Al-A'raaf 7:63

Al-A'raaf · from ayah 63

7:63

اَوَعَجِبْتُمْ اَنْ جَآءَكُمْ ذِكْرٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ عَلٰی رَجُلٍ مِّنْكُمْ لِیُنْذِرَكُمْ وَلِتَتَّقُوْا وَلَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ ۟اَوَعَجِبۡتُمۡ اَنۡ جَآءَكُمۡ ذِكۡرٌ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ عَلٰى رَجُلٍ مِّنۡكُمۡ لِيُنۡذِرَكُمۡ وَلِتَـتَّقُوۡا وَلَعَلَّكُمۡ تُرۡحَمُوۡنَ

کیا تم کو اس بات سے تعجب ہوا ہے کہ تم میں سے ایک شخص کے ہاتھ تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہارے پاس نصیحت آئی تاکہ وہ تم کو ڈرائے اور تاکہ تم پرہیزگار بنو اور تاکہ تم پر رحم کیا جائے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Then do you wonder that there has come to you a reminder from your Lord through a man from among you, that he may warn you and that you may fear Allah so you might receive mercy."

— Saheeh International

Juz 8 · Ruku 8 of surah · Ruku 15 of juz

Read the whole surah · Surah Al-A'raaf

All translations of 7:63

کیا تمہیں اس بات پر تعجب ہوا کہ تمہارے پاس خود تمہاری اپنی قوم کے ایک آدمی کے ذریعہ سے تمہارے رب کی یاد دہانی آئی تاکہ تمہیں خبردار کرے اور تم غلط روی سے بچ جاؤ اور تم پر رحم کیا جائے؟"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

کیا تم کو اس بات سے تعجب ہوا ہے کہ تم میں سے ایک شخص کے ہاتھ تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہارے پاس نصیحت آئی تاکہ وہ تم کو ڈرائے اور تاکہ تم پرہیزگار بنو اور تاکہ تم پر رحم کیا جائے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور کیا تم اس بات سے تعجب کرتے ہو کہ تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہارے پاس ایک ایسے شخص کی معرفت، جو تمہاری ہی جنس کا ہے، کوئی نصیحت کی بات آگئی تاکہ وه شخص تم کو ڈرائے اور تاکہ تم ڈرجاؤ اور تاکہ تم پر رحم کیا جائے

— مولانا محمد جوناگڑہی

بھلا کیا تمہیں اس بات پر تعجب ہے کہ تمہارے رب کی نصیحت ایک ایسے آدمی کے ذریعے تم تک پہنچی ہے جو خود تم ہی میں سے ہے، تاکہ وہ تمہیں خبردار کرے اور تم بدعملی سے بچ کر رہو، اور تاکہ تم پر (اللہ کی) رحمت ہو ؟

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور کیا تمہیں اس کا اچنبا ہوا کہ تمہارے پاس رب کی طرف سے ایک نصیحت آئی تم میں کے ایک مرد کی معرفت کہ وہ تمہیں ڈرائے اور تم ڈرو اور کہیں تم پر رحم ہو،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

کیا تمہیں اس بات پر تعجب ہے کہ تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے تم ہی میں سے ایک مرد (کی زبان) پر نصیحت آئی تاکہ وہ تمہیں (عذابِ الٰہی سے) ڈرائے اور تم پرہیزگار بن جاؤ اور یہ اس لئے ہے کہ تم پر رحم کیا جائے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور کیا تم نے عجیب سمجھا کہ تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے تم میں سے ایک آدمی پر ایک نصیحت آئی، تاکہ وہ تمہیں ڈرائے اور تاکہ تم بچ جاؤ اور تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

کیا تمہیں اس بات پر تعجب ہے کہ تمہارے پاس نصیحت تمہارے پروردگار کی طرف سے ایک ایسے آدمی کے ذریعہ آئی ہے جو تمہی میں سے ہے ؟ تاکہ وہ تمہیں (برے انجام سے) ڈرائے اور تم نافرمانی سے بچو اور تم پر رحم کیا جائے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

کیا تمہیں یہ بات عجیب معلوم ہوئی کہ تمہارے پاس تمہارے رب کی یاد دہانی تمہیں میں سے ایک شخص کے ذریعہ سے آئی تاکہ وہ تمہیں باخبر کرے اور تاکہ تم ڈرو اور تاکہ تم پر رحم کیا جائے !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

کیا تم لوگوں کو اس پر تعجب ہو رہا ہے کہ تمہارے پاس ایک عظیم الشان نصیحت آگئی تمہارے رب کی جانب سے، خود تم ہی میں سے ایک شخص کے ذریعے ؟ تاکہ وہ تمہیں خبردار کرے، (تمہارے انجام سے) اور تاکہ تم پرہیزگار بن سکو، اور تاکہ تم پر رحم کیا جائے،

— مولانا اسحاق مدنی

کیا تم اس پر حیرت کرتے ہو کہ تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے تم ہی میں سے ایک مرد کے ذریعہ سے نصیحت پہنچی ہے تاکہ وہ تمہیں ڈرائے اور تاکہ تم ڈرو عجب کیا جو تم پر رحم کیا جائے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

کیا تمہیں اس بات پر تعجب ہوا کہ تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے ایک یاد دہانی تم ہی میں سے ایک فرد کے ذریعے سے آئی تاکہ وہ تمہیں خبردار کر دے اور تم (گناہوں سے) بچ سکو اور تم پر رحم کیا جائے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

کیا تمہیں اس بات سے تعجب ہوا ہے کہ تم میں سے ایک بندے کے ذریعے تمہارے رب کی طرف سے نصیحت آئی، وہ تم کو ڈرائے اور تاکہ تم پرہیزگار بنو اور تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Do you wonder that admonition should come to you from your Lord through a man from amongst yourselves that he may warn you, that you may avoid evil and that mercy may be shown to you?'

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Do you wonder that an advice from your Lord has come to you through a man from among you, so that he may warn you and that you may fear Allah, and that you may be blessed with mercy?

— Muhammad Taqi Usmani

Do you wonder that an advice from your Lord has come to you through a man from among you, so that he may warn you and that you may fear Allah, and that you may be blessed with mercy?

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

"Do you wonder that there has come to you a Reminder from your Lord through a man from among you, that he may warn you, so that you may fear Allah and that you may receive (His) mercy"

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Marvel ye that there should come unto you a Reminder from your Lord by means of a man among you, that he may warn you, and that ye may keep from evil, and that haply ye may find mercy.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Then do you wonder that there has come to you a reminder from your Lord through a man from among you, that he may warn you and that you may fear Allah so you might receive mercy."

— Saheeh International

Does it seem strange to you that a reminder from your Lord should be sent to a man, from among you, to warn you so that you might receive mercy?"

— Muhammad Sarwar

What! do you wonder that a reminder has come to you from your Lord through a man from among you, that he might warn you and that you might guard (against evil) and so that mercy may be shown to you?

— Muhammad Habib Shakir

Marvel ye that an admonition from your Lord should come unto you upon a man from amongst yourselves, in order that the may warn you and that ye may fear, and that haply ye may be shewn mercy?

— Abdul Majid Daryabadi

"Do ye wonder that there hath come to you a message from your Lord, through a man of your own people, to warn you,- so that ye may fear Allah and haply receive His Mercy?"

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 7:63

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 63–64

نوح ؑ پر کیا گزری ؟ حضرت نوح ؑ اپنی قوم سے فرما رہے ہیں کہ تم اس بات کو انوکھا اور تعجب والا نہ سمجھو کہ اللہ تعالیٰ اپنے لطف و کرم سے کسی انسان پر اپنی وحی نازل فرمائے اور اسے اپنی پیغمبری سے ممتاز کر دے تاکہ وہ تمہیں ہو شیار کر دے پھر تم شرک و کفر سے الگ ہو کر عذاب الٰہی سے نجات پالو اور تم پر گونا گوں رحمتیں نازل ہوں۔ حضرت نوح ؑ کی ان دلیلوں اور وعظوں نے ان سنگدلوں پر کوئی اثر نہ کیا یہ انہیں جھٹلاتے رہے مخالفت سے باز نہ آئے ایمان قبول نہ کیا صرف چند لوگ سنور گئے۔ پس ہم نے ان نیک لوگوں کو اپنے نبی کے ساتھ کشتی میں بٹھا کر طوفان سے نجات دی اور باقی لوگوں کو تہ آب غرق کردیا۔ جیسے سورة نوح…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 60–63

سورة الْاَعْرَاف 49 یہ معاملہ جو حضرت نوح ؑ اور ان کی قوم کے درمیان پیش آیا تھا بعینہ ایسا ہی معاملہ مکہ میں محمد ﷺ اور آپ کی قوم کے درمیان پیش آرہا تھا۔ جو پیغام حضرت نوح ؑ کا تھا وہی حضرت محمد ﷺ کا تھا۔ جو شہبات اہل مکہ کے سردار حضرت محمد ﷺ کی رسالت میں ظاہر کیے تھے۔ پھر ان کے جواب میں جو باتیں حضرت نوح ؑ کہتے تھے بعینہ وہی باتیں محمد ﷺ بھی کہتے تھے آگے چل کر دوسرے انبیاء (علیہم السلام) اور ان کی قوموں کے جو قصے مسلسل بیان ہو رہے ہیں ان میں بھی یہی دکھایا گیا ہے کہ ہر نبی کی قوم کا رویّہ اہل مکہ کے رویّہ سے اور ہر نبی کی تقریر محمد ﷺ کی تقریر سے ہُو بہُو مشابہ ہے۔ اس سے قرآن اپنے مخاطبوں کو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

اس کے جواب میں فرمایا (آیت) اَوَعَجِبْتُمْ اَنْ جَاۗءَكُمْ ذِكْرٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ عَلٰي رَجُلٍ مِّنْكُمْ لِيُنْذِرَكُمْ وَلِتَتَّقُوْا وَلَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ یعنی کیا تمہیں اس پر تعجب ہے کہ تمہارے رب کا پیغام تمہاری طرف ایک ایسے شخص کی معرفت آیا جو تمہاری ہی جنس کا ہے تاکہ وہ تمہیں ڈراوے اور تاکہ تم ڈرجاو اور تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔ یعنی اس کے ڈرانے سے تم متنبہ ہو کر مخالفت چھوڑ دو جس کے نتیجہ میں تم پر رحمت نازل ہو۔ مطلب یہ ہے کہ یہ کوئی تعجب کی بات نہیں کہ بشر کو رسول بنایا جائے۔ اول تو حق تعالیٰ مختار مطلق ہیں جس کو چاہیں اپنی نبوت و رسالت عطا فرمائیں اس میں کسی کو چوں چرا کی مجال…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

اَوَعَجِبْتُمْ اَنْ جَاۗءَكُمْ ذِكْرٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ عَلٰي رَجُلٍ مِّنْكُمْ۔ یعنی کیا میری بات ماننے میں یہ چیز تمہیں مانع ہو رہی ہے کہ اللہ نے تمہیں میں سے ایک شخص پر تمہارے لیے یاد دہانی اتاری تاکہ وہ سامنے کے خطرے سے تمہیں آگاہ کردے، تاکہ تم اللہ سے ڈرو اور اس کی رحمت کے سزوار بنو، یہاں سوال اٹھا کر بات چھوڑ دی ہے، جواب نہیں دیا ہے، اس لیے کہ انداز کلام اظہارِ حسرت و افسوس کا ہے۔ اس اسلوب بیان میں یہ بات مضمر ہے کہ اگر تم سوچتے، غرور و لِيُنْذِرَكُمْ وَلِتَتَّقُوْا وَلَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول کے انذار کا اصل مقصد لوگوں کے اندر خشیت وتقوی پیدا کرنا ہوتا ہے اور یہی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

63۔ 1 حضرت نوح ؑ اور حضرت آدم ؑ کے درمیان دس قرنوں یا دس پشتوں کا فاصلہ ہے، حضرت نوح ؑ کے کچھ پہلے تک تمام لوگ اسلام پر قائم چلے آرہے تھے پھر سب سے پہلے توحید سے انحراف اس طرح آیا کہ اس قوم کے صالحین فوت ہوگئے تو ان کے عقیدت مندوں نے ان پر سجدہ گاہیں (عبادت خانے) قائم کردیں اور ان کی تصویریں بھی وہاں لٹکا دیں، مقصد ان کا یہ تھا کہ اس طرح ان کی یاد سے وہ بھی اللہ کا ذکر کریں گے اور ذکر الٰہی میں ان کی مشابہت اختیار کریں گے۔ جب کچھ وقت گزرا تو انہوں نے تصویروں کے مجسمے بنا دیئے اور پھر کچھ عرصہ گزرنے کے بعد یہ مجسمے بتوں کی شکل اختیار کر گئے اور ان کی پوجا پاٹ شروع ہوگئی اور قوم نوح کے یہ…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 59–63

35: اسرائیلی روایات کے مطابق حضرت نوح ؑ کی پیدائش اور حضرت آدم ؑ کی وفات کے درمیان ایک ہزار سال سے کچھ زیادہ کا فاصلہ ہے لیکن محقق علماء نے ان روایات کو مستند نہیں سمجھا۔ حقیقی فاصلے کا یقینی علم حاصل کرنے کا کوئی راستہ نہیں ہے۔ البتہ اتنی بات قرآن کریم سے واضح ہوتی ہے کہ اس طویل عرصے کے دوران بت پرستی کا رواج بہت بڑھ گیا تھا۔ حضرت نوح ؑ کی قوم نے بھی بہت سے بت بنا رکھتے تھے، جن کے نام سورة نوح میں مذکور ہیں۔ سورة عنکبوت (14:29) میں ہے کہ حضرت نوح ؑ نے ساڑھے نو سو سال تک اس قوم کو حق کی تبلیغ فرمائی۔ اور سمجھانے کا کوئی طریقہ نہیں چھوڑا۔ کچھ نیک بخت ساتھی جو زیادہ تر غریب طبقے سے تعلق رکھتے…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 61–64

آیت ” قَالَ یَا قَوْمِ لَیْْسَ بِیْ ضَلاَلَۃٌ وَلَکِنِّیْ رَسُولٌ مِّن رَّبِّ الْعَالَمِیْنَ (61) أُبَلِّغُکُمْ رِسَالاَتِ رَبِّیْ وَأَنصَحُ لَکُمْ وَأَعْلَمُ مِنَ اللّہِ مَا لاَ تَعْلَمُونَ (62) ” اے برادران قوم ! میں کسی گمراہی میں نہیں پڑا ہوں بلکہ میں رب العالمین کا رسول ہوں ‘ تمہیں اپنے رب کے پیغام پہنچاتا ہوں ‘ تمہارا خیر خواہ ہوں اور مجھے اللہ کی طرف سے وہ کچھ معلوم ہے جو تمہیں معلوم نہیں ہے ۔ “ یہاں سیاق قصہ میں ایک کڑی غائب ہے ‘ رسول کی اس دعوت پر انہوں نے گویا اس تعجب کا اظہار کردیا کہ اللہ نے انسانوں میں سے ایک شخص کو رسول بنا کر کس طرح بھیج دیا ؟ اور یہ کہ کس طرح اللہ تعالیٰ کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

1 یعنی اس میں تعجب کی کیا بات ہے کہ تم ہی میں سے خدا کسی ایک فرد کو اپنی پیغام رسانی کے لئے چن لے۔ آخر اس نے ساری مخلوق میں سے منصب خلافت کے لئے آدم (علیہ السلام) کو کسی مخصوص استعداد کی بنا پر چن لیا تو کیوں نہیں ہوسکتا کہ اولاد آدم میں سے بعض کامل الاستعداد لوگوں کو منصب نبوت و رسالت کے لئے انتخاب کرلیا جائے تاکہ وہ لوگ براہ راست خدا سے فیض پا کر دوسروں کو ان کے انجام سے آگاہ کریں اور یہ اس پر آگاہ ہو کر بدی سے بچ جائیں اور اس طرح خدا کے رحم وکرم کے مورد بنیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 62–63

آیت 62 اُبَلِّغُکُمْ رِسٰلٰتِ رَبِّیْ وَاَنْصَحُ لَکُمْ وَاَعْلَمُ مِنَ اللّٰہِ مَا لاَ تَعْلَمُوْنَ ۔ مجھے تو تمام جہانوں کے پروردگار نے اس خدمت پر مامور کیا ہے کہ میں تمہیں خبردار کر دوں ‘ تاکہ تم لوگ ایک بڑے عذاب کی لپیٹ میں آنے سے بچ جاؤ۔ میں تو تمہاری بھلائی ہی کی فکر کر رہا ہوں۔ اگر تمہارے مشرکانہ افعال اسی طرح جاری رہے تو ان کی پاداش میں تمہارے اوپر کتنی بڑی تباہی آسکتی ہے تم لوگوں کو اس کا کچھ بھی اندازہ نہیں ‘ مگر مجھے اپنے پروردگار کی طرف سے اس کے بارے میں برابر آگاہ کیا جا رہا ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

66 ایسا معلوم ہوتا ہے کہ انبیاء کی دعوت کے جواب میں منکرین کی طرف سے ایک ہی جیسے اعتراضات کیے جاتے رہے ہیں ایسے ہی اعتراضات میں سے ایک یہ ہے کہ تم ہمارے ہی جیسے آدمی ہو کر اللہ کے رسول ﷺ کیسے ہوسکتے ہو۔ اس مقام پر گو اس اعتراض کا جواب نہیں دیا گیا تاہم بہت سے مقامات پر اس اعتراض کا جواب یہ دیا گیا ہے کہ انسانوں کی ہدایت کا اس کے سوا کوئی ذریعہ ممکن ہی نہیں کہ انہی میں سے ایک رسول مبعوث کیا جائے جو انہی کی زبان میں انہیں اللہ کا پیغام پہنچا سکے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

86 ۔ (باوجود تمہارے پچھلے انبار معاصی کے) (آیت) ” او عجبتم۔۔۔ منکم “۔ مشرک جاہلی قوموں کی الٹی سمجھ میں اوتار کا عقیدہ تو آجاتا ہے۔ یعنی یہ کہ خالق کائنات خود کسی انسان یا کسی دوسری مخلوق کے قالب میں جلوہ گر ہو کر آگیا۔ لیکن یہ کسی طرح سمجھ میں نہیں آتا کہ وہ کسی اعلی ظرف و کمالات والے انسان کے ذریعہ سے اپنے احکام وہدایات دنیا کو بھیج سکتا ہے۔ (آیت) ” علی رجل منکم “۔ منکم سے مراد من جنسکم اور علی رجل سے مراد منزل علی رجل ہے۔ المعنی ان جاء کم ذکر من ربکم منزل علی رجل منکم (قرطبی) مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ اپنے ہم عصراولیاء سے محض ان کی معاصرت کی بنا پر نفرت و حقارت کا برتاؤ جاہلوں کا آج تک…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 59–64

آیت نمبر 59 تا 64 ترجمہ : قسمیہ بات ہے ہم نے نوح (علیہ السلام) کو ان کی قوم کی طرف بھیجا، اس نے کہا اے میری قوم، تم اللہ کی بندگی کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں (لَقَدْ ) قسم محذوف کا جواب ہے (غیرہ) کے جر کے ساتھ اِلٰہ کی صفت ہے اور رفع، (اِلٰہ) کے محل سے بدل ہونے کی وجہ سے ہے اگر تم اس کے علاوہ کسی اور کی بندگی کرو گے تو مجھے تمہارے حق میں بڑے دن کے عذاب کا اندیشہ ہے اور وہ بڑا دن قیامت کا دن ہے، ان کی قوم کے سرداروں نے کہا ہم تم کو صریح غلطی پر دیکھتے ہیں انہوں نے جواب دیا میں کسی گمراہی میں نہیں ہوں ضلالت ضلال سے عام ہے، ضلالت کی نفی ضلال کی نفی سے ابلغ ہے، بلکہ میں رب العلمین کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

اوعجبتم ان جآء کم ذکر من ربکم علی رجل منکم لینذر کم ولتتقوا لعلکم ترحمون : (تم مجھے جھوٹا کہتے ہو اور) اس بات سے تعجب کرتے ہو کہ تمہارے رب کی طرف سے تم میں سے ہی ایک آدمی کی معرفت تمہارے پاس ایک یادداشت آگئی تاکہ وہ تم کو (اللہ کی نافرمانی سے) ڈرائے اور تم پرہیزگار بن جاؤ اور تم پر رحم کیا جائے۔ ضلالۃٌ کوئی ادنیٰ گمراہی۔ ضلالگمراہی۔ چونکہ قوم والوں نے زور دار الفاظ میں حضرت نوح کو گمراہ قرار دیا تھا اس لئے آپ نے بھی پرزور لہجہ میں گمراہی کی بالکل نفی کردی اور فرمایا مجھ میں ذرا سی بھی گمراہی نہیں گویا قوم والوں پر تعریض کی کہ گمراہ تم ہو۔ ولکنی رسولیہ نفی گمراہی کی پُر زور تاکید ہے اللہ کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(63) بلکہ تمہیں اس سے تعجب ہورہا ہے کہ تمہارے جیسے انسان پر نبوت آگئی ہے کہ وہ تمہیں ڈرائے تاکہ تم اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اور غیر اللہ سے بچو، تاکہ اس کی وجہ سے تم پر رحم کیا جائے اور عذاب سے نجات ملے ،

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

اَوَعَجِبْتُمْ اَنْ جَاۗءَكُمْ ذِكْرٌ۔۔ : تمام کافر اقوام کا اعتراض یہی تھا کہ ہمیں میں سے ایک شخص یعنی کوئی انسان رسول کیسے ہوسکتا ہے ؟ جیسا کہ آج کل کے کئی کلمہ گو کہتے ہیں کہ جو نبی ہو وہ انسان کیسے ہوسکتا ہے ؟ دونوں کی اصل مشکل ایک ہی ہے۔ نوح ؑ کا جواب یہ تھا کہ اس میں تعجب کی کیا بات ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تم میں سے ایک آدمی کے ذریعے سے تمہاری طرف نصیحت بھیجی، تاکہ وہ نمونہ بنے، تمہیں خبردار کرے اور تم اللہ سے ڈرو اور تم پر رحم ہوجائے۔ فرشتے یا کسی اور مخلوق کو بھیجنے سے یہ مقصد کبھی حاصل نہ ہوتا۔ وَلِتَتَّقُوْا وَلَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ : اشارہ فرمایا کہ انبیاء کی دعوت قبول کرلینے سے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 63–64

آیت نمبر : 63۔ 64 قولہ تعالیٰ : آیت : اوعجبتم اس میں واو کو فتحہ دیا گیا ہے، کیونکہ یہ واو عاطفہ ہے ( زاد المسیر، جلد 2، صفحہ 169 ) ، اس پر الف استفہام تقریر کے لیے داخل کیا گیا ہے۔ اور واو کا طریقہ یہ ہے کہ یہ حروف استفہام پر داخل ہوتی ہے سوائے الف کے اس کی قوت کے سبب ( یعنی الف پر یہ داخل نہیں ہو سکتی) ان جآء کم ذکر یعنی تمہارے پاس تمہاریرب کی طرف سے نصیحت آئی۔ آیت : علی رجل منکم، یعنی علی لسان رجل ( ایک آدمی کی زبان پر) اور یہ بھی کہا گیا ہے : علی بمعنی مع ہے یعنی مع رجل ( ایک آدمی کے ذریعہ) اور یہ قول بھی ہے : اس کا معنی ہے تمہارے اس رب کی طرف سے نصیحت آئی جو تم میں سے ایک آدمی پر نازل کی…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 60–64

(1) امام ابن ابی حاتم نے ابو مالک (رح) سے روایت کیا کہ ” قال الملا “ سے مراد ہے اس کی قسم میں سے بڑے لوگ۔ (2) امام ابو الشیخ نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” اوعجبتم ان جاء کم ذکر من ربکم “ یعنی یہ بیان ہے تمہارے رب سے (کیا تم اس پر تعجب کرتے ہو) ۔ (3) امام ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ضحاک کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” انھم کانوا قوما عمین “ سے کافر مراد ہیں۔ (4) امام ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید، منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” انھم کانو قوما عمین “ سے مراد ہے وہ لوگ جو حق کو دیکھنے سے اندھے تھے۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

اَوَ [ اور کیا ] عَجِبْتُمْ [ تمہیں عجیب لگا ] اَنْ [ کہ ] جَاۗءَكُمْ [ آئی تمہارے پاس ] ذِكْرٌ [ ایک یاد دہانی ] مِّنْ رَّبِّكُمْ [ تمہارے رب (کی طرف ) سے ] عَلٰي رَجُلٍ [ ایک شخص پر ] مِّنْكُمْ [ تم میں سے ] لِيُنْذِرَكُمْ [ تاکہ وہ وارننگ دے تم کو ] وَلِتَتَّقُوْا [ اور تاکہ تم لوگ تقوی کرو ] وَلَعَلَّكُمْ [ اور شاید کہ ] تُرْحَمُوْنَ [ تم پر رحم کیا جائے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 60–65

اور قوم عاد کی طرف ان کے بھائی ہود کو بھیجا۔ انہوں نے کہا اے میری قوم اللہ کی عبادت کرو۔ تمہارے لیے اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے کیا تم ڈرتے نہیں۔ ان کی قوم کے سردار جنہوں نے کفر اختیار کیا جواب میں کہنے لگے کہ بلاشبہ ہم تجھے بےوقوفی میں دیکھ رہے ہیں۔ اور بلاشبہ ہم یہ سمجھ رہے ہیں کہ تو جھوٹوں میں سے ہے۔ ہود نے کہا اے میری قوم ! مجھ میں بےوقوفی نہیں ہے لیکن میں بھیجا ہوا ہوں پروردگار عالم کا، پہنچاتا ہوں تم کو پیغام اپنے رب کے اور میں تمہارا خیر خواہ ہوں، امانت دار ہوں، کیا تمہیں اس بات سے تعجب ہوا کہ تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے نصیحت آگئی تم ہی میں ایک شخص کے واسطہ سے تاکہ وہ تمہیں ڈرائے،…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 59–64

قصۂ اول نوح (علیہ الصلوۃ والسلام) قال اللہ تعالیٰ لقد ارسلنا نوحا الی قومہ۔۔۔ الی۔۔۔ انھم کانوا قوما عمین (ربط) اس سورت کے شروع میں حق تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کا قصہ بیان فرمایا اور پھر اسی ذیل میں فتنۂ شیطان سے بچنے کی تاکید اکید فرمائی اور بعد ازاں اس عہد قدیم کو یاد دلایا کہ جو حق تعالیٰ نے اولاد آدم سے عالم ارواح میں لیا تھا اب اس کے بعد دیگر حضرات انبیاء کرام کے قصے برعایت ترتیب بیان کرتے ہیں جو متعدد فوائد کو متضمن ہیں (اول) یہ کہ حضرات انبیاء سے سرکشی اور سرتابی آنحضرت ﷺ کے ساتھ مخصوص نہیں قدیم زمانہ سے یہ سلسلہ چلا آرہا ہے کہ لوگ اپنے اپنے زمانے کے پیغمبروں کی تکذیب کرتے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

73: یہ مشرکین کی غلطی کے اصل منشا کا رد ہے یعنی تم صرف اس بات پر حیران و متعجب ہو کہ تمہاری ہدایت کے لیے تمہاری جنس ہی کے ایک بشر پر اللہ کی طرف سے وحی آگئی۔ “ فَکَذَّبُوْہُ الخ ” ماضی استمرار کیلئے ہے یعنی وہ ہمیشہ ان کی تکذیب کرتے رہے اور مسلسل شرک پر ڈٹے رہے۔ ای استمروا علی تکذیبہ واصروا بعد ان قال لھم ما قال و دعاھم الی اللہ تعالیٰ لیلاً و نہاراً (روح ج 8 ص 153) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 63–64

ربط آیات نبوت اور رسالت کے سلسلے میں اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے حضرت نوح (علیہ السلام) کا ذکر کیا ہے آپ کی تبلیغ آپ کے ساتھ قوم کا سلوک ، آپ کی بددعا اور پھر قوم کی ہلاکت کو یہاں پر اختصار کے ساتھ بیان کیا گیا ہے سورة نوح صرف آپ ہی کے حالات پر مشتمل ہے سورة ہود میں پورے دو رکوع میں آپ کے حالات کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے اس کے علاوہ بعض دوسری سورتوں میں بھی حضرت نوح (علیہ السلام) کے جتہ جتہ واقعات موجود ہیں حضرت آدم (علیہ السلام) کے بعد انبیاء کے سلسلے کی اہم ترین شخصیت حضرت نوح (علیہ السلام) ہیں آپ نے سب سے پہلے اپنی قوم کو توحید کا درس دیا اور کفر اور شرک سے منع کیا مگر آپ کی قوم کے سرداروں…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فَكَذَّبُوْہُ فَاَنْجَيْنٰہُ وَالَّذِيْنَ مَعَہٗ فِي الْفُلْكِ وَاَغْرَقْنَا الَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا۝ 0 ۭ اِنَّہُمْ كَانُوْا قَوْمًا عَمِيْنَ۝ 64 ۧ كذب وأنه يقال في المقال والفعال، قال تعالی: إِنَّما يَفْتَرِي الْكَذِبَ الَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ [ النحل/ 105] ، ( ک ذ ب ) الکذب قول اور فعل دونوں کے متعلق اس کا استعمال ہوتا ہے چناچہ قرآن میں ہے ۔ إِنَّما يَفْتَرِي الْكَذِبَ الَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ [ النحل/ 105] جھوٹ اور افتراء تو وہی لوگ کیا کرتے ہیں جو خدا کی آیتوں پر ایمان نہیں لاتے نجو أصل النَّجَاء : الانفصالُ من الشیء، ومنه : نَجَا فلان من فلان وأَنْجَيْتُهُ ونَجَّيْتُهُ. قال…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 59–64

ترکیب : من الٰہ غیرہ من زائدہ الہ مبتدا لکم خبر غیرہ کو بالرفع پڑھا جاوے تو الہ کی صفت ہوگی علی الموضع کی یا وہ اس کے موضع سے بدل جیسا کہ لا الہ میں الا اللہ۔ فی ضلال مبین مفعول ثانی لنراک اگر اس کو رؤیت قلب سے لیا جاوے ورنہ حال ابلغکم جملہ مستانفہ اور علی المعنی رسول کی صفت بھی ہوسکتا ہے لان الرسول ھوا لضمیر فی انی فی الفلک حال ہے ضمیر معہ سے۔ تفسیر : مسائل مبدء و معاد اور ان کے دلائل ظاہرہ و برا ہیں باہرہ کے بعد پھر 1 ؎ انبیاء (علیہم السلام) کے قصے ان چند فوائد کے لئے بیان فرماتا ہے۔ اول یہ کہ سرکشی اور انبیاء سے سرتابی کچھ محمد ﷺ کی قوم کی ہی عادت خاصہ نہیں بلکہ ہمیشہ سے لوگ اپنے انبیاء…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 60–63

ارشاد ہوتا ہے : قَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِہٖٓ اِنَّا لَنَرٰکَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ ۔ قَالَ یٰقَوْمِ لَیْسَ بِیْ ضَلٰلَۃٌ وَّ لٰکِنِّیْ رَسُوْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَ ۔ اُبَلِّغُکُمْ رِسٰلٰتِ رَبِّیْ وَ اَنْصَحُ لَکُمْ وَ اَعْلَمُ مِنَ اللہِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ ۔ اَوَ عَجِبْتُمْ اَنْ جآئَکُمْ ذِکْرٌ مِّنْ رَّبِّکُمْ عَلٰی رَجُلٍ مِّنْکُمْ لِیُنْذِرَکُمْ وَ لِتَتَّقُوْا وَ لَعَلَّکُمْ تُرْحَمُوْنَ ۔ (الاعراف : 63 تا 60) ” اس کی قوم کے سرداروں نے کہا ! ہم تو تجھے صریح گمراہی میں دیکھ رہے ہیں۔ نوح نے کہا : اے برادرانِ قوم ! میں کسی گمراہی میں نہیں پڑا ہوں۔ بلکہ میں رب العالمین کا رسول ہوں…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 59–64

فہم القرآن حضرت نوح (علیہ السلام) : آپ کا نسب نامہ اس طرح ہے نوح (علیہ السلام) بن لامک بن متوشلخ بن خنوخ ( ادریس (علیہ السلام) بن یرد بن مھلا ییل بن قینن بن انوش بن شیث بن آدم (علیہ السلام) ۔ حضرت ابو امامہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے اللہ کے رسول ﷺ سے عرض کی کہ کیا آدم (علیہ السلام) نبی تھے ؟ آپ نے فرمایا ہاں ! ان سے اللہ تعالیٰ نے کلام کیا۔ پھر اس نے یہ سوال کیا کہ آدم (علیہ السلام) اور نوح (علیہ السلام) کے درمیان کتنی مدت ہے آپ نے فرمایا دس قرن (صحیح ابن حبان : 6157) قرن سے مراد اہل علم نے ایک نسل یا ایک صدی لی ہے اگر ایک نسل مراد لی جائے تو آدم (علیہ السلام) کی وفات اور نوح (علیہ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

تقریر سوم : آیت 63: اَوَعَجِبْتُمْ (کیا تم تعجب کرتے ہو) ہمزہ انکار کے لئے ہے وائو عاطفہ ہے معطوف علیہ محذوف ہے۔ گویا کہا گیا اکذبتم و عجبتم کیا تم جھٹلاتے ہو اور تعجب کرتے ہو اَنْ جَآئَ کُمْ ۔ مِنْ اَنْ جَآئَ کُمْ ۔ اس لیے کہ تمہارے پاس آیا۔ ذِکْرٌ نصیحت مِّنْ رَّبِّکُمْ عَلٰی رَجُلٍ مِّنْکُمْتم میں سے ایک آدمی کی زبان سے یعنی تمہاری جنس سے۔ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ نبوت نوح ( علیہ السلام) پر تعجب کرتے تھے اور کہا کرتے تھے : مَّا سَمِعْنَا بِہٰذَا فِیْٓ ٰابَـآپنَا الْاَوَّلِیْنَ ( المومنون : 24) اس سے ارسال بشر مراد لیتے ہیں۔ ، وَلَوْ شَآئَ اللّٰہُ لَاَ نْزَلَ مَلٰٓپکَۃًجصلے ( المؤمنون :…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر 63(اوعجتم) الف استفہام کا وائو عاطفہ پر داخل ہوا ہے (ان جآء کم ذکر من ربکم) ابن عباس ؓ فرماتے ہیں نصیحت اور بعض نے کہا ہے بیان اور بعض نے کہا ہے پیغام ۔ (علی رجل منکم لینذرکم ولتنفوا ولعلکم ترحمون) اللہ کے عذاب سے اگر تم ایمان نہ لائے (ولتتقوا ولعلکم ترحمون)

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 59–64

(59 ۔ 64) ۔ حضرت نوح ( علیہ السلام) سے لے کر حضرت شعیب ( علیہ السلام) تک چند صاحب شریعت انبیاء کے قصے ان رکوعوں میں آنحضرت کی تسکین اور تشفی کے ارادہ سے اللہ تعالیٰ نے بیان فرمائے ہیں تاکہ آپ کو یہ اطمینان ہوجاوے کہ سرکش قوموں پر انبیاء کے جھٹلانے کا ہمیشہ سے جس طرح وبال پڑا ہے اگر اہل مکہ ایمان نہ لاویں گے تو یہی انجام ان کا ہوگا چناچہ ایسا ہی ہوا کہ اہل مکہ میں اکثر سرکش لوگ بدر کی لڑائی میں مارے گئے اور آپ نے ان کی لاشوں پر ایک ایک کا نام لے کر فرمایا کہ خدا کے وعدے کو تم نے دیکھ لیا اور بقیہ اہل مکہ فتح مکہ پر اسلام لے آئے اگر قضا وقدر میں ان کا ایمان لانا نہ ٹھہرا ہوتا تو پچھلی امتوں کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 59–71

آیت 59 جب اللہ تعالیٰ نے اپنی توحید کے دلائل میں سے ایک اچھا حصہ ذکر فرمایا، تو اب اس کی تائید میں انبیائے کرام کا، جو اس کی توحید کے داعی تھے اور اس رویے کا جو ان کی امتوں کے منکرین توحید کی طرف سے پیش آیا، اسے بیان فرما رہا ہے۔ نیز یہ کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے کیسے اہل توحید کی تائید فرمائی اور انبیاء ومرسلین سے عناد رکھنے والوں اور ان کی اطاعت نہ کرنے والوں کو ہلاک کردیا۔۔۔ اور کیسے انبیاء ومرسلین کی دعوت ایک ہی دین اور ایک ہی عقیدہ پر متفق تھی۔ چناچہ نوح جو اولین رسول ہیں، کے بارے میں فرمایا : (لقد ارسلنا نوحاً الی قومہ) ” ہم نے نوح کو ان کی قوم کی طرف بھیجا۔ “ حضرت نوح کفار کو اکیلے اللہ…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 55–141

دعا کا طریقہ قول باری ہے وادعواربکم تضرعاً عاوخفیۃ۔ اپنے رب کو پکارو گڑگڑاتے ہوئے اور چپکے چپکے) آیت میں چپکے چپکے رب کو پکارنے کا حکم ہے حسن کا قول ہے کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے تمہیں اس بات کی تعلیم دی ہے کہ تم اپنے رب کو کس طرح پکارو۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک عہد صالح کا ذکر فرمایا جس کی پکار کو اس نے پسند فرمایا تھا چناچہ ارشاد ہے اذنادی ربہ نداء خفیا۔ جبکہ اس نے اپنے رب کو چپکے چپکے پکارا) یعنی حضرت زکریاعلیہ السلام عبداللہ بن المبارک نے حسن بصری سے روایت کی ہے کہ لوگ یعنی صحابہ کرام بڑی عاجزی اور نیاز مندی کے ساتھ دعائیں مانگا کرتے تھے اور صرف سرگوشی کی آواز سنائی دیتی تھی۔ حضرت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 63–64

85 پیغمبر کا ہر حکم و ارشاد علم پر مبنی ہوتا ہے : کہ اس نے مجھے وحی و نبوت سے نوازا ہے جبکہ تم سب لوگ محض ظن و گمان اور خیال وتخمین کے پیچھے چلتے ہو۔ سو یہ پیغمبر کی ایک امتیازی شان ہوتی ہے کہ ان کا ہر قول و فعل اور حکم و ارشاد علم صحیح کی ٹھوس بنیاد پر قائم و استوار ہوتا ہے۔ کیونکہ ان کے پاس اس خالق ومالک کی طرف سے وحی آتی ہے جو اس ساری کائنات کا خالق ومالک اور اس میں حاکم و متصرف ہے۔ اور ایسا خالق ومالک اور اس شان کا حاکم و متصرف کہ نہ اسکی اس تخلیق میں کوئی اس کا شریک ہے اور نہ اسکے اس حکم و تصرف میں جبکہ وحی کے نور سے محروم دنیا کا سارا کام محض ظن وتخمین اور اندازہ و قیاس پر چلتا ہے۔ سو…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 59–64

سیدنا نوح (علیہ السلام) اور ان کی قوم پر عذاب تشریح :ــــ قرآن پاک میں جگہ جگہ کہا گیا ہے کہ قرانی آیات اور کائنات پر غور و فکر کرو۔ کیونکہ جیسے جیسے علم و عرفان اور سائنسی ترقی ہو رہی ہے رب اور اس کی صفات، قدرت، وحدانیت اور توکل کے دروازے زیادہ روشن اور زیادہ واضح ہوتے چلے جا رہے ہیں اور کفر و شرک کے دروازے آہستہ آہستہ بند ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ یہاں تک توحید، رسالت اور آخرت کا بیان بڑی وضاحت سے کیا گیا ہے اب سورة الاعراف میں آٹھویں رکوع سے انبیاء (علیہم السلام) اور ان کی امتوں کا ذکر ہے اور آئندہ چودہ رکوع اسی مضمون پر مشتمل ہیں۔ جیسا کہ پہلے بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 59–64

رکوع نمبر 8 ۔ آیات 59 ۔ تا۔ 64 ۔ اسرار و معارف : اس تمام بحثت کی علمی صورت جو انسانی زندگی میں پیدا ہوگی ہے وہ بھی انسان کے سامنے ہے جیسے نوح (علیہ السلام) کا قصہ کہ ان کی قوم اللہ کی نافرمانی پہ کاربند ہوگئی مگر اللہ نے انہیں اپنی رحمت سے محروم نہیں فرمایا بلکہ ان میں اپنا رسول مبعوث فرمایا جیسے مردہ زمین پہ ابر رحمت۔ تفسیر مظہری کے مطابق نوح (علیہ السلام) آدم (علیہ السلام) کی آٹھویں پشت میں تھے اور ان سے پہلے زیادہ تر احکام انسانی ضروریات کے متعلق ہی تھے ان کے زمانے تک کفر و شرک بھی پھیل گیا اسی طرح وہ پہلے رسول تھے جنہیں کفر و شرک سے بھی مقابلہ کرنا پڑا۔ حدیث شریف میں واد ہے کہ انہیں چالیس…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 1 اشارہ فرمایا کہ انبیا کی دعوت قبول کرن لینے سے دلوں میں تقوی ٰ پیدا ہوتا ہے اویہی تقوٰ آخرت میں جالب رحمت بنے گا۔ (رازی)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(7:63) علی رجل ۔ علی لسان رجل۔ (تم میں سے) ایک شخص کی زبان سے یا اس کے ذریعہ سے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 59–64

لغات القرآن آیت نمبر (59 تا 64 ) ۔ الملا (سردار ) ۔ لنرک (البتہ ہم تجھے دیکھتے ہیں ) ۔ ضللتہ (گمراہی) ۔ ابلغ (میں پہنچاتا ہوں) ۔ انصح (نصیحت کرتا ہوں) ۔ عجبتم (تم نے تعجب کیا) ۔ لینذر (تاکہ وہ ڈرائے) ۔ انجینا (ہم نے نجات دی) ۔ الفلک (کشتی۔ جہاز) ۔ اغرقنا (ہم نے غرق کردیا) ۔ عمین (اندھے (بن گئے) ۔ تشریح : آیت نمبر (59 تا 64 ) ۔ ” ہر پیغمبر اپنی قوم کی طرف بھیجا جاتا ہے اور جیسا کہ سورة ابراہیم میں ارشاد ہے کہ وہ ان ہی کی زبان میں کلام کرتا ہے تاکہ دل کی بات دل تک آسانی سے پہنچ سکے۔ وہ ان ہی کے درمیان پیدا ہوتا ہے۔ ان ہی کے درمیان بچپن، نوجوانی اور جوانی کی منزلیں طے کرتا ہے اور اس کی شخصیت…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 59–65

حضرت ہود علیہ السلام، آندھی کے عذاب کا ذکر حضرت ہود (علیہ السلام) حضرت نوح (علیہ السلام) کے خاندان میں سے ہیں۔ حضرت ہود (علیہ السلام) کی امت قوم عاد کا ملک حضر موت سے عمان وغیرہ تک تھا اور بڑا شاداب ملک تھا۔ قوم عاد کے لوگ بڑے قوی، ساٹھ ساٹھ گز کے قد تک کے تھے۔ عذاب کی آندھی آٹھ روز تک جو ان پر چلی، پہلے اس آندھی سے کھیتی کرنے والے لوگ، اور ان کے جانور ہلاک ہوئے، پھر شہروں کے لوگ اسی طرح ہلاک ہوئے۔ آندھی کے عذاب سے پہلے ان میں قحط کا عذاب پھیلا۔ تین برس تک رہا۔ چند آدمی ان میں مکہ مکرمہ میں قحط رفع ہونے کے لئے دعا مانگنے گئے۔ مکہ مکرمہ میں ان دنوں مالقہ لوگ جو حضرت نوح (علیہ السلام) کے پوتے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 60–65

[31] قوم عاد کا مسکن جنوب عرب کا علاقہ تھا جس میں آج کے یمن، حضرموت اور عمان وغیرہ شامل تھے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 59–64

حضرت نوح (علیہ السلام) : (ف 1) نوح (علیہ السلام) ابو الانبیاء (علیہم السلام) ہیں اور ابو البشر ہیں آپ لے تقریبا ایک ہزار سال تک قوم میں تبلیغ کی اللہ کی توحید کی طرف دعوت دی ، نہایت خلوص اور محبت سے لوگوں کو راہ راست کی جانب متوجہ کیا مگر قوم یہی کہتی رہی ، غلط ہے ، آپ گمراہ ہیں اور ہمیں بھی گمراہ کرنا چاہتے ہیں ۔ انہیں تعجب یہ تھا کہ اللہ نے ہمیں چھوڑ کر اسے کیوں نبوت کے لئے منتخب کیا ہے ، اس میں کیا خصوصیات ہم سے زیادہ ہیں ، بدبختوں کو یہ معلوم نہیں تھا ، یہ اللہ کی دین ہے ، جسے چاہے ، دیدے اس کا معیار قلب کی پاکیزگی اور اعمال کی بلندی ہے یہ موہبت دل نشین ہے ، صلہ وانعام نہیں جو کسب و محنت…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

Explained with ayahs 63–64

64 باوجود ان تما فہمائشوں کے نوح (علیہ السلام) کی قوم باز نہ آئی اور نوح (علیہ السلام) کی تکذیب ہی کرتی رہی اور ان کو جھٹلاتی رہی تو آخرکار ہم نے حضرت نوح (علیہ السلام) کو اور اس کے ان ساتھیوں کو جو اس کے ہمراہ کشتی میں سوار تھے مرنے سے بچالیا اور ان تمام لوگوں کو جو ہمارے دلائل کی تکذیب کرے اور ہماری آیات کو جھٹلانے کے عادی اور خوگر ہوچکے تھے سب کو ڈبو دیا اور غرق کردیا بلاشبہ وہ لوگ کفر و معاصی اور تکذیب و تکفیر کے ہاتھوں اندھے ہورہے تھے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 58–64

ف 2۔ خلاصہ ان آیات کا یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کے یہ کمالات ذاتی وصفاتی ثابت ہوئے تو عبادت اور طلب حاجت میں ان کے ساتھ کسی کو شریک مت کرو اور ان کی قدرت کو پیش نظر رکھ کر بعث کا انکار مت کرو۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

کیا تم کو ایک انسان پر وحی الٰہی کے تعجب نے متعجب کردیا ہے : 73: مشرک قوموں کی الٹی سمجھ میں اوتار ، پیر اور مرشد کو سب کچھ عطا ہونے کا عقیدہ تو آجاتا ہے لیکن خالق کائنات کے الٰہ ہونے کا مسئلہ وہ نہیں سمجھ سکتیں ، کیوں ؟ اس لئے کہ جو بات انہوں نے اپنے باپ دادا سے سنی ہوتی ہے اس کے لئے کسی دلیل کی کبھی ان کو ضرورت پیش نہیں آتی کہ وہی ان کے لئے سب سے بڑی دلیل ہوتی ہے۔ ان کو اللہ کا رسول (علیہ السلام) جب ایک انسان اور ان کی اپنی نسل سے تعلق رکھنے والا نظر آتا ہے تو وہ اپنی انسانیت سے باہر نہیں جاسکتے۔ وہ دیکھتے ہیں کہ جب ہم بغیر کسی لالچ اور بغیر کسی ضرورت کے ایک قدم بھی چلنے کے لئے تیار نہیں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Here, the answer given was: أَوَعَجِبْتُمْ أَن جَاءَكُمْ ذِكْرٌ‌ مِّن رَّ‌بِّكُمْ عَلَىٰ رَ‌جُلٍ مِّنكُمْ لِيُنذِرَ‌كُمْ وَلِتَتَّقُوا وَلَعَلَّكُمْ تُرْ‌حَمُونَ ﴿63﴾ (Do you wonder that an advice from your Lord has come to you through a man from among you, so that he may warn you and that you may fear Allah, and that you may be blessed with mercy?) [ that is, his warning may lead you to stop opposing him as a result of which you may be blessed with mercy ] The substance of the argument is that the making of a human being a messenger of Allah is not a matter of surprise. First of all, Allah…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 60–63

49. There were striking similarities between Muhammad and Noah (peace be on them). The Prophet Muhammad (peace be on him) received the same treatment from his people as did Noah from his. The message that each of them sought to preach was also the same. Likewise, the doubts and objections raised by the people of Muhammad (peace be on him) with regard to his prophethood were the same as those raised by Noah's people several thousand years ago. Again, what Muhammad (peace be on him) said in response to the doubts and objections raised against him were exactly the same as what Noah had said. The…

Read the full tafseer →