Explained with ayahs 73–78
ثمود کی قوم اور اس کا عبرت ناک انجام
علمائے نسب نے بیان کیا ہے کہ ثمود بن عامر بن ارم بن سام بن نوح۔ یہ بھائی تھا جد بس بن عامر کا۔ اسی طرح قبیلہ طسم یہ سب خالص عرب تھے۔ حضرت ابراہیم خلیل اللہ ؑ سے پہلے ثمودی عادیوں کے بعد ہوئے ہیں ان کے شہر حجاز اور شام کے درمیان وادی القری اور اس کے اردگرد مشہور ہیں۔ سنہ009ھ میں تبوک جاتے ہوئے رسول اللہ ﷺ ان کی اجاڑ بستیوں میں سے گذرے تھے۔ مسند احمد میں ہے کہ جب حضور ﷺ تبوک کے میدان میں اترے لوگوں نے ثمودیوں کے گھروں کے پاس ڈیرے ڈالے اور انہی کے کنوؤں کے پانی سے آٹے گوندھے ہانڈیاں چڑھائیں تو آپ نے حکم دیا کہ سب ہانڈیاں الٹ دی جائیں اور گندھے ہوئے آٹے اونٹوں…
Read the full tafseer →سورة الْاَعْرَاف 59
ثمود کی یہ صنعت ویسی ہی تھی جیسی ہندوستان میں ایلورا، ایجنٹہ اور بعض دوسرے مقامات پر پائی جاتی ہے، یعنی وہ پہاڑوں کو تراش کر ان کے اندر بڑی بڑی عالی شان عمارتیں بناتے تھے، جیسا کہ اوپر بیان ہوا۔ مدائن صالح میں اب تک ان کی کچھ عمارتیں جوں کی توں موجود ہیں اور ان کو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ اس قوم نے انجینیری میں کتنی حیرت انگیز ترقی کی تھی۔
سورة الْاَعْرَاف 60
یعنی عاد کے انجام سے سبق لو۔ جس خدا کی قدرت نے اس مفسد قوم کو برباد کر کے تمہیں اس کی جگہ سر بلند کیا، وہی خدا تمہیں برباد کر کے دوسروں کو تمہارا جانشین بنا سکتا ہے اگر تم بھی عاد کی طرح مفسد بن جاؤ۔ (تشریح کے لیے…
Read the full tafseer →دوسری آیت میں اس وعدہ فراموش قوم کی خیر خواہی اور ان کو عذاب الٰہی سے بچانے کے لئے پھر ان کو اللہ تعالیٰ کے انعامات و احسانات یاد دلائے کہ اب بھی یہ لوگ اپنی سرکشی سے باز آجائیں فرمایا (آیت) وَاذْكُرُوْٓا اِذْ جَعَلَكُمْ خُلَفَاۗءَ مِنْۢ بَعْدِ عَادٍ وَّبَوَّاَكُمْ فِي الْاَرْضِ تَتَّخِذُوْنَ مِنْ سُهُوْلِهَا قُصُوْرًا وَّتَنْحِتُوْنَ الْجِبَالَ بُيُوْتًا ۚ اس میں خلفاء خلیفہ کی جمع ہے جس کے معنی ہیں قائمقام اور نائب اور قصود قصر کی جمع اونچی علیشان عمارت اور محل کو کہا جاتا ہے تنحتون، نحت سے مشتق ہے جس کے معنی ہیں سنگ تراشی۔ جبال جبل کی جمع ہے بمعنی پہاڑ بیوتا بیت کی جمع ہے جو گھر کے کمرے کے…
Read the full tafseer →وَاذْكُرُوْٓا اِذْ جَعَلَكُمْ خُلَفَاۗءَ مِنْۢ بَعْدِ عَادٍ وَّبَوَّاَكُمْ فِي الْاَرْضِ۔ اوپر ہم ذکر کر آئے ہیں کہ یہ لوگ عاد کے بقایا میں سے تھے اور ان کا عالقہ عرب کے شمال مغرب میں حجر کا علاقہ تھا۔ ان لوگوں کو وہاں بڑا عروج و اقتدار حاصل ہوا۔ ان کی بہت سی تعمیری یادگاریں آج بھی موجود ہیں۔ قریش کے قافلے اپنے شام کے سفر میں ان کی بستیوں پر سے گزرتے تھے اس وجہ سے ان کی سرگزشت ان کے لیے شنیدہ بھی تھی اور دیدہ بھی۔ حضرت صالح نے ان کو جو عاد کی خلافت یاد دلائی اس کا مقصد جیسا کہ ہم نے اوپر اشارہ کیا، ان کو متنبہ کرنا تھا کہ اپنے اقتدار کے نشہ میں خدا کے اقتدار کو نہ بھولو، اس نے جو معاملہ عاد…
Read the full tafseer →74۔ 1 اس کا مطلب ہے کہ نرم زمین سے مٹی لے لے کر اینٹیں تیار کرتے ہو اور اینٹوں سے محل، جیسے آج بھی بھٹوں پر اسی طرح مٹی سے اینٹیں تیار کی جاتی ہیں۔
74۔ 2 یہ ان کی قوت، صلاحیت اور مہارت فن کا اظہار ہے۔
74۔ 3 یعنی ان نعمتوں پر اللہ کا شکر کرو اور اس کی اطاعت کا راستہ اختیار کرو، نہ کہ کفران نعمت اور معصیت کا ارتکاب کرکے فساد پھیلاؤ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–79
39: ثمود بھی قوم عاد ہی کی نسل سے پیدا ہوئی تھی اور ظاہر یہ ہے کہ حضرت ہود ؑ اور ان کے مومن ساتھی جو عذاب سے بچ گئے تھے یہ ان کی اولاد تھی اور ثمود ان کے دادا کا نام تھا، اسی لئے ان کو عاد ثانیہ بھی کہا جاتا ہے، یہ قوم عرب اور شام کے درمیان اس علاقے میں آباد تھی جس کو اس وقت حجر کہا جاتا تھا اور آج کل اسے مدائن صالح کہتے ہیں، اور آج بھی ان کے گھروں اور محلات کے کھنڈر موجود ہیں اور پہاڑوں سے تراشی ہوئی عمارتوں کے آثار جن کا ذکر آیت 74 میں ہے آج بھی وہاں دیکھے جاسکتے ہیں، عرب مشرکین جب تجارتی سفر پر شام جاتے تو یہ کھنڈر ایک نشان عبرت کے طور پر ان کے راستے میں پڑتے تھے اور قرآن کریم نے کئی…
Read the full tafseer →آیت ” وَاذْکُرُواْ إِذْ جَعَلَکُمْ خُلَفَاء مِن بَعْدِ عَادٍ وَبَوَّأَکُمْ فِیْ الأَرْضِ تَتَّخِذُونَ مِن سُہُولِہَا قُصُوراً وَتَنْحِتُونَ الْجِبَالَ بُیُوتاً فَاذْکُرُواْ آلاء اللّہِ وَلاَ تَعْثَوْا فِیْ الأَرْضِ مُفْسِدِیْنَ (74)
” یاد کرو وہ وقت جب اللہ نے قوم عاد کے بعد تمہیں اس کا جانشین بنایا اور تم کو زمین یہ منزلت بخشی کہ آج تم ان کے ہموار میدانوں میں عالیشان محل بناتے اور اس کے پہاڑوں کو مکانات کی شکل میں تراشتے ہو ۔ پس اس کی قدرت کے کرشموں سے غافل نہ ہوجاؤ اور زمین میں فساد برپا نہ کرو۔ “
یہاں یہ نہیں بتایا گیا کہ قوم ثمود کا مسکن کہاں تھا ؟ لیکن دوسری سورة میں ہے کہ یہ الحجر…
Read the full tafseer →7 یعنی احسان فراموشی اور شرک و کفر کر کے زمین میں خرابی مت پھیلاؤ۔
Read the full tafseer →آیت 74 وَاذْکُرُوْٓا اِذْ جَعَلَکُمْ خُلَفَآءَ مِنْم بَعْدِ عَادٍ وَّبَوَّاَکُمْ فِی الْاَرْضِ تَتَّخِذُوْنَ مِنْ سُہُوْلِہَا قُصُوْرًا وَّتَنْحِتُوْنَ الْجِبَالَ بُیُوْتًا ج۔
میدانی علاقوں میں وہ عالی شان محلات تعمیر کرتے تھے اور پہاڑوں کو تراش کر بڑے خوبصورت گھر بناتے تھے۔ اب ان محلات کا تو کوئی نام و نشان اس علاقے میں موجود نہیں ‘ البتہ پہاڑوں سے تراش کر بنائے ہوئے گھروں کے کھنڈرات اس علاقے میں آج بھی موجود ہیں۔ قوم ثمود حضرت ابراہیم علیہ السلام سے پہلے گزری ہے اور قوم عاد اس سے بھی پہلے تھی۔ اس طرح قوم ثمود کا زمانہ آج سے تقریباً چھ ہزار سال پہلے کا ہے جبکہ قوم عاد کو گزرے تقریباً سات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–75
78 قوم ثمود کے گھروں کی ساخت :۔ ان لوگوں کے قد و قامت بھی بہت بڑے اور عمریں بھی بہت لمبی ہوتی تھیں اور اگر وہ عام لکڑی کی چھت والے مکان بناتے تو بنانے والے کی زندگی ہی میں کئی بار بوسیدہ ہو کر گرپڑتے تھے۔ عام روایت کے مطابق اس دور میں ان کی عمریں تین سو سے چھ سو سال کے درمیان ہوتیں اور لکڑی کے مکان زیادہ سے زیادہ ایک سو سال چلتے پھر بوسیدہ اور کمزور ہو کر گرپڑتے تھے اس لیے وہ اپنے مکان پہاڑوں میں بناتے۔ اعلیٰ درجے کے سنگ تراش اور انجینئر تھے۔ پہاڑوں کو اندر سے تراش تراش کر مکان بنا لیتے جن میں کھڑکیاں دروازے سب کچھ موجود ہوتا تھا اور ان کی پائیداری کی وجہ سے ایک طویل عرصہ وہاں گزار سکتے تھے…
Read the full tafseer →100 ۔ (آیت) ” جعلکم خلفآء من بعد عاد “۔ یعنی قوم عاد جیسی متمدن، سرسبز، ترقی یافتہ قوم کے بعد تہذیب و تمدن کا مالک تمہیں بنایا۔ یہ مطلب نہیں کہ انہیں کا ملک تمہیں دیا۔۔۔۔ عاد وثمود دونوں کے مرکز بالکل جداگانہ تھے۔ عاد کا مستقر جنوب مشرقی عرب تھا۔ اور ثمود کا جو لانگاہ ترقی مغربی عرب۔ (آیت) ” تتخذون من سھولھا قصورا وتنحتون الجبال بیوتا “۔ عاد یوں کی طرح ثمودی بھی بڑے صناع سنگتراش اور اپنی تعمیرات کے لیے مشہور ہوئے ہیں۔ اور جب ان صنعتوں اور صناعیوں میں اتنے بڑھے ہوئے تھے تو لازمی ہے کہ جن علوم وفنون پر یہ صنعتیں مبنی ہیں، یعنی ریاضی ہندسہ، انجیزی ان میں بھی نہایت ممتاز وبلند پایہ ہوں۔ (آیت) ”…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–79
آیت نمبر 73 تا 84
ترجمہ : اور ہم نے ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح کو بھیجا، اگر قبیلہ کا نام ہو تو غیر منصرف ہے، انہوں نے فرمایا اے میری قوم تم اللہ کی بندگی کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں، میری صداقت پر تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے واضح دلیل، معجزہ، آچکی ہے، یہ اونٹنی ہے اللہ کی (آیۃً ) حال ہے اس کا عامل اسم اشارہ کا معنی (اشیرُ ) ہے انہوں نے حضرت صالح (علیہ السلام) سے ایک خاص پتھر (چٹان) سے جس کو انہوں نے متعین کیا تھا (اونٹنی) نکالنے کا مطالبہ کیا تھا، سو اس کو چھوڑ دو اللہ کی زمین میں کھاتی پھرے بری نیت قتل و ضرب کے ارادہ سے اس کو ہاتھ بھی نہ لگانا، ایسا نہ ہو کہ کہیں تمہیں…
Read the full tafseer →واذکروا اذ جعلکم خلفآء من بعد عاد وبوأکم فی الارض تتخذون من سہولہا قصورا وتنحتون الجبال بیوتا فاذکروا الآء اللہ ولا تعثوا فی الارض مفسدین۔
اور تم یہ حالت یاد رکھو کہ اللہ نے تم کو عاد کے بعد آباد کیا اور تم کو زمین پر رہنے کو ٹھکانا دیا کہ نرم زمین پر محل بناتے ہو اور پہاڑوں کو تراش تراش کر ان میں گھر بناتے ہو سو اللہ کے ان احسانوں کو یاد کرو اور زمین میں تباہی پھیلاتے مت پھرو۔
بَوَّاَ کُمْتم کو جگہ دی تم کو بسایا۔ فی الارض یعنی حجر کی سرزمین میں۔ تتخذون تم بناتے ہو تعمیر کرتے ہو۔ من سہولہنا یعنی میدانی زمین میں (من بمعنی فی ہے) یا نرم زمین سے یعنی نرم زمین کی اینٹیں کچی یا پکی بنا کر ینحتون…
Read the full tafseer →(74) اور وہ وقت بھی یاد کرو جب قوم عاد کے ہلاک کرنے کے بعد ہم نے تمہیں زمین میں آباد کیا اور یہ لوگ گرمیوں کے لیے نرم زمین میں اور سردیوں کے لیے پہاڑوں پر مکانات بناتے تھے اللہ تعالیٰ کی ان نعمتوں کو یاد کرکے اس پر ایمان لاؤ اور زمین میں غیر اللہ کی پرستش اور دیگر گناہ کے کاموں کو مت کرو۔
Read the full tafseer →تَتَّخِذُوْنَ مِنْ سُهُوْلِهَا قُصُوْرًا۔۔ : یعنی ہموار علاقہ ہو تو اینٹوں سے عالی شان محل بنا لیتے ہو اور پہاڑ ہوں تو انھیں کھود اور تراش کر سردی، گرمی اور طوفان سے محفوظ مکان بنا لیتے ہو۔
اٰلَاۗءَ ‘ یہ ”اِلًی“ کی جمع ہے جو اصل میں ”اِلَیٌ“ تھا، جیسے اَمْعَاءٌ (انتڑیاں) ”مِعًی“ کی جمع ہے۔ ”ِ وَلَا تَعْثَوْا“ یہ ”عَثِیَ یَعْثَی“ (س) سے نہی کا صیغہ ہے، اس کا معنی سخت فساد کرنا ہوتا ہے، ”مُفْسِدِيْنَ“ تاکید کے لیے حال ہے، اس لیے ترجمہ میں ”وَلَا تَعْثَوْا“ کا معنی ”دنگا نہ مچاؤ“ اور ”مُفْسِدِيْنَ“ کا معنی ”فساد کرتے ہوئے“ کیا ہے۔
Read the full tafseer →آیت نمبر : 74
اس میں تین مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر : 1
قولہ تعالیٰ : آیت : وبواکم فی الارض اس میں کلام محذوف ہے، اصل عبارت ہے وبواکم فی الارض منازل ( اور اس نے تمہیں زمین میں گھروں کا ٹھکانا دیا) آیت : تتخذون من سھولھا قصورا یعنی تم ہر جگہ عالیشا محل بناتے ہو۔ آیت : وتنحتون الجبال بیوتا انہوں نے پہاڑوں میں اپنی طویل اور لمبی عمروں کے لیے مکانات بنائے، کیونکہ چھت اور بنیادیں ان کی عمریں ختم ہونے سے پہلے بوسیدہ ہوچکی تھیں۔ حسن نے حاکو فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے اور یہ بھی ایک لغت ہے اور اس میں حروف حلقیہ میں سے ایک ہے، پس اسی لیے یہ باب فعل یفعل کے وزن پر آیا ہے۔
مسئلہ نمبر : 2
جنہوں نے عالی شان اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–79
(1) امام ابو الشیخ نے مطلب بن زیاد (رح) سے روایت کیا کہ میں نے عبد اللہ بن ابی یعلی (رح) سے یہودی اور نصرانی کے بارے میں پوچھا کیا اسے بھائی کہا جاسکتا ہے ؟ فرمایا انہیں بھائی ایک دار میں رہنے کے سبب ہے لہٰذا اسے بھائی کہا جاسکتا ہے۔ کیا تو اللہ تعالیٰ کے اس قول کی طرف نہیں دیکھتا لفظ آیت ” والی ثمود اخاھم صلحا “
(2) امام سنید اور ابن جریر اور حاکم نے حجاج کے طریق سے ابوبکر بن عبد اللہ سے اور انہوں نے شہر بن خوشب سے اور انہوں نے عمرو بن خارجہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ثمود صالح کی قوم تھی اللہ تعالیٰ نے ان کو آباد کیا دنیا میں انہیں بہت لمبی عمریں عطا فرمائیں۔ یہاں تک کہ ایک…
Read the full tafseer →وَاذْكُرُوْٓا [ اور یاد کرو ] اِذْ [ جب ] جَعَلَكُمْ [ اس نے بنایا تم کو ] خُلَفَاۗءَ [ خلیفہ ] مِنْۢ بَعْدِ عَادٍ [ (قوم) عاد کے بعد سے ] وَّبَوَّاَكُمْ [ اور اس نے ٹھکانہ دیا تم کو ] فِي الْاَرْضِ [ زمین میں ] تَتَّخِذُوْنَ [ تم لوگ بناتے ہو ] مِنْ سُهُوْلِهَا [ اسکی نرم ہموار جگہ سے ] [ قُصُوْرًا : محلات ] [ وَّتَنْحِتُوْنَ [ اور تم لوگ تراشتے ہو ] الْجِبَالَ [ پہاڑوں کو ] بُيُوْتًا ۚ [ بطور گھر کے ] فَاذْكُرُوْٓا [ پس یاد کرو ] اٰلَاۗءَ اللّٰهِ [ اللہ کی مہربانیوں کو ] وَلَا تَعْثَوْا [ اور دندناتے مت پھرو [ فِي الْاَرْضِ [ زمین میں ] مُفْسِدِيْنَ [ ظلم بگاڑنے والے ہوتے ہوئے ]
س ھ ل :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–74
حضرت صالح (علیہ السلام) کا اپنی قوم کو تبلیغ کرنا اور سر کشی اختیار کر کے قوم کا ہلاک ہونا
حضرت صالح (علیہ السلام) جس قوم کی طرف مبعوث ہوئے وہ قوم ثمود تھی۔ عاد اور ثمود دونوں ایک ہی دادا کی اولاد ہیں۔ یہ دونوں دو شخصوں کے نام تھے۔ بنو عاد قوم عاد کے نام سے اور بنو ثمود قوم ثمود کے نام سے معروف و موسوم ہوئے۔ قوم ثمود عرب کے شمال مغرب میں رہتے تھے ان کے مرکزی شہر کا نام حجر تھا۔ جس کو سورة حجر کے چھٹے رکوع میں بیان فرمایا ہے۔ قوم عاد کی بربادی کے بعد یہ لوگ زمین میں بسے اور پھلے پھولے۔ یہ لوگ بھی قوت اور طاقت والے تھے۔ زمین پر بڑے بڑے مکانات بناتے تھے اور پہاڑوں کو تراش کر اپنے لیے گھر بنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–79
قصۂ سوم حضرت صالح (علیہ السلام) باقوم ثمود
قال اللہ تعالیٰ والی ثمود اخاھم صالحا۔۔۔ الی۔۔۔ ولکن لا تحبون النصحین
(ربط) اب یہ تیسرا قصہ قوم ثمود اور حضرت صالح (علیہ السلام) کا بیان فرماتے ہیں، ثمود، قوم عاد کے بعد ہوئے ہیں یہ لوگ عرب کے رہنے والے تھے مدینہ اور شام کے درمیان ان کا وطن تھا۔ آنحضرت ﷺ جب 9 میں تبوک کی طرف تشریف لے گئے تو راستہ میں ان کے شہر اور مکانات پر سے گزر ہوا اور وہاں کچھ قیام کا بھی اتفاق ہوا لوگوں نے ان کے کنوئیں سے پانی بھرا اور اس سے آٹا گوندھا۔ جب آنحضرت ﷺ کو اس کی خبر ہوئی تو آپ ﷺ نے یہ حکم دیا کہ جس قدر پانی بھرا گیا ہے پھینک دیا جائے پھر آپ نے وہاں سے کوچ فرمایا اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–74
81: یہ تیسرا قصہ ہے اور یہ بھی تیسرے دعوی سے متعلق ہے جیسا کہ حضرت صالح (علیہ السلام) کے اس اعلان سے ظاہر ہے۔ “ یٰقَوْمِ اعْبُدُوْا اللّٰهَ مَ الَکُمْ مَا لَکُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُہٗ ” اے یری قوم صرف اللہ ہی کی عبادت کرو۔ اور صرف اسی کو پکارو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود اور کارساز نہیں اس کے بعد معجزہ ناقہ کا ذکر فرمایا کہ یہ انوٹنی اللہ کی طرف سے ایک معجزہ ہے اس کو تکلیف مت پہنچانا ورنہ اللہ کا عذاب آجائے گا۔ پھر ان کو اللہ کے انعامات یاد دلائے۔ “ سُھُوْلِھَا ” سھول، سھل کی جمع ہے یعنی ہموار زمین۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–74
قوم ثمود
گزشتہ رکوع سے انبیاء کی تاریخ کا کچھ حصہ بیان ہورہا ہے جس میں ان کے طریقہ تبلیغ قوم کے جواب اور پھر ان پر وارد ہونے والے عذاب کا ذکر ہے اس سے مراد امت آخر الزمان کے لیے عبرت اور اس کے لیے حوصلہ افزائی ہے تاکہ وہ سابقہ قوموں کے حالات سے سبق سیکھیں اور ان قوموں کے نقش قدم پر نہ چلیں جو اللہ تعالیٰ کے غضب کا شکار ہوئیں چناچہ سب سے پہلے حضرت نوح (علیہ السلام) اور ان کی قوم کا ذکر ہوا پھر حضرت ہود (علیہ السلام) کی تبلیغ دین کا تذکرہ ہوا اور امت کی نافرمانی کی وجہ سے ان کی سزا کا بیان ہوا اب تیسرے نمبر پر حضرت صالح (علیہ السلام) اور ان کی امت قوم ثمود کا ذکر ہوہا ہے اس کے بعد حضرت موسیٰ…
Read the full tafseer →قَالَ الْمَلَاُ الَّذِيْنَ اسْـتَكْبَرُوْا مِنْ قَوْمِہٖ لِلَّذِيْنَ اسْتُضْعِفُوْا لِمَنْ اٰمَنَ مِنْہُمْ اَتَعْلَمُوْنَ اَنَّ صٰلِحًا مُّرْسَلٌ مِّنْ رَّبِّہٖ 0 ۭ قَالُوْٓا اِنَّا بِمَآ اُرْسِلَ بِہٖ مُؤْمِنُوْنَ 75
ملأ
المَلَأُ : جماعة يجتمعون علی رأي، فيملئون العیون رواء ومنظرا، والنّفوس بهاء وجلالا . قال تعالی: أَلَمْ تَرَ إِلَى الْمَلَإِ مِنْ بَنِي إِسْرائِيلَ [ البقرة/ 246]
( م ل ء ) الملاء
( م ل ء ) الملاء ۔ جماعت جو کسی امر پر مجتمع ہوتونظروں کو ظاہری حسن و جمال اور نفوس کو ہیبت و جلال سے بھردے ۔ قرآن میں ہے : ۔ أَلَمْ تَرَ إِلَى الْمَلَإِ مِنْ بَنِي إِسْرائِيلَ [ البقرة/ 246]…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–79
ترکیب : من ربکم جاء تکم سے متعلق آیتہ حال ہے ناقہ سے والعامل فیہ معنی الاشارۃ تاکل مجزوم ہے کیونکہ جواب امر ہے جو قدروھا ہے فیاخذکم منصوب جواب نہی من سہولہا مفعول ثانی قصورا اول تنحتون جو بمعنی تتخذون لیا جاوے تو الجبال مفعول ثانی ورنہ من محذوف مان کر اس کو فعل سے متعلق کیا جاوے اور بیوتا کو مفعول قرار دیا جاوے۔ الملاء فاعل قال للذین اس سے متعلق لمن امن بدل ہے للذین استضعفوا سے باعادہ جاء کقولک مرت بزید باخیک اتعلمون الخ مقولہ بالذی کافرون سے متعلق ہے ان کنت شرط ائتنا بما تعدنا جملہ مقدم دال بر جزاء جاثمین خبر فاصبحوا رسالۃ مفعول ثانی ابلغت کا۔
تفسیر قوم ثمود کا تذکرہ : یہ تیسرا قصہ قوم ثمود…
Read the full tafseer →ارشاد ہوتا ہے :
وَاذْکُرُوْٓا اِذْ جَعَلَکُمْ خُلَفَآئَ مِنْم بَعَدِ عَادٍ وَّ بَوَّاَکُمْ فِی الْاَرْضِ تَتَّخِذُوْنَ مِنْ سُھُوْلِھَا قُصُوْرًا وَّ تَنْحِتُوْنَ الْجِبَالَ بُیُوْتًا ج فَاذْکُرُوْٓا اٰلَآئَ اللہِ وَلَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَ ۔ (الاعراف : 74)
” یاد کرو وہ وقت جب اللہ نے قوم عاد کے بعد تمہیں اس کا جانشین بنایا اور ملک میں تم کو تمکن بخشا ‘ تم اس کے میدانوں میں عالیشان محل بناتے اور اس کے پہاڑوں کو تراش کر گھر بناتے ہو تو اللہ کی شانوں کو یاد کرو اور ملک میں اودھم مچاتے نہ پھرو “۔
ترغیب وترہیب
اس آیت کریمہ کے آغاز میں حضرت صالح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو نصیحت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–79
فہم القرآن
حضرت صالح (علیہ السلام) کے خطبات کے اقتباسات
1۔ اے میری قوم اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اس لیے صرف اسی کی عبادت کرو۔ (الاعراف : 73) 2۔ اے میری قوم تمہیں عاد کے بعد اس دنیا میں بھیجا گیا ہے تاکہ تم نصیحت حاصل کرو۔ (الاعراف : 74)
3۔ اے میری قوم اللہ کی نعمتوں سے فائدہ اٹھاکر اس کا شکر ادا کرو۔ (الاعراف : 74)
قوم صالح کی خصوصیات و عادات :
1۔ قوم صالح اللہ کے ساتھ شرک کیا کرتی تھیں۔ (ھود : 62۔ 61)
2۔ ثمود انبیاء کو جھوٹا قرار دیتے تھے۔ (الشعراء : 141)
3۔ وہ پہاڑوں کو تراش کر گھر بنایا کرتے تھے۔ (الاعراف : 74)
4۔ وہ نرم زمین پر بھی بڑے بڑے محلات تعمیر کیا کرتے تھے۔ (الاعراف : 74)
5۔…
Read the full tafseer →تقریر صالح۔ ‘ انعامات کی یاد دہانی :
آیت 74: وَاذْکُرُوْٓا اِذْ جَعَلَکُمْ خُلَفَآئَ مِنْم بَعْدِ عَادٍ وَّ بَوَّاَکُمْ (اور تم یہ حالت یاد کرو کہ اللہ تعالیٰ نے تم کو عاد کے بعد آباد کیا اور تم کو ٹھکانا دیا) اور تمہیں ٹھہرایا۔ المباء ۃ منزل کو کہتے ہیں۔ فِی الْاَرْضِ (زمین میں تراش) ارض حجر جو شام و حجاز کے درمیان ہے تَتَّخِذُوْنَ مِنْ سُھُوْلِھَا قُصُوْرًا (کہ تم نرم زمین پر محل بناتے ہو) بالا خانے گرمیوں کے آرام کے لئے وَّ تَنْحِتُوْنَ الْجِبَالَ بُیُوْتًا (اور پہاڑوں کو تراش کر ان میں گھر بناتے ہو) سردیوں کے لئے بیوتاً یہ حال مقدرہ ہے۔ جیسے خط ھذا الثوب قمیصا اس کپڑے کی قمیص بنائو اس لئے…
Read the full tafseer →تفسیر 74(واذکروا اذ جعلکم خلفآء من م بعد عاد و بوا کم) تم کو جگہ دی اور تم کو بسایا (فی الارض تتخلون من سھولھا قصوراً و تنحنون الجبال بیوتا) یہ لوگ پہاڑوں میں سوراخ کر کے گھر بناتے تھے، گرمیوں میں مٹی کے گھروں میں رہتے اور سردیوں میں پہاڑوں کے گھروں میں اور بعض نے کہا صرف پہاڑ میں گھر بناتے تھے کیونکہ مٹی کے گھر ان کی عمر جتنا عرصہ باقی نہیں رہتے تھے۔ (فاذکرو الآء اللہ ولا تعتوا فی الارض مفسدین) عثو سخت ترین فساد کو کہتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–79
(73 ۔ 79) ۔ حضرت صالح ( علیہ السلام) بھی حضرت نوح ( علیہ السلام) خاندان میں سے ہیں قوم عاد کی ہلاکت کے بعد اسی سر زمین میں قوم صالح ( علیہ السلام) کے لوگ جن کو ثمود کہتے ہیں بسے بڑی بڑی عمر کے لوگ اس قوم میں ہوئے اینٹ مٹی کے مکان ان کی عمر بھر میں کافی نہ ہوئے تو انہوں نے پہاڑوں کو تراش کر گھر بنائے نوعمری سے حضرت صالح ان میں نبی ہوئے نصیحت کرتے کرتے بڈھے ہوگئے مگر ان میں سے چند ہی شخص ایمان لائے سال بھر میں ایک روز ان کی عید کا ہوتا تھا اس روز انہوں نے حضرت صالح ( علیہ السلام) سے کہا کہ تم ہمارے ایک معجزے کی اپنے اللہ سے دعا کرو اور ہم بتوں سے اسی معجزے کی خواہش کرتے ہیں اگر تمہارے خدا نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–79
آیت 72
(والی ثمود) ” اور ثمود کی طرف “ ثمود قدیم عربوں کا معروف قبیلہ تھا جو جزیرۃ العرب اور ارض حجاز میں حجر اور اس کے اردگرد کے علاقوں میں آباد تھا (اخاھم صلحاً ) اللہ تعالیٰ نے صالح کو نبی بنا کر ان کی طرف مبعوث کیا جو انہیں توحید اور ایمان کی دعوت دیتے تھے اور انہیں شرک اور اللہ تعالیٰ کے ہمسر گھڑنے سے روکتے تھے۔ (قال یقوم اعبدو اللہ مالکم من الہ غیرہ) ” انہوں نے کہا : اے میری قوم ! اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ “ صالح کی دعوت بھی وہی تھی جو ان کے بھائ دیگر انبیا ومرسلین کی دعوت تھی یعنی اللہ تعالیٰ کی عبادت کا حکم دینا اور یہ واضح کردینا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا بندوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–141
دعا کا طریقہ
قول باری ہے وادعواربکم تضرعاً عاوخفیۃ۔ اپنے رب کو پکارو گڑگڑاتے ہوئے اور چپکے چپکے) آیت میں چپکے چپکے رب کو پکارنے کا حکم ہے حسن کا قول ہے کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے تمہیں اس بات کی تعلیم دی ہے کہ تم اپنے رب کو کس طرح پکارو۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک عہد صالح کا ذکر فرمایا جس کی پکار کو اس نے پسند فرمایا تھا چناچہ ارشاد ہے اذنادی ربہ نداء خفیا۔ جبکہ اس نے اپنے رب کو چپکے چپکے پکارا) یعنی حضرت زکریاعلیہ السلام عبداللہ بن المبارک نے حسن بصری سے روایت کی ہے کہ لوگ یعنی صحابہ کرام بڑی عاجزی اور نیاز مندی کے ساتھ دعائیں مانگا کرتے تھے اور صرف سرگوشی کی آواز سنائی دیتی تھی۔ حضرت…
Read the full tafseer →101 اللہ کی نعمتوں کی تذکیر و یاد دہانی : سو تم یاد کرو اس کی نعمتوں کو۔ اور یہ بھی یاد رکھو کہ اللہ کی بخشی ہوئی نعمتوں کا شکر اور ان کی قدردانی باعث سرفرازی وفائز المرامی ہے۔ اسی نے تم کو خلیفہ بنایا اس میں پنے کرم بےپایاں سے طرح طرح کی نعمتوں اور سہولتوں سے نوازا۔ تاکہ تم لوگ آرام و سکون سے رہو۔ سو اللہ کی اس زمین میں اور اپنے منعم حقیقی ۔ جل جلالہ ۔ کے انعامات کو پہچان کر دل وجان سے اس کے حضور جھک جاؤ، تاکہ اس طرح تم خود اپنے لئے دارین کی سعادت و سرخروئی کا سامان کرسکو۔ اور دنیا کی اس عارضی اور فانی زندگی کو آخرت کی حقیقی اور ابدی زندگی کی کامیابی کا ذریعہ بناس کو، جو کہ اصل مقصد ہے۔ یہاں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–79
قوم ثمود کی بربادی
تشریح ؛۔ ان آیات میں قوم ثمود کا تعارف، ان کے طور طریقے اور پھر عذاب کا بیان ہے اور پھر ان کے رسول سیدنا صالح (علیہ السلام) کی تعلیمات اور ناقۃ اللہ کا ذکر ہے۔ قوم ثمود : یہ قوم عاد کے بعد بڑی مشہور قوم وجود میں آئی یہ الحجر میں رہتے تھے۔ الحجر حجاز اور یمن کے درمیان میں واقع ہے۔ یہ قوم بھی عاد کی طرح بےحد مضبوط، صحت مند، خوشحال اور ہنر مند قوم تھی یہ پہاروں کو کاٹ کر بڑے بڑے محلات بناتے تھے۔ اور مذہب کے لحاظ سے یہ بھی اللہ کو تو ضرورمانتے تھے۔ مگر پچھلی قوم کی طرح ان کا بھی خیال تھا کہ اللہ سارے کام نہیں کرسکتا۔ لہٰذا انہوں نے بھی کئی قسم کے بت بنا رکھے تھے جن کی پوجا کرتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–84
رکوع نمبر 10 ۔ آیات نمبر 73 تا 84 ۔
اسرار و معارف :
حقیقت دعا :
بات اسی تسلسل میں جا رہی ہے کہ اللہ تعالیٰ بہت بڑی قدرت کا مالک اور اپنی مخلوق پر بہت زیادہ مہربان بھی ہے اس کی رحمت محتاجوں کو تلاش کرتی ہے اگر کوئی انسان محروم ہے تو اس کی وجہ نزول رحمت میں کمی نہیں خود اس کے دل میں قبولیت کی استعداد میں کمی ہے جیسے حدیث شریف ارشاد ہے کہ لوگ دور دراز سفر کرکے پریشان بالوں پھٹے ہوئے دامنوں اور گرد سے اٹے پاؤں اور چہرہ لے کر پکارتے ہیں یار یارب مگر ان کی دعا سنی نہیں جاتی اس لیے کہ کھانا حرام پہننا حرام ہوتا ہے بعض بےنصیب تو دعا ہی سے محروم ہوتے ہیں اور بعض صورت دعا تو بنا لیتے ہیں مگر حقیقت سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–75
ف 1 یعنی طنزا پوچھنے لگے۔2 یعنی نہ صرف ان کے رسول ہونے پر یقین ہے بلکہ ان کے دیئے ہوئے ایک ایک حکم کی صحت پر بھی یقین ہے۔
Read the full tafseer →(7:74) بوأکم۔ تم کو جگہ دی۔ تبویۃ (تفعیل) سے جس کے معنی ٹھکانا دینے اور من اس جگہ فروکش کرنے کے ہیں۔ ماضی واحد مذکر غائب۔ البواء کے اصل معنی کسی جگہ کے اجزاء کا مساوی (سازکار، موافق) ہونے کے ہیں۔ مکان بواء اس جگہ کو کہتے ہیں جو اس جگہ پر اترنے والے کے سازگار اور موافق ہو۔ بوات لہ مکانا۔ میں نے اس کے لئے جگہ کو ہموار اور درست کیا۔ آیۃ ہذا میں معنی یہ ہوگا۔ تم کو ٹھکانہ کے لئے عمدہ اور مناسب جگہ دی۔
دوسری جگہ قرآن مجید میں آیا ہے۔ ولقد بوأنا بنی اسرائیل سبوأ صدق (10:93) اور ہم نے بنی اسرائیل کو رہنے کے لئے عمدہ جگہ دی۔ یا تبوی المؤمنین مقاعلہ للقتال (3:121) ایمان والوں کو لڑائی کے لئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–79
لغات القرآن آیت نمبر (73 تا 79) ۔
نقتہ اللہ (اللہ کی اونٹنی) ۔ ذروھا۔ (اس کو چھوڑے رکھنا) ۔ تاکل (کھائے گی) ۔ لاتمسو (تم نہ چھونا) ۔ بسوء (برائی سے۔ بری نیت سے) ۔ بوا (اس نے ٹھکانا دیا) ۔ سھول (نرم جگہیں) ۔ قصور (قصر) ۔ محلات) ۔ تنحتون (تم تراشتے ہو) ۔ الجبال (الجبل) ۔ پہاڑ) ۔ بیوت (گھر) ۔ لا تعثوا (تم نہ پھرو) ۔ استکبروا (جنہوں نے بڑائی کی۔ تکبر کیا) ۔ استضعفوا (جو کمزور بنادیئے گئے تھے) ۔ عقروا (انہوں نے کاٹ ڈالا) ۔ عتوا (نافرمانی کی) ۔ اخذت (پکڑ لیا۔ آلیا) ۔ الرجفتہ (زلزلہ۔ بھونچال) ۔ جٰثمین (اوندھے پڑے ہوئے) ۔ نصحت (میں نے نصیحت کردی تھی) ۔ لا تحبون (تم پسند نہیں کرتے) ۔ الناصحین (نصیحت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–80
قوم لوط (علیہ السلام) کی ہلاکت
حضرت لوط (علیہ السلام) نے جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بھتیجے تھے، شہر بابل سے آپ کے ساتھ ہجرت کر کے ملک شام میں سکونت اختیار کی تھی۔ پھر سدوم میں رہنے کا اور اس شہر اور اس کے گردونواح کے شہر والوں کی ہدایت کا حکم ہوا۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کی امت جن بستیوں میں رہتی تھی وہ بڑی شاداب اور سرسبز تھیں۔ غیر بستیوں کے لوگ شادابی کے سبب سے قوم لوط کی بستیوں میں اکثر آجایا کرتے تھے۔ جس کی وجہ سے قوم لوط کو طرح طرح کی تکلیف ہوتی تھی۔ شیطان نے قوم لوط کو بہکایا کہ غیر بستیوں کے جو لوگ آویں ان کے ساتھ جتنے نوعمر لڑکے ہوں ان لڑکوں سے بدفعلی کی فاوے تو غیر لوگ تمہاری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–80
[35] لوط (علیہ السلام) ابراہیم (علیہ السلام) کے حقیقی بھتیجے تھے۔
[36] قوم یہاں اردو کے لفظ امت کے معنی میں ہے۔ لوط (علیہ السلام) کی بعثت اپنی برادری یا وطن والوں کی جانب نہ تھی اس لئے '' بھائی '' کا رشتہ جو ہود (علیہ السلام) اور صالح (علیہ السلام) کے لئے بیان کیا گیا ہے یہاں حذف کردیا گیا۔ آپ جس قوم کی ہدایت کے لئے بھیجے گئے تھے وہ اس علاقے میں رہتی تھی جو عراق اور فلسطین کے درمیان واقع ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–81
حضرت صالح (علیہ السلام) :
(ف 2) عاد اولی کے بعد عاد ثانیہ کا زمانہ ہے یعنی ثمود کی قوم ، انکی جانب حضرت صالح (علیہ السلام) مبعوث ہوئے ۔
انہوں نے بھی حسب سابق اللہ کی عظمت و جلال کا وعظ کہا ، عمر بھر اللہ کی جانب بلاتے رہے ، مگر چند لوگوں کے سوا سب نے انکار کیا ،
(ف 1) حضرت صالح (علیہ السلام) نے فرمایا تم اگر انکار کرو گے ، تو مٹ جاؤ گے ، اللہ کی غیرت جوش میں آجائے گی ، اور سنت اللہ کے موافق تمہیں ہلاک کردیا جائے گا ، مگر وہ نہ مانے ، انہیں اپنے مضبوط قلعوں اور مکانوں پر ناز تھا ، ان کے مکان پتھر کے تھے ، اور بڑی بڑی عمارتیں تھیں ، ان کا خیال یہ تھا کہ کوئی عذاب ہمیں نہیں مٹا سکے گا ،
حضرت…
Read the full tafseer →74 اور تم اللہ تعالیٰ کے وہ احسانات یاد کرو کہ جب تم کو قوم عاد کے بعد اس نے جانشین مقرر کیا اور تم کو روئے زمین پر آباد کیا اور تم کو زمین میں بسنے کو اس طور پر ٹھکانا دیا کہ نرم نرم زمین پر بڑے بڑے محل بناتے ہو اور پہاڑوں کو بھی تراش تراش کر ان میں گھر بناتے ہو لہٰذا تم انعامات خداوندی اور اس کی نعمتوں کو یاد کرو اور زمین میں فساد برپا نہ کرتے پھرو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–77
ف 4۔ انہوں نے ایک خاص معجزے کی درخواست کی کہ اس پتھر میں سے ایک اونٹنی پیدا ہو تو ہم ایمان لائیں گے چناچہ آپ کی دعا سے ایسا ہی ہوا کہ وہ پتھر پھٹا اور اس کے اندر سے ایک بڑی اونٹنی نکلی۔
Read the full tafseer →صالح (علیہ السلام) نے قوم ثمود کو انعامات الٰہی کی یاد دہانی کرائی :
85: حضرت صالح (علیہ السلام) نے وعظ کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے قوم کو فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے ان احسانات اور انعامات کو فراموش نہ کرو جن سے اس نے تم کو نوازا ہے قوم عاد کی ہلاکت کے بعد غلبہ و اقتدار تمہیں بخشا ہے اور تم کو فن تعمیر میں وہ مہارت عنایت کی کہ میدانی علاقوں میں تم شاندار محلات تعمیر کرتے ہو اور پہاڑی علاقوں میں سنگین چٹانوں کو چیر پھاڑ کر مکان بناتے ہو ان کی عمارات کے آثار آج بھی موجود ہیں جو ایک وسیع رقبہ میں پھیلے ہوئے ہیں جو فن تعمیر میں ان کی مہارت کی گواہی دے رہے ہیں اس سے یہ معلوم ہوا کہ دنیاوی علوم میں…
Read the full tafseer →In the second verse (74), concern has been shown for these pledge-breaking and contumacious people lest they find themselves subjected to Divine punishment. For this purpose they have been reminded of the favours and blessings of Allah Ta` ala upon them in the hope that they would alter their uncompromising stance and abandon their doggedness and rebellion. It was said: وَاذْكُرُوا إِذْ جَعَلَكُمْ خُلَفَاءَ مِن بَعْدِ عَادٍ وَبَوَّأَكُمْ فِي الْأَرْضِ تَتَّخِذُونَ مِن سُهُولِهَا قُصُورًا وَتَنْحِتُونَ الْجِبَالَ بُيُوتًا (And remember when He made you successors after ` Ad and lodged you…
Read the full tafseer →59. The Thamud were highly skilful in rock-carving, and made huge mansions by carving the mountains, as we have mentioned earlier (see n. 57 above). In this regard the works of the Thamud resemble the rock-carvings in the Ajanta and Ellora caves in India and several other places. A few buildings erected by the Thamud are still intact in Mada'in Salih and speak of their tremendous skills in civil engineering and architecture.
60. The Qur'an asks people to draw a lesson from the tragic end of the 'Ad. For just as God destroyed that wicked people and established Muslims in positions of power and…
Read the full tafseer →