Explained with ayahs 63–64
نوح ؑ پر کیا گزری ؟
حضرت نوح ؑ اپنی قوم سے فرما رہے ہیں کہ تم اس بات کو انوکھا اور تعجب والا نہ سمجھو کہ اللہ تعالیٰ اپنے لطف و کرم سے کسی انسان پر اپنی وحی نازل فرمائے اور اسے اپنی پیغمبری سے ممتاز کر دے تاکہ وہ تمہیں ہو شیار کر دے پھر تم شرک و کفر سے الگ ہو کر عذاب الٰہی سے نجات پالو اور تم پر گونا گوں رحمتیں نازل ہوں۔ حضرت نوح ؑ کی ان دلیلوں اور وعظوں نے ان سنگدلوں پر کوئی اثر نہ کیا یہ انہیں جھٹلاتے رہے مخالفت سے باز نہ آئے ایمان قبول نہ کیا صرف چند لوگ سنور گئے۔ پس ہم نے ان نیک لوگوں کو اپنے نبی کے ساتھ کشتی میں بٹھا کر طوفان سے نجات دی اور باقی لوگوں کو تہ آب غرق کردیا۔ جیسے سورة نوح…
Read the full tafseer →سورة الْاَعْرَاف 50
جو لوگ قرآن کے انداز بیان سے اچھی طرح واقف نہیں ہوتے وہ بسا اوقات اس شبہہ میں پڑجاتے ہیں کہ شاید یہ سارا معاملہ بس ایک دو صحبتوں میں ختم ہوگیا ہوگا۔ نبی اٹھا اور اس نے اپنا دعوٰی پیش کیا، لوگوں نے اعتراضات کیے اور نبی نے ان کا جواب دیا، لوگوں نے جھٹلایا اور اللہ نے عذاب بھیج دیا۔ حالانکہ فی الحقیقت جن واقعات کو یہاں سمیٹ کر چند سطروں میں بیان کردیا گیا ہے وہ ایک نہایت طویل مدّت میں پیش آئے تھے۔ قرآن کا یہ مخصوص طرز بیان ہے کہ وہ قصہ گوئی محض قصہ گوئی کی خاطر نہیں کرتا بلکہ سبق آموزی کے لیے کرتا ہے۔ اس لیے ہر جگہ تاریخی واقعات کے بیان میں وہ قصّے کے صرف ان اہم اجزاء کو پیش…
Read the full tafseer →ارشاد فرمایا،
(آیت) فَكَذَّبُوْهُ فَاَنْجَيْنٰهُ وَالَّذِيْنَ مَعَهٗ فِي الْفُلْكِ وَاَغْرَقْنَا الَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا ۭاِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمًا عَمِيْنَ یعنی نوح ؑ کی ظالم قوم نے ان کی نصیحت و خیر خواہی کی کوئی پروا نہ کی اور برابر اپنی تکذیب پر جمع رہے۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہم نے نوح ؑ اور ان کے ساتھیوں کو ایک کشتی میں سوار کرکے طوفان سے نجات دے دی اور جن لوگوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا تھا ان کو غرق کردیا۔ بیشک یہ لوگ اندھے ہو رہے تھے۔
حضرت نوح ؑ کا قصہ اور ان کی قوم کی غرقابی اور کشتی والوں کی نجات کی پوری تفصیل سورة نوح اور سورة ہود میں آئے گی۔ اس جگہ بتقاضائے مقام اس کا…
Read the full tafseer →فَكَذَّبُوْهُ فَاَنْجَيْنٰهُ وَالَّذِيْنَ مَعَهٗ فِي الْفُلْكِ وَاَغْرَقْنَا الَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا ۭاِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمًا عَمِيْنَ۔
یعنی بالآخر وہ بات ہو کے رہی جس سے حضرت نوح نے ڈرایا تھا۔ جب قوم نے تکذیب کردی اور حضرت نوح کی طویل جدوجہد کے بعد بھی اپنے رویے کی اصلاح پر آمادہ نہ ہوئی تو ان لوگوں کے سوا جنہوں نے حضرت نوح کے ساتھ کشتی میں پناہ لی سب کو اللہ تعالیٰ نے غرق کردیا۔ اس طوفان کی نوعیت پر ہم اس مقام میں بحث کریں گے جہاں قرآن نے اس کی تفصیل بیان فرمائی ہے۔ یہاں صرف یہ بات یاد رکھیے کہ غرق صرف وہ لوگ کیے گئے جو پیغمبر اور آیات الٰہی کی تکذیب پر اڑے رہ گئے۔ اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →64۔ 1 یعنی حق سے حق کو دیکھتے تھے نہ اس کو اپنانے کے لئے تیار تھے۔
Read the full tafseer →36: کشتی اور طوفان کا پورا واقعہ انشاء اللہ سورة ہود میں آنے والا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–64
آیت ” قَالَ یَا قَوْمِ لَیْْسَ بِیْ ضَلاَلَۃٌ وَلَکِنِّیْ رَسُولٌ مِّن رَّبِّ الْعَالَمِیْنَ (61) أُبَلِّغُکُمْ رِسَالاَتِ رَبِّیْ وَأَنصَحُ لَکُمْ وَأَعْلَمُ مِنَ اللّہِ مَا لاَ تَعْلَمُونَ (62)
” اے برادران قوم ! میں کسی گمراہی میں نہیں پڑا ہوں بلکہ میں رب العالمین کا رسول ہوں ‘ تمہیں اپنے رب کے پیغام پہنچاتا ہوں ‘ تمہارا خیر خواہ ہوں اور مجھے اللہ کی طرف سے وہ کچھ معلوم ہے جو تمہیں معلوم نہیں ہے ۔ “
یہاں سیاق قصہ میں ایک کڑی غائب ہے ‘ رسول کی اس دعوت پر انہوں نے گویا اس تعجب کا اظہار کردیا کہ اللہ نے انسانوں میں سے ایک شخص کو رسول بنا کر کس طرح بھیج دیا ؟ اور یہ کہ کس طرح اللہ تعالیٰ کا…
Read the full tafseer →2 یعنی حق و باطل اور نفع و نقصان کچھ نہ سوجھا۔ اندھے ہو کر برابر سرکشی اور تکذیب و بغاوت پر قائم رہے اور بت پرستی وغیرہ حرکات سے باز نہ آئے، تو ہم نے معدودے چند مومنین کو بچا کر جو نوح (علیہ السلام) کے ہمراہ کشتی پر سوار ہوئے تھے، باقی سب مکذبین کا بیڑا غرق کردیا۔ اب جس قدر انسان دنیا میں موجود ہیں وہ ان ہی اہل سفینہ بلکہ صرف حضرت نوح کی ذرّیت ہیں۔
Read the full tafseer →آیت 64 فَکَذَّبُوْہُ فَاَنْجَیْنٰہُ وَالَّذِیْنَ مَعَہٗ فِی الْْفُلْکِ وَاَغْرَقْنَا الَّذِیْنَ کَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا ط اِنَّہُمْ کَانُوْا قَوْماً عَمِیْنَ
یعنی وہ ایسی قوم تھی جس نے آنکھیں ہونے کے باوجود اللہ کی نشانیوں کو دیکھنے اور حق کو پہچاننے سے انکار کردیا۔ حضرت نوح علیہ السلام کے ساتھی اہل ایمان بہت ہی کم لوگ تھے۔ آپ علیہ السلام نے ساڑھے نو سو برس تک اپنی قوم کو دعوت دی تھی اس کے باوجود بہت تھوڑے لوگ ایمان لائے تھے ‘ جو آپ علیہ السلام کے ساتھ کشتی میں سیلاب سے محفوظ رہے۔ آپ علیہ السلام کے تین بیٹوں میں سے حضرت سام کی اولاد میں سے عاد نام کے ایک سردار بڑے مشہور ہوئے اور پھر ان ہی کے…
Read the full tafseer →67 انبیاء کے قصوں میں تکرار و اختصار کی وجہ :۔ نوح کا قصہ جس اختصار کے ساتھ یہاں بیان کیا گیا ہے اس سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان میں اور ان کی قوم میں جو سوال و جواب ہوئے وہ بس دو چار ملاقاتوں میں ہوگئے ہوں گے۔ حالانکہ نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو ساڑھے نو سو سال تبلیغ کی تھی۔ نوح (علیہ السلام) کا قصہ قرآن میں متعدد بار مذکور ہوا ہے اور ہر موقع پر کوئی نہ کوئی تفصیل مل جاتی ہے۔ یہ قرآن کا مخصوص انداز بیان ہے کہ جس مقام پر موضوع کی نسبت سے جتنا ذکر درکار تھا اتنا ہی بیان کردیا گیا کیونکہ قرآن کا مقصود محض قصہ گوئی نہیں بلکہ اس وقت جو بات انسانی ہدایت کے لیے اہم ہو صرف اتنی ہی بیان کی جاتی…
Read the full tafseer →87 ۔ (اپنی فرط جہالت سے، اور انہیں حق و باطل نفع ونقصان کچھ نہیں سوجھتا تھا) (آیت) ” فانجینہ والذین معہ “۔ اس نجات کا تعلق عذاب طوفان سے ہے۔ یعنی انہیں ہمہ گیر غرقابی سے صاف بچا لیا۔ (آیت) ” واغرقنا الذین کذبوا بایتنا “۔ یہ الفاظ خود اس پر دلالت کررہے ہیں کہ طوفان صرف مکذبین ومنکرین کے لیے بہ طور سزا کے آیا تھا۔ ساری دنیا سے اس کا تعلق نہ تاھ۔ عراق کی سرزمین خصوصا کوہ ارارات کی وادیوں میں اب تک ایک مہیب طوفان کے نشانات اہل فن کو ملتے رہتے ہیں۔ توریت میں اس طوفان کے سلسلہ میں تصریحات ذیل ملتی ہیں :۔ ” وہ نوح (علیہ السلام) چھ سو برس کا تھا جب طوفان کا پانی زمین پر آیا “۔ (پیداء 7:6) ” جب نوح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–64
آیت نمبر 59 تا 64
ترجمہ : قسمیہ بات ہے ہم نے نوح (علیہ السلام) کو ان کی قوم کی طرف بھیجا، اس نے کہا اے میری قوم، تم اللہ کی بندگی کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں (لَقَدْ ) قسم محذوف کا جواب ہے (غیرہ) کے جر کے ساتھ اِلٰہ کی صفت ہے اور رفع، (اِلٰہ) کے محل سے بدل ہونے کی وجہ سے ہے اگر تم اس کے علاوہ کسی اور کی بندگی کرو گے تو مجھے تمہارے حق میں بڑے دن کے عذاب کا اندیشہ ہے اور وہ بڑا دن قیامت کا دن ہے، ان کی قوم کے سرداروں نے کہا ہم تم کو صریح غلطی پر دیکھتے ہیں انہوں نے جواب دیا میں کسی گمراہی میں نہیں ہوں ضلالت ضلال سے عام ہے، ضلالت کی نفی ضلال کی نفی سے ابلغ ہے، بلکہ میں رب العلمین کا…
Read the full tafseer →فکذبوہ فانجینہ والذین معہ فی الفلک واغرقنا الذی کذبوا بایتنا انہم کانوا قوما عمین . پھر انہوں نے نوح کی تکذیب کی (تو ہم نے طوفان بھیج دیا) پس نوح کو اور ان کے ساتھیوں کو کشتی میں بچا لیا اور جنہوں نے ہماری آیات کو جھوٹا قرار دیا تھا ان کو غرق کردیا بےشبہ وہ اندھے لوگ تھے۔
فانجینٰہہم نے نوح کو طوفان سے بچا لیا والذین معہیہ چالیس مرد اور چالیس عورتیں تھیں یا آٹھ مرد یا دس مرد یا بہتر آدمی یا صرف تین بیٹے سام ‘ حام ‘ یافث اور ان کی تین بیویاں یا تین بیٹے اور چھ دوسرے مؤمن۔ یہ مختلف اقوال آئے ہیں۔ فی الفلک اس کا تعلق مَعَہٗسے ہے یعنی نوح کے ساتھ جو لوگ کشتی میں تھے یا اَنْجَیْنَاسے تعلق ہے یعنی…
Read the full tafseer →(64) انہوں نے (یعنی کافروں نے) حضرت نوح ؑ کی تکفیر کی ہم نے سب کشتی والوں کو غرق اور عذاب سے نجات دی اور جنہوں نے ہماری کتاب اور ہمارے رسول نوح ؑ کی تکذیب کی، ان کو غرق کردیا، یعنی پانی میں ڈبو دیا، بیشک وہ ہدایت سے بےبہرہ اور کافر تھے۔
Read the full tafseer →فَاَنْجَيْنٰهُ وَالَّذِيْنَ مَعَهٗ۔۔ : آخر مومنوں کو سفینے (بحری جہاز) میں اللہ تعالیٰ نے نجات دی اور مخالفین طوفان سے ہلاک ہوگئے۔ اہل تاریخ کا کہنا ہے کہ طوفان نوح کا تخمینی سال 3200 قبل مسیح ہے۔ بیان کرتے ہیں کہ نوح ؑ کا یہ سفینہ تین منزلہ تھا، طول 300 ہاتھ، عرض 50 ہاتھ اور اونچائی 30 ہاتھ، لیکن ان باتوں کی کوئی دلیل نہیں۔ تورات کے بیان کے مطابق یہ جہاز تقریباً پانچ ماہ چلتا رہا، مگر ہمارے پاس اس کی تصدیق یا تکذیب کا کوئی ذریعہ نہیں۔ دنیا کے مختلف خطوں میں اور مختلف پہاڑوں پر ایک قدیم اور زبردست طوفان کے آثار اب بھی پائے جاتے ہیں۔ قصۂ نوح کی تفصیل سورة نوح اور سورة ہود وغیرہ میں ہے۔ ان کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–64
آیت نمبر : 63۔ 64
قولہ تعالیٰ : آیت : اوعجبتم اس میں واو کو فتحہ دیا گیا ہے، کیونکہ یہ واو عاطفہ ہے ( زاد المسیر، جلد 2، صفحہ 169 ) ، اس پر الف استفہام تقریر کے لیے داخل کیا گیا ہے۔ اور واو کا طریقہ یہ ہے کہ یہ حروف استفہام پر داخل ہوتی ہے سوائے الف کے اس کی قوت کے سبب ( یعنی الف پر یہ داخل نہیں ہو سکتی) ان جآء کم ذکر یعنی تمہارے پاس تمہاریرب کی طرف سے نصیحت آئی۔ آیت : علی رجل منکم، یعنی علی لسان رجل ( ایک آدمی کی زبان پر) اور یہ بھی کہا گیا ہے : علی بمعنی مع ہے یعنی مع رجل ( ایک آدمی کے ذریعہ)
اور یہ قول بھی ہے : اس کا معنی ہے تمہارے اس رب کی طرف سے نصیحت آئی جو تم میں سے ایک آدمی پر نازل کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–64
(1) امام ابن ابی حاتم نے ابو مالک (رح) سے روایت کیا کہ ” قال الملا “ سے مراد ہے اس کی قسم میں سے بڑے لوگ۔
(2) امام ابو الشیخ نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” اوعجبتم ان جاء کم ذکر من ربکم “ یعنی یہ بیان ہے تمہارے رب سے (کیا تم اس پر تعجب کرتے ہو) ۔
(3) امام ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ضحاک کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” انھم کانوا قوما عمین “ سے کافر مراد ہیں۔
(4) امام ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید، منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” انھم کانو قوما عمین “ سے مراد ہے وہ لوگ جو حق کو دیکھنے سے اندھے تھے۔
Read the full tafseer →فَكَذَّبُوْهُ [ تو انہوں نے جھٹلایا ان کو ] فَاَنْجَيْنٰهُ [ پھر ہم نے نجات دی ان کو ] وَالَّذِيْنَ [ اور انہیں جو ] مَعَهٗ [ ان کے ساتھ تھے ] فِي الْفُلْكِ [ کشتی میں ] وَاَغْرَقْنَا [ اور ہم نے غرق کیا ] الَّذِيْنَ [ ان کو جنہوں نے ] كَذَّبُوْا [ جھٹلایا ] بِاٰيٰتِنَا ۭ [ ہماری نشانیوں کو ] اِنَّهُمْ [ بیشک وہ ] كَانُوْا [ تھے ] قَوْمًا عَمِيْنَ [ ایک اندھی قوم ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–65
اور قوم عاد کی طرف ان کے بھائی ہود کو بھیجا۔ انہوں نے کہا اے میری قوم اللہ کی عبادت کرو۔ تمہارے لیے اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے کیا تم ڈرتے نہیں۔ ان کی قوم کے سردار جنہوں نے کفر اختیار کیا جواب میں کہنے لگے کہ بلاشبہ ہم تجھے بےوقوفی میں دیکھ رہے ہیں۔ اور بلاشبہ ہم یہ سمجھ رہے ہیں کہ تو جھوٹوں میں سے ہے۔ ہود نے کہا اے میری قوم ! مجھ میں بےوقوفی نہیں ہے لیکن میں بھیجا ہوا ہوں پروردگار عالم کا، پہنچاتا ہوں تم کو پیغام اپنے رب کے اور میں تمہارا خیر خواہ ہوں، امانت دار ہوں، کیا تمہیں اس بات سے تعجب ہوا کہ تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے نصیحت آگئی تم ہی میں ایک شخص کے واسطہ سے تاکہ وہ تمہیں ڈرائے،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–64
قصۂ اول نوح (علیہ الصلوۃ والسلام)
قال اللہ تعالیٰ لقد ارسلنا نوحا الی قومہ۔۔۔ الی۔۔۔ انھم کانوا قوما عمین
(ربط) اس سورت کے شروع میں حق تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کا قصہ بیان فرمایا اور پھر اسی ذیل میں فتنۂ شیطان سے بچنے کی تاکید اکید فرمائی اور بعد ازاں اس عہد قدیم کو یاد دلایا کہ جو حق تعالیٰ نے اولاد آدم سے عالم ارواح میں لیا تھا اب اس کے بعد دیگر حضرات انبیاء کرام کے قصے برعایت ترتیب بیان کرتے ہیں جو متعدد فوائد کو متضمن ہیں
(اول) یہ کہ حضرات انبیاء سے سرکشی اور سرتابی آنحضرت ﷺ کے ساتھ مخصوص نہیں قدیم زمانہ سے یہ سلسلہ چلا آرہا ہے کہ لوگ اپنے اپنے زمانے کے پیغمبروں کی تکذیب کرتے…
Read the full tafseer →74 یہ دوسرا قصہ ہے اور تیسرے دعوی ہی سے متعلق ہے حضرت نوح (علیہ السلام) کی طرف حضرت ہود (علیہ السلام) نے بھی اعلان کیا تھا۔ “ یٰقَوْمِ اعْبُدُوْا اللّٰهَ مَا لَکُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُہٗ الخ ” اے میری قوم صرف اللہ کی عبادت کرو اور صرف اسی کو پکارو۔ اس کے سوا تمہارا کوئی معبود اور کارساز نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–64
ربط آیات
نبوت اور رسالت کے سلسلے میں اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے حضرت نوح (علیہ السلام) کا ذکر کیا ہے آپ کی تبلیغ آپ کے ساتھ قوم کا سلوک ، آپ کی بددعا اور پھر قوم کی ہلاکت کو یہاں پر اختصار کے ساتھ بیان کیا گیا ہے سورة نوح صرف آپ ہی کے حالات پر مشتمل ہے سورة ہود میں پورے دو رکوع میں آپ کے حالات کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے اس کے علاوہ بعض دوسری سورتوں میں بھی حضرت نوح (علیہ السلام) کے جتہ جتہ واقعات موجود ہیں حضرت آدم (علیہ السلام) کے بعد انبیاء کے سلسلے کی اہم ترین شخصیت حضرت نوح (علیہ السلام) ہیں آپ نے سب سے پہلے اپنی قوم کو توحید کا درس دیا اور کفر اور شرک سے منع کیا مگر آپ کی قوم کے سرداروں…
Read the full tafseer →وَاِلٰي عَادٍ اَخَاہُمْ ہُوْدًا 0 ۭ قَالَ يٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللہَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰہٍ غَيْرُہٗ 0 ۭ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ 65
إلى
إلى: حرف يحدّ به النهاية من الجوانب الست،
الیٰ ۔ حرف ( جر ) ہے اور جہات ستہ میں سے کسی جہت کی نہایتہ حدبیان کرنے کے لئے آتا ہے
أخ
أخ الأصل أخو، وهو : المشارک آخر في الولادة من الطرفین، أو من أحدهما أو من الرضاع . ويستعار في كل مشارک لغیره في القبیلة، أو في الدّين، أو في صنعة، أو في معاملة أو في مودّة، وفي غير ذلک من المناسبات . قوله تعالی: لا تَكُونُوا كَالَّذِينَ كَفَرُوا وَقالُوا لِإِخْوانِهِمْ [ آل عمران/ 156] ، أي : لمشارکيهم في الکفروقوله تعالی: أَخا عادٍ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–64
ترکیب : من الٰہ غیرہ من زائدہ الہ مبتدا لکم خبر غیرہ کو بالرفع پڑھا جاوے تو الہ کی صفت ہوگی علی الموضع کی یا وہ اس کے موضع سے بدل جیسا کہ لا الہ میں الا اللہ۔ فی ضلال مبین مفعول ثانی لنراک اگر اس کو رؤیت قلب سے لیا جاوے ورنہ حال ابلغکم جملہ مستانفہ اور علی المعنی رسول کی صفت بھی ہوسکتا ہے لان الرسول ھوا لضمیر فی انی فی الفلک حال ہے ضمیر معہ سے۔
تفسیر : مسائل مبدء و معاد اور ان کے دلائل ظاہرہ و برا ہیں باہرہ کے بعد پھر 1 ؎ انبیاء (علیہم السلام) کے قصے ان چند فوائد کے لئے بیان فرماتا ہے۔ اول یہ کہ سرکشی اور انبیاء سے سرتابی کچھ محمد ﷺ کی قوم کی ہی عادت خاصہ نہیں بلکہ ہمیشہ سے لوگ اپنے انبیاء…
Read the full tafseer →ارشاد ہوتا ہے :
فَکَذَّبُوْہُ فَاَنْجَیْنٰہُ وَالَّذِیْنَ مَعَہٗ فِی الْفُلْکِ وَاَغْرَقْنَا الَّذِیْنَ کَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا ط اِنَّھُمْ کَانُوْا قَوْمًا عَمِیْنَ ۔ (الاعراف : 64)
” پس ان لوگوں نے اس کو جھٹلا دیا تو ہم نے اس کو اور جو لوگ کشتی میں اس کے ساتھ تھے ‘ ان کو نجات دی اور ان لوگوں کو غرق کردیا ‘ جنھوں نے ہماری آیات کی تکذیب کی۔ بیشک یہ لوگ اندھے تھے “۔
اس آیت کریمہ میں قرآن کریم وضاحت کرتا ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کی طویل ترین تبلیغی کاوشوں اور انتہائی تھکا دینے والی مساعی کے باوجود قوم نوح نے آپ کی دعوت کو رد کردیا۔ انھوں نے ہرچند کوشش کی کہ وہ آپ پر ایمان لا کر اللہ کے عذاب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–64
فہم القرآن
حضرت نوح (علیہ السلام) :
آپ کا نسب نامہ اس طرح ہے نوح (علیہ السلام) بن لامک بن متوشلخ بن خنوخ ( ادریس (علیہ السلام) بن یرد بن مھلا ییل بن قینن بن انوش بن شیث بن آدم (علیہ السلام) ۔
حضرت ابو امامہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے اللہ کے رسول ﷺ سے عرض کی کہ کیا آدم (علیہ السلام) نبی تھے ؟ آپ نے فرمایا ہاں ! ان سے اللہ تعالیٰ نے کلام کیا۔ پھر اس نے یہ سوال کیا کہ آدم (علیہ السلام) اور نوح (علیہ السلام) کے درمیان کتنی مدت ہے آپ نے فرمایا دس قرن (صحیح ابن حبان : 6157)
قرن سے مراد اہل علم نے ایک نسل یا ایک صدی لی ہے اگر ایک نسل مراد لی جائے تو آدم (علیہ السلام) کی وفات اور نوح (علیہ…
Read the full tafseer →تکذیب اور نتیجہ :
آیت 64: فَکَذَّبُوْہُ (پس وہ لوگ اس کی تکذیب ہی کرتے رہے) پس انہوں نے ان کی نسبت کذب کی طرف کی۔ فَاَنْجَیْنٰہُ وَالَّذِیْنَ مَعَہٗ (تو ہم نے نوح ( علیہ السلام) اور جو لوگ ان کے ساتھ کشتی میں تھے بچا لیا) وہ چالیس آدمی تھے اور چالیس عورتیں دوسراقول یہ ہے نو آدمی تین ان کے بیٹے سام، حام ‘ یا فث اور چھ ان میں سے جو آپ پر ایمان لائے۔ فِی الْفُلْکِ اس کا تعلق معہ کے ساتھ ہے۔ گویا اس طرح کہا گیا والذین صحبوا فی الفلک اور وہ لوگ جنہوں نے انکا ساتھ دیا کشتی میں۔ وَاَغْرَقْنَا الَّذِیْنَ کَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا۔ اِنَّھُمْ کَا نُوْا قَوْ مًا عَمِیْنَ (اور جن لوگوں نے ہماری آیات کو…
Read the full tafseer →64(فکذبوہ) یعنی نوح (علیہ السلام) کو جھٹلایا (فانجینہ والذین معہ فی الفلک) طوفان سے بچایا (واغرقاً الذین کذبوا بایتنا ط انھم کانوا قوماً عمین) یعنی کافر ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ ان کے دل اللہ کی معفرت حاصل کرنے سے اندھے ہوگئے۔ زجاج (رح) فرماتے ہیں حق اور ایمان سے اندھے ہوگئے۔ کہا جاتا ہے ” اجل عم عن الحق واعمی فی البصر “ اور بعض نے کہا ” العمی “ اور ” الاعمی الخضر “ اور الاخضر کی طرح ہے۔ مقاتل (رح) فرماتے ہیں کہ عذاب کے اترنے سے اندھے ہوگئے اور غرق ہوگئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–64
(59 ۔ 64) ۔ حضرت نوح ( علیہ السلام) سے لے کر حضرت شعیب ( علیہ السلام) تک چند صاحب شریعت انبیاء کے قصے ان رکوعوں میں آنحضرت کی تسکین اور تشفی کے ارادہ سے اللہ تعالیٰ نے بیان فرمائے ہیں تاکہ آپ کو یہ اطمینان ہوجاوے کہ سرکش قوموں پر انبیاء کے جھٹلانے کا ہمیشہ سے جس طرح وبال پڑا ہے اگر اہل مکہ ایمان نہ لاویں گے تو یہی انجام ان کا ہوگا چناچہ ایسا ہی ہوا کہ اہل مکہ میں اکثر سرکش لوگ بدر کی لڑائی میں مارے گئے اور آپ نے ان کی لاشوں پر ایک ایک کا نام لے کر فرمایا کہ خدا کے وعدے کو تم نے دیکھ لیا اور بقیہ اہل مکہ فتح مکہ پر اسلام لے آئے اگر قضا وقدر میں ان کا ایمان لانا نہ ٹھہرا ہوتا تو پچھلی امتوں کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–71
آیت 59
جب اللہ تعالیٰ نے اپنی توحید کے دلائل میں سے ایک اچھا حصہ ذکر فرمایا، تو اب اس کی تائید میں انبیائے کرام کا، جو اس کی توحید کے داعی تھے اور اس رویے کا جو ان کی امتوں کے منکرین توحید کی طرف سے پیش آیا، اسے بیان فرما رہا ہے۔ نیز یہ کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے کیسے اہل توحید کی تائید فرمائی اور انبیاء ومرسلین سے عناد رکھنے والوں اور ان کی اطاعت نہ کرنے والوں کو ہلاک کردیا۔۔۔ اور کیسے انبیاء ومرسلین کی دعوت ایک ہی دین اور ایک ہی عقیدہ پر متفق تھی۔ چناچہ نوح جو اولین رسول ہیں، کے بارے میں فرمایا : (لقد ارسلنا نوحاً الی قومہ) ” ہم نے نوح کو ان کی قوم کی طرف بھیجا۔ “ حضرت نوح کفار کو اکیلے اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–141
دعا کا طریقہ
قول باری ہے وادعواربکم تضرعاً عاوخفیۃ۔ اپنے رب کو پکارو گڑگڑاتے ہوئے اور چپکے چپکے) آیت میں چپکے چپکے رب کو پکارنے کا حکم ہے حسن کا قول ہے کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے تمہیں اس بات کی تعلیم دی ہے کہ تم اپنے رب کو کس طرح پکارو۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک عہد صالح کا ذکر فرمایا جس کی پکار کو اس نے پسند فرمایا تھا چناچہ ارشاد ہے اذنادی ربہ نداء خفیا۔ جبکہ اس نے اپنے رب کو چپکے چپکے پکارا) یعنی حضرت زکریاعلیہ السلام عبداللہ بن المبارک نے حسن بصری سے روایت کی ہے کہ لوگ یعنی صحابہ کرام بڑی عاجزی اور نیاز مندی کے ساتھ دعائیں مانگا کرتے تھے اور صرف سرگوشی کی آواز سنائی دیتی تھی۔ حضرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–64
85 پیغمبر کا ہر حکم و ارشاد علم پر مبنی ہوتا ہے : کہ اس نے مجھے وحی و نبوت سے نوازا ہے جبکہ تم سب لوگ محض ظن و گمان اور خیال وتخمین کے پیچھے چلتے ہو۔ سو یہ پیغمبر کی ایک امتیازی شان ہوتی ہے کہ ان کا ہر قول و فعل اور حکم و ارشاد علم صحیح کی ٹھوس بنیاد پر قائم و استوار ہوتا ہے۔ کیونکہ ان کے پاس اس خالق ومالک کی طرف سے وحی آتی ہے جو اس ساری کائنات کا خالق ومالک اور اس میں حاکم و متصرف ہے۔ اور ایسا خالق ومالک اور اس شان کا حاکم و متصرف کہ نہ اسکی اس تخلیق میں کوئی اس کا شریک ہے اور نہ اسکے اس حکم و تصرف میں جبکہ وحی کے نور سے محروم دنیا کا سارا کام محض ظن وتخمین اور اندازہ و قیاس پر چلتا ہے۔ سو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–64
سیدنا نوح (علیہ السلام) اور ان کی قوم پر عذاب
تشریح :ــــ قرآن پاک میں جگہ جگہ کہا گیا ہے کہ قرانی آیات اور کائنات پر غور و فکر کرو۔ کیونکہ جیسے جیسے علم و عرفان اور سائنسی ترقی ہو رہی ہے رب اور اس کی صفات، قدرت، وحدانیت اور توکل کے دروازے زیادہ روشن اور زیادہ واضح ہوتے چلے جا رہے ہیں اور کفر و شرک کے دروازے آہستہ آہستہ بند ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ یہاں تک توحید، رسالت اور آخرت کا بیان بڑی وضاحت سے کیا گیا ہے اب سورة الاعراف میں آٹھویں رکوع سے انبیاء (علیہم السلام) اور ان کی امتوں کا ذکر ہے اور آئندہ چودہ رکوع اسی مضمون پر مشتمل ہیں۔ جیسا کہ پہلے بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–64
رکوع نمبر 8 ۔ آیات 59 ۔ تا۔ 64 ۔
اسرار و معارف :
اس تمام بحثت کی علمی صورت جو انسانی زندگی میں پیدا ہوگی ہے وہ بھی انسان کے سامنے ہے جیسے نوح (علیہ السلام) کا قصہ کہ ان کی قوم اللہ کی نافرمانی پہ کاربند ہوگئی مگر اللہ نے انہیں اپنی رحمت سے محروم نہیں فرمایا بلکہ ان میں اپنا رسول مبعوث فرمایا جیسے مردہ زمین پہ ابر رحمت۔ تفسیر مظہری کے مطابق نوح (علیہ السلام) آدم (علیہ السلام) کی آٹھویں پشت میں تھے اور ان سے پہلے زیادہ تر احکام انسانی ضروریات کے متعلق ہی تھے ان کے زمانے تک کفر و شرک بھی پھیل گیا اسی طرح وہ پہلے رسول تھے جنہیں کفر و شرک سے بھی مقابلہ کرنا پڑا۔ حدیث شریف میں واد ہے کہ انہیں چالیس…
Read the full tafseer →ف 2 یعنی آخر مخالفین طوفان سے ہلاک ہوگئے اور ان مومنین نے نجات پائی۔ جو سفینہ میں سوار تھے، طوفان نوح کا تخمینی سال 3200 ق م ہے۔ بیان کرتے ہیں کہ حضرت نوح ( علیہ السلام) کا یہ سفینہ سہ 3 منزلہ تھا، توریت میں اس کی پیمائش حسب ذیل ہے۔ طول 300 ہاتھ عرض 50 ہاتھ اونچائی ہاتھ توریت کے بیان کے مطابق یہ جہاز تقرینا پانچ ماہ چلتا رہا۔ سر زمین عراق میں اب بھی اس طوفان کے آثار ملتے رہتے ہیں۔
Read the full tafseer →(7:64) عمین۔ عم کی جمع ۔ بحالت نصب۔ عم۔ عمی سے بروزن فعل صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔ یہ اصل میں عمی تھا۔ چان کہ ناقص یائی میں صفت مشبہ کا ی حذف ہوجاتا ہے۔ اس لئے یاء حذف ہوگی۔ اور عم وہ گیا۔ حالت رفع میں جمع عمون آئیگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–64
لغات القرآن آیت نمبر (59 تا 64 ) ۔
الملا (سردار ) ۔ لنرک (البتہ ہم تجھے دیکھتے ہیں ) ۔ ضللتہ (گمراہی) ۔ ابلغ (میں پہنچاتا ہوں) ۔ انصح (نصیحت کرتا ہوں) ۔ عجبتم (تم نے تعجب کیا) ۔ لینذر (تاکہ وہ ڈرائے) ۔ انجینا (ہم نے نجات دی) ۔ الفلک (کشتی۔ جہاز) ۔ اغرقنا (ہم نے غرق کردیا) ۔ عمین (اندھے (بن گئے) ۔
تشریح : آیت نمبر (59 تا 64 ) ۔ ” ہر پیغمبر اپنی قوم کی طرف بھیجا جاتا ہے اور جیسا کہ سورة ابراہیم میں ارشاد ہے کہ وہ ان ہی کی زبان میں کلام کرتا ہے تاکہ دل کی بات دل تک آسانی سے پہنچ سکے۔ وہ ان ہی کے درمیان پیدا ہوتا ہے۔ ان ہی کے درمیان بچپن، نوجوانی اور جوانی کی منزلیں طے کرتا ہے اور اس کی شخصیت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–65
حضرت ہود علیہ السلام، آندھی کے عذاب کا ذکر
حضرت ہود (علیہ السلام) حضرت نوح (علیہ السلام) کے خاندان میں سے ہیں۔ حضرت ہود (علیہ السلام) کی امت قوم عاد کا ملک حضر موت سے عمان وغیرہ تک تھا اور بڑا شاداب ملک تھا۔ قوم عاد کے لوگ بڑے قوی، ساٹھ ساٹھ گز کے قد تک کے تھے۔ عذاب کی آندھی آٹھ روز تک جو ان پر چلی، پہلے اس آندھی سے کھیتی کرنے والے لوگ، اور ان کے جانور ہلاک ہوئے، پھر شہروں کے لوگ اسی طرح ہلاک ہوئے۔ آندھی کے عذاب سے پہلے ان میں قحط کا عذاب پھیلا۔ تین برس تک رہا۔ چند آدمی ان میں مکہ مکرمہ میں قحط رفع ہونے کے لئے دعا مانگنے گئے۔ مکہ مکرمہ میں ان دنوں مالقہ لوگ جو حضرت نوح (علیہ السلام) کے پوتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–65
[31] قوم عاد کا مسکن جنوب عرب کا علاقہ تھا جس میں آج کے یمن، حضرموت اور عمان وغیرہ شامل تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–64
حضرت نوح (علیہ السلام) :
(ف 1) نوح (علیہ السلام) ابو الانبیاء (علیہم السلام) ہیں اور ابو البشر ہیں آپ لے تقریبا ایک ہزار سال تک قوم میں تبلیغ کی اللہ کی توحید کی طرف دعوت دی ، نہایت خلوص اور محبت سے لوگوں کو راہ راست کی جانب متوجہ کیا مگر قوم یہی کہتی رہی ، غلط ہے ، آپ گمراہ ہیں اور ہمیں بھی گمراہ کرنا چاہتے ہیں ۔
انہیں تعجب یہ تھا کہ اللہ نے ہمیں چھوڑ کر اسے کیوں نبوت کے لئے منتخب کیا ہے ، اس میں کیا خصوصیات ہم سے زیادہ ہیں ، بدبختوں کو یہ معلوم نہیں تھا ، یہ اللہ کی دین ہے ، جسے چاہے ، دیدے اس کا معیار قلب کی پاکیزگی اور اعمال کی بلندی ہے یہ موہبت دل نشین ہے ، صلہ وانعام نہیں جو کسب و محنت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–64
64 باوجود ان تما فہمائشوں کے نوح (علیہ السلام) کی قوم باز نہ آئی اور نوح (علیہ السلام) کی تکذیب ہی کرتی رہی اور ان کو جھٹلاتی رہی تو آخرکار ہم نے حضرت نوح (علیہ السلام) کو اور اس کے ان ساتھیوں کو جو اس کے ہمراہ کشتی میں سوار تھے مرنے سے بچالیا اور ان تمام لوگوں کو جو ہمارے دلائل کی تکذیب کرے اور ہماری آیات کو جھٹلانے کے عادی اور خوگر ہوچکے تھے سب کو ڈبو دیا اور غرق کردیا بلاشبہ وہ لوگ کفر و معاصی اور تکذیب و تکفیر کے ہاتھوں اندھے ہورہے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–64
ف 2۔ خلاصہ ان آیات کا یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کے یہ کمالات ذاتی وصفاتی ثابت ہوئے تو عبادت اور طلب حاجت میں ان کے ساتھ کسی کو شریک مت کرو اور ان کی قدرت کو پیش نظر رکھ کر بعث کا انکار مت کرو۔
Read the full tafseer →قوم نے نوح (علیہ السلام) کی ایک نہ مانی اور نہ ماننے والوں کا جو انجام طے تھا وہ ہوگیا :
74: انجام کار وہ بات ہو کے رہی جس سے نوح (علیہ السلام) نے قوم کو متنبہ کیا تھا۔ جب قوم نے ایک بار تکذیب کردی اور حضرت نوح (علیہ السلام) کی طویل جدو جہد کے بعد بھی اپنے رویے کی اصلاح پر آمادہ نہ ہوئی تو ان لوگوں کے سوا جنہوں نے نوح (علیہ السلام) کی دعوت کو دل وجان سے قبول کیا اور اس کی کشتی میں سوار ہوگئے باقی سب کے سب کو اللہ نے غرق کر کے رکھ دیا۔ یہ کشتی اللہ کے حکم سے تیار کی گئی اور وحی الٰہی نے ہدایات کے مطابق کشتی تیار کروائی اور نوح (علیہ السلام) کو اس کشتی کے بنانے کا حکم دیا گیا۔ جب بنوا رہے تھے…
Read the full tafseer →It was said: فَكَذَّبُوهُ فَأَنجَيْنَاهُ وَالَّذِينَ مَعَهُ فِي الْفُلْكِ وَأَغْرَقْنَا الَّذِينَ كَذَّبُوا بِآيَاتِنَا ۚ إِنَّهُمْ كَانُوا قَوْمًا عَمِينَ ﴿64﴾ (Then, they belied him [ ignoring his good counsel totally ], so [ as a consequence ], we saved him, and those with him in the Ark, and drowned those who had belied Our signs. Certainly, they were a blind people).
The story of Sayyidna Nuh (علیہ السلام) and the full account of the drowning of his people and the deliverance of the people in the Ark appears in Surah Hud and Surah Nuh. Given at this place is its gist as appropriate to…
Read the full tafseer →50. An uninitiated reader of the Qur'an may, mistakenly conceive that the mission of each Prophet - to call his people to God - would have finished after the few attempts they made in that connection. Some people might even entertain a rather simplistic image of their mission. It might be thought that a Prophet would have suddenly risen and proclaimed to his people that he had been designated by God as a Prophet. This would have been followed by the raising of objections to that claim. Subsequently, the Prophet concerned would have explained the matter and might have removed their misgivings.…
Read the full tafseer →