Al-A'raaf 7:65

Al-A'raaf · from ayah 65

7:65

وَاِلٰی عَادٍ اَخَاهُمْ هُوْدًا ؕ— قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ ؕ— اَفَلَا تَتَّقُوْنَ ۟وَاِلٰى عَادٍ اَخَاهُمۡ هُوۡدًا‌ ؕ قَالَ يٰقَوۡمِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ مَا لَـكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرُهٗ ؕ اَفَلَا تَتَّقُوۡنَ

اور (اسی طرح) قوم عاد کی طرف ان کے بھائی ہود کو بھیجا۔ انہوں نے کہا کہ بھائیو خدا ہی کی عبادت کرو۔ اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ کیا تم ڈرتے نہیں؟

— Fateh Muhammad Jalandhari

And to the 'Aad [We sent] their brother Hud. He said, "O my people, worship Allah; you have no deity other than Him. Then will you not fear Him?"

— Saheeh International

Juz 8 · Ruku 9 of surah · Ruku 16 of juz

Read the whole surah · Surah Al-A'raaf

All translations of 7:65

اور عاد کی طرف ہم نے ان کے بھائی ہودؑ کو بھیجا اس نے کہا "اے برادران قو م، اللہ کی بندگی کرو، اُس کے سوا تمہارا کوئی خدا نہیں ہے پھر کیا تم غلط روی سے پرہیز نہ کرو گے؟"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور (اسی طرح) قوم عاد کی طرف ان کے بھائی ہود کو بھیجا۔ انہوں نے کہا کہ بھائیو خدا ہی کی عبادت کرو۔ اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ کیا تم ڈرتے نہیں؟

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور ہم نے قوم عاد کی طرف ان کے بھائی ہود ؑ کو بھیجا۔ انہوں نے فرمایا اے میری قوم! تم اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا کوئی تمہارا معبود نہیں، سو کیا تم نہیں ڈرتے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور قوم عاد کی طرف ہم نے ان کے بھائی ہود کو بھیجا۔ انہوں نے کہا : اے میری قوم ! اللہ کی عبادت کرو۔ اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ کیا پھر بھی تم اللہ سے نہیں ڈرو گے ؟

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور عاد کی طرف ان کی برادری سے ہود کو بھیجا کہا اے میری قوم اللہ کی بندگی کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں، تو کیا تمہیں ڈر نہیں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور ہم نے (قومِ) عاد کی طرف ان کے (قومی) بھائی ہُود ؑ کو (بھیجا)، انہوں نے کہا: اے میری قوم! تم اﷲ کی عبادت کیا کرو اس کے سوا کوئی تمہارا معبود نہیں، کیا تم پرہیزگار نہیں بنتے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور عاد کی طرف ان کے بھائی ہود کو (بھیجا) ، اس نے کہا اے میری قوم ! اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں، تو کیا تم نہیں ڈرتے ؟

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور قوم عاد کی طرف ہم نے ان کے بھائی ہود کو بھیجا۔ اس نے اپنی قوم کے لوگوں سے کہا : اللہ کی عبادت کرو جس کے بغیر تمہارا کوئی الٰہ نہیں۔ کیا تم (اللہ سے) ڈرتے نہیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور عاد کی طرف ہم نے ان کے بھائی ہود کو بھیجا، اس نے دعوت دی، اے میرے ہم قومو ! اللہ ہی کی بندگی کرو، اس کے سوا تمہارا کوئی اور معبود نہیں، تو کیا تم ڈرتے نہیں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور عاد کی طرف ان کے بھائی ہود کو بھی (ہم نے رسول بنا کر بھیجا) تو اس نے بھی یہی کہا کہ اے میری قوم تم بندگی کرو اللہ کی، کہ اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں، تو کیا تم لوگ ڈرتے نہیں ؟

— مولانا اسحاق مدنی

اور عاد کی طرف ہم نے ان کے بھائی ہود ؑ کو (بھیجا) ۔ انہوں نے کہا اے میری قوم والو اللہ ہی کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں ہے سو کیا تم ڈرتے نہیں ؟ ۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور قوم عاد کی طرف (ہم نے) ان کے بھائی ہود ؑ کو بھیجا اس ؑ نے کہا اے میری قوم کے لوگو ! اللہ کی بندگی کرو تمہارا کوئی الٰہ اس کے سوا نہیں ہے تو کیا تم لوگ ڈرتے نہیں ؟

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور اسی طرح قوم عاد کی طرف انکے بھائی ہود کو بھیجا انہوں نے کہا اے میری قوم ! اللہ ہی کی عبادت کرو۔ اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں کیا تم ڈرتے نہیں ؟۔

— محترمہ رفعت اعجاز

And to 'Ad We sent forth their brother Hud. He said: 'O my people! Serve Allah; you have no other god than Him. Will you, then, not avoid evil?'

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

To _Ad, We sent their brother Hud. He said, :O my people, worship Allah; you have no god other than Him. So, will you not fear Allah?

— Muhammad Taqi Usmani

To _Ad, We sent their brother Hud. He said, :O my people, worship Allah; you have no god other than Him. So, will you not fear Allah?

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And to `Ad (the people, We sent) their brother Hud. He said: "O my people! Worship Allah! You have no other god but Him. Will you then not have Taqwa"

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And unto (the tribe of) A'ad (We sent) their brother, Hud. He said: O my people! Serve Allah. Ye have no other Allah save Him. Will ye not ward off (evil)?

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And to the 'Aad [We sent] their brother Hud. He said, "O my people, worship Allah; you have no deity other than Him. Then will you not fear Him?"

— Saheeh International

We sent Hud to his brethren, the tribe of `Ad, who told them, "Worship God for He is your only Lord. Will you not become pious?"

— Muhammad Sarwar

And to Ad (We sent) their brother Hud. He said: O my people! serve Allah, you have no god other than Him; will you not then guard (against evil)?

— Muhammad Habib Shakir

And unto 'Ad We sent their brothers Hud. He said: O my people! worship Allah, no god ye have but He; Fear ye not?

— Abdul Majid Daryabadi

To the 'Ad people, (We sent) Hud, one of their (own) brethren: He said: O my people! worship Allah! ye have no other god but Him will ye not fear (Allah)?"

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 7:65

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 65–69

ہود ؑ اور ان کا رویہ ! فرماتا ہے کہ جیسے قوم نوح کی طرف حضرت نوح کو ہم نے بھیجا تھا قوم عاد کی طرف حضرت ہود ؑ کو ہم نے نبی بنا کر بھیجا یہ لوگ عاد بن ارم بن عوص بن سام بن نوح کی اولاد تھے۔ یہ عاد اولیٰ ہیں۔ یہ جنگل میں ستونوں میں رہتے تھے۔ فرمان ہے آیت (الم تر کف فعل ربک بعاد ارم ذات العماد التی لم یخلق مثلھا فی البلاد) یعنی کیا تو نے نہیں دیکھا کہ عاد ارم کے ساتھ تیرے رب نے کیا کیا ؟ جو بلند قامت تھے دوسرے شہروں میں جن کی مانند لوگ پیدا ہی نہیں کئے گئے۔ یہ لوگ بڑے قوی طاقتور اور لانبے چوڑے قد کے تھے جیسے فرمان ہے کہ عادیوں نے زمین میں ناحق تکبر کیا اور نعرہ لگایا کہ ہم سے زیادہ قوی کون ہے ؟…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْاَعْرَاف 51 یہ عرب کی قدیم ترین قوم تھی جس کے افسانے اہل عرب میں زبان زدعام تھے۔ بچہ بچہ ان کے نام سے واقف تھا۔ ان کی شوکت و حشمت ضرب المثل تھی۔ پھر دنیا سے ان کا نام و نشان تک مٹ جانا بھی ضرب المثل ہو کر رہ گیا تھا۔ اسی شہرت کی وجہ سے عربی زبان میں ہر قدیم چیز کے لیے عادی کا لفظ بولا جاتا ہے۔ آثار قدیمہ کو عادیّات کہتے ہیں۔ جس زمین کے مالک باقی نہ رہے ہوں اور جو آباد کار نہ ہونے کی وجہ سے افتادہ پڑی ہوئی ہو اسے عادیُّ الارض کہا جاتا ہے۔ قدیم عربی شاعری میں ہم کو بڑی کثرت سے اس قوم کا ذکر ملتا ہے۔ عرب کے ماہرین انساب بھی اپنے ملک کی معدوم شدہ قوموں میں سب سے پہلے اسی قوم کا نام لیتے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

خلاصہ تفسیر اور ہم نے قوم عاد کی طرف ان کے (برادری یا وطن کے) بھائی (حضرت) ہود ؑ کو (پیغمبر بنا کر) بھیجا انہوں نے (اپنی قوم سے) فرمایا اے میری قوم تم (صرف) اللہ کی عبادت کرو اس کے سوا کوئی تمہارا معبود (ہونے کے قابل) نہیں (اور بت پرستی چھوڑ دو جیسا آگے وَنَذَرَ مَا كَانَ يَعْبُدُ اٰبَاۗؤ ُ نَا سے معلوم ہوتا ہے) سو کیا تم (ایسے بڑے جرم عظیم یعنی شرک کے مرتکب ہو کر عذاب الٰہی سے) نہیں ڈرتے ان کی قوم میں جو آبرودار لوگ کافر تھے انہوں نے (جواب میں) کہا کہ ہم تم کو کم عقلی میں (مبتلا) دیکھتے ہیں (کہ توحید کی تعلیم کر رہے ہو اور عذاب سے ڈرا رہے ہو) اور ہم بیشک تم کو جھوٹے لوگوں میں سے سمجھتے ہیں…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

وَاِلٰي عَادٍ اَخَاهُمْ هُوْدًا ۭقَالَ يٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَيْرُهٗ ۭ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ۔ قوم عاد کی سرگزشت اور حضرت ہود کی دعوت : ’ عاد ‘ عرب کی قدیم اقوام میں سے ہیں۔ ان کا تعلق سامی نسل سے ہے۔ ان کا مسکن جنوبی عرب میں احقاف کا علاقہ تھا۔ قرآن کے الفاظ وجعلکم خلفاء من بعد قوم سے مترشح ہوتا ہے کہ طوفانِ نوح کے بعد اس قوم کے پیشرو وں میں سے کچھ لوگوں نے جنوبی عرب کی طرف ہجرت کی اور وہاں رفتہ رفتہ بڑی قوت و شوکت حاصل کرلی۔ عرب کے لٹریچر میں یہ اپنی قدامت کے لیے بھی ضرب المثل ہیں اور اپنے دبدبہ اور صولت کے لیے بھی۔ ان کے اندر اللہ تعالیٰ نے حضرت ہود کو مبعوث…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

65۔ 1 یہ قوم عاد، عاد اولیٰ ہے جن کی رہائش یمن میں ریتلے پہاڑوں پر تھی اور اپنی قوت و طاقت میں بےمثال تھی۔ ان کی طرف حضرت ہود علیہ السلام، جو اسی قوم کے ایک فرد تھے نبی بن کر آئے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 65–68

37: قوم عاد عربوں کی ابتدائی نسل کی ایک قوم تھی جو حضرت عیسیٰ ؑ سے کم از کم دو ہزار سال پہلے یمن کے علاقے حضرموت کے آس پاس آباد تھی، یہ لوگ اپنی جسمانی طاقت اور پتھروں کو تراشنے کے ہنر میں مشہور تھے، رفتہ رفتہ انہوں نے بت بناکر ان کی پوجا شروع کردی اور اپنی طاقت کے گھمنڈ میں مبتلا ہوگئے، حضرت ہود ؑ ان کے پاس پیغمبر بناکر بھیجے گئے اور انہوں نے اپنی قوم کو بڑی دردمندی سے سمجھانے کی کوشش کی اور انہیں توحید کی تعلیم دے کر اللہ تعالیٰ کا شکر گزار بننے کی تعلیم دی مگر کچھ نیک طبع لوگوں کے سوا باقی لوگوں نے ان کا کہنا نہیں مانا، پہلے ان کو قحط میں مبتلا کیا گیا اور حضرت ہود ؑ نے انہیں یاد دلایا کہ…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

آیت ” نمبر 65 تا 74۔ یہ وہی رسالت اور وہی پیغام بری ہے وہی معاملہ اور وہی انجام ہے۔ وہی سنت الہیہ ہے جو جاری وساری ہے اور وہی قانون الہی ہے جس کے مطابق یہ کائنات قائم ہے ۔ ایک ہی قانون ہے اور ایک ہی ضابطہ ہے ۔ قوم عاد حضرت نوح (علیہ السلام) کی اولاد میں سے ہے ‘ یا ان لوگوں کی اولاد میں سے ہے جو آپ کے ساتھ کشتی میں سوار تھے ۔ بعض روایات میں آتا ہے کہ ان کی تعداد تیرہ ‘ ظاہر ہے کہ یہ سب لوگ دین نوح (علیہ السلام) کے پیرو تھے اور نوح (علیہ السلام) کا دین ‘ دین اسلام تھا ۔ یہ صرف اللہ وحدہ کو پکارتے تھے اور وہ اللہ کے سوا اپنے لئے کسی اور کو الہ نہ بناتے تھے ‘ ان کا عقیدہ یہی تھا کہ اللہ ہی رب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

3 " عاد " حضرت نوح کے پوتے ارم کی اولاد میں ہیں۔ یہ قوم اسی کی طرف منسوب ہے ان کی سکونت " احقاف " (یمن) میں تھی۔ حضرت ہود (علیہ السلام) اسی قوم سے ہیں۔ اس لحاظ سے وہ ان کے قومی اور وطنی بھائی ہوئے۔ 4 ان لوگوں میں بت پرستی پھیل گئی تھی۔ روزی دینے، مینہ برسانے، تندرست کرنے اور مختلف مطالب و حاجات کے لئے الگ الگ دیوتا بنا رکھے تھے۔ جن کی پرستش ہوتی تھی۔ ہود (علیہ السلام) نے اس سے روکا اور اس جرم عظیم کی سزا سے ان کو ڈرایا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰہَ مَا لَکُمْ مِّنْ اِلٰہٍ غَیْرُہٗ ط اَفَلاَ تَتَّقُوْنَ حضرت ہود علیہ السلام نے بھی اپنی قوم کو وہی پیغام دیا جو حضرت نوح علیہ السلام نے اپنی قوم کو دیا تھا۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

70 سیدنا ہود کا مرکز تبلیغ :۔ طوفان نوح کے بعد بھی ایک مدت سیدنا نوح (علیہ السلام) زندہ رہے پھر اس طوفان کے تقریباً چھ سو سال بعد سیدنا ہود (علیہ السلام) کو قوم عاد کی طرف بھیجا گیا یہ سام کی اولاد میں سے تھے جو عاد عرب کی قدیم ترین قوم تھی، جس کے افسانے عرب میں زبان زد عام تھے اس قوم کو عاد اولیٰ بھی کہا جاتا ہے اس کی شان و شوکت بھی ضرب المثل تھی اور دنیا سے اس کا نام و نشان تک مٹ جانا بھی ضرب المثل بن گیا تھا۔ اسی شہرت کی وجہ سے عربی زبان میں ہر قدیم چیز کے لیے عادی کا لفظ بولا جاتا ہے۔ آثار قدیمہ کو عادیات کہتے ہیں اور جس زمین کے مالک باقی نہ رہے ہوں یا مدت سے بنجر پڑی ہو اسے عادی الارض…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

88 ۔ (بہ طور پیغمبر کے) ھود۔ سامی نسل کے قدیم ترین پیغمبروں میں سے ہوئے ہیں۔ عرب آپ سے خوب واقف تھے۔ جنوبی عرب میں آج بھی قبر نبی ہود (علیہ السلام) کے نام سے ایک مقام مرجع خلایق وزیارت گاہ ہے۔ جس کا ذکر انگریزی سیاح بھی برابر کرتے ہیں۔ بعض اہل علم کا خیال ہے کہ آپ ہی کا نام توریت (کتاب پیدائش) میں عبر کرکے آیا ہے۔ عاد ایک قدیم عرب قوم کا نام ہے۔ جو جنوبی عرب میں آباد تھی۔ اور اس کے حدود مشرق میں خلیج فارس کے شمال سے مغرب میں بحر قلزم کے جنوب تک وسیع تھے۔ گویا آج کے یمن، عمان وغیرہ سب اس میں شامل تھے۔ اور ان کا پایہ تخت یمنی شہر حضرموت تھا۔ قوم کا نام اپنے مورث اعلی کے نام پر ہے۔ اور ان کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 65–72

آیت نمبر 65 تا 72 ترجمہ : اور ہم نے عاد اولی کی طرف ان کے بھائی ہود (علیہ السلام) کو بھیجا انہوں نے کہا اے میری قوم اللہ کی بندگی کرو (یعنی) اس کی توحید کا اقرار کرو، اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں، سو کیا تم اس سے ڈرتے نہیں ہو کہ ایمان لے آؤ، ان کی قوم کے کافر سرداروں نے کہا ہم تو تم کو حماقت جہالت میں مبتلا دیکھتے ہیں اور ہم تم کو دعوائے رسالت میں جھوٹا سمجھتے ہیں انہوں نے جواب دیا اے میری قوم میں ذرا بھی حماقت میں مبتلا نہیں، میں تو رب العالمین کی طرف سے بھیجا ہوا رسول ہوں میں تم کو اپنے رب کا پیغام پہنچاتا ہوں، (اُبلغکم) میں تخفیف وتشدید دونوں قراءتیں ہیں، اور تمہارا سچا خیر خواہ ہوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

والی عاد اخاہم ہودا . اور ہم نے بھیجا (قوم) عاد کی طرف ان کے بھائی ہود کو۔ عاد سے مراد قبیلۂ عاد ہے عاد بن عوص بن ارم بن سام بن نوح ( علیہ السلام) کی ذریت عاد اولیٰ کہلاتی ہے۔ اخاہم ہودًا یعنی نسب (اور قومیت) کے اعتبار سے بھائی۔ دین کے لحاظ سے بھائی ہونا مراد نہیں ہے۔ حضرت ہود کا باپ عبداللہ بن ریاح بن خلود بن عاد بن عوص تھا ابن اسحاق نے ہود کو شالخ بن ارفخشذ بن سام بن نوح کا بیٹا کہا ہے۔ شیخ ابوبکر نے شرح خلاصۃ السیر میں لکھا ہے کہ ہود کا نام عابر یا عابر یا عبیر یا غبیر تھا اور آپ شالخ بن قینان بن ارفخشذ بن ہشام بن نوح کے بیٹے تھے۔ تمام کتب الانساب میں اسی طرح آیا ہے لیکن ایک شاذ روایت یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(65) اور قوم عاد کی طرف ہم نے ان کے بھائی کو نبی بنا کر بھیجا تاکہ اللہ تعالیٰ کی توحید کے قائل ہوجاؤ اور جن ماسوا اللہ چیزوں کو پکارتے ہو ان کی عبادت سے ڈرو اور باز آؤ۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَاِلٰي عَادٍ اَخَاهُمْ هُوْدًا ۭ: عاد عرب کی ایک قدیم ترین قوم تھی جو جنوبی عرب میں آباد تھی۔ قرآن کے بیان کے مطابق ان کا مسکن ”احقاف“ کا علاقہ تھا جو حجاز، یمن اور عمان کے درمیان واقع ہے اور اب ”ربع خالی“ کے نام سے مشہور ہے۔ یمن کا شہر حضر موت ان کا پایۂ تخت تھا۔ ان کا نسب یوں بیان کیا جاتا ہے، عاد بن عوض بن ارم بن سام بن نوح۔ (ابن کثیر) مگر اس کی صحت اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے۔ ہود ؑ کی قوم عاد قرآن میں عاد ارم یا عاد اولیٰ کے نام سے مذکور ہے۔ حضر موت کے نزدیک ایک مقام پر ہود ؑ کی قبر بتائی جاتی ہے۔ (المنار) مگر ملا علی قاری نے الموضوعات میں لکھا ہے کہ انبیاء میں سے ہمارے نبی ﷺ اور صحابہ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 65–70

قولہ تعالیٰ : آیت : والی عاد اخاھم ھودا یعنی اور ہم نے عاد کی طرف ان کے بھائی حضرت ہود (علیہ السلام) کو بھیجا۔ حضرت ابن عباس ؓ نے بیان کیا ہے : مراد یہ ہے کہ آپ ان کے باپ کے بیٹے تھے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : آپ قبیلہ میں ان کے بھائی تھے۔ اور یہ قول بھی ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ آۃ پ ان کے باپ حضرت آدم (علیہ السلام) کی اولاد میں سے ایک بشر ( اور انسان) تھے۔ اور مصنف ابی داؤد میں ہے کہ اخاھم ھودا کا معنی ہے ان کے ساتھ ہودعلیہ السلام ( کو ان کی طرف بھیجا) اور عاد سام بن نوح (علیہ السلام) کی اولاد میں سے تھے۔ ابن اسحاق نے نسب اس طرح بیان کیا ہے : عاد ھو ابن عوص بن ارم بن شالغ بن ارفخشد بن سام بن…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 65–71

(1) امام ابن منذر نے کلبی کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” والی عاد اخاھم ھودا “ یعنی وہ ان کے دین کے بھائی نہیں تھے لیکن وہ ان کے نسبی بھائی تھے کیونکہ ھود (علیہ السلام) ان میں سے نہ تھے۔ اس لئے آپ کو ان کا بھائی کہا گیا۔ (2) امام اسحاق بن بشیر اور ابن عساکر نے شرفی بن قطامی (رح) سے روایت کیا کہ ھود کا نام عابر بن شالح بن ارفشخد بن سام بن نوح تھا۔ (3) امام ابن منذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ وہ لوگ گمان کرتے تھے کہ ھود (علیہ السلام) کا تعلق ایک قبیلہ بنی عبد الخضم سے تھا۔ (4) امام اسحاق بن بشر اور ابن عساکر نے عطاء کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ھود پہلے آدمی تھے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَاِلٰي عَادٍ [ اور (بیشک ہم بھیج چکے ہیں ) قوم عاد کی طرف ] اَخَاهُمْ [ ان کے بھائی ] هُوْدًا ۭ [ ہود کو ] قَالَ [ انہوں نے کہا ] يٰقَوْمِ [ اے میری قوم ] اعْبُدُوا [ تم لوگ بندگی کرو ] اللّٰهَ [ اللہ کی ] مَا [ نہیں ہے ] لَكُمْ [ تمہارے لیے ] مِّنْ اِلٰهٍ [ کوئی بھی الہ ] غَيْرُهٗ ۭ [ اس کے علاوہ ] اَفَلَا تَتَّقُوْنَ [ تو کیا تم لوگ تقوی نہیں کرتے ] نوٹ ۔ 1: حضرت نوح (علیہ السلام) کی تیسری نسل میں سے ایک شخص کا نام ارم تھا ۔ اس کے ایک بیٹے کی اولاد میں عاد ہے اور دوسرے بیٹے کی اولاد میں ثمود ہے۔ اس طرح قوم عاد اور قوم ثمود ، ارم کی دوشاخیں ہیں ایک کو عاد اولی اور دوسری کو ثمود یا عاد…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 60–65

اور قوم عاد کی طرف ان کے بھائی ہود کو بھیجا۔ انہوں نے کہا اے میری قوم اللہ کی عبادت کرو۔ تمہارے لیے اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے کیا تم ڈرتے نہیں۔ ان کی قوم کے سردار جنہوں نے کفر اختیار کیا جواب میں کہنے لگے کہ بلاشبہ ہم تجھے بےوقوفی میں دیکھ رہے ہیں۔ اور بلاشبہ ہم یہ سمجھ رہے ہیں کہ تو جھوٹوں میں سے ہے۔ ہود نے کہا اے میری قوم ! مجھ میں بےوقوفی نہیں ہے لیکن میں بھیجا ہوا ہوں پروردگار عالم کا، پہنچاتا ہوں تم کو پیغام اپنے رب کے اور میں تمہارا خیر خواہ ہوں، امانت دار ہوں، کیا تمہیں اس بات سے تعجب ہوا کہ تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے نصیحت آگئی تم ہی میں ایک شخص کے واسطہ سے تاکہ وہ تمہیں ڈرائے،…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 65–72

قصہ دوم حضرت ہود (علیہ السلام) با قوم عاد قال اللہ تعالیٰ والی عاد اخاھم ھودا۔۔۔ الی۔۔۔ وماکانوا مومن ین۔ (ربط) اب دوسرا قصہ قوم عاد کا بیان کرتے ہیں یہ قوم طوفان نوح کے بعد ملک عرب کے جنوبی حصہ یعنی یمن میں آباد تھی یمن میں ایک مقام احقاف تھا وہاں یہ لوگ رہتے تھے اور اس قوم کے لوگ بڑے قد آور اور تناور تھے اور حضرت نوح (علیہ السلام) کے بعد ہود (علیہ السلام) اس قوم کی طرف پیغمبر بنا کر بھیجے گئے پر ناز تھا اور یہ کہا کرتے تھے کہ دنیا میں ہم سے زیادہ کوئی قوی نہیں وقالوا من اشد منا قوۃ۔ ہود (علیہ السلام) نے ان کو نصیحت کی اور شرک اور ظلم سے منع کیا اور عذاب الٰہی سے ڈرایا مگر کچھ اثر نہ ہوا جسم…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

75 حضرت ہود (علیہ السلام) کو قوم نے کم عقلی کا طعنہ دیا اس لیے کہ انہوں نے باپ دادا کا دین چھوڑ دیا۔ ای متمکنا فی خفۃ عقل و راسخا فیھا حیث فارقت دین اٰباءک (روح ج 8 ص 155) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 65–69

ربط آیات گزشتہ رکوع سے اللہ تعالیٰ نے تاریخ انبیاء کا بیان شروع کیا ہے جس میں ان کی دعوت الی التوحید اور طریقہ تبلیغ کا ذکر ہے حضرت نوح (علیہ السلام) کی شخصیت ، آپ کی دعوت اور قوم کا جواب بیان ہوچکا ہے کہ کس طرح انہوں نے اپنے نبی کی دعوت کا انکار کیا آپ کی نافرمانی کی اور آپ پر گمراہی کا الزام لگایا اس کی پاداش میں اللہ تعالیٰ نے چند اہل ایمان کے علاوہ پوری قوم کو غرق کردیا اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وہ ساری قوم اندھی تھی یعنی دل کی بصیرت سے محروم تھی نوح (علیہ السلام) نے تبلیغ دین اور خیر خواہی کا پورا پورا حق ادا کیا قوم کو ہر طریقے سے سمجھانے کی کوشش کی مگر انہوں نے کوئی اثر قبول نہ کیا اور…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

قَالَ الْمَلَاُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَوْمِہٖٓ اِنَّا لَنَرٰىكَ فِيْ سَفَاہَۃٍ وَّاِنَّا لَنَظُنُّكَ مِنَ الْكٰذِبِيْنَ۝ 66 كفر الكُفْرُ في اللّغة : ستر الشیء، ووصف اللیل بِالْكَافِرِ لستره الأشخاص، والزّرّاع لستره البذر في الأرض، وأعظم الكُفْرِ : جحود الوحدانيّة أو الشریعة أو النّبوّة، والکُفْرَانُ في جحود النّعمة أكثر استعمالا، والکُفْرُ في الدّين أكثر، والکُفُورُ فيهما جمیعا قال : فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99] ( کر ) الکفر اصل میں کفر کے معنی کیس چیز کو چھپانے کے ہیں ۔ اور رات کو کافر کہا جاتا ہے کیونکہ وہ تمام چیزوں کو چھپا لیتی ہے ۔ اسی طرح کا شتکار چونکہ زمین…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 65–70

ترکیب : ھودا بدل ہے اخاھم سے جو مفعول ہے فعل مخدوف کا ‘ اے ارسلنا ان جاء کم تبادیل مصدر مفعول ہے عجبتمکا من ربکم ذکر کی صفت یا حال علی رجل حال بھی ہوسکتا ہے اے نازلا علی رجل او جاء کم سے علی المعنی متعلق بھی ہوسکتا ہے لا نہ فی المعنی نزل الیکم وفی الکلام حذف مضاف اے علی قلب رجل او علی لسان رجل فی الخلق زاد کم سے متعلق وحدہ مصدر حال ہے اللّٰہ سے اے مفرد ایا فاعل لنعبد سے ای موحدین لہ ونذر معطوف ہے نعبد پر جو منصوب ہے ان مقدرہ سے ماکان الخ نذر کا مفعول۔ تفسیر : قوم عاد کا تذکرہ : یہاں سے دوسرا قصہ قوم عاد کا شروع ہوتا ہے یہ ایک قوم بعد طوفان نوح کے ملک عرب کے جنوبی حصہ میں آباد تھی۔ یہ لوگ عاد…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَاِلٰی عَادٍ اَخَاھُمْ ھُوْدًا ط قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللہ َ مَا لَکُمْ مِّنْ اِلٰہٍ غَیْرُہٗ ط اَفَلَا تَتَّقُوْنَ ۔ (الاعراف : 65) ” اور عاد کی طرف ہم نے ان کے بھائی ہود کو بھیجا۔ اس نے ان کو دعوت دیتے ہوئے کہا : اے برادرانِ قوم ! اللہ ہی کی بندگی کرو ‘ اس کے سوا تمہارا کوئی اور معبود نہیں ‘ کیا تم ڈرتے نہیں ہو ؟ “۔ قومِ عاد کی تاریخ اس سے پہلے کہ ہم آیت کریمہ کے مندرجات کی وضاحت کریں ہم ضروری سمجھتے ہیں کہ قوم عاد کے بارے میں کچھ تفصیلات مہیا کردیں۔ عاد ‘ عرب کے قدیم قبیلہ یا امم سامیہ کے صاحب قوت و اقتدار افرادِ جماعت کا نام ہے ‘ تاریخ قدیم کے بعض یورپی مصنفین عاد کو ایک فرضی کہانی…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 65–72

فہم القرآن حضرت ھود (علیہ السلام) : حضرت ھود (علیہ السلام) کا تعلق عرب کے عاد قبیلے سے تھا جن کی رہائش موجودہ جغرافیے کے مطابق عمان اور یمن کے علاقے حضرموت کے درمیان تھی۔ یہ علاقہ سمندر کے کنارے پر واقع تھا یہاں ریت کے بڑے بڑے ٹیلے اور بلندو بالا پہاڑ تھے۔ اس کے باسی جسمانی اعتبار سے دراز قامت، کڑیل جوان اور قوی ہیکل تھے۔ دنیا میں ان کا کوئی ثانی نہیں تھا۔ انھوں نے پہاڑ تراش، تراش کر خوبصورت محلات تعمیر کر رکھے تھے۔ ان کی سرزمین نہایت سر سبزتھی جس میں ہر قسم کے باغات آراستہ تھے انھیں قرآن مجید میں ” احقاف والے “ کہا گیا ہے۔ احقاف ریت کے بڑے بڑے ٹیلوں کو کہا جاتا ہے جو عرب کے جنوب مغربی حصہ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

دعوت ہود۔ : آیت 65: وَاِلٰی عَادٍ (اور ہم نے قوم عاد کی طرف بھیجا) اور ہم نے بھیجا عاد کی طرف۔ اس کا عطف نوح پر ہے اَخَاھُمْ (ان کے بھائی) ان میں سے ایک۔ جیسا تم کہو اخا العرب مراد اس سے ان عربوں میں سے ایک ہوتا ہے۔ ان میں سے ایک قرار دیا گیا کیونکہ وہ ان میں فہیم ترین انسان تھے۔ پس حجت ان پر خوب لازم ثابت ہوگئی۔ (گنجائش انکار نہ رہی) ھُوْدًا (ہود ( علیہ السلام) کو) یہ اخاھمکا عطف بیان ہے۔ ان کا سلسلہ نسب یہ ہے : ہود بن شالخ بن ارفخشد بن سام بن نوح۔ قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰہَ مَا لَکُمْ مِّنْ اِلٰہٍ غَیْرُہٗ اَفَلاَ تَتَّقُوْنَ (انہوں نے فرمایا اے میری قوم تم اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

65(والی عاد اخاھم ھوداً ) یہ قوم عاد بن عوض بن ارم بن سام بن نوح ع لیہ السلام کی اولاد سے تھی۔ یہ عاد اولیٰ ہے۔ ھود (علیہ السلام) ان کے نسبی بھائی تھے دینی بھائی نہ تھے۔ ھود (علیہ السلام) کا نسب نامہ یہ ہے ھود بن عبداللہ بن رباح بن جلود بن عاد بن عوص اور ابن اسحاق (رح) فرماتے ہیں نسب نامہ یہ ہے کہ ابن شالخ بن الحسند بن سام بن نوح۔ (قال یقوم اعبدوا اللہ مالکم من الہ غیرہ ط افلا تتقون) تتقون تخافون کے معنی میں ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 65–72

(65 ۔ 72) ۔ حضرت ہود ( علیہ السلام) حضرت نوح ( علیہ السلام) کے خاندان میں سے ہیں حضرت ہود ( علیہ السلام) کی امت قوم عاد کا ملک حضرموت تک عثمان وغیرہ تھا۔ اور بڑا شاداب ملک تھا قوم عاد کے لوگ بڑے قوی ساٹھ ساٹھ گز کے قدتک کے تھے عذاب کی آندھی آٹھ روز تک جو ان پر چلی پہلے اس آندھی سے کھیتی کرنے والے لوگ اور ان کے جانور پٹخنیاں کھا کھا کر گرے اور ہلاک ہوئے پھر شہروں کے لوگ اسی طرح ہلاک ہوئے قوم عاد نے بہت عمارتیں سنگین بنائیں اور پہاڑوں پر یادگار کے لئے بہت سے مینار بنائے آندھی کے عذاب سے پہلے ان میں قحط کے عذاب پھیلے کئ برس تک سخت قحط رہا چند آدمی ان میں سے مکہ قحط کے رفع کی دعا مانگنے گئے مکہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 59–71

آیت 59 جب اللہ تعالیٰ نے اپنی توحید کے دلائل میں سے ایک اچھا حصہ ذکر فرمایا، تو اب اس کی تائید میں انبیائے کرام کا، جو اس کی توحید کے داعی تھے اور اس رویے کا جو ان کی امتوں کے منکرین توحید کی طرف سے پیش آیا، اسے بیان فرما رہا ہے۔ نیز یہ کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے کیسے اہل توحید کی تائید فرمائی اور انبیاء ومرسلین سے عناد رکھنے والوں اور ان کی اطاعت نہ کرنے والوں کو ہلاک کردیا۔۔۔ اور کیسے انبیاء ومرسلین کی دعوت ایک ہی دین اور ایک ہی عقیدہ پر متفق تھی۔ چناچہ نوح جو اولین رسول ہیں، کے بارے میں فرمایا : (لقد ارسلنا نوحاً الی قومہ) ” ہم نے نوح کو ان کی قوم کی طرف بھیجا۔ “ حضرت نوح کفار کو اکیلے اللہ…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 55–141

دعا کا طریقہ قول باری ہے وادعواربکم تضرعاً عاوخفیۃ۔ اپنے رب کو پکارو گڑگڑاتے ہوئے اور چپکے چپکے) آیت میں چپکے چپکے رب کو پکارنے کا حکم ہے حسن کا قول ہے کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے تمہیں اس بات کی تعلیم دی ہے کہ تم اپنے رب کو کس طرح پکارو۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک عہد صالح کا ذکر فرمایا جس کی پکار کو اس نے پسند فرمایا تھا چناچہ ارشاد ہے اذنادی ربہ نداء خفیا۔ جبکہ اس نے اپنے رب کو چپکے چپکے پکارا) یعنی حضرت زکریاعلیہ السلام عبداللہ بن المبارک نے حسن بصری سے روایت کی ہے کہ لوگ یعنی صحابہ کرام بڑی عاجزی اور نیاز مندی کے ساتھ دعائیں مانگا کرتے تھے اور صرف سرگوشی کی آواز سنائی دیتی تھی۔ حضرت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 65–67

89 پیغمبر کے اپنی قوم کے بھائی ہونے کی تصریح : یعنی انکے قومی بھائی کہ آپ (علیہ السلام) تھے تو اسی قوم میں سے۔ پس معلوم ہوا کہ اس طرح کے اعتبارات سے پیغمبر کو بھائی کہنا نہ صرف یہ کہ جائز ہے بلکہ قرآن و سنت کی نصوص صریحہ سے ثابت ہے۔ سو ایسا کہنا اور ماننا نہ برا ہے نہ ممنوع۔ اور قرآن و سنت کی دوسری بہت سی نصوص بھی اس کی شاہد و موید ہیں، جیسا کہ ہمارے حضور۔ (علیہ الصلوۃ والسلام) ۔ نے اپنے لئے خود یہ لفظ استعمال فرمایا ہے۔ اور کئی مواقع پر فرمایا ہے۔ جیسا کہ مختلف احادیث میں موجود ہے۔ پس ایسی ہی ایک حدیث کے ترجمہ و تشریح کرنے پر اہل بدعت نے حضرت شاہ اسماعیل شہید ۔ (رح) ۔ پر جو بہتان طرازی کی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 65–72

سیدنا ہود (علیہ السلام) اور قوم کی تباہی تشریح : ان آیات میں سیدنا ہود (علیہ السلام) اور قوم ہود کا مختصرقصہ بیان کیا ہے۔ ہود (علیہ السلام) ایک نبی کا نام ہے یہ نوح (علیہ السلام) کی پا نچویں نسل اور سام کی اولاد میں ہیں۔ سیدنا ہود (علیہ السلام) عاد کی طرف رسول بنا کر بھیجے گئے، عاد ایک بڑی زبردست طاقتور قوم کا نام ہے۔ یہ سیدنا نوح (علیہ السلام) کے پوتے ارم کی اولاد تھے اور یمن میں احقاف کے علاقے میں رہتے تھے۔ عاد کے تیرہ خاندان تھے۔ عمان سے لیکر حضرموت تک کی بستیاں آباد تھیں۔ ان کی زمینیں بڑی زرحیز اور باغات تھے۔ بڑے بڑے شاندار محلات بناتے اور ان میں خوشگوار زندگیاں گزارتے تھے، مضبوط، صحت…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 65–72

رکوع نمبر 9 ۔ آیات 65 ۔ تا۔ 72 اسرار و معارف : توحید : اسی طرح زمین پر آباد ہونے والے لوگ پھلے پھولے اور پھر سے آبادی بڑھی تو نوح (علیہ السلام) کی پانچویں پشت میں عاد جو ان کے بیٹے سام کی اولاد میں سے تھا معروف آدمی گذرا حتی کہ اس کی پوری قوم عاد کہلائی اسی کے دوسرے بھائی کی اولاد ثمود یا عاد ثانی کہلائی مورخین کی مطابق عاد کے دادا کا نام ارم تھا لہذا انہیں عاد ارم بھی کہا گیا ہے جب یہ لوگ خوب آباد ہوگئے اور زمین سونا اگلنے لگی ہر طرح کی فصلیں اور پھل کثرت سے پیدا ہونے لگے پھر یہ تنومند اور بہت قد آور اقوام تھیں غرض ہر طرح کی شان و شوکت نصیب ہوئی تو اللہ کریم سے غافل ہوگئے اور اپنی طاقت اور…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 3 عاد عرب کے ایک قدیم ترین قوم تھی، جو جنوب عرب میں اباد تھی، قرآن کے بیان کے مطابق اس کا مسکن احقاف اک علاقہ تھا جو حجاز یمن اور عمان کے دورمیان واقع ہے اور اب ربع خالی کے نام سے مشہور ہے۔ یمن کا شہر حضرموت ان پا یہ تخت تھا۔ ان کا نسب یوں مذکور ہے، عاد بن عوض بن ارم بن سام بن نو ح۔ ( ابو لفدا) ہود ( علیہ السلام) کی قوم عاد قرآن میں عاد رام یا عاداولی ٰ کے نام سے مذکور ہے، عادبن عوض بن ارم بن سام بن نو ح۔ ( ابو الفدا) ہود ( علیہ السلام) کو قوم عاد قرآن میں عاد ارم یا داولی کے نام سے مذکور ہے، حضرموت کے قریب ایک مقام پر حضرت ہود ( علیہ السلام) کی قبر بتائی جاتی ہے ( المار بحوالہ تاریخ بخاری)…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(7:65) الی عاد سے پہلے۔ ارسلنا محذوف ہے۔ یہ عطف بھی ہوسکتا ہے نوح پر آیت 59 ۔ عاد سے مراد قوم عاد ہے۔ عاد حضرت نوح کی قوم میں ایک شخص گزرا ہے۔ اس کی نسل اسی کے نام سے موسوم ہوئی۔ عاد بن عوص بن ارم بن شالح بن ار فخشذ بن سام بن نوح ۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 65–70

لغات القرآن آیت نمبر (65 تا 70 ) ۔ سفاھتہ (بےوقوفی۔ بےعقلی) ۔ نظن (ہم گمان کرتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں) ۔ امین (ایماندار) ۔ بصطتہ (پھیلاؤ) ۔ الاء (الی) ۔ نعمتیں) ۔ اجئتنا (کیا تو ہمارے پاس آیا ہے) ۔ لنعبد اللہ (تاکہ ہم اللہ کی عبادت و بندگی کریں) ۔ وحدہ (اس اکیلے کی۔ تنہا کی) ۔ ابائونا (ہمارے باپ دادا) ۔ فاتنا (پس تو لے آ) ۔ تعدنا (تو ہم سے وعدہ کرتا ہے) ۔ تشریح : آیت نمبر 65 تا 70 ) ۔ ” قوم عاد دنیا کی قدیم ترین قوموں میں سے ایک قوم ہے اللہ نے ان کو ہر طرح کی نعمتوں سے نوازا تھا مگر وہ قوم ان نعمتوں کو پا کر ایسی مد ہوش ہوگئی کہ پھر ان کو ہر نصیحت کرنے والا برا لگنے لگا تھا۔ اس قوم کی حکومت و…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 59–65

حضرت ہود علیہ السلام، آندھی کے عذاب کا ذکر حضرت ہود (علیہ السلام) حضرت نوح (علیہ السلام) کے خاندان میں سے ہیں۔ حضرت ہود (علیہ السلام) کی امت قوم عاد کا ملک حضر موت سے عمان وغیرہ تک تھا اور بڑا شاداب ملک تھا۔ قوم عاد کے لوگ بڑے قوی، ساٹھ ساٹھ گز کے قد تک کے تھے۔ عذاب کی آندھی آٹھ روز تک جو ان پر چلی، پہلے اس آندھی سے کھیتی کرنے والے لوگ، اور ان کے جانور ہلاک ہوئے، پھر شہروں کے لوگ اسی طرح ہلاک ہوئے۔ آندھی کے عذاب سے پہلے ان میں قحط کا عذاب پھیلا۔ تین برس تک رہا۔ چند آدمی ان میں مکہ مکرمہ میں قحط رفع ہونے کے لئے دعا مانگنے گئے۔ مکہ مکرمہ میں ان دنوں مالقہ لوگ جو حضرت نوح (علیہ السلام) کے پوتے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 60–65

[31] قوم عاد کا مسکن جنوب عرب کا علاقہ تھا جس میں آج کے یمن، حضرموت اور عمان وغیرہ شامل تھے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 65–69

حضرت ہود (علیہ السلام) : (ف 1) نوح (علیہ السلام) کے بعد حضرت ہود (علیہ السلام) نے قوم کی قیادت فرمائی ان کی قوم نہایت قوی ہیکل اور مضبوط تھی ، حضر موت سے لے کر عمان تک یہ لوگ پھیلے ہوئے تھے ، آپ نے بھی یہی کہا ، اے قوم ایک اللہ کی چوکھٹ پر جھکو ، اس خدا کے سوا اور کون ہے جو تمہاری مشکل کشائی کرے ۔ قوم کے اکابر سے ان کو بھی یہی جواب ملا کہ بیوقوف ہو ، اور جھوٹے ہو ، اور لطف یہ ہے ، کہ مخالفت ہمیشہ اکابر نے کی ، اس لئے کہ وہ خوب سمجھتے تھے ، کہ اگر یہ کامیاب ہوگیا ، تو ہمارا کبروغرور خاک میں مل جائے گا ۔ حل لغات : عمین : اندھے ، یعنی دلوں میں بصیرت کا مادہ سلب ہوگیا ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

65 اور قوم عاد کی طرف ہم نے ان کے بھائی حضرت ہود (علیہ السلام) کو بھیجا حضرت ہود (علیہ السلام) نے کہا اے میری قوم تم صرف اللہ تعالیٰ ہی کی عبادت اور پوجا کرو کہ اس کے سوا تمہارا کوئی اور معبود حقیقی نہیں ہے کیا تم اس کی نافرمانی اور شرک سے ڈرتے نہیں یعنی بھائی فرمایا ہود (علیہ السلام) کو اس وجہ سے کہ ہود (علیہ السلام) خود قوم عاد میں سے تھے یا وطنی بھائی کی وجہ سے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 3۔ مشہور اہل نسب کے نزدیک یہی ہے کہ ہود (علیہ السلام) قوم عاد کے نسبی بھائی اور خود قوم عاد سے ہیں اور بعض قلیل دوسری قوم کا بتاتے ہیں اور اخاھم کے معنی صاحبھم لیتے ہیں۔ واللہ اعلم۔ اور عاد اصل میں ایک شخص کا نام ہے پھر اس کی اولاد کو بھی عاد کہنے لگے اور قدآور اور قوی الجثہ ہوتے تھے۔ زادکم فی الخلق بصطہ کا یہی معنی ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ہود (علیہ السلام) کی سرگزشت اور آپ (علیہ السلام) کی قوم کا مختصر ذکر : 75: ” عرب کی قدیم اقوام میں سے ہیں ان کا تعلق سامی نسل سے ہے اور ان کا مسکین جنوبی عرب میں احقاف کا علاقہ تھا۔ طوفان نوح (علیہ السلام) کے بعد اس قوم کے پیشروئوں نے جنوبی عرب کی طرف ہجرت کی اور وہاں رفتہ رفتہ بڑی قوت شوکت حاصل کرلی۔ عرب کے لٹریچر میں یہ اپنی قدامت کے لئے بھی ضرب المثل تھے اور اپنے دبدبہ اور رعب کے لئے بھی اس قوم میں حضرت ہود (علیہ السلام) مبعوث ہوئے۔ حضرت ہود (علیہ السلام) کا تعلق حسب نسب کے لحاظ سے اس قوم سے تھا اور جس طرح ہر نبی (علیہ السلام) اپنی قوم ہی کا ایک فرد تھا اس طرح یہ بھی اپنی قوم ہی کے ایک فرد…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Commentary A Brief History of ` Ad and Thamud ` Ad is the name of a person who is in the fifth generation after Sayyidna Nuh (علیہ السلام) and is among the progeny of his son Sam. Then, his progeny, and his people, came to be known by the name of ` Ad. In the Holy Qur'an, ` Ad also appears with the words: عَادَ اُولٰی ('Ad al-'ula: ` Ad, the First) and also: إِرَ‌مَ ذَاتِ الْعِمَادِ that is, of the city of Iram with lofty pillars; or tall like lofty pillars - 89:7) which tells us that the people of ` Ad are also known in association with the name of Iram, and that with ` Ad I, there is some `…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

51. 'Ad, an ancient Arab people, were well-known throughout Arabia. They were known for their proverbial glory and grandeur. And when they were destroyed, their extinction also became proverbial. So much so that ttre word 'Ad has come to be used for things ancient and the word 'adiyat for archaeological remains. The land whose owner is unknown and which is lying fallow, from neglect is called 'adi al-ard. The ancient Arabic poetry is replete with references to this people. Arab genealogists consider the 'Ad as the foremost among the extinct tribes of Arabia. Once a person of the Banel Dhuhl…

Read the full tafseer →