Explained with ayahs 65–69
ہود ؑ اور ان کا رویہ !
فرماتا ہے کہ جیسے قوم نوح کی طرف حضرت نوح کو ہم نے بھیجا تھا قوم عاد کی طرف حضرت ہود ؑ کو ہم نے نبی بنا کر بھیجا یہ لوگ عاد بن ارم بن عوص بن سام بن نوح کی اولاد تھے۔ یہ عاد اولیٰ ہیں۔ یہ جنگل میں ستونوں میں رہتے تھے۔ فرمان ہے آیت (الم تر کف فعل ربک بعاد ارم ذات العماد التی لم یخلق مثلھا فی البلاد) یعنی کیا تو نے نہیں دیکھا کہ عاد ارم کے ساتھ تیرے رب نے کیا کیا ؟ جو بلند قامت تھے دوسرے شہروں میں جن کی مانند لوگ پیدا ہی نہیں کئے گئے۔ یہ لوگ بڑے قوی طاقتور اور لانبے چوڑے قد کے تھے جیسے فرمان ہے کہ عادیوں نے زمین میں ناحق تکبر کیا اور نعرہ لگایا کہ ہم سے زیادہ قوی کون ہے ؟…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–69
سورة الْاَعْرَاف 52
اصل میں لفظ آلاء استعمال ہوا ہے جس کے معنی نعمتوں کے بھی ہیں اور کرشمائے قدرت کے بھی اور صفات حمیدہ کے بھی۔ آیت کا پورا مطلب یہ ہے کہ خدا کی نعمتوں اور اس کے احسانات کو بھی یاد رکھو اور یہ بھی فراموش نہ کرو کہ وہ تم سے یہ نعمتیں چھین لینے کی قدرت بھی رکھتا ہے۔
Read the full tafseer →پانچویں آیت میں قوم عاد کا وہی اعتراض ذکر کیا گیا ہے جو ان سے پہلے قوم نوح ؑ نے پیش کیا تھا کہ ہم کسی اپنے ہی جیسے بشر اور انسان کو کیسے اپنا بڑا اور پیشوا مان لیں کوئی فرشتہ ہوتا تو ممکن تھا کہ ہم مان لیتے۔ اس کا جواب بھی قرآن کریم نے وہی ذکر کیا جو نوح ؑ نے دیا تھا کہ یہ کوئی تعجب کی بات نہیں کہ کوئی انسان اللہ کا نبی و رسول ہو کر لوگوں کو ڈرانے کے لئے آجائے۔ کیونکہ در حقیت انسان کے سمجھانے بجھانے کے لئے انسان ہی کا پیغمبر ہونا موثر ہوسکتا ہے۔
اس کے بعد ان کو وہ انعامات یاد دلائے جو اللہ تعالیٰ نے اس قوم پر مبذول فرمائے ہیں ارشاد فرمایا واذْكُرُوْٓا اِذْ جَعَلَكُمْ خُلَفَاۗءَ یعنی اس بات کو…
Read the full tafseer →وَاذْكُرُوْٓا اِذْ جَعَلَكُمْ خُلَفَاۗءَ مِنْۢ بَعْدِ قَوْمِ نُوْحٍ ، قوم نوح کے بعد عاد کو خالفت دیے جانے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ان کو بعینہ اسی علاقے میں اقتدار حاصل ہوا جس میں قوم نوح کو حاصل ہوا۔ ہم اوپر ذکر کر آئے ہیں کہ قوم نوح بالکل شمال میں تھی اور عاد کا علاقہ عرب کا جنوبی علاقہ تھا۔ اس خلافت کا مطلب صرف یہ ہے کہ جس طرح قوم نوح کو اقتدار و تمکن حاصل ہوا اسی طرح ان کے بعد تم کو حاصل ہوا۔ اس یاد دہانی میں حضرت ہود نے قوم کو اللہ تعالیٰ کا احسان بھی یاد دلایا ہے اور ان کو تنبیہ بھی فرمائی ہے احسان تو واضح ہے کہ جو تمکن و اقتدار قوم نوح کو حاصل تھا وہ ان کو حاصل ہوا اور تنبیہ یہ ہے کہ جب…
Read the full tafseer →69۔ 1 ایک دوسرے مقام پر اللہ تعالیٰ نے ان کی بابت فرمایا ' اس جیسی قوت والی قوم پیدا نہیں کی گئی ' اپنی اس قوت کے گھمنڈ میں مبتلا ہو کر اس نے کہا مَنْ اَ شَدُّ مِنَّا قُوَّۃً ہم سے زیادہ طاقتور کون ہے ؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ' جس نے انہیں پیدا کیا وہ ان سے زیادہ قوت والا ہے ' (حٰم سجدہ۔ 15)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–72
38:، یہ لوگ اپنے قد و قامت میں اتنے لمبے چوڑے تھے کہ سورة فجر میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ان جیسی قوم کسی بھی ملک میں پیدا نہیں کی گئی۔
Read the full tafseer →آیت ” وَاذکُرُواْ إِذْ جَعَلَکُمْ خُلَفَاء مِن بَعْدِ قَوْمِ نُوحٍ وَزَادَکُمْ فِیْ الْخَلْقِ بَسْطَۃً فَاذْکُرُواْ آلاء اللّہِ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُونَ (69)
” بھول نہ جاؤ کہ تمہارے رب نے نوح (علیہ السلام) کی قوم کے بعد تم کو اس کا جانشین بنایا اور تمہیں خوب تنومند کیا ‘ پس اللہ کی قدرت کے کرشموں کو یاد رکھو ‘ امید ہے کہ فلاح پاؤ گے ۔ “
انہیں زمین میں جو اقتدار اعلی عطا کیا گیا تھا اور جو جسمانی توانائی عطا ہوئی تھی اس کی وجہ سے ان کا فرض یہ تھا کہ وہ ان نعمتوں کا شکر ادا کرتے اور اللہ کی پکڑ سے ڈرتے اور اس برے انجام سے خوف کھاتے جو ان سے پہلے آنے والی اقوام کا ہوا ۔ اس لئے کہ انہوں نے اللہ…
Read the full tafseer →7 یعنی قوم نوح کے بعد دنیا میں تمہاری حکومتیں قائم کیں اور اس کی جگہ تم کو آباد کیا۔ شاید یہ احسان یاد دلا کر اس پر بھی متنبہ کرنا ہے کہ بت پرستی اور تکذیب رسول ﷺ کی بدولت جو حشر ان کا ہوا وہ کہیں تمہارا نہ ہو۔
8 جسمانی قوت اور ڈیل ڈول کے اعتبار سے یہ قوم مشہور تھی۔
9 جو احسانات مذکور ہوئے وہ اور ان کے علاوہ خدا کے دوسرے بیشمار احسانات یاد کر کے اس کے شکر گذار اور فرمانبردار بننا چاہیے نہ یہ کہ منعم حقیقی سے بغاوت کرنے لگو۔
Read the full tafseer →آیت 69 اَوَعَجِبْتُمْ اَنْ جَآءَ کُمْ ذِکْرٌ مِّنْ رَّبِّکُمْ عَلٰی رَجُلٍ مِّنْکُمْ لِیُنْذِرَکُمْ ط وَاذْکُرُوْٓا اِذْ جَعَلَکُمْ خُلَفَآءَ مِنْم بَعْدِ قَوْمِ نُوْحٍ وَّزَادَکُمْ فِی الْْخَلْقِ بَصْطَۃً ج
قوم نوح کی سطوت ختم ہوئی اور قوم تباہ و برباد ہوگئی تو اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے قوم عاد کو عروج عطا فرمایا۔ یہ بڑے قد آور اور جسیم لوگ تھے۔ اس قوم کو اللہ تعالیٰ نے دنیاوی طور پر بڑا عروج بخشا تھا۔ شداد اسی قوم کا بادشاہ تھا جس نے بہشت اراضی بنائی تھی۔ اب اس کی جنت اور اس شہر کے کھنڈرات کا سراغ بھی مل چکا ہے۔ جزیرہ نمائے عرب کے جنوبی صحرا میں ایک علاقہ ہے جہاں کی ریت بہت باریک ہے اور اس…
Read the full tafseer →73 قوم عاد کا قد و قامت اور ڈیل ڈول :۔ بعض روایات کے مطابق عاد کے لوگوں کے قد اوسطاً بارہ ہاتھ تھے اتنی ڈیل ڈول رکھنے والے انسانوں کی قوت اور طاقت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے پھر انہیں رزق کی فراوانی بھی حاصل تھی۔ سیدنا ہود (علیہ السلام) نے اللہ کے احسان جتلا کر انہیں بتلایا کہ دیکھو نوح (علیہ السلام) کی قوم نے بت پرستی نہ چھوڑی تو ان کا جو حشر ہوا وہ تمہارے سامنے ہے لہذا اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرو اور اسی کی عبادت کرو۔
Read the full tafseer →92 ۔ (کہ یہی فلاح دنیوی واخروی ہر پیغمبر کی تبلیغ و دعوت کا اصل مقصود رہی ہے) (آیت) ” جعلکم خلفآء من بعد قوم نوح “۔ یعنی بعد قوم نوح (علیہ السلام) کے بہ حیثیت ایک زبردست وپرقوت قوم کے تم ہی کو زمین پر آباد کیا۔ خلفاء سے مراد زمین پر نفس آبادی کی جانشینی ہے۔ یہ مراد نہیں کہ قوم نوح (علیہ السلام) کے وطن وملک ہی میں آباد کیا ہے۔ چناچہ قوم ہود (علیہ السلام) وقوم نوح (علیہ السلام) (عراق) سے بہت ہٹ کر جنوبی عرب میں آباد تھی۔ من علیھم بان جعلھم سکان الارض بعد قوم نوح (قرطبی) (آیت) ” وزادکم فی الخلق بصطۃ “۔ قوم عاد جسمانی حیثیت سے بڑے قد آور وقوی ہیکل لوگ تھے۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ آیت سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–72
آیت نمبر 65 تا 72
ترجمہ : اور ہم نے عاد اولی کی طرف ان کے بھائی ہود (علیہ السلام) کو بھیجا انہوں نے کہا اے میری قوم اللہ کی بندگی کرو (یعنی) اس کی توحید کا اقرار کرو، اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں، سو کیا تم اس سے ڈرتے نہیں ہو کہ ایمان لے آؤ، ان کی قوم کے کافر سرداروں نے کہا ہم تو تم کو حماقت جہالت میں مبتلا دیکھتے ہیں اور ہم تم کو دعوائے رسالت میں جھوٹا سمجھتے ہیں انہوں نے جواب دیا اے میری قوم میں ذرا بھی حماقت میں مبتلا نہیں، میں تو رب العالمین کی طرف سے بھیجا ہوا رسول ہوں میں تم کو اپنے رب کا پیغام پہنچاتا ہوں، (اُبلغکم) میں تخفیف وتشدید دونوں قراءتیں ہیں، اور تمہارا سچا خیر خواہ ہوں…
Read the full tafseer →اوعجبتم ان جآء کم ذکر من ربکم علی رجل منکم لینذرکم واذکروا اذ جعلکم خلفآء من بعد قوم نوح و زاد کم فی الخلق بصطۃ فاذکروا الآء اللہ لعلکم تفلحون۔
کیا (تم نے تکذیب کی اور) اس بات سے تمہیں تعجب ہوا کہ تم میں سے ہی ایک آدمی پر تمہارے رب کی طرف سے ایک یادداشت آگئی تاکہ وہ تم کو (کفر و معصیت کے عذاب سے) ڈرائے یاد کرو کہ قوم نوح (کو ہلاک کرنے) کے بعد اس نے تم کو اس کا جانشین بنایا اور ڈیل ڈول میں تم کو لمبائی چوڑائی زیادہ عطا کی اللہ کے ان احسانات کو یاد کرو تاکہ تم کو فلاح حاصل ہو۔
بصطۃً لمبائی اور قوت۔ کلبی اور سدی نے کہا قوم ثمود میں سب سے لمبا آدمی سو ہاتھ کا اور سب سے چھوٹا ستر ہاتھ کا ہوتا تھا۔…
Read the full tafseer →(69) کیا تم ہی کو اس بات پر تعجب ہے کہ تمہارے جیسا ہی ایک آدمی تمہارے پاس نبوت لے کر آیا ہے تاکہ تمہیں اللہ کے عذاب سے ڈرائے، اس وقت کو یاد کرو، جب تمہیں حضرت نوح ؑ کی قوم کے ہلاک ہونے کے بعد آباد کیا اور جسامت میں ایک خاص فضیلت بھی دی، اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو یاد کرکے اس پر ایمان لاؤ تاکہ تمہیں عذاب الہی سے نجات ملے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–70
وَاذْكُرُوْٓا اِذْ جَعَلَكُمْ خُلَفَاۗءَ مِنْۢ بَعْدِ قَوْمِ نُوْحٍ۔۔ : یعنی تمہیں قوی اور زبردست بنایا اور قوم نوح کے بعد ایک زبردست قوم کی حیثیت سے تمہیں زمین میں آباد کیا۔ یہاں ”خُلَفَاۗءَ“ سے یہی معنی مراد ہے، یہ مطلب نہیں کہ قوم نوح کے وطن عراق میں ان کا جانشین بنایا۔ (قرطبی) قوم عاد کے قد و قامت میں پھیلاؤ کے متعلق اللہ تعالیٰ نے خود شہادت دی ہے، فرمایا : (الَّتِيْ لَمْ يُخْلَقْ مِثْلُهَا فِي الْبِلَاد) [ الفجر : 8 ] یعنی ان جیسا کوئی شہروں میں پیدا نہیں کیا گیا اور یہ کہ عذاب کے بعد وہ یوں گرے ہوئے تھے جیسے کھجوروں کے گرے ہوئے تنے۔ دیکھیے سورة الحاقہ (7)۔
بعض علمائے تفسیر نے قوم عاد کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–70
قولہ تعالیٰ : آیت : والی عاد اخاھم ھودا یعنی اور ہم نے عاد کی طرف ان کے بھائی حضرت ہود (علیہ السلام) کو بھیجا۔ حضرت ابن عباس ؓ نے بیان کیا ہے : مراد یہ ہے کہ آپ ان کے باپ کے بیٹے تھے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : آپ قبیلہ میں ان کے بھائی تھے۔ اور یہ قول بھی ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ آۃ پ ان کے باپ حضرت آدم (علیہ السلام) کی اولاد میں سے ایک بشر ( اور انسان) تھے۔ اور مصنف ابی داؤد میں ہے کہ اخاھم ھودا کا معنی ہے ان کے ساتھ ہودعلیہ السلام ( کو ان کی طرف بھیجا) اور عاد سام بن نوح (علیہ السلام) کی اولاد میں سے تھے۔ ابن اسحاق نے نسب اس طرح بیان کیا ہے : عاد ھو ابن عوص بن ارم بن شالغ بن ارفخشد بن سام بن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–71
(1) امام ابن منذر نے کلبی کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” والی عاد اخاھم ھودا “ یعنی وہ ان کے دین کے بھائی نہیں تھے لیکن وہ ان کے نسبی بھائی تھے کیونکہ ھود (علیہ السلام) ان میں سے نہ تھے۔ اس لئے آپ کو ان کا بھائی کہا گیا۔
(2) امام اسحاق بن بشیر اور ابن عساکر نے شرفی بن قطامی (رح) سے روایت کیا کہ ھود کا نام عابر بن شالح بن ارفشخد بن سام بن نوح تھا۔
(3) امام ابن منذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ وہ لوگ گمان کرتے تھے کہ ھود (علیہ السلام) کا تعلق ایک قبیلہ بنی عبد الخضم سے تھا۔
(4) امام اسحاق بن بشر اور ابن عساکر نے عطاء کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ھود پہلے آدمی تھے…
Read the full tafseer →اَوَ [ اور کیا ] عَجِبْتُمْ [ تمہیں عجیب لگا ] اَنْ [ کہ ] جَاۗءَكُمْ [ آئی تمہارے پاس ] ذِكْرٌ [ ایک یاد دہانی ] مِّنْ رَّبِّكُمْ [ تمہارے رب (کی طرف ) سے ] عَلٰي رَجُلٍ [ ایک شخص پر ] مِّنْكُمْ [ تم میں سے ] لِيُنْذِرَكُمْ ۭ [ تاکہ وہ وارننگ دے تم کو ] وَاذْكُرُوْٓا [ اور یاد کرو ] اِذْ [ جب ] جَعَلَكُمْ [ اس نے بنایا تمہیں ] خُلَفَاۗءَ [ خلیفہ ] مِنْۢ بَعْدِ قَوْمِ نُوْحٍ [ نوح کی قوم کے بعد سے ] وَّزَادَكُمْ [ اور زیادہ کیا تمہیں ] فِي الْخَلْقِ [ مخلوق میں ] بَصْۜطَةً ۚ [ بلحاظ کشادگی کے ] فَاذْكُرُوْٓا [ پس یاد کرو ] اٰلَاۗءَ اللّٰهِ [ اللہ کی مہربانیوں کو ] لَعَلَّكُمْ [ شائد تم لوگ ]…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–74
حضرت صالح (علیہ السلام) کا اپنی قوم کو تبلیغ کرنا اور سر کشی اختیار کر کے قوم کا ہلاک ہونا
حضرت صالح (علیہ السلام) جس قوم کی طرف مبعوث ہوئے وہ قوم ثمود تھی۔ عاد اور ثمود دونوں ایک ہی دادا کی اولاد ہیں۔ یہ دونوں دو شخصوں کے نام تھے۔ بنو عاد قوم عاد کے نام سے اور بنو ثمود قوم ثمود کے نام سے معروف و موسوم ہوئے۔ قوم ثمود عرب کے شمال مغرب میں رہتے تھے ان کے مرکزی شہر کا نام حجر تھا۔ جس کو سورة حجر کے چھٹے رکوع میں بیان فرمایا ہے۔ قوم عاد کی بربادی کے بعد یہ لوگ زمین میں بسے اور پھلے پھولے۔ یہ لوگ بھی قوت اور طاقت والے تھے۔ زمین پر بڑے بڑے مکانات بناتے تھے اور پہاڑوں کو تراش کر اپنے لیے گھر بنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–72
قصہ دوم حضرت ہود (علیہ السلام) با قوم عاد
قال اللہ تعالیٰ والی عاد اخاھم ھودا۔۔۔ الی۔۔۔ وماکانوا مومن ین۔
(ربط) اب دوسرا قصہ قوم عاد کا بیان کرتے ہیں یہ قوم طوفان نوح کے بعد ملک عرب کے جنوبی حصہ یعنی یمن میں آباد تھی یمن میں ایک مقام احقاف تھا وہاں یہ لوگ رہتے تھے اور اس قوم کے لوگ بڑے قد آور اور تناور تھے اور حضرت نوح (علیہ السلام) کے بعد ہود (علیہ السلام) اس قوم کی طرف پیغمبر بنا کر بھیجے گئے پر ناز تھا اور یہ کہا کرتے تھے کہ دنیا میں ہم سے زیادہ کوئی قوی نہیں وقالوا من اشد منا قوۃ۔
ہود (علیہ السلام) نے ان کو نصیحت کی اور شرک اور ظلم سے منع کیا اور عذاب الٰہی سے ڈرایا مگر کچھ اثر نہ ہوا جسم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–70
78: قوت یا پھیلاؤ :۔ قوم نے جواب میں کہا کہ تم ہمارے پاس اس لیے آئے کہ ہم صرف ایک اللہ کی عبادت کریں اور صرف اسی کو پکاریں اور جن معبودوں کو ہمارے باپ دادا پکارتے چلے آئے ہیں ان کو ہم چھوڑ دیں تو سن لو کہ ایسا ہرگز نہیں ہوگا۔ باقی جس عذاب سے تم ہمیں ڈراتے ہو اگر تمہارے بیان میں کچھ سچائی ہے تو وہ عذاب لے آؤ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–69
ربط آیات
گزشتہ رکوع سے اللہ تعالیٰ نے تاریخ انبیاء کا بیان شروع کیا ہے جس میں ان کی دعوت الی التوحید اور طریقہ تبلیغ کا ذکر ہے حضرت نوح (علیہ السلام) کی شخصیت ، آپ کی دعوت اور قوم کا جواب بیان ہوچکا ہے کہ کس طرح انہوں نے اپنے نبی کی دعوت کا انکار کیا آپ کی نافرمانی کی اور آپ پر گمراہی کا الزام لگایا اس کی پاداش میں اللہ تعالیٰ نے چند اہل ایمان کے علاوہ پوری قوم کو غرق کردیا اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وہ ساری قوم اندھی تھی یعنی دل کی بصیرت سے محروم تھی نوح (علیہ السلام) نے تبلیغ دین اور خیر خواہی کا پورا پورا حق ادا کیا قوم کو ہر طریقے سے سمجھانے کی کوشش کی مگر انہوں نے کوئی اثر قبول نہ کیا اور…
Read the full tafseer →قَالُوْٓا اَجِئْتَنَا لِنَعْبُدَ اللہَ وَحْدَہٗ وَنَذَرَ مَا كَانَ يَعْبُدُ اٰبَاۗؤُنَا 0 ۚ فَاْتِنَا بِمَا تَعِدُنَآ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِيْنَ 70
عبادت
العُبُودِيَّةُ : إظهار التّذلّل، والعِبَادَةُ أبلغُ منها، لأنها غاية التّذلّل، ولا يستحقّها إلا من له غاية الإفضال، وهو اللہ تعالی، ولهذا قال : أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ [ الإسراء/ 23] . والعِبَادَةُ ضربان :
عِبَادَةٌ بالتّسخیر، وهو كما ذکرناه في السّجود .
وعِبَادَةٌ بالاختیار، وهي لذوي النّطق، وهي المأمور بها في نحو قوله : اعْبُدُوا رَبَّكُمُ [ البقرة/ 21] ، وَاعْبُدُوا اللَّهَ [ النساء/ 36] .
( ع ب د ) العبودیۃ
کے معنی ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–70
ترکیب : ھودا بدل ہے اخاھم سے جو مفعول ہے فعل مخدوف کا ‘ اے ارسلنا ان جاء کم تبادیل مصدر مفعول ہے عجبتمکا من ربکم ذکر کی صفت یا حال علی رجل حال بھی ہوسکتا ہے اے نازلا علی رجل او جاء کم سے علی المعنی متعلق بھی ہوسکتا ہے لا نہ فی المعنی نزل الیکم وفی الکلام حذف مضاف اے علی قلب رجل او علی لسان رجل فی الخلق زاد کم سے متعلق وحدہ مصدر حال ہے اللّٰہ سے اے مفرد ایا فاعل لنعبد سے ای موحدین لہ ونذر معطوف ہے نعبد پر جو منصوب ہے ان مقدرہ سے ماکان الخ نذر کا مفعول۔
تفسیر : قوم عاد کا تذکرہ : یہاں سے دوسرا قصہ قوم عاد کا شروع ہوتا ہے یہ ایک قوم بعد طوفان نوح کے ملک عرب کے جنوبی حصہ میں آباد تھی۔ یہ لوگ عاد…
Read the full tafseer →ارشاد فرمایا :
اَوَ عَجِبْتُمْ اَنْ جَآئَکُمْ ذِکْرٌ مِّنْ رَّبِّکُمْ عَلٰی رَجُلٍ مِّنْکُمْ لِیُنْذِرَکُمْ ط وَاذْکُرُوْٓا اِذْ جَعَلَکُمْ خُلَفَآئَ مِنْ م بَعْدِ قَوْمِ نُوْحٍ وَّ زَادَکُمْ فِی الْخَلْقِ بَصْطَۃً ج فَاذْکُرُوْٓا اَلَآئَ اللہِ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ ۔ (الاعراف : 69)
” کیا تمہیں اس بات پر تعجب ہے کہ تمہارے پاس خود تمہاری اپنی قوم کے ایک آدمی کے ذریعہ سے تمہارے رب کی یاد دہانی آئی ‘ تاکہ وہ تمہیں خبردار کرے ؟ اور یاد کرو کہ تمہارے رب نے نوح کی قوم کے بعدتمھیں ان کا جانشین بنایا اور جسمانی اعتبار سے تمہیں وسعت و کشادگی عطا فرمائی۔ پس اللہ کی قدرت کے کرشموں کو یاد رکھو ‘ تاکہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–72
فہم القرآن
حضرت ھود (علیہ السلام) :
حضرت ھود (علیہ السلام) کا تعلق عرب کے عاد قبیلے سے تھا جن کی رہائش موجودہ جغرافیے کے مطابق عمان اور یمن کے علاقے حضرموت کے درمیان تھی۔ یہ علاقہ سمندر کے کنارے پر واقع تھا یہاں ریت کے بڑے بڑے ٹیلے اور بلندو بالا پہاڑ تھے۔
اس کے باسی جسمانی اعتبار سے دراز قامت، کڑیل جوان اور قوی ہیکل تھے۔ دنیا میں ان کا کوئی ثانی نہیں تھا۔ انھوں نے پہاڑ تراش، تراش کر خوبصورت محلات تعمیر کر رکھے تھے۔ ان کی سرزمین نہایت سر سبزتھی جس میں ہر قسم کے باغات آراستہ تھے انھیں قرآن مجید میں ” احقاف والے “ کہا گیا ہے۔ احقاف ریت کے بڑے بڑے ٹیلوں کو کہا جاتا ہے جو عرب کے جنوب مغربی حصہ…
Read the full tafseer →تقریر نمبر : 2
آیت 69: اَوَ عَجِبْتُمْ اَنْ جَآئَ کُمْ ذِکْرٌ مِّنْ رَّبِّکُمْ عَلٰی رَجُلٍ مِّنْکُمْ لِیُنْذِرَکُمْ وَاذْکُرُوْٓا اِذْ جَعَلَکُمْ خُلَفَآئَ مِنْم بَعْدِ قَوْمِ نُوْحٍ (اور کیا تم اس بات سے تعجب کرتے ہو کہ تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہارے پاس ایک ایسے شخص کی معرفت جو تمہاری ہی جنس کا ہے کوئی نصیحت کی بات آگئی تاکہ وہ شخص تم کو ڈرائے۔ اور تم یہ حالت یاد کرو کہ اللہ تعالیٰ نے تم کو قوم نوح کے بعد آباد کیا) یعنی تم زمین میں ان کے نائب ہو۔ یا اپنے مکانات میں اِذْیہاں مفعول بہ ہے۔ ظرف نہیں۔ یعنی اذکروا وقت استخلا فکم اپنے نائب بننے کا وقت یاد کرو۔ وَّ زَادَ کُمْ فِی الْخَلْقِ…
Read the full tafseer →69(اوعجبتم ان جآء کم ذکر من ربکم علی رجل منکم لینذرکم ط واذکروا اذ جعلکم خلقآء من بعد قوم نوح) یعنی زمین میں ان کے ہلاک کرنے کے بعد (وزادکم فی الخلق بصطۃ) یعنی لمبائی اور طاقت کلبی اور سدی رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ ان کے لمبے آدمی کا قد سوگز اور چھوٹے آدمی کا قد ساٹھ گز ہوتا تھا۔ ابوحمزہ ثمالی (رح) فرماتے ہیں ستر گز اور ابن عباس ؓ فرماتے ہیں اسی گز۔ اور مقاتل (رح) فرماتے ہیں ہر آدمی کی لمبائی بارہ گز تھی اور وہب (رح) فرماتے ہیں کہ ان میں سے ایک کا سر بڑے گنبد کی طرح تھا۔ (فاذکروا الآء اللہ) انعامات کو اور اس کا واحد الی ہے اور الی معی اور امعاء اور قفا اور اقفاء کی طرح ہے اور اس کی نظیر ”…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–72
(65 ۔ 72) ۔ حضرت ہود ( علیہ السلام) حضرت نوح ( علیہ السلام) کے خاندان میں سے ہیں حضرت ہود ( علیہ السلام) کی امت قوم عاد کا ملک حضرموت تک عثمان وغیرہ تھا۔ اور بڑا شاداب ملک تھا قوم عاد کے لوگ بڑے قوی ساٹھ ساٹھ گز کے قدتک کے تھے عذاب کی آندھی آٹھ روز تک جو ان پر چلی پہلے اس آندھی سے کھیتی کرنے والے لوگ اور ان کے جانور پٹخنیاں کھا کھا کر گرے اور ہلاک ہوئے پھر شہروں کے لوگ اسی طرح ہلاک ہوئے قوم عاد نے بہت عمارتیں سنگین بنائیں اور پہاڑوں پر یادگار کے لئے بہت سے مینار بنائے آندھی کے عذاب سے پہلے ان میں قحط کے عذاب پھیلے کئ برس تک سخت قحط رہا چند آدمی ان میں سے مکہ قحط کے رفع کی دعا مانگنے گئے مکہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–71
آیت 59
جب اللہ تعالیٰ نے اپنی توحید کے دلائل میں سے ایک اچھا حصہ ذکر فرمایا، تو اب اس کی تائید میں انبیائے کرام کا، جو اس کی توحید کے داعی تھے اور اس رویے کا جو ان کی امتوں کے منکرین توحید کی طرف سے پیش آیا، اسے بیان فرما رہا ہے۔ نیز یہ کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے کیسے اہل توحید کی تائید فرمائی اور انبیاء ومرسلین سے عناد رکھنے والوں اور ان کی اطاعت نہ کرنے والوں کو ہلاک کردیا۔۔۔ اور کیسے انبیاء ومرسلین کی دعوت ایک ہی دین اور ایک ہی عقیدہ پر متفق تھی۔ چناچہ نوح جو اولین رسول ہیں، کے بارے میں فرمایا : (لقد ارسلنا نوحاً الی قومہ) ” ہم نے نوح کو ان کی قوم کی طرف بھیجا۔ “ حضرت نوح کفار کو اکیلے اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–141
دعا کا طریقہ
قول باری ہے وادعواربکم تضرعاً عاوخفیۃ۔ اپنے رب کو پکارو گڑگڑاتے ہوئے اور چپکے چپکے) آیت میں چپکے چپکے رب کو پکارنے کا حکم ہے حسن کا قول ہے کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے تمہیں اس بات کی تعلیم دی ہے کہ تم اپنے رب کو کس طرح پکارو۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک عہد صالح کا ذکر فرمایا جس کی پکار کو اس نے پسند فرمایا تھا چناچہ ارشاد ہے اذنادی ربہ نداء خفیا۔ جبکہ اس نے اپنے رب کو چپکے چپکے پکارا) یعنی حضرت زکریاعلیہ السلام عبداللہ بن المبارک نے حسن بصری سے روایت کی ہے کہ لوگ یعنی صحابہ کرام بڑی عاجزی اور نیاز مندی کے ساتھ دعائیں مانگا کرتے تھے اور صرف سرگوشی کی آواز سنائی دیتی تھی۔ حضرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–70
91 پیغمبر کی دعوت خالص خیرخواہی پر مبنی ہوتی ہے : نہ تو تمہارے ساتھ اس خیر خواہی میں کسی ذاتی غرض کا کوئی شائبہ ہے اور نہ ہی اس پیغام ربانی میں کسی آمیزش کا کوئی سوال۔ جس کے ساتھ مجھے تمہاری طرف بھیجا گیا ہے۔ پس اس کو قبول کرنے اور صدق دل سے اپنانے میں خود تمہارا اپنا ہی بھلا اور فائدہ ہے، دنیا کی اس عارضی اور فانی زندگی میں بھی اور اس کے بعد آخرت کے اس حقیقی اور ابدی جہاں میں بھی۔ سو پیغمبر کی دعوت خالص خیرخواہی اور صدق و اخلاص پر مبنی ہوتی ہے۔ اس میں ذاتی اغراض یا نفسانی خواہشات کا کوئی شائبہ نہیں پایا جاتا۔ حضرت ھود (علیہ السلام) کے اس جواب میں بھی وہی پیغمبرانہ ادب عالی پایا جاتا ہے جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–72
سیدنا ہود (علیہ السلام) اور قوم کی تباہی
تشریح : ان آیات میں سیدنا ہود (علیہ السلام) اور قوم ہود کا مختصرقصہ بیان کیا ہے۔ ہود (علیہ السلام) ایک نبی کا نام ہے یہ نوح (علیہ السلام) کی پا نچویں نسل اور سام کی اولاد میں ہیں۔ سیدنا ہود (علیہ السلام) عاد کی طرف رسول بنا کر بھیجے گئے، عاد ایک بڑی زبردست طاقتور قوم کا نام ہے۔ یہ سیدنا نوح (علیہ السلام) کے پوتے ارم کی اولاد تھے اور یمن میں احقاف کے علاقے میں رہتے تھے۔ عاد کے تیرہ خاندان تھے۔ عمان سے لیکر حضرموت تک کی بستیاں آباد تھیں۔ ان کی زمینیں بڑی زرحیز اور باغات تھے۔ بڑے بڑے شاندار محلات بناتے اور ان میں خوشگوار زندگیاں گزارتے تھے، مضبوط، صحت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–72
رکوع نمبر 9 ۔ آیات 65 ۔ تا۔ 72
اسرار و معارف :
توحید : اسی طرح زمین پر آباد ہونے والے لوگ پھلے پھولے اور پھر سے آبادی بڑھی تو نوح (علیہ السلام) کی پانچویں پشت میں عاد جو ان کے بیٹے سام کی اولاد میں سے تھا معروف آدمی گذرا حتی کہ اس کی پوری قوم عاد کہلائی اسی کے دوسرے بھائی کی اولاد ثمود یا عاد ثانی کہلائی مورخین کی مطابق عاد کے دادا کا نام ارم تھا لہذا انہیں عاد ارم بھی کہا گیا ہے جب یہ لوگ خوب آباد ہوگئے اور زمین سونا اگلنے لگی ہر طرح کی فصلیں اور پھل کثرت سے پیدا ہونے لگے پھر یہ تنومند اور بہت قد آور اقوام تھیں غرض ہر طرح کی شان و شوکت نصیب ہوئی تو اللہ کریم سے غافل ہوگئے اور اپنی طاقت اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–69
ف 4 یعنی تم کو قوی اور زیردست بنایا۔ اور قوم نوح ( علیہ السلام) کے بعد ایک زبر دست قوم کی حیثیت سے تمہیں زمین پر آباد کیا یہاں خلفا سے یہی معنی مراد ہیں یہ مطلب نہیں ہے کہ قوم نو ھ کے وطن عراق میں انکا جانیشن مقرر کیا ( قر طبی) بعح علمائے تفسیر نے قوم عاد کی جسمانی قوت اور انکے قدر قامت کی لمبائی کے بارے میں عجیب و غریب روایات نقل کی ہیں، مثلا یہ کہ عاد کی قوم کا ایک لمبا آدمی سو ہاتھ کا اور اسب سے چھوٹے قد کا ساٹھ ہاتھ کا ہوتا تھا۔ اور بعض روایا میں ہے کہ اس کا ایک آدمی اتنے پتھر کو اکیلا اٹھا لیتا تھا جسے ہمارے زمانہ کے پانچ سو آدمی بھی نہیں اٹھا سکتے وغیرہ وغیرہ۔ لیکن یہ تمام روایات تاریخی…
Read the full tafseer →(7:69) بصطۃ۔ بسطۃ۔ کشادگی ۔ وسعت۔ کشائس۔ بسیط۔ کشادہ۔ وسیع۔ الای ۔ الیٔ کی جمع۔ احسانات۔ نعمتیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–70
لغات القرآن آیت نمبر (65 تا 70 ) ۔
سفاھتہ (بےوقوفی۔ بےعقلی) ۔ نظن (ہم گمان کرتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں) ۔ امین (ایماندار) ۔ بصطتہ (پھیلاؤ) ۔ الاء (الی) ۔ نعمتیں) ۔ اجئتنا (کیا تو ہمارے پاس آیا ہے) ۔ لنعبد اللہ (تاکہ ہم اللہ کی عبادت و بندگی کریں) ۔ وحدہ (اس اکیلے کی۔ تنہا کی) ۔ ابائونا (ہمارے باپ دادا) ۔ فاتنا (پس تو لے آ) ۔ تعدنا (تو ہم سے وعدہ کرتا ہے) ۔
تشریح : آیت نمبر 65 تا 70 ) ۔ ” قوم عاد دنیا کی قدیم ترین قوموں میں سے ایک قوم ہے اللہ نے ان کو ہر طرح کی نعمتوں سے نوازا تھا مگر وہ قوم ان نعمتوں کو پا کر ایسی مد ہوش ہوگئی کہ پھر ان کو ہر نصیحت کرنے والا برا لگنے لگا تھا۔ اس قوم کی حکومت و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–73
حضرت صالح (علیہ السلام) اور عذابچنگھاڑ کا ذکر
حضرت صالح (علیہ السلام) بھی حضرت نوح (علیہ السلام) کے خاندان سے ہیں۔ قوم عاد کی ہلاکت کے بعد اس سرزمین میں قوم صالح کے لوگ جن کو ثمود کہتے ہیں بسے۔ بڑی بڑی عمر کے لوگ اس قوم میں ہوئے۔ اینٹ مٹی کے مکان ان کی عمر بھر میں کافی نہ ہوئے تو انہوں نے پہاڑوں کو تراش کر گھر بنائے۔ نوعمری سے حضرت صالح (علیہ السلام) نبی ہوئے۔ نصیحت کرتے کرتے بڈھے (بوڑھے) ہوگئے مگر ان میں سے چند ایک ہی ایمان لائے۔ سال بھر میں ایک روز ان کی عید کا ہوتا تھا۔ اس روز انہوں نے حضرت صالح (علیہ السلام) سے کہا کہ تم ہمارے لئے ایک معجزہ کی اپنے اللہ سے دعا کرو اور ہم بتوں سے اسی معجزہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–71
[32] یعنی تم کسی کو بارش کا، کسی کو ہوا کا، کسی کو دولت کا اور کسی کو بیماری کا رب کہتے ہو حالانکہ ان میں سے کوئی بھی کسی چیز کا رب نہیں ہے، یہ سب محض نام ہیں جو تم نے گھڑ لئے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–69
حضرت ہود (علیہ السلام) :
(ف 1) نوح (علیہ السلام) کے بعد حضرت ہود (علیہ السلام) نے قوم کی قیادت فرمائی ان کی قوم نہایت قوی ہیکل اور مضبوط تھی ، حضر موت سے لے کر عمان تک یہ لوگ پھیلے ہوئے تھے ،
آپ نے بھی یہی کہا ، اے قوم ایک اللہ کی چوکھٹ پر جھکو ، اس خدا کے سوا اور کون ہے جو تمہاری مشکل کشائی کرے ۔
قوم کے اکابر سے ان کو بھی یہی جواب ملا کہ بیوقوف ہو ، اور جھوٹے ہو ،
اور لطف یہ ہے ، کہ مخالفت ہمیشہ اکابر نے کی ، اس لئے کہ وہ خوب سمجھتے تھے ، کہ اگر یہ کامیاب ہوگیا ، تو ہمارا کبروغرور خاک میں مل جائے گا ۔
حل لغات :
عمین : اندھے ، یعنی دلوں میں بصیرت کا مادہ سلب ہوگیا ۔
Read the full tafseer →69 کیا تم کو اس بات پر کوئی تعجب ہے اور تم اس پر تعجب کرتے ہو کہ تمہارے پروردگار کی جانب سے تمہارے ہی میں سے ایک مرد کی معرفت اور وساطت سے تم کو کوئی نصیحت کی بات پہنچ گئی اور اس کے احکام اس شخص کے ذریعہ تم تک آگئے تاکہ وہ تم کو نافرمانی اور شرک کے انجام سے ڈرا دے اور خوف دلائے اور اللہ تعالیٰ کا تم لوگ وہ احسان یاد کرو کہ اس نے تم کو نوح (علیہ السلام) کی قوم کے بعد زمین کا خلیفہ اور جانشین بنایا اور روئے زمین پر تم کو آباد کیا اور قدو قامت اور قوت و طاقت اور ڈیل ڈول کے پھیلائو میں تم کو اوروں سے زیادہ کیا۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ کے انعامات و احسانات کو یاد کرتے رہو تاکہ تم فلاح پائو اور کامیابی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–71
ف 2۔ اور یاد کرکے احسان مانو اور اطاعت کرو۔
Read the full tafseer →ایک آدمی کا رسول (علیہ السلام) بن کر آنا تمہارے لئے اچنبھا کی بات کیوں ہے ؟
79: تم کو اپنی ہی قوم کے ایک انسان پر اللہ کا پیغام نازل ہونے سے اچنبھا نہیں ہونا چاہئے کیونکہ یہ تو قدیم سے اللہ کی سنت جاریہ ہے کہ انسانوں کی ہدایت وسعادت کے لئے ان ہی میں سے ایک شخص کو چن لیتا ہے اور اپنا رسول بنا کر اس سے خطاب کرتا ہے اور اپنی مرضیات نا مرضیات سے اس کی معرفت اپنے بندوں کو مطلع کرتا رہتا ہے اور فطرت کا تقاضا بھی تو یہی ہے کہ جب تک اس نظام کو جاری ساری رکھا جانا علم الٰہی میں موجود ہے اس وقت تک ہادی و رہنما براہ راست اللہ سے منتخب ہو کر آتے رہیں اور جب تک خاتم الانبیاء (علیہ السلام) کی آمد کی نہ…
Read the full tafseer →(3)-Once again, the objection of the people of ` Ad mentioned in the fifth verse (69) is the same as raised by the people of Sayyidna Nuh (علیہ السلام) before them - that is, how can we take a human being like us as our superior? Had it been an angel, maybe we would have done that.' In answer to this what the Qur'an has mentioned is the reply given by Sayyidna Nuh (علیہ السلام) to his people - where he had said that there was nothing to be surprised about the fact that a human being comes to people as the prophet or messenger of Allah to put His fear in their hearts, because it is a human…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–69
52. The word ala' used in the above verse stands for bounties, wondrous works of nature, and praiseworthy qualities. The purpose of the verse is to impress upon man to gratefully, recognize the favours God has lavished upon him, bearing in mind that God also has the Power to take them away.
Read the full tafseer →