Al-A'raaf 7:77

Al-A'raaf · from ayah 77

7:77

فَعَقَرُوا النَّاقَةَ وَعَتَوْا عَنْ اَمْرِ رَبِّهِمْ وَقَالُوْا یٰصٰلِحُ ائْتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الْمُرْسَلِیْنَ ۟فَعَقَرُوا النَّاقَةَ وَعَتَوۡا عَنۡ اَمۡرِ رَبِّهِمۡ وَ قَالُوۡا يٰصٰلِحُ ائۡتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الۡمُرۡسَلِيۡنَ

آخر انہوں نے اونٹی (کی کونچوں) کو کاٹ ڈالا اور اپنے پروردگار کے حکم سے سرکشی کی اور کہنے لگے کہ صالح! جس چیز سے تم ہمیں ڈراتے تھے اگر تم (خدا کے) پیغمبر ہو تو اسے ہم پر لے آؤ

— Fateh Muhammad Jalandhari

So they hamstrung the she-camel and were insolent toward the command of their Lord and said, "O Salih, bring us what you promise us, if you should be of the messengers."

— Saheeh International

Juz 8 · Ruku 10 of surah · Ruku 17 of juz

Read the whole surah · Surah Al-A'raaf

All translations of 7:77

پھر انہوں نے اس اونٹنی کو مار ڈالا اور پورے تمرد کے ساتھ اپنے رب کے حکم کی خلاف ورزی کر گزرے، اور صالحؑ سے کہہ دیا کہ لے آ وہ عذاب جس کی تو ہمیں دھمکی دیتا ہے اگر تو واقعی پیغمبروں میں سے ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

آخر انہوں نے اونٹی (کی کونچوں) کو کاٹ ڈالا اور اپنے پروردگار کے حکم سے سرکشی کی اور کہنے لگے کہ صالح! جس چیز سے تم ہمیں ڈراتے تھے اگر تم (خدا کے) پیغمبر ہو تو اسے ہم پر لے آؤ

— مولانا فتح محمد جالندہری

پس انہوں نے اس اونٹنی کو مار ڈاﻻ اور اپنے پروردگار کے حکم سے سرکشی کی اور کہنے لگے کہ اے صالح! جس کی آپ ہم کو دھمکی دیتے تھے اس کو منگوائیے اگر آپ پیغمبر ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

چنانچہ انہوں نے اونٹنی کو مارڈالا اور اپنے پروردگار کے حکم سے سرکشی کی، اور کہا : صالح ! اگر تم واقعی ایک پیغمبر ہو تو لے آؤ وہ (عذاب) جس کی ہمیں دھمکی دیتے ہو۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

پس ناقہ کی کُوچیں کاٹ دیں اور اپنے رب کے حکم سے سرکشی کی اور بولے اے صالح! ہم پر لے آؤ جس کا تم سے وعد دے رہے ہو اگر تم رسول ہو،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

پس انہوں نے اونٹنی کو (کاٹ کر) مار ڈالا اور اپنے ربّ کے حکم سے سرکشی کی اور کہنے لگے: اے صالح! تم وہ (عذاب) ہمارے پاس لے آؤ جس کی تم ہمیں وعید سناتے تھے اگر تم (واقعی) رسولوں میں سے ہو،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

تو انھوں نے اونٹنی کو کاٹ ڈالا اور اپنے رب کے حکم سے سرکش ہوگئے اور انھوں نے کہا اے صالح ! لے آ ہم پر جس کی تو ہمیں دھمکی دیتا ہے، اگر تو رسولوں سے ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

چناچہ انہوں نے اونٹنی کی کونچیں کاٹ ڈالیں اور اپنے پروردگار کے حکم سے سرتابی کی اور کہنے لگے : صالح ! اگر تو رسول ہے تو جس (عذاب) کی تو ہمیں دھمکی دیتا ہے وہ لے آ

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

تو انہوں نے اونٹنی کی کونچیں کاٹ دیں اور اپنے رب کے حکم سے سرتابی کی اور بولے کہ اے صالح، اگر تم خدا کے فرستادہ ہو تو وہ عذاب ہم پر لاؤ جس کی دھمکی دے رہے ہو

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

پھر (اپنی اصلاح کرنے کی بجائے) انہوں نے ہلاک کر ڈالا اس اونٹنی کو، اور سرکشی کی انہوں نے اپنے رب کے حکم سے، اور وہ (نہایت بےباکی سے) کہنے لگے کہ اے صالح ! لے آؤ تم ہم پر وہ عذاب جس کی دھمکی تم ہمیں دے رہے ہو، اگر تم واقعی رسولوں میں سے ہو،

— مولانا اسحاق مدنی

غرض اونٹنی کو (بھی) مار ڈالا اور اپنے پروردگار کے حکم سے سرتابی کی اور کہنے لگے اے صالح ؑ اگر پیغمبر ہو تو اس (عذاب) کو لے آؤ جس کی ہمیں دھمکی دیتے ہو۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

تو انہوں نے اونٹنی کی کونچیں کاٹ ڈالیں اور اپنے رب کے حکم سے سرتابی کی اور کہا کہ اے صالح لے آؤ ہم پر وہ (عذاب) جس سے تم ہمیں ڈراتے ہو اگر واقعی تم رسول ہو۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

آخر انہوں نے اونٹنی کی کونچوں کو کاٹ ڈالا اور اپنے اللہ کے حکم کی نافرمانی کی اور کہنے لگے کہ صالح جس چیز سے تم ہمیں ڈراتے ہو اگر تم اللہ کے پیغمبر ہو تو ہم پر لے آؤ۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Then they hamstrung the she-camel, disdainfuliy disobeyed the commandment of their Lord, and said: 'O Salih! Bring upon us the scourge with which you threatened us if you are truly a Messenger [of Allah].'

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Then they slaughtered the she-camel and defied the command of their Lord and said, :O SaliH, bring to us what you threaten us with, if you are one of the messengers.

— Muhammad Taqi Usmani

Then they slaughtered the she-camel and defied the command of their Lord and said, :O SaliH, bring to us what you threaten us with, if you are one of the messengers.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

So they killed the she-camel and insolently defied the commandment of their Lord, and said: "O Salih! Bring about your threats if you are indeed one of the Messengers (of Allah)."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

So they hamstrung the she-camel, and they flouted the commandment of their Lord, and they said: O Salih! Bring upon us that thou threatenest if thou art indeed of those sent (from Allah).

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

So they hamstrung the she-camel and were insolent toward the command of their Lord and said, "O Salih, bring us what you promise us, if you should be of the messengers."

— Saheeh International

They then slew the camel and rebelled against the orders of their Lord saying, " Salih, if you are truly a Messenger, let that torment with which you have threatened us come to pass."

— Muhammad Sarwar

So they slew the she-camel and revolted against their Lord's commandment, and they said: O Salih! bring us what you threatened us with, if you are one of the apostles.

— Muhammad Habib Shakir

Then they hamstrung the she camel and disdained the commandment of their Lord, and said: Salih! bring upon us that wherewith thou hast threatened us if thou art in sooth of the sent ones.

— Abdul Majid Daryabadi

Then they ham-strung the she-camel, and insolently defied the order of their Lord, saying: "O Salih! bring about thy threats, if thou art a messenger (of Allah)!"

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 7:77

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 73–78

ثمود کی قوم اور اس کا عبرت ناک انجام علمائے نسب نے بیان کیا ہے کہ ثمود بن عامر بن ارم بن سام بن نوح۔ یہ بھائی تھا جد بس بن عامر کا۔ اسی طرح قبیلہ طسم یہ سب خالص عرب تھے۔ حضرت ابراہیم خلیل اللہ ؑ سے پہلے ثمودی عادیوں کے بعد ہوئے ہیں ان کے شہر حجاز اور شام کے درمیان وادی القری اور اس کے اردگرد مشہور ہیں۔ سنہ009ھ میں تبوک جاتے ہوئے رسول اللہ ﷺ ان کی اجاڑ بستیوں میں سے گذرے تھے۔ مسند احمد میں ہے کہ جب حضور ﷺ تبوک کے میدان میں اترے لوگوں نے ثمودیوں کے گھروں کے پاس ڈیرے ڈالے اور انہی کے کنوؤں کے پانی سے آٹے گوندھے ہانڈیاں چڑھائیں تو آپ نے حکم دیا کہ سب ہانڈیاں الٹ دی جائیں اور گندھے ہوئے آٹے اونٹوں…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 75–77

سورة الْاَعْرَاف 61 اگرچہ مارا ایک شخص نے تھا، جیسا کہ سورة قمر اور سورة شمس میں ارشاد ہوا ہے، لیکن چونکہ پوری قوم اس مجرم کی پشت پر تھی اور وہ دراصل اس جرم میں قوم کی مرضی کا آلہ کار تھا اس لیے الزام پوری قوم پر عائد کیا گیا ہے۔ ہر وہ گناہ جو قوم کی خواہش کے مطابق کیا جائے، یا جس کے ارتکاب کو قوم کی رضا اور پسندیدگی حاصل ہو، ایک قومی گناہ ہے، خواہ اس کا ارتکاب کرنے والا ایک فرد واحد ہو۔ صرف یہی نہیں، بلکہ قرآن کہتا ہے کہ جو گناہ قوم کے درمیان علی الاعلان کیا جائے اور قوم اسے گوارا کرے وہ بھی قومی گناہ ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

خلاصہ تفسیر۔ غرض (نہ صالح ؑ پر ایمان لائے اور نہ اونٹنی کے حقوق ادا کئے بلکہ) اس اونٹنی کو (بھی) مار ڈالا اور اپنے پروردگار کے حکم (ماننے) سے (بھی) سرکشی کی (وہ حکم اعتقاد توحید و رسالت تھا) اور (اس پر یہ بیباکی کہ) کہنے لگے کہ اے صالح جس (عذاب) کی آپ ہم کی دھمکی دیتے تھے اس کو منگوائیے اگر آپ پیغمبر ہیں (کیونکہ پیغمبر کا صادق ہونا لازم ہے) پس پکڑا ان کو زلزلہ نے سو اپنے گھر میں اوندھے کے اوندھے پڑے رہ گئے اس وقت صالح ؑ ان سے منہ موڑ کر چلے اور (بطورحسرت کے فرضی خطاب کر کے) فرمانے لگے کہ اے میری قوم میں نے تو تم کو اپنے پروردگار کا حکم پہنچا دیا تھا (جس پر عمل کرنا موجب فلاح تھا) اور میں نے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

فَعَقَرُوا النَّاقَةَ وَعَتَوْا عَنْ اَمْرِ رَبِّهِمْ وَقَالُوْا يٰصٰلِحُ ائْتِنَا بِمَا تَعِدُنَآ اِنْ كُنْتَ مِنَ الْمُرْسَلِيْنَ۔ عقر، کے معنی اونٹ یا اونٹنی کی کونچیں کاٹ دینے کے ہیں۔ ’ عتو ‘ کا صلہ جب عن کے ساتھ آئے تو یہ سرکشی اور نافرمانی دونوں کے مفہوم پر متضمن ہوتا ہے۔ یہ قوم کے متمردین کی طرف سے تمرد کا آخری قدم تھا۔ انہوں نے اونٹنی کی کونچیں کاٹ دیں اور حضرت صالح کو چیلنج کیا کہ لو، ہم نے اونٹنی کی کونچیں کاٹ دیں، تم نے دھمکی دی تھی کہ ہم نے اس کو گزند پہنچایا تو ہم پر عذاب آجائے گا تو اگر تم خدا کے فرستادہ ہو تو عذاب لاؤ۔ یہاں وہ بات یاد رکھیے جس کی طرف ہم نے اوپر اشارہ کیا ہے کہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 76–77

76۔ 1 اس معقول جواب کے باوجود وہ اپنے استکبار اور انکار پر اڑے رہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 73–79

39: ثمود بھی قوم عاد ہی کی نسل سے پیدا ہوئی تھی اور ظاہر یہ ہے کہ حضرت ہود ؑ اور ان کے مومن ساتھی جو عذاب سے بچ گئے تھے یہ ان کی اولاد تھی اور ثمود ان کے دادا کا نام تھا، اسی لئے ان کو عاد ثانیہ بھی کہا جاتا ہے، یہ قوم عرب اور شام کے درمیان اس علاقے میں آباد تھی جس کو اس وقت حجر کہا جاتا تھا اور آج کل اسے مدائن صالح کہتے ہیں، اور آج بھی ان کے گھروں اور محلات کے کھنڈر موجود ہیں اور پہاڑوں سے تراشی ہوئی عمارتوں کے آثار جن کا ذکر آیت 74 میں ہے آج بھی وہاں دیکھے جاسکتے ہیں، عرب مشرکین جب تجارتی سفر پر شام جاتے تو یہ کھنڈر ایک نشان عبرت کے طور پر ان کے راستے میں پڑتے تھے اور قرآن کریم نے کئی…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

آیت ” فَعَقَرُواْ النَّاقَۃَ وَعَتَوْاْ عَنْ أَمْرِ رَبِّہِمْ وَقَالُواْ یَا صَالِحُ ائْتِنَا بِمَا تَعِدُنَا إِن کُنتَ مِنَ الْمُرْسَلِیْنَ (77) ” پھر انہوں نے اونٹنی کو مار ڈالا اور پورے تمرد کے ساتھ اپنے رب کے حکم کیخلاف ورزی کر گزرے اور صالح سے کہہ دیا کہ ” لے آ وہ عذاب جس کی تو ہمیں دھمکی دیتا ہے اگر تو واقعی پیغمبروں میں سے ہے ۔ “ معصیت اور نافرمانی کے بعد یہاں ان کی خود سری بھی عیاں ہے ۔ یہاں ان کی معصیت اور خود سری کے لئے لفظ ” عتو “ استعمال ہوا ہے تاکہ انکی نفسیاتی حالت کی تصویر بھی اچھی طرح سامنے آجائے جس کی وجہ سے وہ عذاب کے نزول کا مطالبہ کرتے ہیں اور پیغمبر کو حقیر جانتے ہیں۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

7 کہتے ہیں کہ وہ اونٹنی اس قدر عظیم الجثہ اور ڈیل ڈول کی تھی کہ جس جنگل میں چرتی دوسرے مویشی ڈر کر بھاگ جاتے اور اپنی باری کے دن جس کنویں سے پانی پیتی کنواں خالی کردیتی۔ گویا جیسے اس کی پیدائش غیر معمولی طریقہ سے ہوئی تو ازم وآثار حیات بھی غیر معمولی تھے۔ آخر لوگوں نے غیظ میں آکر اس کے قتل پر اتفاق کرلیا۔ اور بدبخت " قدار " نے اس کی کونچیں کاٹ ڈالیں۔ بعدہ، خود حضرت صالح کے قتل پر بھی تیار ہونے لگے اور اس طرح خدا کے احکام کو جو " صالح اور " ناقہ " کے متعلق تھے پس پشت ڈال دیا۔ ٖف 8 ایسے کلمات انسان کی زبان سے اس وقت نکلتے ہیں جب خدا کے قہر و غضب سے بالکل بےخوف ہوجاتا ہے۔ " عاد اولیٰ ' کی طرح "…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 77–78

آیت 77 فَعَقَرُوا النَّاقَۃَ وَعَتَوْا عَنْ اَمْرِ رَبِّہِمْ یہ اونٹنی ان کی فرمائش پر چٹان سے برآمد ہوئی تھی ‘ مگر پھر یہ ان کے لیے بہت بڑی آزمائش بن گئی تھی۔ وہ ان کی فصلوں میں جہاں چاہتی پھرتی اور جو چاہتی کھاتی۔ اس کی خوراک غیر معمولی حدتک زیادہ تھی۔ پانی پینے کے لیے بھی اس کی باری مقرر تھی۔ ایک دن ان کے تمام ڈھور ڈنگر پانی پیتے تھے ‘ جبکہ دوسرے دن وہ اکیلی تمام پانی پی جاتی تھی۔ رفتہ رفتہ یہ سب کچھ ان کے لیے ناقابل برداشت ہوگیا اور بالآخر ان سرداروں نے ایک سازش کے ذریعے اسے ہلاک کروا دیا۔ وَقَالُوْا یٰصٰلِحُ اءْتِنَا بِمَا تَعِدُنَآ اِنْ کُنْتَ مِنَ الْمُرْسَلِیْنَ حضرت صالح علیہ السلام…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

81 اللہ کی اونٹنی کا انجام اور اسے مارنے والا :۔ اس قوم نے جس معجزہ کا مطالبہ کیا تھا وہ ان کے لیے وبال جان بن گیا کیونکہ جتنا پانی ان کے تمام جانور پیتے تھے اتنا وہ اکیلی ہی پی جاتی تھی اور ان کے ہاں پانی کی قلت بھی تھی اسی لیے پانی کی باری مقرر کی گئی تھی اور جتنا سب جانور کھاتے تھے اتنا وہ اکیلی کھا جاتی تھی۔ مگر وہ اس اونٹنی کو برے ارادے سے ہاتھ بھی نہیں لگاتے تھے کیونکہ وہ دل سے یقین کرچکے تھے کہ صالح (علیہ السلام) سچا پیغمبر ہے اور اگر ہم نے اس اونٹنی سے کوئی برا سلوک کیا تو پھر ہماری خیر نہیں لیکن دل سے ہر کافر یہ چاہتا تھا کہ کسی نہ کسی طرح اس اونٹنی کا وجود ختم ہوجائے تو بہتر ہے۔ آخر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

103 ۔ گویا پیغمبر کا کام فرمایشی عذاب کی فی الفور تعمیل کرنا ہے۔ (آیت) ” فعقروالناقۃ “۔ عقر کے معنی کونچیں کاٹ ڈالنے کے ہیں۔ مراداس سے اونٹ کو ہلاک کر ڈالنا ہے۔ فعل عقر کا اسناد قرآن مجید ساری قوم کی جانب کررہا ہے حالانکہ اونٹنی کے مارنے میں ظاہر ہے کہ گنتی کے چند افراد شریک ہوں گے۔ لیکن یہ عمل ساری قوم کی رضامندی واتفاق رائے سے ہوا۔ اس لیے اسے منسوب بھی قوم کی جانب کیا گیا۔ اسندالعقر الی جمیعھم لانہ کان برضاءھم وان لم یباشرہ الا بعضھم۔ (آیت) ” امرربھم “۔ یہ امر پروردگار کا کیا تھا ؟ یہ حکم اعتقاد توحید و رسالت کا تھا۔ ای ما امر بہ علی لسان صالح۔۔۔ اوشان ربھم وھو دینہ (کشاف)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 73–79

آیت نمبر 73 تا 84 ترجمہ : اور ہم نے ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح کو بھیجا، اگر قبیلہ کا نام ہو تو غیر منصرف ہے، انہوں نے فرمایا اے میری قوم تم اللہ کی بندگی کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں، میری صداقت پر تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے واضح دلیل، معجزہ، آچکی ہے، یہ اونٹنی ہے اللہ کی (آیۃً ) حال ہے اس کا عامل اسم اشارہ کا معنی (اشیرُ ) ہے انہوں نے حضرت صالح (علیہ السلام) سے ایک خاص پتھر (چٹان) سے جس کو انہوں نے متعین کیا تھا (اونٹنی) نکالنے کا مطالبہ کیا تھا، سو اس کو چھوڑ دو اللہ کی زمین میں کھاتی پھرے بری نیت قتل و ضرب کے ارادہ سے اس کو ہاتھ بھی نہ لگانا، ایسا نہ ہو کہ کہیں تمہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

فعقروا الناقۃ وعتوا عن امر ربہم وقالوا یا صلح ائتنا بما تعدنا ان کنت من المرسلین : غرض انہوں نے اس اونٹنی کو مار ڈالا اور اپنے رب کے حکم سے سرکشی کی اور کہنے لگے اے صالح جس (عذاب) کی تو ہم کو دھمکی دیتا تھا اس کو ہم پر لے آ اگر تو پیغمبر ہے۔ عقروا یعنی انہوں نے قتل کردیا ازہری نے کہا عقرکا معنی ہے اونٹ کی کونچیں کاٹ دینا پھر اونٹ کو ذبح کرنے کو بھی کہا جانے لگا کیونکہ جو اونٹ بھاگ جاتا تھا اوّل اس کی کونچیں کاٹی جاتی تھیں پھر اس کو قتل کیا جاتا تھا (بغیر کونچ کاٹے وہ قابو میں نہ آتا تھا) قاموس میں ہے عقر زخمی کردینا اور اونٹ یا گھوڑے کی ٹانگ کو مجروح کردیتا۔ صحاح میں ہے عقر الدار اصل مکان عقر…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 76–77

(76۔ 77) وہ منکر اور کافر بولے ہم تو اس کی رسالت کا انکار کرتے ہیں، چناچہ انہوں نے اونٹنی کو مار ڈالا اور اپنے پروردگار کے اس حکم کی بجا آوری سے جس کا حضرت صالح ؑ نے ان کو حکم دیا تھا انکار کردیا، اور بطور استہزاء اور مذاق کے بولے اچھا عذاب لے آؤ۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

فَعَقَرُوا النَّاقَةَ۔۔ : اگرچہ اونٹنی کو ایک ہی شخص نے کاٹا تھا مگر چونکہ ان سب نے اسے مقرر کیا تھا اور وہ سب اس کی پشت پناہی کر رہے تھے، اس لیے سب ہی مجرم ٹھہرے اور سبھی پر عذاب آیا۔ سورة قمر میں ہے : (فَنَادَوْا صَاحِبَهُمْ فَتَعَاطٰى فَعَقَر) [ القمر : 29 ] ”تو انھوں نے اپنے ساتھی کو پکارا، سو اس نے (اسے) پکڑا، پس (اس کی) کونچیں کاٹ دیں۔“ علمائے تفسیر نے اس اشقیٰ ”سب سے بڑے بدبخت“ (شمس : 12) کا نام قدار بن سالف لکھا ہے۔ (واللہ اعلم) وَقَالُوْا يٰصٰلِحُ ائْتِنَا بِمَا تَعِدُنَآ۔۔ : یعنی تو کہتا تھا کہ دیکھنا اس اونٹنی کو کسی برائی کے ساتھ ہاتھ نہ لگا بیٹھنا، ورنہ اللہ کے عذاب میں گرفتار…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 77–79

قولہ تعالیٰ : فعقروالناقۃ، العقر کا معنی ہے زخمی کرنا۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : عضو کو کاٹ دینا جو اس کی جان میں اثر انداز ہو۔ اور عقرت الفرس تب کہا جاتا ہے جب تو تلوار کے ساتھ اس کے پاؤں پر ضرب لگائے۔ وہ خیل عقری ہے۔ اور عقرت ظھرالدابۃ جب تو جانور کی پشت کو زخمی کر دے۔ امرؤ القیس نے کہا ہے : تقول وقد مال الغبیط بنا معا عقرت بعیری یا امرء القیس فانزل یعنی تو نے میرے اونٹ کو زخمی کردیا۔ قشیری نے کہا ہے : عقر سے مراد اونٹ کی کونچ کو کھولنا یعنی کاٹنا ہے۔ پھر نحر کو عقر کہا گیا ہے، کیونکہ عقر اکثر نحر ( جان سے مار دینا) کا سبب بن جاتا ہے۔ اونٹنی کی کونچیں کاٹنے والے کے بارے میں مختلف اقوال ہیں۔…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 73–79

(1) امام ابو الشیخ نے مطلب بن زیاد (رح) سے روایت کیا کہ میں نے عبد اللہ بن ابی یعلی (رح) سے یہودی اور نصرانی کے بارے میں پوچھا کیا اسے بھائی کہا جاسکتا ہے ؟ فرمایا انہیں بھائی ایک دار میں رہنے کے سبب ہے لہٰذا اسے بھائی کہا جاسکتا ہے۔ کیا تو اللہ تعالیٰ کے اس قول کی طرف نہیں دیکھتا لفظ آیت ” والی ثمود اخاھم صلحا “ (2) امام سنید اور ابن جریر اور حاکم نے حجاج کے طریق سے ابوبکر بن عبد اللہ سے اور انہوں نے شہر بن خوشب سے اور انہوں نے عمرو بن خارجہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ثمود صالح کی قوم تھی اللہ تعالیٰ نے ان کو آباد کیا دنیا میں انہیں بہت لمبی عمریں عطا فرمائیں۔ یہاں تک کہ ایک…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

فَعَقَرُوا [ پھر انہوں نے ٹانگیں کاٹیں ] النَّاقَةَ [ اس اونٹنی کی ] وَعَتَوْا [ اور انہوں نے سرکشی کی ] عَنْ اَمْرِ رَبِّهِمْ [ اپنے رب کے حکم سے ] وَقَالُوْا [ اور کہا ] يٰصٰلِحُ [ اے صالح ] ائْتِنَا [ تو لے آ ہم پر ] بِمَا [ اس کو جس کا ] تَعِدُنَآ [ تو وعدہ کرتا ہے ہم سے ] اِنْ [ اگر ] كُنْتَ [ تو ہے ] مِنَ الْمُرْسَلِيْنَ [ بھیجے ہوؤں میں سے ] ع ت و ـ: (ن) عتوا اور عتیا ۔ حد سے گزرنا ۔ سرکشی کرنا ۔ نافرمانی کرنا۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 77 ۔ عاتیۃ ۔ اسم الفاعل کے معنی میں صفت ہے ۔ حد سے گزرنے والی یعنی حد سے زیادہ ۔ فَاُهْلِكُوْا بِرِيْحٍ صَرْصَرٍ عَاتِيَةٍ [ تو یہ لوگ ہلاک کیے گئے ایک حد سے…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 76–77

قوم ثمود کے لوگ بھی بڑے ضدی تھے کہنے لگے کہ ہم تو جب جانیں جب تم پہاڑ میں سے اونٹنی نکال کردکھاؤ۔ اگر پہاڑ میں سے اونٹنی نکل آئی تو ہم مان لیں گے کہ تم اللہ کے نبی ہو۔ ان کو ہرچند سمجھایا کہ دیکھو اپنے منہ سے مانگا ہوا معجزہ فیصلہ کن ہوتا ہے اگر اونٹنی تمہارے مطالبہ پر پہاڑ سے نکل آئی اور پھر بھی ایمان نہ لائے تو سمجھ لو کہ پھر جلدی ہی عذاب آجائے گا۔ وہ لوگ اپنی ضد پر اڑے رہے اور یہی مطالبہ کرتے رہے کہ اونٹنی پہاڑ سے نکال کر دکھاؤ۔ اگر اونٹنی پہاڑ سے نکل آئی تو ہم ایمان لے آئیں گے حضرت صالح (علیہ السلام) نے دو رکعت پڑھ کر اللہ تعالیٰ سے دعا کی اسی وقت ایک پہاڑی پھٹ گئی اور اس کے اندر سے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 73–79

قصۂ سوم حضرت صالح (علیہ السلام) باقوم ثمود قال اللہ تعالیٰ والی ثمود اخاھم صالحا۔۔۔ الی۔۔۔ ولکن لا تحبون النصحین (ربط) اب یہ تیسرا قصہ قوم ثمود اور حضرت صالح (علیہ السلام) کا بیان فرماتے ہیں، ثمود، قوم عاد کے بعد ہوئے ہیں یہ لوگ عرب کے رہنے والے تھے مدینہ اور شام کے درمیان ان کا وطن تھا۔ آنحضرت ﷺ جب 9 میں تبوک کی طرف تشریف لے گئے تو راستہ میں ان کے شہر اور مکانات پر سے گزر ہوا اور وہاں کچھ قیام کا بھی اتفاق ہوا لوگوں نے ان کے کنوئیں سے پانی بھرا اور اس سے آٹا گوندھا۔ جب آنحضرت ﷺ کو اس کی خبر ہوئی تو آپ ﷺ نے یہ حکم دیا کہ جس قدر پانی بھرا گیا ہے پھینک دیا جائے پھر آپ نے وہاں سے کوچ فرمایا اور…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 76–77

83 قوم کے وہی سرکش سردار بولے۔ ہم تو اسے اور اس کی تعلیم کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ “ فَعَقَرُوْا النَّاقةَ ” چناچہ انہوں نے اللہ کے حکم سے سرکشی کرتے ہوئے اونٹنی کو قتل کردیا اور ازراہ تعنت وعناد حضرت صالح (علیہ السلام) سے کہنے لگے اگر واقعی تو اللہ کا نبی ہے تو جس عذاب سے ہمیں ڈراتا تھا اب لے آ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 75–79

ربط آیات گزشتہ آیات میں حضرت صالح (علیہ السلام) کا ابتدائی ذکر ہوا اللہ تعالیٰ نے قوم ثمود کی طرف ان کے خاندان کے فرد کو نبوت و رسالت دے کر مبعوث فرمایا اور انہوں نے لوگوں کو اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچایا تمام انبیاء کے دستور کے مطابق صالح (علیہ السلام) نے بھی سب سے پہلے قوم کو توحید کا درس دیا اور کفر و شرک سے منع کیا پھر لوگوں کی فرمائش پر اللہ تعالیٰ نے صالح (علیہ السلام) کو اونٹنی بطور نشانی اور معجزہ عطا کی آپ نے فرمایا اللہ کی اونٹنی ہے اس کو برے ارادے سے ہاتھ نہ لگانا یہ اللہ کی زمین میں چرتی رہے گی مگر تم کو پریشان نہیں کرے گی لہٰذا تم بھی اس سے تعرض نہ کرنا ورنہ خدا تعالیٰ کے غضب کا…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فَاَخَذَتْہُمُ الرَّجْفَۃُ فَاَصْبَحُوْا فِيْ دَارِہِمْ جٰثِمِيْنَ۝ 78 أخذ الأَخْذُ : حوز الشیء وتحصیله، وذلک تارةً بالتناول نحو : مَعاذَ اللَّهِ أَنْ نَأْخُذَ إِلَّا مَنْ وَجَدْنا مَتاعَنا عِنْدَهُ [يوسف/ 79] ، وتارةً بالقهر نحو قوله تعالی: لا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلا نَوْمٌ [ البقرة/ 255] ( اخ ذ) الاخذ ۔ کے معنی ہیں کسی چیز کو حاصل کرلینا جمع کرلینا اور احاطہ میں لے لینا اور یہ حصول کبھی کسی چیز کو پکڑلینے کی صورت میں ہوتا ہے ۔ جیسے فرمایا : ۔ { مَعَاذَ اللهِ أَنْ نَأْخُذَ إِلَّا مَنْ وَجَدْنَا مَتَاعَنَا عِنْدَهُ } ( سورة يوسف 79) خدا پناہ میں رکھے کہ جس شخص کے پاس ہم نے اپنی چیز پائی ہے اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 73–79

ترکیب : من ربکم جاء تکم سے متعلق آیتہ حال ہے ناقہ سے والعامل فیہ معنی الاشارۃ تاکل مجزوم ہے کیونکہ جواب امر ہے جو قدروھا ہے فیاخذکم منصوب جواب نہی من سہولہا مفعول ثانی قصورا اول تنحتون جو بمعنی تتخذون لیا جاوے تو الجبال مفعول ثانی ورنہ من محذوف مان کر اس کو فعل سے متعلق کیا جاوے اور بیوتا کو مفعول قرار دیا جاوے۔ الملاء فاعل قال للذین اس سے متعلق لمن امن بدل ہے للذین استضعفوا سے باعادہ جاء کقولک مرت بزید باخیک اتعلمون الخ مقولہ بالذی کافرون سے متعلق ہے ان کنت شرط ائتنا بما تعدنا جملہ مقدم دال بر جزاء جاثمین خبر فاصبحوا رسالۃ مفعول ثانی ابلغت کا۔ تفسیر قوم ثمود کا تذکرہ : یہ تیسرا قصہ قوم ثمود…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

فَعَقَرُوا النَّاقَۃَ وَ عَتَوْا عَنْ اَمْرِ رَبِّھِمْ وَ قَالُوْا یٰصٰلِحُ ائْتِنَا بِمَا تَعِدُنَآ اِنْ کُنْتَ مِنَ الْمُرْسَلِیْنَ ۔ (الاعراف : 77) ” تو انھوں نے اونٹنی کی کونچیں کاٹ ڈالیں اور اپنے رب کے حکم سے سرتابی کی ‘ اور بولے اے صالح ! اگر تم خدا کے فرستادہ ہو تو وہ عذاب ہم پر لائو جس کی دھمکی دے رہے ہو “۔ ہم پہلے بتا چکے ہیں کہ اونٹنی کی پیدائش قوم کے مطالبے پر ہوئی تھی اور انھوں نے وعدہ کیا تھا کہ اگر اس طرح حیرت انگیز طریقے سے اونٹنی ایک چٹان سے نکل آئے اور وہ مطلوبہ صفات کی حامل بھی ہو تو ہم ایمان لے آئیں گے لیکن جب وہ اونٹنی کو اسی طرح دیکھ چکے جس طرح وہ چاہتے تھے تو بجائے ایمان…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 73–79

فہم القرآن حضرت صالح (علیہ السلام) کے خطبات کے اقتباسات 1۔ اے میری قوم اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اس لیے صرف اسی کی عبادت کرو۔ (الاعراف : 73) 2۔ اے میری قوم تمہیں عاد کے بعد اس دنیا میں بھیجا گیا ہے تاکہ تم نصیحت حاصل کرو۔ (الاعراف : 74) 3۔ اے میری قوم اللہ کی نعمتوں سے فائدہ اٹھاکر اس کا شکر ادا کرو۔ (الاعراف : 74) قوم صالح کی خصوصیات و عادات : 1۔ قوم صالح اللہ کے ساتھ شرک کیا کرتی تھیں۔ (ھود : 62۔ 61) 2۔ ثمود انبیاء کو جھوٹا قرار دیتے تھے۔ (الشعراء : 141) 3۔ وہ پہاڑوں کو تراش کر گھر بنایا کرتے تھے۔ (الاعراف : 74) 4۔ وہ نرم زمین پر بھی بڑے بڑے محلات تعمیر کیا کرتے تھے۔ (الاعراف : 74) 5۔…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

77: فَعَقَرُ وا النَّاقَۃَ (غرض اس اونٹنی کو مار ڈالا) عقر کی نسبت پوری قوم کی طرف کی اگرچہ عاقر تو قد اربن سالفؔ تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ پوری قوم اس پر رضامند تھی۔ یہ قدار سرخ نیلگوں بونا تھا۔ جیسا کہ فرعون بھی اسی طرح تھا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے علی ؓ پہلوں میں بڑا بدبخت صالح کی اونٹنی کو ذبح کرنے والا تھا۔ اور پچھلوں میں بڑا بدبخت تیرا قاتل ہوگا۔ ( مجمع الزوائد : 299) وَعَتَوْا عَنْ اَمْرِرَبِّھِمْ (اور اپنے رب کے حکم سے سرکشی کی) انہوں نے اپنے رب کے حکم کی نافرمانی کی اور اس سے منہ موڑا اور تکبر کیا۔ امر ربھم سے مراد وہ حکم ہے جو ان کو صالح ( علیہ السلام) کی زبان پر دیا گیا :…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

(77) (فعقروا الناقۃ) زہری (رح) فرماتے ہیں العقر اونٹ کی کونچیں کاٹنا پھر نحر کو عقر بنایا گیا، اس لئے کہ اونٹ کو نحر کرنے والا اس کو عقر یعنی زخمی کرتا ہے پھر نحر کرتا ہے۔” وعتوا عن امر ربھم “ اور العتو باطل میں غلو کرنا کہا جاتا ہے ” عنا یعتو عتوا “ جب انہوں نے تکبر کیا اور معنی یہ ہے کہ انہوں نے اللہ کی نافرمانی کی اور اونٹنی کے بارے میں اس کا حکم چھوڑ دیا اور اپنے نبی کی تکذیب کی۔ (وقالوا یصلح ائتنا بما تعدناً ) وعدہ کیا گیا عذاب کا (ان کنت من المرسلین)

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 73–79

(73 ۔ 79) ۔ حضرت صالح ( علیہ السلام) بھی حضرت نوح ( علیہ السلام) خاندان میں سے ہیں قوم عاد کی ہلاکت کے بعد اسی سر زمین میں قوم صالح ( علیہ السلام) کے لوگ جن کو ثمود کہتے ہیں بسے بڑی بڑی عمر کے لوگ اس قوم میں ہوئے اینٹ مٹی کے مکان ان کی عمر بھر میں کافی نہ ہوئے تو انہوں نے پہاڑوں کو تراش کر گھر بنائے نوعمری سے حضرت صالح ان میں نبی ہوئے نصیحت کرتے کرتے بڈھے ہوگئے مگر ان میں سے چند ہی شخص ایمان لائے سال بھر میں ایک روز ان کی عید کا ہوتا تھا اس روز انہوں نے حضرت صالح ( علیہ السلام) سے کہا کہ تم ہمارے ایک معجزے کی اپنے اللہ سے دعا کرو اور ہم بتوں سے اسی معجزے کی خواہش کرتے ہیں اگر تمہارے خدا نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 72–79

آیت 72 (والی ثمود) ” اور ثمود کی طرف “ ثمود قدیم عربوں کا معروف قبیلہ تھا جو جزیرۃ العرب اور ارض حجاز میں حجر اور اس کے اردگرد کے علاقوں میں آباد تھا (اخاھم صلحاً ) اللہ تعالیٰ نے صالح کو نبی بنا کر ان کی طرف مبعوث کیا جو انہیں توحید اور ایمان کی دعوت دیتے تھے اور انہیں شرک اور اللہ تعالیٰ کے ہمسر گھڑنے سے روکتے تھے۔ (قال یقوم اعبدو اللہ مالکم من الہ غیرہ) ” انہوں نے کہا : اے میری قوم ! اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ “ صالح کی دعوت بھی وہی تھی جو ان کے بھائ دیگر انبیا ومرسلین کی دعوت تھی یعنی اللہ تعالیٰ کی عبادت کا حکم دینا اور یہ واضح کردینا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا بندوں…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 55–141

دعا کا طریقہ قول باری ہے وادعواربکم تضرعاً عاوخفیۃ۔ اپنے رب کو پکارو گڑگڑاتے ہوئے اور چپکے چپکے) آیت میں چپکے چپکے رب کو پکارنے کا حکم ہے حسن کا قول ہے کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے تمہیں اس بات کی تعلیم دی ہے کہ تم اپنے رب کو کس طرح پکارو۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک عہد صالح کا ذکر فرمایا جس کی پکار کو اس نے پسند فرمایا تھا چناچہ ارشاد ہے اذنادی ربہ نداء خفیا۔ جبکہ اس نے اپنے رب کو چپکے چپکے پکارا) یعنی حضرت زکریاعلیہ السلام عبداللہ بن المبارک نے حسن بصری سے روایت کی ہے کہ لوگ یعنی صحابہ کرام بڑی عاجزی اور نیاز مندی کے ساتھ دعائیں مانگا کرتے تھے اور صرف سرگوشی کی آواز سنائی دیتی تھی۔ حضرت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

106 قوم صالح کے منکروں کی طرف سے عذاب کا مطالبہ : یہ ضد وعناد اور ہٹ دھرمی اور بدبختی کی وہ آخری انتہاء ہے جس کے بعد ایسے لوگوں کو ان کا وہ آخری انجام آپکڑتا ہے جس کا مستحق انہوں نے اپنے آپ کو اپنے عمل و کردار کی بناء پر بنا لیا ہوتا ہے۔ اور ایسا کہ پھر ان کیلئے اس گرفت و پکڑ سے بچ نکلنے کی کوئی صورت ممکن نہیں رہتی۔ سو عناد اور ہٹ دھرمی ایک ایسا ہولناک مرض ہے جو انسان کو لاپرواہ اور اندھا اور اوندھا بنا دیتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور اس طرح کے لوگ عذاب سے بچنے کی فکر و کوشش کی بجائے اس کے لانے کا مطالبہ کرنے لگتے ہیں۔ یہاں تک کہ وہ اپنے آخری اور ہولناک انجام کو پہنچ کر رہتے ہیں ۔…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 73–79

قوم ثمود کی بربادی تشریح ؛۔ ان آیات میں قوم ثمود کا تعارف، ان کے طور طریقے اور پھر عذاب کا بیان ہے اور پھر ان کے رسول سیدنا صالح (علیہ السلام) کی تعلیمات اور ناقۃ اللہ کا ذکر ہے۔ قوم ثمود : یہ قوم عاد کے بعد بڑی مشہور قوم وجود میں آئی یہ الحجر میں رہتے تھے۔ الحجر حجاز اور یمن کے درمیان میں واقع ہے۔ یہ قوم بھی عاد کی طرح بےحد مضبوط، صحت مند، خوشحال اور ہنر مند قوم تھی یہ پہاروں کو کاٹ کر بڑے بڑے محلات بناتے تھے۔ اور مذہب کے لحاظ سے یہ بھی اللہ کو تو ضرورمانتے تھے۔ مگر پچھلی قوم کی طرح ان کا بھی خیال تھا کہ اللہ سارے کام نہیں کرسکتا۔ لہٰذا انہوں نے بھی کئی قسم کے بت بنا رکھے تھے جن کی پوجا کرتے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 73–84

رکوع نمبر 10 ۔ آیات نمبر 73 تا 84 ۔ اسرار و معارف : حقیقت دعا : بات اسی تسلسل میں جا رہی ہے کہ اللہ تعالیٰ بہت بڑی قدرت کا مالک اور اپنی مخلوق پر بہت زیادہ مہربان بھی ہے اس کی رحمت محتاجوں کو تلاش کرتی ہے اگر کوئی انسان محروم ہے تو اس کی وجہ نزول رحمت میں کمی نہیں خود اس کے دل میں قبولیت کی استعداد میں کمی ہے جیسے حدیث شریف ارشاد ہے کہ لوگ دور دراز سفر کرکے پریشان بالوں پھٹے ہوئے دامنوں اور گرد سے اٹے پاؤں اور چہرہ لے کر پکارتے ہیں یار یارب مگر ان کی دعا سنی نہیں جاتی اس لیے کہ کھانا حرام پہننا حرام ہوتا ہے بعض بےنصیب تو دعا ہی سے محروم ہوتے ہیں اور بعض صورت دعا تو بنا لیتے ہیں مگر حقیقت سے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 76–77

یہ کام گو ایک شخص نے سر انجام دیا لیکن سب ہی مجرم قرار دیئے گئے اور اسب ہی پر عذاب آیا سورة قمر میں ہے فنا دا و صحبھم فتعاطی فعقر چناچہ انہوں نے رفیق کو پکارا س نے تلوار پکڑی اور ( انٹنی کاٹ ڈالا آیت 29) علمائے تفسری نے اس اشقی (بد بخت کا نام قداربن سالف لکھا ہے جو حرام زادہ تھا اس کے ساتھی آٹھ غنڈے اور تھے اور جو اپنی قوم کے سردار تھے ( دیکھئے سورة نحل آیت 48)4 یعنی کہتا تھا کہ دیکھنا اس اونٹنی کو ہاتھ نہ لگا بیٹھنا ورنہ اللہ تعالیٰ کے عذاب میں گرفتار ہوجاؤ گے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(7:77) فعقروا۔ پس انہوں نے کونچیں کاٹ ڈالیں۔ عقر سے جس کے معنی کونچیں کاٹنے کے ہیں۔ ماضی کا صیغہ جمع مذکر غائب۔ عتوا۔ انہوں نے سرکشی کی۔ انہوں نے نافرمانی کی۔ وہ سرتابی کی حد سے گزر گئے۔ وہ شرارت میں انتہا کو پہنچ گئے۔ عتو سے ماضی کا صیغہ جمع مذکر غائب۔ عتا یعتوا عتو وعتی۔ حکم عدولی کرنا ۔ (باب نصر) ملاحظہ ہو 5:44 اور 25:21 ۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 73–79

لغات القرآن آیت نمبر (73 تا 79) ۔ نقتہ اللہ (اللہ کی اونٹنی) ۔ ذروھا۔ (اس کو چھوڑے رکھنا) ۔ تاکل (کھائے گی) ۔ لاتمسو (تم نہ چھونا) ۔ بسوء (برائی سے۔ بری نیت سے) ۔ بوا (اس نے ٹھکانا دیا) ۔ سھول (نرم جگہیں) ۔ قصور (قصر) ۔ محلات) ۔ تنحتون (تم تراشتے ہو) ۔ الجبال (الجبل) ۔ پہاڑ) ۔ بیوت (گھر) ۔ لا تعثوا (تم نہ پھرو) ۔ استکبروا (جنہوں نے بڑائی کی۔ تکبر کیا) ۔ استضعفوا (جو کمزور بنادیئے گئے تھے) ۔ عقروا (انہوں نے کاٹ ڈالا) ۔ عتوا (نافرمانی کی) ۔ اخذت (پکڑ لیا۔ آلیا) ۔ الرجفتہ (زلزلہ۔ بھونچال) ۔ جٰثمین (اوندھے پڑے ہوئے) ۔ نصحت (میں نے نصیحت کردی تھی) ۔ لا تحبون (تم پسند نہیں کرتے) ۔ الناصحین (نصیحت…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 74–80

قوم لوط (علیہ السلام) کی ہلاکت حضرت لوط (علیہ السلام) نے جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بھتیجے تھے، شہر بابل سے آپ کے ساتھ ہجرت کر کے ملک شام میں سکونت اختیار کی تھی۔ پھر سدوم میں رہنے کا اور اس شہر اور اس کے گردونواح کے شہر والوں کی ہدایت کا حکم ہوا۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کی امت جن بستیوں میں رہتی تھی وہ بڑی شاداب اور سرسبز تھیں۔ غیر بستیوں کے لوگ شادابی کے سبب سے قوم لوط کی بستیوں میں اکثر آجایا کرتے تھے۔ جس کی وجہ سے قوم لوط کو طرح طرح کی تکلیف ہوتی تھی۔ شیطان نے قوم لوط کو بہکایا کہ غیر بستیوں کے جو لوگ آویں ان کے ساتھ جتنے نوعمر لڑکے ہوں ان لڑکوں سے بدفعلی کی فاوے تو غیر لوگ تمہاری…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 74–80

[35] لوط (علیہ السلام) ابراہیم (علیہ السلام) کے حقیقی بھتیجے تھے۔ [36] قوم یہاں اردو کے لفظ امت کے معنی میں ہے۔ لوط (علیہ السلام) کی بعثت اپنی برادری یا وطن والوں کی جانب نہ تھی اس لئے '' بھائی '' کا رشتہ جو ہود (علیہ السلام) اور صالح (علیہ السلام) کے لئے بیان کیا گیا ہے یہاں حذف کردیا گیا۔ آپ جس قوم کی ہدایت کے لئے بھیجے گئے تھے وہ اس علاقے میں رہتی تھی جو عراق اور فلسطین کے درمیان واقع ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 73–81

حضرت صالح (علیہ السلام) : (ف 2) عاد اولی کے بعد عاد ثانیہ کا زمانہ ہے یعنی ثمود کی قوم ، انکی جانب حضرت صالح (علیہ السلام) مبعوث ہوئے ۔ انہوں نے بھی حسب سابق اللہ کی عظمت و جلال کا وعظ کہا ، عمر بھر اللہ کی جانب بلاتے رہے ، مگر چند لوگوں کے سوا سب نے انکار کیا ، (ف 1) حضرت صالح (علیہ السلام) نے فرمایا تم اگر انکار کرو گے ، تو مٹ جاؤ گے ، اللہ کی غیرت جوش میں آجائے گی ، اور سنت اللہ کے موافق تمہیں ہلاک کردیا جائے گا ، مگر وہ نہ مانے ، انہیں اپنے مضبوط قلعوں اور مکانوں پر ناز تھا ، ان کے مکان پتھر کے تھے ، اور بڑی بڑی عمارتیں تھیں ، ان کا خیال یہ تھا کہ کوئی عذاب ہمیں نہیں مٹا سکے گا ، حضرت…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

77 آخرکار ان منکرین نے اس اونٹنی کو کاٹ ڈالا اور اپنے رب کے حکم سے سرتابی کی اور صالح (علیہ السلام) سے کہنے لگے اے صالح اگر واقعی تو پیغمبر ہے تو اس عذاب کو ہمارے پاس لے آیا جس کی تو ہم کو دھمکیاں اور ڈراوا دیا کرتا ہے اب لا وہ عذاب کہاں ہے یعنی نہ تو صالح پر ایمان لائے اور نہ اونٹنی کی حفاظت کی۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 73–77

ف 4۔ انہوں نے ایک خاص معجزے کی درخواست کی کہ اس پتھر میں سے ایک اونٹنی پیدا ہو تو ہم ایمان لائیں گے چناچہ آپ کی دعا سے ایسا ہی ہوا کہ وہ پتھر پھٹا اور اس کے اندر سے ایک بڑی اونٹنی نکلی۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

صالح (علیہ السلام) کی قوم نے وہ کام کر دکھایا جس سے وہ روکے گئے تھے : 88: قرآن کریم نے اس اونٹنی کو ” ناقۃ اللہ “ کہا ہے ، یوں تو ہرچیز اور ہر مخلوق اللہ ہی کی ملکیت ہے مگر ثمود نے جو نشان طلب کیا تھا چونکہ وہ ان کے طلب کرنے کے بعد مقرر کی گئی تھی اس لئے اس کو ” ناقۃ اللہ “ کا لقب دیا گیا اور اس کو ” لکم ایۃ “ کہہ کر یہ بھی بتادیا کہ یہ نشانی اپنے اندر خاص اہمیت رکھتی ہے لیکن بد قسمت قوم ثمود نے زیادہ دیر تک اس کو برداشت نہ کیا اور ایک روز سازش کر کے قدار بن سالف کو اس پر آمادہ کرلیا کہ وہ اس کے قتل میں پہل کرے اور باقی ساری قوم اس کی اعانت کرے۔ اسی طرح انہوں نے اس ناقہ کو ہلاک کردیا اور صالح…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Commentary It has appeared in previous verses that the Du` a' of Sayyidna Salih (علیہ السلام) had made a big rock open up in the nearby mountain through which an extraordinary she-camel had come out. Then, Allah Ta` ala had made this she-camel the last trial for these people as she drank up all water from the well which was used by the people and animals of the locality for their needs. Therefore, Sayyidna Salih (علیہ السلام) had fixed turns, a day for the she-camel and another for the people of the area. The people of Thamud were in trouble because of this she-camel. They wished she would…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 75–77

61. Although the she-camel was killed by an individual, as we learn also from surahs al-Qamar (54) and al-Sharns (91), the whole nation was held guilty since it stood at the killer's back. Every sin which is committed with the approval and support of a nation, is a national crime even if it has been committed by one person. In fact the Qur'an goes a step further and declares that a sin which is committed publicly in the midst of a gathering is considered to be the collective sin of the people who tolerate it.

Read the full tafseer →