Explained with ayahs 73–78
ثمود کی قوم اور اس کا عبرت ناک انجام
علمائے نسب نے بیان کیا ہے کہ ثمود بن عامر بن ارم بن سام بن نوح۔ یہ بھائی تھا جد بس بن عامر کا۔ اسی طرح قبیلہ طسم یہ سب خالص عرب تھے۔ حضرت ابراہیم خلیل اللہ ؑ سے پہلے ثمودی عادیوں کے بعد ہوئے ہیں ان کے شہر حجاز اور شام کے درمیان وادی القری اور اس کے اردگرد مشہور ہیں۔ سنہ009ھ میں تبوک جاتے ہوئے رسول اللہ ﷺ ان کی اجاڑ بستیوں میں سے گذرے تھے۔ مسند احمد میں ہے کہ جب حضور ﷺ تبوک کے میدان میں اترے لوگوں نے ثمودیوں کے گھروں کے پاس ڈیرے ڈالے اور انہی کے کنوؤں کے پانی سے آٹے گوندھے ہانڈیاں چڑھائیں تو آپ نے حکم دیا کہ سب ہانڈیاں الٹ دی جائیں اور گندھے ہوئے آٹے اونٹوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–77
سورة الْاَعْرَاف 61
اگرچہ مارا ایک شخص نے تھا، جیسا کہ سورة قمر اور سورة شمس میں ارشاد ہوا ہے، لیکن چونکہ پوری قوم اس مجرم کی پشت پر تھی اور وہ دراصل اس جرم میں قوم کی مرضی کا آلہ کار تھا اس لیے الزام پوری قوم پر عائد کیا گیا ہے۔ ہر وہ گناہ جو قوم کی خواہش کے مطابق کیا جائے، یا جس کے ارتکاب کو قوم کی رضا اور پسندیدگی حاصل ہو، ایک قومی گناہ ہے، خواہ اس کا ارتکاب کرنے والا ایک فرد واحد ہو۔ صرف یہی نہیں، بلکہ قرآن کہتا ہے کہ جو گناہ قوم کے درمیان علی الاعلان کیا جائے اور قوم اسے گوارا کرے وہ بھی قومی گناہ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–76
تیسری اور چوتھی آیت میں وہ مکالمہ اور مباحثہ ذکر کیا گیا ہے جو قوم ثمود کے دو گروہوں کے درمیان ہوا۔ ایک وہ گروہ جو صالح ؑ پر ایمان لے آیا تھا، دوسرا منکرین و کفار کا گروہ۔ ارشاد فرمایا (آیت) قَالَ الْمَلَاُ الَّذِيْنَ اسْتَكْبَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ لِلَّذِيْنَ اسْتُضْعِفُوْا لِمَنْ اٰمَنَ مِنْهُمْ ، یعنی کہا قوم صالح ؑ میں سے ان لوگوں نے جنہوں نے تکبر کیا ان لوگوں سے جن کو حقیر و ضعیف سمجھا جاتا تھا یعنی جو ایمان لائے تھے۔
امام رازی نے تفسیر کبیر میں فرمایا کہ اس جگہ ان دونوں گروہوں کے دو وصف قرآن کریم نے بتلائے مگر کفار کا وصف بصیغہ معروف بتلایا استکبروا اور مومنین کا وصف بصیغہ مجہول بتلایا…
Read the full tafseer →قَالَ الْمَلَاُ الَّذِيْنَ اسْتَكْبَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ لِلَّذِيْنَ اسْتُضْعِفُوْا لِمَنْ اٰمَنَ۔ مستضعف کے معنی ہیں زیر دست، دبائے ہوئے، بےاثر، مظلوم، انبیاء کی دعوت قبول کرنے میں ہمیشہ غریبوں اور کمزوروں ہی نے سبقت کی ہے اس لیے کہ وہ استکبار کے حجاب سے پاک ہوتے ہیں استکار ہی وہ چیز ہے جو قبول حق میں سب سے بڑا مانع ہے۔ ابلیس کی سرگزشت میں ہم اس کی وضاحت کرچکے ہیں۔
اَتَعْلَمُوْنَ اَنَّ صٰلِحًا مُّرْسَلٌ مِّنْ رَّبِّهٖ ۭقَالُوْٓا اِنَّا بِمَآ اُرْسِلَ بِهٖ مُؤْمِنُوْنَ۔ اہل ایمان سے مستکبرین کا یہ سوال استنکار کی نوعیت کا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر تم لوگ اس شخص کو خدا کا رسول سمجھ بیٹھے ہو تو بڑے…
Read the full tafseer →75۔ 1 یعنی جو دعوت توحید وہ لے کر آئے ہیں، وہ چونکہ فطرت کی آواز ہے، ہم تو اس پر ایمان لے آئے ہیں، باقی رہی یہ بات کہ صالح واقعی اللہ کے رسول ہیں ؟ جو ان کا سوال تھا اس سے ان اہل ایمان نے مزاحمت ہی نہیں کی کیونکہ ان کے رسول من اللہ ہونے کو وہ بحث کے قابل ہی نہیں سمجھتے تھے۔ ان کے نزدیک ان کی رسالت ایک مسلمہ حقیقت و صداقت تھی۔ جیسا کہ فی الواقع تھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–79
39: ثمود بھی قوم عاد ہی کی نسل سے پیدا ہوئی تھی اور ظاہر یہ ہے کہ حضرت ہود ؑ اور ان کے مومن ساتھی جو عذاب سے بچ گئے تھے یہ ان کی اولاد تھی اور ثمود ان کے دادا کا نام تھا، اسی لئے ان کو عاد ثانیہ بھی کہا جاتا ہے، یہ قوم عرب اور شام کے درمیان اس علاقے میں آباد تھی جس کو اس وقت حجر کہا جاتا تھا اور آج کل اسے مدائن صالح کہتے ہیں، اور آج بھی ان کے گھروں اور محلات کے کھنڈر موجود ہیں اور پہاڑوں سے تراشی ہوئی عمارتوں کے آثار جن کا ذکر آیت 74 میں ہے آج بھی وہاں دیکھے جاسکتے ہیں، عرب مشرکین جب تجارتی سفر پر شام جاتے تو یہ کھنڈر ایک نشان عبرت کے طور پر ان کے راستے میں پڑتے تھے اور قرآن کریم نے کئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–76
آیت ” قَالَ الْمَلأُ الَّذِیْنَ اسْتَکْبَرُواْ مِن قَوْمِہِ لِلَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُواْ لِمَنْ آمَنَ مِنْہُمْ أَتَعْلَمُونَ أَنَّ صَالِحاً مُّرْسَلٌ مِّن رَّبِّہِ قَالُواْ إِنَّا بِمَا أُرْسِلَ بِہِ مُؤْمِنُونَ (75)
” اس کی قوم کے سرداروں نے جو بڑے بنے ہوئے تھے ، کمزور طبقہ کے ان لوگوں سے جو ایمان لے آئے تھے ‘ کہا ” کیا واقعی یہ جانتے ہو کہ صالح (علیہ السلام) اپنے رب کا پیغمبر ہے ؟ “
بااثر لوگوں کی طرف سے یہ سوال تہدید اور ڈرانے کے لئے کیا گیا تھا ۔ ان لوگوں نے اس بات کو بہت ہی برا سمجھا کہ یہ غریب لوگ بھی صالح کے جنبہ دار بن گئے ہیں اور یہ حضرت صالح (علیہ السلام) کی تصدیق کر رہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–76
قوم میں جو بڑے بڑے متکبر سردار اور معاندین تھے وہ غریب اور کمزور مسلمانوں سے استہزاءً کہتے تھے کہ (کیا بڑے آدمی تو آج تک نہ سمجھے ؟ مگر تمہیں معلوم ہوگیا کہ صالح خدا کا بھیجا ہوا ہے ؟ مسلمانوں نے جواب دیا کہ (معلوم ہونا کیا معنیٰ ۔ معلوم تو تم کو بھی ہے) ہاں ہم دل سے قبول کرکے اس پر ایمان لاچکے ہیں۔ متکبرین اس حکیمانہ جواب سے کھسیانے ہو کر بولے کہ جس چیز کو تم نے مان لیا ہے ہم ابھی تک اسے نہیں مانتے۔ پھر بھلا تمہارے جیسے چند خستہ حال آدمیوں کا ایمان لے آنا کونسی بڑی کامیابی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–76
آیت 75 قَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ اسْتَکْبَرُوْا مِنْ قَوْمِہٖ لِلَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْا لِمَنْ اٰمَنَ مِنْہُمْ اَتَعْلَمُوْنَ اَنَّ صٰلِحًا مُّرْسَلٌ مِّنْ رَّبِّہٖ ط قَالُوْٓا اِنَّا بِمَآ اُرْسِلَ بِہٖ مُؤْمِنُوْنَ
حضرت صالح علیہ السلام کی قوم کے جو غریب ‘ دبے ہوئے اور کمزور لوگ تھے مگر ایمان لے آئے تھے ‘ ان سے ان کے سردار بڑے متکبرانہ انداز سے مخاطب ہو کر کہتے تھے کہ کیا تمہیں اس بات کا یقین ہے کہ یہ صالح واقعی اپنے رب کی طرف سے بھیجے گئے ہیں ؟ اس پر وہ لوگ بڑے یقین سے جواب دیتے تھے کہ جو کچھ آپ علیہ السلام کے رب نے آپ علیہ السلام کو دیا ہے ہم اس پر ایمان لے آئے ہیں اور ان سارے احکام کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–75
78 قوم ثمود کے گھروں کی ساخت :۔ ان لوگوں کے قد و قامت بھی بہت بڑے اور عمریں بھی بہت لمبی ہوتی تھیں اور اگر وہ عام لکڑی کی چھت والے مکان بناتے تو بنانے والے کی زندگی ہی میں کئی بار بوسیدہ ہو کر گرپڑتے تھے۔ عام روایت کے مطابق اس دور میں ان کی عمریں تین سو سے چھ سو سال کے درمیان ہوتیں اور لکڑی کے مکان زیادہ سے زیادہ ایک سو سال چلتے پھر بوسیدہ اور کمزور ہو کر گرپڑتے تھے اس لیے وہ اپنے مکان پہاڑوں میں بناتے۔ اعلیٰ درجے کے سنگ تراش اور انجینئر تھے۔ پہاڑوں کو اندر سے تراش تراش کر مکان بنا لیتے جن میں کھڑکیاں دروازے سب کچھ موجود ہوتا تھا اور ان کی پائیداری کی وجہ سے ایک طویل عرصہ وہاں گزار سکتے تھے…
Read the full tafseer →101 ۔ یہ لوگ بولے کہ صالح (علیہ السلام) کو سچا نبی سمجھنا کیا معنی ہم تو ان کے لائے ہوئے پیاموں کو بھی سچا اور برحق سمجھ رہے ہیں۔ ان کی پیغمبری کا مسئلہ تو قابل بحث ہی نہیں۔ سوال صرف یہ ہے کہ ان کی تصدیق کون کون کرتا ہے۔ سو ہم کو تو ان کی تصدیق کی توفیق ہوگئی ہے۔ کانھم قالوا العلم بارسالہ وبما ارسل بہ مالا کلام فیہ ولا شبھۃ تدخلہ لوضوحہ وانا رتہ وانما الکلام فی وجوب الایمان بہ فنخبرکم انابہ مومنون (کشاف) تنبیھا علی ان ارسالہ اظہرمن ان یشک فیہ عاقل ویخفی علی ذی رأی وانماالکلام فی من امن بہ ومن کفر (بیضاوی) (آیت) ” الذین استکبروا “ کے صیغہ کا معروف اور (آیت) ” الذین استضعفوا “ کے صیغہ کا مجہول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–79
آیت نمبر 73 تا 84
ترجمہ : اور ہم نے ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح کو بھیجا، اگر قبیلہ کا نام ہو تو غیر منصرف ہے، انہوں نے فرمایا اے میری قوم تم اللہ کی بندگی کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں، میری صداقت پر تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے واضح دلیل، معجزہ، آچکی ہے، یہ اونٹنی ہے اللہ کی (آیۃً ) حال ہے اس کا عامل اسم اشارہ کا معنی (اشیرُ ) ہے انہوں نے حضرت صالح (علیہ السلام) سے ایک خاص پتھر (چٹان) سے جس کو انہوں نے متعین کیا تھا (اونٹنی) نکالنے کا مطالبہ کیا تھا، سو اس کو چھوڑ دو اللہ کی زمین میں کھاتی پھرے بری نیت قتل و ضرب کے ارادہ سے اس کو ہاتھ بھی نہ لگانا، ایسا نہ ہو کہ کہیں تمہیں…
Read the full tafseer →قال الملا الذین استکبروا من قومہ للذین استضعفوا لمن امن منہم اتعلمون ان صلحا مرسل من ربہ قالوا انا بما ارسل بہ مؤمنون : صالح کی قوم میں جو متکبر سردار تھے انہوں نے غریب لوگوں میں سے ان لوگوں سے جو ایمان لے آئے تھے کہا کیا تم کو اس بات کا یقین ہے کہ صالح اپنے رب کے فرستادہ ہیں غریب مؤمنوں نے کہا بیشک ہم تو اس پر پورا یقین رکھتے ہیں جو ان کو دے کر بھیجا گیا ہے
Read the full tafseer →(75) ان رئیسوں نے جو کہ منکر تھے غریب لوگوں سے کہا، کیا تم صالح ؑ کی رسالت کے قائل ہو، انہوں نے کہا ہم تو بیشک ان کی تصدیق کرنے والے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–76
اَتَعْلَمُوْنَ اَنَّ صٰلِحًا مُّرْسَلٌ مِّنْ رَّبِّهٖ ۭ: ان کا یہ پوچھنا اپنے تکبر کے اظہار اور طنز کے لیے تھا۔
اِنَّا بِمَآ اُرْسِلَ بِهٖ مُؤْمِنُوْنَ : یعنی ہمیں نہ صرف ان کے رسول ہونے پر یقین ہے، بلکہ ان کے دیے ہوئے ایک ایک حکم کے صحیح ہونے پر بھی یقین ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–76
آیت نمبر : 75۔ 76
قولہ تعالیٰ : قال الملا الذین استکبروا من قومہ للذین استضعفوا لمن امن منھم اس میں دوسرا پہلے سے بدل ہے، کیونکہ وہ مستضعفین ( جنہیں وہ کمزور سمجھتے تھے) مومنین ہی تھے اور یہ بدل بعض من الکل ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–79
(1) امام ابو الشیخ نے مطلب بن زیاد (رح) سے روایت کیا کہ میں نے عبد اللہ بن ابی یعلی (رح) سے یہودی اور نصرانی کے بارے میں پوچھا کیا اسے بھائی کہا جاسکتا ہے ؟ فرمایا انہیں بھائی ایک دار میں رہنے کے سبب ہے لہٰذا اسے بھائی کہا جاسکتا ہے۔ کیا تو اللہ تعالیٰ کے اس قول کی طرف نہیں دیکھتا لفظ آیت ” والی ثمود اخاھم صلحا “
(2) امام سنید اور ابن جریر اور حاکم نے حجاج کے طریق سے ابوبکر بن عبد اللہ سے اور انہوں نے شہر بن خوشب سے اور انہوں نے عمرو بن خارجہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ثمود صالح کی قوم تھی اللہ تعالیٰ نے ان کو آباد کیا دنیا میں انہیں بہت لمبی عمریں عطا فرمائیں۔ یہاں تک کہ ایک…
Read the full tafseer →قَالَ [ کہا ] الْمَلَاُ [ سرداروں نے ] الَّذِيْنَ [ جنہوں نے ] اسْتَكْبَرُوْا [ گھمنڈ کیا ] مِنْ قَوْمِهٖ [ ان کی قوم میں سے ] لِلَّذِيْنَ [ ان لوگوں سے جن کو ] اسْتُضْعِفُوْا [ کمزور سمجھا گیا ] لِمَنْ [ ان سے جو ] اٰمَنَ [ ایمان لائے ] مِنْهُمْ [ ان میں سے ] اَ [ کیا ] تَعْلَمُوْنَ [ تم لوگ جانتے ہو ] اَنَّ [ کہ ] صٰلِحًا [ صالح ] مُّرْسَلٌ [ بھیجے ہوئے ہیں ] مِّنْ رَّبِّهٖ ۭ [ اپنے رب (کی طرف) سے ] قَالُوْٓا [ انہوں نے کہا ] اِنَّا [ بیشک ہم ] بِمَآ [ اس پر ] اُرْسِلَ [ وہ بھیجے گئے ] بِهٖ [ جس کے ساتھ ] مُؤْمِنُوْنَ [ ایمان لانے والے ہیں ]
( آیت ۔ 75) لمن بدل ہے للذین کا ۔ ان کا اسم ہونے…
Read the full tafseer →حضرت صالح (علیہ السلام) پر جو لوگ ایمان لے آئے تھے وہ زیادہ تر دنیاوی اعتبار سے کمزور تھے۔ (عام طور پر یوں ہی ہوتا رہا ہے کہ حضرت انبیاء کرام (علیہ السلام) کی دعوت پر اولاً وہی لبیک کہتے ہیں جو دنیاوی اعتبار سے نیچے کے طبقہ کے لوگ ہوتے ہیں) ان کی قوم میں جو بڑے لوگ تھے یعنی دنیاوی اعتبار سے بڑے سمجھے جاتے تھے۔ انہوں نے غریب مسلمانوں سے کہا کیا تمہیں یقین ہے کہ صالح اپنے رب کی طرف سے پیغمبر بنا کر بھیجے گئے ہیں انہوں نے جواب میں کہا۔
(اِنَّا بِمَآ اُرْسِلَ بِہٖ مُؤْمِنُوْنَ ) (کہ بلاشبہ ہم تو اس پر ایمان لائے جو وہ لے کر بھیجے گئے) متکبرین نے کہا کہ ہم تو اس کو نہیں مانتے اور جس پر تم ایمان لے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–79
قصۂ سوم حضرت صالح (علیہ السلام) باقوم ثمود
قال اللہ تعالیٰ والی ثمود اخاھم صالحا۔۔۔ الی۔۔۔ ولکن لا تحبون النصحین
(ربط) اب یہ تیسرا قصہ قوم ثمود اور حضرت صالح (علیہ السلام) کا بیان فرماتے ہیں، ثمود، قوم عاد کے بعد ہوئے ہیں یہ لوگ عرب کے رہنے والے تھے مدینہ اور شام کے درمیان ان کا وطن تھا۔ آنحضرت ﷺ جب 9 میں تبوک کی طرف تشریف لے گئے تو راستہ میں ان کے شہر اور مکانات پر سے گزر ہوا اور وہاں کچھ قیام کا بھی اتفاق ہوا لوگوں نے ان کے کنوئیں سے پانی بھرا اور اس سے آٹا گوندھا۔ جب آنحضرت ﷺ کو اس کی خبر ہوئی تو آپ ﷺ نے یہ حکم دیا کہ جس قدر پانی بھرا گیا ہے پھینک دیا جائے پھر آپ نے وہاں سے کوچ فرمایا اور…
Read the full tafseer →82:“ لِمَنْ اٰمَنَ ” یہ “ لِلَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْا ” سے باعادہ جار بدل ہے۔ قوم صالح (علیہ السلام) کے بڑے اور مغرور لوگوں نے ایمان والوں سے جو بظاہر قوت اور دولت کے اعتبار سے کمزور تھے بطور استہزاء و تمسخر کہا کیا تم صالح کو اللہ کا نبی مانتے ہو ؟ اس کے جواب میں انہوں نے پوری جرات سے کہا ” یقیناً ہم حضرت صالح (علیہ السلام) کو اللہ کا نبی مانتے ہیں۔ اور جو مسئلہ توحید لے کر وہ آیا ہے ہمارا اس پر بھی ایمان ہے۔ “ بِمَا اُرْسِلَ ” میں “ مَا ” سے مسئلہ توحید مراد ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–79
ربط آیات
گزشتہ آیات میں حضرت صالح (علیہ السلام) کا ابتدائی ذکر ہوا اللہ تعالیٰ نے قوم ثمود کی طرف ان کے خاندان کے فرد کو نبوت و رسالت دے کر مبعوث فرمایا اور انہوں نے لوگوں کو اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچایا تمام انبیاء کے دستور کے مطابق صالح (علیہ السلام) نے بھی سب سے پہلے قوم کو توحید کا درس دیا اور کفر و شرک سے منع کیا پھر لوگوں کی فرمائش پر اللہ تعالیٰ نے صالح (علیہ السلام) کو اونٹنی بطور نشانی اور معجزہ عطا کی آپ نے فرمایا اللہ کی اونٹنی ہے اس کو برے ارادے سے ہاتھ نہ لگانا یہ اللہ کی زمین میں چرتی رہے گی مگر تم کو پریشان نہیں کرے گی لہٰذا تم بھی اس سے تعرض نہ کرنا ورنہ خدا تعالیٰ کے غضب کا…
Read the full tafseer →قَالَ الَّذِيْنَ اسْتَكْبَرُوْٓا اِنَّا بِالَّذِيْٓ اٰمَنْتُمْ بِہٖ كٰفِرُوْنَ 76
كفر
الكُفْرُ في اللّغة : ستر الشیء، ووصف اللیل بِالْكَافِرِ لستره الأشخاص، والزّرّاع لستره البذر في الأرض،
وأعظم الكُفْرِ
: جحود الوحدانيّة أو الشریعة أو النّبوّة، والکُفْرَانُ في جحود النّعمة أكثر استعمالا، والکُفْرُ في الدّين أكثر، والکُفُورُ فيهما جمیعا قال : فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99]
( کر ) الکفر
اصل میں کفر کے معنی کیس چیز کو چھپانے کے ہیں ۔ اور رات کو کافر کہا جاتا ہے کیونکہ وہ تمام چیزوں کو چھپا لیتی ہے ۔ اسی طرح کا شتکار چونکہ زمین کے اندر بیچ کو چھپاتا ہے ۔ اس لئے اسے بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–79
ترکیب : من ربکم جاء تکم سے متعلق آیتہ حال ہے ناقہ سے والعامل فیہ معنی الاشارۃ تاکل مجزوم ہے کیونکہ جواب امر ہے جو قدروھا ہے فیاخذکم منصوب جواب نہی من سہولہا مفعول ثانی قصورا اول تنحتون جو بمعنی تتخذون لیا جاوے تو الجبال مفعول ثانی ورنہ من محذوف مان کر اس کو فعل سے متعلق کیا جاوے اور بیوتا کو مفعول قرار دیا جاوے۔ الملاء فاعل قال للذین اس سے متعلق لمن امن بدل ہے للذین استضعفوا سے باعادہ جاء کقولک مرت بزید باخیک اتعلمون الخ مقولہ بالذی کافرون سے متعلق ہے ان کنت شرط ائتنا بما تعدنا جملہ مقدم دال بر جزاء جاثمین خبر فاصبحوا رسالۃ مفعول ثانی ابلغت کا۔
تفسیر قوم ثمود کا تذکرہ : یہ تیسرا قصہ قوم ثمود…
Read the full tafseer →ارشاد فرمایا گیا :
قَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ اسْتَکْبَرُوْا مِنْ قَوْمِہٖ لِلَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْا لِمَنْ اٰمَنَ مِنْھُمْ اَتَعْلَمُوْنَ اَنَّ صٰلِحًا مُّرْسَلٌ مِّنْ رَّبِّہٖط قَالُوْٓا اِنَّا بِمَآ اُرْسِلَ بِہٖ مُؤْمِنُوْنَ ۔ (الاعراف : 75)
” اس کی قوم کے ان بڑوں نے جنھوں نے گھمنڈ کیا ‘ ان زیر دستوں سے کہا جو ان میں سے ایمان لائے ‘ کیا تم سمجھتے ہو کہ صالح اپنے رب کا فرستادہ ہے ؟ انھوں نے جواب دیا : کہ ہم تو اس پیام پر جو وہ دے کر بھیجے گئے ہیں ایمان رکھتے ہیں “۔
متکبرین اور مومن مستضعفین میں مکالمہ اور بعض حقائق
اس آیت کریمہ میں قوم کے ان بڑے لوگوں جنھیں ان کے تکبر اور گھمنڈ نے ہر طرح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–79
فہم القرآن
حضرت صالح (علیہ السلام) کے خطبات کے اقتباسات
1۔ اے میری قوم اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اس لیے صرف اسی کی عبادت کرو۔ (الاعراف : 73) 2۔ اے میری قوم تمہیں عاد کے بعد اس دنیا میں بھیجا گیا ہے تاکہ تم نصیحت حاصل کرو۔ (الاعراف : 74)
3۔ اے میری قوم اللہ کی نعمتوں سے فائدہ اٹھاکر اس کا شکر ادا کرو۔ (الاعراف : 74)
قوم صالح کی خصوصیات و عادات :
1۔ قوم صالح اللہ کے ساتھ شرک کیا کرتی تھیں۔ (ھود : 62۔ 61)
2۔ ثمود انبیاء کو جھوٹا قرار دیتے تھے۔ (الشعراء : 141)
3۔ وہ پہاڑوں کو تراش کر گھر بنایا کرتے تھے۔ (الاعراف : 74)
4۔ وہ نرم زمین پر بھی بڑے بڑے محلات تعمیر کیا کرتے تھے۔ (الاعراف : 74)
5۔…
Read the full tafseer →آیت 75: قَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ اسْتَکْبَرُوْا مِنْ قَوْمِہٖ (ان کی قوم میں جو متکبر سردار تھے انہوں نے کہا) قراءت : شامی نے وقال پڑھا ہے۔ لِلَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْا (غریب لوگوں سے) کفار سرداروں نے جن کو کمزور بنا رکھا تھا۔ لِمَنْ ٰامَنَ مِنْھُمْ ۔
نحو : یہ الذین استضعفوا سے بدل ہے اور اس میں جاء کا اعادہ کیا گیا ہے۔ اس میں دلیل ہے کہ بدل جہاں بھی آئے گا۔
وہاں عامل کا اعادہ مقدر ضرور ہوگا۔ منھم کی ضمیر کا مرجع قوم ہے۔ اس میں دلیل ہے کہ انہوں نے فقط ایمان والوں کو کمزور بنا رکھا تھا۔ یا ضمیر مستضعفین کی طرف لوٹتی ہے اور اس میں یہ اشارہ ملتا ہے کہ مستضعفین مومن و کافر دونوں طرح کے لوگ…
Read the full tafseer →(75) (قال الملا الذین استکبروا من قومہ للذین استضعفوا لمن امن منھم اتعلمون ان صلحاً مرسل من ربہ ط قالوا انا بمآ ارسل بہ مئومنون)
(قال الملا) ابن عامر نے واو کے ساتھ پڑھا ہے (الذی استکبروا من قومہ) اس سے بڑے لیڈر اور سردار مراد ہیں جو حضرت صالح (علیہ السلام) پر ایمان لانے کو اپنی ذلت سمجھتے تھے (للذین استضعفوا) حضرت صالح (علیہ السلام) کے متعبین کمزور لوگوں سے عار سمجھتے تھے (لمن امن منھم) وہی مئومن لوگ تھے یا کمزور اور غریبوں میں سے صرف مئومنوں سے کہنے تھے (اتعلمون ان صلحاً مرسل من ربہ قالوا انا بما ارسل بہ مئومنون)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–79
(73 ۔ 79) ۔ حضرت صالح ( علیہ السلام) بھی حضرت نوح ( علیہ السلام) خاندان میں سے ہیں قوم عاد کی ہلاکت کے بعد اسی سر زمین میں قوم صالح ( علیہ السلام) کے لوگ جن کو ثمود کہتے ہیں بسے بڑی بڑی عمر کے لوگ اس قوم میں ہوئے اینٹ مٹی کے مکان ان کی عمر بھر میں کافی نہ ہوئے تو انہوں نے پہاڑوں کو تراش کر گھر بنائے نوعمری سے حضرت صالح ان میں نبی ہوئے نصیحت کرتے کرتے بڈھے ہوگئے مگر ان میں سے چند ہی شخص ایمان لائے سال بھر میں ایک روز ان کی عید کا ہوتا تھا اس روز انہوں نے حضرت صالح ( علیہ السلام) سے کہا کہ تم ہمارے ایک معجزے کی اپنے اللہ سے دعا کرو اور ہم بتوں سے اسی معجزے کی خواہش کرتے ہیں اگر تمہارے خدا نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–79
آیت 72
(والی ثمود) ” اور ثمود کی طرف “ ثمود قدیم عربوں کا معروف قبیلہ تھا جو جزیرۃ العرب اور ارض حجاز میں حجر اور اس کے اردگرد کے علاقوں میں آباد تھا (اخاھم صلحاً ) اللہ تعالیٰ نے صالح کو نبی بنا کر ان کی طرف مبعوث کیا جو انہیں توحید اور ایمان کی دعوت دیتے تھے اور انہیں شرک اور اللہ تعالیٰ کے ہمسر گھڑنے سے روکتے تھے۔ (قال یقوم اعبدو اللہ مالکم من الہ غیرہ) ” انہوں نے کہا : اے میری قوم ! اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ “ صالح کی دعوت بھی وہی تھی جو ان کے بھائ دیگر انبیا ومرسلین کی دعوت تھی یعنی اللہ تعالیٰ کی عبادت کا حکم دینا اور یہ واضح کردینا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا بندوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–141
دعا کا طریقہ
قول باری ہے وادعواربکم تضرعاً عاوخفیۃ۔ اپنے رب کو پکارو گڑگڑاتے ہوئے اور چپکے چپکے) آیت میں چپکے چپکے رب کو پکارنے کا حکم ہے حسن کا قول ہے کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے تمہیں اس بات کی تعلیم دی ہے کہ تم اپنے رب کو کس طرح پکارو۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک عہد صالح کا ذکر فرمایا جس کی پکار کو اس نے پسند فرمایا تھا چناچہ ارشاد ہے اذنادی ربہ نداء خفیا۔ جبکہ اس نے اپنے رب کو چپکے چپکے پکارا) یعنی حضرت زکریاعلیہ السلام عبداللہ بن المبارک نے حسن بصری سے روایت کی ہے کہ لوگ یعنی صحابہ کرام بڑی عاجزی اور نیاز مندی کے ساتھ دعائیں مانگا کرتے تھے اور صرف سرگوشی کی آواز سنائی دیتی تھی۔ حضرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–76
103 منکرین کا اہل حق سے تمسخر و استہزائ : سو یہ ان منکرین و مکذبین کا حضرت صالح کے ایماندار ساتھیوں سے تمسخر و استہزا یعنی ان لوگوں کا اہل ایمان سے یہ سوال تمسخر و استہزاء کے طور پر تھا، نہ کہ جاننے اور معلوم کرنے کے لئے۔ کیونکہ ان کو اس کا بخوبی علم تھا کہ یہ لوگ سچا پکا ایمان رکھتے ہیں۔ اسی لئے اہل ایمان نے ان کے جواب میں " نعم " یا اس طرح کا کوئی اور لفظ نہیں بولا، حالانکہ یہ مختصر تھا۔ بلکہ ان کو جملہ اسمیہ کی صورت میں اور حرف تاکید کے ساتھ موکد جواب دیا کہ ہم تو قطعی طور پر ان پر ایمان رکھتے ہیں کہ وہ اللہ کے بھیجے ہوئے اور اس کے سچے رسول ہیں۔ پس پوچھنے کی بات یہ نہیں کہ وہ رسول ہیں یا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–79
قوم ثمود کی بربادی
تشریح ؛۔ ان آیات میں قوم ثمود کا تعارف، ان کے طور طریقے اور پھر عذاب کا بیان ہے اور پھر ان کے رسول سیدنا صالح (علیہ السلام) کی تعلیمات اور ناقۃ اللہ کا ذکر ہے۔ قوم ثمود : یہ قوم عاد کے بعد بڑی مشہور قوم وجود میں آئی یہ الحجر میں رہتے تھے۔ الحجر حجاز اور یمن کے درمیان میں واقع ہے۔ یہ قوم بھی عاد کی طرح بےحد مضبوط، صحت مند، خوشحال اور ہنر مند قوم تھی یہ پہاروں کو کاٹ کر بڑے بڑے محلات بناتے تھے۔ اور مذہب کے لحاظ سے یہ بھی اللہ کو تو ضرورمانتے تھے۔ مگر پچھلی قوم کی طرح ان کا بھی خیال تھا کہ اللہ سارے کام نہیں کرسکتا۔ لہٰذا انہوں نے بھی کئی قسم کے بت بنا رکھے تھے جن کی پوجا کرتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–84
رکوع نمبر 10 ۔ آیات نمبر 73 تا 84 ۔
اسرار و معارف :
حقیقت دعا :
بات اسی تسلسل میں جا رہی ہے کہ اللہ تعالیٰ بہت بڑی قدرت کا مالک اور اپنی مخلوق پر بہت زیادہ مہربان بھی ہے اس کی رحمت محتاجوں کو تلاش کرتی ہے اگر کوئی انسان محروم ہے تو اس کی وجہ نزول رحمت میں کمی نہیں خود اس کے دل میں قبولیت کی استعداد میں کمی ہے جیسے حدیث شریف ارشاد ہے کہ لوگ دور دراز سفر کرکے پریشان بالوں پھٹے ہوئے دامنوں اور گرد سے اٹے پاؤں اور چہرہ لے کر پکارتے ہیں یار یارب مگر ان کی دعا سنی نہیں جاتی اس لیے کہ کھانا حرام پہننا حرام ہوتا ہے بعض بےنصیب تو دعا ہی سے محروم ہوتے ہیں اور بعض صورت دعا تو بنا لیتے ہیں مگر حقیقت سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–75
ف 1 یعنی طنزا پوچھنے لگے۔2 یعنی نہ صرف ان کے رسول ہونے پر یقین ہے بلکہ ان کے دیئے ہوئے ایک ایک حکم کی صحت پر بھی یقین ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–76
(7:75) استضعفوا۔ وہ ضعیف سمجھے گئے۔ وہ کمزور خیال کئے گئے۔ استضعاف (استفعال) سے ماضی مجہول ۔ جمع مذکر غائب۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–79
لغات القرآن آیت نمبر (73 تا 79) ۔
نقتہ اللہ (اللہ کی اونٹنی) ۔ ذروھا۔ (اس کو چھوڑے رکھنا) ۔ تاکل (کھائے گی) ۔ لاتمسو (تم نہ چھونا) ۔ بسوء (برائی سے۔ بری نیت سے) ۔ بوا (اس نے ٹھکانا دیا) ۔ سھول (نرم جگہیں) ۔ قصور (قصر) ۔ محلات) ۔ تنحتون (تم تراشتے ہو) ۔ الجبال (الجبل) ۔ پہاڑ) ۔ بیوت (گھر) ۔ لا تعثوا (تم نہ پھرو) ۔ استکبروا (جنہوں نے بڑائی کی۔ تکبر کیا) ۔ استضعفوا (جو کمزور بنادیئے گئے تھے) ۔ عقروا (انہوں نے کاٹ ڈالا) ۔ عتوا (نافرمانی کی) ۔ اخذت (پکڑ لیا۔ آلیا) ۔ الرجفتہ (زلزلہ۔ بھونچال) ۔ جٰثمین (اوندھے پڑے ہوئے) ۔ نصحت (میں نے نصیحت کردی تھی) ۔ لا تحبون (تم پسند نہیں کرتے) ۔ الناصحین (نصیحت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–80
قوم لوط (علیہ السلام) کی ہلاکت
حضرت لوط (علیہ السلام) نے جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بھتیجے تھے، شہر بابل سے آپ کے ساتھ ہجرت کر کے ملک شام میں سکونت اختیار کی تھی۔ پھر سدوم میں رہنے کا اور اس شہر اور اس کے گردونواح کے شہر والوں کی ہدایت کا حکم ہوا۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کی امت جن بستیوں میں رہتی تھی وہ بڑی شاداب اور سرسبز تھیں۔ غیر بستیوں کے لوگ شادابی کے سبب سے قوم لوط کی بستیوں میں اکثر آجایا کرتے تھے۔ جس کی وجہ سے قوم لوط کو طرح طرح کی تکلیف ہوتی تھی۔ شیطان نے قوم لوط کو بہکایا کہ غیر بستیوں کے جو لوگ آویں ان کے ساتھ جتنے نوعمر لڑکے ہوں ان لڑکوں سے بدفعلی کی فاوے تو غیر لوگ تمہاری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–80
[35] لوط (علیہ السلام) ابراہیم (علیہ السلام) کے حقیقی بھتیجے تھے۔
[36] قوم یہاں اردو کے لفظ امت کے معنی میں ہے۔ لوط (علیہ السلام) کی بعثت اپنی برادری یا وطن والوں کی جانب نہ تھی اس لئے '' بھائی '' کا رشتہ جو ہود (علیہ السلام) اور صالح (علیہ السلام) کے لئے بیان کیا گیا ہے یہاں حذف کردیا گیا۔ آپ جس قوم کی ہدایت کے لئے بھیجے گئے تھے وہ اس علاقے میں رہتی تھی جو عراق اور فلسطین کے درمیان واقع ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–81
حضرت صالح (علیہ السلام) :
(ف 2) عاد اولی کے بعد عاد ثانیہ کا زمانہ ہے یعنی ثمود کی قوم ، انکی جانب حضرت صالح (علیہ السلام) مبعوث ہوئے ۔
انہوں نے بھی حسب سابق اللہ کی عظمت و جلال کا وعظ کہا ، عمر بھر اللہ کی جانب بلاتے رہے ، مگر چند لوگوں کے سوا سب نے انکار کیا ،
(ف 1) حضرت صالح (علیہ السلام) نے فرمایا تم اگر انکار کرو گے ، تو مٹ جاؤ گے ، اللہ کی غیرت جوش میں آجائے گی ، اور سنت اللہ کے موافق تمہیں ہلاک کردیا جائے گا ، مگر وہ نہ مانے ، انہیں اپنے مضبوط قلعوں اور مکانوں پر ناز تھا ، ان کے مکان پتھر کے تھے ، اور بڑی بڑی عمارتیں تھیں ، ان کا خیال یہ تھا کہ کوئی عذاب ہمیں نہیں مٹا سکے گا ،
حضرت…
Read the full tafseer →75 حضرت صالح (علیہ السلام) کی قوم کے متکبر اور سرکش رئوسا نے ان کمزور اور غریب لوگوں سے جوان میں سے حضرت صالح (علیہ السلام) کی تعلیم پر ایمان لے آئے تھے دریافت کیا کہ تم جانتے ہو اور کیا تم کو یقین ہے کہ یہ صالح (علیہ السلام) اپنے رب کی طرف سے بھیجا گیا ہے اور یہ واقعی خدا کا فرستادہ ہے ان غریب اور کمزور لوگوں نے جواب دیا بیشک ہم ان باتوں پر اور اس حکم پر جو وہ دیکر بھیجا گیا ہے پورا یقین رکھتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–77
ف 4۔ انہوں نے ایک خاص معجزے کی درخواست کی کہ اس پتھر میں سے ایک اونٹنی پیدا ہو تو ہم ایمان لائیں گے چناچہ آپ کی دعا سے ایسا ہی ہوا کہ وہ پتھر پھٹا اور اس کے اندر سے ایک بڑی اونٹنی نکلی۔
Read the full tafseer →صالح (علیہ السلام) کی قوم کے سرداروں اور لیڈروں نے کیا جواب دیا ؟
86: قوم کے وڈیروں نے صالح (علیہ السلام) کو مخاطب کرنے کی ضرورت ہی نہ سمجھی اور ان کمزور لوگوں کو مخاطب کیا جو صالح (علیہ السلام) پر ایمان لائے تھے جیسا کہ سارے انبیاء کرام (علیہ السلام) کی دعوتوں کو قبول کرنے والے غریب لوگ ہی تھے اس لئے کہ وہ استکبار کے حجاب سے پاک تھے اور استکبار ہی وہ چیز ہے جو قبول حق میں سب سے زیادہ بڑا مانع ہے جیسا کہ ابلیس کی سرگزشت میں آپ اس کی وضاحت پڑھ چکے ہیں۔
” مستضعف “ کے معنی ہیں زبردست ، دبائے ہوئے ، بےاثر اور مظلوم لوگ اور ہر نبی (علیہ السلام) کے زمانے میں یہی لوگ اہل ایمان کہلائے کیونکہ ان ہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–76
The Confrontation Between the Arrogant and the Weakened
The third (75) and the fourth (76) verses carry a dialogue between two groups of the people of Thamud. One of these was of those who had come to believe that Sayyidna Salih (علیہ السلام) was a prophet while the other was that of deniers and disbelievers. Says the verse: قَالَ الْمَلَأُ الَّذِينَ اسْتَكْبَرُوا مِن قَوْمِهِ لِلَّذِينَ اسْتُضْعِفُوا لِمَنْ آمَنَ مِنْهُمْ (The chiefs of his people, who were arrogant said to the weakened, to those of them who believed).
In Tafsir Kabir, Imam Razi has said: At this place, the Holy Qur'an…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–77
61. Although the she-camel was killed by an individual, as we learn also from surahs al-Qamar (54) and al-Sharns (91), the whole nation was held guilty since it stood at the killer's back. Every sin which is committed with the approval and support of a nation, is a national crime even if it has been committed by one person. In fact the Qur'an goes a step further and declares that a sin which is committed publicly in the midst of a gathering is considered to be the collective sin of the people who tolerate it.
Read the full tafseer →