Al-A'raaf 7:78

Al-A'raaf · from ayah 78

7:78

فَاَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دَارِهِمْ جٰثِمِیْنَ ۟فَاَخَذَتۡهُمُ الرَّجۡفَةُ فَاَصۡبَحُوۡا فِىۡ دَارِهِمۡ جٰثِمِيۡنَ

تو ان کو بھونچال نے آ پکڑا اور وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے

— Fateh Muhammad Jalandhari

So the earthquake seized them, and they became within their home [corpses] fallen prone.

— Saheeh International

Juz 8 · Ruku 10 of surah · Ruku 17 of juz

Read the whole surah · Surah Al-A'raaf

All translations of 7:78

آخر کا ر ایک دہلا دینے والی آفت نے اُنہیں آ لیا اور وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے کے پڑے رہ گئے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

تو ان کو بھونچال نے آ پکڑا اور وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے

— مولانا فتح محمد جالندہری

پس ان کو زلزلہ نے آپکڑا اور وه اپنے گھروں میں اوندھے کے اوندھے پڑے ره گئے

— مولانا محمد جوناگڑہی

نتیجہ یہ ہوا کہ انہیں زلزلے نے آپکڑا اور وہ اپنے گھر میں اوندھے پڑے رہ گئے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تو انہیں زلزلے نے ا ٓلیا تو صبح کو اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

سو انہیں سخت زلزلہ (کے عذاب) نے آپکڑا پس وہ (ہلاک ہو کر) صبح اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

تو انھیں زلزلے نے پکڑ لیا تو انھوں نے اپنے گھر میں اس حال میں صبح کی کہ گرے پڑے تھے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

آخر انہیں زلزلے نے آلیا اور وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے کے پڑے رہ گئے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

پس ان کو کپکپی نے آپکڑا اور وہ اپنے گھروں میں اوندھے منہ پڑے رہ گئے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

آخرکار آپکڑا ان لوگوں کو اس (ہولناک) زلزلے نے جس سے یہ لوگ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے

— مولانا اسحاق مدنی

پس انہیں زلزلہ نے آپکڑا سو وہ اپنے گھر میں اوندھے پڑے رہ گئے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

تو انہیں آپکڑا زلزے نے پھر وہ پڑے رہ گئے اپنے گھروں میں اوندھے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

تو ان کو زلزلے نے آپکڑا اور پھر اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Thereupon a shocking catastrophe seized them, so that they lay prostrate in their dwellings.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

So, the earthquake seized them, and they were (found dead) in their homes, fallen on their faces.

— Muhammad Taqi Usmani

So, the earthquake seized them, and they were (found dead) in their homes, fallen on their faces.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

So the earthquake seized them, and they lay (dead), prostrate in their homes.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

So the earthquake seized them, and morning found them prostrate in their dwelling-place.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

So the earthquake seized them, and they became within their home [corpses] fallen prone.

— Saheeh International

Suddenly, an earthquake jolted them and they were left motionless in their homes.

— Muhammad Sarwar

Then the earthquake overtook them, so they became motionless bodies in their abode.

— Muhammad Habib Shakir

Whereupon an earthquake seized them, so that they lay prone in their dwellings.

— Abdul Majid Daryabadi

So the earthquake took them unawares, and they lay prostrate in their homes in the morning!

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 7:78

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 73–78

ثمود کی قوم اور اس کا عبرت ناک انجام علمائے نسب نے بیان کیا ہے کہ ثمود بن عامر بن ارم بن سام بن نوح۔ یہ بھائی تھا جد بس بن عامر کا۔ اسی طرح قبیلہ طسم یہ سب خالص عرب تھے۔ حضرت ابراہیم خلیل اللہ ؑ سے پہلے ثمودی عادیوں کے بعد ہوئے ہیں ان کے شہر حجاز اور شام کے درمیان وادی القری اور اس کے اردگرد مشہور ہیں۔ سنہ009ھ میں تبوک جاتے ہوئے رسول اللہ ﷺ ان کی اجاڑ بستیوں میں سے گذرے تھے۔ مسند احمد میں ہے کہ جب حضور ﷺ تبوک کے میدان میں اترے لوگوں نے ثمودیوں کے گھروں کے پاس ڈیرے ڈالے اور انہی کے کنوؤں کے پانی سے آٹے گوندھے ہانڈیاں چڑھائیں تو آپ نے حکم دیا کہ سب ہانڈیاں الٹ دی جائیں اور گندھے ہوئے آٹے اونٹوں…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْاَعْرَاف 62 اس آفت کو یہاں ”رجفہ“ (اضطراب انگیز، ہلا مارنے والی) کہا گیا ہے اور دوسرے مقامات پر اسی کے لیے صَیْحَةَ (چیخ) ، ”صاعقہ“ (کڑاکا) اور ”طاغیہ“ (سخت زور کی آواز) کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 78–79

اور دوسری آیات میں فَاَخَذَتْهُمُ الصَیحَہ بھی آیا ہے صیحہ کے معنی ہیں چیخ اور شدید آواز۔ دونوں آیتوں سے معلوم ہوا کہ دونوں طرح کے عذاب ان پر جمع ہوگئے تھے۔ زمین سے زلزلہ اور اوپر سے صیحہ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ فَاَصْبَحُوْا فِيْ دَارِهِمْ جٰثِمِيْنَ مصدر جثوم سے مشتق ہے جس کے معنی ہیں بےحس و حرکت ہو کر ایک جگہ پڑجانا یا بیٹھ رہنا (قاموس)۔ معنی یہ ہیں کہ جو جس حال میں تھا وہیں ڈھیر ہوگیا۔ نعوذ باللّٰہ۔ قوم ثمود کے اس قصہ کے اہم اجزاء تو خود قرآن کریم کی مختلف سورتوں میں مذکور ہیں اور کچھ اجزاء روایات حدیث میں مذکور ہیں۔ کچھ وہ بھی ہیں جو مفسرین نے اسرائیلی روایات سے لئے ہیں مگر ان پر کسی واقعہ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

فَاَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ فَاَصْبَحُوْا فِيْ دَارِهِمْ جٰثِمِيْنَ۔ رجفۃ، کے معنی شدت کے حرکت، کپکپی، اور تھرتھراہٹ کے ہیں۔ یہ اس عذاب کی تعبیر ہے جو قوم ثمود پر آیا۔ قرآن نے اس عذاب کو دوسری جگہ ‘ صیحۃ ’ سے بھی تعبیر کیا ہے جس کے معنی ڈانٹ کے ہیں، بعض جگہ صاعقہ سے بھی تعبیر کیا (مثل صاعقہ عاد وثمود) جس کے معنی کڑ کے کے ہیں، سورة حاقہ میں طاغیہ سے تعبیر کیا ہے۔ فاما ثمود فاھلکو بالطاغیۃ، جس کے معنی حد سے بڑھ جانے والی کے ہیں۔ مولانا فراہی ؒ نے سورة ذاریات کی تفسیر میں عاد وثمود دونوں قوموں کے عذاب کی نوعیت پر تفصیل سے بحث کی ہے۔ وہ آخر میں خلاصہ بحث ان لفظوں میں پیش کرتے ہیں۔“ اس تفصیل سے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

78۔ 1 یہاں رَجْفَہ، ُ (زلزلے) کا ذکر ہے۔ دوسرے مقام پر صَیْحَۃ، ُ ، ُ (چیخ) کا۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دونوں قسم کا عذاب ان پر آیا۔ اوپر سے سخت چیخ اور نیچے سے زلزلہ۔ ان دونوں عذابوں نے انہیں تہس نہس کرکے رکھ دیا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 73–79

39: ثمود بھی قوم عاد ہی کی نسل سے پیدا ہوئی تھی اور ظاہر یہ ہے کہ حضرت ہود ؑ اور ان کے مومن ساتھی جو عذاب سے بچ گئے تھے یہ ان کی اولاد تھی اور ثمود ان کے دادا کا نام تھا، اسی لئے ان کو عاد ثانیہ بھی کہا جاتا ہے، یہ قوم عرب اور شام کے درمیان اس علاقے میں آباد تھی جس کو اس وقت حجر کہا جاتا تھا اور آج کل اسے مدائن صالح کہتے ہیں، اور آج بھی ان کے گھروں اور محلات کے کھنڈر موجود ہیں اور پہاڑوں سے تراشی ہوئی عمارتوں کے آثار جن کا ذکر آیت 74 میں ہے آج بھی وہاں دیکھے جاسکتے ہیں، عرب مشرکین جب تجارتی سفر پر شام جاتے تو یہ کھنڈر ایک نشان عبرت کے طور پر ان کے راستے میں پڑتے تھے اور قرآن کریم نے کئی…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

آیت ” فَأَخَذَتْہُمُ الرَّجْفَۃُ فَأَصْبَحُواْ فِیْ دَارِہِمْ جَاثِمِیْنَ (78) ” آخر کار ایک دہلا دینے والی آفت نے انہیں آلیا اور وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے کے پڑے رہ گئے ۔ “ چناچہ دہلا دینے والی مصیبت آگئی اور اس کے نتیجے میں ان کو اوندھا اس لئے گرایا گیا تاکہ انکی اکڑ اور سرکشی کے لئے مناسب سزا ان کو دے دی جائے کیونکہ کڑک اور جھنجوڑنے کے نتیجے میں وہ خوفزدہ ہوئے اور بےحس و حرکت اوندھے منہ گرے ۔ انکی یہ حالت ان کی سرکشی اور اکڑ کے لئے مناسب سزا تھی ۔ الفاظ کی نفسیاتی تصویر کشی قابل دید ہے ۔ اب ان کو اسی طرح اوندھے پڑے چھوڑ کر بات کا رخ حضرت صالح (علیہ السلام) کی طرف مڑ گیا ‘ جس کی انہوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

9 دوسری آیت میں ان کا " صیحہ " (چیخ) سے ہلاک ہونا بیان فرمایا ہے۔ شاید نیچے سے زلزلہ اور اوپر سے ہولناک آواز آئی ہوگی۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 77–78

آیت 77 فَعَقَرُوا النَّاقَۃَ وَعَتَوْا عَنْ اَمْرِ رَبِّہِمْ یہ اونٹنی ان کی فرمائش پر چٹان سے برآمد ہوئی تھی ‘ مگر پھر یہ ان کے لیے بہت بڑی آزمائش بن گئی تھی۔ وہ ان کی فصلوں میں جہاں چاہتی پھرتی اور جو چاہتی کھاتی۔ اس کی خوراک غیر معمولی حدتک زیادہ تھی۔ پانی پینے کے لیے بھی اس کی باری مقرر تھی۔ ایک دن ان کے تمام ڈھور ڈنگر پانی پیتے تھے ‘ جبکہ دوسرے دن وہ اکیلی تمام پانی پی جاتی تھی۔ رفتہ رفتہ یہ سب کچھ ان کے لیے ناقابل برداشت ہوگیا اور بالآخر ان سرداروں نے ایک سازش کے ذریعے اسے ہلاک کروا دیا۔ وَقَالُوْا یٰصٰلِحُ اءْتِنَا بِمَا تَعِدُنَآ اِنْ کُنْتَ مِنَ الْمُرْسَلِیْنَ حضرت صالح علیہ السلام…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

83 قوم ثمود کے کھنڈرات :۔ اللہ تعالیٰ نے سیدنا صالح (علیہ السلام) کو بھی ان کے منصوبہ کی اطلاع دے دی اور ہجرت کا حکم بھی آگیا۔ تیسرے دن ان لوگوں کو پہاڑوں کی طرف سے ایک سیاہ بادل ان کی طرف بڑھتا ہوا نظر آیا تو بڑے خوش ہوئے کہ اب بارش ہونے والی ہے مگر یہ بارش برسانے والا بادل نہ تھا بلکہ ان کی جانوں پر مسلط ہوجانے والا اللہ کا عذاب تھا جس میں سیاہ غلیظ گندھک کے بخارات ملا ہوا دھواں تھا۔ ساتھ ہی کسی پہاڑ سے کوئی لاوا پھٹا جس سے شدید زلزلہ آگیا اور اس سے ہولناک چیخوں کی آواز بھی آتی رہی جس سے دل دہل جاتے اور کان پھٹے جاتے تھے اور غلیظ دھوئیں نے ان کے جسم کے اندر داخل ہو کر ان کے دلوں اور کلیجوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

104 ۔ قوم ثمود کی زلزلہ سے ہلاکت تو زمانہ قبل تاریخ کی ہے۔ یعنی اس زمانہ میں ہوئی جس کی تاریخ اس وقت محفوظ نہیں لیکن اٹلی کے مشہور اور گل و گلزار شہر پامپئی کی زلزلہ سے بربادی عہد تاریخ کی بات ہے۔ 63 ء ؁ تھا جب ایک زلزلہ سے یہاں کے فسق پیشہ باشندے تباہ وہلاک ہو کر رہ گئے۔ اور جو کچھ بچ رہے تھے انہیں 79 ء ؁ میں ایک قدرتی آتش بازی نے بھون ڈالا۔ (آیت) ” دارھم “ میں راد بہ طور اسم جنس کے آیا ہے۔ قیل وحد علی طریق الجنس (قرطبی) دار کو بلد کے معنی میں لیا گیا ہے۔ ای بلدھم (قرطبی) یعنی فی فلدھم ولذلک وحد الدار کما یقال دار الحرب (کبیر)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 73–79

آیت نمبر 73 تا 84 ترجمہ : اور ہم نے ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح کو بھیجا، اگر قبیلہ کا نام ہو تو غیر منصرف ہے، انہوں نے فرمایا اے میری قوم تم اللہ کی بندگی کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں، میری صداقت پر تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے واضح دلیل، معجزہ، آچکی ہے، یہ اونٹنی ہے اللہ کی (آیۃً ) حال ہے اس کا عامل اسم اشارہ کا معنی (اشیرُ ) ہے انہوں نے حضرت صالح (علیہ السلام) سے ایک خاص پتھر (چٹان) سے جس کو انہوں نے متعین کیا تھا (اونٹنی) نکالنے کا مطالبہ کیا تھا، سو اس کو چھوڑ دو اللہ کی زمین میں کھاتی پھرے بری نیت قتل و ضرب کے ارادہ سے اس کو ہاتھ بھی نہ لگانا، ایسا نہ ہو کہ کہیں تمہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

فاخذتہم الرجفۃ فاصبحوا فی دارہم جثمین۔ پس زلزلہ نے ان کو آپکڑا جس کی وجہ سے وہ اپنے گھر (بستی) میں اوندھے کے اوندھے پڑے رہ گئے۔ الرجفۃ زلزلہ بھونچال۔ قوم ثمود کی ہلاکت ایک سخت چیخ (کڑک) اور زلزلہ سے ہوئی۔ دارہم دار سے مراد ہے دنیا بعض کے نزدیک ان کی سرزمین اور بستی مراد ہے (یعنی مکان مراد نہیں ہے) اسی لئے دار بصیغۂ مفرد ذکر کیا ہے (اگر مکان اور گھر مراد ہوتا تو دیاریا دو (بصیغۂ جمع ذکر کیا جاتا) جاثمین بےجان مردے۔ قاموس میں ہے جَثُمَ الطّائرُوا الانسانُپرندہ اور انسان اپنی جگہ چمٹ کے رہ گیا اپنی جگہ سے ہٹ نہ سکا بعض کے نزدیک جاثمین سے مراد یہ ہے کہ بیٹھے کے بیٹھے رہ گئے جیسے بیٹھے تھے ویسے ہی…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(78) چناچہ ان لوگوں کو زلزلہ کے عذاب اور فرشتہ کی چیخ نے پکڑ اور وہ اپنے شہروں میں مردہ پائے گئے کہ ان میں کوئی حس و حرکت ہی باقی نہیں رہی۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

فَاَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ۔۔ : سورة ہود (65، 66) میں ہے کہ صالح ؑ نے جب دیکھا کہ انھوں نے اونٹنی کو کاٹ ڈالا ہے تو انھیں تین دن کی مہلت دی، جب یہ مہلت پوری ہوگئی تو ان پر عذاب نازل ہوا اور اللہ تعالیٰ نے صالح ؑ اور آپ کے اہل ایمان ساتھیوں کو بچا لیا، ان کے سوا ساری قوم ہلاک ہوگئی۔ تفاسیر و احادیث میں ہے کہ ان میں سے صرف ایک شخص ابو رغال ان دنوں حرم میں مقیم تھا، وہ عذاب سے محفوظ رہا، لیکن جب وہ حرم چھوڑ کر طائف کی طرف روانہ ہوا تو وہ بھی ہلاک ہوگیا اور راستے میں دفن کردیا گیا۔ امیر المومنین عمر ؓ نے ذکر فرمایا کہ راستے سے گزرنے والے اس کی قبر پر سنگ باری کرتے تھے۔ [ ابن حبان : 463 ] جابر بن…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 77–79

قولہ تعالیٰ : فعقروالناقۃ، العقر کا معنی ہے زخمی کرنا۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : عضو کو کاٹ دینا جو اس کی جان میں اثر انداز ہو۔ اور عقرت الفرس تب کہا جاتا ہے جب تو تلوار کے ساتھ اس کے پاؤں پر ضرب لگائے۔ وہ خیل عقری ہے۔ اور عقرت ظھرالدابۃ جب تو جانور کی پشت کو زخمی کر دے۔ امرؤ القیس نے کہا ہے : تقول وقد مال الغبیط بنا معا عقرت بعیری یا امرء القیس فانزل یعنی تو نے میرے اونٹ کو زخمی کردیا۔ قشیری نے کہا ہے : عقر سے مراد اونٹ کی کونچ کو کھولنا یعنی کاٹنا ہے۔ پھر نحر کو عقر کہا گیا ہے، کیونکہ عقر اکثر نحر ( جان سے مار دینا) کا سبب بن جاتا ہے۔ اونٹنی کی کونچیں کاٹنے والے کے بارے میں مختلف اقوال ہیں۔…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 73–79

(1) امام ابو الشیخ نے مطلب بن زیاد (رح) سے روایت کیا کہ میں نے عبد اللہ بن ابی یعلی (رح) سے یہودی اور نصرانی کے بارے میں پوچھا کیا اسے بھائی کہا جاسکتا ہے ؟ فرمایا انہیں بھائی ایک دار میں رہنے کے سبب ہے لہٰذا اسے بھائی کہا جاسکتا ہے۔ کیا تو اللہ تعالیٰ کے اس قول کی طرف نہیں دیکھتا لفظ آیت ” والی ثمود اخاھم صلحا “ (2) امام سنید اور ابن جریر اور حاکم نے حجاج کے طریق سے ابوبکر بن عبد اللہ سے اور انہوں نے شہر بن خوشب سے اور انہوں نے عمرو بن خارجہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ثمود صالح کی قوم تھی اللہ تعالیٰ نے ان کو آباد کیا دنیا میں انہیں بہت لمبی عمریں عطا فرمائیں۔ یہاں تک کہ ایک…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

فَاَخَذَتْهُمُ [ تو پکڑا ان کو ] الرَّجْفَةُ [ زلزلہ نے ] فَاَصْبَحُوْا [ نتیجتا وہ ہوگئے ] فِيْ دَارِهِمْ [ اپنے (اپنے ) گھر میں ] جٰثِمِيْنَ [ اوندھے منہ گرے ہوئے ] رج: (ن) رجفا ۔ کسی کا شدت سے مضطرب ہونا ۔ (1) لرزنا ۔ کانپنا ۔ (2) زلزلہ ۔ يَوْمَ تَرْجُفُ الْاَرْضُ وَالْجِبَالُ [ جس دن کانپے کی زمین اور پہاڑ ] 73:14 ۔ رجفۃ ۔ زلزلۃ ۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 78 ۔ راجفۃ [ کانپنے والی [ یہ قیامت کے پہلے صور کے لیے استعارہ ہے ] يَوْمَ تَرْجُفُ الرَّاجِفَةُ [ جس دن کانپنے گی کانپنے والی ] 79:6 ۔ (افعال ) ارجافا ۔ افواہ پھیلا کر لوگوں میں اضطراب پیدا کرنا ۔ مرجف ۔ اسم الفاعل ۔ افواہ پھیلانے والا ۔…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

سورة اعراف میں فرمایا (فَاَخَذَتْھُمُ الرَّجْفَۃُ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دَارِھِمْ جٰثِمِیْنَ ) (ان کو پکڑ لیا سخت زلزلہ نے لہٰذا وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے) اور سورة ہود میں فرمایا (وَ اَخَذَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوا الصَّیْحَۃُ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دِیَارِھِمْ جٰثِمِیْنَ کَاَنْ لَّمْ یَغْنَوْا فِیْھَا اَلَآ اِنَّ ثَمُوْدَا کَفَرُوْا رَبَّھُمْ اَلَا بُعْدًا لِّثَمُوْدَ ) (اور پکڑ لیا ان لوگوں کو جنہوں نے ظلم کیا چیخ نے، سو وہ لوگ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے ہوئے رہ گئے جیسے ان میں کبھی رہے ہی نہ تھے۔ خبر دار ثمود نے اپنے رب کی نا شکری کی، خبر دار دوری ہے ثمود کے لیے) ۔ دونوں آیتوں کو ملانے سے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 73–79

قصۂ سوم حضرت صالح (علیہ السلام) باقوم ثمود قال اللہ تعالیٰ والی ثمود اخاھم صالحا۔۔۔ الی۔۔۔ ولکن لا تحبون النصحین (ربط) اب یہ تیسرا قصہ قوم ثمود اور حضرت صالح (علیہ السلام) کا بیان فرماتے ہیں، ثمود، قوم عاد کے بعد ہوئے ہیں یہ لوگ عرب کے رہنے والے تھے مدینہ اور شام کے درمیان ان کا وطن تھا۔ آنحضرت ﷺ جب 9 میں تبوک کی طرف تشریف لے گئے تو راستہ میں ان کے شہر اور مکانات پر سے گزر ہوا اور وہاں کچھ قیام کا بھی اتفاق ہوا لوگوں نے ان کے کنوئیں سے پانی بھرا اور اس سے آٹا گوندھا۔ جب آنحضرت ﷺ کو اس کی خبر ہوئی تو آپ ﷺ نے یہ حکم دیا کہ جس قدر پانی بھرا گیا ہے پھینک دیا جائے پھر آپ نے وہاں سے کوچ فرمایا اور…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

84:“ الرَّجْفةُ ” یعنی شدید زلزلہ، ایسا زلزلہ آیا کہ ان کو اپنے گھروں سے نکلنے کی فرصت بھی نہ ملی اور وہ جہاں کہیں تھے وہیں ڈھیر ہوگئے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 75–79

ربط آیات گزشتہ آیات میں حضرت صالح (علیہ السلام) کا ابتدائی ذکر ہوا اللہ تعالیٰ نے قوم ثمود کی طرف ان کے خاندان کے فرد کو نبوت و رسالت دے کر مبعوث فرمایا اور انہوں نے لوگوں کو اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچایا تمام انبیاء کے دستور کے مطابق صالح (علیہ السلام) نے بھی سب سے پہلے قوم کو توحید کا درس دیا اور کفر و شرک سے منع کیا پھر لوگوں کی فرمائش پر اللہ تعالیٰ نے صالح (علیہ السلام) کو اونٹنی بطور نشانی اور معجزہ عطا کی آپ نے فرمایا اللہ کی اونٹنی ہے اس کو برے ارادے سے ہاتھ نہ لگانا یہ اللہ کی زمین میں چرتی رہے گی مگر تم کو پریشان نہیں کرے گی لہٰذا تم بھی اس سے تعرض نہ کرنا ورنہ خدا تعالیٰ کے غضب کا…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فَتَوَلّٰى عَنْہُمْ وَقَالَ يٰقَوْمِ لَقَدْ اَبْلَغْتُكُمْ رِسَالَۃَ رَبِّيْ وَنَصَحْتُ لَكُمْ وَلٰكِنْ لَّا تُحِبُّوْنَ النّٰصِحِيْنَ۝ 79 ولي وإذا عدّي ب ( عن) لفظا أو تقدیرا اقتضی معنی الإعراض وترک قربه . فمن الأوّل قوله : وَمَنْ يَتَوَلَّهُمْ مِنْكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ [ المائدة/ 51] ، وَمَنْ يَتَوَلَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ [ المائدة/ 56] . ومن الثاني قوله : فَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ بِالْمُفْسِدِينَ [ آل عمران/ 63] ، ( و ل ی ) الولاء والتوالی اور جب بذریعہ عن کے متعدی ہو تو خواہ وہ عن لفظوں میں مذکورہ ہو ایا مقدرو اس کے معنی اعراض اور دور ہونا کے ہوتے ہیں ۔ چناچہ تعد یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 73–79

ترکیب : من ربکم جاء تکم سے متعلق آیتہ حال ہے ناقہ سے والعامل فیہ معنی الاشارۃ تاکل مجزوم ہے کیونکہ جواب امر ہے جو قدروھا ہے فیاخذکم منصوب جواب نہی من سہولہا مفعول ثانی قصورا اول تنحتون جو بمعنی تتخذون لیا جاوے تو الجبال مفعول ثانی ورنہ من محذوف مان کر اس کو فعل سے متعلق کیا جاوے اور بیوتا کو مفعول قرار دیا جاوے۔ الملاء فاعل قال للذین اس سے متعلق لمن امن بدل ہے للذین استضعفوا سے باعادہ جاء کقولک مرت بزید باخیک اتعلمون الخ مقولہ بالذی کافرون سے متعلق ہے ان کنت شرط ائتنا بما تعدنا جملہ مقدم دال بر جزاء جاثمین خبر فاصبحوا رسالۃ مفعول ثانی ابلغت کا۔ تفسیر قوم ثمود کا تذکرہ : یہ تیسرا قصہ قوم ثمود…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

فَاَخَذَتْھُمُ الرَّجْفَۃُ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دَارِھِمْ جٰثِمِیْنَ ۔ (الاعراف : 78) ” پس ان کو کپکپی نے آپکڑا اور وہ اپنے گھروں میں اوندھے منہ پڑے رہ گئے “۔ عذاب کی کیفیت قرآن کریم نے اس عذاب کے لیے مختلف تعبیریں اختیار کیں یہاں رجفۃ سے تعبیر فرمایا جس کے معنی کپکپی کے بھی ہوتے ہیں اور زلزلے کے بھی اور دوسری جگہ اسے صیحۃ کا نام دیا جس کا معنی ڈانٹ اور چیخ کے ہیں۔ تیسری جگہ اس پر صاعقہکا لفظ بولا گیا جس کے معنی کڑکے کے ہیں اور سورة حاقہ میں اسے طاغیہ سے تعبیر کیا جس کے معنی حد سے بڑھ جانے والی اور دہشت ناک ہے۔ مولانا حمید الدین فراہی مرحوم نے ان چاروں تعبیرات کو سمیٹتے ہوئے جو کچھ لکھا ہے اس…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 73–79

فہم القرآن حضرت صالح (علیہ السلام) کے خطبات کے اقتباسات 1۔ اے میری قوم اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اس لیے صرف اسی کی عبادت کرو۔ (الاعراف : 73) 2۔ اے میری قوم تمہیں عاد کے بعد اس دنیا میں بھیجا گیا ہے تاکہ تم نصیحت حاصل کرو۔ (الاعراف : 74) 3۔ اے میری قوم اللہ کی نعمتوں سے فائدہ اٹھاکر اس کا شکر ادا کرو۔ (الاعراف : 74) قوم صالح کی خصوصیات و عادات : 1۔ قوم صالح اللہ کے ساتھ شرک کیا کرتی تھیں۔ (ھود : 62۔ 61) 2۔ ثمود انبیاء کو جھوٹا قرار دیتے تھے۔ (الشعراء : 141) 3۔ وہ پہاڑوں کو تراش کر گھر بنایا کرتے تھے۔ (الاعراف : 74) 4۔ وہ نرم زمین پر بھی بڑے بڑے محلات تعمیر کیا کرتے تھے۔ (الاعراف : 74) 5۔…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

عذاب کی آمد : آیت 78: فَاَخَذَتْھُمُ الرَّجْفَۃُ وہ چیخ جس سے زمین ہلادی گئی۔ اور وہ اس سے بےقرار ہوگئے۔ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دَارِہِمْ اپنے شہروں میں یا مکانات میں جَاثِمِیْنَ (اوندھے) بیٹھنے کی حالت میں مردار ہوئے کہا جاتا ہے الناس جثم یعنی بیٹھے ہیں کہ ان میں حس و حرکت نہیں اور نہ وہ کلام کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر (78) (فاخذتھم الرجفۃ) وہ زمین کا زلزلہ اور اس کی حرکت ہے اور ان کو چیخ اور زلزلہ سے ہلاک کیا گیا۔ ” فاصبحوا فی دارھم “ بعض نے کہا ہے مراد الدیار ہیں اور بعض نے کہا ہے ان کی سرزمین اور بستی مراد ہے۔ اس لئے دار کو واحد ذکر کیا ہے۔ اگر مکان یا گھر مراد ہوتا تو اس صورت میں یہ جمع کا صیغہ وہتا۔” جاثمین “ مردہ اوندھے پڑے ہوئے۔ بعض نے کہا ہے اوندھے منہ مردہ پڑے تھے۔ پھر صبح کو رہ گئے اپنے گھر میں اوندھے پڑے)

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 73–79

(73 ۔ 79) ۔ حضرت صالح ( علیہ السلام) بھی حضرت نوح ( علیہ السلام) خاندان میں سے ہیں قوم عاد کی ہلاکت کے بعد اسی سر زمین میں قوم صالح ( علیہ السلام) کے لوگ جن کو ثمود کہتے ہیں بسے بڑی بڑی عمر کے لوگ اس قوم میں ہوئے اینٹ مٹی کے مکان ان کی عمر بھر میں کافی نہ ہوئے تو انہوں نے پہاڑوں کو تراش کر گھر بنائے نوعمری سے حضرت صالح ان میں نبی ہوئے نصیحت کرتے کرتے بڈھے ہوگئے مگر ان میں سے چند ہی شخص ایمان لائے سال بھر میں ایک روز ان کی عید کا ہوتا تھا اس روز انہوں نے حضرت صالح ( علیہ السلام) سے کہا کہ تم ہمارے ایک معجزے کی اپنے اللہ سے دعا کرو اور ہم بتوں سے اسی معجزے کی خواہش کرتے ہیں اگر تمہارے خدا نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 72–79

آیت 72 (والی ثمود) ” اور ثمود کی طرف “ ثمود قدیم عربوں کا معروف قبیلہ تھا جو جزیرۃ العرب اور ارض حجاز میں حجر اور اس کے اردگرد کے علاقوں میں آباد تھا (اخاھم صلحاً ) اللہ تعالیٰ نے صالح کو نبی بنا کر ان کی طرف مبعوث کیا جو انہیں توحید اور ایمان کی دعوت دیتے تھے اور انہیں شرک اور اللہ تعالیٰ کے ہمسر گھڑنے سے روکتے تھے۔ (قال یقوم اعبدو اللہ مالکم من الہ غیرہ) ” انہوں نے کہا : اے میری قوم ! اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ “ صالح کی دعوت بھی وہی تھی جو ان کے بھائ دیگر انبیا ومرسلین کی دعوت تھی یعنی اللہ تعالیٰ کی عبادت کا حکم دینا اور یہ واضح کردینا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا بندوں…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 55–141

دعا کا طریقہ قول باری ہے وادعواربکم تضرعاً عاوخفیۃ۔ اپنے رب کو پکارو گڑگڑاتے ہوئے اور چپکے چپکے) آیت میں چپکے چپکے رب کو پکارنے کا حکم ہے حسن کا قول ہے کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے تمہیں اس بات کی تعلیم دی ہے کہ تم اپنے رب کو کس طرح پکارو۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک عہد صالح کا ذکر فرمایا جس کی پکار کو اس نے پسند فرمایا تھا چناچہ ارشاد ہے اذنادی ربہ نداء خفیا۔ جبکہ اس نے اپنے رب کو چپکے چپکے پکارا) یعنی حضرت زکریاعلیہ السلام عبداللہ بن المبارک نے حسن بصری سے روایت کی ہے کہ لوگ یعنی صحابہ کرام بڑی عاجزی اور نیاز مندی کے ساتھ دعائیں مانگا کرتے تھے اور صرف سرگوشی کی آواز سنائی دیتی تھی۔ حضرت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

107 قوم صالح کے عذاب کی حقیقت اور نوعیت ؟ : سو دعوت حق کے انکار اور اس کی تکذیب کا نتیجہ و انجام بہرحال ہلاکت و تباہی ہے۔ اس لئے اس بدبخت قوم پر آخر کار عذاب آ کر رہا۔ سو اس حرف " فاء " کے نیچے گویا کہ ان کی پوری داستان سمٹی ہوئی موجود ہے کہ حضرت صالح (علیہ الصلوۃ والسلام) کی عمر بھر کی تعلیم و تلقین کے باوجود جب وہ بدبخت اور ناہنجار قوم نہ مانی اور وہ اپنے کفر و انکار اور تکذیب و ہٹ دھرمی ہی پر اڑی رہی تو آخرکار ان پر وہ آخری عذاب آ کر رہا جو ان کے لئے مقدر ہوچکا تھا۔ اور جس سے ان کے وجود کو ہمیشہ کے لئے صفحہء ہستی سے مٹا دیا گیا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو دعوت حق کی تکذیب اور انکار کا آخری…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 73–79

قوم ثمود کی بربادی تشریح ؛۔ ان آیات میں قوم ثمود کا تعارف، ان کے طور طریقے اور پھر عذاب کا بیان ہے اور پھر ان کے رسول سیدنا صالح (علیہ السلام) کی تعلیمات اور ناقۃ اللہ کا ذکر ہے۔ قوم ثمود : یہ قوم عاد کے بعد بڑی مشہور قوم وجود میں آئی یہ الحجر میں رہتے تھے۔ الحجر حجاز اور یمن کے درمیان میں واقع ہے۔ یہ قوم بھی عاد کی طرح بےحد مضبوط، صحت مند، خوشحال اور ہنر مند قوم تھی یہ پہاروں کو کاٹ کر بڑے بڑے محلات بناتے تھے۔ اور مذہب کے لحاظ سے یہ بھی اللہ کو تو ضرورمانتے تھے۔ مگر پچھلی قوم کی طرح ان کا بھی خیال تھا کہ اللہ سارے کام نہیں کرسکتا۔ لہٰذا انہوں نے بھی کئی قسم کے بت بنا رکھے تھے جن کی پوجا کرتے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 73–84

رکوع نمبر 10 ۔ آیات نمبر 73 تا 84 ۔ اسرار و معارف : حقیقت دعا : بات اسی تسلسل میں جا رہی ہے کہ اللہ تعالیٰ بہت بڑی قدرت کا مالک اور اپنی مخلوق پر بہت زیادہ مہربان بھی ہے اس کی رحمت محتاجوں کو تلاش کرتی ہے اگر کوئی انسان محروم ہے تو اس کی وجہ نزول رحمت میں کمی نہیں خود اس کے دل میں قبولیت کی استعداد میں کمی ہے جیسے حدیث شریف ارشاد ہے کہ لوگ دور دراز سفر کرکے پریشان بالوں پھٹے ہوئے دامنوں اور گرد سے اٹے پاؤں اور چہرہ لے کر پکارتے ہیں یار یارب مگر ان کی دعا سنی نہیں جاتی اس لیے کہ کھانا حرام پہننا حرام ہوتا ہے بعض بےنصیب تو دعا ہی سے محروم ہوتے ہیں اور بعض صورت دعا تو بنا لیتے ہیں مگر حقیقت سے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 5 سورة ہود میں ہے کہ صالح ( علیہ السلام) نے جب دیکھا کہ انہوں نے اونٹی کو کاٹ ڈالا ہے تو حضرت صالح ( علیہ السلام) نے انہیں تین دن کی مہلت دی جب یہ تین دن پورے ہوگئے تو ان پر عذاب نازل ہوا (دیکھئے آیت 25 سورة ود) علمائے تفسیر نے لکھا ہے کہ حضرت صالح ( علیہ السلام) اور آیت آپ کے اہل ایمان ساتھیوں کو اللہ تعالیٰ نے بچالیا ان کے سوا ساری قوم ہلاک وہ گئی ان میں سے صرف ایک شخص ابو رغال ان دونوں حرم مکہ میں مقیم تھا وہ عذاب سے محفوظ رہا لیکن جب وہ حرم چھو کر طائف کی طرف روانہ ہو اتو وہ بھی ہلاک ہوگیا اور راستہ میں دفن کردی گیا کہتے ہیں کہ وہ ب نو ثقیف کا جدا اعلی ٰ ہے عبد اللہ بن عمرو سے ایک روایت…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(7:78) الرجفۃ۔ الرجف۔ اضطراب شدید کو کہتے ہیں۔ رجفت الارض۔ زمین متزلزل ہوئی۔ یا جیسا کہ قرآن میں ہے۔ یوم ترجف الارض والجبال۔ جب زمین اور پہاڑ ہلنے لگیں گے۔ الرجفۃ۔ بمعنی زلزلہ۔ بھونچال۔ کپکپاہٹ۔ لرزش۔ جثمین۔ جثم (باب ضرب۔ نصر) جثم جثوم۔ پرندہ کا زمین پر سینہ کے بل بیٹھنا۔ اور اس کے ساتھ چمٹ جانا۔ اسی سے استعارہ کے طور پر آیہ ہذا میں استعمال ہوا ہے۔ جس کے معنی ہیں : صبح کے وقت وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے ہوئے تھے ۔ یعنی منہ کے بل گرے پڑے تھے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 73–79

لغات القرآن آیت نمبر (73 تا 79) ۔ نقتہ اللہ (اللہ کی اونٹنی) ۔ ذروھا۔ (اس کو چھوڑے رکھنا) ۔ تاکل (کھائے گی) ۔ لاتمسو (تم نہ چھونا) ۔ بسوء (برائی سے۔ بری نیت سے) ۔ بوا (اس نے ٹھکانا دیا) ۔ سھول (نرم جگہیں) ۔ قصور (قصر) ۔ محلات) ۔ تنحتون (تم تراشتے ہو) ۔ الجبال (الجبل) ۔ پہاڑ) ۔ بیوت (گھر) ۔ لا تعثوا (تم نہ پھرو) ۔ استکبروا (جنہوں نے بڑائی کی۔ تکبر کیا) ۔ استضعفوا (جو کمزور بنادیئے گئے تھے) ۔ عقروا (انہوں نے کاٹ ڈالا) ۔ عتوا (نافرمانی کی) ۔ اخذت (پکڑ لیا۔ آلیا) ۔ الرجفتہ (زلزلہ۔ بھونچال) ۔ جٰثمین (اوندھے پڑے ہوئے) ۔ نصحت (میں نے نصیحت کردی تھی) ۔ لا تحبون (تم پسند نہیں کرتے) ۔ الناصحین (نصیحت…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 74–80

قوم لوط (علیہ السلام) کی ہلاکت حضرت لوط (علیہ السلام) نے جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بھتیجے تھے، شہر بابل سے آپ کے ساتھ ہجرت کر کے ملک شام میں سکونت اختیار کی تھی۔ پھر سدوم میں رہنے کا اور اس شہر اور اس کے گردونواح کے شہر والوں کی ہدایت کا حکم ہوا۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کی امت جن بستیوں میں رہتی تھی وہ بڑی شاداب اور سرسبز تھیں۔ غیر بستیوں کے لوگ شادابی کے سبب سے قوم لوط کی بستیوں میں اکثر آجایا کرتے تھے۔ جس کی وجہ سے قوم لوط کو طرح طرح کی تکلیف ہوتی تھی۔ شیطان نے قوم لوط کو بہکایا کہ غیر بستیوں کے جو لوگ آویں ان کے ساتھ جتنے نوعمر لڑکے ہوں ان لڑکوں سے بدفعلی کی فاوے تو غیر لوگ تمہاری…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 74–80

[35] لوط (علیہ السلام) ابراہیم (علیہ السلام) کے حقیقی بھتیجے تھے۔ [36] قوم یہاں اردو کے لفظ امت کے معنی میں ہے۔ لوط (علیہ السلام) کی بعثت اپنی برادری یا وطن والوں کی جانب نہ تھی اس لئے '' بھائی '' کا رشتہ جو ہود (علیہ السلام) اور صالح (علیہ السلام) کے لئے بیان کیا گیا ہے یہاں حذف کردیا گیا۔ آپ جس قوم کی ہدایت کے لئے بھیجے گئے تھے وہ اس علاقے میں رہتی تھی جو عراق اور فلسطین کے درمیان واقع ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 73–81

حضرت صالح (علیہ السلام) : (ف 2) عاد اولی کے بعد عاد ثانیہ کا زمانہ ہے یعنی ثمود کی قوم ، انکی جانب حضرت صالح (علیہ السلام) مبعوث ہوئے ۔ انہوں نے بھی حسب سابق اللہ کی عظمت و جلال کا وعظ کہا ، عمر بھر اللہ کی جانب بلاتے رہے ، مگر چند لوگوں کے سوا سب نے انکار کیا ، (ف 1) حضرت صالح (علیہ السلام) نے فرمایا تم اگر انکار کرو گے ، تو مٹ جاؤ گے ، اللہ کی غیرت جوش میں آجائے گی ، اور سنت اللہ کے موافق تمہیں ہلاک کردیا جائے گا ، مگر وہ نہ مانے ، انہیں اپنے مضبوط قلعوں اور مکانوں پر ناز تھا ، ان کے مکان پتھر کے تھے ، اور بڑی بڑی عمارتیں تھیں ، ان کا خیال یہ تھا کہ کوئی عذاب ہمیں نہیں مٹا سکے گا ، حضرت…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

78 غرض ان کو زلزلے نے آپکڑا اور دفعتہً ان پر زلزلہ آگیا سو وہ اپنے گھروں میں منہ کے بل پڑے کے پڑے رہ گئے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 78–80

ف 1۔ دوسری آیت میں صیحہ یعنی فرشتہ کے نعرہ سے ہلاک ہونا آیا ہے بعض نے کہا ہے کہ اوپر سے نیچے سے زلزلہ آیا تھا اور بعض نے کہا ہے کہ رجعہ سے مراد قلب کی حرکت ہے جو صیحہ کے خوف سے پیداہوئی تھی اور جس نے اونٹنی کو قتل کیا تھا اس کا نام قدار آیا ہے۔ اور دوسری آیت میں ان کے رہنے کا مقام حجرآیا ہے چونکہ حجاز اور شام کے درمیان ایک مقام تھا اور ظاہر آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ صالح یہاں سے بعد ہلاک قوم کے تشریف لے گئے پھر بعض نے شام کو جانا اور بعض نے مکہ کو جانا نقل کیا ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

عذاب الٰہی کے نشانات شروع ہوگئے اور تین دن کے اندر وہ اپنے انجام کو پہنچ گئے : 89: اب ان کے عذاب کی مدت تین دن مقرر کردی گئی تو مفسرین کے بیان کے مطابق ثمود پر عذاب آنے کی علامات اگلی صبح ہی شروع ہوگئیں یعنی پہلے روز ان کے چہرے اس طرح زرد پڑگئے جیسا کہ خوف کی ابتدائی حالت میں ہوجایا کرتا ہے اور دوسرے روز سب کے چہرے سرخ ہوگئے گویا خوف و دہشت کا یہ دوسرا درجہ تھا اور تیسرے روز ان سب کے چہرے سیاہ تھے اور تاریکی چھائی ہوئی تھی یہ خوف و دہشت کا وہ تیسرا مقام ہے جس کے بعد موت ہی کا درجہ باقی رہ جاتا ہے تین دن کی ان علامات عذاب نے اگرچہ ان کے چہروں کو واقعی زرد و سرخ اور تاریک بنا دیا تھا لیکن اس سے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 78–79

Other verses of the Qur'an have also mentioned: فَأَخَذَتْهُمُ الصَّيْحَةُ (that is, a Cry or Sound seized them - 15:83). The word: الصَّيْحَةُ (As-Saihah) means a shrill cry or severe sound. From these two verses, we find out that two kinds of punishment had simultaneously converged on the people of Thamud, the earthquake from below and the ` Saihah' from above. The result was: أَصْبَحُوا فِي دَارِ‌هِمْ (and they were [ found dead ] in their homes, fallen on their knees - 77). The word: جَاثِمِين (jathimin) is a derivation from the verbal noun: Juthum, which means to be rendered senseless…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

62. Other Qur'anic expressions used for the calamity are 'rajifah' (earthquake) (al-Nazi'at 79: 6); 'sayah' (awesome cry) (Hud 11: 67); 'Sa'iqah' (thunderbolt) (al-Baqarah 2: 55); and 'taghiyah'' (roaring noise) (al-Haqqah 69: 5).

Read the full tafseer →