے۔ حضرت ابن عباس، سدی وغیرہما ؓ نے کہا ہے : اللہ تعالیٰ نے اسے نفخہ اولیٰ تک مہلت دی کہ اس وقت تمام مخلوق مر جائے گی۔ اور اس کا مہلت کا مطالبہ نفخہ ثانیہ تک تھا جس وقت لوگ رب العالمین کی بارگاہ میں حاضر ہونے کے لیے اٹھیں گے۔ تو اللہ تعالیٰ نے اس کا انکار فرما دیا۔ اور فرمایا : آیت : الی یوم یبعثون ( اس دن تک جب لوگ قبروں سے اٹھائے جائیں گے) اور جسے اٹھایا جائے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–15
(1) امام ابو الشیخ نے سدی (رح) سے روایت فرمائی لفظ آیت ” فما یکون لک ان تتکبر فیہا “ یعنی تیرے لئے یہ لائق نہیں تھا کہ تو اس میں تکبر کرتا۔
Read the full tafseer →قَالَ [ (ابلیس نے) کہا ] اَنْظِرْنِيْٓ [ تو مہلت دے مجھے ] اِلٰي يَوْمِ [ اس دن تک (جب) ] يُبْعَثُوْنَ [ یہ لوگ اٹھائے جائیں گے ]
نوٹ۔ 2: ایسی حالت میں کہ جب اللہ تعالیٰ ابلیس پر غضب فرما رہا تھا ، اس نے اللہ تعالیٰ سے دعامانگی کہ مجھے قیامت تک مہلت دے اور اللہ نے اس کی سن لی ۔ اس سے قبولیت دعا کی حقیقت واضح ہوجاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے اور حکمت کے تحت جس کی چاہتا ہے دعا قبول کرتا ہے ، خواہ وہ مومن ہو یا کافر ۔ اس لیے کسی کی دعا قبول ہونا اس کے قرب الہی کی سند نہیں ہے ۔
(آیت ۔ 14) الی یوم یبعثون میں یوم مضاف ہے اور جملہ فعلیہ یبعثون اس کا مضاف الیہ ہے ۔ (دیکھیں آیت نمبر ۔ 5 ۔ 199، ترکیب)
Read the full tafseer →ابلیس کا زندہ رہنے کے لیے مہلت طلب کرنا :
چونکہ اسے یہ پہلے سے معلوم تھا کہ یہ نئی مخلوق زمین میں آباد کرنے کے لیے پیدا کی گئی ہے اور انہیں خلافت ارضی سونپی جائے گی اور اسے جو ملعونیت کا داغ لگا وہ بھی نئی مخلوق کی وجہ سے لگا اس لیے اس نے اول تو اللہ تعالیٰ سے یہ درخواست کی کہ مجھے مہلت دی جائے یعنی میری عمر اتنی لمبی کردی جائے کہ جس دن لوگ قبروں سے اٹھیں گے اس وقت تک جیتا رہوں اللہ تعالیٰ نے یوں تو نہیں فرمایا کہ قبروں سے اٹھنے کے دن تک تجھے مہلت ہے البتہ یوں فرمایا (فَاِنَّکَ مِنَ الْمُنْظَرِیْنَ الیٰ یَوْمِ الْوَقْتِ الْمَعْلُوْمِ ) کہ تجھے وقت معلوم کے دن تک مہلت دی گئی۔ ( سورة حجر اور ص…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–18
قال اللہ تعالیٰ ۔ المص۔ کتاب انزل الیک۔۔۔ الی۔۔۔ بما کانو بایاتنا یظلمون
(ربط) گذشتہ سورت کے آخری رکوع میں قرآن مجید کے اتباع کا حکم اور اس کی ترغیب تھی اور اس سے انحراف اور اعراض پر نزول عذاب کی وعید تھی اور اسی بناء پر گزشتہ سورت کے آخری رکوع کو ان ربک سریع العقاب وانہ لغفور رحیم پر ختم فرمایا اب اس سورت کے آغاز میں قرآن مجید کے اتباع کا حکم دیتے ہیں اور گزشتہ امتوں کے منکرین حق اور مکذبین حق کی ہلاکت اور بربادی کا ذکر کرتے ہیں تاکہ منکرین قرآن اس سے عبرت پکڑیں۔ چناچہ فرماتے ہیں۔ المص سورة بقرہ کے شروع ہی میں اس قسم کے حروف مقطعات کے متعلق مفسرین کے اقوال بسط اور تفصیل کے ساستھ گزر چکے ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–15
10: یہ دوسرے دعوے کی تمہید ہے جو اس پورے رکوع میں ذکر کی گئی ہے۔ اس میں حضرت آدم (علیہ السلام) کے سامنے فرشتوں کو سجدہ کرنے کا حکم، ابلیس کی نافرمانی اس کے ملعون و مطرود ہونے اور آدم و حواعلیہما السلام سے اس کی عداوت اور اس کی وجہ سے جنت میں ان کے برہنہ ہوجانے کا ذکر کیا گیا ہے۔ “ ثُمَّ قُلْنَا الخ ”“ ثُمَّ ” یہاں تعقیب ذکری کے لیے ہے ورنہ ماقبل سے مرتبط نہیں ہوسکے گا۔ کیونکہ آدم (علیہ السلام) کو سجدہ کرنے کا حکم اولاد آدم کی پیدائش سے پہلے ہوا تھا۔ مطلب یہ ہے کہ یہ واقعہ بھی اس کے بعد بیان کرو۔ لہذا اس سے یہ مطلب نکالنا کہ حضرت آدم (علیہ السلام) سے پہلے بھی دنیا میں انسان موجود تھے۔ سراسر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–18
ربط آیات
سورۃ کی ابتداء میں اللہ تعالیٰ نے نزول قرآن کا ذکر فرمایا اور اس کے اتباع کا حکم دیا پھر نافرمانی کرنے والوں کا انجام بیان فرمایا محاسبے کے عمل اور اعمال کے وزن سے آگاہ کیا اس کے بعد انسان پر کیے جانے والے دو انعامات کا ذکر کیا ایک زمین تسلط اور دوسرا ذرائع معیشت ، پھر انسان کی تخلیق کا مسئلہ بھی بیان فرمایا انہیں بہترین شکل و صورت عطا کی اور زمین میں اپنا خلیفہ بنایا نیز آدم (علیہ السلام) کو مسجود ملائکہ بنایا تاکہ اس کی اولاد کی برتری تمام مخلوق پر ثابت ہوجائے۔
پھر اسی ضمن میں یہ بھی بیان فرمایا کہ شیطان لعین نے آدم (علیہ السلام) کو سجدہ کرنے سے انکار کردیا اور غرور میں مبتلا ہو کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
قَالَ اَنْظِرْنِيْٓ اِلٰي يَوْمِ يُبْعَثُوْنَ 14
نظر
النَّظَرُ : تَقْلِيبُ البَصَرِ والبصیرةِ لإدرَاكِ الشیءِ ورؤيَتِهِ ، وقد يُرادُ به التَّأَمُّلُ والفَحْصُ ، وقد يراد به المعرفةُ الحاصلةُ بعد الفَحْصِ ، وهو الرَّوِيَّةُ. يقال : نَظَرْتَ فلم تَنْظُرْ. أي : لم تَتَأَمَّلْ ولم تَتَرَوَّ ، وقوله تعالی: قُلِ انْظُرُوا ماذا فِي السَّماواتِ [يونس/ 101] أي : تَأَمَّلُوا . والنَّظَرُ : الانْتِظَارُ. يقال : نَظَرْتُهُ وانْتَظَرْتُهُ وأَنْظَرْتُهُ. أي : أَخَّرْتُهُ. قال تعالی: وَانْتَظِرُوا إِنَّا مُنْتَظِرُونَ [هود/ 122] ، وقال : إِلى طَعامٍ غَيْرَ ناظِرِينَ إِناهُ [ الأحزاب/ 53] أي :
منتظرین،
( ن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–17
1 ؎ ابلیس نے جی اٹھنے تک زندہ رہنے کی دعا مانگی اس نے یہ بات سوچی تھی کہ میں موت سے محفوظ رہوں گا مگر خدا تعالیٰ نے یہ وعدہ فرمایا بلکہ ایک وقت خاص تک زندہ رہنے کی دعا قبول کی جو کہ خاص اللہ ہی کو معلوم ہے۔ ابلیس کی دعا قبول کرنا گویا اس کی تمام عبادت کا معاوضہ اس کی خواہش کے مطابق دینا ہے۔ 12 منہ
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–22
وَلَقَدْ خَلَقْنٰکُمْ ثُمَّ صَوَّرْنٰکُمْ ثُمَّ قُلْنَا لِلْمَلٰٓئِکَۃِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ صلے ق فَسَجَدُوْٓا اِلَّا اِبْلِیْسَ ط لَمْ یَکُنْ مِّنَ السّٰجِدِیْنَ ۔ (الاعراف : 11)
” اور ہم نے تمہارا خاکہ بنایا پھر تمہاری صورت گری کی پھر فرشتوں کو فرمایا کہ آدم کو سجدہ کرو سب نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے وہ سجدہ کرنے والوں میں شامل نہ ہوا “۔
تخلیقِ انسان کا اسلامی نقطہ نگاہ اور اس کی وضاحت
سب سے پہلے آیت کے بعض الفاظ پر غور فرمایئے۔ سب سے پہلے فرمایا خَلَقْنٰکُمْ اور پھر فرمایا صَوَّرْنٰکُمْ ۔ بات اصل میں یہ ہے کہ جب خَلَقَ کا لفظ اکیلا استعمال ہوتا ہے تو یہ اپنے لوازم سمیت استعمال ہوتا ہے یعنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–18
(قَالَ اَرَءَ یْتَکَ ھٰذَا الَّذِیْ کَرَّمْتَ عَلَیّ لَءِنْ اَخَّرْتَنِ اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰمَۃِ لَاَحْتَنِکَنَّ ذُرِّیَّتَہ ‘ ٓ اِلَّا قَلِیْلاً )
[ الاسراء : 62]
” شیطان نے کہا دیکھ لے اسے تو نے مجھ پر بزرگی دی ہے لیکن اگر مجھے قیامت تک تو نے ڈھیل دی تو میں اس کی اولاد پر غلبہ حاصل کرلوں گا تھوڑے لوگ ہی بچیں گے۔ “
( قَالَ فَبِعِزَّتِکَ لَأُغْوِیَنَّہُمْ اَجْمَعِیْنَ ) [ ص : 82]
” کہنے لگا تیری عزت کی قسم ! میں ان سب کو بہکا دوں گا۔ “
( قَالَ لَمْ اَکُنْ لِّاَسْجُدَ لِبَشَرٍ خَلَقْتَہ ‘ مِنْ صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَاٍ مَّسْنُوْنٍ ) [ الحجر : 33]
” شیطان نے کہا میں ایسا نہیں کہ انسان کو سجدہ کروں…
Read the full tafseer →مطالبہ مہلت :
آیت 14: قَالَ اَنْظِرْنِیْٓ اِلٰی یَوْمِ یُبْعَثُوْنَ (اس نے کہا مجھے اس دن تک چھوٹ دو ۔ جس دن اٹھایا جائیگا) مجھے بعث کے دن تک مہلت دو یہ نفخہ ثانیہ کا وقت ہے۔
Read the full tafseer →(14) (قال) ابلیس اس وقت کہا (انظرنی) مجھے مہلت دیجیے اور موت نہ دیجیے (الی یوم یبعثون) یعنی نفخہ اخیرہ تک قیامت کے وقت تک۔ اس خبیث کا ارادہ تھا کہ وہ موت کا ذائقہ نہ چکھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–16
(13 ۔ 16) ۔ جب شیطان نے بموجب حکم خدا کے حضرت آدم کو سجدہ نہ کیا اور اپنے آپ کو بہتر اور بڑا جانا تو خدا تعالیٰ نے اس کو ذلیل و خوار کر کے جنت سے نکال دیا اور فرمایا کہ جنت میں رہ کر تجھ کو تکبر کرنا نہیں پہنچتا کیونکہ جنت فرمانبرداروں کی جگہ ہے نافرمانوں کی جگہ نہیں ہے اس لئے تو اس سے نکل اور زمین پر اتر جا کہ تیرے تکبر کی یہی سزا ہے اس وقت شیطان نے سوچ کر اپنے لئے قیامت تک جیتے رہنے کی مہلت مانگی خدا تعالیٰ نے اس کو پہلے صورت کی مہلت دی تاکہ شیطان کے بہکانے کے بعد فرمانبردار اور نافرمان بندے پہچانے جاویں مہلت مل جانے کے بعد شیطان نے سرکشی سے کہا کہ جس طرح میں گمراہ ہوا اسی طرح میں تیرے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–16
آیت 11
اللہ تبارک و تعالیٰ بنی آدم سے مخاطب ہو کر فرماتا ہے : (ولقد خلقنکم) ” اور ہم نے تمہیں پیدا کیا “ یعنی تمہارے جد امجد آدم کی اصل اور اس کے مادے کی تخلیق کی، جس سے تم سب پیدا کئے گئے (ثم صورنکم) ” پھر تمہاری صورت شکل بنائی۔ “ پھر ہم نے تمہیں بہترین صورت اور بہترین قامت عطا کی۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے آدم کو تمام چیزوں کے نام سکھائے جس سے اس کی باطنی صورت کی تکمیل ہوئی، پھر باعزت فرشتوں کو حکم دیا کہ وہ آدم کے اکرام و احترام اور اس کی فضیلت کے اعتراف کے طور پر اسے سجدہ کریں۔ چناچہ انہوں نے اپنے رب کے حکم کی تعمیل کی (فسجدوآ) ” پس انہوں نے سجدہ کیا۔ “ یعنی تمام فرشتوں نے سجدہ کیا (الا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–16
پیروی قرآن
قول باری ہے اتبعواماانزل الیکم من ربکم۔ لوگوں جو کچھ تمہارے رب کی طرف سے تم پر نازل کیا گیا ہے اس کی پیروی کرو) اس کا مفہوم یہ ہے کہ بندوں کے تمام تصرفات کا دائرہ اللہ کے حکم کی مراد تک محدود ہو یعنی اس کے حکم کی جو مراد ہو اس کے بندے اس کے مطابق عمل کریں۔ یہ اہتمام یعنی اقتداء کی نظیر ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ کے حکم کی مراد کی اتباع اور اس پر عمل میں اس کی اس طرح اقتداء کی جائے کہ وہ اس کے دائرہ تدبیر سے خارج نہ ہو۔ اگر یہ کہا جائے کہ آیا مباح پر عمل کرنے والا اللہ کے حکم کا متبع ہوتا ہے ؟ تو اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ ایسا شخص اس وقت اللہ کے حکم کا متبع ہوتا ہے جب وہ اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
17 اللہ کے حکم سے سرتابی باعث ذلت و خواری ۔ والعیاذ باللہ : سو اس گستاخی اور بدتمیزی پر ابلیس کو حکم ہوا کہ نکل جا یہاں سے کہ تو ذلیلوں میں سے ہے کہ حق تعالیٰ کے حکم سے سرتابی کا نتیجہ یہی ہوتا ہے کہ اس سے سرتابی کرنے والا ذلیل و خوار اور خائب و خاسر ہوجاتا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو اس لعین نے تو اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں مبتلا ہو کر حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کے حکم سے سرتابی کی تھی لیکن اس سے وہ ہمیشہ ہمیش کیلئے ذلیل و خوار اور مردود و مطرود ہوگیا۔ سو یہی نتیجہ و انجام ہوتا ہے اپنی بڑائی کے گھمنڈ کا۔ جیسا کہ بعض روایات میں وارد ہوا کہ اللہ تعالیٰ متکبروں کو قیامت کے روز سب سے زیادہ حقیر صورتوں میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–18
تخلیق آدم پر ابلیس کا مکالمہ
تشریح : ان آیات کا ذکر پہلے بھی گزر چکا ہے اور ان کی عبارت بڑی عام فہم اور آسان ہے، لہٰذا صرف وہ نکات بیان کئے جائیں گے جو خاص خاص ہیں۔
-1 انسان کے رہنے، کھانے اور پینے کا بندوبست جو اللہ رب العزت نے کیا ہے لاجواب ہے۔ مگر انسان ناشکرا ہے۔
-2 انسان کی پیدائش کا معجزہ جو تمام موجودہ تحقیقات کو غلط ثابت کرتا ہے خاص طور سے ڈارون کی تھیوری کہ انسان بندر سے موجودہ شکل میں آیا ہے۔ اللہ کی قدرت کاملہ اور بےمثال طاقت کا مظاہرہ سیدنا آدم (علیہ السلام) کی پیدائش ہے۔
-3 انسان کا بلند درجہ کہ جس کی وجہ سے وہ زمین میں اللہ کا خلیفہ اور تمام مخلوقات سے افضل مخلوق بنائی گئی۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–25
رکوع نمبر 2 ۔ آیات نمبر 11 تا 25:
اسرار و معارف :
انسانی زندگی محض ایک حادثہ نہیں اور نہ نیک و بد کی آویزش محض کھیل ہے اس کا ایک پس منظر ہے جو تمہاری بھلائی کے لیے بیان کردیا جاتا ہے مقصد سامنے آجائے گا تو کامیابی اور ناکامی کا اندازہ کرنا تمہیں آسان ہوگا اب تو صرف مادی ترقی کو کمال سمجھ رہے ہو پھر جان سکو گے کہ اول ضرورت روحانی ترقی کی ہے مادی کمالات اس کے تابع ہیں اگر روحانی ارتقا سے آدمی محروم ہوجائے تو مادی انکشافات دکھوں میں اضافہ ہی کرتے ہیں ان میں سے بھی بھلائی اور بہتری کا پہلو رخصت ہوجاتا ہے۔ اصل بات یوں ہے۔
انانیت : کہ ہم نے تمہیں یعنی تمہارے جد آدم (علیہ السلام) کو اس طرح پیدا…
Read the full tafseer →ف 6 شیطان صور میں دوسرے نفخہ تک ،
Read the full tafseer →(7:14) انظرنی۔ تو مجھ کو مہلت دے۔ تو مجھ کو ڈھیل دے۔ انظار (افعال) سے امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر۔ ن وقایہ ی ضمیر واحد متکلم
یبعثون۔ مضارع مجہول مذکر غائب۔ بعث یبعث (فتح) وہ (یعنی لوگ) اٹھائے جاویں گے یوم قیامت۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–18
لغات القرآن : آیت نمبر 11 تا 18 :
صورنا ( ہم نے صورت شکل بنائی) اسجدوا (تم سجدہ کرو) ابلیس (شیطان) الا تسجد ( یہ کہ تو نے سجدہ نہیں کیا) امرت ( میں نے حکم دیا تھا) ‘ اناخیر ( میں زیادہ بہتر ہوں) خلقتنی ( تو نے مجھے پیدا کیا) نار (آگ) طین (مٹی) اھبط ( اترجا) ان تتکبر ( یہ کہ تو بڑائی کرے۔ تکبر کرے) اخرج ( تو نکل جا) الصغرین ( صاغر) ذلیل۔ رسوائی والے) انظرنی ( تو مجھے مہلت دے دے) یبعثون ( وہ اٹھائے جائیں گے) المنظرین ( مہلت دیئے گئے) ‘ اغویتنی ( تو نے مجھے گمراہ کیا) اقعدن ( میں ضرور بیٹھوں گا) ‘ اتین ( میں ضرور آؤں گا) بین ایدی (سامنے) خلف ( پیچھے) ایمان (داہنی جانب) شمائل ( بائیں جانب) لاتجدو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–17
اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ شیطان چاروں طرف سے انہیں گھیر کر راہ راست سے روکے گا، نجات کا راستہ ایک ہے، شیطانی راستے بہت سے ہیں۔
اس آیت میں پھر اللہ پاک نے شیطان سے تاکیدا فرمایا کہ نکل بہشت سے مردود۔ قسم ہے مجھ کو بھی کہ جو کوئی تیری تابعداری کرے گا میں بھی جہنم کو سب سے بھر دوں گا۔ اس جواب خداوندی میں جس قدر خوف ہے اس کا اندازہ کچھ نہیں ہوسکتا۔ مطلب یہ ہے کہ شیطان کے جہنم میں وہی گنہگار جاویں گے جو ہمیشہ گناہ کرتے ہیں اور خالص دل سے توبہ نہیں کرتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–16
[5] جس طرح اللہ ہر شے کا آخری سبب اور بیماری، بدکاری اور زہر کا خالق ہے ابلیس کی گمراہی کا بھی آخری سبب وہی ہے۔ ابلیس نے یہاں یہی معنی لئے ہیں اور اپنی گمراہی کا ذمہ دار اللہ کو ٹھہرایا ہے جو حقیقت و صداقت کے صریحاً خلاف ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–16
(ف 2) شیطان کا یہ استدلال اس لئے صحیح نہیں کہ عزت وشرف خدا کی اطاعت وفرمانبرداری میں ہے اصل ومبنی کے لحاظ سے نہیں ،
آدم (علیہ السلام) کہ اس نے عہد الست کا جواب لبیک و بلےٰ سے دیا ، اور شیطان اس لئے راندہ درگاہ رب جلیل ہے کہ اس نے اللہ کی اطاعت سے منہ موڑا ۔
Read the full tafseer →14 ابلیس نے کہا مجھ کو اس دن تک کے لئے موت سے مہلت دیجئے جس دن کہ مردے قبروں سے اٹھائے جائیں اور مردے زندہ کئے جائیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–14
ف 3۔ مراد شکر سے اطاعت ہے۔
Read the full tafseer →ابلیس نے لوگوں کے دوبارہ اٹھائے جانے تک مہلت طلب کرلی :
14: ابلیس نے یعنی اس وقت جیسا کہ اس پر عتاب ہورہا تھا اللہ تعالیٰ سے مہلت طلب کرلی اور کہا کہ ” مجھے اس وقت تک کے لئے مہلت دے جب لوگ دوبارہ اٹھائے جائیں گے۔ “ گویا اس کو لوگوں کا دوبارہ اٹھایا جانا معلوم تھا اور وہ اس بات پر یقین بھی رکھتا تھا لیکن اس کے باوجود ابلیس تھا ؟ بالکل ، یہی وجہ ہے کہ کسی چیز کا علم ہونا نافع نہیں ہوتا جب تک کہ اس علم کے مطابق عمل بھی نہ ہو۔ ایک آدمی کو علم ہے کہ قتل کی سزا دفعہ 302 ہے لیکن اس علم کے باوجود وہ کسی کو قتل کردیتا ہے تو کیا یہ قتل کی سزا سے بچ جائے گا ؟ اچھا اگر وہ شور کرے اور چیخ چیخ کر یہ بات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–18
Commentary
The event relating to Sayyidna 'Adam (علیہ السلام) and the Shaytan has appeared earlier in Section four of Surah Al-Baqarah (Ma` ariful-Qur'an, English Translation, under verse 34). Some aspects of the subject have been covered in comments given there. Answers to some others are being given here.
How Long was the Respite given to Iblis?
It was exactly at the time Iblis was under the wrath of Allah, he made a prayer, a strange prayer indeed. He asked for a lease of life until the day of Resurrection. The words in which Allah Ta` ala answered the prayer, as they appear in this…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–17
12. This was the challenge thrown down by Satan to God. What it meant is that Satan would make use of the respite granted to him until the Last Day, and he would do so in order to prove that nian did not deserve a position superior to his and this had after all been bestowed upon him by God. So doing, he would expose how ungrateful, thankless and disloyal a creature man is.
The respite asked for by Satan and granted to him by God includes not only the time but also the opportunity to mislead Man and to prove his point by appealing to man's weaknesses. The Qur'an makes a pointed statement…
Read the full tafseer →