Explained with ayahs 80–81
لوط ؑ کی بدنصیب قوم
فرمان ہے کہ حضرت لوط ؑ کو بھی ہم نے ان کی قوم کی طرف اپنا رسول بنا کر بھیجا تو ان کے واقعہ کو بھی یاد کر، حضرت لوط ؑ ہاران بن آزر کے بیٹے تھے۔ حضرت ابراہیم ؑ کے بھتیجے تھے آپ ہی کے ہاتھ پر ایمان قبول کیا تھا اور آپ ہی کے ساتھ شام کی طرف ہجرت کی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنا نبی بنا کر سدوم نامی بستی کی طرف بھیجا آپ نے انہیں اور آس پاس کے لوگوں کو اللہ کی توحید اور اپنی اطاعت کی طرف بلایا نیکیوں کے کرنے برائیوں کو چھوڑنے کا حکم دیا۔ جن میں ایک برائی اغلام بازی تھی جو ان سے پہلے دنیا سے مفقود تھی۔ اس بدکاری کے موجد یہی ملعون لوگ تھے۔ عمرو بن دینار یہی فرماتے ہیں۔ جامع دمشق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–80
سورة الْاَعْرَاف 63
یہ قوم اس علاقہ میں رہتی تھی جسے آج کل شرق اردن (Trans Jordan) کہا جاتا ہے اور عراق و فلسطین کے درمیان واقع ہے۔ بائیبل میں اس قوم کے صدر مقام کا نام ”سدوم“ بتایا گیا ہے جو یا تو بحیرہ مردار کے قریب کسی جگہ واقع تھا یا اب بحیرہ مردار میں غرق ہوچکا ہے۔ تَلمود میں لکھا ہے کہ سدوم کے علاوہ ان کے چار بڑے بڑے شہر اور بھی تھے اور ان شہروں کے درمیان کا علاقہ ایسا گلزار بنا ہوا تھا کہ میلوں تک بس ایک باغ ہی باغ تھا جس کے جمال کو دیکھ کر انسان پر مستی طاری ہونے لگتی تھی۔ مگر آج اس قوم کا نام و نشان دنیا سے بالکل ناپید ہوچکا ہے اور یہ بھی متعین نہیں ہے کہ اس کی بستیاں ٹھیک کس مقام پر…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
اور ہم نے لوط ؑ کو (چند بستیوں کی طرف پیغمبر بنا کر) بھیجا جب کہ انہوں نے اپنی قوم (یعنی اپنی امت) سے فرمایا کیا تم ایسا فحش کام کرتے ہو جس کو تم سے پہلے کسی نے دنیا جہان والوں میں سے نہیں کیا (یعنی) تم مردوں کے ساتھ شہوت رانی کرتے ہو عورتوں کو چھوڑ کر (اور اس کام کے ارتکاب میں یہ نہیں کہ تم کو کوئی دھوکہ ہوگیا ہو) بلکہ (اس باب میں) تم حد (انسانیت) ہی سے گزر گئے ہو اور (ان مضامین کا) ان کی قوم سے کوئی (معقول) جواب نہ بن پڑا بجز اس کے کہ (آخر میں بیہودگی کی راہ سے) آپس میں کہنے لگے کہ ان لوگوں کو (یعنی لوط ؑ کو اور ان کے ساتھی مومنین کو) تم اپنی (اس) بستی سے نکال دو (کیونکہ) یہ لوگ…
Read the full tafseer →وَلُوْطًا اِذْ قَالَ لِقَوْمِهٖٓ۔۔ قومِ لوط اور حضرت لوط ؑ کی سرگزشت : حضرت لوط حضرت ابراہیم ؑ کے بھتیجے ہیں۔ یہ جس قوم کی طرف رسول بنا کر بھیجے گئے وہ زشام کے جنوبی علاقہ میں دریائے اردن کے ارد گرد آباد تھی۔ ان کے ذکر میں اسلوب بیان اس سے ذرا مختلف ہے جو حضرت ہود اور حضرت صالح کے ذکر میں ہے۔ ان دونوں حضرات کو تو اخاھم ھودا اور اخاھم صالحا کے الفاظ سے ان کی قوموں کی طرف منسوب فرمایا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دعوت کے اعتبار سے تو یہ لوگ ان کی قوم تھے لیکن باعتبار نسبت اور قبیلہ حضرت لوط ان سے الگ تھے۔ قرا ان نے اس معمولی فرق کو بھی اپنے اسلوب بیان سے واضح فرما دیا۔ رسولوں کے باب میں عام سنت…
Read the full tafseer →80۔ 1 یہ حضرت لوط ؑ حضرت ابراہیم ؑ کے بھتیجے تھے اور حضرت ابراہیم ؑ پر ایمان لانے والوں میں سے تھے پھر ان کو بھی اللہ تعالیٰ نے ایک علاقے میں نبی بنا کر بھیجا۔ یہ علاقہ اردن اور بیت المقدس کے درمیان تھا جسے سدوم کہا جاتا ہے، یہ زمین سرسبز اور شاداب تھی اور یہاں ہر طرح کے غلے اور پھلوں کی کثرت تھی قرآن نے اس جگہ کو مُئْوتَفِکَۃ، ُ یا مؤْتَفِکَات، ُ کے الفاظ سے ذکر کیا ہے۔ حضرت لوط ؑ نے غالبًا سب سے پہلے یا دعوت توحید کے ساتھ ہی، (جو ہر نبی کی بنیادی دعوت تھی اور سب سے پہلے وہ اس کی دعوت اپنی قوم کو دیتے تھے۔ جیسا کہ پچھلے نبیوں کے حوالے میں، جن کا ذکر ابھی گزرا ہے، دیکھا جاسکتا ہے۔) دوسری بڑی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–84
40: حضرت لوط ؑ حضرت ابراہیم ؑ کے بھتیجے تھے، جو اپنے مقدس چچا کی طرح عراق میں پیدا ہوئے تھے، اور جب انہوں نے وہاں سے ہجرت کی تو حضرت لوط ؑ بھی ان کے ساتھ وطن سے نکل آئے، بعد میں حضرت ابراہیم ؑ فلسطین کے علاقے میں آباد ہوئے، اور حضرت لوط ؑ کو اللہ تعالیٰ نے اردن کے شہرسدوم (sodom) میں پیغمبر بناکر بھیجا، سدوم ایک مرکزی شہر تھا اور اس کے مضافات میں عمورہ وغیرہ کئی بستیاں آباد تھیں، کفر وشرک کے علاوہ ان بستیوں کی شرمناک بدعملی یہ تھی کہ وہ ہم جنسی (homosexuality) کی لعنت میں گرفتار تھے جس کا ارتکاب قرآن کریم کی تصریح کے مطابق ان سے پہلے دنیا کے کسی فرد نے نہیں کیا تھا، حضرت لوط ؑ نے انہیں اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–81
آیت ” نمبر 80 تا 84۔
قصہ لوط میں انسانی فطرت کے ایک ایسے بگاڑ کا ذکر ہے جسکی مخصوص نوعیت ہے ۔ سابقہ قصص میں تو اقوام کی ہلاکت نہایت ہی اساسی نظریہ حیات یعنی عقیدہ توحید اور وحدت حاکمیت الہ کے مسئلے پر ہوتی تھی ۔ لیکن فطرت کا یہ بگاڑ بھی نہایت ہی اساسی مسئلہ تھا اور یہ عقیدہ توحید اور مسئلہ حاکمیت سے متعلق تھا ۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ کی ربوبیت اور عبودیت کے اقرار کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ قرآن وسنت کی مکمل اطاعت کی جائے ۔ سنت الہیہ یہ ہے کہ اللہ نے مرد اور عورت کو علیحدہ اصناف میں پیدا کیا اور مرد اور عورت کے اتصال کو ایسا ذریعہ بنایا جس کے نتیجے مین وہ ایک دوسرے کے لئے ذریعہ تکمیل ثابت ہوئے اور…
Read the full tafseer →6 لوط حضرت ابراہیم خلیل اللہ کے بھتیجے ہیں جو ان کے ساتھ عراق سے ہجرت کرکے ملک شام میں تشریف لائے اور خدا کی طرف سے سدوم اور ان کے گرد و نواح کی بستیوں کی طرف مبعوث ہوئے تاکہ ان کی اصلاح فرمائیں اور ان کے گندے خلاف فطرت اور بےحیائی کے کاموں سے باز رکھیں۔ جن میں وہاں کے لوگ مبتلا تھے۔ نہ صرف مبتلا بلکہ اس بےحیائی کے موجد تھے۔ ان سے پیشتر عالم میں اس بیماری سے کوئی واقف نہ تھا۔ اولاً یہ ملعون حرکت شیطان نے سدوم والوں کو سمجھائی اور وہیں سے دوسرے مقامات میں پھیلی۔ حضرت لوط نے اس ملعون و شنیع حرکت کے عواقب پر متنبہ کیا۔ اور گندگی کو دنیا سے مٹانا چاہا موجودہ بائبل کے جمع کرنے والوں کی شرمناک…
Read the full tafseer →آیت 80 وَلُوْطًا اِذْ قَالَ لِقَوْمِہٖٓ
اگرچہ حضرت لوط علیہ السلام اس قوم میں سے نہیں تھے ‘ لیکن ان کی طرف مبعوث ہونے اور وہاں جا کر آباد ہوجانے کی وجہ سے ان لوگوں کو آپ علیہ السلام کی قوم قرار دیا گیا ہے۔
اَتَاْتُوْنَ الْفَاحِشَۃَ مَا سَبَقَکُمْ بِہَا مِنْ اَحَدٍ مِّنَ الْعٰلَمِیْنَ
یعنی اجتماعی طور پر پوری قوم کا ایک شرمناک فعل کو اس انداز سے اپنالینا کہ اسے اپنا شعار بنا لینا ‘ کھلم کھلا اس کا ارتکاب کرنا اور اس میں شرمانے کی بجائے فخر کرنا ‘ اس سب کچھ کی مثال تاریخ انسانی کے اندر کوئی اور نہیں ملتی۔
Read the full tafseer →85 سیدنالوط (علیہ السلام) کا مرکز تبلیغ :۔ سیدنا لوط (علیہ السلام) سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) خلیل اللہ کے بھتیجے تھے اور ان پر ایمان لائے تھے۔ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) نے جب عراق سے شام و فلسطین کی طرف ہجرت کی تو سیدنا لوط (علیہ السلام) ان کے ساتھ تھے اور بطور معاون تبلیغ رسالت کا فریضہ سر انجام دیتے رہے پھر آپ کو بھی نبوت عطا ہوئی اب سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) تو مصر کی طرف چلے گئے اور سیدنا لوط (علیہ السلام) کو شرق اردن کی طرف بھیج دیا جس کا صدر مقام سدوم نامی شہر تھا یہی سیدنا لوط (علیہ السلام) کا مرکز تبلیغ تھا۔ سدوم کا آج کہیں نام و نشان نہیں ملتا۔ اغلب گمان یہی ہے کہ یہ شہر بحیرہ…
Read the full tafseer →106 ۔ حضرت لوط (علیہ السلام) بن حاران بن تارح (آزر) حضرت ابراہیم خلیل (علیہ السلام) کے حقیقی بھتیجے تھے۔ توریت میں ان کا ذکر بڑی تفصیل سے ہے۔ ملاحظہ ہو کتاب پیدائش باب 1 1 تا باب 19 ۔ البتہ محرفین توریت نے اپنے حسب معمول بعض بہت ہی گندی حرکتیں بھی حضرت کی جانب منسوب کردی ہیں۔ باب 19 ۔ آپ نے جس ملک کو اپنا وطن بنالیا تھا۔ وہ شرق یردن یعنی شام کا جنوبی علاقہ تھا۔ جو دریائے یردن کے اردگرد ہے۔ لقومہ “۔ عربی کا لفظ ” قوم “ یہاں اردو کے لفظ ” امت “ کے مفہوم میں ہے۔ عام قاعدہ اس سارے سیاق میں امت اور نبی کے درمیان ” بھائی “ کا رشتہ بیان کرنے کا ہے لیکن حضرت لوط (علیہ السلام) کی بعثت اپنی برادری یا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–84
قوم لوط کی مختصر تاریخ : ولوطا اذقال لقومہ (الآیۃ) یہ قوم اس علاقہ میں رہتی تھی جسے آجکل شرق اردن کہا جاتا ہے، اور عراق و فلسطین کے درمیان واقع ہے بائبل میں اس قوم کا صدر مقام سدوم بتایا گیا ہے جو یا تو بحیرہ مردار (بحر میت) کے قریب کہیں واقع تھا یا بحر میت میں غرق ہوچکا ہے۔ حضرت لوط (علیہ السلام) حضرت ابراہیم کے بھائی ہاران کے بیٹے تھے حضرت لوط (علیہ السلام) اپنے چچا ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ عراق سے نکلے کچھ مدت تک شام و فلسطین و مصر میں گشت لگا کر دعوت و تبلیغ کے کام میں مصروف رہے، اس کے بعد مستقل منصب رسالت پر فائز ہو کر اسی بگڑی ہوئی قوم کی اصلاح پر مامور ہوئے۔
یہودیوں کی تحریف کردہ…
Read the full tafseer →ولوطا اذ قال لقومہ اتاتون الفاحشۃ ما سبقکم بہا من احد من العلمین : اور ہم نے لوط ( علیہ السلام) کو بھیجا جب کہ انہوں نے اپنی قوم سے کہا تم ایسی بےحیائی کا کام کرتے ہو جس کو تم سے پہلے سارے جہان میں کسی نے نہیں کیا
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–81
(80۔ 81) اور ہم نے حضرت لوط ؑ کو ان کی قوم کی طرف بھیجا کہ تم لواطت کا فعل کرتے ہو، جو تم سے پہلے کسی نے نہیں کیا تم عورتوں کو چھوڑ کر مردوں کے ساتھ شہوت رانی کرتے ہو بلکہ تم نے شرک میں اس قدر حد سے تجاوز کیا کہ حرام کو حلال کردیا۔
Read the full tafseer →وَلُوْطًا : ابراہیم ؑ جب آگ سے بحفاظت نکل آئے تو لوط ؑ ان پر ایمان لے آئے۔ ابراہیم ؑ نے اتنا بڑا معجزہ دیکھنے کے باوجود قوم کے ایمان نہ لانے پر عراق سے ہجرت اختیار فرمائی۔ دیکھیے سورة عنکبوت (26) ان کے ساتھ ان کی بیوی سارہ اور لوط ؑ بھی تھے۔ اللہ تعالیٰ نے لوط ؑ کو سدوم والوں کی طرف مبعوث فرمایا۔ جو بحیرہ مردار کے قریب کسی جگہ واقع تھا اور نہایت آباد اور زرخیز تھا۔
اِذْ قَالَ لِقَوْمِهٖٓ: اہل سدوم کو لوط ؑ کی قوم اس لیے کہا گیا ہے کہ وہ ان کی طرف مبعوث تھے، ورنہ وہ تو عراق سے آئے تھے، یا شاید ان کا ان سے سسرالی رشتہ ہوگا، کیونکہ اگر وہاں ان کا کوئی نسبی رشتہ ہوتا تو وہ اس بےچارگی کا اظہار نہ…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 80
اس میں چار مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر۔ 1
قولہ تعالیٰ : آیت : ولوطا اذ قال لقومہ امام فراء نے کہا ہے : لوط ان کے اس قول سے مشتق ہے : ھذا الیط بقلبی، ای الصق یعنی یہ میرے دل کے ساتھ چمٹ گیا۔ نحاس نے کہا ہے : زجاج نے کہا ہے : بعض نحویوں یعنی فراء نے گمان کیا ہے کہ یہ جائز ہے کہ لوط لطت الحوض سے مشتق ہو اور یہ تب کہا جاتا ہے جب تو حوض کو مٹی کے ساتھ لیپ کرے۔ فرمایا : یہ غلط ہے کیونکہ عجمی اسماء مشتق نہیں ہوتے جیسے اسحاق وغیرہ، پس یہ نہیں کہا جاتا کہ یہ سحق بمعنی بعد سے ہے۔ لوط کا لفظ خفیف ہونے کی وجہ سے منصرف ہے، کیونکہ اس کے حروف تین ہیں اور درمیان والا حرف ساکن ہے۔
نقاش نے کہا ہے :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–84
(1) امام ابن عساکر نے سلیمان بن صرد (رح) سے روایت کیا کہ لوط (علیہ السلام) کے والد ابراہیم کے چچا تھے۔
(2) امام اسحاق بن بشر اور ابن عساکر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لوط (علیہ السلام) کو بستیوں کی جانب بھیجا گیا اور لوط کی بستیاں مدائن کی چار بستیاں تھیں سدوم امورا، اور صبویر اور ہر بستی میں ایک لاکھ جنگ جو تھے۔ اور ان کے مدائن میں بڑی بستی سدوم کی تھی۔ لوط اس میں رہتے تھے اور یہ شام کے شہروں میں سے ہے۔ اور فلسطین سے ایک رات کے سفر پر ہے۔ اور براہیم کے لوط بن ھاروان بن تارح کے چچا تھے ابراہیم قوم لوط کو نصیحت کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے قوم لوط کو مہلت دی تھی۔ انہوں نے اسلام کے پردے کو پھاڑ…
Read the full tafseer →وَلُوْطًا [ اور (بیشک ہم بھیج چکے ہیں) لوط کو ] اِذْ [ جب ] قَالَ [ انہوں نے کہا ] لِقَوْمِهٖٓ [ اپنی قوم سے ] اَ [ کیا ] تَاْتُوْنَ [ تم لوگ آتے ہو ] الْفَاحِشَةَ [ اس بےحیائی کے پاس ] مَا سَبَقَكُمْ [ نہیں سبقت کی تم پر ] بِهَا [ جس میں ] مِنْ اَحَدٍ [ کسی ایک نے (بھی ) ] مِّنَ الْعٰلَمِيْنَ [ تمام جہانوں میں سے ]
غ ب ر : (ن) ۔ غبورا (1) ٹھہر جانا ۔ پیچھے رہ جانا ۔ (2) غبار آلود ہونا۔ غابر ۔ اسم الفاعل ہے ۔ پیچھے رہ جانے والا ۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 83 ۔ غبرۃ ۔ اسم ذات ہے ۔ گرد ۔ غبار ۔ وَ وُجُوْهٌ يَّوْمَىِٕذٍ عَلَيْهَا غَبَرَةٌ [ اور کچھ چہرے ہوں گے اس دن جن پر گرد ہوگی ] 80:40 ۔
ترکیب :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–81
حضرت لوط (علیہ السلام) کا اپنی قوم کو احکام پہنچانا اور قوم کا اپنے افعال سے باز نہ آنا اور انجام کے طور پر ہلاک ہونا
ان آیات میں حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کی بد کر داری کا اور تھوڑا سا اس سوال و جواب کا ذکر ہے جو حضرت لوط (علیہ السلام) اور ان کی قوم کے درمیان ہوا نیز جو ان پر عذاب آیا اس کا بھی ذکر ہے مفصل قصہ سورة ہود اور سورة حجر اور سورة شعراء اور سورة عنکبوت میں مذکورہ ہے اور تھوڑا تھوڑا دیگر مواقع میں بھی ہے۔
یہ لوگ ایمان بھی نہ لائے اور جن برے کاموں میں مبتلا تھے ان سے حضرت لوط (علیہ السلام) نے روکا تو الٹے الٹے جواب دیتے رہے۔ یہاں سورة اعراف میں ان کی ایک بد کرداری کا تذکرہ فرمایا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–84
قصہ چہارم حضرت لوط (علیہ السلام) باقوم او
قال اللہ تعالیٰ ولوطا اذ قال لقومہ۔۔۔ الی۔۔۔ فانظر کیف کان عاقبۃ المجرمین
(ربط) یہ چوتھا قصہ لوط (علیہ السلام) کا ہے جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بھتیجے تھے اور شہر سدوم کے رہنے والوں کی طرف نبی بنا کر بھیجے گئے تھے یہ شہر شرق اردن کے علاقہ سے قریب ہے یہ لوگ بت پرست اور نہایت بدکار تھے لڑکوں سے بدفعلی کیا کرتے تھے۔ یہی بدبخت قوم اس ناپاک عمل کی موجد تھی ان سے پہلے دنیا کی کسی قوم نے یہ خبیث فعل نہیں کیا تھا اور یہ لوگ لٹیرے بھی تھے تاجروں کو لوٹ لیتے تھے اور بےحیا اس قدر تھے کہ بھری مجلسوں میں بےحیائیوں کے مرتکب ہوتے حضرت لوط (علیہ السلام) نے…
Read the full tafseer →86 یہ چوتھا قصہ ہے اور دوسرے دعوے سے متعلق ہے کیونکہ حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم اللہ کے محرمات سے حرام کا سا معاملہ نہیں کرتی تھی۔ “ اَلْفَاحِشَةَ ” سے لڑکوں کیساتھ خلاف فطرت فعل کرنا مراد ہے۔ اس فعل کی ابتداء قوم لوط میں ہوئی اس سے قبل کسی قوم نے یہ فعل نہیں کیا تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–84
ربط آیات
اس سے پہلے اللہ تعالیٰ حضرات نوح ، ہود اور صالح علیہ (علیہم السلام) کے تاریخی واقعات بیان کرچکے ہیں جن کے ذریعے اہل ایمان کو جرات دلائی جارہی ہے کہ دیکھو ! اللہ کے انبیاء نے کتنے نامساعد حالات میں بھی دین کی خدمت کی اور خدا کا پیغام اپنی اپنی قوموں تک پہنچایا۔ یہ واقعات اگرچہ اجالاً بیان کیے گئے ہیں تاہم مقصد یہ ہے کہ امت آخر الزمان کو بھی یہ واقعات پیش نظر رکھ کر دین کے کام کو آگے بڑھانا ہے اس سورة میں حضرت صالح (علیہ السلام) کے بعد حضرت لوط (علیہ السلام) اور ان کی قوم کا حال بیان فرمایا ہے ولوطاً اس کا عطف بھی لقد ارسلنا نوحاً پر ہے اور مطلب یہ ہے کہ ہم نے حضرت لوط (علیہ السلام) کو…
Read the full tafseer →اِنَّكُمْ لَتَاْتُوْنَ الرِّجَالَ شَہْوَۃً مِّنْ دُوْنِ النِّسَاۗءِ 0 ۭ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ مُّسْرِفُوْنَ 81
رجل
الرَّجُلُ : مختصّ بالذّكر من الناس، ولذلک قال تعالی: وَلَوْ جَعَلْناهُ مَلَكاً لَجَعَلْناهُ رَجُلًا
[ الأنعام/ 9]
( ر ج ل ) الرجل
کے معنی مرد کے ہیں اس بنا پر قرآن میں ہے : ۔ وَلَوْ جَعَلْناهُ مَلَكاً لَجَعَلْناهُ رَجُلًا[ الأنعام/ 9] اگر ہم رسول کا مدد گار ) کوئی فرشتہ بناتے تو اس کو بھی آدمی ہی بناتے ۔
شها
أصل الشَّهْوَةِ : نزوع النّفس إلى ما تریده، وذلک في الدّنيا ضربان : صادقة، وکاذبة، فالصّادقة : ما يختلّ البدن من دونه كشهوة الطّعام عند الجوع، والکاذبة : ما لا يختلّ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–84
ترکیب : اذ قال اس کا فاعل اذکر محذوف ما سبقکم جملہ حال ہے الفاحشۃ سے شہوۃ مفعول لہ ہے لتاتون کا یا مصدر موضع حال میں ہے۔ من دون النساء موضع حال میں ہے اے منفردین عن النسائ۔ بل اس جگہ ایک بیان سے دوسرے بیان کی طرف متوجہ ہونے کے لئے یا محذوف سے اضراب ہے ای ما عدلتم بل انتم مسرفون۔ جواب منصوب اس کا بیان آل عمران میں آچکا۔
تفسیر : حضرت لوط (علیہ السلام) کا تذکرہ : چوتھا قصہ حضرت لوط (علیہ السلام) کا ہے جو اپنے چچا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ حران میں آرہے تھے کہ کسدیوں کے ملک سے جو بابل میں تھا ٗ ان کے والد حاران ان کی صغر سنی میں مرگئے تھے۔ پھر حران سے کوچ کرکے ملک کنعان میں سکم یعنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–81
ارشاد فرمایا جا رہا ہے :
وَ لُوْطًا اِذْ قَالَ لِقَوْمِہٖٓ اَتَاْتُوْنَ الْفَاحِشَۃَ مَا سَبَقَکُمْ بِھَا مِنْ اَحَدٍ مِّنَ الْعٰلَمِیْنَ ۔ اِنَّکُمْ لَتَاْتُوْنَ الرِّجَالَ شَھْوَۃً مِّنْ دُوْنِ النِّسَآئِ ط بَلْ اَنْتُمْ قَوْْمٌ مُّسْرِفُوْنَ ۔
(الاعراف : 80، 81)
” اور لوط کو ہم نے پیغمبر بنا کر بھیجا جبکہ اس نے اپنی قوم سے کہا کہ تم ایک ایسی کھلی بےحیائی کا ارتکاب کرتے ہو جو تم سے پہلے کسی نے نہیں کیا تم عورتوں کو چھوڑ کر مردوں سے شہوت رانی کرتے ہو حقیقت یہ ہے کہ تم بالکل ہی حد سے گزر جانے والے لوگ ہو “۔
اس آیت کریمہ میں متعدد چیزیں وضاحت طلب ہیں۔
حضرت لوط (علیہ السلام) اور ان کی قوم کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–84
فہم القرآن
حضرت لوط (علیہ السلام) :
حضرت لوط (علیہ السلام) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بھتیجے تھے۔ جنھوں نے عراق کی سرزمین سے ہجرت کرکے غور زنمر کے علاقہ سدوم شہر میں رہائش اختیار کی۔ یہ شہر علاقے کا مرکزی مقام تھا۔ جہاں کے رہنے والے پر لے درجے کے فاسق و فاجر مشرک، کافر، ڈاکو، چور اور انتہائی بد کردار لوگ تھے۔ جنھوں نے دنیا میں بےحیائی کا ایسا عمل اختیار کیا جو اس سے پہلے کسی قوم نے نہیں کیا تھا۔
قوم لوط کا کردار :
انھوں نے اپنی نفسانی خواہش اپنی بیویوں سے پوری کرنے کے بجائے لڑکوں سے شروع کر رکھی تھی۔ گویا کہ یہ ہم جنسی کے بدترین گناہ کے مرتکب ہوئے۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کے بار بار سمجھانے…
Read the full tafseer →تذکرہ قوم لوط۔ :
آیت 80: وَلُوْطًا اِذْقَالَ لِقَوْمِہٖٓ (ہم نے لوط ( علیہ السلام) کو بھیجا جبکہ انہوں نے اپنی قوم سے فرمایا) یعنی اذکروا لوطا کہ تذکرہ کرو لوط ( علیہ السلام) کا اِذْیہ اس محذوف فعل کا بدل ہے۔ اَتَاْ تُوْنَ الْفَاحِشَۃَ (کیا تم ایسا فحش کام کرتے ہو) کیا تم انتہائی شدید برائی میں مبتلاء ہو۔
انوکھا جرم :
مَاسَبَقَکُمْ بِھَا (جس کو تم سے پہلے نہیں کیا) جس کو تم سے پہلوں نے نہیں کیا۔ باتعدیہ کیلئے ہے اور رسول اللہ ﷺ کے ارشاد کا یہی مطلب ہے۔ سبقک بھا عکاشۃ۔ عکاشہ تم سے پہل کر گیا۔ ( احمد ‘ ج 1‘ ص : 453) مِنْ اَحَدٍ (کسی نے) من زائدہ ہے جو تاکید نفی کیلئے لائے اور یہاں استغراق کا…
Read the full tafseer →تفسیر 80 (ولوطاً ) بعض نے کہا مطلب یہ ہے کہ آپ یاد کریں لوط (علیہ السلام) کو یہ لوط بن ہاران بن تارخ بن انی ابراہیم (اذ قال لقومہ) یہ سدوم کے رہنے والے ہیں کیونکہ لوط (علیہ السلام) بابل کے رہنے اولے تھے اپنے چچا ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ سفر ہجرت کیا شام کی طرف تو ابراہیم (علیہ السلام) نے فلسطین میں قیام کیا اور لوط (علیہ السلام) نے اردن میں قیام کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کو سدوم والوں کی طرف رسول بنایا تو انہوں نے ان کو فرمایا (اتاتون الفاحشۃ) مردوں کے پاس آتا (ماسبقکم بھامن احد من العلمین) عمر و بن دینار (رح) فرماتے ہیں کہ لوط (علیہ السلام) کی قوم سے پہلے کوئی نر کسی نر پر کبھی نہیں چڑھا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–84
(80 ۔ 84) ۔ حضرت لوط ( علیہ السلام) کی امت جن بستیوں میں راہتی تھی وہ بڑی شاداب اور سرسبز بسیتاں تھیں غیر بستیوں کے لوگ شادابی کے سبب سے قوم لوط کی بستیوں میں اکثر آجایا کرتے تھے جس کی وجہ سے قوم لوط کو طرح طرح کی تکلیف ہوتی تھی شیطان نے قوم لوط کو بہکایا کہ غیر بستیوں کے لوگ جو آویں ان کے ساتھ جتنے نو عمر لڑکے ہوں ان لڑکوں سے بدفعلی کی جاوے تو غیر لوگ تمہاری بستیوں میں ہر گر نہ آویں شیطان کے بہکانے سے اور خوب صورت لڑکا بن کر ان کو ورغلانے سے انہوں نے ویساہی کیا اور پھر ان میں وہ عادت جم گئی حضرت لوط ( علیہ السلام) نے ہرچند سمجھایا مگر انہوں نے نہ مانا آخر حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے اس قدر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–86
آیت 80
(ولوطا) یعنی ہمارے بندے لوط کا ذکر کیجیے جب ہم نے ان کو ان کی قوم کی طرف مبعوث کیا کہ وہ انہیں صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کا حکم دیں اور انہیں اس برائی سے روکیں جو پورے جہاں میں ان سے پہلے کسی نے نہیں کی۔ لوط نے کہا (اتاتون الفاحشۃ) ” کیا تم کرتے ہو ایسی بےحیائی “ یعنی تم ایک ایسے گناہ کا ارتکاب کرتے ہوئے جس کی قباحت اتنی زیادہ ہے کہ فواحش کی تمام اقسام کو اس نے اپنے اندر سمیٹ لیا ہے۔ (ماسبقکم بھامن احدمن العلمین) ” کہ تم سے پہلے نہیں کیا اس کو کسی نے جہان میں “ اس کا فحش ہونا قبیح ترین چیز ہے اور یہ کہ اس قبیح فعل کو ان لوگوں نے شروع کر کے بعد میں آنے والوں کے لئے رواج دیا تھا، اس سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–141
دعا کا طریقہ
قول باری ہے وادعواربکم تضرعاً عاوخفیۃ۔ اپنے رب کو پکارو گڑگڑاتے ہوئے اور چپکے چپکے) آیت میں چپکے چپکے رب کو پکارنے کا حکم ہے حسن کا قول ہے کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے تمہیں اس بات کی تعلیم دی ہے کہ تم اپنے رب کو کس طرح پکارو۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک عہد صالح کا ذکر فرمایا جس کی پکار کو اس نے پسند فرمایا تھا چناچہ ارشاد ہے اذنادی ربہ نداء خفیا۔ جبکہ اس نے اپنے رب کو چپکے چپکے پکارا) یعنی حضرت زکریاعلیہ السلام عبداللہ بن المبارک نے حسن بصری سے روایت کی ہے کہ لوگ یعنی صحابہ کرام بڑی عاجزی اور نیاز مندی کے ساتھ دعائیں مانگا کرتے تھے اور صرف سرگوشی کی آواز سنائی دیتی تھی۔ حضرت…
Read the full tafseer →109 پیغمبر کی زندگی میں اصل چیز ان کی دعوت ہوتی ہے : یعنی یہاں بھی آغاز کلام دعوت و تبلیغ کے عمل اور اس کے ذکر سے کیا گیا ہے نہ کہ ولادت ومیلاد کے تذکرے سے۔ کہ اصل چیز دعوت و تبلیغ ہی ہے نہ کہ میلاد وغیرہ رسوم و رواج کی پابندی کرنا۔ جیسا کہ آج کل کے اہل ھویٰ کرتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو پیغمبر کی اصل میلاد ان کی روحانی میلاد ہوتی ہے جو کہ ان کی بعثت و نبوت سے شروع ہوتی ہے، نہ کہ محض جسمانی میلاد۔ اسی لئے قرآن حکیم میں حضرات انبیاء و رسل کے قصوں کے ذکر وبیان کے سلسلے میں کسی ایک پیغمبر کی بھی ولادت سے ان کے قصے کو شروع نہیں فرمایا گیا، بلکہ ان کی نبوت و رسالت اور ان کی دعوت و تبلیغ سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–84
قوم لوط کا گناہ اور عذاب
تشریح : انبیاء اور ان کی قوموں کے قصوں کا جو سلسلہ چل رہا ہے ان میں سے یہ چوتھی قوم لوط ہے جس کا ذکر قرآن پاک میں یوں کیا گیا ہے۔ لوط (علیہ السلام) اللہ کے نبی ہیں یہ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کے بھتیجے تھے۔ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) اپنے بت پرست والد اور تمام خاندان کو چھوڑ کر عراق سے شام کی طرف ہجرت کر گئے تھے۔ جب سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) نے ہجرت کی تو ان کے ساتھ ان کی بیوی سارہ اور بھتیجا سیدنا لوط (علیہ السلام) تھے۔ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) فلسطین میں اور سیدنا لوط (علیہ السلام) اردن چلے گئے وہاں ان کو حکم ہوا کہ سدوم شہر کے مضافات میں چلے جاؤ اور وہاں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–84
رکوع نمبر 10 ۔ آیات نمبر 73 تا 84 ۔
اسرار و معارف :
حقیقت دعا :
بات اسی تسلسل میں جا رہی ہے کہ اللہ تعالیٰ بہت بڑی قدرت کا مالک اور اپنی مخلوق پر بہت زیادہ مہربان بھی ہے اس کی رحمت محتاجوں کو تلاش کرتی ہے اگر کوئی انسان محروم ہے تو اس کی وجہ نزول رحمت میں کمی نہیں خود اس کے دل میں قبولیت کی استعداد میں کمی ہے جیسے حدیث شریف ارشاد ہے کہ لوگ دور دراز سفر کرکے پریشان بالوں پھٹے ہوئے دامنوں اور گرد سے اٹے پاؤں اور چہرہ لے کر پکارتے ہیں یار یارب مگر ان کی دعا سنی نہیں جاتی اس لیے کہ کھانا حرام پہننا حرام ہوتا ہے بعض بےنصیب تو دعا ہی سے محروم ہوتے ہیں اور بعض صورت دعا تو بنا لیتے ہیں مگر حقیقت سے…
Read the full tafseer →ف 7 عربی انساب کی کتابوں اور بائیبل کی کتاب پیدائش سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت لو ط ( علیہ السلام) حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کے بھتیجے تھے کتاب پیدائش میں یہ بھی مذکور ہے کہ ان کے والد کا نام حاران تھا اور وہ بابل کے ایک شہر میں پیدا ہوئے تھے اپنے والد کی وفات کے بعد حضرت لو ط ( علیہ السلام) بھی اپنے چچا حضرت ابراہیم کے ساتھ عراق سے نکل کھڑے ہوئے اور کچھ مدت تک شام و فلسطین میں دعوت و تبلیغ کا فریضہ انجام دتیے رہے آخر کار حضرت ابراہیم نے انہیں ج مستقل طور پر شرق اور دن کے علاقہ میں سکونت رکھنے کا حکم دیا تاکہ وہاں کی بگڑی ہوئی قوم کی اصلاح کی جائے اس علاقہ کا صدر مقام سدوم تھا جو بحیرہ مرادر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–80
(7:80) ولوطا۔ ای وارسلنا لوطا۔ اتاتون الفاحشۃ۔ کیا تم ایسی بےحیائی کا کام کرتے ہو۔ ملاحظہ ہو 7:28 ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–84
لغات القرآن آیت نمبر (80 تا 84) ۔
اتاتون (کیا تم آتے ہو ؟ ) ۔ الفاحشتہ (بےحیائی کے کام) ۔ ماسبق (نہیں گزرا) ۔ من احد (کوئی ایک بھی) ۔ الرجال (الرجل) ۔ مرد) ۔ شھوۃ (خواہش۔ بری خواہش) ۔ دون النسآء (حد سے باہر نکل جانے والے) ۔ اخرجوا (نکالو) ۔ قریتکم (تمہاری اپنی بستی) ۔ اناس (لوگ) ۔ یتطھرون (صاف ستھرا رہتے ہیں) ۔ امراتہ (اس کی عورت۔ اس کی بیوی) ۔ الغبرین (پیچھے رہنے والیوں (میں سے) ۔ امطرنا (ہم نے برسایا) ۔ عاقبتہ المجرمین (مجرموں کا انجام) ۔
تشریح : آیت نمبر (80 تا 84 ) ۔ ” قوم لوط کا وہی علاقہ ہے جسے آج ہم بحرمیت یا بحیرہ مردار کہتے ہیں۔ یہ بحیرہ سمندر سے بھی زیادہ گہرائی میں ہے۔ چناچہ اس میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–80
قوم لوط (علیہ السلام) کی ہلاکت
حضرت لوط (علیہ السلام) نے جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بھتیجے تھے، شہر بابل سے آپ کے ساتھ ہجرت کر کے ملک شام میں سکونت اختیار کی تھی۔ پھر سدوم میں رہنے کا اور اس شہر اور اس کے گردونواح کے شہر والوں کی ہدایت کا حکم ہوا۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کی امت جن بستیوں میں رہتی تھی وہ بڑی شاداب اور سرسبز تھیں۔ غیر بستیوں کے لوگ شادابی کے سبب سے قوم لوط کی بستیوں میں اکثر آجایا کرتے تھے۔ جس کی وجہ سے قوم لوط کو طرح طرح کی تکلیف ہوتی تھی۔ شیطان نے قوم لوط کو بہکایا کہ غیر بستیوں کے جو لوگ آویں ان کے ساتھ جتنے نوعمر لڑکے ہوں ان لڑکوں سے بدفعلی کی فاوے تو غیر لوگ تمہاری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–80
[35] لوط (علیہ السلام) ابراہیم (علیہ السلام) کے حقیقی بھتیجے تھے۔
[36] قوم یہاں اردو کے لفظ امت کے معنی میں ہے۔ لوط (علیہ السلام) کی بعثت اپنی برادری یا وطن والوں کی جانب نہ تھی اس لئے '' بھائی '' کا رشتہ جو ہود (علیہ السلام) اور صالح (علیہ السلام) کے لئے بیان کیا گیا ہے یہاں حذف کردیا گیا۔ آپ جس قوم کی ہدایت کے لئے بھیجے گئے تھے وہ اس علاقے میں رہتی تھی جو عراق اور فلسطین کے درمیان واقع ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–81
حضرت صالح (علیہ السلام) :
(ف 2) عاد اولی کے بعد عاد ثانیہ کا زمانہ ہے یعنی ثمود کی قوم ، انکی جانب حضرت صالح (علیہ السلام) مبعوث ہوئے ۔
انہوں نے بھی حسب سابق اللہ کی عظمت و جلال کا وعظ کہا ، عمر بھر اللہ کی جانب بلاتے رہے ، مگر چند لوگوں کے سوا سب نے انکار کیا ،
(ف 1) حضرت صالح (علیہ السلام) نے فرمایا تم اگر انکار کرو گے ، تو مٹ جاؤ گے ، اللہ کی غیرت جوش میں آجائے گی ، اور سنت اللہ کے موافق تمہیں ہلاک کردیا جائے گا ، مگر وہ نہ مانے ، انہیں اپنے مضبوط قلعوں اور مکانوں پر ناز تھا ، ان کے مکان پتھر کے تھے ، اور بڑی بڑی عمارتیں تھیں ، ان کا خیال یہ تھا کہ کوئی عذاب ہمیں نہیں مٹا سکے گا ،
حضرت…
Read the full tafseer →80 اور حضرت لوط (علیہ السلام) کو ہم نے ہی سدوم کی بستیوں کی جانب رسول بنااکر بھیجا جبکہ انہوں نے اپنی قوم یعنی اپنی امت سے کہا کیا تم لوگ ایسی بےحیائی کا کام کرتے ہو جو تم سے پہلے اقوام عالم میں سے کسی نے نہیں کیا یعنی جہان بھر میں کسی نے ایسی بےحیائی کا کام نہیں کیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–80
ف 1۔ دوسری آیت میں صیحہ یعنی فرشتہ کے نعرہ سے ہلاک ہونا آیا ہے بعض نے کہا ہے کہ اوپر سے نیچے سے زلزلہ آیا تھا اور بعض نے کہا ہے کہ رجعہ سے مراد قلب کی حرکت ہے جو صیحہ کے خوف سے پیداہوئی تھی اور جس نے اونٹنی کو قتل کیا تھا اس کا نام قدار آیا ہے۔ اور دوسری آیت میں ان کے رہنے کا مقام حجرآیا ہے چونکہ حجاز اور شام کے درمیان ایک مقام تھا اور ظاہر آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ صالح یہاں سے بعد ہلاک قوم کے تشریف لے گئے پھر بعض نے شام کو جانا اور بعض نے مکہ کو جانا نقل کیا ہے۔
Read the full tafseer →لوط (علیہ السلام) کی بعثت اور اپنی قوم کو سدومیت سے باز آنے کی ہدایت :
91: حضرت لوط (علیہ السلام) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے برادر زادہ ہیں ان کے والد کا نام ہارون تھا۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کا بچپن حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے زیر سایہ گزرا اور ان کی پرورش ابراہیم (علیہ السلام) کی ہی آغوش تربیت کی رہین منت تھی۔ اس لئے وہ اور حضرت سارہ ملت ابراہیمی (علیہ السلام) کے پہلے مسلم اور ” السابقون والاولون “ میں داخل تھے۔ اردن کی وہ جانب جہاں آج بحرمیت یا بحر لوط واقع ہے یہی وہ جگہ ہے جس میں سدوم اور عامورہ کی بستیاں آباد تھیں۔ اس کے قریب بسنے والوں کا یہ اعتقاد ہے کہ پہلے یہ تمام حصہ جو آب…
Read the full tafseer →Commentary
Out of the continuing series of stories relating to prophets (علیہم السلام) and their communities, the fourth story is that of Sayyidna Lut (Lot) tX..JI ...lc.
Sayyidna Lut (علیہ السلام) is a nephew of Sayyidna Ibrahim Khalilullah (علیہ السلام) the patriarch of prophets. The original homeland of both was known as Babel near Basrah in western Iraq. Idol-worship was common. Even the family of Sayyidna Ibrahim (علیہ السلام) was involved in it. Allah Ta` ala sent Sayyidna Ibrahim (علیہ السلام) as a prophet for their guidance. His people opposed him which culminated in the well known…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–80
63. The land inhabited by the people of Lot, which lies between Iraq and Palestine, is known as Trans-Jordan. According to the Bible, its capital town was Sodom, which is situated either somewhere near the Dead Sea, or presently lies submerged under it.. Apart from Sodom, according to the Talmud, there were four other majour cities, and the land lying between these cities was dotted with such greenery and orchards that the whole area looked like one big garden enchanting any onlooker. However, the whole nation was destroyed and today wc can find no trace of it. So much so that it is difficult…
Read the full tafseer →