Explained with ayahs 70–72
قوم عاد کا باغیانہ رویہ
قوم عاد کی سرکشی، تکبر، ضد اور عناد کا بیان ہو رہا ہے کہ انہوں نے حضرت ہود ؑ سے کہا کہ کیا آپ کی تشریف آوری کا مقصد یہی ہے کہ ہم اللہ واحد کے پرستار بن جائیں اور باپ دادوں کے پرانے معبودوں سے روگردانی کرلیں ؟ سنو اگر یہی مقصود ہے تو اسکا پورا ہونا محال ہے۔ ہم تیار ہیں اگر تم سچے ہو تو اپنے اللہ سے ہمارے لئے عذاب طلب کرو۔ یہی کفار مکہ نے کہا تھا کہنے لگے کہ یا اللہ محمد کا کہا حق ہے اور وہ واقعی تیرا کلام ہے اور ہم نہیں مانتے تو تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا یا کوئی اور سخت المناک عذاب ہمیں کر۔ قوم عاد کے بتوں کے نام یہ ہیں صمد۔ صمودھبا۔ ان کی اس ڈھٹائی کے مقابلے میں اللہ…
Read the full tafseer →سورة الْاَعْرَاف 53
یہاں یہ بات پھر نوٹ کرنے کے قابل ہے کہ یہ قوم بھی اللہ سے منکر یا ناواقف نہ تھی اور نہ اسے اللہ کی عبادت سے انکار تھا۔ دراصل وہ حضرت ہود کی جس بات کو ماننے سے انکار کرتی تھی وہ صرف یہ تھی کہ اکیلے اللہ کی بندگی کی جائے، کسی دوسرے کی بندگی اس کے ساتھ شامل نہ کی جائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–71
چھٹی آیت میں ہود ؑ نے جواب دیا کہ جب تمہاری سرکشی اور بےہوشی کی یہ حالت ہے تو اب تم پر خدا تعالیٰ کا غضب اور عذاب آیا ہی چاہتا ہے تم بھی انتظار کرو اور ہم بھی اب اسی کا انتظار کرتے ہیں۔ قوم کے اس اشتعال آمیز جواب پر عذاب آنے کی خبر تو دے دی لیکن پیغمبرانہ شفقت و نصیحت نے پھر مجبور کیا کہ اس کلام کے دوران میں یہ بھی فرما دیا کہ افسوس ہے تم نے اور تمہارے باپ دادوں نے بےعقل بےجان چیزوں کو اپنا معبود بنا لیا جن کے معبود ہونے پر نہ کوئی عقلی دلیل ہے نہ نقلی اور پھر تم ان کی عبادت میں ایسے پختہ ہوگئے کہ ان کی حمایت میں مجھ سے جھگڑا کر رہے ہو۔
Read the full tafseer →قَالُوْٓا اَجِئْتَنَا لِنَعْبُدَ اللّٰهَ وَحْدَهٗ وَنَذَرَ مَا كَانَ يَعْبُدُ اٰبَاۗؤُنَا فَاْتِنَا بِمَا تَعِدُنَآ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِيْنَ۔
اس فقرے میں قوم کا غصہ اور طنز دونوں مضمر ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ تم رسالت کے مدعی ہو کر اس لیے تشریف لائے ہو کہ ہم تمہاری دھونس میں آکر ان معبودوں کو چھوڑ بیٹھیں جن کی پرستش ہمارے باپ دادا کرتے آئے ؟ اس میں اشارہ اس بات کی طرف بھی ہے کہ تم سے توقع تو اس بات کی تھی کہ دین آبائی اور قوم کی عزت بڑھاؤ گے لیکن تم سب کے دشمن بن کر اٹھے۔
فَاْتِنَا بِمَا تَعِدُنَآ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِيْنَ۔ تو سن رکھو کہ تمہاری عذاب کی ان دھمکیوں سے ڈر کر ہم اپنے بزرگوں…
Read the full tafseer →70۔ 1 آباؤ اجداد کی تقلیدِ ہر دور میں گمراہی کی بنیاد رہی ہے۔ قوم عاد نے بھی یہی ' دلیل ' پیش کی اور شرک کو چھوڑ کر، توحید کا راستہ اختیار کرنے پر آمادہ نہیں ہوئے۔ بدقسمتی سے مسلمانوں میں بھی اپنے بڑوں کی تقلید کی یہ بیماری عام ہے۔
70۔ 2 جس طرح قریش مکہ نے بھی رسول اللہ کی دعوت توحید کے جواب میں کہا تھا ' اے اللہ ! اگر یہ حق ہے تیری طرف سے تو ہم پر آسمان سے پتھروں کی بارش برسا یا کوئی اور دردناک عذاب ہم پر بھیج دے '۔ یعنی شرک کرتے کرتے مشرک کی مت بھی ماری جاتی ہے۔ حالانکہ عقل مندی کا تقاضا یہ تھا کہ یہ کہا جاتا یا اللہ اگر یہ سچ ہے اور تیری ہی طرف سے ہے تو ہمیں اسے قبول کرنے کی توفیق عطا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–72
38:، یہ لوگ اپنے قد و قامت میں اتنے لمبے چوڑے تھے کہ سورة فجر میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ان جیسی قوم کسی بھی ملک میں پیدا نہیں کی گئی۔
Read the full tafseer →آیت ” قَالُواْ أَجِئْتَنَا لِنَعْبُدَ اللّہَ وَحْدَہُ وَنَذَرَ مَا کَانَ یَعْبُدُ آبَاؤُنَا فَأْتِنَا بِمَا تَعِدُنَا إِن کُنتَ مِنَ الصَّادِقِیْنَ (70)
” انہوں نے جواب دیا ” کیا تو ہمارے پاس اس لئے آیا ہے کہ ہم اکیلے اللہ ہی کی عبادت کریں اور انہیں چھوڑ دیں جن کی عبادت ہمارے باپ دادا کرتے آئے ہیں ؟ اچھا تو لے آ وہ عذاب جس کی تو ہمیں دھمکی دیتا ہے اگر تو سچا ہے ۔ “
یہ روایات اور ان کے موجودہ حالات کی ذلت آمیز غلامی کی ایک تصویر ہے۔ انسان کے دل و دماغ حالات کے اسیر ہیں ۔ یہ ایسی غلامی اور قید ہے جس میں انسان سے اس کے اعلی ترین خصائص گم ہوجاتے ہیں ۔ وہ آزادانہ غور وفکر سے محروم ہوجاتا ہے ۔…
Read the full tafseer →1 یعنی جس عذاب کی ہم کو دھمکی دیتے ہیں، اگر آپ سچے ہیں تو وہ لے آئیے۔
Read the full tafseer →آیت 70 قَالُوْٓا اَجِءْتَنَا لِنَعْبُدَ اللّٰہَ وَحْدَہٗ وَنَذَرَ مَا کَانَ یَعْبُدُ اٰبَآؤُنَا ج فَاْتِنَا بِمَا تَعِدُنَآ اِنْ کُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ ۔
ہمیشہ سے ہوتا آیا ہے کہ جب بھی کسی قوم پر زوال آتا تھا تو ان کے عقائد بگڑ جاتے تھے۔ اللہ کے رسول کے بتائے ہوئے سیدھے راستے کو چھوڑ کر وہ قوم بت پرستی اور شرک میں مبتلا ہوجاتی تھی۔ اولیاء اللہ کی عقیدت کی وجہ سے ان کے ناموں کے بت بنائے جاتے تھے یا پھر ان کی قبروں کی پرستش شروع کردی جاتی۔ یہ سامنے کے معبود ان کو اس اللہ کے مقابلے میں زیادہ اچھے لگتے تھے جو ان کی نظروں سے اوجھل تھا۔ ان حالات میں جب بھی کوئی رسول آکر ایسی مشرک قوم کو بت پرستی…
Read the full tafseer →74 تقلید آباء کا عذر :۔ ان نصائح کے جواب میں قوم نے وہی جواب دیا جو عام طور پر مشرکین دیا کرتے ہیں کہ ہم بھلا اپنے باپ دادا کے دین کو کیسے چھوڑ سکتے ہیں جبکہ ہمارے اسلاف ہم سے بہت زیادہ نیک اور عالم تھے ہم تمہاری یہ بات کبھی نہ مانیں گے اور اگر تم فی الواقع سچے ہو تو جس عذاب کی دھمکی دے رہے ہو وہ لاسکتے ہو تو لے آؤ۔ یہ یاد رہے کہ ایسے جواب صرف قوم کے سردار قسم کے لوگ دیا کرتے ہیں اور وہ ایسے ہٹ دھرم کیوں واقع ہوتے ہیں ؟ اس کی وجہ ہم پہلے بیان کرچکے ہیں باقی کچھ کمزور قسم کے لوگ ہر نبی پر ایمان لانے والے بھی ہوتے ہیں۔ یہی حال سیدنا ہود (علیہ السلام) کی قوم کا تھا۔
Read the full tafseer →93 ۔ (ابھی اور فی الفور) دور انبیاء میں مشرکوں کو یہ مغالطہ بھی ہمیشہ ہی رہا ہے جب پیغمبروں کا فی الفور) دور انبیاء میں مشرکوں کو یہ مغالطہ بھی ہمیشہ ہی رہا ہے جب پیغمبروں کا وعظ سنتے اور دلائل و جواب میں کچھ بن نہ پڑتا تو یہی کہنے لگتے کہ ” لے آؤنا اپنا عذاب دیکھیں تو وہ کیسا ہے “ ؟۔۔ گویا پیغمبروں کا وعدہ فی الفور عذاب کا تھا۔ اور گویا عذاب الہی کا لانا پیغمبروں کے اختیار کی چیز تھی ! (آیت) ” اجئتنا۔۔۔ ابآؤنا “۔ اسے وہ بڑے استعجاب کے لہجہ میں اور ایک انتہائی عجیب و غریب بات سمجھ کر کہتے۔ مشرکوں کو اصلی چڑ ہمیشہ توحید سے رہی ہے۔ انکار انہیں نفس وجود باری سے نہیں۔ وہ ملحد اور دہری نہیں ہوتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–72
آیت نمبر 65 تا 72
ترجمہ : اور ہم نے عاد اولی کی طرف ان کے بھائی ہود (علیہ السلام) کو بھیجا انہوں نے کہا اے میری قوم اللہ کی بندگی کرو (یعنی) اس کی توحید کا اقرار کرو، اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں، سو کیا تم اس سے ڈرتے نہیں ہو کہ ایمان لے آؤ، ان کی قوم کے کافر سرداروں نے کہا ہم تو تم کو حماقت جہالت میں مبتلا دیکھتے ہیں اور ہم تم کو دعوائے رسالت میں جھوٹا سمجھتے ہیں انہوں نے جواب دیا اے میری قوم میں ذرا بھی حماقت میں مبتلا نہیں، میں تو رب العالمین کی طرف سے بھیجا ہوا رسول ہوں میں تم کو اپنے رب کا پیغام پہنچاتا ہوں، (اُبلغکم) میں تخفیف وتشدید دونوں قراءتیں ہیں، اور تمہارا سچا خیر خواہ ہوں…
Read the full tafseer →قالوا اجئتنا لنعبد اللہ وحدہ ونذر ما کان یعبد ابآؤنا فاتنا بما تعدنا ان کنت من الصدقین۔ قوم والوں نے کہا کیا تو ہمارے پاس (کہیں باہر سے یا آسمان سے) اس لئے
آیا ہے کہ ہم صرف اللہ ہی کی پوجا کریں اور جن (بتوں وغیرہ) کی ہمارے باپ دادا پوجا کرتے تھے ان کی پوجا چھوڑ دیں اگر تو سچا ہے تو جس (عذاب) کی تو ہم کو دھمکی دے رہا ہے اس کو ہم پر لے آ۔ ما کان سے مراد ہیں بت اور آنے سے مراد ہے کہیں دوسری جگہ سے آنا یا آسمان سے آنا۔ موخر الذکر معنی اس وقت مراد ہوگا جب یہ لفظ کافروں نے بطور استہزاء کہا ہو۔ یا قصد کرنا بطور مجاز ہو یعنی تیرا ارادہ یہ ہے کہ ہم بتوں کو چھوڑ کر صرف اللہ کی پوجا کریں۔ مَا تعدنا سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–71
(70۔ 71) وہ کہنے لگے کیا ہم اپنے ان معبودوں کو چھوڑدیں، انہوں نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا غصہ اور عذاب تم پر نازل ہونے والا ہے کیا تم مجھ سے ان معبودوں کے بارے میں جھگڑتے ہو جن کی پرستش پر اللہ کی جانب سے کوئی حجت اور دلیل نازل نہیں ہوئی، بس اب تو تم ہلاک ہونے کا انتظار کرو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–70
وَاذْكُرُوْٓا اِذْ جَعَلَكُمْ خُلَفَاۗءَ مِنْۢ بَعْدِ قَوْمِ نُوْحٍ۔۔ : یعنی تمہیں قوی اور زبردست بنایا اور قوم نوح کے بعد ایک زبردست قوم کی حیثیت سے تمہیں زمین میں آباد کیا۔ یہاں ”خُلَفَاۗءَ“ سے یہی معنی مراد ہے، یہ مطلب نہیں کہ قوم نوح کے وطن عراق میں ان کا جانشین بنایا۔ (قرطبی) قوم عاد کے قد و قامت میں پھیلاؤ کے متعلق اللہ تعالیٰ نے خود شہادت دی ہے، فرمایا : (الَّتِيْ لَمْ يُخْلَقْ مِثْلُهَا فِي الْبِلَاد) [ الفجر : 8 ] یعنی ان جیسا کوئی شہروں میں پیدا نہیں کیا گیا اور یہ کہ عذاب کے بعد وہ یوں گرے ہوئے تھے جیسے کھجوروں کے گرے ہوئے تنے۔ دیکھیے سورة الحاقہ (7)۔
بعض علمائے تفسیر نے قوم عاد کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–70
قولہ تعالیٰ : آیت : والی عاد اخاھم ھودا یعنی اور ہم نے عاد کی طرف ان کے بھائی حضرت ہود (علیہ السلام) کو بھیجا۔ حضرت ابن عباس ؓ نے بیان کیا ہے : مراد یہ ہے کہ آپ ان کے باپ کے بیٹے تھے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : آپ قبیلہ میں ان کے بھائی تھے۔ اور یہ قول بھی ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ آۃ پ ان کے باپ حضرت آدم (علیہ السلام) کی اولاد میں سے ایک بشر ( اور انسان) تھے۔ اور مصنف ابی داؤد میں ہے کہ اخاھم ھودا کا معنی ہے ان کے ساتھ ہودعلیہ السلام ( کو ان کی طرف بھیجا) اور عاد سام بن نوح (علیہ السلام) کی اولاد میں سے تھے۔ ابن اسحاق نے نسب اس طرح بیان کیا ہے : عاد ھو ابن عوص بن ارم بن شالغ بن ارفخشد بن سام بن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–71
(1) امام ابن منذر نے کلبی کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” والی عاد اخاھم ھودا “ یعنی وہ ان کے دین کے بھائی نہیں تھے لیکن وہ ان کے نسبی بھائی تھے کیونکہ ھود (علیہ السلام) ان میں سے نہ تھے۔ اس لئے آپ کو ان کا بھائی کہا گیا۔
(2) امام اسحاق بن بشیر اور ابن عساکر نے شرفی بن قطامی (رح) سے روایت کیا کہ ھود کا نام عابر بن شالح بن ارفشخد بن سام بن نوح تھا۔
(3) امام ابن منذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ وہ لوگ گمان کرتے تھے کہ ھود (علیہ السلام) کا تعلق ایک قبیلہ بنی عبد الخضم سے تھا۔
(4) امام اسحاق بن بشر اور ابن عساکر نے عطاء کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ھود پہلے آدمی تھے…
Read the full tafseer →قَالُوْٓا [ ان لوگوں نے کہا ] اَجِئْتَنَا [ کیا آپ آئے ہمارے پاس ] لِنَعْبُدَ [ (اس لیے) کہ ہم بندگی کریں ] اللّٰهَ [ اللہ کی ] وَحْدَهٗ [ اس کے اکیلے ہوتے ہوئے ] وَنَذَرَ [ اور (اس لیے ) کہ ہم چھوڑدیں ] مَا [ اس کو جس کی ] كَانَ يَعْبُدُ [ بندگی کرتے تھے ] اٰبَاۗؤُنَا ۚ [ ہمارے آباواجداد ] فَاْتِنَا [ پس تو لے آ ] بِمَا [ اس کو جس کا ] تَعِدُنَآ [ تو وعدہ کرتا ہے ہم سے ] اِنْ كُنْتَ [ اگر تو ہے ] مِنَ الصّٰدِقِيْنَ [ سچوں میں سے ]
زیرمطالعہ آیت ۔ 70 ۔ واحد ۔ فاعل ، کے وزن پر صفت ہے۔ تنہا ۔ اکیلا ۔ وَاِلٰـهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ [ اور تم لوگوں کا الہ اکیلا الہ ہے ] 2:163 ۔ وحید ۔ فعیل کے وزن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–74
حضرت صالح (علیہ السلام) کا اپنی قوم کو تبلیغ کرنا اور سر کشی اختیار کر کے قوم کا ہلاک ہونا
حضرت صالح (علیہ السلام) جس قوم کی طرف مبعوث ہوئے وہ قوم ثمود تھی۔ عاد اور ثمود دونوں ایک ہی دادا کی اولاد ہیں۔ یہ دونوں دو شخصوں کے نام تھے۔ بنو عاد قوم عاد کے نام سے اور بنو ثمود قوم ثمود کے نام سے معروف و موسوم ہوئے۔ قوم ثمود عرب کے شمال مغرب میں رہتے تھے ان کے مرکزی شہر کا نام حجر تھا۔ جس کو سورة حجر کے چھٹے رکوع میں بیان فرمایا ہے۔ قوم عاد کی بربادی کے بعد یہ لوگ زمین میں بسے اور پھلے پھولے۔ یہ لوگ بھی قوت اور طاقت والے تھے۔ زمین پر بڑے بڑے مکانات بناتے تھے اور پہاڑوں کو تراش کر اپنے لیے گھر بنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–72
قصہ دوم حضرت ہود (علیہ السلام) با قوم عاد
قال اللہ تعالیٰ والی عاد اخاھم ھودا۔۔۔ الی۔۔۔ وماکانوا مومن ین۔
(ربط) اب دوسرا قصہ قوم عاد کا بیان کرتے ہیں یہ قوم طوفان نوح کے بعد ملک عرب کے جنوبی حصہ یعنی یمن میں آباد تھی یمن میں ایک مقام احقاف تھا وہاں یہ لوگ رہتے تھے اور اس قوم کے لوگ بڑے قد آور اور تناور تھے اور حضرت نوح (علیہ السلام) کے بعد ہود (علیہ السلام) اس قوم کی طرف پیغمبر بنا کر بھیجے گئے پر ناز تھا اور یہ کہا کرتے تھے کہ دنیا میں ہم سے زیادہ کوئی قوی نہیں وقالوا من اشد منا قوۃ۔
ہود (علیہ السلام) نے ان کو نصیحت کی اور شرک اور ظلم سے منع کیا اور عذاب الٰہی سے ڈرایا مگر کچھ اثر نہ ہوا جسم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–70
78: قوت یا پھیلاؤ :۔ قوم نے جواب میں کہا کہ تم ہمارے پاس اس لیے آئے کہ ہم صرف ایک اللہ کی عبادت کریں اور صرف اسی کو پکاریں اور جن معبودوں کو ہمارے باپ دادا پکارتے چلے آئے ہیں ان کو ہم چھوڑ دیں تو سن لو کہ ایسا ہرگز نہیں ہوگا۔ باقی جس عذاب سے تم ہمیں ڈراتے ہو اگر تمہارے بیان میں کچھ سچائی ہے تو وہ عذاب لے آؤ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–72
ربط آیات
گزشتہ درس میں حضرت ہود (علیہ السلام) کا تذکرہ اللہ نے ان کی بعثت کا ذکر کیا انہوں نے اپنی قوم کو توحید کی دعوت دی اور غیر اللہ کی عبادت سے منع فرمایا مگر قوم کے سربرآوردہ لوگوں نے آپ کی دعوت کو قبول نہ کیا اور آپ پر جھوٹ اور بےوقوفی کا الزام لگایا حضرت ہود (علیہ السلام) نے نہایت نرمی کے ساتھ جواب دیا کہ اے میری قوم کے لوگو ! مجھ میں بےعقلی کی کوئی بات نہیں ہے میں تو رب العلمین کی طرف سے تمہارا رسول بناکر بھیجا گیا ہوں میں اپنے رب کے پیغام تک پہنچانے پر مامور ہوں میں تمہارا خیر خواہ اور امانت دار ہوں کیا تمہیں اس بات پر تعجب ہے کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے نصیحت ایک ایے شخص پر نازل ہوئی ہے…
Read the full tafseer →قَالَ قَدْ وَقَعَ عَلَيْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ رِجْسٌ وَّغَضَبٌ 0 ۭ اَتُجَادِلُوْنَنِيْ فِيْٓ اَسْمَاۗءٍ سَمَّيْتُمُوْہَآ اَنْتُمْ وَاٰبَاۗؤُكُمْ مَّا نَزَّلَ اللہُ بِہَا مِنْ سُـلْطٰنٍ 0 ۭ فَانْتَظِرُوْٓا اِنِّىْ مَعَكُمْ مِّنَ الْمُنْتَظِرِيْنَ 71
قول
القَوْلُ والقِيلُ واحد . قال تعالی: وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122]
( ق و ل ) القول
القول اور القیل کے معنی بات کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] اور خدا سے زیادہ بات کا سچا کون ہوسکتا ہے ۔
وقع
الوُقُوعُ : ثبوتُ الشیءِ وسقوطُهُ. يقال : وَقَعَ الطائرُ وُقُوعاً ، والوَاقِعَةُ لا تقال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–70
ترکیب : ھودا بدل ہے اخاھم سے جو مفعول ہے فعل مخدوف کا ‘ اے ارسلنا ان جاء کم تبادیل مصدر مفعول ہے عجبتمکا من ربکم ذکر کی صفت یا حال علی رجل حال بھی ہوسکتا ہے اے نازلا علی رجل او جاء کم سے علی المعنی متعلق بھی ہوسکتا ہے لا نہ فی المعنی نزل الیکم وفی الکلام حذف مضاف اے علی قلب رجل او علی لسان رجل فی الخلق زاد کم سے متعلق وحدہ مصدر حال ہے اللّٰہ سے اے مفرد ایا فاعل لنعبد سے ای موحدین لہ ونذر معطوف ہے نعبد پر جو منصوب ہے ان مقدرہ سے ماکان الخ نذر کا مفعول۔
تفسیر : قوم عاد کا تذکرہ : یہاں سے دوسرا قصہ قوم عاد کا شروع ہوتا ہے یہ ایک قوم بعد طوفان نوح کے ملک عرب کے جنوبی حصہ میں آباد تھی۔ یہ لوگ عاد…
Read the full tafseer →قَالُوْٓا اَجِئْتَنَا لِنَعْبُدَ اللہ َ وَحْدَہٗ وَ نَذَرَ مَا کَانَ یَعْبُدُ اٰبَآؤُنَا ج فَاْتِنَا بِمَا تَعِدُنَآ اِنْ کُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ ۔ (الاعراف : 70)
” وہ بولے ! کیا تم ہمارے پاس اس لیے آئے ہو کہ ہم تنہا اللہ ہی کی عبادت کریں اور ان کو چھوڑ بیٹھیں ‘ جن کی عبادت ہمارے باپ دادا کرتے آئے ؟ تم جس عذاب کی ہم کو دھمکی سنا رہے ہو اس کو لائو ‘ اگر تم سچے ہو “۔
قوم کا جواب اور ان کے استدلال کی حقیقت
قوم کے جواب پر غور کیجیے ! ان کا لب و لہجہ اور اسلوب کس قدر ناگوا رہے اس میں غصہ بھی ہے اور طنز بھی کہ اللہ کی نعمتیں اپنی جگہ، ہمیں اس سے انکار نہیں ہمیں اس بات سے بھی انکار نہیں کہ وہی اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–72
فہم القرآن
حضرت ھود (علیہ السلام) :
حضرت ھود (علیہ السلام) کا تعلق عرب کے عاد قبیلے سے تھا جن کی رہائش موجودہ جغرافیے کے مطابق عمان اور یمن کے علاقے حضرموت کے درمیان تھی۔ یہ علاقہ سمندر کے کنارے پر واقع تھا یہاں ریت کے بڑے بڑے ٹیلے اور بلندو بالا پہاڑ تھے۔
اس کے باسی جسمانی اعتبار سے دراز قامت، کڑیل جوان اور قوی ہیکل تھے۔ دنیا میں ان کا کوئی ثانی نہیں تھا۔ انھوں نے پہاڑ تراش، تراش کر خوبصورت محلات تعمیر کر رکھے تھے۔ ان کی سرزمین نہایت سر سبزتھی جس میں ہر قسم کے باغات آراستہ تھے انھیں قرآن مجید میں ” احقاف والے “ کہا گیا ہے۔ احقاف ریت کے بڑے بڑے ٹیلوں کو کہا جاتا ہے جو عرب کے جنوب مغربی حصہ…
Read the full tafseer →قوم کا اعتراض :
آیت 70: قَالُوْٓا اَجِئْتَنَا (وہ کہنے لگے کیا آپ ہمارے پاس اس لئے آئے ہونگے) اس میں آنے کا یہ معنی ہے کہ ھود ( علیہ السلام) کا قوم سے الگ تھلگ مکان تھا جس میں عبادت کرتے تھے جیسا کہ رسول اللہ ﷺ بعثت سے قبل حراء میں کرتے تھے۔ جب ان کی طرف وحی آئی تو قوم کی طرف دعوت دینے کے لئے آئے۔ لِنَعْبُدَ اللّٰہَ وَحْدَہٗ وَنَذَرَ مَاکَانَ یَعْبُدُ ٰابَآ ؤُنَا (کہ ہم صرف اللہ ہی کی عبادت کیا کریں اور چھوڑ دیں جن کو ہمارے باپ دادا پوجتے تھے) انہوں نے اس بات کو عجیب خیال کیا اور انہوں نے اللہ تعالیٰ کی عبادت کے ساتھ خاص ہونا بعید خیال کیا۔ دین آباء کو ترک کرنا جو کہ بت پرستی تھا اور اسی میں…
Read the full tafseer →(70) (قالوا اجننتا لنعبد اللہ وحدہ ونذرما کان یعبد ابآئو ناقاتنا بما تعدنآ ان کنت من الصدقین) جن بتوں کو ہمارے باپ دادا پوجتے رہے ان کو چھوڑ کر ایک خدا کی عبادت کریں۔ اگر کوئی وعدہ عذاب ہے تو لے آئو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–72
(65 ۔ 72) ۔ حضرت ہود ( علیہ السلام) حضرت نوح ( علیہ السلام) کے خاندان میں سے ہیں حضرت ہود ( علیہ السلام) کی امت قوم عاد کا ملک حضرموت تک عثمان وغیرہ تھا۔ اور بڑا شاداب ملک تھا قوم عاد کے لوگ بڑے قوی ساٹھ ساٹھ گز کے قدتک کے تھے عذاب کی آندھی آٹھ روز تک جو ان پر چلی پہلے اس آندھی سے کھیتی کرنے والے لوگ اور ان کے جانور پٹخنیاں کھا کھا کر گرے اور ہلاک ہوئے پھر شہروں کے لوگ اسی طرح ہلاک ہوئے قوم عاد نے بہت عمارتیں سنگین بنائیں اور پہاڑوں پر یادگار کے لئے بہت سے مینار بنائے آندھی کے عذاب سے پہلے ان میں قحط کے عذاب پھیلے کئ برس تک سخت قحط رہا چند آدمی ان میں سے مکہ قحط کے رفع کی دعا مانگنے گئے مکہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–71
آیت 59
جب اللہ تعالیٰ نے اپنی توحید کے دلائل میں سے ایک اچھا حصہ ذکر فرمایا، تو اب اس کی تائید میں انبیائے کرام کا، جو اس کی توحید کے داعی تھے اور اس رویے کا جو ان کی امتوں کے منکرین توحید کی طرف سے پیش آیا، اسے بیان فرما رہا ہے۔ نیز یہ کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے کیسے اہل توحید کی تائید فرمائی اور انبیاء ومرسلین سے عناد رکھنے والوں اور ان کی اطاعت نہ کرنے والوں کو ہلاک کردیا۔۔۔ اور کیسے انبیاء ومرسلین کی دعوت ایک ہی دین اور ایک ہی عقیدہ پر متفق تھی۔ چناچہ نوح جو اولین رسول ہیں، کے بارے میں فرمایا : (لقد ارسلنا نوحاً الی قومہ) ” ہم نے نوح کو ان کی قوم کی طرف بھیجا۔ “ حضرت نوح کفار کو اکیلے اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–141
دعا کا طریقہ
قول باری ہے وادعواربکم تضرعاً عاوخفیۃ۔ اپنے رب کو پکارو گڑگڑاتے ہوئے اور چپکے چپکے) آیت میں چپکے چپکے رب کو پکارنے کا حکم ہے حسن کا قول ہے کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے تمہیں اس بات کی تعلیم دی ہے کہ تم اپنے رب کو کس طرح پکارو۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک عہد صالح کا ذکر فرمایا جس کی پکار کو اس نے پسند فرمایا تھا چناچہ ارشاد ہے اذنادی ربہ نداء خفیا۔ جبکہ اس نے اپنے رب کو چپکے چپکے پکارا) یعنی حضرت زکریاعلیہ السلام عبداللہ بن المبارک نے حسن بصری سے روایت کی ہے کہ لوگ یعنی صحابہ کرام بڑی عاجزی اور نیاز مندی کے ساتھ دعائیں مانگا کرتے تھے اور صرف سرگوشی کی آواز سنائی دیتی تھی۔ حضرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–70
91 پیغمبر کی دعوت خالص خیرخواہی پر مبنی ہوتی ہے : نہ تو تمہارے ساتھ اس خیر خواہی میں کسی ذاتی غرض کا کوئی شائبہ ہے اور نہ ہی اس پیغام ربانی میں کسی آمیزش کا کوئی سوال۔ جس کے ساتھ مجھے تمہاری طرف بھیجا گیا ہے۔ پس اس کو قبول کرنے اور صدق دل سے اپنانے میں خود تمہارا اپنا ہی بھلا اور فائدہ ہے، دنیا کی اس عارضی اور فانی زندگی میں بھی اور اس کے بعد آخرت کے اس حقیقی اور ابدی جہاں میں بھی۔ سو پیغمبر کی دعوت خالص خیرخواہی اور صدق و اخلاص پر مبنی ہوتی ہے۔ اس میں ذاتی اغراض یا نفسانی خواہشات کا کوئی شائبہ نہیں پایا جاتا۔ حضرت ھود (علیہ السلام) کے اس جواب میں بھی وہی پیغمبرانہ ادب عالی پایا جاتا ہے جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–72
سیدنا ہود (علیہ السلام) اور قوم کی تباہی
تشریح : ان آیات میں سیدنا ہود (علیہ السلام) اور قوم ہود کا مختصرقصہ بیان کیا ہے۔ ہود (علیہ السلام) ایک نبی کا نام ہے یہ نوح (علیہ السلام) کی پا نچویں نسل اور سام کی اولاد میں ہیں۔ سیدنا ہود (علیہ السلام) عاد کی طرف رسول بنا کر بھیجے گئے، عاد ایک بڑی زبردست طاقتور قوم کا نام ہے۔ یہ سیدنا نوح (علیہ السلام) کے پوتے ارم کی اولاد تھے اور یمن میں احقاف کے علاقے میں رہتے تھے۔ عاد کے تیرہ خاندان تھے۔ عمان سے لیکر حضرموت تک کی بستیاں آباد تھیں۔ ان کی زمینیں بڑی زرحیز اور باغات تھے۔ بڑے بڑے شاندار محلات بناتے اور ان میں خوشگوار زندگیاں گزارتے تھے، مضبوط، صحت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–72
رکوع نمبر 9 ۔ آیات 65 ۔ تا۔ 72
اسرار و معارف :
توحید : اسی طرح زمین پر آباد ہونے والے لوگ پھلے پھولے اور پھر سے آبادی بڑھی تو نوح (علیہ السلام) کی پانچویں پشت میں عاد جو ان کے بیٹے سام کی اولاد میں سے تھا معروف آدمی گذرا حتی کہ اس کی پوری قوم عاد کہلائی اسی کے دوسرے بھائی کی اولاد ثمود یا عاد ثانی کہلائی مورخین کی مطابق عاد کے دادا کا نام ارم تھا لہذا انہیں عاد ارم بھی کہا گیا ہے جب یہ لوگ خوب آباد ہوگئے اور زمین سونا اگلنے لگی ہر طرح کی فصلیں اور پھل کثرت سے پیدا ہونے لگے پھر یہ تنومند اور بہت قد آور اقوام تھیں غرض ہر طرح کی شان و شوکت نصیب ہوئی تو اللہ کریم سے غافل ہوگئے اور اپنی طاقت اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–71
ف 1 کسی بارش کا کسی کو ہوا کا کسی کو پانی کا کسی کو دولت کا اور کسی کو بیماری کا خدا کہتے ہو حلان کہ ان میں سے کوئی بھی در حقیقت کسی چیز کا خدا نہیں ہے۔ یہ صرف نام ہیں ان کے پیچھے کوئی حقیقت نہیں ہے۔ (وحید ی وغیرہ )
2 اس نے کہیں یہ نہیں فرمایا کہ میں نے اپنی خدائی کی اس قسم کے اختیارات فلاں کو مشکل کشا فلاں کو گنچ بخش، فلاں کو غوث، فلاں دستگیر اور فلاں کو داتا صاحب بنادیا، یہ اور اس قسم کے دوسرے القا لوگوں نے اختراع کر کے ان بزرگوں کی طرف منسوب کردیئے ہیں اور شرک کا موجب بنتے ہیں
Read the full tafseer →(7:70) اجئتنا۔ الف استفہامیہ ۔ جئت ماضی واحد واحد مذکر حاضر۔ نا ضمیر جمع متکلم ۔ کیا تم (اس لئے) ہمارے پاس آئے ہو۔
نذر۔ مضارع منصوب۔ (بوجہ عمل لام تعلیل لنعبد) جمع متکلم۔ وذر۔ مصدر (باب سمع) دراخواعتنا نہ سمجھ کر چھوڑ دینا۔ ناقابل پرواہ سمجھ کر چھوڑ دینا۔ اس کا ماضی مستعمل نہیں صرف مضارع اور امر مستعمل ہیں۔ نذر۔ ہم ناقابل پرواہ سمجھ کر چھوڑ دیں۔
بما تعدنا۔ جس سے تم ہمیں ڈراتے ہو۔ وعد یعد (ضرب) سے مضارع واحد مذکر حاضر کا صیغہ ہے۔ نا ضمیر جمع متکلم۔ تم ہمیں دھمکاتے ہو۔ وعد یعد۔ وعدہ کرنے کے لئے بھی آتا ہے لیکن یہاں وعید کے معنی مراد ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–70
لغات القرآن آیت نمبر (65 تا 70 ) ۔
سفاھتہ (بےوقوفی۔ بےعقلی) ۔ نظن (ہم گمان کرتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں) ۔ امین (ایماندار) ۔ بصطتہ (پھیلاؤ) ۔ الاء (الی) ۔ نعمتیں) ۔ اجئتنا (کیا تو ہمارے پاس آیا ہے) ۔ لنعبد اللہ (تاکہ ہم اللہ کی عبادت و بندگی کریں) ۔ وحدہ (اس اکیلے کی۔ تنہا کی) ۔ ابائونا (ہمارے باپ دادا) ۔ فاتنا (پس تو لے آ) ۔ تعدنا (تو ہم سے وعدہ کرتا ہے) ۔
تشریح : آیت نمبر 65 تا 70 ) ۔ ” قوم عاد دنیا کی قدیم ترین قوموں میں سے ایک قوم ہے اللہ نے ان کو ہر طرح کی نعمتوں سے نوازا تھا مگر وہ قوم ان نعمتوں کو پا کر ایسی مد ہوش ہوگئی کہ پھر ان کو ہر نصیحت کرنے والا برا لگنے لگا تھا۔ اس قوم کی حکومت و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–73
حضرت صالح (علیہ السلام) اور عذابچنگھاڑ کا ذکر
حضرت صالح (علیہ السلام) بھی حضرت نوح (علیہ السلام) کے خاندان سے ہیں۔ قوم عاد کی ہلاکت کے بعد اس سرزمین میں قوم صالح کے لوگ جن کو ثمود کہتے ہیں بسے۔ بڑی بڑی عمر کے لوگ اس قوم میں ہوئے۔ اینٹ مٹی کے مکان ان کی عمر بھر میں کافی نہ ہوئے تو انہوں نے پہاڑوں کو تراش کر گھر بنائے۔ نوعمری سے حضرت صالح (علیہ السلام) نبی ہوئے۔ نصیحت کرتے کرتے بڈھے (بوڑھے) ہوگئے مگر ان میں سے چند ایک ہی ایمان لائے۔ سال بھر میں ایک روز ان کی عید کا ہوتا تھا۔ اس روز انہوں نے حضرت صالح (علیہ السلام) سے کہا کہ تم ہمارے لئے ایک معجزہ کی اپنے اللہ سے دعا کرو اور ہم بتوں سے اسی معجزہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–71
[32] یعنی تم کسی کو بارش کا، کسی کو ہوا کا، کسی کو دولت کا اور کسی کو بیماری کا رب کہتے ہو حالانکہ ان میں سے کوئی بھی کسی چیز کا رب نہیں ہے، یہ سب محض نام ہیں جو تم نے گھڑ لئے ہیں۔
Read the full tafseer →(ف 1) حضرت ہود (علیہ السلام) کی قوم کو یہ ناگوار تھا کہ وہ ایک خدا کو چھوڑ دیں ، جن کی آباء و اجداد کے عہد سے وہ پوجا کرتے چلے آتے تھے ، اس لئے انہوں نے عذاب پسند کیا ، اور توحید پسند نہ کی ، وہ معبودان باطل سے کسی طرح بھی رشتہ عقیدت منقطع نہیں کرنا چاہتے تھے ،
حل لغات :
ناصح : نصیحت کرنے والا ۔
امین : امانتدار ۔
ابآء : جمع اب ، باپ دادا ۔
Read the full tafseer →70 ان منکر رئوسا نے کہا کہ کیا تو ہمارے پاس اس لئے آیا ہے کہ ہم صرف ایک اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں اور ان معبودوں کو چھوڑ دیں جن کی ہمارے پاس دادا اور بڑے بوڑھے پوجا کیا کرتے تھے۔ لہٰذا اگر تو سچا ہے تو ہم کو جس عذاب کا ڈراوا دیا کرتا ہے اور روزمرہ اس کی دھمکیاں دیتا رہتا ہے وہ عذاب ہمارے پاس لے آ اور اس عذاب کو ہمارے لئے منگادے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–71
ف 2۔ اور یاد کرکے احسان مانو اور اطاعت کرو۔
Read the full tafseer →قوم نے صاف جواب سنا دیا کہ ہود (علیہ السلام) تمہاری اس بات کو نہیں مانا جاسکتا :
81: عاد قوم نے جب یہ سنا تو وہ عجیب حیرت میں پڑگئے۔ ان کی سمجھ میں نہ آیا کہ ایک خدا کی پرستش کے کیا معنی ؟ وہ غم وغصہ میں آگئے کہ کس طرح ہم باپ دادا کی ریت ” اصنام پرستی “ کو چھوڑ دیں ؟ یہ تو ہماری اور ہمارے باپ دادا کی سخت توہین ہے۔ ان کا غیظ و غضب بھڑک اٹھا کہ ان کو کافر اور مشرک کیوں کہا جاتا ہے جب کہ وہ ان بزرگوں کو جن کے بت بنائے گئے ہیں صرف خدا کے سامنے اپنا شفیع مانتے ہیں ؟ کیا ہود (علیہ السلام) ان بزرگوں کی شفاعت کو نہیں مانتا ؟ تو کافر وہ ہوا یا ہم ؟ ان کے نزدیک ہود (علیہ السلام) کی بات مان لینے میں ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–71
(4)-The sixth verse (70) contains the answer given by Sayyidna Hud (علیہ السلام) . He told them that, in view of their contumacy and lack of good sense, the wrath and punishment of Allah would have not remained far and may come sooner than they expect. So, this was a matter of waiting. Let them wait for it, so shall he do. It would be noticed that the provoking reply given by his people prompted Sayyidna Hud (علیہ السلام) to give a suitable answer which included the news that the punishment they were looking for was to come soon. But, he was a prophet. His paternal affection and the desire to…
Read the full tafseer →53. It is worth noting that the people of 'Ad neither disbelieved in God nor refused to worship Him. They did not, however, follow, the teachings of Hud who proclaimed God alone should he worshipped, and that none other may be associated in servitude to Him.
Read the full tafseer →