Al-A'raaf 7:81

Al-A'raaf · from ayah 81

7:81

اِنَّكُمْ لَتَاْتُوْنَ الرِّجَالَ شَهْوَةً مِّنْ دُوْنِ النِّسَآءِ ؕ— بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ مُّسْرِفُوْنَ ۟اِنَّكُمۡ لَـتَاۡتُوۡنَ الرِّجَالَ شَهۡوَةً مِّنۡ دُوۡنِ النِّسَآءِ‌ ؕ بَلۡ اَنۡـتُمۡ قَوۡمٌ مُّسۡرِفُوۡنَ

یعنی خواہش نفسانی پورا کرنے کے لیے عورتوں کو چھوڑ کر لونڈوں پر گرتے ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ تم لوگ حد سے نکل جانے والے ہو

— Fateh Muhammad Jalandhari

Indeed, you approach men with desire, instead of women. Rather, you are a transgressing people."

— Saheeh International

Juz 8 · Ruku 10 of surah · Ruku 17 of juz

Read the whole surah · Surah Al-A'raaf

All translations of 7:81

تم عورتوں کو چھوڑ کر مردوں سے اپنی خواہش پوری کرتے ہو حقیقت یہ ہے کہ تم بالکل ہی حد سے گزر جانے والے لوگ ہو"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

یعنی خواہش نفسانی پورا کرنے کے لیے عورتوں کو چھوڑ کر لونڈوں پر گرتے ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ تم لوگ حد سے نکل جانے والے ہو

— مولانا فتح محمد جالندہری

تم مردوں کے ساتھ شہوت رانی کرتے ہو عورتوں کو چھوڑ کر، بلکہ تم تو حد ہی سے گزر گئے ہو

— مولانا محمد جوناگڑہی

تم جنسی ہوس پوری کرنے کے لیے عورتوں کے بجائے مردوں کے پاس جاتے ہو۔ (اور یہ کوئی اتفاقی واقعہ نہیں) بلکہ تم ایسے لوگ ہو کہ (شرافت کی) تمام حدیں پھلانگ چکے ہو۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تم تو مردوں کے پاس شہوت سے جاتے ہو عورتیں چھوڑ کر، بلکہ تم لوگ حد سے گزر گئے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

بیشک تم نفسانی خواہش کے لئے عورتوں کو چھوڑ کر مَردوں کے پاس آتے ہو بلکہ تم حد سے گزر جانے والے ہو،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

بیشک تم تو عورتوں کو چھوڑ کر مردوں کے پاس شہوت سے آتے ہو، بلکہ تم حد سے گزرنے والے لوگ ہو۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

تم شہوت رانی کے لئے عورتوں کو چھوڑ کر مردوں کے پاس آتے ہو۔ تم تو حد سے بڑھے ہوئے لوگ ہو

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

تم عورتوں کو چھوڑ کر مردوں سے شہوت رانی کرتے ہو۔ بڑی ہی اوندھی عقل کے بلکہ حد سے گزر جانے والے لوگ ہو

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

تم لوگ مردوں سے شہوت رانی کرتے ہو، عورتوں کو چھوڑ کر ؟ (اور یہ کسی دھوکہ یا مغالطہ سے نہیں) بلکہ تم تو ہو ہی حد سے گزرنے والے لوگ،

— مولانا اسحاق مدنی

تم عورتوں کو چھوڑ کر مردوں کے ساتھ شہوت رانی کرتے ہو نہیں بلکہ اصل یہ ہے کہ تم ہی ہو حد سے گزرے ہوئے لوگ۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

تم مردوں کا رخ کرتے ہو شہوت کے ساتھ عورتوں کو چھوڑ کر بلکہ تم تو ہو ہی حد سے تجاوز کرنے والی قوم۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

تم نفسانی خواہش پورا کرنے کے لیے عورتوں کو چھوڑ کر لونڈوں پر گرتے ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ تم لوگ حد سے نکل جانے والے ہو۔

— محترمہ رفعت اعجاز

You approach men lustfully in place of women. You are a people who exceed all bounds.'

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

You come to men lustfully instead of women. No, you are a people who cross the limits.

— Muhammad Taqi Usmani

You come to men lustfully instead of women. No, you are a people who cross the limits.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

"Verily, you practice your lusts on men instead of women. Nay, but you are a people transgressing beyond bounds."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Lo! ye come with lust unto men instead of women. Nay, but ye are wanton folk.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Indeed, you approach men with desire, instead of women. Rather, you are a transgressing people."

— Saheeh International

You engage in lustful activities with people instead of women. You have become transgressing people.

— Muhammad Sarwar

Most surely you come to males in lust besides females; nay you are an extravagant people.

— Muhammad Habib Shakir

Verily ye go in lustfully unto men instead of women! Aye! ye are a people extravagant.

— Abdul Majid Daryabadi

"For ye practise your lusts on men in preference to women: ye are indeed a people transgressing beyond bounds."

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 7:81

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 80–81

لوط ؑ کی بدنصیب قوم فرمان ہے کہ حضرت لوط ؑ کو بھی ہم نے ان کی قوم کی طرف اپنا رسول بنا کر بھیجا تو ان کے واقعہ کو بھی یاد کر، حضرت لوط ؑ ہاران بن آزر کے بیٹے تھے۔ حضرت ابراہیم ؑ کے بھتیجے تھے آپ ہی کے ہاتھ پر ایمان قبول کیا تھا اور آپ ہی کے ساتھ شام کی طرف ہجرت کی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنا نبی بنا کر سدوم نامی بستی کی طرف بھیجا آپ نے انہیں اور آس پاس کے لوگوں کو اللہ کی توحید اور اپنی اطاعت کی طرف بلایا نیکیوں کے کرنے برائیوں کو چھوڑنے کا حکم دیا۔ جن میں ایک برائی اغلام بازی تھی جو ان سے پہلے دنیا سے مفقود تھی۔ اس بدکاری کے موجد یہی ملعون لوگ تھے۔ عمرو بن دینار یہی فرماتے ہیں۔ جامع دمشق…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْاَعْرَاف 64 دوسرے مقامات پر اس قوم کے بعض اور اخلاقی جرائم کا بھی ذکر آیا ہے، مگر یہاں اس کے سب سے بڑے جرم کے بیان پر اکتفا کیا گیا ہے جس کی وجہ سے خدا کا عذاب اس پر نازل ہوا۔ یہ قابل نفرت فعل جس کی بدولت اس قوم نے شہرت دوام حاصل کی ہے، اس کے ارتکاب سے تو بدکردار انسان کبھی باز نہیں آئے، لیکن یہ فخر صرف یونان کو حاصل ہے کہ اس کے فلاسفہ نے اس گھناؤنے جرم کو اخلاقی خوبی کے مرتبے تک اٹھانے کی کوشش کی اور اس کے بعد جو کسر باقی رہ گئی تھی اسے جدید مغربی تہذیب نے پورا کیا کہ علانیہ اس کے حق میں زبردست پروپیگنڈا کیا گیا، یہاں تک کہ بعض ملکوں کی مجالس قانون ساز نے اسے باقاعدہ جائز ٹھیرا دیا۔…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

دوسری آیت میں ان کی اس بےحیائی کو زیادہ واضح الفاظ میں اس طرح بیان فرمایا کہ تم عورتوں کو چھوڑ کر مردوں کے ساتھ شہوت رانی کرتے ہو۔ اس میں اشارہ کردیا کہ انسان کی طبعی اور فطری خواہش کی تسکین کے لئے اللہ تعالیٰ نے ایک حلال اور جائز طریقہ عورتوں سے نکاح کرنے کا مقرر فرما دیا ہے اس کو چھوڑ کر غیر فطری طریقہ کو اختیار کرنا نری خباثت نفس اور گندہ ذہنی کا ثبوت ہے۔ اسی لئے صحابہ وتابعین اور ائمہ مجتہدین نے اس جرم کو عام بدکاری سے زیادہ شدید جرم و گناہ قرار دیا ہے۔ امام اعظم ابوحنیفہ رحمة اللہ علیہ نے فرمایا ایسا فعل کرنے والے کو ایسی ہی سزا دینا چاہئے جیسے قوم لوط کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے دی گئی کہ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

اِنَّكُمْ لَتَاْتُوْنَ الرِّجَالَ شَهْوَةً مِّنْ دُوْنِ النِّسَاۗءِ ۭ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ مُّسْرِفُوْنَ۔ یہ اظہار نفرت کا تیسرا پہلو ہے یعنی تم نے تو فطرت کو بالکل ہی الٹ کر رکھ دیا ہے۔ جملہ میں جو تاکید ہے وہ نفرت اور تعجب کی شدت کو ظاہر کر رہی ہے۔ ‘ رجال ‘ کا لفظ بھی یہاں معنی خیر زہے اس لیے کہ رجال پختہ سن و سال کے مردوں کو کہتے ہیں۔ اس لفظ کے استعمال سے ایک تو اس فعل کے گھنونے پن کا اظہار ہو رہا ہے۔ دوسرے اس سے دیوثیت کا اظہار ہورہا ہے جو کسی قوم میں اس مرض خبیث کے عام ہوجانے کی صورت میں لازماً پید اہوجاتی ہے۔ اس کے عام ہوجانے کی صورت میں سن و سال کی تمییز بالکل اٹھ جاتی ہے۔ پھر ہر عمر…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

81۔ 1 یعنی مردوں کے پاس تم اس بےحیائی کے کام کے لئے محض شہوت رانی کی غرض سے آتے ہو، اس کے علاوہ تمہاری اور کوئی غرض ایسی نہیں ہوتی جو موافق عقل ہو۔ اس لحاظ سے جاہلوں کی طرح تھے یا محض شہوت رانی کے لئے ایک دوسرے پر چڑھتے ہیں۔ 181۔ 2 جو قضائے شہوت کا اصل محل اور حصول لذت کی اصل جگہ ہے۔ یہ ان کی فطرت کے مسخ ہونے کی طرف اشارہ ہے، یعنی اللہ نے مرد کی جنسی لذت کی تسکین کے لئے عورت کی شرم گاہ کو اس کا محل اور موضع بنایا ہے اور ان ظالموں نے اس سے تجاوز کرکے مرد کی دبر کو اس کے لئے استعمال کرنا شروع کردیا۔ 81۔ 3 لیکن اب یہ فطرت صحیحہ سے انحراف اور حدود الٰہی سے تجاوز کو مغرب کی ' مہذب ' قوموں نے…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 80–84

40: حضرت لوط ؑ حضرت ابراہیم ؑ کے بھتیجے تھے، جو اپنے مقدس چچا کی طرح عراق میں پیدا ہوئے تھے، اور جب انہوں نے وہاں سے ہجرت کی تو حضرت لوط ؑ بھی ان کے ساتھ وطن سے نکل آئے، بعد میں حضرت ابراہیم ؑ فلسطین کے علاقے میں آباد ہوئے، اور حضرت لوط ؑ کو اللہ تعالیٰ نے اردن کے شہرسدوم (sodom) میں پیغمبر بناکر بھیجا، سدوم ایک مرکزی شہر تھا اور اس کے مضافات میں عمورہ وغیرہ کئی بستیاں آباد تھیں، کفر وشرک کے علاوہ ان بستیوں کی شرمناک بدعملی یہ تھی کہ وہ ہم جنسی (homosexuality) کی لعنت میں گرفتار تھے جس کا ارتکاب قرآن کریم کی تصریح کے مطابق ان سے پہلے دنیا کے کسی فرد نے نہیں کیا تھا، حضرت لوط ؑ نے انہیں اللہ…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 80–81

آیت ” نمبر 80 تا 84۔ قصہ لوط میں انسانی فطرت کے ایک ایسے بگاڑ کا ذکر ہے جسکی مخصوص نوعیت ہے ۔ سابقہ قصص میں تو اقوام کی ہلاکت نہایت ہی اساسی نظریہ حیات یعنی عقیدہ توحید اور وحدت حاکمیت الہ کے مسئلے پر ہوتی تھی ۔ لیکن فطرت کا یہ بگاڑ بھی نہایت ہی اساسی مسئلہ تھا اور یہ عقیدہ توحید اور مسئلہ حاکمیت سے متعلق تھا ۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ کی ربوبیت اور عبودیت کے اقرار کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ قرآن وسنت کی مکمل اطاعت کی جائے ۔ سنت الہیہ یہ ہے کہ اللہ نے مرد اور عورت کو علیحدہ اصناف میں پیدا کیا اور مرد اور عورت کے اتصال کو ایسا ذریعہ بنایا جس کے نتیجے مین وہ ایک دوسرے کے لئے ذریعہ تکمیل ثابت ہوئے اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

7 یعنی صرف یہ ہی نہیں کہ ایک گناہ کے تم مرتکب ہو رہے ہو بلکہ اس کے خلاف فطرت فعل کا ارتکاب اس کی دلیل ہے کہ تم انسانیت کی حدود سے بھی باہر نکل چکے ہو۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 81 اِنَّکُمْ لَتَاْتُوْنَ الرِّجَالَ شَہْوَۃً مِّنْ دُوْنِ النِّسَآءِط بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ مُّسْرِفُوْنَ یعنی تمہارا یہ فعل اصول فطرت کے بھی خلاف ہے اور قانون طبعی سے بھی متصادم۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

86 عمل قوم لوط غیر فطری اور حیوانی سطح سے بھی گرا ہوا فعل ہے :۔ اس لیے کہ یہ فعل فطرت کی وضع کے خلاف ہے اور مرد اور عورت کے جنسی اعضاء کی ساخت ان کے اس فعل بد کی تردید کا کھلا ہوا ثبوت ہے سوا ازیں انسانوں کے علاوہ دوسرے جانور خواہ وہ درندے ہوں یا پالتو ہوں یا پرندے ہوں کوئی بھی ایسی مذموم حرکت نہیں کرتا کہ نر، نر پر کودنے لگے جس کا مطلب یہ ہوا کہ انسان حیوانات کی سطح سے بھی نیچے اتر آیا ہے۔ اب دیکھیے اگر مرد، مردوں سے اپنی شہوانی اغراض پوری کرلیں تو ایسے معاشرے میں عورتوں کی کیا حیثیت رہ جائے گی۔ اس کے علاوہ اگر عورتیں بھی عورتوں سے لپٹ کر یا کسی دوسرے جانور مثلاً کتے وغیرہ سے اپنی شہوت پوری…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

108 ۔ (چنانچہ ایک اسی عادت پر کیا موقوف ہے ہر معاملہ میں ایسے ہی حدود سے گزرنے والے) ای انتم مسرفون فی کل الاعمال (کبیر) توریت میں اسی مقام پر ہے :۔ ” اور سدوم کے لوگ خداوند کی نظر میں نہایت بدکار اور گناہگار تھے “۔ (پیدائش 13: 13)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 80–84

قوم لوط کی مختصر تاریخ : ولوطا اذقال لقومہ (الآیۃ) یہ قوم اس علاقہ میں رہتی تھی جسے آجکل شرق اردن کہا جاتا ہے، اور عراق و فلسطین کے درمیان واقع ہے بائبل میں اس قوم کا صدر مقام سدوم بتایا گیا ہے جو یا تو بحیرہ مردار (بحر میت) کے قریب کہیں واقع تھا یا بحر میت میں غرق ہوچکا ہے۔ حضرت لوط (علیہ السلام) حضرت ابراہیم کے بھائی ہاران کے بیٹے تھے حضرت لوط (علیہ السلام) اپنے چچا ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ عراق سے نکلے کچھ مدت تک شام و فلسطین و مصر میں گشت لگا کر دعوت و تبلیغ کے کام میں مصروف رہے، اس کے بعد مستقل منصب رسالت پر فائز ہو کر اسی بگڑی ہوئی قوم کی اصلاح پر مامور ہوئے۔ یہودیوں کی تحریف کردہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

انکم لتاتون الرجال شہوۃ من دون النسآء بل انتم قوم مسرفون۔ تم عورتوں کو چھوڑ کر مردوں سے شہوت رانی کرتے ہو۔ حقیقتاً تم حد (انسانیت) ہی سے گزر گئے۔ لوط بن ہارس (یا ہاران) بن تارخ حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کے بھتیجے تھے۔ قوم لوط سے مراد سدوم والے ہیں۔ لُوْطًا۔ اَرْسَلْنَا محذوف کا مفعول ہے اور اذقالَاس کا ظرف ہے یا اُذْکُرْمحذوف ہے (یاد کرو) اور اذقال اس سے بدل ہے۔ اتاتون میں زجر آمیز انکار استفہامی ہے۔ الفاحشۃ یعنی مردوں سے لواطت بہا میں ب تعدیہ کی ہے من احد میں من زائد ہے مگر نفی میں تاکید اور عموم پیدا کر رہا ہے۔ من العلمین میں منتبعیضیہ ہے۔ عمرو بن دینار کا قول ہے کہ دنیا میں کوئی نر کسی…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 80–81

(80۔ 81) اور ہم نے حضرت لوط ؑ کو ان کی قوم کی طرف بھیجا کہ تم لواطت کا فعل کرتے ہو، جو تم سے پہلے کسی نے نہیں کیا تم عورتوں کو چھوڑ کر مردوں کے ساتھ شہوت رانی کرتے ہو بلکہ تم نے شرک میں اس قدر حد سے تجاوز کیا کہ حرام کو حلال کردیا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

اِنَّكُمْ لَتَاْتُوْنَ الرِّجَالَ : چھوٹے یا بےریش لڑکوں کے بجائے مردوں کا لفظ ان کے فعل کی قباحت کے مزید اظہار کے لیے استعمال کیا ہے۔ فرمایا کہ یہ فعل بد تم سے پہلے دنیا میں کسی نے نہیں کیا، جیسا کہ اس سے پہلی آیت میں ہے : (مَا سَبَقَكُمْ بِهَا مِنْ اَحَدٍ مِّنَ الْعٰلَمِيْنَ) یعنی تم دوہرے مجرم ہو، ایک اس فعل بد کی وجہ سے، دوسرے اس فعل بد کا آغاز کرنے کی وجہ سے۔ اب قیامت تک اس جرم کے ہر مرتکب کا گناہ اس کے ساتھ ساتھ قوم لوط کی گردن پر بھی ہوتا ہے۔ شَهْوَةً مِّنْ دُوْنِ النِّسَاۗءِ ۭ: یہ تیسرا جرم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہاری خواہش نفس پوری کرنے کے لیے جو بیویاں بنائی ہیں انھیں چھوڑ کر مردوں…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر : 81 قولہ تعالیٰ آیت : انکم حضرت نافع اور حفص نے خبر کی بنا پر اسے ایک ہمزہ مک سورة کے ساتھ پڑھا ہے۔ اور یہ مذکور فاحشہ کی تفسیر ہے، پس اس پر حرف استفہام داخل کرنا اچھا نہیں، کیونکہ یہ اپنے مابعد کو اپنے ماقبل سے قطع کردیتا ہے۔ لیکن باقیوں نے استفہام کی بنا پر اسے دو ہمزوں کے ساتھ پڑھا ہے اور یہ استفہام تو بیخ (جھڑک) کے معنی میں ہے اور یہ حسین ہے، کیونکہ اس کا ماقبل اور مابعد مستقل کلام ہے۔ ابو عبید اور کسائی وغیرہ نے پہلے قول کو اختیار کیا ہے۔ اور انہوں نے اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد سے استدلال کیا ہے : آیت : افائم مت فھم الخلدون (الانبیائ) اس میں افھم نہیں فرمایا۔ اور مزید فرمایا : آیت…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 80–84

(1) امام ابن عساکر نے سلیمان بن صرد (رح) سے روایت کیا کہ لوط (علیہ السلام) کے والد ابراہیم کے چچا تھے۔ (2) امام اسحاق بن بشر اور ابن عساکر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لوط (علیہ السلام) کو بستیوں کی جانب بھیجا گیا اور لوط کی بستیاں مدائن کی چار بستیاں تھیں سدوم امورا، اور صبویر اور ہر بستی میں ایک لاکھ جنگ جو تھے۔ اور ان کے مدائن میں بڑی بستی سدوم کی تھی۔ لوط اس میں رہتے تھے اور یہ شام کے شہروں میں سے ہے۔ اور فلسطین سے ایک رات کے سفر پر ہے۔ اور براہیم کے لوط بن ھاروان بن تارح کے چچا تھے ابراہیم قوم لوط کو نصیحت کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے قوم لوط کو مہلت دی تھی۔ انہوں نے اسلام کے پردے کو پھاڑ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

اِنَّكُمْ [ بیشک تم لوگ ] لَتَاْتُوْنَ [ یقینا آتے ہو ] الرِّجَالَ [ مردوں کے پاس ] شَهْوَةً [ شہوت کرتے ہوئے ] مِّنْ دُوْنِ النِّسَاۗءِ ۭ [ عورتوں کے علاوہ ] بَلْ [ بلکہ ] اَنْتُمْ [ تم لوگ ] قَوْمٌ مُّسْرِفُوْنَ [ ایک حد سے تجاوز کرنے والی قوم ہو ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 79–81

حضرت لوط (علیہ السلام) کا اپنی قوم کو احکام پہنچانا اور قوم کا اپنے افعال سے باز نہ آنا اور انجام کے طور پر ہلاک ہونا ان آیات میں حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کی بد کر داری کا اور تھوڑا سا اس سوال و جواب کا ذکر ہے جو حضرت لوط (علیہ السلام) اور ان کی قوم کے درمیان ہوا نیز جو ان پر عذاب آیا اس کا بھی ذکر ہے مفصل قصہ سورة ہود اور سورة حجر اور سورة شعراء اور سورة عنکبوت میں مذکورہ ہے اور تھوڑا تھوڑا دیگر مواقع میں بھی ہے۔ یہ لوگ ایمان بھی نہ لائے اور جن برے کاموں میں مبتلا تھے ان سے حضرت لوط (علیہ السلام) نے روکا تو الٹے الٹے جواب دیتے رہے۔ یہاں سورة اعراف میں ان کی ایک بد کرداری کا تذکرہ فرمایا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 80–84

قصہ چہارم حضرت لوط (علیہ السلام) باقوم او قال اللہ تعالیٰ ولوطا اذ قال لقومہ۔۔۔ الی۔۔۔ فانظر کیف کان عاقبۃ المجرمین (ربط) یہ چوتھا قصہ لوط (علیہ السلام) کا ہے جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بھتیجے تھے اور شہر سدوم کے رہنے والوں کی طرف نبی بنا کر بھیجے گئے تھے یہ شہر شرق اردن کے علاقہ سے قریب ہے یہ لوگ بت پرست اور نہایت بدکار تھے لڑکوں سے بدفعلی کیا کرتے تھے۔ یہی بدبخت قوم اس ناپاک عمل کی موجد تھی ان سے پہلے دنیا کی کسی قوم نے یہ خبیث فعل نہیں کیا تھا اور یہ لوگ لٹیرے بھی تھے تاجروں کو لوٹ لیتے تھے اور بےحیا اس قدر تھے کہ بھری مجلسوں میں بےحیائیوں کے مرتکب ہوتے حضرت لوط (علیہ السلام) نے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

87: یہ “ اَلْفَاحِشَةَ ” کی تفسیر ہے۔ “ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ مُّسْرِفُوْنَ ” بل ترقی کے لیے ہے یعنی برسر عام مجالس میں بھی تم اس فعل شنیع کا ارتکاب کرتے ہوئے نہیں شرماتے ہو۔ جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا “ وَ تَاتُوْنَ فِیْ نَادِیْکُمُ الْمُنْکَرَ ”(عنکبوت رکوع 3) “ وَ مَا کَانَ جَوَابَ قَوْمِهٖ الخ ”۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کی پند و نصیحت کے جواب میں قوم نے فیصلہ کیا کہ ان کو گاؤں سے نکال دیا جائے۔ یہ بڑے پاکباز بنتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 80–84

ربط آیات اس سے پہلے اللہ تعالیٰ حضرات نوح ، ہود اور صالح علیہ (علیہم السلام) کے تاریخی واقعات بیان کرچکے ہیں جن کے ذریعے اہل ایمان کو جرات دلائی جارہی ہے کہ دیکھو ! اللہ کے انبیاء نے کتنے نامساعد حالات میں بھی دین کی خدمت کی اور خدا کا پیغام اپنی اپنی قوموں تک پہنچایا۔ یہ واقعات اگرچہ اجالاً بیان کیے گئے ہیں تاہم مقصد یہ ہے کہ امت آخر الزمان کو بھی یہ واقعات پیش نظر رکھ کر دین کے کام کو آگے بڑھانا ہے اس سورة میں حضرت صالح (علیہ السلام) کے بعد حضرت لوط (علیہ السلام) اور ان کی قوم کا حال بیان فرمایا ہے ولوطاً اس کا عطف بھی لقد ارسلنا نوحاً پر ہے اور مطلب یہ ہے کہ ہم نے حضرت لوط (علیہ السلام) کو…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِہٖٓ اِلَّآ اَنْ قَالُوْٓا اَخْرِجُوْہُمْ مِّنْ قَرْيَتِكُمْ۝ 0 ۚ اِنَّہُمْ اُنَاسٌ يَّتَطَہَّرُوْنَ۝ 82 جوب الجَوْبُ : قطع الجَوْبَة، وهي کا لغائط من الأرض، ثم يستعمل في قطع کلّ أرض، قال تعالی: وَثَمُودَ الَّذِينَ جابُوا الصَّخْرَ بِالْوادِ [ الفجر/ 9] ، ويقال : هل عندک جَائِبَة خبر ؟ وجوابُ الکلام : هو ما يقطع الجوب فيصل من فم القائل إلى سمع المستمع، لکن خصّ بما يعود من الکلام دون المبتدأ من الخطاب، قال تعالی: فَما کانَ جَوابَ قَوْمِهِ إِلَّا أَنْ قالُوا [ النمل/ 56] والجواب يقال في مقابلة السؤال، والسؤال علی ضربین : طلب مقال، وجوابه المقال . وطلب نوال، وجوابه…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 80–84

ترکیب : اذ قال اس کا فاعل اذکر محذوف ما سبقکم جملہ حال ہے الفاحشۃ سے شہوۃ مفعول لہ ہے لتاتون کا یا مصدر موضع حال میں ہے۔ من دون النساء موضع حال میں ہے اے منفردین عن النسائ۔ بل اس جگہ ایک بیان سے دوسرے بیان کی طرف متوجہ ہونے کے لئے یا محذوف سے اضراب ہے ای ما عدلتم بل انتم مسرفون۔ جواب منصوب اس کا بیان آل عمران میں آچکا۔ تفسیر : حضرت لوط (علیہ السلام) کا تذکرہ : چوتھا قصہ حضرت لوط (علیہ السلام) کا ہے جو اپنے چچا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ حران میں آرہے تھے کہ کسدیوں کے ملک سے جو بابل میں تھا ٗ ان کے والد حاران ان کی صغر سنی میں مرگئے تھے۔ پھر حران سے کوچ کرکے ملک کنعان میں سکم یعنی…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 80–81

ارشاد فرمایا جا رہا ہے : وَ لُوْطًا اِذْ قَالَ لِقَوْمِہٖٓ اَتَاْتُوْنَ الْفَاحِشَۃَ مَا سَبَقَکُمْ بِھَا مِنْ اَحَدٍ مِّنَ الْعٰلَمِیْنَ ۔ اِنَّکُمْ لَتَاْتُوْنَ الرِّجَالَ شَھْوَۃً مِّنْ دُوْنِ النِّسَآئِ ط بَلْ اَنْتُمْ قَوْْمٌ مُّسْرِفُوْنَ ۔ (الاعراف : 80، 81) ” اور لوط کو ہم نے پیغمبر بنا کر بھیجا جبکہ اس نے اپنی قوم سے کہا کہ تم ایک ایسی کھلی بےحیائی کا ارتکاب کرتے ہو جو تم سے پہلے کسی نے نہیں کیا تم عورتوں کو چھوڑ کر مردوں سے شہوت رانی کرتے ہو حقیقت یہ ہے کہ تم بالکل ہی حد سے گزر جانے والے لوگ ہو “۔ اس آیت کریمہ میں متعدد چیزیں وضاحت طلب ہیں۔ حضرت لوط (علیہ السلام) اور ان کی قوم کی…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 80–84

فہم القرآن حضرت لوط (علیہ السلام) : حضرت لوط (علیہ السلام) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بھتیجے تھے۔ جنھوں نے عراق کی سرزمین سے ہجرت کرکے غور زنمر کے علاقہ سدوم شہر میں رہائش اختیار کی۔ یہ شہر علاقے کا مرکزی مقام تھا۔ جہاں کے رہنے والے پر لے درجے کے فاسق و فاجر مشرک، کافر، ڈاکو، چور اور انتہائی بد کردار لوگ تھے۔ جنھوں نے دنیا میں بےحیائی کا ایسا عمل اختیار کیا جو اس سے پہلے کسی قوم نے نہیں کیا تھا۔ قوم لوط کا کردار : انھوں نے اپنی نفسانی خواہش اپنی بیویوں سے پوری کرنے کے بجائے لڑکوں سے شروع کر رکھی تھی۔ گویا کہ یہ ہم جنسی کے بدترین گناہ کے مرتکب ہوئے۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کے بار بار سمجھانے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

شہوات میں اندھا پن : آیت 81: اِنَّکُمْ لَتَاْتُوْنَ الرِّجَالَ (تم مردوں کے ساتھ کرتے ہو) یہ اتاتون الفاحشۃ کا بیان ہے۔ اِنَّکُمْ کو مدنی اور حفص نے خبر مانا ہے۔ اور اتی المراۃ کا معنی جماع کرنا ہے شَھْوَۃً (شہوت رانی) یہ مفعول لہ ہے یعنی شہوت کی خاطر۔ تمہیں اس بات پر صرف شہوت آمادہ کرنے والی ہے اور یہ سب سے زیادہ قابل مذمت حرکت ہے۔ کیونکہ بہیمہ والی صفت ہے۔ مِّنْ دُوْنِ النِّسَآئِ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ مُّسْرِفُوْنَ (بلکہ تم حد ہی سے گزر گئے ہو) انکار سے اعراض کر کے اس حالت کی خبر دی جو ارتکاب قبائح کو لازم کرنے والی ہے۔ اور وہ اس قوم کی عادت اسراف اور ہر چیز میں تجاوز عن الحدود تھی۔ اس لئے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

(81) انکم اہل مدینہ اور حفص نے (انکْ ) کاف کی زیر کے ساتھ خبر کی بناء پر پڑھا اور دیگر حضرات نے جملہ مستانفہ ہونے کی وجہ سے پڑھا ہے (لتاتون الرجال) ان کے پچھلے حصوں میں ……(انکم لتانون الرجال شھوۃ من دون النسآئ) یعنی مردوں کے پچھلے راستے کی طرف آنا تمہیں عورتوں کے اگلے راستے میں آنے سے زیادہ پسند ہے۔ (بل انتم قوم مسرفون) حلال سے حرام کی طرف تجاوز کرنے والے۔ قوم لوط کا ذکر محمد بن اسحاق (رح) فرماتے ہیں کہ ان لوگوں کے ایسے پھل دار باغات تھے کہ اس وقت ان جیسے باغات کسی کے پاس نہیں تھے تو لوگ ان کے پھل توڑ کر ان کو تکلیف دیتے تھے تو ابلیس ایک بوڑھے دانا شکل میں آیا اور ان کو کہا اگر تم ان کے ساتھ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 80–84

(80 ۔ 84) ۔ حضرت لوط ( علیہ السلام) کی امت جن بستیوں میں راہتی تھی وہ بڑی شاداب اور سرسبز بسیتاں تھیں غیر بستیوں کے لوگ شادابی کے سبب سے قوم لوط کی بستیوں میں اکثر آجایا کرتے تھے جس کی وجہ سے قوم لوط کو طرح طرح کی تکلیف ہوتی تھی شیطان نے قوم لوط کو بہکایا کہ غیر بستیوں کے لوگ جو آویں ان کے ساتھ جتنے نو عمر لڑکے ہوں ان لڑکوں سے بدفعلی کی جاوے تو غیر لوگ تمہاری بستیوں میں ہر گر نہ آویں شیطان کے بہکانے سے اور خوب صورت لڑکا بن کر ان کو ورغلانے سے انہوں نے ویساہی کیا اور پھر ان میں وہ عادت جم گئی حضرت لوط ( علیہ السلام) نے ہرچند سمجھایا مگر انہوں نے نہ مانا آخر حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے اس قدر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 80–86

آیت 80 (ولوطا) یعنی ہمارے بندے لوط کا ذکر کیجیے جب ہم نے ان کو ان کی قوم کی طرف مبعوث کیا کہ وہ انہیں صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کا حکم دیں اور انہیں اس برائی سے روکیں جو پورے جہاں میں ان سے پہلے کسی نے نہیں کی۔ لوط نے کہا (اتاتون الفاحشۃ) ” کیا تم کرتے ہو ایسی بےحیائی “ یعنی تم ایک ایسے گناہ کا ارتکاب کرتے ہوئے جس کی قباحت اتنی زیادہ ہے کہ فواحش کی تمام اقسام کو اس نے اپنے اندر سمیٹ لیا ہے۔ (ماسبقکم بھامن احدمن العلمین) ” کہ تم سے پہلے نہیں کیا اس کو کسی نے جہان میں “ اس کا فحش ہونا قبیح ترین چیز ہے اور یہ کہ اس قبیح فعل کو ان لوگوں نے شروع کر کے بعد میں آنے والوں کے لئے رواج دیا تھا، اس سے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 55–141

دعا کا طریقہ قول باری ہے وادعواربکم تضرعاً عاوخفیۃ۔ اپنے رب کو پکارو گڑگڑاتے ہوئے اور چپکے چپکے) آیت میں چپکے چپکے رب کو پکارنے کا حکم ہے حسن کا قول ہے کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے تمہیں اس بات کی تعلیم دی ہے کہ تم اپنے رب کو کس طرح پکارو۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک عہد صالح کا ذکر فرمایا جس کی پکار کو اس نے پسند فرمایا تھا چناچہ ارشاد ہے اذنادی ربہ نداء خفیا۔ جبکہ اس نے اپنے رب کو چپکے چپکے پکارا) یعنی حضرت زکریاعلیہ السلام عبداللہ بن المبارک نے حسن بصری سے روایت کی ہے کہ لوگ یعنی صحابہ کرام بڑی عاجزی اور نیاز مندی کے ساتھ دعائیں مانگا کرتے تھے اور صرف سرگوشی کی آواز سنائی دیتی تھی۔ حضرت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

111 قوم لوط کے قومی اور اجتماعی بگاڑ کا مظہر : جن کو حضرت حق ۔ جل شانہ ۔ نے پیدا ہی اسی غرض کے لئے فرمایا ہے اور جو عقل و فطرت کا عین مقتضٰی ہے۔ تو تمہاری عقل و فطرت کس درجہ مسنح ہوچکی ہے کہ تم لوگ فطری طریقے کو چھوڑ کر اس خلاف فطرت فعل کا ارتکاب کرتے ہو، جس کا ارتکاب کوئی حیوان اور جانور بھی نہیں کرتا ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو یہ فساد مزاج اور خرابی عقل کا ایک کھلا ثبوت ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو { من دُوْنِ النِسَائِ } یعنی تم لوگ عورتوں کو چھوڑ کر مردوں سے شہوت رانی کرتے ہو کے یہ الفاظ اس قلب ماہیت کو ظاہر کرتے ہیں جو ایسے لوگوں کی طبیعتوں کے فساد و بگاڑ کا لازمی نتیجہ ہے۔ سو ایسے مفسد لوگوں کی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 80–84

قوم لوط کا گناہ اور عذاب تشریح : انبیاء اور ان کی قوموں کے قصوں کا جو سلسلہ چل رہا ہے ان میں سے یہ چوتھی قوم لوط ہے جس کا ذکر قرآن پاک میں یوں کیا گیا ہے۔ لوط (علیہ السلام) اللہ کے نبی ہیں یہ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کے بھتیجے تھے۔ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) اپنے بت پرست والد اور تمام خاندان کو چھوڑ کر عراق سے شام کی طرف ہجرت کر گئے تھے۔ جب سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) نے ہجرت کی تو ان کے ساتھ ان کی بیوی سارہ اور بھتیجا سیدنا لوط (علیہ السلام) تھے۔ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) فلسطین میں اور سیدنا لوط (علیہ السلام) اردن چلے گئے وہاں ان کو حکم ہوا کہ سدوم شہر کے مضافات میں چلے جاؤ اور وہاں…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 73–84

رکوع نمبر 10 ۔ آیات نمبر 73 تا 84 ۔ اسرار و معارف : حقیقت دعا : بات اسی تسلسل میں جا رہی ہے کہ اللہ تعالیٰ بہت بڑی قدرت کا مالک اور اپنی مخلوق پر بہت زیادہ مہربان بھی ہے اس کی رحمت محتاجوں کو تلاش کرتی ہے اگر کوئی انسان محروم ہے تو اس کی وجہ نزول رحمت میں کمی نہیں خود اس کے دل میں قبولیت کی استعداد میں کمی ہے جیسے حدیث شریف ارشاد ہے کہ لوگ دور دراز سفر کرکے پریشان بالوں پھٹے ہوئے دامنوں اور گرد سے اٹے پاؤں اور چہرہ لے کر پکارتے ہیں یار یارب مگر ان کی دعا سنی نہیں جاتی اس لیے کہ کھانا حرام پہننا حرام ہوتا ہے بعض بےنصیب تو دعا ہی سے محروم ہوتے ہیں اور بعض صورت دعا تو بنا لیتے ہیں مگر حقیقت سے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 81–82

ف 8 اہل سدو کو اس لحاظ سے حضرت لو ط ( علیہ السلام) کی قوم کہا گیا ہے کہ وہ ان کی طرف مبعوث تھے یہ یا شایدان کا ان سے سسرال کا رشتہ ہوگا۔ 1 یعنی ہم گنہگار ناپاک لوگوں میں ان کا کیا کام۔ یہ بات انہوں نے طنزا یا مسخرے پن سے کہی۔ ( رازی )

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 81–82

(7:81) مسرفون۔ اسم فاعل۔ اسراف مصدر اعتدال سے یا حد مقررہ سے آگے بڑھنے والے۔ بےجا و بیہودہ صرف کرنے والے۔ لواطت کرنے والے۔ غرض حد حلال سے حد حرام کی طرف بڑھنے والے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 80–84

لغات القرآن آیت نمبر (80 تا 84) ۔ اتاتون (کیا تم آتے ہو ؟ ) ۔ الفاحشتہ (بےحیائی کے کام) ۔ ماسبق (نہیں گزرا) ۔ من احد (کوئی ایک بھی) ۔ الرجال (الرجل) ۔ مرد) ۔ شھوۃ (خواہش۔ بری خواہش) ۔ دون النسآء (حد سے باہر نکل جانے والے) ۔ اخرجوا (نکالو) ۔ قریتکم (تمہاری اپنی بستی) ۔ اناس (لوگ) ۔ یتطھرون (صاف ستھرا رہتے ہیں) ۔ امراتہ (اس کی عورت۔ اس کی بیوی) ۔ الغبرین (پیچھے رہنے والیوں (میں سے) ۔ امطرنا (ہم نے برسایا) ۔ عاقبتہ المجرمین (مجرموں کا انجام) ۔ تشریح : آیت نمبر (80 تا 84 ) ۔ ” قوم لوط کا وہی علاقہ ہے جسے آج ہم بحرمیت یا بحیرہ مردار کہتے ہیں۔ یہ بحیرہ سمندر سے بھی زیادہ گہرائی میں ہے۔ چناچہ اس میں…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 81–85

حضرت شعیب علیہ السلام۔ عذاب آگ اور زلزلہ حضرت شعیب (علیہ السلام) کی دو امتیں ہیں اور سوا حضرت شعیب (علیہ السلام) کے اور کوئی نبی دو امتوں کی ہدایت کے لئے نہیں بھیجا گیا۔ ایک امت ان کی یہ قبیلہ ہے جس کا نام مدین ہے، اور حضرت شعیب (علیہ السلام) بھی اسی قبیلہ سے ہیں۔ اسی واسطے اللہ تعالیٰ نے حضرت شعیب (علیہ السلام) کو اس قبیلہ کا بھائی فرمایا ہے اور دوسری امت بن کے رہنے والے لوگ ہیں جن کو اصحاب الدی کہ فرمایا ہے اصحاب الدی کہ کے لوگ کم تولتے اور کم ناپتے تھے اور یہ لوگ پیڑوں کی بھی پوجا کیا کرتے تھے۔ لیکن قبیلہ مدین اور اصحاب الئی کہ ایک ہی امت تھے، جن کی ہدایت کے لئے حضرت شعیب (علیہ السلام)…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 81–83

[37] لوط (علیہ السلام) کی بیوی کافرہ تھی اور غالباً اس قوم سے تھی۔ قرآن میں دوسرے مقامات پر تصریح ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے لوط (علیہ السلام) اور ان کے ساتھیوں کو وہاں سے نکل جانے کا حکم دیا تو یہ بھی ہدایت کی کہ بیوی کو ساتھ نہ لے جانا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 73–81

حضرت صالح (علیہ السلام) : (ف 2) عاد اولی کے بعد عاد ثانیہ کا زمانہ ہے یعنی ثمود کی قوم ، انکی جانب حضرت صالح (علیہ السلام) مبعوث ہوئے ۔ انہوں نے بھی حسب سابق اللہ کی عظمت و جلال کا وعظ کہا ، عمر بھر اللہ کی جانب بلاتے رہے ، مگر چند لوگوں کے سوا سب نے انکار کیا ، (ف 1) حضرت صالح (علیہ السلام) نے فرمایا تم اگر انکار کرو گے ، تو مٹ جاؤ گے ، اللہ کی غیرت جوش میں آجائے گی ، اور سنت اللہ کے موافق تمہیں ہلاک کردیا جائے گا ، مگر وہ نہ مانے ، انہیں اپنے مضبوط قلعوں اور مکانوں پر ناز تھا ، ان کے مکان پتھر کے تھے ، اور بڑی بڑی عمارتیں تھیں ، ان کا خیال یہ تھا کہ کوئی عذاب ہمیں نہیں مٹا سکے گا ، حضرت…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

81 تم عورتوں کو چھوڑ کر مردوں سے شہوت رانی کرتے ہو یعنی غیر فطری افعال کے مرتکب ہوتے ہو نہیں بلکہ تم تو حد انسانیت سے نکل جانے والے لوگ ہو۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 81–82

ف 2۔ بل انتم کی تفسیر کا حاصل یہ ہے کہ بعض معاصی میں تقلید آباء وغیرہ سے دھوکہ ہوجاتا ہے اس میں تو یہ بھی نہیں اور بعض آیتوں میں جو تجھلون آیا ہے اس سے شبہ نہ ہو کہ ان کو اس کی قباحت معلوم نہ تھی کیونکہ وہاں جہل سے مراد یہ نہیں بلکہ یہ مراد ہے کہ تم کو اس کو بد انجام یعنی عذاب معلوم نہیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

لوط (علیہ السلام) نے قوم کو اس کی معروف بد اخلاقی سے روکنے کی ہر ممکن کوشش کی : 92: جس فعل شنیع سے حضرت لوط (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو منع کیا قرآن کریم نے اس کو ” الْفَاحِشَةَ “ سے بیان کیا ہے اور ” الْفَاحِشَةَ “ کھلی ہوئی بدکاری اور بےحیائی کو کہتے ہیں اور استفہام یہاں اظہار نفرت وکراہت کے مفہوم میں ہے۔ اس فاحشہ کا یہاں نام نہیں لیا گیا جو اس بات کا قرینہ ہے کہ یہ بےحیائی وقت کی سوسائٹی میں اس درجہ عام تھی کہ نام لئے بغیر ہی ہر شخص سمجھتا تھا کہ اس سے مراد کیا ہے ؟ اور گندی باتوں کے لئے اشارات ہی سے کام لیا جاتا ہے کیونکہ اصل میں بات کا سمجھانا ضروری ہوتا ہے جو اشارہ میں سمجھا دینے سے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

In the second verse (81), this immodesty has been stated more explicitly - ` Surely, you come to men lustfully instead of women.' Here, the hint given is that, for the natural satisfaction of human desire, Allah 'Ta` ala has appointed marrying women as a lawful method. Now, to by-pass it and opt for an unnatural method is bland ugliness of the human self and certainly the proof of a dirty mind. Therefore, the Sahabah, the Tabi` in and Mujtahid Imams have declared this crime and sin to be far more grave than other acts of shame. Imam Abu Hanifah (رح) has said: The punishment given to the…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

64. The Qur'an refers elsewhere to the many evil deeds of the people of Lot. Here the Qur'an confines itself to mentioning that most ignominious of crimes which invited God's scourge upon them. The hideous act of sodomy, for which the people of Lot earned notoriety, has no doubt been committed by perverts in all times. The Greeks philosophers had the distinction of glorifying it as a moral virtue. It was left, however, for the modern West to vigorously propagate sodomy so much so that it was declared legal by the legislatures of a few countries. All this has been done in the face of the…

Read the full tafseer →