Al-A'raaf 7:66

Al-A'raaf · from ayah 66

7:66

قَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖۤ اِنَّا لَنَرٰىكَ فِیْ سَفَاهَةٍ وَّاِنَّا لَنَظُنُّكَ مِنَ الْكٰذِبِیْنَ ۟قَالَ الۡمَلَاُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مِنۡ قَوۡمِهٖۤ اِنَّا لَــنَرٰٮكَ فِىۡ سَفَاهَةٍ وَّاِنَّا لَــنَظُنُّكَ مِنَ الۡـكٰذِبِيۡنَ

تو ان کی قوم کے سردار جو کافر تھے کہنے لگے کہ تم ہمیں احمق نظر آتے ہو اور ہم تمہیں جھوٹا خیال کرتے ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

Said the eminent ones who disbelieved among his people, "Indeed, we see you in foolishness, and indeed, we think you are of the liars."

— Saheeh International

Juz 8 · Ruku 9 of surah · Ruku 16 of juz

Read the whole surah · Surah Al-A'raaf

All translations of 7:66

اس کی قوم کے سرداروں نے، جو اس کی بات ماننے سے انکار کر رہے تھے، جواب میں کہا "ہم تو تمہیں بے عقلی میں مبتلا سمجھتے ہیں اور ہمیں گمان ہے کہ تم جھوٹے ہو"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

تو ان کی قوم کے سردار جو کافر تھے کہنے لگے کہ تم ہمیں احمق نظر آتے ہو اور ہم تمہیں جھوٹا خیال کرتے ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

ان کی قوم میں جو بڑے لوگ کافر تھے انہوں نے کہا ہم تم کو کم عقلی میں دیکھتے ہیں۔ اور ہم بے شک تم کو جھوٹے لوگوں میں سمجھتے ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

ان کی قوم کے سردار جنہوں نے کفر اپنا رکھا تھا، کہنے لگے : ہم تو یقینی طور پر دیکھ رہے ہیں کہ تم بےوقوفی میں مبتلا ہو، اور بیشک ہمارا گمان یہ ہے کہ تم ایک جھوٹے آدمی ہو۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اس کی قوم کے سردار بولے بیشک ہم تمہیں بیوقوف سمجھتے ہیں اور بیشک ہم تمہیں جھوٹوں میں گمان کرتے ہیں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

ان کی قوم کے سرداروں اور رئیسوں نے جو کفر (یعنی دعوتِ حق کی مخالفت و مزاحمت) کر رہے تھے کہا: (اے ہود!) بیشک ہم تمہیں حماقت (میں مبتلا) دیکھتے ہیں اور بیشک ہم تمہیں جھوٹے لوگوں میں گمان کرتے ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اس کی قوم میں سے ان سرداروں نے جنھوں نے کفر کیا، کہا بیشک ہم یقینا تجھے ایک طرح کی بےوقوفی میں (مبتلا) دیکھ رہے ہیں اور بیشک ہم یقینا تجھے جھوٹوں میں سے گمان کرتے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اس کی قوم کے کافر سرداروں نے کہا : ہم تو تجھے کم عقل آدمی دیکھتے ہیں اور ہمارا خیال ہے کہ تم جھوٹے ہو

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اس کی قوم کے بڑوں نے، جنہوں نے کفر کیا، جواب دیا کہ ہم تو تم کو ایک کھلی ہوئی حماقت میں مبتلا دیکھتے ہیں اور ہم تم کو جھوٹوں میں سے گمان کرتے ہیں۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

ان کی قوم کے کافر سرداروں نے کہا کہ ہم تو تمہیں نری بےعقلی میں مبتلا دیکھتے ہیں، اور ہم یقیناً تمہیں جھوٹوں میں سے سمجھتے ہیں،

— مولانا اسحاق مدنی

ان کی قوم میں جو رودار لوگ کفر کررہے تھے بولے ہم تو تم کو حماقت میں (مبتلا) دیکھتے ہیں اور ہم تو تم کو جھوٹوں میں سے خیال کرتے ہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

آپ ؑ کی قوم کے سرداروں نے جنہوں نے انکار کیا تھا کہا کہ ہم تو تمہیں کسی حماقت میں مبتلا دیکھتے ہیں اور ہم تم کو جھوٹوں میں سے گمان کرتے ہیں۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

تو انکی قوم کے سردار جو کافر تھے کہنے لگے کہ تم ہمیں احمق لگتے ہو۔ اور ہم تمہیں جھوٹا سمجھتے ہیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

The unbelievers among the leading men of his people said: 'Indeed we see you in folly, and consider you to be liars.'

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Said the chiefs of his people who disbelieved, :Indeed, we see you in folly, and we believe you are one of the liars.

— Muhammad Taqi Usmani

Said the chiefs of his people who disbelieved, :Indeed, we see you in folly, and we believe you are one of the liars.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

The leaders of those who disbelieved among his people said: "Verily, we see you in foolishness, and verily, we think you are one of the liars."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

The chieftains of his people, who were disbelieving, said: Lo! we surely see thee in foolishness, and lo! we deem thee of the liars.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Said the eminent ones who disbelieved among his people, "Indeed, we see you in foolishness, and indeed, we think you are of the liars."

— Saheeh International

A group of the unbelievers among his people said, "You look to us like a fool and we think that you are a liar".

— Muhammad Sarwar

The chiefs of those who disbelieved from among his people said: Most surely we see you in folly, and most surely we think you to be of the liars.

— Muhammad Habib Shakir

The chiefs of those who disbelived among his people said: verily we see thee in folly, and verily we deem thee to be of the liars.

— Abdul Majid Daryabadi

The leaders of the Unbelievers among his people said: "Ah! we see thou art an imbecile!" and "We think thou art a liar!"

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 7:66

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 65–69

ہود ؑ اور ان کا رویہ ! فرماتا ہے کہ جیسے قوم نوح کی طرف حضرت نوح کو ہم نے بھیجا تھا قوم عاد کی طرف حضرت ہود ؑ کو ہم نے نبی بنا کر بھیجا یہ لوگ عاد بن ارم بن عوص بن سام بن نوح کی اولاد تھے۔ یہ عاد اولیٰ ہیں۔ یہ جنگل میں ستونوں میں رہتے تھے۔ فرمان ہے آیت (الم تر کف فعل ربک بعاد ارم ذات العماد التی لم یخلق مثلھا فی البلاد) یعنی کیا تو نے نہیں دیکھا کہ عاد ارم کے ساتھ تیرے رب نے کیا کیا ؟ جو بلند قامت تھے دوسرے شہروں میں جن کی مانند لوگ پیدا ہی نہیں کئے گئے۔ یہ لوگ بڑے قوی طاقتور اور لانبے چوڑے قد کے تھے جیسے فرمان ہے کہ عادیوں نے زمین میں ناحق تکبر کیا اور نعرہ لگایا کہ ہم سے زیادہ قوی کون ہے ؟…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 66–69

سورة الْاَعْرَاف 52 اصل میں لفظ آلاء استعمال ہوا ہے جس کے معنی نعمتوں کے بھی ہیں اور کرشمائے قدرت کے بھی اور صفات حمیدہ کے بھی۔ آیت کا پورا مطلب یہ ہے کہ خدا کی نعمتوں اور اس کے احسانات کو بھی یاد رکھو اور یہ بھی فراموش نہ کرو کہ وہ تم سے یہ نعمتیں چھین لینے کی قدرت بھی رکھتا ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

دوسری (آیت) میں ہے قال الْمَلَاُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖٓ اِنَّا لَنَرٰكَ فِيْ سَفَاهَةٍ وَّاِنَّا لَنَظُنُّكَ مِنَ الْكٰذِبِيْنَ ، یعنی قوم کے سرداروں نے کہا کہ ہم آپ کو بےوقوفی میں مبتلا پاتے ہیں اور ہمارا گمان یہ ہے کہ آپ جھوٹ بولنے والوں میں سے ہیں۔ یہ تقریباً ایسا ہی معارضہ ہے جیسا حضرت نوح ؑ کی قوم نے ان سے کیا تھا صرف بعض الفاظ کا فرق ہے۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 66–67

قَالَ الْمَلَاُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖٓ اِنَّا لَنَرٰكَ فِيْ سَفَاهَةٍ وَّاِنَّا لَنَظُنُّكَ مِنَ الْكٰذِبِيْنَ۔ یعنی یہ جو تم ہم کو قہر و عذاب سے ڈراتے ہو یہ محض تمہاری خرد باختگی ہے۔ ہماری یہ ترقیاں ہمارے مستحق عذاب ہونے کی علامت ہیں، یا منظور نظر اور صراط مستقیم پر گامزن ہونے کی ! وانا لنظنک من الکاذبین، یعنی یہ جو تم دعوی کر رہے ہو کہ خدا کے فرستادہ ہو اور ہمارے پاس تم کو خدا نے پیغمبر بنا کر بھیجا ہے، یہ محض تمہار دھونس ہے اور ہم تم کو بالکل جھوٹا آدمی سمجھتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 66–68

66۔ 1 یہ کم عقلی ان کے نزدیک یہ تھی کہ بتوں کو چھوڑ کر، جن کی عبادت ان کے آباواجداد سے ہوتی آرہی تھی۔ اللہ واحد کی عبادت کی طرف دعوت دی جا رہی ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 65–68

37: قوم عاد عربوں کی ابتدائی نسل کی ایک قوم تھی جو حضرت عیسیٰ ؑ سے کم از کم دو ہزار سال پہلے یمن کے علاقے حضرموت کے آس پاس آباد تھی، یہ لوگ اپنی جسمانی طاقت اور پتھروں کو تراشنے کے ہنر میں مشہور تھے، رفتہ رفتہ انہوں نے بت بناکر ان کی پوجا شروع کردی اور اپنی طاقت کے گھمنڈ میں مبتلا ہوگئے، حضرت ہود ؑ ان کے پاس پیغمبر بناکر بھیجے گئے اور انہوں نے اپنی قوم کو بڑی دردمندی سے سمجھانے کی کوشش کی اور انہیں توحید کی تعلیم دے کر اللہ تعالیٰ کا شکر گزار بننے کی تعلیم دی مگر کچھ نیک طبع لوگوں کے سوا باقی لوگوں نے ان کا کہنا نہیں مانا، پہلے ان کو قحط میں مبتلا کیا گیا اور حضرت ہود ؑ نے انہیں یاد دلایا کہ…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 66–68

آیت ” قَالَ الْمَلأُ الَّذِیْنَ کَفَرُواْ مِن قَوْمِہِ إِنَّا لَنَرَاکَ فِیْ سَفَاہَۃٍ وِإِنَّا لَنَظُنُّکَ مِنَ الْکَاذِبِیْنَ (66) ” اس کی قوم کے سرداروں نے ‘ جو اس کی بات ماننے سے انکار کر رہے تھے ‘ جواب میں کہا ” ہم تو تمہیں بےعقلی میں مبتلا سمجھتے تھے اور ہمیں گمان ہے کہ تم جھوٹے ہو ۔ “ یہ تھا ان اکابرین کا جواب جو محض ایک مذاق تھا اور تدبر اور دلیل سے خالی تھا ۔ حضرت کا جواب یہ تھا : آیت ” قَالَ یَا قَوْمِ لَیْْسَ بِیْ سَفَاہَۃٌ وَلَکِنِّیْ رَسُولٌ مِّن رَّبِّ الْعَالَمِیْنَ (67) أُبَلِّغُکُمْ رِسَالاتِ رَبِّیْ وَأَنَاْ لَکُمْ نَاصِحٌ أَمِیْنٌ(68) ” اس نے کہا ” اے برادران قوم ‘ میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

5 یعنی معاذ اللہ ! تم بےعقل ہو کہ باپ دادا کی روش چھوڑ کر ساری برادری سے الگ ہوتے ہو اور جھوٹے بھی ہو کہ اپنے اقوال کو خدا کی طرف منسوب کر کے خوامخواہ عذاب کا ڈراوا دیتے ہو۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 66–67

آیت 66 قَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ قَوْمِہٖٓ اِنَّا لَنَرٰٹکَ فِیْ سَفَاہَۃٍ وَّاِنَّا لَنَظُنُّکَ مِنَ الْکٰذِبِیْنَ یعنی تم جھوٹا دعویٰ کر رہے ہو ‘ تم پر کوئی وحی وغیرہ نہیں آتی۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 66–67

71 زیادہ خداؤں کی ضرورت کا نظریہ اور سیدنا ھود پر کم عقلی کا الزام :۔ مشرکین کسی بھی قوم یا کسی بھی مقام سے تعلق رکھتے ہوں وہ عموماً اللہ تعالیٰ اور اس کی فرمانروائی کو بھی دنیا کے کسی بادشاہ اور اس کی حکمرانی کی طرح خیال کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ جیسے بادشاہ اکیلا اپنی مملکت پر فرمانروائی نہیں کرسکتا بلکہ اس نے اپنے بہت سے مددگار و معاون افسر اپنے ماتحت رکھے ہوتے ہیں جنہیں وہ کچھ اختیارات بھی تفویض کرتا ہے اور ان کی مدد ہی سے حکومت کرتا ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے بھی بعض ہستیوں کو بعض چیزوں کے اختیارات تفویض کر رکھے ہیں جن کی مدد سے وہ کائنات کی فرمانروائی کر رہا ہے، گویا وہ اللہ تعالیٰ کو بھی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

90 ۔ داعیان حق کو جواب بھی ہر قوم کے ” روشن خیالوں “ کی طرف سے یکساں ہی ملا ہے۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ عقلاء دین کو سفیہ کہنے کا طریقہ سفہاء قدیم سے آج چلا آرہا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 65–72

آیت نمبر 65 تا 72 ترجمہ : اور ہم نے عاد اولی کی طرف ان کے بھائی ہود (علیہ السلام) کو بھیجا انہوں نے کہا اے میری قوم اللہ کی بندگی کرو (یعنی) اس کی توحید کا اقرار کرو، اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں، سو کیا تم اس سے ڈرتے نہیں ہو کہ ایمان لے آؤ، ان کی قوم کے کافر سرداروں نے کہا ہم تو تم کو حماقت جہالت میں مبتلا دیکھتے ہیں اور ہم تم کو دعوائے رسالت میں جھوٹا سمجھتے ہیں انہوں نے جواب دیا اے میری قوم میں ذرا بھی حماقت میں مبتلا نہیں، میں تو رب العالمین کی طرف سے بھیجا ہوا رسول ہوں میں تم کو اپنے رب کا پیغام پہنچاتا ہوں، (اُبلغکم) میں تخفیف وتشدید دونوں قراءتیں ہیں، اور تمہارا سچا خیر خواہ ہوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

قال الملا الذین کفروا من قومہ انا لنرک فی سفاہۃ وانا لنظنک من الکذبین : قوم ہود کے کافروں میں سے زوردار لوگوں نے جواب دیا کوئی شک نہیں کہ ہم تم کو حماقت میں مبتلا پاتے ہیں اور ہم یقین رکھتے ہیں کہ تم جھوٹوں کے گروہ میں سے ہو۔ قَالَ یٰقَوْمجملہ استینافیہ ہے اس لئے فَقَال نہیں فرمایا تتقون کا مفعول محذوف ہے یعنی کیا تم اللہ کے عذاب سے نہیں ڈرتے۔ حضرت ہود کی قوم حضرت نوح کی قوم سے ملتی جلتی تھی۔ اَلَّذِیْنَ کَفَرُوْا الْملاً کی صفت تقییدی ہے اس شرط کو بڑھانے کی وجہ یہ ہے کہ حضرت ہود ( علیہ السلام) کی قوم کے کچھ سردار ایمان لے آئے تھے۔ جیسے مرثد بن سعد اور حضرت نوح کی قوم کا کوئی سردار ایمان نہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(66) قوم کے سردار کہنے لگے ہود ؑ ہم تمہیں کم عقل اور تمہیں اپنی باتوں میں جھوٹا سمجھتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 66–68

اِنَّا لَنَرٰكَ فِيْ سَفَاهَةٍ : ان کے نزدیک آباء کی تقلید میں شرک کرنا اور دوسری خرافات اختیار کرنا عین عقل مندی اور اس کی مخالفت بےوقوفی تھی۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 65–70

قولہ تعالیٰ : آیت : والی عاد اخاھم ھودا یعنی اور ہم نے عاد کی طرف ان کے بھائی حضرت ہود (علیہ السلام) کو بھیجا۔ حضرت ابن عباس ؓ نے بیان کیا ہے : مراد یہ ہے کہ آپ ان کے باپ کے بیٹے تھے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : آپ قبیلہ میں ان کے بھائی تھے۔ اور یہ قول بھی ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ آۃ پ ان کے باپ حضرت آدم (علیہ السلام) کی اولاد میں سے ایک بشر ( اور انسان) تھے۔ اور مصنف ابی داؤد میں ہے کہ اخاھم ھودا کا معنی ہے ان کے ساتھ ہودعلیہ السلام ( کو ان کی طرف بھیجا) اور عاد سام بن نوح (علیہ السلام) کی اولاد میں سے تھے۔ ابن اسحاق نے نسب اس طرح بیان کیا ہے : عاد ھو ابن عوص بن ارم بن شالغ بن ارفخشد بن سام بن…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 65–71

(1) امام ابن منذر نے کلبی کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” والی عاد اخاھم ھودا “ یعنی وہ ان کے دین کے بھائی نہیں تھے لیکن وہ ان کے نسبی بھائی تھے کیونکہ ھود (علیہ السلام) ان میں سے نہ تھے۔ اس لئے آپ کو ان کا بھائی کہا گیا۔ (2) امام اسحاق بن بشیر اور ابن عساکر نے شرفی بن قطامی (رح) سے روایت کیا کہ ھود کا نام عابر بن شالح بن ارفشخد بن سام بن نوح تھا۔ (3) امام ابن منذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ وہ لوگ گمان کرتے تھے کہ ھود (علیہ السلام) کا تعلق ایک قبیلہ بنی عبد الخضم سے تھا۔ (4) امام اسحاق بن بشر اور ابن عساکر نے عطاء کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ھود پہلے آدمی تھے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

قَالَ [ کہا ] الْمَلَاُ [ سرداروں نے ] الَّذِيْنَ [ جنہوں نے ] كَفَرُوْا [ انکار کیا ] مِنْ قَوْمِهٖٓ [ ان کی قوم میں سے ] اِنَّا [ بیشک ہم ] لَنَرٰكَ [ ضرور دیکھتے ہیں آپ کو ] فِيْ سَفَاهَةٍ [ بےعقلی میں ] وَّاِنَّا [ اور بیشک ہم ] لَنَظُنُّكَ [ ضرور سمجھتے ہیں آپ کو ] مِنَ الْكٰذِبِيْنَ [ جھوٹوں میں سے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 66–74

حضرت صالح (علیہ السلام) کا اپنی قوم کو تبلیغ کرنا اور سر کشی اختیار کر کے قوم کا ہلاک ہونا حضرت صالح (علیہ السلام) جس قوم کی طرف مبعوث ہوئے وہ قوم ثمود تھی۔ عاد اور ثمود دونوں ایک ہی دادا کی اولاد ہیں۔ یہ دونوں دو شخصوں کے نام تھے۔ بنو عاد قوم عاد کے نام سے اور بنو ثمود قوم ثمود کے نام سے معروف و موسوم ہوئے۔ قوم ثمود عرب کے شمال مغرب میں رہتے تھے ان کے مرکزی شہر کا نام حجر تھا۔ جس کو سورة حجر کے چھٹے رکوع میں بیان فرمایا ہے۔ قوم عاد کی بربادی کے بعد یہ لوگ زمین میں بسے اور پھلے پھولے۔ یہ لوگ بھی قوت اور طاقت والے تھے۔ زمین پر بڑے بڑے مکانات بناتے تھے اور پہاڑوں کو تراش کر اپنے لیے گھر بنا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 65–72

قصہ دوم حضرت ہود (علیہ السلام) با قوم عاد قال اللہ تعالیٰ والی عاد اخاھم ھودا۔۔۔ الی۔۔۔ وماکانوا مومن ین۔ (ربط) اب دوسرا قصہ قوم عاد کا بیان کرتے ہیں یہ قوم طوفان نوح کے بعد ملک عرب کے جنوبی حصہ یعنی یمن میں آباد تھی یمن میں ایک مقام احقاف تھا وہاں یہ لوگ رہتے تھے اور اس قوم کے لوگ بڑے قد آور اور تناور تھے اور حضرت نوح (علیہ السلام) کے بعد ہود (علیہ السلام) اس قوم کی طرف پیغمبر بنا کر بھیجے گئے پر ناز تھا اور یہ کہا کرتے تھے کہ دنیا میں ہم سے زیادہ کوئی قوی نہیں وقالوا من اشد منا قوۃ۔ ہود (علیہ السلام) نے ان کو نصیحت کی اور شرک اور ظلم سے منع کیا اور عذاب الٰہی سے ڈرایا مگر کچھ اثر نہ ہوا جسم…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

76:“ سَفَاھَةٍ ” کی تنوین اور اس کا نفی کے تحت واقع ہونا مفید مبالغہ ہے۔ یہاں سے “ اَنَا لَکُمْ نَاصِحٌ اَمِیْنٌ” تک میں حضرت ہود (علیہ السلام) نے قوم کے الزام کی نہایت بلیغ اسلوب سے تردید فرمائی یعنی اے میری قوم میں تو ادنیٰ ترین سفاہت اور کم عقلی سے بھی بالا تر ہوں کیونکہ میں خداوند جہاں کا رسول ہوں اور تمہیں اس کے پیغامات پہنچا رہا ہوں اور پہلے سے تمہارے درمیان خیر خواہ اور امین مشہور ہوں یا مطلب یہ ہے کہ میں تم کو اللہ کی توحیدبتا کر اور شرک سے تم کو روک کر تمہاری خیر خواہی کر رہا ہوں اور اللہ کی وحی اور اس کی تبلیغ پر امین ہوں۔ والمعنی انی عرفت فیکم بالنصح فلا یحق لکم ان تتھمونی و…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 65–69

ربط آیات گزشتہ رکوع سے اللہ تعالیٰ نے تاریخ انبیاء کا بیان شروع کیا ہے جس میں ان کی دعوت الی التوحید اور طریقہ تبلیغ کا ذکر ہے حضرت نوح (علیہ السلام) کی شخصیت ، آپ کی دعوت اور قوم کا جواب بیان ہوچکا ہے کہ کس طرح انہوں نے اپنے نبی کی دعوت کا انکار کیا آپ کی نافرمانی کی اور آپ پر گمراہی کا الزام لگایا اس کی پاداش میں اللہ تعالیٰ نے چند اہل ایمان کے علاوہ پوری قوم کو غرق کردیا اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وہ ساری قوم اندھی تھی یعنی دل کی بصیرت سے محروم تھی نوح (علیہ السلام) نے تبلیغ دین اور خیر خواہی کا پورا پورا حق ادا کیا قوم کو ہر طریقے سے سمجھانے کی کوشش کی مگر انہوں نے کوئی اثر قبول نہ کیا اور…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

قَالَ يٰقَوْمِ لَيْسَ بِيْ سَفَاہَۃٌ وَّلٰكِـنِّيْ رَسُوْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِيْنَ۝ 67 رسل أصل الرِّسْلِ : الانبعاث علی التّؤدة وجمع الرّسول رُسُلٌ. ورُسُلُ اللہ تارة يراد بها الملائكة، وتارة يراد بها الأنبیاء، فمن الملائكة قوله تعالی: إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ [ التکوير/ 19] ، وقوله : إِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ يَصِلُوا إِلَيْكَ [هود/ 81] ومن الأنبیاء قوله : وَما مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ [ آل عمران/ 144] ( ر س ل ) الرسل الرسل ۔ اصل میں اس کے معنی آہستہ اور نرمی کے ساتھ چل پڑنے کے ہیں۔ اور رسول کی جمع رسل آتہ ہے اور قرآن پاک میں رسول اور رسل اللہ سے مراد کبھی فرشتے ہوتے ہیں جیسے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 65–70

ترکیب : ھودا بدل ہے اخاھم سے جو مفعول ہے فعل مخدوف کا ‘ اے ارسلنا ان جاء کم تبادیل مصدر مفعول ہے عجبتمکا من ربکم ذکر کی صفت یا حال علی رجل حال بھی ہوسکتا ہے اے نازلا علی رجل او جاء کم سے علی المعنی متعلق بھی ہوسکتا ہے لا نہ فی المعنی نزل الیکم وفی الکلام حذف مضاف اے علی قلب رجل او علی لسان رجل فی الخلق زاد کم سے متعلق وحدہ مصدر حال ہے اللّٰہ سے اے مفرد ایا فاعل لنعبد سے ای موحدین لہ ونذر معطوف ہے نعبد پر جو منصوب ہے ان مقدرہ سے ماکان الخ نذر کا مفعول۔ تفسیر : قوم عاد کا تذکرہ : یہاں سے دوسرا قصہ قوم عاد کا شروع ہوتا ہے یہ ایک قوم بعد طوفان نوح کے ملک عرب کے جنوبی حصہ میں آباد تھی۔ یہ لوگ عاد…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 66–68

ارشاد ہوتا ہے : قَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ قَوْمِہٖٓ اِنَّا لَنَرٰکَ فِیْْ سَفَاھَۃٍ وَّ اِنَّا لَنَظُنُّکَ مِنَ الْکٰذِبِیْنَ ۔ قَالَ یٰقَوْمِ لَیْسَ بِیْ سَفَاھَۃٌ وَّ لٰکِنِّیْ رَسُوْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَ ۔ اُبَلِّغُکُمْ رِسٰلٰتِ رَبِّیْ وَ اَنَا لَکُمْ نَاصِحٌ اَمِیْنٌ۔ (الاعراف : 66، 68) ” اس کی قوم کے بڑوں نے ‘ جنھوں نے کفر کیا ‘ جواب دیا کہ ہم تو تم کو ایک کھلی ہوئی حماقت میں مبتلا دیکھتے ہیں اور ہم تم کو جھوٹوں میں سے گمان کرتے ہیں۔ اس نے کہا : اے برادرانِ قوم ! مجھ میں کوئی حماقت نہیں ہے۔ بلکہ میں خداوند جہاں کا رسول ہوں ‘ تمہیں اپنے رب کے پیغامات پہنچا رہا ہوں…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 65–72

فہم القرآن حضرت ھود (علیہ السلام) : حضرت ھود (علیہ السلام) کا تعلق عرب کے عاد قبیلے سے تھا جن کی رہائش موجودہ جغرافیے کے مطابق عمان اور یمن کے علاقے حضرموت کے درمیان تھی۔ یہ علاقہ سمندر کے کنارے پر واقع تھا یہاں ریت کے بڑے بڑے ٹیلے اور بلندو بالا پہاڑ تھے۔ اس کے باسی جسمانی اعتبار سے دراز قامت، کڑیل جوان اور قوی ہیکل تھے۔ دنیا میں ان کا کوئی ثانی نہیں تھا۔ انھوں نے پہاڑ تراش، تراش کر خوبصورت محلات تعمیر کر رکھے تھے۔ ان کی سرزمین نہایت سر سبزتھی جس میں ہر قسم کے باغات آراستہ تھے انھیں قرآن مجید میں ” احقاف والے “ کہا گیا ہے۔ احقاف ریت کے بڑے بڑے ٹیلوں کو کہا جاتا ہے جو عرب کے جنوب مغربی حصہ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

سرداروں کا جواب : آیت 66: قَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ قَوْمِہٖ (قوم کے سردار کافروں نے کہا) یہاں الملاء کی صفت الذین کفروا سے کی۔ مگر قوم نوح کے ملاء کے تذکرہ الملأ من قومہ کہہ کر کردیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ھود ( علیہ السلام) کی قوم کے اشراف میں سے کچھ ایمان لائے تھے جن میں مرثد بن سعد تھے۔ اس وصف کو لا کر ان مسلمان سرداروں کو الگ کرنا مقصود تھا۔ جبکہ قوم نوح کے اشراف میں سے کوئی بھی ایمان نہ لایا۔ اِنَّا لَنَرٰکَ فِیْ سَفَاھَۃٍ (ہم تم کو کم عقلی میں دیکھتے ہیں) کہ تجھ میں حلم کی کمی ہے۔ اور عقل کی کمزوری ہے اس لئے کہ تم نے قوم کا دین چھوڑ کر دوسرا دین اپنا لیا ہے۔ یہاں سفاہت کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

(66) (قال الملا الذین کفروا من قومۃ انا لنرک) اے ھود (فی سقاھۃ) حماقت اور جہالت میں۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں معنی یہ ہے کہ تو ایسے دین کی طرف بلا رہا ہے جس کو تو خود نہیں پہچانتا۔ (وانا لنطنک من الکذبین) کہ آپ اللہ کے رسول ہیں ہماری طرف۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 65–72

(65 ۔ 72) ۔ حضرت ہود ( علیہ السلام) حضرت نوح ( علیہ السلام) کے خاندان میں سے ہیں حضرت ہود ( علیہ السلام) کی امت قوم عاد کا ملک حضرموت تک عثمان وغیرہ تھا۔ اور بڑا شاداب ملک تھا قوم عاد کے لوگ بڑے قوی ساٹھ ساٹھ گز کے قدتک کے تھے عذاب کی آندھی آٹھ روز تک جو ان پر چلی پہلے اس آندھی سے کھیتی کرنے والے لوگ اور ان کے جانور پٹخنیاں کھا کھا کر گرے اور ہلاک ہوئے پھر شہروں کے لوگ اسی طرح ہلاک ہوئے قوم عاد نے بہت عمارتیں سنگین بنائیں اور پہاڑوں پر یادگار کے لئے بہت سے مینار بنائے آندھی کے عذاب سے پہلے ان میں قحط کے عذاب پھیلے کئ برس تک سخت قحط رہا چند آدمی ان میں سے مکہ قحط کے رفع کی دعا مانگنے گئے مکہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 59–71

آیت 59 جب اللہ تعالیٰ نے اپنی توحید کے دلائل میں سے ایک اچھا حصہ ذکر فرمایا، تو اب اس کی تائید میں انبیائے کرام کا، جو اس کی توحید کے داعی تھے اور اس رویے کا جو ان کی امتوں کے منکرین توحید کی طرف سے پیش آیا، اسے بیان فرما رہا ہے۔ نیز یہ کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے کیسے اہل توحید کی تائید فرمائی اور انبیاء ومرسلین سے عناد رکھنے والوں اور ان کی اطاعت نہ کرنے والوں کو ہلاک کردیا۔۔۔ اور کیسے انبیاء ومرسلین کی دعوت ایک ہی دین اور ایک ہی عقیدہ پر متفق تھی۔ چناچہ نوح جو اولین رسول ہیں، کے بارے میں فرمایا : (لقد ارسلنا نوحاً الی قومہ) ” ہم نے نوح کو ان کی قوم کی طرف بھیجا۔ “ حضرت نوح کفار کو اکیلے اللہ…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 55–141

دعا کا طریقہ قول باری ہے وادعواربکم تضرعاً عاوخفیۃ۔ اپنے رب کو پکارو گڑگڑاتے ہوئے اور چپکے چپکے) آیت میں چپکے چپکے رب کو پکارنے کا حکم ہے حسن کا قول ہے کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے تمہیں اس بات کی تعلیم دی ہے کہ تم اپنے رب کو کس طرح پکارو۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک عہد صالح کا ذکر فرمایا جس کی پکار کو اس نے پسند فرمایا تھا چناچہ ارشاد ہے اذنادی ربہ نداء خفیا۔ جبکہ اس نے اپنے رب کو چپکے چپکے پکارا) یعنی حضرت زکریاعلیہ السلام عبداللہ بن المبارک نے حسن بصری سے روایت کی ہے کہ لوگ یعنی صحابہ کرام بڑی عاجزی اور نیاز مندی کے ساتھ دعائیں مانگا کرتے تھے اور صرف سرگوشی کی آواز سنائی دیتی تھی۔ حضرت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 65–67

89 پیغمبر کے اپنی قوم کے بھائی ہونے کی تصریح : یعنی انکے قومی بھائی کہ آپ (علیہ السلام) تھے تو اسی قوم میں سے۔ پس معلوم ہوا کہ اس طرح کے اعتبارات سے پیغمبر کو بھائی کہنا نہ صرف یہ کہ جائز ہے بلکہ قرآن و سنت کی نصوص صریحہ سے ثابت ہے۔ سو ایسا کہنا اور ماننا نہ برا ہے نہ ممنوع۔ اور قرآن و سنت کی دوسری بہت سی نصوص بھی اس کی شاہد و موید ہیں، جیسا کہ ہمارے حضور۔ (علیہ الصلوۃ والسلام) ۔ نے اپنے لئے خود یہ لفظ استعمال فرمایا ہے۔ اور کئی مواقع پر فرمایا ہے۔ جیسا کہ مختلف احادیث میں موجود ہے۔ پس ایسی ہی ایک حدیث کے ترجمہ و تشریح کرنے پر اہل بدعت نے حضرت شاہ اسماعیل شہید ۔ (رح) ۔ پر جو بہتان طرازی کی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 65–72

سیدنا ہود (علیہ السلام) اور قوم کی تباہی تشریح : ان آیات میں سیدنا ہود (علیہ السلام) اور قوم ہود کا مختصرقصہ بیان کیا ہے۔ ہود (علیہ السلام) ایک نبی کا نام ہے یہ نوح (علیہ السلام) کی پا نچویں نسل اور سام کی اولاد میں ہیں۔ سیدنا ہود (علیہ السلام) عاد کی طرف رسول بنا کر بھیجے گئے، عاد ایک بڑی زبردست طاقتور قوم کا نام ہے۔ یہ سیدنا نوح (علیہ السلام) کے پوتے ارم کی اولاد تھے اور یمن میں احقاف کے علاقے میں رہتے تھے۔ عاد کے تیرہ خاندان تھے۔ عمان سے لیکر حضرموت تک کی بستیاں آباد تھیں۔ ان کی زمینیں بڑی زرحیز اور باغات تھے۔ بڑے بڑے شاندار محلات بناتے اور ان میں خوشگوار زندگیاں گزارتے تھے، مضبوط، صحت…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 65–72

رکوع نمبر 9 ۔ آیات 65 ۔ تا۔ 72 اسرار و معارف : توحید : اسی طرح زمین پر آباد ہونے والے لوگ پھلے پھولے اور پھر سے آبادی بڑھی تو نوح (علیہ السلام) کی پانچویں پشت میں عاد جو ان کے بیٹے سام کی اولاد میں سے تھا معروف آدمی گذرا حتی کہ اس کی پوری قوم عاد کہلائی اسی کے دوسرے بھائی کی اولاد ثمود یا عاد ثانی کہلائی مورخین کی مطابق عاد کے دادا کا نام ارم تھا لہذا انہیں عاد ارم بھی کہا گیا ہے جب یہ لوگ خوب آباد ہوگئے اور زمین سونا اگلنے لگی ہر طرح کی فصلیں اور پھل کثرت سے پیدا ہونے لگے پھر یہ تنومند اور بہت قد آور اقوام تھیں غرض ہر طرح کی شان و شوکت نصیب ہوئی تو اللہ کریم سے غافل ہوگئے اور اپنی طاقت اور…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 66–69

ف 4 یعنی تم کو قوی اور زیردست بنایا۔ اور قوم نوح ( علیہ السلام) کے بعد ایک زبر دست قوم کی حیثیت سے تمہیں زمین پر آباد کیا یہاں خلفا سے یہی معنی مراد ہیں یہ مطلب نہیں ہے کہ قوم نو ھ کے وطن عراق میں انکا جانیشن مقرر کیا ( قر طبی) بعح علمائے تفسیر نے قوم عاد کی جسمانی قوت اور انکے قدر قامت کی لمبائی کے بارے میں عجیب و غریب روایات نقل کی ہیں، مثلا یہ کہ عاد کی قوم کا ایک لمبا آدمی سو ہاتھ کا اور اسب سے چھوٹے قد کا ساٹھ ہاتھ کا ہوتا تھا۔ اور بعض روایا میں ہے کہ اس کا ایک آدمی اتنے پتھر کو اکیلا اٹھا لیتا تھا جسے ہمارے زمانہ کے پانچ سو آدمی بھی نہیں اٹھا سکتے وغیرہ وغیرہ۔ لیکن یہ تمام روایات تاریخی…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 66–68

(7:66) سفاھۃ۔ سفہ یسفہ (سمع) کا مصدر۔ بےعقلی۔ بےوقوفی۔ جہالت۔ امین۔ امانت دار۔ معتبر۔ امن والا۔ امانۃ اور امن سے۔ اسم فاعل کا صیغہ بھی ہوسکتا ہے اور اسم فعول کا بھی کیونکہ فعیل کا وزن دونوں میں مشترک ہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 65–70

لغات القرآن آیت نمبر (65 تا 70 ) ۔ سفاھتہ (بےوقوفی۔ بےعقلی) ۔ نظن (ہم گمان کرتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں) ۔ امین (ایماندار) ۔ بصطتہ (پھیلاؤ) ۔ الاء (الی) ۔ نعمتیں) ۔ اجئتنا (کیا تو ہمارے پاس آیا ہے) ۔ لنعبد اللہ (تاکہ ہم اللہ کی عبادت و بندگی کریں) ۔ وحدہ (اس اکیلے کی۔ تنہا کی) ۔ ابائونا (ہمارے باپ دادا) ۔ فاتنا (پس تو لے آ) ۔ تعدنا (تو ہم سے وعدہ کرتا ہے) ۔ تشریح : آیت نمبر 65 تا 70 ) ۔ ” قوم عاد دنیا کی قدیم ترین قوموں میں سے ایک قوم ہے اللہ نے ان کو ہر طرح کی نعمتوں سے نوازا تھا مگر وہ قوم ان نعمتوں کو پا کر ایسی مد ہوش ہوگئی کہ پھر ان کو ہر نصیحت کرنے والا برا لگنے لگا تھا۔ اس قوم کی حکومت و…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 66–73

حضرت صالح (علیہ السلام) اور عذابچنگھاڑ کا ذکر حضرت صالح (علیہ السلام) بھی حضرت نوح (علیہ السلام) کے خاندان سے ہیں۔ قوم عاد کی ہلاکت کے بعد اس سرزمین میں قوم صالح کے لوگ جن کو ثمود کہتے ہیں بسے۔ بڑی بڑی عمر کے لوگ اس قوم میں ہوئے۔ اینٹ مٹی کے مکان ان کی عمر بھر میں کافی نہ ہوئے تو انہوں نے پہاڑوں کو تراش کر گھر بنائے۔ نوعمری سے حضرت صالح (علیہ السلام) نبی ہوئے۔ نصیحت کرتے کرتے بڈھے (بوڑھے) ہوگئے مگر ان میں سے چند ایک ہی ایمان لائے۔ سال بھر میں ایک روز ان کی عید کا ہوتا تھا۔ اس روز انہوں نے حضرت صالح (علیہ السلام) سے کہا کہ تم ہمارے لئے ایک معجزہ کی اپنے اللہ سے دعا کرو اور ہم بتوں سے اسی معجزہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 66–71

[32] یعنی تم کسی کو بارش کا، کسی کو ہوا کا، کسی کو دولت کا اور کسی کو بیماری کا رب کہتے ہو حالانکہ ان میں سے کوئی بھی کسی چیز کا رب نہیں ہے، یہ سب محض نام ہیں جو تم نے گھڑ لئے ہیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 65–69

حضرت ہود (علیہ السلام) : (ف 1) نوح (علیہ السلام) کے بعد حضرت ہود (علیہ السلام) نے قوم کی قیادت فرمائی ان کی قوم نہایت قوی ہیکل اور مضبوط تھی ، حضر موت سے لے کر عمان تک یہ لوگ پھیلے ہوئے تھے ، آپ نے بھی یہی کہا ، اے قوم ایک اللہ کی چوکھٹ پر جھکو ، اس خدا کے سوا اور کون ہے جو تمہاری مشکل کشائی کرے ۔ قوم کے اکابر سے ان کو بھی یہی جواب ملا کہ بیوقوف ہو ، اور جھوٹے ہو ، اور لطف یہ ہے ، کہ مخالفت ہمیشہ اکابر نے کی ، اس لئے کہ وہ خوب سمجھتے تھے ، کہ اگر یہ کامیاب ہوگیا ، تو ہمارا کبروغرور خاک میں مل جائے گا ۔ حل لغات : عمین : اندھے ، یعنی دلوں میں بصیرت کا مادہ سلب ہوگیا ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

66 اس کی قوم میں سے جو لوگ منکر تھے ان منکرین کے رئوسا اور بڑے لوگوں نے جواب دیا۔ اے ہود (علیہ السلام) ہم تو تجھ کو بیوقوف اور کم عقل سمجھتے ہیں اور تجھ کو بےوقوفی میں مبتلا دیکھتے ہیں اور ہم تجھ کو جھوٹ بولنے والوں میں سے سمجھتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 66–68

ف 1۔ یعنی نعوذ باللہ نہ توحید صحیح مسئلہ ہے اور نہ عذاب کا آنا صحیح ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

قوم عاد نے اپنے رسول حضرت ہود (علیہ السلام) کو یہ جواب سنایا : 76: قوم عاد میں چند ہی لوگ تھے جو ہود (علیہ السلام) پر ایمان لائے باقی سب کے سب لوگوں نے سرکشی کی اور ان پر حضرت ہود (علیہ السلام) کی نصائح سخت شاق گزرتی تھیں اور وہ یہ نہیں برداشت کرسکتے تھے کہ ان کے عقائد و اعمال غرض ان کے کسی ارادہ میں بھی کوئی شخص حائل ہو اور ان کے لئے ناصح ومشفق بنے۔ اس لئے اب انہوں نے یہ روش اختیار کی کہ حضرت ہود (علیہ السلام) کا مذاق اڑایا اور ان کو برملا بیوقوف کہا اور ان کی معصومانہ حقایتوں اور صداقتوں کی تمام یقینی دلائل وبراہین کو جھٹلانا شرو ع کردیا اور حضرت ہود (علیہ السلام) سے کہنے لگے کہ ” ہمیں ایسا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

(2)-In the second verse (66), it was said: قَالَ الْمَلَأُ الَّذِينَ كَفَرُ‌وا مِن قَوْمِهِ إِنَّا لَنَرَ‌اكَ فِي سَفَاهَةٍ وَإِنَّا لَنَظُنُّكَ مِنَ الْكَاذِبِينَ ﴿66﴾ (Said the chiefs of his people who disbelieved, "Indeed, We see you in foolishness, and we certainly believe you to be one of the liars." This stance taken in opposition here resembles the one taken by the people of Sayyidna Nuh (علیہ السلام) . The only difference is that of some words.

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 66–69

52. The word ala' used in the above verse stands for bounties, wondrous works of nature, and praiseworthy qualities. The purpose of the verse is to impress upon man to gratefully, recognize the favours God has lavished upon him, bearing in mind that God also has the Power to take them away.

Read the full tafseer →