قوم لوط پر بھی نبی کی نصیحت کار گر نہ ہوئی بلکہ الٹا دشمنی کرنے لگے اور دیس نکال دینے پر تل گئے، اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو مع ایمانداروں کے وہاں سے صحیح سالم بجا لیا اور تمام بستی والوں کو ذلت و پستی کے ساتھ تباہ و غارت کردیا، ان کا یہ کہنا کہ یہ بڑے پاکباز لوگ ہیں بطور طعنے کے تھا اور یہ بھی مطلب تھا کہ یہ اس کام سے جو ہم کرتے ہیں دور ہیں پھر ان کا ہم میں کیا کام ؟ مجاہد اور ابن عباس کا یہی قول ہے۔
Read the full tafseer →سورة الْاَعْرَاف 65
اس سے معلوم ہوا کہ یہ لوگ صرف بےحیا اور بدکردار اور بداخلاق ہی نہ تھے بلکہ اخلاقی پستی میں اس حد تک گر گئے تھے کہ انہیں اپنے درمیان چند نیک انسانوں اور نیکی کی طرف بلانے والوں اور بدی پر ٹوکنے والوں کا وجود تک گوارا نہ تھا۔ وہ بدی میں یہاں تک غرق ہوچکے تھے کہ اصلاح کی آواز کو بھی برداشت نہ کرسکتے تھے اور پاکی کے اس تھوڑے سے عنصر کو بھی نکال دینا چاہتے تھے جو ان کی گھناؤنی فضا میں باقی رہ گیا تھا۔ اسی حد کو پہنچنے کے بعد اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کے استیصال کا فیصلہ صادر ہوا۔ کیونکہ جس قوم کی اجتماعی زندگی میں پاکیزگی کا ذرا سا عنصر بھی باقی نہ رہ سکے پھر اسے زمین پر زندہ…
Read the full tafseer →تیسری آیت میں حضرت لوط ؑ کی نصیحت کے جواب میں ان کی قوم کا جواب اس طرح ذکر فرمایا گیا ہے کہ ان لوگوں سے کوئی معقول جواب تو بن نہیں سکا ضد میں آکر آپس میں یہ کہنے لگے کہ یہ لوگ بڑی پاکی اور صفائی کے مدعی ہیں ان کا علاج یہ ہے کہ ان کو اپنی بستی سے نکال دو۔
Read the full tafseer →وَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهٖٓ اِلَّآ اَنْ قَالُوْٓا اَخْرِجُوْهُمْ مِّنْ قَرْيَتِكُمْ ۚاِنَّهُمْ اُنَاسٌ يَّتَطَهَّرُوْنَ۔ اسلوب بیان سے واضح ہے کہ حضرت لوط ؑ کا ایک ایک فقرہ آنکھیں کھول دینے والا اور فطرت کو جھنجھوڑ دینے والا تھا لیکن جن کی مت ماری گئی ہو اور جن کی فطرت مسخ ہوچکی ہو ان پر یہ وعظ کیا کارگر ہوسکتا تھا ؟ وہ یہ سب سن کر بولے تو یہ بولے کہ ان کو بستی سے نکالو، یہ بڑے پارسا بنتے ہیں ! یہ کسی معاشرے کے بگاڑ کی آخری حد ہے۔ معاشرہ بگڑتے بگڑتے اس حد تک بگڑ جاتا ہے کہ ایک وقت آتا ہے جب سب اپنی ناک کٹوا بیٹھتے ہیں اور نکٹا ہونا ہی تہذیب اور فیش کا تقاضا بن جاتا ہے۔ اس وقت چہرے پر ناک کا…
Read the full tafseer →82۔ 1 یہ حضرت لوط کو بستی سے نکالنے کی علت ہے۔ باقی ان کی پاکیزگی کا اظہار یا تو حقیقت کے طور پر ہے اور مقصد ان کا یہ ہوا کہ یہ لوگ اس برائی سے بچنا چاہتے ہیں، اس لیئے بہتر ہے کہ یہ ہمارے ساتھ ہماری بستی میں ہی نہ رہیں اور تمسخر کے طور پر انہوں نے ایسا کیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–84
40: حضرت لوط ؑ حضرت ابراہیم ؑ کے بھتیجے تھے، جو اپنے مقدس چچا کی طرح عراق میں پیدا ہوئے تھے، اور جب انہوں نے وہاں سے ہجرت کی تو حضرت لوط ؑ بھی ان کے ساتھ وطن سے نکل آئے، بعد میں حضرت ابراہیم ؑ فلسطین کے علاقے میں آباد ہوئے، اور حضرت لوط ؑ کو اللہ تعالیٰ نے اردن کے شہرسدوم (sodom) میں پیغمبر بناکر بھیجا، سدوم ایک مرکزی شہر تھا اور اس کے مضافات میں عمورہ وغیرہ کئی بستیاں آباد تھیں، کفر وشرک کے علاوہ ان بستیوں کی شرمناک بدعملی یہ تھی کہ وہ ہم جنسی (homosexuality) کی لعنت میں گرفتار تھے جس کا ارتکاب قرآن کریم کی تصریح کے مطابق ان سے پہلے دنیا کے کسی فرد نے نہیں کیا تھا، حضرت لوط ؑ نے انہیں اللہ…
Read the full tafseer →آیت ” وَمَا کَانَ جَوَابَ قَوْمِہِ إِلاَّ أَن قَالُواْ أَخْرِجُوہُم مِّن قَرْیَتِکُمْ إِنَّہُمْ أُنَاسٌ یَتَطَہَّرُونَ (82)
” مگر اس کی قوم کا جواب اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ ” نکالو ان لوگوں کو اپنی بسیتوں سے ‘ بڑے پاکباز بنتے ہیں ۔ “
عجیب بات ہے کہ ! جو پاکباز ہے اسے گاؤں سے نکالا جارہا ہے اور گندے ‘ غلیظ اور ناپاک لوگ بستیوں کے اندر رہنے کے مستحق بنتے ہیں لیکن یہ کوئی تعجب خیز بات نہیں ہے ۔ دور جدید کی جاہلیت یہی تو کررہی ہے کیا یہ ان لوگوں کو مسترد نہیں کر رہی ہے جو پاکبازی اختیار کرتے ہیں اور ان گندگیوں میں اپنے آپ کو آلودہ نہیں کرتے ۔ اس بات کو وہ ترقی پسندی کہتے ہیں اور اسے عورت اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 82–83
1 یعنی آخری بات انہوں نے یہ کہی کہ جب ہم سب کو یہ گندہ سمجھتے ہیں اور آپ پاک بننا چاہتے ہیں تو گندوں میں پاکوں کا کیا کام۔ لہذا انہیں اپنی بستی ہی سے نکال دینا چاہیے کہ یہ روز روز کی رکاوٹ ختم ہو۔ خیر وہ ملعون تو کیا نکالتے ہاں حق تعالیٰ نے لوط اور ان کے متعلقین کو عزت و عافیت کے ساتھ صحیح وسالم ان بستیوں سے نکال لیا اور ان بستیوں پر عذاب مسلط کردیا۔ جس کا ذکر آگے آتا ہے۔ لوط کے متعلقین میں سے صرف ان کی بیوی آپ سے علیحدہ رہی اور معذبین کے ساتھ ہلاک ہوئی کیونکہ اس کا سازباز ان معذبین سے تھا۔ لوط کے یہاں جو مہمان وغیرہ آتے ان کی اطلاع یہ ہی کیا کرتی اور ان کو بدکاری کی ترغیب دیتی تھی۔ یا جیسا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 82–83
آیت 82 وَمَا کَانَ جَوَابَ قَوْمِہٖٓ الاّآ اَنْ قَالُوْٓا اَخْرِجُوْہُمْ مِّنْ قَرْیَتِکُمْج اِنَّہُمْ اُنَاسٌ یَّتَطَہَّرُوْنَ
ان کے پاس کوئی معقول جواب تو تھا نہیں ‘ شرم و حیا کو وہ لوگ پہلے ہی بالائے طاق رکھ چکے تھے۔ کوئی دلیل ‘ کوئی عذر ‘ کوئی معذرت ‘ جب کچھ بھی نہ بن پڑا تو وہ حضرت لوط علیہ السلام اور آپ علیہ السلام کے گھر والوں کو شہر بدر کرنے کے درپے ہوگئے۔ حضرت لوط علیہ السلام کی بیوی اس مقامی قوم سے تعلق رکھتی تھی ‘ اس لیے وہ آخر وقت تک اپنی قوم کے ساتھ ملی رہی۔ حضرت لوط علیہ السلام اللہ کے حکم سے اپنی بیٹیوں کو لے کر عذاب آنے سے پہلے وہاں سے نکل گئے۔
Read the full tafseer →87 قوم کے اس جواب سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ سیدنا لوط (علیہ السلام) پر ایمان لانے اور اس بدفعلی سے اجتناب کرنے والے کم ہی لوگ تھے یہ قوم جب اپنی اس بدفعلی کا کوئی عقلی جواز پیش نہ کرسکی تو الزامی جواب پر اتر آئے اور کہنے لگے کہ ہم تو ہوئے گندے لوگ اور لوط اور اس کے پیروکار پاکباز رہنا چاہتے ہیں تو ان کا ہم گندوں میں کیا کام ؟ لہذا انہیں اپنی بستی سے نکال دینا چاہیے تاکہ یہ روز روز کی تکرار اور جھگڑا ختم ہوجائے۔
Read the full tafseer →109 ۔ (اور ہم کو گندہ بتاتے ہیں تو ہم گندوں میں ان پاکوں کا کیا کام۔ یہ نکلیں ہمارے شہر سے) (آیت) ” اخرجوھم “ میں ضمیر جمع غائب اتباع حضرت لوط (علیہ السلام) کی جانب ہے۔ ای لوطا ومن امن معہ (مدارک) (آیت) ” یتطھروان “ یعنی بڑی پاکبازی بگھارتے ہی۔ بڑے اپنی پاکبازی کے مدعی ہیں ای یدعون الطھارۃ (مدارک)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–84
قوم لوط کی مختصر تاریخ : ولوطا اذقال لقومہ (الآیۃ) یہ قوم اس علاقہ میں رہتی تھی جسے آجکل شرق اردن کہا جاتا ہے، اور عراق و فلسطین کے درمیان واقع ہے بائبل میں اس قوم کا صدر مقام سدوم بتایا گیا ہے جو یا تو بحیرہ مردار (بحر میت) کے قریب کہیں واقع تھا یا بحر میت میں غرق ہوچکا ہے۔ حضرت لوط (علیہ السلام) حضرت ابراہیم کے بھائی ہاران کے بیٹے تھے حضرت لوط (علیہ السلام) اپنے چچا ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ عراق سے نکلے کچھ مدت تک شام و فلسطین و مصر میں گشت لگا کر دعوت و تبلیغ کے کام میں مصروف رہے، اس کے بعد مستقل منصب رسالت پر فائز ہو کر اسی بگڑی ہوئی قوم کی اصلاح پر مامور ہوئے۔
یہودیوں کی تحریف کردہ…
Read the full tafseer →وما کان جواب قومہ الا ان قالوا اخرجوہم من قریتکم انہم اناس یتطہرون : اور ان کی قوم سے کوئی جواب بن نہ پڑا سوائے اس کے کہ آپس میں کہنے لگے ان لوگوں کو اپنی بستی سے نکال کر باہر کر دو یہ لوگ بڑے پاک صاف بنتے ہیں
Read the full tafseer →(82) تو ان کی قوم کو اس کے علاوہ اور کوئی جواب نہ بن پڑا کہ ایک دوسرے سے کہنے لگے کہ لوط ؑ اور ان کی دونوں صاحبزادیاں، زعوراء اور یثاء کو اپنے شہر سے نکال دو ، یہ لوگ مردوں اور عورتوں کے پچھلے راستہ سے بڑے پاک صاف بنتے ہیں۔
Read the full tafseer →اِنَّهُمْ اُنَاسٌ يَّتَطَهَّرُوْنَ : یعنی ان پاک باز لوگوں کا ہم گناہ گار و ناپاک لوگوں میں کیا کام ؟ یہ بات انھوں نے طنز اور تمسخر سے کہی اور ان کا جرم کیا بتایا کہ وہ گندگی میں آلودہ ہونے کا جرم کیوں نہیں کرتے، انھیں اپنی بستی سے نکال دو۔ ”يَّتَطَهَّرُوْنَ“ باب تفعل سے ہے جس کا ایک معنی تکلف بھی ہے، اس صورت میں ان کا کہنا طنز کے ساتھ بہتان بھی ہے کہ یہ لوگ پاک باز بنتے ہیں جبکہ حقیقت میں وہ پاک باز نہیں ہیں۔
Read the full tafseer →قولہ تعالیٰ : آیت : وما کان جواب قومہ الا ان قالوا اخرجوھم یعنی حضرت لوط (علیہ السلام) اور ان کی اتباع کرنے والوں کو بستی سے باہر نکال دو ۔ اور یتطھرون کا معنی ہے کہ لوگ تو اس قسم کا کام کرنے سے بڑے پاکباز بنتے ہیں۔ کہا جاتا ہے : تطھر الرجل یعنی وہ گناہ سے پاک رہا۔ حضرت قتادہ (رح) نے کہا ہے : قسم بخدا ! انہوں نے انہیں بغیر عیب کے عیب لگا دیا ہے (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 425 ) ۔ آیت : من الغٰبرین یعنی وہ اللہ تعالیٰ کے عذاب میں باقی رہنے والے ہیں۔
یہ حضرت ابن عباس ؓ اور حضرت قتادہ ؓ نے کہا ہے : غبرا لشی تب کہا جاتا ہے جب کوئی شے گزر جائے ( ختم ہوجائے) اور جب کوئی شے باقی رہے تب بھی غبر کہا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–84
(1) امام ابن عساکر نے سلیمان بن صرد (رح) سے روایت کیا کہ لوط (علیہ السلام) کے والد ابراہیم کے چچا تھے۔
(2) امام اسحاق بن بشر اور ابن عساکر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لوط (علیہ السلام) کو بستیوں کی جانب بھیجا گیا اور لوط کی بستیاں مدائن کی چار بستیاں تھیں سدوم امورا، اور صبویر اور ہر بستی میں ایک لاکھ جنگ جو تھے۔ اور ان کے مدائن میں بڑی بستی سدوم کی تھی۔ لوط اس میں رہتے تھے اور یہ شام کے شہروں میں سے ہے۔ اور فلسطین سے ایک رات کے سفر پر ہے۔ اور براہیم کے لوط بن ھاروان بن تارح کے چچا تھے ابراہیم قوم لوط کو نصیحت کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے قوم لوط کو مہلت دی تھی۔ انہوں نے اسلام کے پردے کو پھاڑ…
Read the full tafseer →وَمَا كَانَ [ اور نہیں تھا ] جَوَابَ قَوْمِهٖٓ [ ان کی قوم کا جواب ] اِلَّآ اَنْ [ سوائے اس کے کہ ] قَالُوْٓا [ ان لوگوں نے کہا ] اَخْرِجُوْهُمْ [ نکالو ان کو ] مِّنْ قَرْيَتِكُمْ ۚ [ اپنی پستی سے ] اِنَّهُمْ [ یقینا یہ سب ] اُنَاسٌ يَّتَطَهَّرُوْنَ [ ایک بڑا پاک باز گروہ ہے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 82–83
اسی کو فرمایا (فَاَنْجَیْنٰہُ وَ اَھْلَہٗٓ اِلَّا امْرَاَتَہٗ کَانَتْ مِنَ الْغٰبِرِیْنَ ) (سو ہم نے نجات دی لوط کو اور اس کے گھر کے لوگوں کو سوائے اس کی بیوی کے۔ یہ باقی رہ جانے والوں سے تھی) یعنی جو اہل ایمان بستیوں سے نکال دیئے گئے تھے تاکہ عذاب میں مبتلا نہ ہوں ان کے علاوہ جو لوگ تھے وہ انہی میں رہ گئی۔
سورۂ ہود میں ہے کہ فرشتوں نے حضرت لوط (علیہ السلام) سے کہا (فَاَسْرِ بِاَھْلِکَ بِقِطْعٍ مِّنَ الَّیْلِ وَ لَا یَلْتَفِتْ مِنْکُمْ اَحَدٌ اِلَّا امْرَاَتَکَ اِنَّہٗ مُصِیْبُھَا مَآ اَصَابَھُمْ اِنَّ مَوْعِدَھُمُ الصُّبْحُ اَلَیْسَ الصُّبْحُ بِقَرِیْبٍ ) (سو تم رات کے ایک حصہ میں نکل جاؤ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–84
قصہ چہارم حضرت لوط (علیہ السلام) باقوم او
قال اللہ تعالیٰ ولوطا اذ قال لقومہ۔۔۔ الی۔۔۔ فانظر کیف کان عاقبۃ المجرمین
(ربط) یہ چوتھا قصہ لوط (علیہ السلام) کا ہے جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بھتیجے تھے اور شہر سدوم کے رہنے والوں کی طرف نبی بنا کر بھیجے گئے تھے یہ شہر شرق اردن کے علاقہ سے قریب ہے یہ لوگ بت پرست اور نہایت بدکار تھے لڑکوں سے بدفعلی کیا کرتے تھے۔ یہی بدبخت قوم اس ناپاک عمل کی موجد تھی ان سے پہلے دنیا کی کسی قوم نے یہ خبیث فعل نہیں کیا تھا اور یہ لوگ لٹیرے بھی تھے تاجروں کو لوٹ لیتے تھے اور بےحیا اس قدر تھے کہ بھری مجلسوں میں بےحیائیوں کے مرتکب ہوتے حضرت لوط (علیہ السلام) نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 82–84
88: اللہ نے اس بد کردار قوم پر آسمان سے پتھر برسا کر اسے تباہ کردیا۔ حضرت لوط (علیہ السلام) اور جو ان پر ایمان لا چکے تھے صرف وہی بچ سکے۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کی بیوی چونکہ درپردہ مشرکہ تھی اس لیے وہ بھی عذاب میں ہلاک ہوگئی۔ “ فَاَمْطَرْنَا عَلَیْھِمْ مَّطَرًا ” بارش سے پتھروں کی بارش مراد ہے۔ پہلے ان کی بستیوں کو الٹا دیا گیا۔ پھر اوپر سے پتھر برسائے گئے جیسا کہ سورة ہود رکوع 7 میں فرمایا۔ “ فَلَمَّا جَاءَ اَمْرُنَا جَعَلْنَا عَالِیَھَا سَافِلَھَا وَ اَمْطَرْنَا عَلَیْھِمْ حِجَارَةً مِّنْ سِجِّیْلٍ مَّنْضُوْدٍ ”۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–84
ربط آیات
اس سے پہلے اللہ تعالیٰ حضرات نوح ، ہود اور صالح علیہ (علیہم السلام) کے تاریخی واقعات بیان کرچکے ہیں جن کے ذریعے اہل ایمان کو جرات دلائی جارہی ہے کہ دیکھو ! اللہ کے انبیاء نے کتنے نامساعد حالات میں بھی دین کی خدمت کی اور خدا کا پیغام اپنی اپنی قوموں تک پہنچایا۔ یہ واقعات اگرچہ اجالاً بیان کیے گئے ہیں تاہم مقصد یہ ہے کہ امت آخر الزمان کو بھی یہ واقعات پیش نظر رکھ کر دین کے کام کو آگے بڑھانا ہے اس سورة میں حضرت صالح (علیہ السلام) کے بعد حضرت لوط (علیہ السلام) اور ان کی قوم کا حال بیان فرمایا ہے ولوطاً اس کا عطف بھی لقد ارسلنا نوحاً پر ہے اور مطلب یہ ہے کہ ہم نے حضرت لوط (علیہ السلام) کو…
Read the full tafseer →فَاَنْجَيْنٰہُ وَاَہْلَہٗٓ اِلَّا امْرَاَتَہٗ 0 ۡ ۖ كَانَتْ مِنَ الْغٰبِرِيْنَ 83
نجو
أصل النَّجَاء : الانفصالُ من الشیء، ومنه : نَجَا فلان من فلان وأَنْجَيْتُهُ ونَجَّيْتُهُ. قال تعالی: وَأَنْجَيْنَا الَّذِينَ آمَنُوا[ النمل/ 53]
( ن ج و )
اصل میں نجاء کے معنی کسی چیز سے الگ ہونے کے ہیں ۔ اسی سے نجا فلان من فلان کا محاورہ ہے جس کے معنی نجات پانے کے ہیں اور انجیتہ ونجیتہ کے معنی نجات دینے کے چناچہ فرمایا : ۔ وَأَنْجَيْنَا الَّذِينَ آمَنُوا[ النمل/ 53] اور جو لوگ ایمان لائے ان کو ہم نے نجات دی ۔
غبر
الْغَابِرُ : الماکث بعد مضيّ ما هو معه . قال :إِلَّا عَجُوزاً فِي الْغابِرِينَ [ الشعراء/…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–84
ترکیب : اذ قال اس کا فاعل اذکر محذوف ما سبقکم جملہ حال ہے الفاحشۃ سے شہوۃ مفعول لہ ہے لتاتون کا یا مصدر موضع حال میں ہے۔ من دون النساء موضع حال میں ہے اے منفردین عن النسائ۔ بل اس جگہ ایک بیان سے دوسرے بیان کی طرف متوجہ ہونے کے لئے یا محذوف سے اضراب ہے ای ما عدلتم بل انتم مسرفون۔ جواب منصوب اس کا بیان آل عمران میں آچکا۔
تفسیر : حضرت لوط (علیہ السلام) کا تذکرہ : چوتھا قصہ حضرت لوط (علیہ السلام) کا ہے جو اپنے چچا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ حران میں آرہے تھے کہ کسدیوں کے ملک سے جو بابل میں تھا ٗ ان کے والد حاران ان کی صغر سنی میں مرگئے تھے۔ پھر حران سے کوچ کرکے ملک کنعان میں سکم یعنی…
Read the full tafseer →ارشاد ہوتا ہے :
وَمَا کَانَ جَوَابَ قَوْمِہٖٓ اِلَّآ اَنْ قَالُوْٓا اَخْرِجُوْھُمْ مّنْ قَرْیَتِکُمْ ج اِنَّھُمْ اُنَاسٌ یَّتَطَھَّرُوْنَ ۔ (الاعراف : 82)
” نہیں تھا اس قوم کا جواب مگر یہ کہ وہ کہنے لگے کہ نکالو ان لوگوں کو اپنی بستی سے بیشک یہ لوگ بڑے پاکباز بنتے ہیں “۔
قومِ لوط کے بگاڑ کی انتہا اور اس کے نتائج
حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کے اس جواب پر غور فرمایئے کہ لوط (علیہ السلام) نے ہر ممکن طریق سے ان کے سامنے ان کی اخلاقی برائیوں کو واضح کرنے کی کوشش فرمائی۔ نہایت موثر انداز میں انھیں یہ بات سمجھانے کی کوشش کی کہ تم جس عادت بد کا شکار ہوگئے ہو یہ ایک ایسا جرم ہے جسے اجتماعی شکل میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–84
فہم القرآن
حضرت لوط (علیہ السلام) :
حضرت لوط (علیہ السلام) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بھتیجے تھے۔ جنھوں نے عراق کی سرزمین سے ہجرت کرکے غور زنمر کے علاقہ سدوم شہر میں رہائش اختیار کی۔ یہ شہر علاقے کا مرکزی مقام تھا۔ جہاں کے رہنے والے پر لے درجے کے فاسق و فاجر مشرک، کافر، ڈاکو، چور اور انتہائی بد کردار لوگ تھے۔ جنھوں نے دنیا میں بےحیائی کا ایسا عمل اختیار کیا جو اس سے پہلے کسی قوم نے نہیں کیا تھا۔
قوم لوط کا کردار :
انھوں نے اپنی نفسانی خواہش اپنی بیویوں سے پوری کرنے کے بجائے لڑکوں سے شروع کر رکھی تھی۔ گویا کہ یہ ہم جنسی کے بدترین گناہ کے مرتکب ہوئے۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کے بار بار سمجھانے…
Read the full tafseer →قوم کا جواب ‘ خیر کو عیب کہا :
آیت 82: وَمَاکَانَ جَوَابَ قَوْمِہٖٓ اِلَّآ اَنْ قَالُوْٓا اَخْرِجُوْھُمْ مِّنْ قَرْیَتِکُمْ (ان کی قوم سے کوئی جواب نہ بن پڑا ٗ سوائے اس کے کہ آپس میں کہنے لگے کہ ان لوگوں کو تم اپنی بستی سے نکال دو ) یعنی لوط اور جو لوگ ان پر ایمان لائے تھے۔ مطلب یہ ہوا کہ لوط ( علیہ السلام) نے ان سے انکار فاحشہ کے سلسلے میں جو جواب مانگا اس کا انہوں نے کوئی جواب نہ دیا۔ جس شرارت کی جڑ کے متعلق لوط نے ان کی نشاندہی کی۔ کہ وہ صرف لوگ ہیں۔ انہوں نے انکا کوئی جواب نہ دیا۔ بلکہ ایسی چیز پیش کی جو ان کے کلام سے بالکل متعلق نہ تھی۔ انہوں نے حکم دیا کہ لوط اور ان پر ایمان لانے والوں…
Read the full tafseer →تفسیر 82 (وما کان جواب قومہ انا ان قالوا وہ ایک دوسرے سے کہنے لگے اخر جوھم) یعنی لوط (علیہ السلام) اور ان کے دین والوں کو (من قریتکم انھم اناس یتطھرون) مردوں کے پاس جانے سے بچتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–84
(80 ۔ 84) ۔ حضرت لوط ( علیہ السلام) کی امت جن بستیوں میں راہتی تھی وہ بڑی شاداب اور سرسبز بسیتاں تھیں غیر بستیوں کے لوگ شادابی کے سبب سے قوم لوط کی بستیوں میں اکثر آجایا کرتے تھے جس کی وجہ سے قوم لوط کو طرح طرح کی تکلیف ہوتی تھی شیطان نے قوم لوط کو بہکایا کہ غیر بستیوں کے لوگ جو آویں ان کے ساتھ جتنے نو عمر لڑکے ہوں ان لڑکوں سے بدفعلی کی جاوے تو غیر لوگ تمہاری بستیوں میں ہر گر نہ آویں شیطان کے بہکانے سے اور خوب صورت لڑکا بن کر ان کو ورغلانے سے انہوں نے ویساہی کیا اور پھر ان میں وہ عادت جم گئی حضرت لوط ( علیہ السلام) نے ہرچند سمجھایا مگر انہوں نے نہ مانا آخر حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے اس قدر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–86
آیت 80
(ولوطا) یعنی ہمارے بندے لوط کا ذکر کیجیے جب ہم نے ان کو ان کی قوم کی طرف مبعوث کیا کہ وہ انہیں صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کا حکم دیں اور انہیں اس برائی سے روکیں جو پورے جہاں میں ان سے پہلے کسی نے نہیں کی۔ لوط نے کہا (اتاتون الفاحشۃ) ” کیا تم کرتے ہو ایسی بےحیائی “ یعنی تم ایک ایسے گناہ کا ارتکاب کرتے ہوئے جس کی قباحت اتنی زیادہ ہے کہ فواحش کی تمام اقسام کو اس نے اپنے اندر سمیٹ لیا ہے۔ (ماسبقکم بھامن احدمن العلمین) ” کہ تم سے پہلے نہیں کیا اس کو کسی نے جہان میں “ اس کا فحش ہونا قبیح ترین چیز ہے اور یہ کہ اس قبیح فعل کو ان لوگوں نے شروع کر کے بعد میں آنے والوں کے لئے رواج دیا تھا، اس سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–141
دعا کا طریقہ
قول باری ہے وادعواربکم تضرعاً عاوخفیۃ۔ اپنے رب کو پکارو گڑگڑاتے ہوئے اور چپکے چپکے) آیت میں چپکے چپکے رب کو پکارنے کا حکم ہے حسن کا قول ہے کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے تمہیں اس بات کی تعلیم دی ہے کہ تم اپنے رب کو کس طرح پکارو۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک عہد صالح کا ذکر فرمایا جس کی پکار کو اس نے پسند فرمایا تھا چناچہ ارشاد ہے اذنادی ربہ نداء خفیا۔ جبکہ اس نے اپنے رب کو چپکے چپکے پکارا) یعنی حضرت زکریاعلیہ السلام عبداللہ بن المبارک نے حسن بصری سے روایت کی ہے کہ لوگ یعنی صحابہ کرام بڑی عاجزی اور نیاز مندی کے ساتھ دعائیں مانگا کرتے تھے اور صرف سرگوشی کی آواز سنائی دیتی تھی۔ حضرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 82–83
113 اِعراض و استکبار باعث ہلاکت و تباہی ۔ والعیاذ باللہ ۔ : سو اعراض و استکبار یعنی اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں حق سے منہ موڑنا دائمی ہلاکت و تباہی کا پیش خیمہ ہے۔ اسی بناء پر قوم لوط نے ایسے کہا اور یہ وہی متکبرانہ جواب ہے جو اس طرح کی شامت زدہ قوموں اور ان کے گمراہ لیڈروں کا وطیرہ ہوتا ہے اور اس طرح کے جواب سے وہ گویا کہ اپنے آخری اور حتمی فیصلے کے مطالبے پر آخری دستخط کرلیتے ہیں اور اپنے قول و فعل سے واضح کردیتے ہیں کہ اب ان کے اندر خیر کی کوئی رمق باقی نہیں رہی اور اب ان لوگوں کا وجود اللہ کی دھرتی پر ایک نارو ا بوجھ بن گیا ہے جس کو کچرے کے ڈھیر کی طرح ہمیشہ کیلئے دفن کردیا جانا چاہیئے کہ اب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–84
قوم لوط کا گناہ اور عذاب
تشریح : انبیاء اور ان کی قوموں کے قصوں کا جو سلسلہ چل رہا ہے ان میں سے یہ چوتھی قوم لوط ہے جس کا ذکر قرآن پاک میں یوں کیا گیا ہے۔ لوط (علیہ السلام) اللہ کے نبی ہیں یہ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کے بھتیجے تھے۔ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) اپنے بت پرست والد اور تمام خاندان کو چھوڑ کر عراق سے شام کی طرف ہجرت کر گئے تھے۔ جب سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) نے ہجرت کی تو ان کے ساتھ ان کی بیوی سارہ اور بھتیجا سیدنا لوط (علیہ السلام) تھے۔ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) فلسطین میں اور سیدنا لوط (علیہ السلام) اردن چلے گئے وہاں ان کو حکم ہوا کہ سدوم شہر کے مضافات میں چلے جاؤ اور وہاں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–84
رکوع نمبر 10 ۔ آیات نمبر 73 تا 84 ۔
اسرار و معارف :
حقیقت دعا :
بات اسی تسلسل میں جا رہی ہے کہ اللہ تعالیٰ بہت بڑی قدرت کا مالک اور اپنی مخلوق پر بہت زیادہ مہربان بھی ہے اس کی رحمت محتاجوں کو تلاش کرتی ہے اگر کوئی انسان محروم ہے تو اس کی وجہ نزول رحمت میں کمی نہیں خود اس کے دل میں قبولیت کی استعداد میں کمی ہے جیسے حدیث شریف ارشاد ہے کہ لوگ دور دراز سفر کرکے پریشان بالوں پھٹے ہوئے دامنوں اور گرد سے اٹے پاؤں اور چہرہ لے کر پکارتے ہیں یار یارب مگر ان کی دعا سنی نہیں جاتی اس لیے کہ کھانا حرام پہننا حرام ہوتا ہے بعض بےنصیب تو دعا ہی سے محروم ہوتے ہیں اور بعض صورت دعا تو بنا لیتے ہیں مگر حقیقت سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–82
ف 8 اہل سدو کو اس لحاظ سے حضرت لو ط ( علیہ السلام) کی قوم کہا گیا ہے کہ وہ ان کی طرف مبعوث تھے یہ یا شایدان کا ان سے سسرال کا رشتہ ہوگا۔
1 یعنی ہم گنہگار ناپاک لوگوں میں ان کا کیا کام۔ یہ بات انہوں نے طنزا یا مسخرے پن سے کہی۔ ( رازی )
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–82
(7:81) مسرفون۔ اسم فاعل۔ اسراف مصدر اعتدال سے یا حد مقررہ سے آگے بڑھنے والے۔ بےجا و بیہودہ صرف کرنے والے۔ لواطت کرنے والے۔ غرض حد حلال سے حد حرام کی طرف بڑھنے والے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–84
لغات القرآن آیت نمبر (80 تا 84) ۔
اتاتون (کیا تم آتے ہو ؟ ) ۔ الفاحشتہ (بےحیائی کے کام) ۔ ماسبق (نہیں گزرا) ۔ من احد (کوئی ایک بھی) ۔ الرجال (الرجل) ۔ مرد) ۔ شھوۃ (خواہش۔ بری خواہش) ۔ دون النسآء (حد سے باہر نکل جانے والے) ۔ اخرجوا (نکالو) ۔ قریتکم (تمہاری اپنی بستی) ۔ اناس (لوگ) ۔ یتطھرون (صاف ستھرا رہتے ہیں) ۔ امراتہ (اس کی عورت۔ اس کی بیوی) ۔ الغبرین (پیچھے رہنے والیوں (میں سے) ۔ امطرنا (ہم نے برسایا) ۔ عاقبتہ المجرمین (مجرموں کا انجام) ۔
تشریح : آیت نمبر (80 تا 84 ) ۔ ” قوم لوط کا وہی علاقہ ہے جسے آج ہم بحرمیت یا بحیرہ مردار کہتے ہیں۔ یہ بحیرہ سمندر سے بھی زیادہ گہرائی میں ہے۔ چناچہ اس میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–85
حضرت شعیب علیہ السلام۔ عذاب آگ اور زلزلہ
حضرت شعیب (علیہ السلام) کی دو امتیں ہیں اور سوا حضرت شعیب (علیہ السلام) کے اور کوئی نبی دو امتوں کی ہدایت کے لئے نہیں بھیجا گیا۔ ایک امت ان کی یہ قبیلہ ہے جس کا نام مدین ہے، اور حضرت شعیب (علیہ السلام) بھی اسی قبیلہ سے ہیں۔ اسی واسطے اللہ تعالیٰ نے حضرت شعیب (علیہ السلام) کو اس قبیلہ کا بھائی فرمایا ہے اور دوسری امت بن کے رہنے والے لوگ ہیں جن کو اصحاب الدی کہ فرمایا ہے اصحاب الدی کہ کے لوگ کم تولتے اور کم ناپتے تھے اور یہ لوگ پیڑوں کی بھی پوجا کیا کرتے تھے۔ لیکن قبیلہ مدین اور اصحاب الئی کہ ایک ہی امت تھے، جن کی ہدایت کے لئے حضرت شعیب (علیہ السلام)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–83
[37] لوط (علیہ السلام) کی بیوی کافرہ تھی اور غالباً اس قوم سے تھی۔ قرآن میں دوسرے مقامات پر تصریح ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے لوط (علیہ السلام) اور ان کے ساتھیوں کو وہاں سے نکل جانے کا حکم دیا تو یہ بھی ہدایت کی کہ بیوی کو ساتھ نہ لے جانا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 82–84
(ف 1) بدبختوں نے جب یہ دیکھا کہ حضرت لوط (علیہ السلام) ان کو ان کے حیوانی جذبات سے روکتے ہیں ، تو ان کے دشمن ہوگئے ، لگے کہنے ان کو گاؤں سے نکال دو ، یہ ہم سے زیادہ پاکباز رہنا چاہتے ہیں ،
اللہ تعالیٰ نے ان کے انکار وتمرد کو دیکھ کر عذاب بھیجا ، اور چشم زدن میں بستیوں کی بستیاں الٹ دیں ۔
حل لغات :
کیل : ماپ ۔
المیزان : تول وزن سے مشتق ہے ۔
Read the full tafseer →82 لوط (علیہ السلام) کی قوم کا اس کے علاوہ کوئی جواب ہی نہیں تھا اور آخر کار وہ اس ہی فیصلہ پر پہنچے کہ انہوں نے کہا ان لوگوں کو یعنی لوط (علیہ السلام) اور اس کے ساتھیوں کو اپنی بستی سے نکال باہرکرو کیونکہ یہ لوگ بڑے پاک صاف بنتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–82
ف 2۔ بل انتم کی تفسیر کا حاصل یہ ہے کہ بعض معاصی میں تقلید آباء وغیرہ سے دھوکہ ہوجاتا ہے اس میں تو یہ بھی نہیں اور بعض آیتوں میں جو تجھلون آیا ہے اس سے شبہ نہ ہو کہ ان کو اس کی قباحت معلوم نہ تھی کیونکہ وہاں جہل سے مراد یہ نہیں بلکہ یہ مراد ہے کہ تم کو اس کو بد انجام یعنی عذاب معلوم نہیں۔
Read the full tafseer →لوط (علیہ السلام) کو قوم کی طرف سے جواب سنایا گیا وہ بھی انوکھا ہی تھا ؟
93: بلاشبہ لوط (علیہ السلام) کی قوم آپ کے حسب ونسب کے لحاظ سے نہیں تھی بلکہ دعوت الٰہی کی نسبت تھی اور حقیقت میں وہ ہجرت کر کے یہاں تشریف لائے تھے اور علاقائی قرب کے لحاظ سے ایک ہی زبان بولتے تھے۔ لوط (علیہ السلام) کی دعوت کے جواب میں اور اس فعل شنیع کے روکنے کے باعث وہ مشتعل ہوگئے اور کہنے لگے ” بلاشبہ یہ پاک لوگ ہیں “ قوم لوط کا یہ مذاقیہ فقرہ تھا گویا حضرت لوط (علیہ السلام) اور ان کے خاندان پر وہ اس طرح طنز کر رہے تھے اور ان کا ٹھٹھا اڑا رہے تھے کہ بڑے پاکباز ہیں تو ان کا ہماری بستی میں کیا کام یا ناصح مشفق کی مربیانہ…
Read the full tafseer →In the third verse (82) Lut (علیہ السلام) in response to his word of advice has been put in a way that it shows that his people could not find a suitable rejoinder to what he had said. But, they were still adamant and started saying among themselves that these people seem to be self-righteous claiming a lot of purity for themselves. The treatment they deserved was that they should be thrown out of their town.
Read the full tafseer →65. It is evident from the present verse that the people of Lot Were not only shameless and corrupt, but were also a people who had sunk in moral depravity to such a degree that even the presence of a few righteous persons had become intolerable to them. Their moral degradation left them with no patience for anyone who sought to bring about any moral reform. Even the slightest element of purity found in their society was too much for them, and they simply wished to have their society purged of it.
When these people reached such a low point of wickedness and hostility to good, God decreed that…
Read the full tafseer →