Al-A'raaf 7:76

Al-A'raaf · from ayah 76

7:76

قَالَ الَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْۤا اِنَّا بِالَّذِیْۤ اٰمَنْتُمْ بِهٖ كٰفِرُوْنَ ۟قَالَ الَّذِيۡنَ اسۡتَكۡبَرُوۡۤا اِنَّا بِالَّذِىۡۤ اٰمَنۡتُمۡ بِهٖ كٰفِرُوۡنَ

تو (سرداران) مغرور کہنے لگے کہ جس چیز پر تم ایمان لائے ہو ہم تو اس کو نہیں مانتے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Said those who were arrogant, "Indeed we, in that which you have believed, are disbelievers."

— Saheeh International

Juz 8 · Ruku 10 of surah · Ruku 17 of juz

Read the whole surah · Surah Al-A'raaf

All translations of 7:76

اُن برائی کے مدعیوں نے کہا جس چیز کو تم نے مانا ہے ہم اس کے منکر ہیں"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

تو (سرداران) مغرور کہنے لگے کہ جس چیز پر تم ایمان لائے ہو ہم تو اس کو نہیں مانتے

— مولانا فتح محمد جالندہری

وه متکبر لوگ کہنے لگے کہ تم جس بات پر یقین ﻻئے ہوئے ہو، ہم تو اس کے منکر ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

وہ مغرور لوگ کہنے لگے : جس پیغام پر تم ایمان لائے ہو، اس کے تو ہم سب منکر ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

متکبر بولے جس پر تم ایمان لائے ہمیں اس سے انکار ہے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

متکبّر لوگ کہنے لگے: بیشک جس (چیز) پر تم ایمان لائے ہو ہم اس کے سخت منکر ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

وہ لوگ جو بڑے بنے ہوئے تھے، انھوں نے کہا بیشک ہم جس پر تم ایمان لائے ہو، اس کے منکر ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

وہ متکبر کہنے لگے : جس بات پر تم ایمان لائے ہو، ہم تو اسے ماننے والے نہیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

منکروں نے کہا کہ ہم تو اس چیز کے منکر ہیں جس پر تم ایمان لائے ہو

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اس پر اپنی بڑائی کا گھمنڈ رکھنے والے ان لوگوں نے کہا کہ ہم تو قطعی طور پر منکر ہیں اس کے جس پر تم لوگ ایمان رکھتے ہو،

— مولانا اسحاق مدنی

وہ متکبر لوگ کہنے لگے ہم تو اس چیز کے منکر ہیں جس پر تم ایمان لا چکے ہو۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

(اس پر) وہ استکبار کرنے والے کہتے کہ جس چیز پر تم ایمان لائے ہو ہم اس کے منکر ہیں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

تو مغرور سردار کہنے لگے کہ جس چیز پر تم ایمان لائے ہو ہم تو اس کو نہیں مانتے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

The haughty ones remarked. 'Most certainly we disbelieve in that which you believe.'

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

The haughty people said, :As for us, we disbelieve in what you believe.

— Muhammad Taqi Usmani

The haughty people said, :As for us, we disbelieve in what you believe.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Those who were arrogant said: "Verily, we disbelieve in that which you believe in."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Those who were scornful said: Lo! in that which ye believe we are disbelievers.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Said those who were arrogant, "Indeed we, in that which you have believed, are disbelievers."

— Saheeh International

The proud oppressors said, "We reject that which you believe in".

— Muhammad Sarwar

Those who were haughty said: Surely we are deniers of what you believe in.

— Muhammad Habib Shakir

Those who were stiff-necked said: verily we are disbelievers in that which ye believe.

— Abdul Majid Daryabadi

The Arrogant party said: "For our part, we reject what ye believe in."

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 7:76

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 73–78

ثمود کی قوم اور اس کا عبرت ناک انجام علمائے نسب نے بیان کیا ہے کہ ثمود بن عامر بن ارم بن سام بن نوح۔ یہ بھائی تھا جد بس بن عامر کا۔ اسی طرح قبیلہ طسم یہ سب خالص عرب تھے۔ حضرت ابراہیم خلیل اللہ ؑ سے پہلے ثمودی عادیوں کے بعد ہوئے ہیں ان کے شہر حجاز اور شام کے درمیان وادی القری اور اس کے اردگرد مشہور ہیں۔ سنہ009ھ میں تبوک جاتے ہوئے رسول اللہ ﷺ ان کی اجاڑ بستیوں میں سے گذرے تھے۔ مسند احمد میں ہے کہ جب حضور ﷺ تبوک کے میدان میں اترے لوگوں نے ثمودیوں کے گھروں کے پاس ڈیرے ڈالے اور انہی کے کنوؤں کے پانی سے آٹے گوندھے ہانڈیاں چڑھائیں تو آپ نے حکم دیا کہ سب ہانڈیاں الٹ دی جائیں اور گندھے ہوئے آٹے اونٹوں…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 75–77

سورة الْاَعْرَاف 61 اگرچہ مارا ایک شخص نے تھا، جیسا کہ سورة قمر اور سورة شمس میں ارشاد ہوا ہے، لیکن چونکہ پوری قوم اس مجرم کی پشت پر تھی اور وہ دراصل اس جرم میں قوم کی مرضی کا آلہ کار تھا اس لیے الزام پوری قوم پر عائد کیا گیا ہے۔ ہر وہ گناہ جو قوم کی خواہش کے مطابق کیا جائے، یا جس کے ارتکاب کو قوم کی رضا اور پسندیدگی حاصل ہو، ایک قومی گناہ ہے، خواہ اس کا ارتکاب کرنے والا ایک فرد واحد ہو۔ صرف یہی نہیں، بلکہ قرآن کہتا ہے کہ جو گناہ قوم کے درمیان علی الاعلان کیا جائے اور قوم اسے گوارا کرے وہ بھی قومی گناہ ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 75–76

تیسری اور چوتھی آیت میں وہ مکالمہ اور مباحثہ ذکر کیا گیا ہے جو قوم ثمود کے دو گروہوں کے درمیان ہوا۔ ایک وہ گروہ جو صالح ؑ پر ایمان لے آیا تھا، دوسرا منکرین و کفار کا گروہ۔ ارشاد فرمایا (آیت) قَالَ الْمَلَاُ الَّذِيْنَ اسْتَكْبَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ لِلَّذِيْنَ اسْتُضْعِفُوْا لِمَنْ اٰمَنَ مِنْهُمْ ، یعنی کہا قوم صالح ؑ میں سے ان لوگوں نے جنہوں نے تکبر کیا ان لوگوں سے جن کو حقیر و ضعیف سمجھا جاتا تھا یعنی جو ایمان لائے تھے۔ امام رازی نے تفسیر کبیر میں فرمایا کہ اس جگہ ان دونوں گروہوں کے دو وصف قرآن کریم نے بتلائے مگر کفار کا وصف بصیغہ معروف بتلایا استکبروا اور مومنین کا وصف بصیغہ مجہول بتلایا…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

قَالَ الَّذِيْنَ اسْتَكْبَرُوْٓا اِنَّا بِالَّذِيْٓ اٰمَنْتُمْ بِهٖ كٰفِرُوْنَ۔ یہ مستکبرین کی طرف سے آخری جھنجھلاہٹ کا اظہار ہے کہ تم نے صالح کو مان لیا ہے تو مانو ہم تو اس شخص کو ہرگز ماننے والے نہیں ہیں، ہم اس کا صاف انکار کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 76–77

76۔ 1 اس معقول جواب کے باوجود وہ اپنے استکبار اور انکار پر اڑے رہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 73–79

39: ثمود بھی قوم عاد ہی کی نسل سے پیدا ہوئی تھی اور ظاہر یہ ہے کہ حضرت ہود ؑ اور ان کے مومن ساتھی جو عذاب سے بچ گئے تھے یہ ان کی اولاد تھی اور ثمود ان کے دادا کا نام تھا، اسی لئے ان کو عاد ثانیہ بھی کہا جاتا ہے، یہ قوم عرب اور شام کے درمیان اس علاقے میں آباد تھی جس کو اس وقت حجر کہا جاتا تھا اور آج کل اسے مدائن صالح کہتے ہیں، اور آج بھی ان کے گھروں اور محلات کے کھنڈر موجود ہیں اور پہاڑوں سے تراشی ہوئی عمارتوں کے آثار جن کا ذکر آیت 74 میں ہے آج بھی وہاں دیکھے جاسکتے ہیں، عرب مشرکین جب تجارتی سفر پر شام جاتے تو یہ کھنڈر ایک نشان عبرت کے طور پر ان کے راستے میں پڑتے تھے اور قرآن کریم نے کئی…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 75–76

آیت ” قَالَ الْمَلأُ الَّذِیْنَ اسْتَکْبَرُواْ مِن قَوْمِہِ لِلَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُواْ لِمَنْ آمَنَ مِنْہُمْ أَتَعْلَمُونَ أَنَّ صَالِحاً مُّرْسَلٌ مِّن رَّبِّہِ قَالُواْ إِنَّا بِمَا أُرْسِلَ بِہِ مُؤْمِنُونَ (75) ” اس کی قوم کے سرداروں نے جو بڑے بنے ہوئے تھے ، کمزور طبقہ کے ان لوگوں سے جو ایمان لے آئے تھے ‘ کہا ” کیا واقعی یہ جانتے ہو کہ صالح (علیہ السلام) اپنے رب کا پیغمبر ہے ؟ “ بااثر لوگوں کی طرف سے یہ سوال تہدید اور ڈرانے کے لئے کیا گیا تھا ۔ ان لوگوں نے اس بات کو بہت ہی برا سمجھا کہ یہ غریب لوگ بھی صالح کے جنبہ دار بن گئے ہیں اور یہ حضرت صالح (علیہ السلام) کی تصدیق کر رہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 75–76

قوم میں جو بڑے بڑے متکبر سردار اور معاندین تھے وہ غریب اور کمزور مسلمانوں سے استہزاءً کہتے تھے کہ (کیا بڑے آدمی تو آج تک نہ سمجھے ؟ مگر تمہیں معلوم ہوگیا کہ صالح خدا کا بھیجا ہوا ہے ؟ مسلمانوں نے جواب دیا کہ (معلوم ہونا کیا معنیٰ ۔ معلوم تو تم کو بھی ہے) ہاں ہم دل سے قبول کرکے اس پر ایمان لاچکے ہیں۔ متکبرین اس حکیمانہ جواب سے کھسیانے ہو کر بولے کہ جس چیز کو تم نے مان لیا ہے ہم ابھی تک اسے نہیں مانتے۔ پھر بھلا تمہارے جیسے چند خستہ حال آدمیوں کا ایمان لے آنا کونسی بڑی کامیابی ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 75–76

آیت 75 قَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ اسْتَکْبَرُوْا مِنْ قَوْمِہٖ لِلَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْا لِمَنْ اٰمَنَ مِنْہُمْ اَتَعْلَمُوْنَ اَنَّ صٰلِحًا مُّرْسَلٌ مِّنْ رَّبِّہٖ ط قَالُوْٓا اِنَّا بِمَآ اُرْسِلَ بِہٖ مُؤْمِنُوْنَ حضرت صالح علیہ السلام کی قوم کے جو غریب ‘ دبے ہوئے اور کمزور لوگ تھے مگر ایمان لے آئے تھے ‘ ان سے ان کے سردار بڑے متکبرانہ انداز سے مخاطب ہو کر کہتے تھے کہ کیا تمہیں اس بات کا یقین ہے کہ یہ صالح واقعی اپنے رب کی طرف سے بھیجے گئے ہیں ؟ اس پر وہ لوگ بڑے یقین سے جواب دیتے تھے کہ جو کچھ آپ علیہ السلام کے رب نے آپ علیہ السلام کو دیا ہے ہم اس پر ایمان لے آئے ہیں اور ان سارے احکام کو…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

80 قوم کا اکڑ جانا اور استہزا :۔ یہ بھی استہزاء کی ہی ایک قسم ہے یعنی متکبر لوگ جو اپنے آپ کو انتہائی عقل مند سمجھتے تھے، ایمان لانے والے کمزور مسلمانوں سے پوچھتے تھے بھلا صالح (علیہ السلام) کی جس دعوت کی ہمیں سمجھ نہیں آرہی اور ہم اسے غیر معقول باتیں سمجھتے ہیں تم انہیں کیسے معقول سمجھ کر ایمان لے آئے ہو ؟ کمزور مسلمانوں نے اپنی ایمانی جرأت کا مظاہرہ کرتے ہوئے جواب دیا کہ جس بات کو تم غلط کہتے ہو ہم اسی کو معقول اور برحق سمجھ کر ایمان لائے ہیں اور اسے واقعی رسول برحق سمجھتے ہیں۔ متکبر لوگ کہنے لگے ہم تو بہرحال تمہاری احمقانہ باتوں کو کبھی قبول نہیں کرسکتے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

102 ۔” قوم “ کے ” خواص “ اور ” روشن خیالوں “ کی ذہینت کا کیساصحیح نقشہ یہ مکالمہ پیش کررہا ہے !

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 73–79

آیت نمبر 73 تا 84 ترجمہ : اور ہم نے ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح کو بھیجا، اگر قبیلہ کا نام ہو تو غیر منصرف ہے، انہوں نے فرمایا اے میری قوم تم اللہ کی بندگی کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں، میری صداقت پر تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے واضح دلیل، معجزہ، آچکی ہے، یہ اونٹنی ہے اللہ کی (آیۃً ) حال ہے اس کا عامل اسم اشارہ کا معنی (اشیرُ ) ہے انہوں نے حضرت صالح (علیہ السلام) سے ایک خاص پتھر (چٹان) سے جس کو انہوں نے متعین کیا تھا (اونٹنی) نکالنے کا مطالبہ کیا تھا، سو اس کو چھوڑ دو اللہ کی زمین میں کھاتی پھرے بری نیت قتل و ضرب کے ارادہ سے اس کو ہاتھ بھی نہ لگانا، ایسا نہ ہو کہ کہیں تمہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

قال الذین استکبروا انا بالذی امنتم بہ کفرون : متکبر لوگ کہنے لگے تم کو جس بات کا یقین ہوگیا ہے ہم اس کے منکر ہیں۔ الَّذِیْنَ اسْتَکْبَرُوْاسے بڑے سردار اور لیڈر مراد ہیں جو حضرت صالح ( علیہ السلام) پر ایمان لانے کو اپنی ذلت سمجھتے تھے اور اس سے ناک بھوں چڑھاتے تھے۔ اَلَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْا سے کمزور غریب طبقہ مراد ہے جن کو مغرور لوگ حقیر اور ضعیف سمجھتے تھے۔ لمَنْ اٰمَنَ یا الّذین استضعفوا سے بدل کل ہے یعنی اَلَّذین استضعفوا وہی مؤمن لوگ تھے یا بدل بعض ہے یا کمزور اور غریبوں میں سے صرف مؤمنوں سے کہتے تھے۔ اتعلمون ان صالحایہ بات انہوں نے صرف استہزاء کے طور پر کہی تھی۔ قالوا انا اس تفصیلی جواب…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 76–77

(76۔ 77) وہ منکر اور کافر بولے ہم تو اس کی رسالت کا انکار کرتے ہیں، چناچہ انہوں نے اونٹنی کو مار ڈالا اور اپنے پروردگار کے اس حکم کی بجا آوری سے جس کا حضرت صالح ؑ نے ان کو حکم دیا تھا انکار کردیا، اور بطور استہزاء اور مذاق کے بولے اچھا عذاب لے آؤ۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 75–76

اَتَعْلَمُوْنَ اَنَّ صٰلِحًا مُّرْسَلٌ مِّنْ رَّبِّهٖ ۭ: ان کا یہ پوچھنا اپنے تکبر کے اظہار اور طنز کے لیے تھا۔ اِنَّا بِمَآ اُرْسِلَ بِهٖ مُؤْمِنُوْنَ : یعنی ہمیں نہ صرف ان کے رسول ہونے پر یقین ہے، بلکہ ان کے دیے ہوئے ایک ایک حکم کے صحیح ہونے پر بھی یقین ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 75–76

آیت نمبر : 75۔ 76 قولہ تعالیٰ : قال الملا الذین استکبروا من قومہ للذین استضعفوا لمن امن منھم اس میں دوسرا پہلے سے بدل ہے، کیونکہ وہ مستضعفین ( جنہیں وہ کمزور سمجھتے تھے) مومنین ہی تھے اور یہ بدل بعض من الکل ہے۔

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 73–79

(1) امام ابو الشیخ نے مطلب بن زیاد (رح) سے روایت کیا کہ میں نے عبد اللہ بن ابی یعلی (رح) سے یہودی اور نصرانی کے بارے میں پوچھا کیا اسے بھائی کہا جاسکتا ہے ؟ فرمایا انہیں بھائی ایک دار میں رہنے کے سبب ہے لہٰذا اسے بھائی کہا جاسکتا ہے۔ کیا تو اللہ تعالیٰ کے اس قول کی طرف نہیں دیکھتا لفظ آیت ” والی ثمود اخاھم صلحا “ (2) امام سنید اور ابن جریر اور حاکم نے حجاج کے طریق سے ابوبکر بن عبد اللہ سے اور انہوں نے شہر بن خوشب سے اور انہوں نے عمرو بن خارجہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ثمود صالح کی قوم تھی اللہ تعالیٰ نے ان کو آباد کیا دنیا میں انہیں بہت لمبی عمریں عطا فرمائیں۔ یہاں تک کہ ایک…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

قَالَ [ کہا ] الَّذِيْنَ [ انہوں نے جن لوگوں نے ] اسْتَكْبَرُوْٓا [ گھمنڈ کیا ] اِنَّا [ بیشک ہم ] بِالَّذِيْٓ [ اس کا ] اٰمَنْتُمْ [ تم لوگ ایمان لائے ] بِهٖ [ جس پر ] كٰفِرُوْنَ [ انکار کرنے والے ہیں ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 76–77

قوم ثمود کے لوگ بھی بڑے ضدی تھے کہنے لگے کہ ہم تو جب جانیں جب تم پہاڑ میں سے اونٹنی نکال کردکھاؤ۔ اگر پہاڑ میں سے اونٹنی نکل آئی تو ہم مان لیں گے کہ تم اللہ کے نبی ہو۔ ان کو ہرچند سمجھایا کہ دیکھو اپنے منہ سے مانگا ہوا معجزہ فیصلہ کن ہوتا ہے اگر اونٹنی تمہارے مطالبہ پر پہاڑ سے نکل آئی اور پھر بھی ایمان نہ لائے تو سمجھ لو کہ پھر جلدی ہی عذاب آجائے گا۔ وہ لوگ اپنی ضد پر اڑے رہے اور یہی مطالبہ کرتے رہے کہ اونٹنی پہاڑ سے نکال کر دکھاؤ۔ اگر اونٹنی پہاڑ سے نکل آئی تو ہم ایمان لے آئیں گے حضرت صالح (علیہ السلام) نے دو رکعت پڑھ کر اللہ تعالیٰ سے دعا کی اسی وقت ایک پہاڑی پھٹ گئی اور اس کے اندر سے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 73–79

قصۂ سوم حضرت صالح (علیہ السلام) باقوم ثمود قال اللہ تعالیٰ والی ثمود اخاھم صالحا۔۔۔ الی۔۔۔ ولکن لا تحبون النصحین (ربط) اب یہ تیسرا قصہ قوم ثمود اور حضرت صالح (علیہ السلام) کا بیان فرماتے ہیں، ثمود، قوم عاد کے بعد ہوئے ہیں یہ لوگ عرب کے رہنے والے تھے مدینہ اور شام کے درمیان ان کا وطن تھا۔ آنحضرت ﷺ جب 9 میں تبوک کی طرف تشریف لے گئے تو راستہ میں ان کے شہر اور مکانات پر سے گزر ہوا اور وہاں کچھ قیام کا بھی اتفاق ہوا لوگوں نے ان کے کنوئیں سے پانی بھرا اور اس سے آٹا گوندھا۔ جب آنحضرت ﷺ کو اس کی خبر ہوئی تو آپ ﷺ نے یہ حکم دیا کہ جس قدر پانی بھرا گیا ہے پھینک دیا جائے پھر آپ نے وہاں سے کوچ فرمایا اور…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 76–77

83 قوم کے وہی سرکش سردار بولے۔ ہم تو اسے اور اس کی تعلیم کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ “ فَعَقَرُوْا النَّاقةَ ” چناچہ انہوں نے اللہ کے حکم سے سرکشی کرتے ہوئے اونٹنی کو قتل کردیا اور ازراہ تعنت وعناد حضرت صالح (علیہ السلام) سے کہنے لگے اگر واقعی تو اللہ کا نبی ہے تو جس عذاب سے ہمیں ڈراتا تھا اب لے آ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 75–79

ربط آیات گزشتہ آیات میں حضرت صالح (علیہ السلام) کا ابتدائی ذکر ہوا اللہ تعالیٰ نے قوم ثمود کی طرف ان کے خاندان کے فرد کو نبوت و رسالت دے کر مبعوث فرمایا اور انہوں نے لوگوں کو اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچایا تمام انبیاء کے دستور کے مطابق صالح (علیہ السلام) نے بھی سب سے پہلے قوم کو توحید کا درس دیا اور کفر و شرک سے منع کیا پھر لوگوں کی فرمائش پر اللہ تعالیٰ نے صالح (علیہ السلام) کو اونٹنی بطور نشانی اور معجزہ عطا کی آپ نے فرمایا اللہ کی اونٹنی ہے اس کو برے ارادے سے ہاتھ نہ لگانا یہ اللہ کی زمین میں چرتی رہے گی مگر تم کو پریشان نہیں کرے گی لہٰذا تم بھی اس سے تعرض نہ کرنا ورنہ خدا تعالیٰ کے غضب کا…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فَعَقَرُوا النَّاقَۃَ وَعَتَوْا عَنْ اَمْرِ رَبِّہِمْ وَقَالُوْا يٰصٰلِحُ ائْتِنَا بِمَا تَعِدُنَآ اِنْ كُنْتَ مِنَ الْمُرْسَلِيْنَ۝ 77 عقر عُقْرُ الحوض والدّار وغیرهما : أصلها ويقال : له : عَقْرٌ ، وقیل : ( ما غزي قوم في عقر دارهم قطّ إلّا ذلّوا) «4» ، وقیل للقصر : عُقْرَة . وعَقَرْتُهُ أصبت : عُقْرَهُ ، أي : أصله، نحو، رأسته، ومنه : عَقَرْتُ النّخل : قطعته من أصله، وعَقَرْتُ البعیر : نحرته، وعقرت ظهر البعیر فانعقر، قال : فَعَقَرُوها فَقالَ تَمَتَّعُوا فِي دارِكُمْ [هود/ 65] ، وقال تعالی: فَتَعاطی فَعَقَرَ [ القمر/ 29] ، ومنه استعیر : سرج مُعْقَر، وکلب عَقُور، ورجل عاقِرٌ ، وامرأة عاقر : لا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 73–79

ترکیب : من ربکم جاء تکم سے متعلق آیتہ حال ہے ناقہ سے والعامل فیہ معنی الاشارۃ تاکل مجزوم ہے کیونکہ جواب امر ہے جو قدروھا ہے فیاخذکم منصوب جواب نہی من سہولہا مفعول ثانی قصورا اول تنحتون جو بمعنی تتخذون لیا جاوے تو الجبال مفعول ثانی ورنہ من محذوف مان کر اس کو فعل سے متعلق کیا جاوے اور بیوتا کو مفعول قرار دیا جاوے۔ الملاء فاعل قال للذین اس سے متعلق لمن امن بدل ہے للذین استضعفوا سے باعادہ جاء کقولک مرت بزید باخیک اتعلمون الخ مقولہ بالذی کافرون سے متعلق ہے ان کنت شرط ائتنا بما تعدنا جملہ مقدم دال بر جزاء جاثمین خبر فاصبحوا رسالۃ مفعول ثانی ابلغت کا۔ تفسیر قوم ثمود کا تذکرہ : یہ تیسرا قصہ قوم ثمود…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

قَالَ الَّذِیْنَ اسْتَکْبَرُوْٓا اِنَّا بِالَّذِیْٓ اٰمَنْتُمْ بِہٖ کٰفِرُوْنَ ۔ (الاعراف : 76) ” متکبروں نے کہا کہ ہم تو اس چیز کے منکر ہیں ‘ جس پر تم ایمان لائے ہو “۔ یعنی جس انقلاب کو تم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہو اور تمہارے سینوں میں جو کروٹیں لیتا ہوا محسوس ہو رہا ہے ہم تو اس کو کسی طرح قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔ اس کی کامیابی کا مطلب تو یہ ہوگا کہ تم کل کو حکمران ہو گے اور ہم تمہاری چاکری کریں گے۔ کم از کم ہماری زندگی میں تو ایسا ہونا ممکن نہیں گمان یہ کہتا ہے کہ اس کے بعد ان کی جھنجھلاہٹ میں مزید اضافہ ہوگیا ہوگا انھوں نے مسلمانوں کو ادھیرنے کھدیڑنے میں کوئی کمی نہیں چھوڑی ہوگی۔ ہر…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 73–79

فہم القرآن حضرت صالح (علیہ السلام) کے خطبات کے اقتباسات 1۔ اے میری قوم اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اس لیے صرف اسی کی عبادت کرو۔ (الاعراف : 73) 2۔ اے میری قوم تمہیں عاد کے بعد اس دنیا میں بھیجا گیا ہے تاکہ تم نصیحت حاصل کرو۔ (الاعراف : 74) 3۔ اے میری قوم اللہ کی نعمتوں سے فائدہ اٹھاکر اس کا شکر ادا کرو۔ (الاعراف : 74) قوم صالح کی خصوصیات و عادات : 1۔ قوم صالح اللہ کے ساتھ شرک کیا کرتی تھیں۔ (ھود : 62۔ 61) 2۔ ثمود انبیاء کو جھوٹا قرار دیتے تھے۔ (الشعراء : 141) 3۔ وہ پہاڑوں کو تراش کر گھر بنایا کرتے تھے۔ (الاعراف : 74) 4۔ وہ نرم زمین پر بھی بڑے بڑے محلات تعمیر کیا کرتے تھے۔ (الاعراف : 74) 5۔…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

متکبرین کا جوابی رویہ : آیت 76: قَالَ الَّذِیْنَ اسْتَکْبَرُوْٓ ا اِنَّا بِالَّذِیْ ٰامَنْتُمْ بِہٖ کٰفِرُوْنَ (متکبر سرداروں نے کہا کہ اس میں شک نہیں کہ تم جس پر ایمان لائے ہو ہم اس کے منکر ہیں) انہوں نے ٰامنتم بہٖ کو ارسل بہٖ کی جگہ ذکر کرکے کفار اس بات کی تردید کر رہے ہیں۔ کہ جس ایمان کو تم مسلّم کہتے ہو ہم اسی کا انکار کرتے ہیں

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 73–79

(73 ۔ 79) ۔ حضرت صالح ( علیہ السلام) بھی حضرت نوح ( علیہ السلام) خاندان میں سے ہیں قوم عاد کی ہلاکت کے بعد اسی سر زمین میں قوم صالح ( علیہ السلام) کے لوگ جن کو ثمود کہتے ہیں بسے بڑی بڑی عمر کے لوگ اس قوم میں ہوئے اینٹ مٹی کے مکان ان کی عمر بھر میں کافی نہ ہوئے تو انہوں نے پہاڑوں کو تراش کر گھر بنائے نوعمری سے حضرت صالح ان میں نبی ہوئے نصیحت کرتے کرتے بڈھے ہوگئے مگر ان میں سے چند ہی شخص ایمان لائے سال بھر میں ایک روز ان کی عید کا ہوتا تھا اس روز انہوں نے حضرت صالح ( علیہ السلام) سے کہا کہ تم ہمارے ایک معجزے کی اپنے اللہ سے دعا کرو اور ہم بتوں سے اسی معجزے کی خواہش کرتے ہیں اگر تمہارے خدا نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 72–79

آیت 72 (والی ثمود) ” اور ثمود کی طرف “ ثمود قدیم عربوں کا معروف قبیلہ تھا جو جزیرۃ العرب اور ارض حجاز میں حجر اور اس کے اردگرد کے علاقوں میں آباد تھا (اخاھم صلحاً ) اللہ تعالیٰ نے صالح کو نبی بنا کر ان کی طرف مبعوث کیا جو انہیں توحید اور ایمان کی دعوت دیتے تھے اور انہیں شرک اور اللہ تعالیٰ کے ہمسر گھڑنے سے روکتے تھے۔ (قال یقوم اعبدو اللہ مالکم من الہ غیرہ) ” انہوں نے کہا : اے میری قوم ! اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ “ صالح کی دعوت بھی وہی تھی جو ان کے بھائ دیگر انبیا ومرسلین کی دعوت تھی یعنی اللہ تعالیٰ کی عبادت کا حکم دینا اور یہ واضح کردینا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا بندوں…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 55–141

دعا کا طریقہ قول باری ہے وادعواربکم تضرعاً عاوخفیۃ۔ اپنے رب کو پکارو گڑگڑاتے ہوئے اور چپکے چپکے) آیت میں چپکے چپکے رب کو پکارنے کا حکم ہے حسن کا قول ہے کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے تمہیں اس بات کی تعلیم دی ہے کہ تم اپنے رب کو کس طرح پکارو۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک عہد صالح کا ذکر فرمایا جس کی پکار کو اس نے پسند فرمایا تھا چناچہ ارشاد ہے اذنادی ربہ نداء خفیا۔ جبکہ اس نے اپنے رب کو چپکے چپکے پکارا) یعنی حضرت زکریاعلیہ السلام عبداللہ بن المبارک نے حسن بصری سے روایت کی ہے کہ لوگ یعنی صحابہ کرام بڑی عاجزی اور نیاز مندی کے ساتھ دعائیں مانگا کرتے تھے اور صرف سرگوشی کی آواز سنائی دیتی تھی۔ حضرت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 75–76

103 منکرین کا اہل حق سے تمسخر و استہزائ : سو یہ ان منکرین و مکذبین کا حضرت صالح کے ایماندار ساتھیوں سے تمسخر و استہزا یعنی ان لوگوں کا اہل ایمان سے یہ سوال تمسخر و استہزاء کے طور پر تھا، نہ کہ جاننے اور معلوم کرنے کے لئے۔ کیونکہ ان کو اس کا بخوبی علم تھا کہ یہ لوگ سچا پکا ایمان رکھتے ہیں۔ اسی لئے اہل ایمان نے ان کے جواب میں " نعم " یا اس طرح کا کوئی اور لفظ نہیں بولا، حالانکہ یہ مختصر تھا۔ بلکہ ان کو جملہ اسمیہ کی صورت میں اور حرف تاکید کے ساتھ موکد جواب دیا کہ ہم تو قطعی طور پر ان پر ایمان رکھتے ہیں کہ وہ اللہ کے بھیجے ہوئے اور اس کے سچے رسول ہیں۔ پس پوچھنے کی بات یہ نہیں کہ وہ رسول ہیں یا…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 73–79

قوم ثمود کی بربادی تشریح ؛۔ ان آیات میں قوم ثمود کا تعارف، ان کے طور طریقے اور پھر عذاب کا بیان ہے اور پھر ان کے رسول سیدنا صالح (علیہ السلام) کی تعلیمات اور ناقۃ اللہ کا ذکر ہے۔ قوم ثمود : یہ قوم عاد کے بعد بڑی مشہور قوم وجود میں آئی یہ الحجر میں رہتے تھے۔ الحجر حجاز اور یمن کے درمیان میں واقع ہے۔ یہ قوم بھی عاد کی طرح بےحد مضبوط، صحت مند، خوشحال اور ہنر مند قوم تھی یہ پہاروں کو کاٹ کر بڑے بڑے محلات بناتے تھے۔ اور مذہب کے لحاظ سے یہ بھی اللہ کو تو ضرورمانتے تھے۔ مگر پچھلی قوم کی طرح ان کا بھی خیال تھا کہ اللہ سارے کام نہیں کرسکتا۔ لہٰذا انہوں نے بھی کئی قسم کے بت بنا رکھے تھے جن کی پوجا کرتے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 73–84

رکوع نمبر 10 ۔ آیات نمبر 73 تا 84 ۔ اسرار و معارف : حقیقت دعا : بات اسی تسلسل میں جا رہی ہے کہ اللہ تعالیٰ بہت بڑی قدرت کا مالک اور اپنی مخلوق پر بہت زیادہ مہربان بھی ہے اس کی رحمت محتاجوں کو تلاش کرتی ہے اگر کوئی انسان محروم ہے تو اس کی وجہ نزول رحمت میں کمی نہیں خود اس کے دل میں قبولیت کی استعداد میں کمی ہے جیسے حدیث شریف ارشاد ہے کہ لوگ دور دراز سفر کرکے پریشان بالوں پھٹے ہوئے دامنوں اور گرد سے اٹے پاؤں اور چہرہ لے کر پکارتے ہیں یار یارب مگر ان کی دعا سنی نہیں جاتی اس لیے کہ کھانا حرام پہننا حرام ہوتا ہے بعض بےنصیب تو دعا ہی سے محروم ہوتے ہیں اور بعض صورت دعا تو بنا لیتے ہیں مگر حقیقت سے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 76–77

یہ کام گو ایک شخص نے سر انجام دیا لیکن سب ہی مجرم قرار دیئے گئے اور اسب ہی پر عذاب آیا سورة قمر میں ہے فنا دا و صحبھم فتعاطی فعقر چناچہ انہوں نے رفیق کو پکارا س نے تلوار پکڑی اور ( انٹنی کاٹ ڈالا آیت 29) علمائے تفسری نے اس اشقی (بد بخت کا نام قداربن سالف لکھا ہے جو حرام زادہ تھا اس کے ساتھی آٹھ غنڈے اور تھے اور جو اپنی قوم کے سردار تھے ( دیکھئے سورة نحل آیت 48)4 یعنی کہتا تھا کہ دیکھنا اس اونٹنی کو ہاتھ نہ لگا بیٹھنا ورنہ اللہ تعالیٰ کے عذاب میں گرفتار ہوجاؤ گے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 75–76

(7:75) استضعفوا۔ وہ ضعیف سمجھے گئے۔ وہ کمزور خیال کئے گئے۔ استضعاف (استفعال) سے ماضی مجہول ۔ جمع مذکر غائب۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 73–79

لغات القرآن آیت نمبر (73 تا 79) ۔ نقتہ اللہ (اللہ کی اونٹنی) ۔ ذروھا۔ (اس کو چھوڑے رکھنا) ۔ تاکل (کھائے گی) ۔ لاتمسو (تم نہ چھونا) ۔ بسوء (برائی سے۔ بری نیت سے) ۔ بوا (اس نے ٹھکانا دیا) ۔ سھول (نرم جگہیں) ۔ قصور (قصر) ۔ محلات) ۔ تنحتون (تم تراشتے ہو) ۔ الجبال (الجبل) ۔ پہاڑ) ۔ بیوت (گھر) ۔ لا تعثوا (تم نہ پھرو) ۔ استکبروا (جنہوں نے بڑائی کی۔ تکبر کیا) ۔ استضعفوا (جو کمزور بنادیئے گئے تھے) ۔ عقروا (انہوں نے کاٹ ڈالا) ۔ عتوا (نافرمانی کی) ۔ اخذت (پکڑ لیا۔ آلیا) ۔ الرجفتہ (زلزلہ۔ بھونچال) ۔ جٰثمین (اوندھے پڑے ہوئے) ۔ نصحت (میں نے نصیحت کردی تھی) ۔ لا تحبون (تم پسند نہیں کرتے) ۔ الناصحین (نصیحت…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 74–80

قوم لوط (علیہ السلام) کی ہلاکت حضرت لوط (علیہ السلام) نے جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بھتیجے تھے، شہر بابل سے آپ کے ساتھ ہجرت کر کے ملک شام میں سکونت اختیار کی تھی۔ پھر سدوم میں رہنے کا اور اس شہر اور اس کے گردونواح کے شہر والوں کی ہدایت کا حکم ہوا۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کی امت جن بستیوں میں رہتی تھی وہ بڑی شاداب اور سرسبز تھیں۔ غیر بستیوں کے لوگ شادابی کے سبب سے قوم لوط کی بستیوں میں اکثر آجایا کرتے تھے۔ جس کی وجہ سے قوم لوط کو طرح طرح کی تکلیف ہوتی تھی۔ شیطان نے قوم لوط کو بہکایا کہ غیر بستیوں کے جو لوگ آویں ان کے ساتھ جتنے نوعمر لڑکے ہوں ان لڑکوں سے بدفعلی کی فاوے تو غیر لوگ تمہاری…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 74–80

[35] لوط (علیہ السلام) ابراہیم (علیہ السلام) کے حقیقی بھتیجے تھے۔ [36] قوم یہاں اردو کے لفظ امت کے معنی میں ہے۔ لوط (علیہ السلام) کی بعثت اپنی برادری یا وطن والوں کی جانب نہ تھی اس لئے '' بھائی '' کا رشتہ جو ہود (علیہ السلام) اور صالح (علیہ السلام) کے لئے بیان کیا گیا ہے یہاں حذف کردیا گیا۔ آپ جس قوم کی ہدایت کے لئے بھیجے گئے تھے وہ اس علاقے میں رہتی تھی جو عراق اور فلسطین کے درمیان واقع ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 73–81

حضرت صالح (علیہ السلام) : (ف 2) عاد اولی کے بعد عاد ثانیہ کا زمانہ ہے یعنی ثمود کی قوم ، انکی جانب حضرت صالح (علیہ السلام) مبعوث ہوئے ۔ انہوں نے بھی حسب سابق اللہ کی عظمت و جلال کا وعظ کہا ، عمر بھر اللہ کی جانب بلاتے رہے ، مگر چند لوگوں کے سوا سب نے انکار کیا ، (ف 1) حضرت صالح (علیہ السلام) نے فرمایا تم اگر انکار کرو گے ، تو مٹ جاؤ گے ، اللہ کی غیرت جوش میں آجائے گی ، اور سنت اللہ کے موافق تمہیں ہلاک کردیا جائے گا ، مگر وہ نہ مانے ، انہیں اپنے مضبوط قلعوں اور مکانوں پر ناز تھا ، ان کے مکان پتھر کے تھے ، اور بڑی بڑی عمارتیں تھیں ، ان کا خیال یہ تھا کہ کوئی عذاب ہمیں نہیں مٹا سکے گا ، حضرت…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

76 تب ان سرکش رئوسا نے کہا تم جس پر ایمان لے آئے ہو یقین جانو کہ ہم اس کے منکر ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 73–77

ف 4۔ انہوں نے ایک خاص معجزے کی درخواست کی کہ اس پتھر میں سے ایک اونٹنی پیدا ہو تو ہم ایمان لائیں گے چناچہ آپ کی دعا سے ایسا ہی ہوا کہ وہ پتھر پھٹا اور اس کے اندر سے ایک بڑی اونٹنی نکلی۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

قوم کے وڈیروں نے صالح (علیہ السلام) کے ساتھیوں کو کیا جواب دیا ؟ 87:ـ ” بلاشبہ ہم تو اس شے کا جس پر تمہارا ایمان ہے انکار کرتے ہیں۔ “ اسی طرح حضرت صالح (علیہ السلام) کی مغرور و سرکش قوم نے ان کی پیغمبرانہ دعوت و نصیحت کو یوں تسلیم کرنے سے انکار کردیا اور ان کو متکبرانہ انداز میں یہ بات سنا دی کہ جس بات کا تمہیں یقین ہے ہم اس سے انکار کرتے ہیں۔ اس طرح قوم کی اکثریت کا یہ کفر جس میں قوم کے مخصوص لوگ و ڈیرے ، رہنما اور لیڈر بھی شامل تھے کوئی وقتی کفر نہیں تھا بلکہ جب تک صالح (علیہ السلام) ان کے اندر موجود رہے ان کا کفر بھی بدستور قائم رہا۔ صالح (علیہ السلام) نے ان کو سمجھانے کی ہر ممکن کوشش کی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 75–76

The Confrontation Between the Arrogant and the Weakened The third (75) and the fourth (76) verses carry a dialogue between two groups of the people of Thamud. One of these was of those who had come to believe that Sayyidna Salih (علیہ السلام) was a prophet while the other was that of deniers and disbelievers. Says the verse: قَالَ الْمَلَأُ الَّذِينَ اسْتَكْبَرُ‌وا مِن قَوْمِهِ لِلَّذِينَ اسْتُضْعِفُوا لِمَنْ آمَنَ مِنْهُمْ (The chiefs of his people, who were arrogant said to the weakened, to those of them who believed). In Tafsir Kabir, Imam Razi has said: At this place, the Holy Qur'an…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 75–77

61. Although the she-camel was killed by an individual, as we learn also from surahs al-Qamar (54) and al-Sharns (91), the whole nation was held guilty since it stood at the killer's back. Every sin which is committed with the approval and support of a nation, is a national crime even if it has been committed by one person. In fact the Qur'an goes a step further and declares that a sin which is committed publicly in the midst of a gathering is considered to be the collective sin of the people who tolerate it.

Read the full tafseer →