Explained with ayahs 65–69
ہود ؑ اور ان کا رویہ !
فرماتا ہے کہ جیسے قوم نوح کی طرف حضرت نوح کو ہم نے بھیجا تھا قوم عاد کی طرف حضرت ہود ؑ کو ہم نے نبی بنا کر بھیجا یہ لوگ عاد بن ارم بن عوص بن سام بن نوح کی اولاد تھے۔ یہ عاد اولیٰ ہیں۔ یہ جنگل میں ستونوں میں رہتے تھے۔ فرمان ہے آیت (الم تر کف فعل ربک بعاد ارم ذات العماد التی لم یخلق مثلھا فی البلاد) یعنی کیا تو نے نہیں دیکھا کہ عاد ارم کے ساتھ تیرے رب نے کیا کیا ؟ جو بلند قامت تھے دوسرے شہروں میں جن کی مانند لوگ پیدا ہی نہیں کئے گئے۔ یہ لوگ بڑے قوی طاقتور اور لانبے چوڑے قد کے تھے جیسے فرمان ہے کہ عادیوں نے زمین میں ناحق تکبر کیا اور نعرہ لگایا کہ ہم سے زیادہ قوی کون ہے ؟…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–69
سورة الْاَعْرَاف 52
اصل میں لفظ آلاء استعمال ہوا ہے جس کے معنی نعمتوں کے بھی ہیں اور کرشمائے قدرت کے بھی اور صفات حمیدہ کے بھی۔ آیت کا پورا مطلب یہ ہے کہ خدا کی نعمتوں اور اس کے احسانات کو بھی یاد رکھو اور یہ بھی فراموش نہ کرو کہ وہ تم سے یہ نعمتیں چھین لینے کی قدرت بھی رکھتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–68
تیسری اور چوتھی آیت میں اس کا جواب بھی تقریباً اسی انداز کا ہے جیسا نوح ؑ نے دیا تھا۔ یعنی یہ کہ مجھ میں بےوقوفی کچھ نہیں بات صرف اتنی ہے کہ میں رب العالمین کی طرف سے رسول اور پیغمبر بن کر آیا ہوں اس کے پیغامات تمہیں پہنچاتا ہوں۔ اور میں واضح طور پر تمہارا خیر خواہ ہوں۔ اس لئے تمہاری آبائی جہالتوں اور غلطیوں میں تمہارا ساتھ دینے کے بجائے میں تمہارے طبائع کے خلاف حق بات تمہیں پہنچاتا ہوں جس سے تم برا مانتے ہو۔
Read the full tafseer →اُبَلِّغُكُمْ رِسٰلٰتِ رَبِّيْ وَاَنَا لَكُمْ نَاصِحٌ اَمِيْنٌ۔ ناصح کے ساتھ ’ امین ‘ کی صفت یہاں اسی طرح آئی ہے جس طرح سورة شعرا میں ہے۔ انی لکم رسول امین۔ امانت، خیانت کا ضد ہے۔ رسول کی ایک بڑی نمایاں صفت یہ ہوتی ہے کہ وہ امین ہوتا ہے۔ یعنی جو پیغام اس کے حوالہ کیا جاتا ہے وہ پوری امانت داری کے ساتھ اس کو پہنچاتا ہے۔ اس میں سر موُ کمی بیشی نہیں کرتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–68
66۔ 1 یہ کم عقلی ان کے نزدیک یہ تھی کہ بتوں کو چھوڑ کر، جن کی عبادت ان کے آباواجداد سے ہوتی آرہی تھی۔ اللہ واحد کی عبادت کی طرف دعوت دی جا رہی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–68
37: قوم عاد عربوں کی ابتدائی نسل کی ایک قوم تھی جو حضرت عیسیٰ ؑ سے کم از کم دو ہزار سال پہلے یمن کے علاقے حضرموت کے آس پاس آباد تھی، یہ لوگ اپنی جسمانی طاقت اور پتھروں کو تراشنے کے ہنر میں مشہور تھے، رفتہ رفتہ انہوں نے بت بناکر ان کی پوجا شروع کردی اور اپنی طاقت کے گھمنڈ میں مبتلا ہوگئے، حضرت ہود ؑ ان کے پاس پیغمبر بناکر بھیجے گئے اور انہوں نے اپنی قوم کو بڑی دردمندی سے سمجھانے کی کوشش کی اور انہیں توحید کی تعلیم دے کر اللہ تعالیٰ کا شکر گزار بننے کی تعلیم دی مگر کچھ نیک طبع لوگوں کے سوا باقی لوگوں نے ان کا کہنا نہیں مانا، پہلے ان کو قحط میں مبتلا کیا گیا اور حضرت ہود ؑ نے انہیں یاد دلایا کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–68
آیت ” قَالَ الْمَلأُ الَّذِیْنَ کَفَرُواْ مِن قَوْمِہِ إِنَّا لَنَرَاکَ فِیْ سَفَاہَۃٍ وِإِنَّا لَنَظُنُّکَ مِنَ الْکَاذِبِیْنَ (66)
” اس کی قوم کے سرداروں نے ‘ جو اس کی بات ماننے سے انکار کر رہے تھے ‘ جواب میں کہا ” ہم تو تمہیں بےعقلی میں مبتلا سمجھتے تھے اور ہمیں گمان ہے کہ تم جھوٹے ہو ۔ “
یہ تھا ان اکابرین کا جواب جو محض ایک مذاق تھا اور تدبر اور دلیل سے خالی تھا ۔ حضرت کا جواب یہ تھا :
آیت ” قَالَ یَا قَوْمِ لَیْْسَ بِیْ سَفَاہَۃٌ وَلَکِنِّیْ رَسُولٌ مِّن رَّبِّ الْعَالَمِیْنَ (67) أُبَلِّغُکُمْ رِسَالاتِ رَبِّیْ وَأَنَاْ لَکُمْ نَاصِحٌ أَمِیْنٌ(68)
” اس نے کہا ” اے برادران قوم ‘ میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–68
6 یعنی میری کوئی بات بےعقلی کی نہیں، ہاں جو منصب رسالت مجھ کو خدا کی طرف سے تفویض ہوا ہے اس کا حق ادا کرتا ہوں۔ یہ تمہاری بےعقلی ہے کہ اپنے حقیقی خیر خواہوں کو جن کی امانت و دیانت پہلے سے لائقِ اطمینان ہے بےعقل کہہ کر خود اپنا نقصان کرتے ہو۔
Read the full tafseer →آیت 68 اُبَلِّغُکُمْ رِسٰلٰتِ رَبِّیْ وَاَنَا لَکُمْ نَاصِحٌ اَمِیْنٌ
میں تو وہی بات ہو بہو تم تک پہنچا رہا ہوں جو اللہ کی طرف سے آرہی ہے ‘ اس لیے کہ مجھے تمہاری خیر خواہی مطلوب ہے۔ میں تمہارا ایسا خیر خواہ ہوں جس پر بھروسہ کیا جاسکتا ہے۔
Read the full tafseer →72 ہود نے جواب میں کہا کہ نہ میں نادان ہوں نہ جھوٹا ہوں بلکہ اس اللہ کا جسے تم بھی رب اکبر تسلیم کرتے ہو۔ پیامبر ہوں اور تمہیں اللہ ہی کا پیغام پہنچا رہا ہوں اپنے پاس سے کچھ نہیں کہہ رہا کہ خود ہی کوئی بات بناکر اللہ کے ذمے لگا دوں اور حقیقتاً میں تمہارا خیر خواہ ہوں اور چاہتا ہوں کہ تمہیں کوئی روز بد نہ دیکھنا پڑے اور یہ تو تم جانتے ہی ہو کہ میں ایک امین اور دیانت دار آدمی ہوں لہذا جو کچھ اور جتنا پیغام اللہ نے دیا ہے وہ بغیر کسی کمی بیشی کے تمہیں پہنچا رہا ہوں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–68
91 ۔ (آیت) ” رب العلمین۔ رسول۔ رسلت ربی۔ ناصح “۔ وغیرہ پر حاشیے ابھی ابھی اوپر گزر چکے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–72
آیت نمبر 65 تا 72
ترجمہ : اور ہم نے عاد اولی کی طرف ان کے بھائی ہود (علیہ السلام) کو بھیجا انہوں نے کہا اے میری قوم اللہ کی بندگی کرو (یعنی) اس کی توحید کا اقرار کرو، اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں، سو کیا تم اس سے ڈرتے نہیں ہو کہ ایمان لے آؤ، ان کی قوم کے کافر سرداروں نے کہا ہم تو تم کو حماقت جہالت میں مبتلا دیکھتے ہیں اور ہم تم کو دعوائے رسالت میں جھوٹا سمجھتے ہیں انہوں نے جواب دیا اے میری قوم میں ذرا بھی حماقت میں مبتلا نہیں، میں تو رب العالمین کی طرف سے بھیجا ہوا رسول ہوں میں تم کو اپنے رب کا پیغام پہنچاتا ہوں، (اُبلغکم) میں تخفیف وتشدید دونوں قراءتیں ہیں، اور تمہارا سچا خیر خواہ ہوں…
Read the full tafseer →ابلغکم رسلت ربی وانا لکم ناصح امین : اپنے رب کے احکام تم کو پہنچا رہا ہوں اور تمہارا بہی خواہ ہوں اور (پیام رسالت کا) امین ہوں۔
وانا لکم ناصح یعنی میں جس امر کی تم کو دعوت دے رہا ہوں اس میں تمہارا مخلص ‘ خیرخواہ ہوں۔ کافروں نے جملہ اسمیہ بولا تھا اور کہا تھا انا لنظنک اس کے مقابلہ میں حضرت ہود نے بھی ناصحٌ بصیغہ اسم فاعل فرمایا۔ کلبی نے کہا اس کا مطلب یہ ہے کہ میں آج تک تمہارے اندر رہا اور امین رہا لہٰذا اب مجھ پر جھوٹے ہونے کی بدگمانی کرنے کی کوئی وجہ نہیں۔ حضرات انبیاء واقف تھے کہ کافر انتہائی گمراہ اور احمق ہیں لیکن انہوں نے تہذیب اور حلم سے کام لے کر مقابلہ سے پہلوتہی کی اس سے معلوم ہوتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–68
(67۔ 68) ہود ؑ نے فرمایا میں کم عقل نہیں ہوں، بلکہ تمہیں اوامرو نواہی کی تبلیغ کرتا ہوں اور عذاب الہی سے ڈراتا اور توبہ ایمان کی دعوت دیتا ہوں، میں احکام الہی کے پہنچانے میں امین ہوں یا یہ کہ اس سے قبل تو میں تم لوگوں میں امین تھا، اب پھر آج تم مجھے تہمت کیوں لگاتے ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–68
اِنَّا لَنَرٰكَ فِيْ سَفَاهَةٍ : ان کے نزدیک آباء کی تقلید میں شرک کرنا اور دوسری خرافات اختیار کرنا عین عقل مندی اور اس کی مخالفت بےوقوفی تھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–70
قولہ تعالیٰ : آیت : والی عاد اخاھم ھودا یعنی اور ہم نے عاد کی طرف ان کے بھائی حضرت ہود (علیہ السلام) کو بھیجا۔ حضرت ابن عباس ؓ نے بیان کیا ہے : مراد یہ ہے کہ آپ ان کے باپ کے بیٹے تھے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : آپ قبیلہ میں ان کے بھائی تھے۔ اور یہ قول بھی ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ آۃ پ ان کے باپ حضرت آدم (علیہ السلام) کی اولاد میں سے ایک بشر ( اور انسان) تھے۔ اور مصنف ابی داؤد میں ہے کہ اخاھم ھودا کا معنی ہے ان کے ساتھ ہودعلیہ السلام ( کو ان کی طرف بھیجا) اور عاد سام بن نوح (علیہ السلام) کی اولاد میں سے تھے۔ ابن اسحاق نے نسب اس طرح بیان کیا ہے : عاد ھو ابن عوص بن ارم بن شالغ بن ارفخشد بن سام بن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–71
(1) امام ابن منذر نے کلبی کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” والی عاد اخاھم ھودا “ یعنی وہ ان کے دین کے بھائی نہیں تھے لیکن وہ ان کے نسبی بھائی تھے کیونکہ ھود (علیہ السلام) ان میں سے نہ تھے۔ اس لئے آپ کو ان کا بھائی کہا گیا۔
(2) امام اسحاق بن بشیر اور ابن عساکر نے شرفی بن قطامی (رح) سے روایت کیا کہ ھود کا نام عابر بن شالح بن ارفشخد بن سام بن نوح تھا۔
(3) امام ابن منذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ وہ لوگ گمان کرتے تھے کہ ھود (علیہ السلام) کا تعلق ایک قبیلہ بنی عبد الخضم سے تھا۔
(4) امام اسحاق بن بشر اور ابن عساکر نے عطاء کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ھود پہلے آدمی تھے…
Read the full tafseer →اُبَلِّغُكُمْ [ میں پہنچاتا ہوں تم لوگوں کو ] رِسٰلٰتِ رَبِّيْ [ اپنے رب کے پیغامات ] وَاَنَا [ اور میں ] لَكُمْ [ تمہارے لیے ] نَاصِحٌ اَمِيْنٌ [ ایک دیانتدار خیرخواہ ہوں ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–74
حضرت صالح (علیہ السلام) کا اپنی قوم کو تبلیغ کرنا اور سر کشی اختیار کر کے قوم کا ہلاک ہونا
حضرت صالح (علیہ السلام) جس قوم کی طرف مبعوث ہوئے وہ قوم ثمود تھی۔ عاد اور ثمود دونوں ایک ہی دادا کی اولاد ہیں۔ یہ دونوں دو شخصوں کے نام تھے۔ بنو عاد قوم عاد کے نام سے اور بنو ثمود قوم ثمود کے نام سے معروف و موسوم ہوئے۔ قوم ثمود عرب کے شمال مغرب میں رہتے تھے ان کے مرکزی شہر کا نام حجر تھا۔ جس کو سورة حجر کے چھٹے رکوع میں بیان فرمایا ہے۔ قوم عاد کی بربادی کے بعد یہ لوگ زمین میں بسے اور پھلے پھولے۔ یہ لوگ بھی قوت اور طاقت والے تھے۔ زمین پر بڑے بڑے مکانات بناتے تھے اور پہاڑوں کو تراش کر اپنے لیے گھر بنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–72
قصہ دوم حضرت ہود (علیہ السلام) با قوم عاد
قال اللہ تعالیٰ والی عاد اخاھم ھودا۔۔۔ الی۔۔۔ وماکانوا مومن ین۔
(ربط) اب دوسرا قصہ قوم عاد کا بیان کرتے ہیں یہ قوم طوفان نوح کے بعد ملک عرب کے جنوبی حصہ یعنی یمن میں آباد تھی یمن میں ایک مقام احقاف تھا وہاں یہ لوگ رہتے تھے اور اس قوم کے لوگ بڑے قد آور اور تناور تھے اور حضرت نوح (علیہ السلام) کے بعد ہود (علیہ السلام) اس قوم کی طرف پیغمبر بنا کر بھیجے گئے پر ناز تھا اور یہ کہا کرتے تھے کہ دنیا میں ہم سے زیادہ کوئی قوی نہیں وقالوا من اشد منا قوۃ۔
ہود (علیہ السلام) نے ان کو نصیحت کی اور شرک اور ظلم سے منع کیا اور عذاب الٰہی سے ڈرایا مگر کچھ اثر نہ ہوا جسم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–68
77: اس میں حضرت ہود (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو اللہ تعالیٰ کے انعامات یاد دلائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–69
ربط آیات
گزشتہ رکوع سے اللہ تعالیٰ نے تاریخ انبیاء کا بیان شروع کیا ہے جس میں ان کی دعوت الی التوحید اور طریقہ تبلیغ کا ذکر ہے حضرت نوح (علیہ السلام) کی شخصیت ، آپ کی دعوت اور قوم کا جواب بیان ہوچکا ہے کہ کس طرح انہوں نے اپنے نبی کی دعوت کا انکار کیا آپ کی نافرمانی کی اور آپ پر گمراہی کا الزام لگایا اس کی پاداش میں اللہ تعالیٰ نے چند اہل ایمان کے علاوہ پوری قوم کو غرق کردیا اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وہ ساری قوم اندھی تھی یعنی دل کی بصیرت سے محروم تھی نوح (علیہ السلام) نے تبلیغ دین اور خیر خواہی کا پورا پورا حق ادا کیا قوم کو ہر طریقے سے سمجھانے کی کوشش کی مگر انہوں نے کوئی اثر قبول نہ کیا اور…
Read the full tafseer →اَوَعَجِبْتُمْ اَنْ جَاۗءَكُمْ ذِكْرٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ عَلٰي رَجُلٍ مِّنْكُمْ لِيُنْذِرَكُمْ 0 ۭ وَاذْكُرُوْٓا اِذْ جَعَلَكُمْ خُلَفَاۗءَ مِنْۢ بَعْدِ قَوْمِ نُوْحٍ وَّزَادَكُمْ فِي الْخَلْقِ بَصْۜطَۃً 0 ۚ فَاذْكُرُوْٓا اٰلَاۗءَ اللہِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ 69
عجب
العَجَبُ والتَّعَجُّبُ : حالةٌ تعرض للإنسان عند الجهل بسبب الشیء، ولهذا قال بعض الحکماء : العَجَبُ ما لا يُعرف سببه، ولهذا قيل : لا يصحّ علی اللہ التَّعَجُّبُ ، إذ هو علّام الغیوب لا تخفی عليه خافية . يقال : عَجِبْتُ عَجَباً ، ويقال للشیء الذي يُتَعَجَّبُ منه : عَجَبٌ ، ولما لم يعهد مثله عَجِيبٌ. قال تعالی: أَكانَ لِلنَّاسِ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–70
ترکیب : ھودا بدل ہے اخاھم سے جو مفعول ہے فعل مخدوف کا ‘ اے ارسلنا ان جاء کم تبادیل مصدر مفعول ہے عجبتمکا من ربکم ذکر کی صفت یا حال علی رجل حال بھی ہوسکتا ہے اے نازلا علی رجل او جاء کم سے علی المعنی متعلق بھی ہوسکتا ہے لا نہ فی المعنی نزل الیکم وفی الکلام حذف مضاف اے علی قلب رجل او علی لسان رجل فی الخلق زاد کم سے متعلق وحدہ مصدر حال ہے اللّٰہ سے اے مفرد ایا فاعل لنعبد سے ای موحدین لہ ونذر معطوف ہے نعبد پر جو منصوب ہے ان مقدرہ سے ماکان الخ نذر کا مفعول۔
تفسیر : قوم عاد کا تذکرہ : یہاں سے دوسرا قصہ قوم عاد کا شروع ہوتا ہے یہ ایک قوم بعد طوفان نوح کے ملک عرب کے جنوبی حصہ میں آباد تھی۔ یہ لوگ عاد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–68
ارشاد ہوتا ہے :
قَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ قَوْمِہٖٓ اِنَّا لَنَرٰکَ فِیْْ سَفَاھَۃٍ وَّ اِنَّا لَنَظُنُّکَ مِنَ الْکٰذِبِیْنَ ۔ قَالَ یٰقَوْمِ لَیْسَ بِیْ سَفَاھَۃٌ وَّ لٰکِنِّیْ رَسُوْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَ ۔ اُبَلِّغُکُمْ رِسٰلٰتِ رَبِّیْ وَ اَنَا لَکُمْ نَاصِحٌ اَمِیْنٌ۔ (الاعراف : 66، 68)
” اس کی قوم کے بڑوں نے ‘ جنھوں نے کفر کیا ‘ جواب دیا کہ ہم تو تم کو ایک کھلی ہوئی حماقت میں مبتلا دیکھتے ہیں اور ہم تم کو جھوٹوں میں سے گمان کرتے ہیں۔ اس نے کہا : اے برادرانِ قوم ! مجھ میں کوئی حماقت نہیں ہے۔ بلکہ میں خداوند جہاں کا رسول ہوں ‘ تمہیں اپنے رب کے پیغامات پہنچا رہا ہوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–72
فہم القرآن
حضرت ھود (علیہ السلام) :
حضرت ھود (علیہ السلام) کا تعلق عرب کے عاد قبیلے سے تھا جن کی رہائش موجودہ جغرافیے کے مطابق عمان اور یمن کے علاقے حضرموت کے درمیان تھی۔ یہ علاقہ سمندر کے کنارے پر واقع تھا یہاں ریت کے بڑے بڑے ٹیلے اور بلندو بالا پہاڑ تھے۔
اس کے باسی جسمانی اعتبار سے دراز قامت، کڑیل جوان اور قوی ہیکل تھے۔ دنیا میں ان کا کوئی ثانی نہیں تھا۔ انھوں نے پہاڑ تراش، تراش کر خوبصورت محلات تعمیر کر رکھے تھے۔ ان کی سرزمین نہایت سر سبزتھی جس میں ہر قسم کے باغات آراستہ تھے انھیں قرآن مجید میں ” احقاف والے “ کہا گیا ہے۔ احقاف ریت کے بڑے بڑے ٹیلوں کو کہا جاتا ہے جو عرب کے جنوب مغربی حصہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–68
ہود ( علیہ السلام) کی جوابی تقریر نمبر 1:
آیت 67، آیت 68: قَالَ یٰقَوْمِ لَیْسَ بِیْ سَفَاہَۃٌ وَّ لٰکِنّیْ رَسُوْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَ اُبَلِّغُکُمْ رِسٰلٰتِ رَبِّیْ وَاَنَا لَکُمْ نَاصِحٌ اَمیْنٌ (انہوں نے فرمایا اے میری قوم مجھ میں کم عقلی نہیں۔ لیکن میں پروردگار عالم کا بھیجا ہوا پیغمبر ہوں۔ تم کو اپنے رب کے پیغام پہنچاتا ہوں اور میں تمہارا سچا خیرخواہ ہوں)
اس چیز میں جس میں میں تمہیں اس کی طرف بلاتا ہوں۔ امین اس پر جو میں تمہیں کہتا ہوں۔ یہاں وانا لکم ناصح امین فرمایا۔ ان کے قول وانالنظنک من الکاذبین کے مقابلہ میں تاکہ اسم کے مقابلہ میں اسم ہو۔ جملہ اسمیہ استمرار پر دلالت کرتا…
Read the full tafseer →تفسیر 68 (ابلغکم رسلت ربی وانا لکم ناصح امین) خیر خواہ ہوں کہ توبہ کی طرف بلاتا ہوں۔ رسالت پر امین ہوں۔ کلبی (رح) فرماتے ہیں کہ آج کے دن سے پہلے میں تم میں امین تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–72
(65 ۔ 72) ۔ حضرت ہود ( علیہ السلام) حضرت نوح ( علیہ السلام) کے خاندان میں سے ہیں حضرت ہود ( علیہ السلام) کی امت قوم عاد کا ملک حضرموت تک عثمان وغیرہ تھا۔ اور بڑا شاداب ملک تھا قوم عاد کے لوگ بڑے قوی ساٹھ ساٹھ گز کے قدتک کے تھے عذاب کی آندھی آٹھ روز تک جو ان پر چلی پہلے اس آندھی سے کھیتی کرنے والے لوگ اور ان کے جانور پٹخنیاں کھا کھا کر گرے اور ہلاک ہوئے پھر شہروں کے لوگ اسی طرح ہلاک ہوئے قوم عاد نے بہت عمارتیں سنگین بنائیں اور پہاڑوں پر یادگار کے لئے بہت سے مینار بنائے آندھی کے عذاب سے پہلے ان میں قحط کے عذاب پھیلے کئ برس تک سخت قحط رہا چند آدمی ان میں سے مکہ قحط کے رفع کی دعا مانگنے گئے مکہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–71
آیت 59
جب اللہ تعالیٰ نے اپنی توحید کے دلائل میں سے ایک اچھا حصہ ذکر فرمایا، تو اب اس کی تائید میں انبیائے کرام کا، جو اس کی توحید کے داعی تھے اور اس رویے کا جو ان کی امتوں کے منکرین توحید کی طرف سے پیش آیا، اسے بیان فرما رہا ہے۔ نیز یہ کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے کیسے اہل توحید کی تائید فرمائی اور انبیاء ومرسلین سے عناد رکھنے والوں اور ان کی اطاعت نہ کرنے والوں کو ہلاک کردیا۔۔۔ اور کیسے انبیاء ومرسلین کی دعوت ایک ہی دین اور ایک ہی عقیدہ پر متفق تھی۔ چناچہ نوح جو اولین رسول ہیں، کے بارے میں فرمایا : (لقد ارسلنا نوحاً الی قومہ) ” ہم نے نوح کو ان کی قوم کی طرف بھیجا۔ “ حضرت نوح کفار کو اکیلے اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–141
دعا کا طریقہ
قول باری ہے وادعواربکم تضرعاً عاوخفیۃ۔ اپنے رب کو پکارو گڑگڑاتے ہوئے اور چپکے چپکے) آیت میں چپکے چپکے رب کو پکارنے کا حکم ہے حسن کا قول ہے کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے تمہیں اس بات کی تعلیم دی ہے کہ تم اپنے رب کو کس طرح پکارو۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک عہد صالح کا ذکر فرمایا جس کی پکار کو اس نے پسند فرمایا تھا چناچہ ارشاد ہے اذنادی ربہ نداء خفیا۔ جبکہ اس نے اپنے رب کو چپکے چپکے پکارا) یعنی حضرت زکریاعلیہ السلام عبداللہ بن المبارک نے حسن بصری سے روایت کی ہے کہ لوگ یعنی صحابہ کرام بڑی عاجزی اور نیاز مندی کے ساتھ دعائیں مانگا کرتے تھے اور صرف سرگوشی کی آواز سنائی دیتی تھی۔ حضرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–70
91 پیغمبر کی دعوت خالص خیرخواہی پر مبنی ہوتی ہے : نہ تو تمہارے ساتھ اس خیر خواہی میں کسی ذاتی غرض کا کوئی شائبہ ہے اور نہ ہی اس پیغام ربانی میں کسی آمیزش کا کوئی سوال۔ جس کے ساتھ مجھے تمہاری طرف بھیجا گیا ہے۔ پس اس کو قبول کرنے اور صدق دل سے اپنانے میں خود تمہارا اپنا ہی بھلا اور فائدہ ہے، دنیا کی اس عارضی اور فانی زندگی میں بھی اور اس کے بعد آخرت کے اس حقیقی اور ابدی جہاں میں بھی۔ سو پیغمبر کی دعوت خالص خیرخواہی اور صدق و اخلاص پر مبنی ہوتی ہے۔ اس میں ذاتی اغراض یا نفسانی خواہشات کا کوئی شائبہ نہیں پایا جاتا۔ حضرت ھود (علیہ السلام) کے اس جواب میں بھی وہی پیغمبرانہ ادب عالی پایا جاتا ہے جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–72
سیدنا ہود (علیہ السلام) اور قوم کی تباہی
تشریح : ان آیات میں سیدنا ہود (علیہ السلام) اور قوم ہود کا مختصرقصہ بیان کیا ہے۔ ہود (علیہ السلام) ایک نبی کا نام ہے یہ نوح (علیہ السلام) کی پا نچویں نسل اور سام کی اولاد میں ہیں۔ سیدنا ہود (علیہ السلام) عاد کی طرف رسول بنا کر بھیجے گئے، عاد ایک بڑی زبردست طاقتور قوم کا نام ہے۔ یہ سیدنا نوح (علیہ السلام) کے پوتے ارم کی اولاد تھے اور یمن میں احقاف کے علاقے میں رہتے تھے۔ عاد کے تیرہ خاندان تھے۔ عمان سے لیکر حضرموت تک کی بستیاں آباد تھیں۔ ان کی زمینیں بڑی زرحیز اور باغات تھے۔ بڑے بڑے شاندار محلات بناتے اور ان میں خوشگوار زندگیاں گزارتے تھے، مضبوط، صحت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–72
رکوع نمبر 9 ۔ آیات 65 ۔ تا۔ 72
اسرار و معارف :
توحید : اسی طرح زمین پر آباد ہونے والے لوگ پھلے پھولے اور پھر سے آبادی بڑھی تو نوح (علیہ السلام) کی پانچویں پشت میں عاد جو ان کے بیٹے سام کی اولاد میں سے تھا معروف آدمی گذرا حتی کہ اس کی پوری قوم عاد کہلائی اسی کے دوسرے بھائی کی اولاد ثمود یا عاد ثانی کہلائی مورخین کی مطابق عاد کے دادا کا نام ارم تھا لہذا انہیں عاد ارم بھی کہا گیا ہے جب یہ لوگ خوب آباد ہوگئے اور زمین سونا اگلنے لگی ہر طرح کی فصلیں اور پھل کثرت سے پیدا ہونے لگے پھر یہ تنومند اور بہت قد آور اقوام تھیں غرض ہر طرح کی شان و شوکت نصیب ہوئی تو اللہ کریم سے غافل ہوگئے اور اپنی طاقت اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–69
ف 4 یعنی تم کو قوی اور زیردست بنایا۔ اور قوم نوح ( علیہ السلام) کے بعد ایک زبر دست قوم کی حیثیت سے تمہیں زمین پر آباد کیا یہاں خلفا سے یہی معنی مراد ہیں یہ مطلب نہیں ہے کہ قوم نو ھ کے وطن عراق میں انکا جانیشن مقرر کیا ( قر طبی) بعح علمائے تفسیر نے قوم عاد کی جسمانی قوت اور انکے قدر قامت کی لمبائی کے بارے میں عجیب و غریب روایات نقل کی ہیں، مثلا یہ کہ عاد کی قوم کا ایک لمبا آدمی سو ہاتھ کا اور اسب سے چھوٹے قد کا ساٹھ ہاتھ کا ہوتا تھا۔ اور بعض روایا میں ہے کہ اس کا ایک آدمی اتنے پتھر کو اکیلا اٹھا لیتا تھا جسے ہمارے زمانہ کے پانچ سو آدمی بھی نہیں اٹھا سکتے وغیرہ وغیرہ۔ لیکن یہ تمام روایات تاریخی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–68
(7:66) سفاھۃ۔ سفہ یسفہ (سمع) کا مصدر۔ بےعقلی۔ بےوقوفی۔ جہالت۔
امین۔ امانت دار۔ معتبر۔ امن والا۔ امانۃ اور امن سے۔ اسم فاعل کا صیغہ بھی ہوسکتا ہے اور اسم فعول کا بھی کیونکہ فعیل کا وزن دونوں میں مشترک ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–70
لغات القرآن آیت نمبر (65 تا 70 ) ۔
سفاھتہ (بےوقوفی۔ بےعقلی) ۔ نظن (ہم گمان کرتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں) ۔ امین (ایماندار) ۔ بصطتہ (پھیلاؤ) ۔ الاء (الی) ۔ نعمتیں) ۔ اجئتنا (کیا تو ہمارے پاس آیا ہے) ۔ لنعبد اللہ (تاکہ ہم اللہ کی عبادت و بندگی کریں) ۔ وحدہ (اس اکیلے کی۔ تنہا کی) ۔ ابائونا (ہمارے باپ دادا) ۔ فاتنا (پس تو لے آ) ۔ تعدنا (تو ہم سے وعدہ کرتا ہے) ۔
تشریح : آیت نمبر 65 تا 70 ) ۔ ” قوم عاد دنیا کی قدیم ترین قوموں میں سے ایک قوم ہے اللہ نے ان کو ہر طرح کی نعمتوں سے نوازا تھا مگر وہ قوم ان نعمتوں کو پا کر ایسی مد ہوش ہوگئی کہ پھر ان کو ہر نصیحت کرنے والا برا لگنے لگا تھا۔ اس قوم کی حکومت و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–73
حضرت صالح (علیہ السلام) اور عذابچنگھاڑ کا ذکر
حضرت صالح (علیہ السلام) بھی حضرت نوح (علیہ السلام) کے خاندان سے ہیں۔ قوم عاد کی ہلاکت کے بعد اس سرزمین میں قوم صالح کے لوگ جن کو ثمود کہتے ہیں بسے۔ بڑی بڑی عمر کے لوگ اس قوم میں ہوئے۔ اینٹ مٹی کے مکان ان کی عمر بھر میں کافی نہ ہوئے تو انہوں نے پہاڑوں کو تراش کر گھر بنائے۔ نوعمری سے حضرت صالح (علیہ السلام) نبی ہوئے۔ نصیحت کرتے کرتے بڈھے (بوڑھے) ہوگئے مگر ان میں سے چند ایک ہی ایمان لائے۔ سال بھر میں ایک روز ان کی عید کا ہوتا تھا۔ اس روز انہوں نے حضرت صالح (علیہ السلام) سے کہا کہ تم ہمارے لئے ایک معجزہ کی اپنے اللہ سے دعا کرو اور ہم بتوں سے اسی معجزہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–71
[32] یعنی تم کسی کو بارش کا، کسی کو ہوا کا، کسی کو دولت کا اور کسی کو بیماری کا رب کہتے ہو حالانکہ ان میں سے کوئی بھی کسی چیز کا رب نہیں ہے، یہ سب محض نام ہیں جو تم نے گھڑ لئے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–69
حضرت ہود (علیہ السلام) :
(ف 1) نوح (علیہ السلام) کے بعد حضرت ہود (علیہ السلام) نے قوم کی قیادت فرمائی ان کی قوم نہایت قوی ہیکل اور مضبوط تھی ، حضر موت سے لے کر عمان تک یہ لوگ پھیلے ہوئے تھے ،
آپ نے بھی یہی کہا ، اے قوم ایک اللہ کی چوکھٹ پر جھکو ، اس خدا کے سوا اور کون ہے جو تمہاری مشکل کشائی کرے ۔
قوم کے اکابر سے ان کو بھی یہی جواب ملا کہ بیوقوف ہو ، اور جھوٹے ہو ،
اور لطف یہ ہے ، کہ مخالفت ہمیشہ اکابر نے کی ، اس لئے کہ وہ خوب سمجھتے تھے ، کہ اگر یہ کامیاب ہوگیا ، تو ہمارا کبروغرور خاک میں مل جائے گا ۔
حل لغات :
عمین : اندھے ، یعنی دلوں میں بصیرت کا مادہ سلب ہوگیا ۔
Read the full tafseer →68 میں تم کو اپنے پروردگار کے پیغام پہنچاتا ہوں اور اس کے احکام تم تک پہنچانے کی خدمت انجام دیتا ہوں اور میں تمہارا سچا اور امین اور قابل اطمینان خیر خواہ اور نصیحت کرنے والا ہوں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–68
ف 1۔ یعنی نعوذ باللہ نہ توحید صحیح مسئلہ ہے اور نہ عذاب کا آنا صحیح ہے۔
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچانے کے لئے تمہارے پاس آیا ہوں اور وہی پہنچا رہا ہوں :
78: ہود (علیہ السلام) نے قوم کو بالکل وہی جواب دیا جو اس سے قبل نوح (علیہ السلام) دے چکے تھے۔ یاد رکھو کہ میں تمہارا دشمن نہیں بلکہ دوست ہوں۔ تم سے زر وسیم اور حکومت کا طالب نہیں ہوں بلکہ تمہاری فلاح ونجاح چاہتا ہوں۔ میں اللہ تعالیٰ کے پیغام کے بارہ میں خائن بھی نہیں بلکہ امین ہوں۔ وہی کہتا ہوں جو مجھ کو کہا جاتا ہے اور جو کچھ کہتا ہوں قوم کی سعادت اور حسن حال ومال کے لئے کہتا ہوں بلکہ دائمی وسرمدی نجات کے لئے کہتا ہوں۔ اے قوم عاد ! اگر تمہارا یہی رویہ رہا اور حق سے اعراض و روگردانی کی روش میں تم نے کوئی تبدیلی نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–68
Its reply which appears in verses 67 and 68 is nearly the same as given by Sayyidna Nuh (علیہ السلام) - 61-63.
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–69
52. The word ala' used in the above verse stands for bounties, wondrous works of nature, and praiseworthy qualities. The purpose of the verse is to impress upon man to gratefully, recognize the favours God has lavished upon him, bearing in mind that God also has the Power to take them away.
Read the full tafseer →