Explained with ayahs 83–84
لوطی تباہ ہوگئے
حضرت لوط اور ان کا گھرانا اللہ کے ان عذابوں سے بچ گیا جو لوطیوں پر نازل ہوئے بجز آپ کے گھرانے کے اور کوئی آپ پر ایمان نہ لایا جیسے فرمان رب ہے آیت (فما وجدنا فیھا غیر بیت من المسلمین) یعنی وہاں جتنے مومن تھے ہم نے سب کو نکال دیا۔ لیکن بجز ایک گھر والوں کے وہاں ہم نے کسی مسلمان کو پایا ہی نہیں۔ بلکہ خاندان لوط میں سے بھی خود حضرت لوط ؑ کی بیوی ہلاک ہوئی کیونکہ یہ بدنصیب کافرہ ہی تھی بلکہ قوم کے کافروں کی طرف دار تھی اگر کوئی مہمان آتا تو اشاروں سے قوم کو خبر پہنچا دیتی اسی لئے حضرت لوط سے کہہ دیا گیا تھا کہ اسے اپنے ساتھ نہ لے جانا بلکہ اسے خبر بھی نہ کرنا۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ…
Read the full tafseer →سورة الْاَعْرَاف 66
دوسرے مقامات پر تصریح ہے کہ حضرت لوط کی یہ بیوی، جو غالباً اسی قوم کی بیٹی تھی، اپنے کافر رشتہ داروں کی ہمنوا رہی اور آخر وقت تک اس نے ان کا ساتھ نہ چھوڑا۔ اس لیے عذاب سے پہلے جب اللہ تعالیٰ نے حضرت لوط اور ان کے ایمان دار ساتھیوں کو ہجرت کر جانے کا حکم دیا تو ہدایت فرما دی کہ اس عورت کو ساتھ نہ لیا جائے۔
Read the full tafseer →تیسری اور چوتھی آیتوں میں قوم سدوم کی اس کجروی اور بےحیائی کی سزا آسمانی کا ذکر ہے اور یہ کہ اس پوری قوم پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہوا صرف لوط ؑ اور ان کے چند ساتھی عذاب سے محفوظ رہے۔ قرآن کریم کے الفاظ میں فَاَنْجَيْنٰهُ وَاَهْلَهٗٓ آیا ہے یعنی ہم نے لوط اور ان کے اہل کو عذاب سے نجات دی۔ یہ اہل کون لوگ تھے۔ بعض حضرات مفسرین کا قول ہے کہ اہل میں دو لڑکیاں تھیں جو مسلمان ہوئی تھیں۔ بیوی بھی مسلمان نہ ہوئی تھی۔ قرآن مجید کی ایک دوسری (آیت) میں فما وجدنا فیہا غیر بیت من المسلمین مذکور ہے کہ ان تمام بستیوں میں ایک گھر کے سوا کوئی مسلمان نہ تھا۔ اس سے بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ لوط ؑ کے صرف گھر…
Read the full tafseer →فَاَنْجَيْنٰهُ وَاَهْلَهٗٓ اِلَّا امْرَاَتَهٗ ڮ كَانَتْ مِنَ الْغٰبِرِيْنَ۔ اوپر اِنَّهُمْ اُنَاسٌ يَّتَطَهَّرُوْنَ سے یہ تو مترشح ہوتا ہے کہ کچھ لوگ تھے جو حضرت لوط ؑ پر ایمان لائے تھے لیکن اس آیت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کے اہل و عیال کے سوا کوئی اور ان پر ایمان لانے والا نہ بنا۔ اگر کچھ لوگ ایمان لائے ہوتے تو نجات پانے والوں میں ان کا ذکر بھی ہوتا۔ ہمارا خیال یہ ہے کہ ایک قلیل گروہ، جیسا کہ لفظ اناس سے ظاہر ہوتا ہے، ان پر ایمان تو لایا لیکن یہ لوگ سب ان کے متعلقین ہی میں سے تھے اس وجہ سے قرآن نے ان کو لفظ ‘ اھل ’ ہی سے تعبیر فرمایا۔
اس ‘ اھل ’ میں سے بھی حضرت لوط ؑ کی بیوی خارج ہوگئی۔ اس…
Read the full tafseer →83۔ 1 یعنی وہ ان لوگوں میں باقی رہ گئی۔ جن پر اللہ کا عذاب آیا۔ کیونکہ وہ بھی مسلمان نہیں تھی اور اس کی ہمدردیاں بھی مجرمین کے ساتھ تھیں بعض نے اس کا ترجمہ ' ہلاک ہونے والوں میں سے ' کیا ہے۔ لیکن یہ لازمی معنی ہیں، اصل معنی وہی ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–84
40: حضرت لوط ؑ حضرت ابراہیم ؑ کے بھتیجے تھے، جو اپنے مقدس چچا کی طرح عراق میں پیدا ہوئے تھے، اور جب انہوں نے وہاں سے ہجرت کی تو حضرت لوط ؑ بھی ان کے ساتھ وطن سے نکل آئے، بعد میں حضرت ابراہیم ؑ فلسطین کے علاقے میں آباد ہوئے، اور حضرت لوط ؑ کو اللہ تعالیٰ نے اردن کے شہرسدوم (sodom) میں پیغمبر بناکر بھیجا، سدوم ایک مرکزی شہر تھا اور اس کے مضافات میں عمورہ وغیرہ کئی بستیاں آباد تھیں، کفر وشرک کے علاوہ ان بستیوں کی شرمناک بدعملی یہ تھی کہ وہ ہم جنسی (homosexuality) کی لعنت میں گرفتار تھے جس کا ارتکاب قرآن کریم کی تصریح کے مطابق ان سے پہلے دنیا کے کسی فرد نے نہیں کیا تھا، حضرت لوط ؑ نے انہیں اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–84
آیت ” فَأَنجَیْْنَاہُ وَأَہْلَہُ إِلاَّ امْرَأَتَہُ کَانَتْ مِنَ الْغَابِرِیْنَ (83) وَأَمْطَرْنَا عَلَیْْہِم مَّطَراً فَانظُرْ کَیْْفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الْمُجْرِمِیْنَ (84)
” آخر کار ہم نے لوط اور اس کے گھر والوں کو نجات دی بجز اس کی بیوی کے جو پیچھے رہ جانے والوں میں تھی ۔۔۔۔۔۔۔ بچا کر نکال دیا اور اس قوم پر برسائی ایک بارش پھر دیکھو کہ ان مجرموں کا کیا انجام ہوا ؟ “۔
اللہ کے نافرمان اللہ کے بندوں کے لئے خطرہ بن گئے تھے ‘ تو اللہ نے اپنے بندوں کو نجات دی اور نافرمان طبقات اور فرمان برداروں کے درمیان نظریاتی تفریق کردی گئی ۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کی بیوی اگرچہ ان کی بیوی تھی لیکن وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 82–83
1 یعنی آخری بات انہوں نے یہ کہی کہ جب ہم سب کو یہ گندہ سمجھتے ہیں اور آپ پاک بننا چاہتے ہیں تو گندوں میں پاکوں کا کیا کام۔ لہذا انہیں اپنی بستی ہی سے نکال دینا چاہیے کہ یہ روز روز کی رکاوٹ ختم ہو۔ خیر وہ ملعون تو کیا نکالتے ہاں حق تعالیٰ نے لوط اور ان کے متعلقین کو عزت و عافیت کے ساتھ صحیح وسالم ان بستیوں سے نکال لیا اور ان بستیوں پر عذاب مسلط کردیا۔ جس کا ذکر آگے آتا ہے۔ لوط کے متعلقین میں سے صرف ان کی بیوی آپ سے علیحدہ رہی اور معذبین کے ساتھ ہلاک ہوئی کیونکہ اس کا سازباز ان معذبین سے تھا۔ لوط کے یہاں جو مہمان وغیرہ آتے ان کی اطلاع یہ ہی کیا کرتی اور ان کو بدکاری کی ترغیب دیتی تھی۔ یا جیسا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 82–83
آیت 82 وَمَا کَانَ جَوَابَ قَوْمِہٖٓ الاّآ اَنْ قَالُوْٓا اَخْرِجُوْہُمْ مِّنْ قَرْیَتِکُمْج اِنَّہُمْ اُنَاسٌ یَّتَطَہَّرُوْنَ
ان کے پاس کوئی معقول جواب تو تھا نہیں ‘ شرم و حیا کو وہ لوگ پہلے ہی بالائے طاق رکھ چکے تھے۔ کوئی دلیل ‘ کوئی عذر ‘ کوئی معذرت ‘ جب کچھ بھی نہ بن پڑا تو وہ حضرت لوط علیہ السلام اور آپ علیہ السلام کے گھر والوں کو شہر بدر کرنے کے درپے ہوگئے۔ حضرت لوط علیہ السلام کی بیوی اس مقامی قوم سے تعلق رکھتی تھی ‘ اس لیے وہ آخر وقت تک اپنی قوم کے ساتھ ملی رہی۔ حضرت لوط علیہ السلام اللہ کے حکم سے اپنی بیٹیوں کو لے کر عذاب آنے سے پہلے وہاں سے نکل گئے۔
Read the full tafseer →88 لوط کی بیوی کا کردار :۔ چونکہ لوط (علیہ السلام) کی بیوی ان بدکرداروں سے پوری ساز باز رکھتی تھی۔ گھر میں کوئی مہمان آتا تو فوراً خفیہ طور پر اطلاع کردیتی اور ان لوگوں کو اس مہمان سے بدکرداری کرنے کی ترغیب دیا کرتی تھی لہذا وہ بھی قوم کے جرم میں برابر کی شریک تھی اور اسے بھی اسی عذاب سے دو چار ہونا پڑا جو اس قوم پر نازل ہوا اور اس کی وجہ یہ تھی کہ لوط کی بیوی بھی انہی کی قوم سے تعلق رکھتی تھی اور لوط (علیہ السلام) بابل سے ہجرت کر کے یہاں مقیم ہوئے تھے۔
Read the full tafseer →110 ۔ توریت کی روایت میں ہے کہ وہ نافرمان عورت نمک کا ستون بن گئی :۔ ” مگر اس کی جورو نے اس کے پیچھے سے پھر کر دیکھا۔ اور وہ نمک کا کھمبابن گئی (پیدائش۔ 19:26) (آیت) ” انجینہ “۔ یعنی اپنے عذاب سے انہیں بچا دیا۔ (آیت) ” اھلہ “۔ اھل میں خاندان والے اور دوسرے معتقدین مومنین سب شامل ہیں ای انصارہ واتباعہ الذین قبلوا دینہ (کبیر) (آیت) ” امراتہ “۔ ان کی بیوی جو ایمان سے بھی خالی تھیں۔ کانت کافرۃ موالیۃ لاھل سدوم (مدارک) اس سے یہ معلوم ہوا کہ عذاب الہی کا سبب مشترک علاوہ فسق عملی کے کفر اعتقادی بھی تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–84
قوم لوط کی مختصر تاریخ : ولوطا اذقال لقومہ (الآیۃ) یہ قوم اس علاقہ میں رہتی تھی جسے آجکل شرق اردن کہا جاتا ہے، اور عراق و فلسطین کے درمیان واقع ہے بائبل میں اس قوم کا صدر مقام سدوم بتایا گیا ہے جو یا تو بحیرہ مردار (بحر میت) کے قریب کہیں واقع تھا یا بحر میت میں غرق ہوچکا ہے۔ حضرت لوط (علیہ السلام) حضرت ابراہیم کے بھائی ہاران کے بیٹے تھے حضرت لوط (علیہ السلام) اپنے چچا ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ عراق سے نکلے کچھ مدت تک شام و فلسطین و مصر میں گشت لگا کر دعوت و تبلیغ کے کام میں مصروف رہے، اس کے بعد مستقل منصب رسالت پر فائز ہو کر اسی بگڑی ہوئی قوم کی اصلاح پر مامور ہوئے۔
یہودیوں کی تحریف کردہ…
Read the full tafseer →فانجینہ واہلہ الا امراتہ کانت من الغبرین : سو (اوّل) ہم نے لوط کو اور ان کے متعلقین کو بچا لیا سوائے لوط کی بیوی کے وہ انہی لوگوں میں رہی جو عذاب میں رہ گئے تھے
Read the full tafseer →(83) نتیجہ یہ ہوا کہ ہم نے لوط ؑ اور ان کی دونوں بیٹیوں (اور دوسرے مومنوں) کو نجات دی اور ان کی بیوی بھی ہلاک ہونے والے کافروں کے ساتھ ہوگئی ،
Read the full tafseer →فَاَنْجَيْنٰهُ وَاَهْلَهٗٓ: یعنی ہم نے لوط ؑ اور اس کے گھر والوں کو عذاب سے بچا لیا، کیونکہ اس بستی میں یہی ایک گھر مسلم تھا۔ دیکھیے سورة ذاریات (36)۔
اِلَّا امْرَاَتَهٗ ڮ كَانَتْ مِنَ الْغٰبِرِيْنَ : اللہ تعالیٰ نے لوط ؑ کو پہلے ہی آگاہ کردیا تھا کہ ہم نے تمہاری بیوی کی خیانت و کفر کی وجہ سے اس کا پیچھے رہنا طے کردیا ہے۔ دیکھیے سورة نمل (57) اور سورة تحریم (10) چناچہ وہ ان لوگوں میں رہ گئی جو لوط ؑ کے ساتھ نہیں نکلے، بلکہ اپنے علاقے ہی میں رہے، ان پر عذاب نازل ہوا تو وہ بھی ان کے ساتھ تباہ ہوگئی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–84
آیت نمبر : 83
حضرت لوط (علیہ السلام) اپنے گھر والوں کے ساتھ رات کے وقت نکلے جیسے اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے : آیت : بقطع من الیل (ہود : 81) پھر حضرت جبریل امین (علیہ السلام) کو حکم دیا گیا تو انہوں نے اپنا پر ان بستیوں کے نیچے داخل کیا اور ان تمام کو نیچے سے اکھیڑ ڈالا اور انہیں اوپر اٹھا لیا یہاں تک کہ اہل آسمان نے مرغوں کی پکار اور کتوں کے بھونکنے کی آواز سن لی، پھر ان کے اوپر والے حصہ کو نیچے کردیا ( یعنی الٹا کر کے زمین پردے مارا) اور ان پر کنکر کی پتھریاں برسائیں۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس پر جو ان میں سے غائب تھا۔ اور آپ نے حضرت لوط (علیہ السلام) کی بیوی کو پالیا، آپ کے پاس ایک پتھر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–84
(1) امام ابن عساکر نے سلیمان بن صرد (رح) سے روایت کیا کہ لوط (علیہ السلام) کے والد ابراہیم کے چچا تھے۔
(2) امام اسحاق بن بشر اور ابن عساکر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لوط (علیہ السلام) کو بستیوں کی جانب بھیجا گیا اور لوط کی بستیاں مدائن کی چار بستیاں تھیں سدوم امورا، اور صبویر اور ہر بستی میں ایک لاکھ جنگ جو تھے۔ اور ان کے مدائن میں بڑی بستی سدوم کی تھی۔ لوط اس میں رہتے تھے اور یہ شام کے شہروں میں سے ہے۔ اور فلسطین سے ایک رات کے سفر پر ہے۔ اور براہیم کے لوط بن ھاروان بن تارح کے چچا تھے ابراہیم قوم لوط کو نصیحت کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے قوم لوط کو مہلت دی تھی۔ انہوں نے اسلام کے پردے کو پھاڑ…
Read the full tafseer →فَاَنْجَيْنٰهُ [ تو ہم نے نجات دی ان کو ] وَاَهْلَهٗٓ [ اور ان کے گھر والوں کو ] اِلَّا [ سوائے ] امْرَاَتَهٗ ڮ [ ان کی عورت کے ] كَانَتْ [ وہ تھی ] مِنَ الْغٰبِرِيْنَ [ پیچھے رہ جانے والوں میں سے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 82–83
اسی کو فرمایا (فَاَنْجَیْنٰہُ وَ اَھْلَہٗٓ اِلَّا امْرَاَتَہٗ کَانَتْ مِنَ الْغٰبِرِیْنَ ) (سو ہم نے نجات دی لوط کو اور اس کے گھر کے لوگوں کو سوائے اس کی بیوی کے۔ یہ باقی رہ جانے والوں سے تھی) یعنی جو اہل ایمان بستیوں سے نکال دیئے گئے تھے تاکہ عذاب میں مبتلا نہ ہوں ان کے علاوہ جو لوگ تھے وہ انہی میں رہ گئی۔
سورۂ ہود میں ہے کہ فرشتوں نے حضرت لوط (علیہ السلام) سے کہا (فَاَسْرِ بِاَھْلِکَ بِقِطْعٍ مِّنَ الَّیْلِ وَ لَا یَلْتَفِتْ مِنْکُمْ اَحَدٌ اِلَّا امْرَاَتَکَ اِنَّہٗ مُصِیْبُھَا مَآ اَصَابَھُمْ اِنَّ مَوْعِدَھُمُ الصُّبْحُ اَلَیْسَ الصُّبْحُ بِقَرِیْبٍ ) (سو تم رات کے ایک حصہ میں نکل جاؤ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–84
قصہ چہارم حضرت لوط (علیہ السلام) باقوم او
قال اللہ تعالیٰ ولوطا اذ قال لقومہ۔۔۔ الی۔۔۔ فانظر کیف کان عاقبۃ المجرمین
(ربط) یہ چوتھا قصہ لوط (علیہ السلام) کا ہے جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بھتیجے تھے اور شہر سدوم کے رہنے والوں کی طرف نبی بنا کر بھیجے گئے تھے یہ شہر شرق اردن کے علاقہ سے قریب ہے یہ لوگ بت پرست اور نہایت بدکار تھے لڑکوں سے بدفعلی کیا کرتے تھے۔ یہی بدبخت قوم اس ناپاک عمل کی موجد تھی ان سے پہلے دنیا کی کسی قوم نے یہ خبیث فعل نہیں کیا تھا اور یہ لوگ لٹیرے بھی تھے تاجروں کو لوٹ لیتے تھے اور بےحیا اس قدر تھے کہ بھری مجلسوں میں بےحیائیوں کے مرتکب ہوتے حضرت لوط (علیہ السلام) نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 82–84
88: اللہ نے اس بد کردار قوم پر آسمان سے پتھر برسا کر اسے تباہ کردیا۔ حضرت لوط (علیہ السلام) اور جو ان پر ایمان لا چکے تھے صرف وہی بچ سکے۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کی بیوی چونکہ درپردہ مشرکہ تھی اس لیے وہ بھی عذاب میں ہلاک ہوگئی۔ “ فَاَمْطَرْنَا عَلَیْھِمْ مَّطَرًا ” بارش سے پتھروں کی بارش مراد ہے۔ پہلے ان کی بستیوں کو الٹا دیا گیا۔ پھر اوپر سے پتھر برسائے گئے جیسا کہ سورة ہود رکوع 7 میں فرمایا۔ “ فَلَمَّا جَاءَ اَمْرُنَا جَعَلْنَا عَالِیَھَا سَافِلَھَا وَ اَمْطَرْنَا عَلَیْھِمْ حِجَارَةً مِّنْ سِجِّیْلٍ مَّنْضُوْدٍ ”۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–84
ربط آیات
اس سے پہلے اللہ تعالیٰ حضرات نوح ، ہود اور صالح علیہ (علیہم السلام) کے تاریخی واقعات بیان کرچکے ہیں جن کے ذریعے اہل ایمان کو جرات دلائی جارہی ہے کہ دیکھو ! اللہ کے انبیاء نے کتنے نامساعد حالات میں بھی دین کی خدمت کی اور خدا کا پیغام اپنی اپنی قوموں تک پہنچایا۔ یہ واقعات اگرچہ اجالاً بیان کیے گئے ہیں تاہم مقصد یہ ہے کہ امت آخر الزمان کو بھی یہ واقعات پیش نظر رکھ کر دین کے کام کو آگے بڑھانا ہے اس سورة میں حضرت صالح (علیہ السلام) کے بعد حضرت لوط (علیہ السلام) اور ان کی قوم کا حال بیان فرمایا ہے ولوطاً اس کا عطف بھی لقد ارسلنا نوحاً پر ہے اور مطلب یہ ہے کہ ہم نے حضرت لوط (علیہ السلام) کو…
Read the full tafseer →وَاَمْطَرْنَا عَلَيْہِمْ مَّطَرًا 0 ۭ فَانْظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَۃُ الْمُجْرِمِيْنَ 84 ۧ
مطر
المَطَر : الماء المنسکب، ويومٌ مَطِيرٌ وماطرٌ ، ومُمْطِرٌ ، ووادٍ مَطِيرٌ. أي : مَمْطُورٌ ، يقال : مَطَرَتْنَا السماءُ وأَمْطَرَتْنَا، وما مطرت منه بخیر، وقیل : إنّ «مطر» يقال في الخیر، و «أمطر» في العذاب، قال تعالی: وَأَمْطَرْنا عَلَيْهِمْ مَطَراً فَساءَ مَطَرُ الْمُنْذَرِينَ [ الشعراء/ 173]
( م ط ر ) المطر
کے معنی بارش کے ہیں اور جس دن بارش بر سی ہوا سے ويومٌ مَطِيرٌ وماطرٌ ، ومُمْطِرٌ ، ووادٍ مَطِيرٌ. کہتے ہیں واد مطیر باراں رسیدہ وادی کے معنی بارش بر سنا کے ہیں ۔ بعض نے کہا ہے کہ مطر اچھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–84
ترکیب : اذ قال اس کا فاعل اذکر محذوف ما سبقکم جملہ حال ہے الفاحشۃ سے شہوۃ مفعول لہ ہے لتاتون کا یا مصدر موضع حال میں ہے۔ من دون النساء موضع حال میں ہے اے منفردین عن النسائ۔ بل اس جگہ ایک بیان سے دوسرے بیان کی طرف متوجہ ہونے کے لئے یا محذوف سے اضراب ہے ای ما عدلتم بل انتم مسرفون۔ جواب منصوب اس کا بیان آل عمران میں آچکا۔
تفسیر : حضرت لوط (علیہ السلام) کا تذکرہ : چوتھا قصہ حضرت لوط (علیہ السلام) کا ہے جو اپنے چچا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ حران میں آرہے تھے کہ کسدیوں کے ملک سے جو بابل میں تھا ٗ ان کے والد حاران ان کی صغر سنی میں مرگئے تھے۔ پھر حران سے کوچ کرکے ملک کنعان میں سکم یعنی…
Read the full tafseer →فَاَنْجَیْنٰہُ وَ اَھْلَہٗٓ اِلَّا امْرَاَتَہٗ زصلے کَانَتْ مِنَ الْغٰبِرِیْنَ ۔ (الاعراف : 83)
” پس ہم نے لوط اور اس کے اہل خانہ کو نجات دی سوائے اس کی بیوی کے وہ پیچھے رہ جانے والوں میں سے تھی “۔
یعنی یہ پورا علاقہ اور اس پر بسنے والی یہ قوم اللہ کے عذاب کا شکار ہوئی صرف ایک حضرت لوط (علیہ السلام) کا گھر اس عذاب سے محفوظ رہا۔ اس گھر کے رہنے والوں کو سرشام ہی وہاں سے نکل جانے کا حکم ملا جب یہ لوگ اگلی صبح تک اس گھر سے اتنا دور نکل گئے کہ عذاب کے اثرات سے محفوظ رہ سکتے تھے تب اللہ کا عذاب اس قوم پر آدھمکا اور اس بری طرح انھیں تباہ کیا کہ آج ان کا نام و نشان بھی باقی نہیں۔ اس آیت کریمہ میں اہل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–84
فہم القرآن
حضرت لوط (علیہ السلام) :
حضرت لوط (علیہ السلام) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بھتیجے تھے۔ جنھوں نے عراق کی سرزمین سے ہجرت کرکے غور زنمر کے علاقہ سدوم شہر میں رہائش اختیار کی۔ یہ شہر علاقے کا مرکزی مقام تھا۔ جہاں کے رہنے والے پر لے درجے کے فاسق و فاجر مشرک، کافر، ڈاکو، چور اور انتہائی بد کردار لوگ تھے۔ جنھوں نے دنیا میں بےحیائی کا ایسا عمل اختیار کیا جو اس سے پہلے کسی قوم نے نہیں کیا تھا۔
قوم لوط کا کردار :
انھوں نے اپنی نفسانی خواہش اپنی بیویوں سے پوری کرنے کے بجائے لڑکوں سے شروع کر رکھی تھی۔ گویا کہ یہ ہم جنسی کے بدترین گناہ کے مرتکب ہوئے۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کے بار بار سمجھانے…
Read the full tafseer →نتیجہ آمد عذاب :
آیت 83: فَاَنْجَیْنٰہُ وَاَھْلَہٗٓ(پس ہم نے لوط ( علیہ السلام) اور ان کے متعلقین کو بچا لیا) جو بھی ان کے ساتھ خاص طور پر رشتہ دار متعلق تھے یا مومنین اِلَّا امْرَاَتَہٗ کَانَتْ مِنَ الْغٰبِرِیْنَ ( سوائے ان کی بیوی کے کہ وہ انہی لوگوں میں رہی جو عذاب میں رہ گئے تھے) عذاب میں باقی رہنے والے لوگوں میں سے تھی۔ مذکر کو مؤنث پر غلبہ دے کر مذکر صیغہ لایا گیا۔ یہ اہل سدوم میں سے کافرہ تھی۔ روایت میں مذکور ہے کہ اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو ایک پتھر اس کو آلگا۔ جس سے وہ ہلاک ہوگئی۔
Read the full tafseer →(83) فاتجینہ … یعنی لوط (علیہ السلام) کو (واھلہ) یعنی مئومنین کو اور بعض نے کہا ان کی دو بیٹیاں مراد ہیں (الا امراتہ کانت من الغبرین) یعنی عذاب میں گرفتار ہوئی اور بعض نے کہا مطلب یہ یہ کہ وہ لمبی عمر والے لوگوں میں سے تھی کہ لمبی عمر گزاری اور پھر قوم کے لوگوں کے ساتھ ہلاک ہوئی اور ” من الغابرین “ کہا ہے اس لئے کہ مراد یہ ہے کہ وہ پیچھے رہنے والے مردوں میں سے ہے۔ جب ان کا ذکر مردوں کے ذر کی طرف ملایا تو (مذکر کا صیغہ) کہا ” من الغابرین “
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–84
(80 ۔ 84) ۔ حضرت لوط ( علیہ السلام) کی امت جن بستیوں میں راہتی تھی وہ بڑی شاداب اور سرسبز بسیتاں تھیں غیر بستیوں کے لوگ شادابی کے سبب سے قوم لوط کی بستیوں میں اکثر آجایا کرتے تھے جس کی وجہ سے قوم لوط کو طرح طرح کی تکلیف ہوتی تھی شیطان نے قوم لوط کو بہکایا کہ غیر بستیوں کے لوگ جو آویں ان کے ساتھ جتنے نو عمر لڑکے ہوں ان لڑکوں سے بدفعلی کی جاوے تو غیر لوگ تمہاری بستیوں میں ہر گر نہ آویں شیطان کے بہکانے سے اور خوب صورت لڑکا بن کر ان کو ورغلانے سے انہوں نے ویساہی کیا اور پھر ان میں وہ عادت جم گئی حضرت لوط ( علیہ السلام) نے ہرچند سمجھایا مگر انہوں نے نہ مانا آخر حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے اس قدر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–86
آیت 80
(ولوطا) یعنی ہمارے بندے لوط کا ذکر کیجیے جب ہم نے ان کو ان کی قوم کی طرف مبعوث کیا کہ وہ انہیں صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کا حکم دیں اور انہیں اس برائی سے روکیں جو پورے جہاں میں ان سے پہلے کسی نے نہیں کی۔ لوط نے کہا (اتاتون الفاحشۃ) ” کیا تم کرتے ہو ایسی بےحیائی “ یعنی تم ایک ایسے گناہ کا ارتکاب کرتے ہوئے جس کی قباحت اتنی زیادہ ہے کہ فواحش کی تمام اقسام کو اس نے اپنے اندر سمیٹ لیا ہے۔ (ماسبقکم بھامن احدمن العلمین) ” کہ تم سے پہلے نہیں کیا اس کو کسی نے جہان میں “ اس کا فحش ہونا قبیح ترین چیز ہے اور یہ کہ اس قبیح فعل کو ان لوگوں نے شروع کر کے بعد میں آنے والوں کے لئے رواج دیا تھا، اس سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–141
دعا کا طریقہ
قول باری ہے وادعواربکم تضرعاً عاوخفیۃ۔ اپنے رب کو پکارو گڑگڑاتے ہوئے اور چپکے چپکے) آیت میں چپکے چپکے رب کو پکارنے کا حکم ہے حسن کا قول ہے کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے تمہیں اس بات کی تعلیم دی ہے کہ تم اپنے رب کو کس طرح پکارو۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک عہد صالح کا ذکر فرمایا جس کی پکار کو اس نے پسند فرمایا تھا چناچہ ارشاد ہے اذنادی ربہ نداء خفیا۔ جبکہ اس نے اپنے رب کو چپکے چپکے پکارا) یعنی حضرت زکریاعلیہ السلام عبداللہ بن المبارک نے حسن بصری سے روایت کی ہے کہ لوگ یعنی صحابہ کرام بڑی عاجزی اور نیاز مندی کے ساتھ دعائیں مانگا کرتے تھے اور صرف سرگوشی کی آواز سنائی دیتی تھی۔ حضرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 82–83
113 اِعراض و استکبار باعث ہلاکت و تباہی ۔ والعیاذ باللہ ۔ : سو اعراض و استکبار یعنی اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں حق سے منہ موڑنا دائمی ہلاکت و تباہی کا پیش خیمہ ہے۔ اسی بناء پر قوم لوط نے ایسے کہا اور یہ وہی متکبرانہ جواب ہے جو اس طرح کی شامت زدہ قوموں اور ان کے گمراہ لیڈروں کا وطیرہ ہوتا ہے اور اس طرح کے جواب سے وہ گویا کہ اپنے آخری اور حتمی فیصلے کے مطالبے پر آخری دستخط کرلیتے ہیں اور اپنے قول و فعل سے واضح کردیتے ہیں کہ اب ان کے اندر خیر کی کوئی رمق باقی نہیں رہی اور اب ان لوگوں کا وجود اللہ کی دھرتی پر ایک نارو ا بوجھ بن گیا ہے جس کو کچرے کے ڈھیر کی طرح ہمیشہ کیلئے دفن کردیا جانا چاہیئے کہ اب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–84
قوم لوط کا گناہ اور عذاب
تشریح : انبیاء اور ان کی قوموں کے قصوں کا جو سلسلہ چل رہا ہے ان میں سے یہ چوتھی قوم لوط ہے جس کا ذکر قرآن پاک میں یوں کیا گیا ہے۔ لوط (علیہ السلام) اللہ کے نبی ہیں یہ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کے بھتیجے تھے۔ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) اپنے بت پرست والد اور تمام خاندان کو چھوڑ کر عراق سے شام کی طرف ہجرت کر گئے تھے۔ جب سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) نے ہجرت کی تو ان کے ساتھ ان کی بیوی سارہ اور بھتیجا سیدنا لوط (علیہ السلام) تھے۔ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) فلسطین میں اور سیدنا لوط (علیہ السلام) اردن چلے گئے وہاں ان کو حکم ہوا کہ سدوم شہر کے مضافات میں چلے جاؤ اور وہاں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–84
رکوع نمبر 10 ۔ آیات نمبر 73 تا 84 ۔
اسرار و معارف :
حقیقت دعا :
بات اسی تسلسل میں جا رہی ہے کہ اللہ تعالیٰ بہت بڑی قدرت کا مالک اور اپنی مخلوق پر بہت زیادہ مہربان بھی ہے اس کی رحمت محتاجوں کو تلاش کرتی ہے اگر کوئی انسان محروم ہے تو اس کی وجہ نزول رحمت میں کمی نہیں خود اس کے دل میں قبولیت کی استعداد میں کمی ہے جیسے حدیث شریف ارشاد ہے کہ لوگ دور دراز سفر کرکے پریشان بالوں پھٹے ہوئے دامنوں اور گرد سے اٹے پاؤں اور چہرہ لے کر پکارتے ہیں یار یارب مگر ان کی دعا سنی نہیں جاتی اس لیے کہ کھانا حرام پہننا حرام ہوتا ہے بعض بےنصیب تو دعا ہی سے محروم ہوتے ہیں اور بعض صورت دعا تو بنا لیتے ہیں مگر حقیقت سے…
Read the full tafseer →ف 2 یعنی ان لوگوں میں رہ گئی جو حضرت لو ط ( علیہ السلام) کے ساتھ نہیں نکلے بلکہ اپنے علاقہ ہی میں رہے ان پر عذاب نازل ہوا تو وہ بھی انہی کے ساتھ تباہ ہوگئی۔
Read the full tafseer →(7:83) الغابرین۔ الغابر اسے کہتے ہیں جو ساتھیوں کے چلے جانے کے بعد پیچھے رہ جائے۔ اسی سے غبرۃ ہے۔ تھنوں میں باقی ماندہ دودھ۔ غبار وہ گردا جو قافلہ کے چلے جانے کے بعد پیچھے رہ جاتا ہے۔ مٹی اڑنے کے بعد فضا میں باقی رہ جائے۔ لہٰذا الغابدین پیچھے رہ جانے والے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–84
لغات القرآن آیت نمبر (80 تا 84) ۔
اتاتون (کیا تم آتے ہو ؟ ) ۔ الفاحشتہ (بےحیائی کے کام) ۔ ماسبق (نہیں گزرا) ۔ من احد (کوئی ایک بھی) ۔ الرجال (الرجل) ۔ مرد) ۔ شھوۃ (خواہش۔ بری خواہش) ۔ دون النسآء (حد سے باہر نکل جانے والے) ۔ اخرجوا (نکالو) ۔ قریتکم (تمہاری اپنی بستی) ۔ اناس (لوگ) ۔ یتطھرون (صاف ستھرا رہتے ہیں) ۔ امراتہ (اس کی عورت۔ اس کی بیوی) ۔ الغبرین (پیچھے رہنے والیوں (میں سے) ۔ امطرنا (ہم نے برسایا) ۔ عاقبتہ المجرمین (مجرموں کا انجام) ۔
تشریح : آیت نمبر (80 تا 84 ) ۔ ” قوم لوط کا وہی علاقہ ہے جسے آج ہم بحرمیت یا بحیرہ مردار کہتے ہیں۔ یہ بحیرہ سمندر سے بھی زیادہ گہرائی میں ہے۔ چناچہ اس میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–85
حضرت شعیب علیہ السلام۔ عذاب آگ اور زلزلہ
حضرت شعیب (علیہ السلام) کی دو امتیں ہیں اور سوا حضرت شعیب (علیہ السلام) کے اور کوئی نبی دو امتوں کی ہدایت کے لئے نہیں بھیجا گیا۔ ایک امت ان کی یہ قبیلہ ہے جس کا نام مدین ہے، اور حضرت شعیب (علیہ السلام) بھی اسی قبیلہ سے ہیں۔ اسی واسطے اللہ تعالیٰ نے حضرت شعیب (علیہ السلام) کو اس قبیلہ کا بھائی فرمایا ہے اور دوسری امت بن کے رہنے والے لوگ ہیں جن کو اصحاب الدی کہ فرمایا ہے اصحاب الدی کہ کے لوگ کم تولتے اور کم ناپتے تھے اور یہ لوگ پیڑوں کی بھی پوجا کیا کرتے تھے۔ لیکن قبیلہ مدین اور اصحاب الئی کہ ایک ہی امت تھے، جن کی ہدایت کے لئے حضرت شعیب (علیہ السلام)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–83
[37] لوط (علیہ السلام) کی بیوی کافرہ تھی اور غالباً اس قوم سے تھی۔ قرآن میں دوسرے مقامات پر تصریح ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے لوط (علیہ السلام) اور ان کے ساتھیوں کو وہاں سے نکل جانے کا حکم دیا تو یہ بھی ہدایت کی کہ بیوی کو ساتھ نہ لے جانا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 82–84
(ف 1) بدبختوں نے جب یہ دیکھا کہ حضرت لوط (علیہ السلام) ان کو ان کے حیوانی جذبات سے روکتے ہیں ، تو ان کے دشمن ہوگئے ، لگے کہنے ان کو گاؤں سے نکال دو ، یہ ہم سے زیادہ پاکباز رہنا چاہتے ہیں ،
اللہ تعالیٰ نے ان کے انکار وتمرد کو دیکھ کر عذاب بھیجا ، اور چشم زدن میں بستیوں کی بستیاں الٹ دیں ۔
حل لغات :
کیل : ماپ ۔
المیزان : تول وزن سے مشتق ہے ۔
Read the full tafseer →83 آخر کار ہم نے لوط (علیہ السلام) کو اور اس کے تمام متعلقین کو بجز اس کی بیوی کے نجات دے دی کہ اس کی بیوی باقی ماندہ عذاب شدگان میں رہ گئی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–84
ف 3۔ یہ بیوی کافر تھی جب لوط (علیہ السلام) کو قبل عذاب بستی سے نکل جانے کا حکم ہوا بعض نے تو کہا کہ یہ بیوی ساتھ نہیں گئی بعض نے کہا کہ ساتھ چلی گئی تھی پھر لوٹنے لگی اور ہلاک کردی گئی اور لوط (علیہ السلام) پھر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس آرہے۔
Read the full tafseer →انجام کار لوط (علیہ السلام) اور آپ (علیہ السلام) پر ایمان لانے والوں کو چھوڑ کر باقیوں کو ہلاک کردیا گیا :
94: اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یقیناً کچھ لوگ تھے جو لوط (علیہ السلام) پر ایمان لائے تھے کیونکہ پیچھے ” اناس “ کا لفظ آیا ہے جس کے معنی دراصل گروہ کے ہوتے ہیں۔ رہی یہ بات کہ وہ ان کے اہل کیسے ہوگئے جب کہ آیت میں ذکر ” اہل “ کا ہے تو اس کے متعلق بڑی تفصیل سے ہم لکھ چکے ہیں کہ نبی کے اصل اہل سے اس پر ایمان والے ہی مراد ہوتے ہیں اس جگہ اہل کا ذکر کر کے یہ بات واضح کردی کہ لوط (علیہ السلام) کے اپنے اہل سب ہی سچے مسلمان تھے اس لئے ان کو عذاب الٰہی سے بچایا گیا ہاں ! ان کی اہلیہ آپ کے اہل ہونے کے…
Read the full tafseer →Mentioned in the fourth (83) and the fifth (84) verses is the Divine punishment given to the people of Sadum for their crooked and immodest practice. As a consequence, the punishment of Allah Ta` ala descended on the entire people with the exception of Sayyidna Lut (علیہ السلام) and some of his companions who remained safe from the punishment. The words of the Qur'an say: فَأَنجَيْنَاهُ وَأَهْلَهُ (We saved him and his ` ahl' ). Who were these ` ahl?' Some commentators say that included in ` ahl' were two women who had become Muslims. The wife was not. Mentioned in another verse of the Qur'an…
Read the full tafseer →66. As the Qur'an mentions elsewhere, Lot's wife supported her disbelieving relatives to the last. Hence, when God directed Lot and his followers to migrate from that corrupt land, He ordained that Lot's wife be left behind.
This seems to be an inference from al- Tahrim 66: 10 - Ed.
Read the full tafseer →