صالح ؑ ہلاکت کے اسباب کی نشاندہی کرتے ہیں
قوم کی ہلاکت دیکھ کر افسوس حسرت اور آخری ڈانٹ ڈپٹ کے طور پر پیغمبر حق حضرت صالح ؑ فرماتے ہیں کہ نہ تمہیں رب کی رسالت نے فائدہ پہنچایا نہ میری خیر خواہی ٹھکانے لگی تم اپنی بےسمجھی سے دوست کو دشمن سمجھ بیٹھے اور آخر اس روز بد کو دعوت دے لی چناچہ حضرت محمد ﷺ بھی جب بدری کفار پر غالب آئے وہیں تین دن تک ٹھہرے رہے پھر رات کے آخری وقت اونٹنی پر زین کس کر آپ تشریف لے چلے اور جب اس گھاٹی کے پاس پہنچے جہاں ان کافروں کی لاشیں ڈالی گئی تھیں تو آپ ٹھہر گئے اور فرمانے لگے اے ابو جہل، اے عتبہ، اے شیبہ، اے فلاں، اے فلاں، بتاؤ رب کے وعدے تم نے درست پائے ؟ میں نے تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–80
سورة الْاَعْرَاف 63
یہ قوم اس علاقہ میں رہتی تھی جسے آج کل شرق اردن (Trans Jordan) کہا جاتا ہے اور عراق و فلسطین کے درمیان واقع ہے۔ بائیبل میں اس قوم کے صدر مقام کا نام ”سدوم“ بتایا گیا ہے جو یا تو بحیرہ مردار کے قریب کسی جگہ واقع تھا یا اب بحیرہ مردار میں غرق ہوچکا ہے۔ تَلمود میں لکھا ہے کہ سدوم کے علاوہ ان کے چار بڑے بڑے شہر اور بھی تھے اور ان شہروں کے درمیان کا علاقہ ایسا گلزار بنا ہوا تھا کہ میلوں تک بس ایک باغ ہی باغ تھا جس کے جمال کو دیکھ کر انسان پر مستی طاری ہونے لگتی تھی۔ مگر آج اس قوم کا نام و نشان دنیا سے بالکل ناپید ہوچکا ہے اور یہ بھی متعین نہیں ہے کہ اس کی بستیاں ٹھیک کس مقام پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–79
اور دوسری آیات میں فَاَخَذَتْهُمُ الصَیحَہ بھی آیا ہے صیحہ کے معنی ہیں چیخ اور شدید آواز۔ دونوں آیتوں سے معلوم ہوا کہ دونوں طرح کے عذاب ان پر جمع ہوگئے تھے۔ زمین سے زلزلہ اور اوپر سے صیحہ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ فَاَصْبَحُوْا فِيْ دَارِهِمْ جٰثِمِيْنَ مصدر جثوم سے مشتق ہے جس کے معنی ہیں بےحس و حرکت ہو کر ایک جگہ پڑجانا یا بیٹھ رہنا (قاموس)۔ معنی یہ ہیں کہ جو جس حال میں تھا وہیں ڈھیر ہوگیا۔ نعوذ باللّٰہ۔
قوم ثمود کے اس قصہ کے اہم اجزاء تو خود قرآن کریم کی مختلف سورتوں میں مذکور ہیں اور کچھ اجزاء روایات حدیث میں مذکور ہیں۔ کچھ وہ بھی ہیں جو مفسرین نے اسرائیلی روایات سے لئے ہیں مگر ان پر کسی واقعہ…
Read the full tafseer →فَتَوَلّٰى عَنْهُمْ وَقَالَ يٰقَوْمِ لَقَدْ اَبْلَغْتُكُمْ رِسَالَةَ رَبِّيْ وَنَصَحْتُ لَكُمْ وَلٰكِنْ لَّا تُحِبُّوْنَ النّٰصِحِيْنَ۔
یہ قوم سے حضرت صالح کا آخری خطاب ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ انہوں نے عذاب آنے سے پہلے اس وقت فرمایا ہے جب قوم نے اونٹنی کی کونچیں کاٹ کر عذاب کے بند کو گویا توڑ دیا ہے۔ یہی وداعی فقرہ کہہ کر انہوں نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ ہجرت فرمائی ہوگی۔ اس لیے کہ رسولوں کے باب میں سنت الٰہی یہ ہے کہ عذاب آنے سے پہلے، اللہ کے حکم سے، وہ علاقہ عذاب سے ہجرت کرجاتے ہیں۔ قرآن میں دوسری جگہ تصریح کہ اونٹنی کے قتل کے بعد صرف تین دن کی قوم کو مہلت ملی۔ اس تین دن کی مہلت میں جہاں بعض دوسری…
Read the full tafseer →79۔ 1 یہ یا تو ہلاکت سے قبل کا خطاب ہے یا پھر ہلاکت کے بعد اسی طرح کا خطاب ہے، جس طرح رسول اللہ نے جنگ بدر ختم ہونے کے بعد جنگ بدر میں مشرکین کی لاشوں سے خطاب فرمایا تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–79
39: ثمود بھی قوم عاد ہی کی نسل سے پیدا ہوئی تھی اور ظاہر یہ ہے کہ حضرت ہود ؑ اور ان کے مومن ساتھی جو عذاب سے بچ گئے تھے یہ ان کی اولاد تھی اور ثمود ان کے دادا کا نام تھا، اسی لئے ان کو عاد ثانیہ بھی کہا جاتا ہے، یہ قوم عرب اور شام کے درمیان اس علاقے میں آباد تھی جس کو اس وقت حجر کہا جاتا تھا اور آج کل اسے مدائن صالح کہتے ہیں، اور آج بھی ان کے گھروں اور محلات کے کھنڈر موجود ہیں اور پہاڑوں سے تراشی ہوئی عمارتوں کے آثار جن کا ذکر آیت 74 میں ہے آج بھی وہاں دیکھے جاسکتے ہیں، عرب مشرکین جب تجارتی سفر پر شام جاتے تو یہ کھنڈر ایک نشان عبرت کے طور پر ان کے راستے میں پڑتے تھے اور قرآن کریم نے کئی…
Read the full tafseer →آیت ” فَتَوَلَّی عَنْہُمْ وَقَالَ یَا قَوْمِ لَقَدْ أَبْلَغْتُکُمْ رِسَالَۃَ رَبِّیْ وَنَصَحْتُ لَکُمْ وَلَکِن لاَّ تُحِبُّونَ النَّاصِحِیْنَ (79)
” اور صالح یہ کہتا ہوا ان کی بستیوں سے نکل گیا کہ ” اے میری قوم ‘ میں نے اپنے رب کا پیغام تجھے پہنچا دیا اور میں نے تیری بہت خیرخواہی کی مگر میں کیا کروں کہ تجھے اپنے خیر خواہ پسند ہی نہیں ہیں ۔ “
یہ شہادت دے دی گئی کہ حضرت صالح (علیہ السلام) نے پیغام پوری طرح پہنچا دیا تھا اور سرکشی اور نافرمانی کرکے انہوں نے خود اپنے آپ کو ان انجام کا مستحق بنایا تھا ۔ یہاں مکذبین کی تاریخ کا ایک دوسرا صفحہ لپیٹ دیا جاتا ہے ۔ اور کسی ڈرانے والے کی توہین وتکذیب…
Read the full tafseer →5 کہتے کہ حضرت صالح قوم کی ہلاکت کے بعد مکہ معظمہ یا ملک شام کی طرف چلے گئے اور جاتے ہوئے ان لاشوں کے انبار دیکھ کر یہ خطاب فرمایا، یا تو اسی طرح جیسے آنحضرت نے مقتولین بدر کو فرمایا تھا اور یا محض بطور تحسر فرضی خطاب تھا۔ جیسے شعراء دیارو اطلال (کھنڈرات) وغیرہ کو خطاب کرتے ہیں۔ اور بعض نے کہا کہ یہ خطاب ہلاکت سے پہلے تھا اس صورت میں بیان میں ترتیب واقعات مرعی نہ ہوگی۔ بہرحال اس خطاب میں دوسروں کو سنانا تھا کہ اپنے معتبر خیر خواہوں کی بات ماننی چاہیے۔ جب کوئی شخص خیر خواہوں کی قدر نہیں کرتا تو ایسا نتیجہ دیکھنا پڑتا ہے۔
Read the full tafseer →آیت 79 فَتَوَلّٰی عَنْہُمْ وَقَالَ یٰقَوْمِ لَقَدْ اَبْلَغْتُکُمْ رِسَالَۃَ رَبِّیْ وَنَصَحْتُ لَکُمْ وَلٰکِنْ لاَّ تُحِبُّوْنَ النّٰصِحِیْنَ ۔
اس کے بعد حضرت لوط علیہ السلام کا ذکر آ رہا ہے۔ آپ علیہ السلام حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بھتیجے تھے۔ آپ علیہ السلام عراق کے رہنے والے تھے اور سامی النسل تھے۔ آپ علیہ السلام نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ ہجرت کی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت لوط علیہ السلام کو رسالت سے سرفراز فرماکر سدوم اور عامورہ کی بستیوں کی طرف مبعوث فرمایا۔ یہ دونوں شہر بحیرۂ مردار Dead Sea کے کنارے اس زمانے کے دو بڑے اہم تجارتی مراکز تھے۔ اس زمانے میں جو تجارتی قافلے ایران اور…
Read the full tafseer →84 ہجرت سے پہلے اپنی قوم کو خطاب :۔ حجر جیسے متمدن شہر کے کھنڈرات دیکھنے ہی سے اندازہ ہوجاتا ہے کہ اس شہر کی آبادی چار پانچ لاکھ کے لگ بھگ ہوگی مگر ان میں سے صرف ایک سو بیس آدمی سیدنا صالح (علیہ السلام) پر ایمان لائے تھے اللہ تعالیٰ نے سیدنا صالح (علیہ السلام) کو عذاب کی آمد کے وقت سے مطلع کردیا تھا چناچہ انہوں نے ان پیروکاروں کو لے کر فلسطین کا رخ کیا اور جاتے جاتے اپنی قوم کے لوگوں سے نہایت افسوس سے یہ خطاب کیا کہ میں نے تو تمہیں اللہ کا پیغام بھی پہنچا دیا تھا اور تمہاری خیر خواہی کی بھی انتہائی کوشش کی تھی لیکن تم ان باتوں کا مذاق ہی اڑاتے رہے اب تم جانو تمہارا کام۔ یہ کہہ کر آپ شہر سے…
Read the full tafseer →105 ۔ (بلکہ ناقدری کے ساتھ ان کی بات ٹھکراتے رہے جبھی تو یہ دن دیکھنا نصیب ہوا) (آیت) ” ونصحت لکم یعنی کس کس شفقت سے تمہیں سمجھایا، بجھایا ! (آیت) ” قال لقومہ “۔ ہلاک شدہ افراد امت سے یہ فرضی خطاب بےساختہ اظہار قلق و حسرت کے لیے ہے۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ اس خطاب سے سماع موتی ثابت ہوتا ہے۔ تاوقتیکہ کوئی دلیل قوی اس کے رد میں نہ ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–79
آیت نمبر 73 تا 84
ترجمہ : اور ہم نے ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح کو بھیجا، اگر قبیلہ کا نام ہو تو غیر منصرف ہے، انہوں نے فرمایا اے میری قوم تم اللہ کی بندگی کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں، میری صداقت پر تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے واضح دلیل، معجزہ، آچکی ہے، یہ اونٹنی ہے اللہ کی (آیۃً ) حال ہے اس کا عامل اسم اشارہ کا معنی (اشیرُ ) ہے انہوں نے حضرت صالح (علیہ السلام) سے ایک خاص پتھر (چٹان) سے جس کو انہوں نے متعین کیا تھا (اونٹنی) نکالنے کا مطالبہ کیا تھا، سو اس کو چھوڑ دو اللہ کی زمین میں کھاتی پھرے بری نیت قتل و ضرب کے ارادہ سے اس کو ہاتھ بھی نہ لگانا، ایسا نہ ہو کہ کہیں تمہیں…
Read the full tafseer →فتولی عنہم وقال یقوم لقد ابلغتکم رسالہ ربی ونصحت لکم ولکن لا تحبون النصحین۔ اس وقت صالح ان سے منہ موڑ کر چلے اور کہا اے میری قوم میں نے تو تم کو اپنے رب کا حکم پہنچا دیا تھا اور تمہاری خیر خواہی کی تھی لیکن تم خیرخواہوں کو ہی پسند نہیں کرتے تھے۔
ایک شبہ
زلزلہ سے ساری قوم ہلاک ہوچکی تو پھر ان مردوں کو حضرت صالح نے کس طرح مخاطب بنایا اور لقد ابلغتکم کس سے فرمایا۔
ازالہ : مردوں سے خطاب رسول اللہ ﷺ نے بھی کیا تھا بدر کے مقولین کو جب ایک گڑھے میں ڈال دیا گیا تو رسول اللہ ﷺ نے (نام لے لے کر) ان کو مخاطب بنایا۔ صحیحین میں حضرت ابو طلحہ ؓ کی روایت سے آیا ہے کہ بدر سے تیسرے دن رسول اللہ ﷺ نے اونٹنی…
Read the full tafseer →(79) حضرت صالح ؑ ان کی ہلاکت سے پہلے ان کے درمیان سے نکلے (یاہلاک ہونے کے بعد اور بطور حسرت کے) کہا میں نے تمہیں احکام الہی کی تبلیغ کی اور عذاب الہی سے ڈرا کر توبہ ایمان کی طرف بلایا مگر تم تو خیر خواہوں کی پیروی نہیں کرتے تھے۔
Read the full tafseer →فَتَوَلّٰى عَنْهُمْ وَقَالَ يٰقَوْمِ لَقَدْ اَبْلَغْتُكُمْ : یہ اسی قسم کا خطاب تھا جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے بدر کے مشرک مقتولین سے کیا تھا۔ دیکھیے اسی سورت کی آیت (43) کی تفسیر۔ دوسرے تمام انبیاء کے ذکر میں ”ُرِسٰلٰتِ رَبِّيْ“ جمع کا لفظ ہے اور یہاں ”رِسَالَةَ رَبِّيْ“ واحد ہے۔ بقاعی نے فرمایا، اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کا ایک ہی معجزہ تھا، یعنی اونٹنی۔ (نظم الدرر) (واللہ اعلم)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–79
قولہ تعالیٰ : فعقروالناقۃ، العقر کا معنی ہے زخمی کرنا۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : عضو کو کاٹ دینا جو اس کی جان میں اثر انداز ہو۔ اور عقرت الفرس تب کہا جاتا ہے جب تو تلوار کے ساتھ اس کے پاؤں پر ضرب لگائے۔ وہ خیل عقری ہے۔ اور عقرت ظھرالدابۃ جب تو جانور کی پشت کو زخمی کر دے۔ امرؤ القیس نے کہا ہے :
تقول وقد مال الغبیط بنا معا عقرت بعیری یا امرء القیس فانزل
یعنی تو نے میرے اونٹ کو زخمی کردیا۔
قشیری نے کہا ہے : عقر سے مراد اونٹ کی کونچ کو کھولنا یعنی کاٹنا ہے۔ پھر نحر کو عقر کہا گیا ہے، کیونکہ عقر اکثر نحر ( جان سے مار دینا) کا سبب بن جاتا ہے۔ اونٹنی کی کونچیں کاٹنے والے کے بارے میں مختلف اقوال ہیں۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–79
(1) امام ابو الشیخ نے مطلب بن زیاد (رح) سے روایت کیا کہ میں نے عبد اللہ بن ابی یعلی (رح) سے یہودی اور نصرانی کے بارے میں پوچھا کیا اسے بھائی کہا جاسکتا ہے ؟ فرمایا انہیں بھائی ایک دار میں رہنے کے سبب ہے لہٰذا اسے بھائی کہا جاسکتا ہے۔ کیا تو اللہ تعالیٰ کے اس قول کی طرف نہیں دیکھتا لفظ آیت ” والی ثمود اخاھم صلحا “
(2) امام سنید اور ابن جریر اور حاکم نے حجاج کے طریق سے ابوبکر بن عبد اللہ سے اور انہوں نے شہر بن خوشب سے اور انہوں نے عمرو بن خارجہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ثمود صالح کی قوم تھی اللہ تعالیٰ نے ان کو آباد کیا دنیا میں انہیں بہت لمبی عمریں عطا فرمائیں۔ یہاں تک کہ ایک…
Read the full tafseer →فَتَوَلّٰى [ پس انہوں نے رخ پھیرا ] عَنْهُمْ [ ان سے ] وَقَالَ [ اور کہا ] يٰقَوْمِ [ اے میری قوم ] لَقَدْ اَبْلَغْتُكُمْ [ میں پہنچا چکا ہوں تم کو ] رِسَالَةَ رَبِّيْ [ اپنے رب کا پیغام ] وَنَصَحْتُ [ اور میں نے خیرخواہی کی ] لَكُمْ [ تمہاری ] وَلٰكِنْ [ اور لیکن ] لَّا تُحِبُّوْنَ [ تم لوگ پسند نہیں کرتے ] [ النّٰصِحِيْنَ : خیرخواہی کرنے والوں کو ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–81
حضرت لوط (علیہ السلام) کا اپنی قوم کو احکام پہنچانا اور قوم کا اپنے افعال سے باز نہ آنا اور انجام کے طور پر ہلاک ہونا
ان آیات میں حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کی بد کر داری کا اور تھوڑا سا اس سوال و جواب کا ذکر ہے جو حضرت لوط (علیہ السلام) اور ان کی قوم کے درمیان ہوا نیز جو ان پر عذاب آیا اس کا بھی ذکر ہے مفصل قصہ سورة ہود اور سورة حجر اور سورة شعراء اور سورة عنکبوت میں مذکورہ ہے اور تھوڑا تھوڑا دیگر مواقع میں بھی ہے۔
یہ لوگ ایمان بھی نہ لائے اور جن برے کاموں میں مبتلا تھے ان سے حضرت لوط (علیہ السلام) نے روکا تو الٹے الٹے جواب دیتے رہے۔ یہاں سورة اعراف میں ان کی ایک بد کرداری کا تذکرہ فرمایا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–79
قصۂ سوم حضرت صالح (علیہ السلام) باقوم ثمود
قال اللہ تعالیٰ والی ثمود اخاھم صالحا۔۔۔ الی۔۔۔ ولکن لا تحبون النصحین
(ربط) اب یہ تیسرا قصہ قوم ثمود اور حضرت صالح (علیہ السلام) کا بیان فرماتے ہیں، ثمود، قوم عاد کے بعد ہوئے ہیں یہ لوگ عرب کے رہنے والے تھے مدینہ اور شام کے درمیان ان کا وطن تھا۔ آنحضرت ﷺ جب 9 میں تبوک کی طرف تشریف لے گئے تو راستہ میں ان کے شہر اور مکانات پر سے گزر ہوا اور وہاں کچھ قیام کا بھی اتفاق ہوا لوگوں نے ان کے کنوئیں سے پانی بھرا اور اس سے آٹا گوندھا۔ جب آنحضرت ﷺ کو اس کی خبر ہوئی تو آپ ﷺ نے یہ حکم دیا کہ جس قدر پانی بھرا گیا ہے پھینک دیا جائے پھر آپ نے وہاں سے کوچ فرمایا اور…
Read the full tafseer →85: جب قوم ہلاک ہوگئی تو حضرت صالح (علیہ السلام) نہایت حسرت و یاس کے ساتھ اپنی قوم سے یوں فرماتے ہوئے وہاں سے روانہ ہوئے اے میری قوم ! میں نے اپنے پروردگار کا پیغام تم کو پہنچا دیا اور تمہاری خیر خواہی کا حق ادا کردیا مگر افسوس کہ تم خیر خواہی کو پسند نہیں کرتے تھے۔ یہاں حرف نداء اور ضمائر خطاب سے تباہ و برباد شدہ قوم سے خطاب کرنا اور ان کو سنانا مقصود نہیں بلکہ یہ نداء و خطاب محض قوم کی بد قسمتی پر اظہارِ افسوس اور تحسر کے لیے ہے۔ فتولیٰ عنھم بعد ان جریٰ علیھم ما جریٰ علی ما ھو الظاھر مغتماً متحسراً علی ما فاتھم من الایمان متحزناً علیھم (روح ج 8 ص 165) اس سے معلوم ہوا کہ حروف نداء اور ضمائر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–79
ربط آیات
گزشتہ آیات میں حضرت صالح (علیہ السلام) کا ابتدائی ذکر ہوا اللہ تعالیٰ نے قوم ثمود کی طرف ان کے خاندان کے فرد کو نبوت و رسالت دے کر مبعوث فرمایا اور انہوں نے لوگوں کو اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچایا تمام انبیاء کے دستور کے مطابق صالح (علیہ السلام) نے بھی سب سے پہلے قوم کو توحید کا درس دیا اور کفر و شرک سے منع کیا پھر لوگوں کی فرمائش پر اللہ تعالیٰ نے صالح (علیہ السلام) کو اونٹنی بطور نشانی اور معجزہ عطا کی آپ نے فرمایا اللہ کی اونٹنی ہے اس کو برے ارادے سے ہاتھ نہ لگانا یہ اللہ کی زمین میں چرتی رہے گی مگر تم کو پریشان نہیں کرے گی لہٰذا تم بھی اس سے تعرض نہ کرنا ورنہ خدا تعالیٰ کے غضب کا…
Read the full tafseer →وَلُوْطًا اِذْ قَالَ لِقَوْمِہٖٓ اَتَاْتُوْنَ الْفَاحِشَۃَ مَا سَبَقَكُمْ بِہَا مِنْ اَحَدٍ مِّنَ الْعٰلَمِيْنَ 80
لوط
لُوطٌ: اسم علم، واشتقاقه من لَاطَ الشیء بقلبي يَلُوطُ لَوْطاً ولَيْطاً ، وفي الحدیث : «الولد أَلْوَطُ- أي : ألصق۔ بالکبد» وهذا أمر لا يَلْتَاطُ بصفري . أي : لا يلصق بقلبي، ولُطْتُ الحوض بالطّين لَوْطاً : ملطته به، وقولهم : لَوَّطَ فلان : إذا تعاطی فعل قوم لوط، فمن طریق الاشتقاق، فإنّه اشتقّ من لفظ لوط الناهي عن ذلک لا من لفظ المتعاطین له .
( ل و ط ) لوط
( حضرت لوط (علیہ السلام) ) یہ اسم علم ہے لَاطَ الشیء بقلبي يَلُوطُ لَوْطاً ولَيْطاً ، سے مشتق ہے جس کے معنی کسی چیز کی محبت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–79
ترکیب : من ربکم جاء تکم سے متعلق آیتہ حال ہے ناقہ سے والعامل فیہ معنی الاشارۃ تاکل مجزوم ہے کیونکہ جواب امر ہے جو قدروھا ہے فیاخذکم منصوب جواب نہی من سہولہا مفعول ثانی قصورا اول تنحتون جو بمعنی تتخذون لیا جاوے تو الجبال مفعول ثانی ورنہ من محذوف مان کر اس کو فعل سے متعلق کیا جاوے اور بیوتا کو مفعول قرار دیا جاوے۔ الملاء فاعل قال للذین اس سے متعلق لمن امن بدل ہے للذین استضعفوا سے باعادہ جاء کقولک مرت بزید باخیک اتعلمون الخ مقولہ بالذی کافرون سے متعلق ہے ان کنت شرط ائتنا بما تعدنا جملہ مقدم دال بر جزاء جاثمین خبر فاصبحوا رسالۃ مفعول ثانی ابلغت کا۔
تفسیر قوم ثمود کا تذکرہ : یہ تیسرا قصہ قوم ثمود…
Read the full tafseer →ارشاد فرمایا :
فَتَوَلّٰی عَنْھُمْ وَقَالَ یٰقَوْمِ لَقَدْ اَبْلَغْتُکُمْ رِسَالَۃَ رَبِّیْ وَ نَصَحْتُ لَکُمْ وَلٰکِنْ لَّا تُحِبُّوْنَ النّٰصِحِیْنَ ۔ (الاعراف : 79)
” اور صالح یہ کہتے ہوئے ان کی بستیوں سے نکل گئے کہ اے میری قوم ! میں نے اپنے رب کا پیغام تجھے پہنچا دیا اور میں نے تیری بہت خیر خواہی کی ‘ مگر کیا کروں کہ تجھے اپنے خیر خواہ پسند ہی نہیں “۔
پیغمبر کا اظہارِ حسرت
اس آیت کریمہ کے بارے میں سب سے پہلا سوال یہ ہے کہ حضرت صالح (علیہ السلام) نے قوم سے یہ بات عذاب آنے سے پہلے کہی یا بعد میں ؟ دونوں باتوں کا امکان ہے اللہ تعالیٰ کا طریقہ ہمیشہ یہ رہا کہ جب کسی قوم پر عذاب آتا ہے تو ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–79
فہم القرآن
حضرت صالح (علیہ السلام) کے خطبات کے اقتباسات
1۔ اے میری قوم اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اس لیے صرف اسی کی عبادت کرو۔ (الاعراف : 73) 2۔ اے میری قوم تمہیں عاد کے بعد اس دنیا میں بھیجا گیا ہے تاکہ تم نصیحت حاصل کرو۔ (الاعراف : 74)
3۔ اے میری قوم اللہ کی نعمتوں سے فائدہ اٹھاکر اس کا شکر ادا کرو۔ (الاعراف : 74)
قوم صالح کی خصوصیات و عادات :
1۔ قوم صالح اللہ کے ساتھ شرک کیا کرتی تھیں۔ (ھود : 62۔ 61)
2۔ ثمود انبیاء کو جھوٹا قرار دیتے تھے۔ (الشعراء : 141)
3۔ وہ پہاڑوں کو تراش کر گھر بنایا کرتے تھے۔ (الاعراف : 74)
4۔ وہ نرم زمین پر بھی بڑے بڑے محلات تعمیر کیا کرتے تھے۔ (الاعراف : 74)
5۔…
Read the full tafseer →تحسر صالح۔ :
آیت 79: فَتَوَلّٰی عَنْھُمْ (صالح ( علیہ السلام) ان سے منہ موڑ کر چلے) جب انہوں نے اونٹنی کی کونچیں کاٹیں وَقَالَ یٰـقَوْمِ (اور فرمایا اے میری قوم) ان سے جدائی کے وقت لَقَدْ اَبْلَغْتُکُمْ رِسَالَۃَ رَبِّیْ وَنَصَحْتُ لَکُمْ وَلٰـکِنَ لَّا تُحِبُّوْنَ النّٰصِحِیْنَ (میں نے تو تم کو اپنے پروردگار کا حکم پہنچا دیا تھا اور میں نے تمہاری خیر خواہی کی لیکن تم لوگ خیر خواہوں کو پسند ہی نہیں کرتے تھے) جو کہ ہدایت کا حکم دینے والے تھے۔ خواہشات کی تزیین کی بناء پر نصیحت کے بارے میں معروف ہے کہ رسواء کن دودھ دینے والی اونٹنی ہے۔ لیکن وہ بدمزہ ہے جس سے غصہ جنم لیتا ہے۔ روایت میں ہے کہ…
Read the full tafseer →(79) حضرت صالح (علیہ السلام) نے ان سے اعراض کیا (فتولی عنھم وقال یقوم لقد ابلغتکم رسالۃ ربی ونصحت لکم ولکن لاتحبون النصحین) اگر یہ اعتراض ہو کہ صالح (علیہ السلام) نے ان کے ہلاک ہونے کے بعد ان کو کیسے خطاب کیا ؟ ان الفاظ سے لقد ابلغتکم رسالۃ ربی ونصحت لکم تو جواب یہ ہے کہ جس طرح نبی کریم ﷺ نے غزوہ بدر کے مقتولین میں سے ہر ایک کا نام لے کر آاز دی تھی اور ان کو کہا تھا کہ ہم نے اپنے رب کے وعدہ کو حق پایا۔ کیا تم نے بھی اپنے رب کے وعدہ کو حق پایا ؟ تو حضرت عمر ؓ نے کہا اے اللہ کے رسول ! آپ ان جسموں سے کیا بات کر رہے ہیں جن میں کوئی روح ہی نہیں ہے تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ اس ذات کی قسم جس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–79
(73 ۔ 79) ۔ حضرت صالح ( علیہ السلام) بھی حضرت نوح ( علیہ السلام) خاندان میں سے ہیں قوم عاد کی ہلاکت کے بعد اسی سر زمین میں قوم صالح ( علیہ السلام) کے لوگ جن کو ثمود کہتے ہیں بسے بڑی بڑی عمر کے لوگ اس قوم میں ہوئے اینٹ مٹی کے مکان ان کی عمر بھر میں کافی نہ ہوئے تو انہوں نے پہاڑوں کو تراش کر گھر بنائے نوعمری سے حضرت صالح ان میں نبی ہوئے نصیحت کرتے کرتے بڈھے ہوگئے مگر ان میں سے چند ہی شخص ایمان لائے سال بھر میں ایک روز ان کی عید کا ہوتا تھا اس روز انہوں نے حضرت صالح ( علیہ السلام) سے کہا کہ تم ہمارے ایک معجزے کی اپنے اللہ سے دعا کرو اور ہم بتوں سے اسی معجزے کی خواہش کرتے ہیں اگر تمہارے خدا نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–79
آیت 72
(والی ثمود) ” اور ثمود کی طرف “ ثمود قدیم عربوں کا معروف قبیلہ تھا جو جزیرۃ العرب اور ارض حجاز میں حجر اور اس کے اردگرد کے علاقوں میں آباد تھا (اخاھم صلحاً ) اللہ تعالیٰ نے صالح کو نبی بنا کر ان کی طرف مبعوث کیا جو انہیں توحید اور ایمان کی دعوت دیتے تھے اور انہیں شرک اور اللہ تعالیٰ کے ہمسر گھڑنے سے روکتے تھے۔ (قال یقوم اعبدو اللہ مالکم من الہ غیرہ) ” انہوں نے کہا : اے میری قوم ! اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ “ صالح کی دعوت بھی وہی تھی جو ان کے بھائ دیگر انبیا ومرسلین کی دعوت تھی یعنی اللہ تعالیٰ کی عبادت کا حکم دینا اور یہ واضح کردینا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا بندوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–141
دعا کا طریقہ
قول باری ہے وادعواربکم تضرعاً عاوخفیۃ۔ اپنے رب کو پکارو گڑگڑاتے ہوئے اور چپکے چپکے) آیت میں چپکے چپکے رب کو پکارنے کا حکم ہے حسن کا قول ہے کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے تمہیں اس بات کی تعلیم دی ہے کہ تم اپنے رب کو کس طرح پکارو۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک عہد صالح کا ذکر فرمایا جس کی پکار کو اس نے پسند فرمایا تھا چناچہ ارشاد ہے اذنادی ربہ نداء خفیا۔ جبکہ اس نے اپنے رب کو چپکے چپکے پکارا) یعنی حضرت زکریاعلیہ السلام عبداللہ بن المبارک نے حسن بصری سے روایت کی ہے کہ لوگ یعنی صحابہ کرام بڑی عاجزی اور نیاز مندی کے ساتھ دعائیں مانگا کرتے تھے اور صرف سرگوشی کی آواز سنائی دیتی تھی۔ حضرت…
Read the full tafseer →108 تکذیب و انکار حق کا نتیجہ دائمی ہلاکت و تباہی ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہِ : حضرات انبیاء و رسل کی تکذیب عذاب خداوندی کو دعوت دینا ہے۔ سو حضرت صالح کے اس خطاب میں اظہار افسوس بھی ہے اور اس حقیقت کا بیان بھی کہ ان سچے خیر خواہوں کی بات کو نہ ماننا جو اللہ پاک کی وحی والہام کی بنیاد پر خیر خواہی کا یہ فربضہ انجام دیتے ہیں، اپنی تباہی کو دعوت دینا ہوتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور ان کی دعوت کی تصدیق اور اس کے اپنانے میں دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی کا سامان ہے ۔ وَباللّٰہِ التوفیق لِمَا یُحِبُّ وَیُرِیْدُ ۔ وَھُوَ الْہَادِیْ اِلٰی سَوائِ السَّبِیْل -
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–79
قوم ثمود کی بربادی
تشریح ؛۔ ان آیات میں قوم ثمود کا تعارف، ان کے طور طریقے اور پھر عذاب کا بیان ہے اور پھر ان کے رسول سیدنا صالح (علیہ السلام) کی تعلیمات اور ناقۃ اللہ کا ذکر ہے۔ قوم ثمود : یہ قوم عاد کے بعد بڑی مشہور قوم وجود میں آئی یہ الحجر میں رہتے تھے۔ الحجر حجاز اور یمن کے درمیان میں واقع ہے۔ یہ قوم بھی عاد کی طرح بےحد مضبوط، صحت مند، خوشحال اور ہنر مند قوم تھی یہ پہاروں کو کاٹ کر بڑے بڑے محلات بناتے تھے۔ اور مذہب کے لحاظ سے یہ بھی اللہ کو تو ضرورمانتے تھے۔ مگر پچھلی قوم کی طرح ان کا بھی خیال تھا کہ اللہ سارے کام نہیں کرسکتا۔ لہٰذا انہوں نے بھی کئی قسم کے بت بنا رکھے تھے جن کی پوجا کرتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–84
رکوع نمبر 10 ۔ آیات نمبر 73 تا 84 ۔
اسرار و معارف :
حقیقت دعا :
بات اسی تسلسل میں جا رہی ہے کہ اللہ تعالیٰ بہت بڑی قدرت کا مالک اور اپنی مخلوق پر بہت زیادہ مہربان بھی ہے اس کی رحمت محتاجوں کو تلاش کرتی ہے اگر کوئی انسان محروم ہے تو اس کی وجہ نزول رحمت میں کمی نہیں خود اس کے دل میں قبولیت کی استعداد میں کمی ہے جیسے حدیث شریف ارشاد ہے کہ لوگ دور دراز سفر کرکے پریشان بالوں پھٹے ہوئے دامنوں اور گرد سے اٹے پاؤں اور چہرہ لے کر پکارتے ہیں یار یارب مگر ان کی دعا سنی نہیں جاتی اس لیے کہ کھانا حرام پہننا حرام ہوتا ہے بعض بےنصیب تو دعا ہی سے محروم ہوتے ہیں اور بعض صورت دعا تو بنا لیتے ہیں مگر حقیقت سے…
Read the full tafseer →ف 6 یعنی عذاب آیا یا عذاب آنے کا وقت ہوا۔ حضرت صالح کی قوم پر دو طرح کا عذاب آیا یعنی اوپر سے صحیحتہ (چیخ) اور نیچے سے رجفتہ یعنی زلزہ ( ابن کثیر )
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–80
(7:80) ولوطا۔ ای وارسلنا لوطا۔ اتاتون الفاحشۃ۔ کیا تم ایسی بےحیائی کا کام کرتے ہو۔ ملاحظہ ہو 7:28 ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–79
لغات القرآن آیت نمبر (73 تا 79) ۔
نقتہ اللہ (اللہ کی اونٹنی) ۔ ذروھا۔ (اس کو چھوڑے رکھنا) ۔ تاکل (کھائے گی) ۔ لاتمسو (تم نہ چھونا) ۔ بسوء (برائی سے۔ بری نیت سے) ۔ بوا (اس نے ٹھکانا دیا) ۔ سھول (نرم جگہیں) ۔ قصور (قصر) ۔ محلات) ۔ تنحتون (تم تراشتے ہو) ۔ الجبال (الجبل) ۔ پہاڑ) ۔ بیوت (گھر) ۔ لا تعثوا (تم نہ پھرو) ۔ استکبروا (جنہوں نے بڑائی کی۔ تکبر کیا) ۔ استضعفوا (جو کمزور بنادیئے گئے تھے) ۔ عقروا (انہوں نے کاٹ ڈالا) ۔ عتوا (نافرمانی کی) ۔ اخذت (پکڑ لیا۔ آلیا) ۔ الرجفتہ (زلزلہ۔ بھونچال) ۔ جٰثمین (اوندھے پڑے ہوئے) ۔ نصحت (میں نے نصیحت کردی تھی) ۔ لا تحبون (تم پسند نہیں کرتے) ۔ الناصحین (نصیحت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–80
قوم لوط (علیہ السلام) کی ہلاکت
حضرت لوط (علیہ السلام) نے جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بھتیجے تھے، شہر بابل سے آپ کے ساتھ ہجرت کر کے ملک شام میں سکونت اختیار کی تھی۔ پھر سدوم میں رہنے کا اور اس شہر اور اس کے گردونواح کے شہر والوں کی ہدایت کا حکم ہوا۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کی امت جن بستیوں میں رہتی تھی وہ بڑی شاداب اور سرسبز تھیں۔ غیر بستیوں کے لوگ شادابی کے سبب سے قوم لوط کی بستیوں میں اکثر آجایا کرتے تھے۔ جس کی وجہ سے قوم لوط کو طرح طرح کی تکلیف ہوتی تھی۔ شیطان نے قوم لوط کو بہکایا کہ غیر بستیوں کے جو لوگ آویں ان کے ساتھ جتنے نوعمر لڑکے ہوں ان لڑکوں سے بدفعلی کی فاوے تو غیر لوگ تمہاری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–80
[35] لوط (علیہ السلام) ابراہیم (علیہ السلام) کے حقیقی بھتیجے تھے۔
[36] قوم یہاں اردو کے لفظ امت کے معنی میں ہے۔ لوط (علیہ السلام) کی بعثت اپنی برادری یا وطن والوں کی جانب نہ تھی اس لئے '' بھائی '' کا رشتہ جو ہود (علیہ السلام) اور صالح (علیہ السلام) کے لئے بیان کیا گیا ہے یہاں حذف کردیا گیا۔ آپ جس قوم کی ہدایت کے لئے بھیجے گئے تھے وہ اس علاقے میں رہتی تھی جو عراق اور فلسطین کے درمیان واقع ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–81
حضرت صالح (علیہ السلام) :
(ف 2) عاد اولی کے بعد عاد ثانیہ کا زمانہ ہے یعنی ثمود کی قوم ، انکی جانب حضرت صالح (علیہ السلام) مبعوث ہوئے ۔
انہوں نے بھی حسب سابق اللہ کی عظمت و جلال کا وعظ کہا ، عمر بھر اللہ کی جانب بلاتے رہے ، مگر چند لوگوں کے سوا سب نے انکار کیا ،
(ف 1) حضرت صالح (علیہ السلام) نے فرمایا تم اگر انکار کرو گے ، تو مٹ جاؤ گے ، اللہ کی غیرت جوش میں آجائے گی ، اور سنت اللہ کے موافق تمہیں ہلاک کردیا جائے گا ، مگر وہ نہ مانے ، انہیں اپنے مضبوط قلعوں اور مکانوں پر ناز تھا ، ان کے مکان پتھر کے تھے ، اور بڑی بڑی عمارتیں تھیں ، ان کا خیال یہ تھا کہ کوئی عذاب ہمیں نہیں مٹا سکے گا ،
حضرت…
Read the full tafseer →79 اس وقت حضرت صالح (علیہ السلام) یہ فرماتے ہوئے تشریف لے گئے اور حسرت کے ساتھ کہتے ہوئے لوٹے کہ اے میری قوم ! میں نے تم کو اپنے رب کا پیغام پہنچا دیا اور میں نے ہر طرح تمہاری خیر خواہی کی لیکن اس کا کیا علاج کہ تم خیر خواہی کرنے والوں کو پسند ہی نہیں کرتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–80
ف 1۔ دوسری آیت میں صیحہ یعنی فرشتہ کے نعرہ سے ہلاک ہونا آیا ہے بعض نے کہا ہے کہ اوپر سے نیچے سے زلزلہ آیا تھا اور بعض نے کہا ہے کہ رجعہ سے مراد قلب کی حرکت ہے جو صیحہ کے خوف سے پیداہوئی تھی اور جس نے اونٹنی کو قتل کیا تھا اس کا نام قدار آیا ہے۔ اور دوسری آیت میں ان کے رہنے کا مقام حجرآیا ہے چونکہ حجاز اور شام کے درمیان ایک مقام تھا اور ظاہر آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ صالح یہاں سے بعد ہلاک قوم کے تشریف لے گئے پھر بعض نے شام کو جانا اور بعض نے مکہ کو جانا نقل کیا ہے۔
Read the full tafseer →صالح (علیہ السلام) نے ان مرے ہوئے لوگوں پر افسوس کا اظہار کیا :
90: ” اے میری قوم کے لوگو ! میں نے اپنے پروردگار کا پیغام نہیں پہنچایا اور نصیحت کی مگر تم لوگ نصیحت کرنے والوں کو پسند ہی نہیں کرتے تھے۔ “ ہلاک شدگان کی جانب حضرت صالح (علیہ السلام) کا یہ خطاب اس طرح کا خطاب تھا جس طرح بدر میں مشرکین مکہ کے سرداروں کی ہلاکت کے بعد مردہ نعشوں کے گڑھے پر کھڑے ہو کر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا۔
( یَا فُلَانُ بْنَ فُلَانٍ وَیَا فُلَانُ بْنَ فُلَانٍ أَیَسُرُّکُمْ أَنَّکُمْ أَطَعْتُمْ اللّٰهَ وَرَسُولَهُ فَإِنَّا قَدْ وَجَدْنَا مَا وَعَدَنَا رَبُّنَا حَقًّا فَهَلْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَ رَبُّکُمْ حَقًّا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–79
Other verses of the Qur'an have also mentioned: فَأَخَذَتْهُمُ الصَّيْحَةُ (that is, a Cry or Sound seized them - 15:83). The word: الصَّيْحَةُ (As-Saihah) means a shrill cry or severe sound. From these two verses, we find out that two kinds of punishment had simultaneously converged on the people of Thamud, the earthquake from below and the ` Saihah' from above. The result was: أَصْبَحُوا فِي دَارِهِمْ (and they were [ found dead ] in their homes, fallen on their knees - 77). The word: جَاثِمِين (jathimin) is a derivation from the verbal noun: Juthum, which means to be rendered senseless…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–80
63. The land inhabited by the people of Lot, which lies between Iraq and Palestine, is known as Trans-Jordan. According to the Bible, its capital town was Sodom, which is situated either somewhere near the Dead Sea, or presently lies submerged under it.. Apart from Sodom, according to the Talmud, there were four other majour cities, and the land lying between these cities was dotted with such greenery and orchards that the whole area looked like one big garden enchanting any onlooker. However, the whole nation was destroyed and today wc can find no trace of it. So much so that it is difficult…
Read the full tafseer →