Explained with ayahs 55–56
انسان دعا مانگے قبول ہوگی
اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو دعا کی ہدایت کرتا ہے جس میں ان کی دنیا اور آخرت کی بھلائی ہے۔ فرماتا ہے کہ اپنے پروردگار کو عاجزی، مسکینی اور آہستگی سے پکارو جیسے فرمان ہے آیت (واذکر ربک فی نفسک) الخ، اپنے رب کو اپنے نفس میں یاد کر۔ بخاری و مسلم میں حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ سے روایت ہے کہ لوگوں نے دعا میں اپنی آوازیں بہت بلند کردیں تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا لوگو اپنی جانوں پر رحم کرو تم کسی بہرے کو یا غائب کو نہیں پکار رہے جسے تم پکار رہے ہو وہ بہت سننے والا اور بہت نزدیک ہے۔ ابن عباس سے مروی ہے کہ پوشیدگی مراد ہے، امام ابن جریر فرماتے ہیں (تضرعا) کے معنی ذلت مسکینی اور اطاعت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–56
سورة الْاَعْرَاف 44
زمین میں فساد برپا نہ کرو، یعنی زمین کے انتظام کو خراب نہ کرو۔ انسان کا خدا کی بنگی سے نکل کر اپنے نفس کی یا دوسروں کی بندگی اختیار کرنا اور خدا کی ہدایت کو چھوڑ کر اپنے اخلاق، معاشرت اور تمدن کو ایسے اصول و قوانین پر قائم کرنا جو خدا کے سوا کسی اور کی رہنمائی سے ماخوذ ہوں، یہی وہ بنیادی فساد ہے جس سے زمین کے انتظام میں خرابی کے بیشمار صورتیں رونما ہوتی ہیں اور اسی فساد کو روکنا قرآن کا مقصود ہے۔ پھر اس کے قرآن اس حقیقت پر بھی متنبہ کرتا ہے کہ زمین کے انتظام میں اصل چیز فساد نہیں ہے جس پر صلاح عارض ہوئی ہو بلکہ اصل چیز صلاح ہے جس پر فساد محض انسان کی جہالت اور سرکشی سے…
Read the full tafseer →دوسری آیت میں ارشاد فرمایا(آیت) وَلَا تُفْسِدُوْا فِي الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلَاحِهَا اس میں دو لفظ متضاد اور متقابل آئے ہیں صلاح اور فساد، صلاح کے معنی درستی اور فساد کے معنی خرابی کے آتے ہیں، امام راغب رحمة اللہ علیہ نے مفردات القرآن میں فرمایا کہ فساد کہتے ہیں کسی چیز کے اعتدال سے نکل جانے کو خواہ یہ نکلنا تھوڑا سا ہو یا زیادہ، اور ہر فساد میں کمی بیشی کا مدار اسی اعتدال سے خروج پر ہے، جس قدر خروج بڑھے گا فساد بڑھے گا فساد کے معنی خرابی پیدا کرنا اور اصلاح کے معنی درستی کرنا ہے اس لئے وَلَا تُفْسِدُوْا فِي الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلَاحِهَا کے معنی یہ ہوئے کہ ”زمین میں خرابی نہ پیدا کرو بعد اس کے…
Read the full tafseer →وَلَا تُفْسِدُوْا فِي الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلَاحِهَا وَادْعُوْهُ خَوْفًا وَّطَمَعًا ۭاِنَّ رَحْمَتَ اللّٰهِ قَرِيْبٌ مِّنَ الْمُحْسِنِيْنَ۔ یہ اوپر والے مضمون ہی کی تاکید و توثیق منفی پہلو سے ہے۔ یعنی اپنے رب اسے انحراف اختیار کر کے اس زمین میں فساد برپا نہ کرو۔ قرآن میں مختلف پہلوؤں سے یہ حقیقت واضح کی گئی ہے کہ اگر آسمان و زمین میں اللہ کے سوا کچھ اور الٰہ ہوتے تو یہ درہم برہم ہو کر رہ جاتے، یہ تو قائم ہی اس بنا پر ہیں کہ ان کے اندر اللہ کے ارادے کے سوا کسی اور ارادے کی کار فرمائی نہیں ہے۔ اس تکوینی توحید کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ بندے اپنے دائرہ اختیار میں بھی صرف اسی اللہ وحدہ لا شریک لہ کی…
Read the full tafseer →56۔ 1 ان آیات میں چار چیزوں کی تلقین کی گئی ہے 1۔ اللہ تعالیٰ سے آہ زاری اور خفیہ طریقے سے دعا کی جائے، جس طرح کہ حدیث میں آتا ہے ' لوگو ! اپنے نفس کے ساتھ نرمی کرو (یعنی آواز پست رکھو) تم جس کو پکار رہے ہو، وہ بہرا نہ غائب، وہ تمہاری دعائیں سننے والا اور قریب ہے (صحیح بخاری) 2۔ دعا میں زیادتی نہ کی جائے یعنی اپنی حیثیت اور مرتبے سے بڑھ کر دعا نہ کی جائے۔ 3۔ اصلاح کے بعد فساد نہ پھیلایا جائے یعنی اللہ کی نافرمانیاں کر کے فساد پھیلانے میں حصہ نہ لیا جائے۔ 4۔ اس کے عذاب کا ڈر بھی دل میں ہو اور اس کی رحمت کی امید بھی ہو۔ اس طریقے سے دعا کرنے والے محسنین ہیں۔ یقینا اللہ کی رحمت ان کے قریب ہے۔
Read the full tafseer →32: زمین پر اللہ تعالیٰ نے جب انسان کو بھیجا تو شروع میں نافرمانی کا کوئی تصور نہیں تھا اور اس طرح زمین کی اصلاح ہوچکی تھی، جن جن لوگوں نے بعد میں نافرمانی کے بیج بوئے انہوں نے زمین کی اصلاح کے بعد اس میں فساد مچایا۔
33: یہاں دعاء کا صیغہ اکثر مفسرین کے نزدیک عیادت کے لیے آیا ہے اسی لیے ہم نے اس کا ترجمہ عبادت سے کیا ہے۔ اور سچی عبادت کی شان اس آیت میں یہ بتائی گئی ہے کہ عبادت کرنے والے کے دل میں اپنی عبادت پر ناز ہونے کے بجائے یہ خوف ہونا چاہیے کہ نہ جانے میں عبادت کرنے والے کے دل میں اپنی عبادت پر ناز ہونے کے بجائے یہ خوف ہونا چاہیے کہ نہ جانے میں عبادت کا حق ادا کرسکا یا نہیں، اور یہ اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–56
آیت ” نمبر 55 تا 56۔
یہ ہدایات ایسے وقت میں دی جارہی ہیں جبکہ مطالعہ کرنے والا نفسیانی طور پر ان کو قبول کرنے کے لئے پوری طرح آمادہ ہوجاتا ہے ۔ وہ دعاء اور رجوع الی اللہ کی حالت میں ہوتا ہے اور اس عظیم کارخانہ قدرت کے مطالعہ کے بعد اللہ کے سامنے عاجزی اور فروتنی کی حالت میں ہوتا ہے ۔ خفیہ سے مراد یہ ہے کہ چیخ و پکار نہ کرو ‘ دھیمی آواز سے پکارو کیونکہ اللہ کی جلالت شان کے لائق یہ ہے کہ انسان اسے نہایت ہی نرم اور دھیمی آواز میں پکارے اور اس انداز میں جس سے معلوم ہو کہ اللہ قریب ہے اور سن رہا ہے ۔
مسلم کی روایت ہے۔ حضرت ابو موسیٰ ؓ روایت کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھے ۔ ایک…
Read the full tafseer →1 پچھلی آیتوں میں ہر حاجت کے لئے خدا کو پکارنے کا طریقہ بتلایا گیا تھا۔ اس آیت میں مخلوق اور خالق دونوں کے حقوق کی رعایت سکھلائی۔ یعنی جب دنیا میں معاملات کی سطح درست ہو تو تم اس میں گڑ بڑ نہ ڈالو، اور خوف ورجاء کے ساتھ خدا کی عبادت میں مشغول رہو۔ نہ اس کی رحمت سے مایوس ہو اور نہ اسکے عذاب سے مامون اور بےفکر ہو کر گناہوں پر دلیر بنو۔ میرے نزدیک یہ ہی راجح ہے کہ یہاں وادعوہ الخ میں دعاء سے عبادت مراد لی جائے جیسا کہ صلوٰۃ تہجد کے بارے میں فرمایا (تَـتَجَافٰى جُنُوْبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ يَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَّطَمَعًا) 32 ۔ السجدہ :16)
Read the full tafseer →آیت 56 وَلاَ تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلاَحِہَا وَادْعُوْہُ خَوْفًا وَّطَمَعًا ط
اللہ کو پکارنے ‘ اس سے دعا کرنے کے دو پہلو dimensions پہلے بتائے گئے کہ اللہ کو جب پکارو تو گڑگڑاتے ہوئے اور چپکے چپکے دل میں پکارو۔ اب اس ضمن میں مزید فرمایا گیا کہ اللہ کے ساتھ تمہارا معاملہ ہمیشہ بین الخوف والرجاء رہنا چاہیے۔ ایک طرف خوف کا احساس بھی ہو کہ اللہ پکڑ نہ لے ‘ کہیں سزا نہ دے دے ‘ اور دوسری طرف اس کی مغفرت اور رحمت کی قوی امید بھی دل میں ہو۔ لہٰذا فرمایا کہ اللہ سے دعا کرتے ہوئے تمہاری دلی اور روحانی کیفیت ان دونوں کے بین بین ہونی چاہیے۔
Read the full tafseer →59 فساد فی الارض کیا ہے ؟:۔ فساد فی الارض یہ ہے کہ انسان اللہ کی بندگی چھوڑ کر اپنے نفس کی یا دوسروں کی اطاعت شروع کر دے اور اللہ کی بتلائی ہوئی راہ ہدایت کو چھوڑ کر اپنے اخلاق، معاشرت، معیشت، سیاست اور تمدن کی عمارت کو ایسے اصول و قوانین پر قائم کرے جو کسی اور کی رہنمائی سے ماخوذ ہوں یہی وہ بنیادی فساد ہے جس سے زمین کے انتظام میں خرابی کی بیشمار صورتیں پیدا ہوجاتی ہیں اور ایسے پیچیدہ مسائل اٹھ کھڑے ہوتے ہیں جن کے حل کی کوئی صورت نظر نہیں آتی اور اگر کوئی حل سوچا بھی جائے تو مسائل سلجھنے کی بجائے مزید پیچیدہ ہوتے چلے جاتے ہیں۔ ضمناً اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ابتداء زمین میں اصلاح ہی…
Read the full tafseer →78 ۔ (سو تمہیں اجر ہی ملنا یقینی نہیں ہے اس کا جلد ملنا بھی یقینی ہے) (آیت) ” ولا تفسدوا فی الارض بعد اصلاحھا “۔ کائنات کی اصلاح ودرستی قانون اسلام کے قبول کرنے اور اس پر عمل کرنے ہی سے ہوتی ہے اور اس مکمل دستور العمل سے انکار ہی پہلے فساد عقاید اور پھر فساد اعمال، فساد، اخلاق، جرائم ومعاصی، قتل و خونریزی ہر قسم کے فسادات کا باعث ہوتا ہے۔ (آیت) ” وادعوہ خوفا وطمعا “۔ خوف تو اس لحاظ سے کہ شرائط قبول دعا میں سے کوئی چیز چھوٹ نہ گئی ہو، اور آرزو اس کی کہ کوئی شرط چھوٹنے نہ پائی ہو۔ ای مع الخوف من قوع التقصیر فی بعض الشرائط المعتبرۃ فی قبول ذلک الدعاء ومع الطمع فی حصول تلک الشرائط باسرھا (کبیر)…
Read the full tafseer →ولا تفسدوا فی الارض (الآیۃ) ممانعت کا مطلب ہے فساد فی الارض سے ممانعت۔ انسان کا خدا کی بندگی سے نکل کر اپنے نفس کی یا دوسروں کی بندگی اختیار کرنا اور خدا کی ہدایت کو چھوڑ کر اپنی معاشرت تمدن و اخلاق کو ایسے اصول و قوانین پر قائم کرنا جو خدا کے سوا کسی اور کی رہنمائی سے ماخوذ ہوں، یہی وہ بنیادی فساد ہے جس سے زمین کے نظام میں خرابی کی بیشمار صورتیں رونما ہوتی ہیں اور اسی فساد کو روکنا قرآن کا مقصد ہے قانون اسلام کو قبول کرنے اور اس پر عمل کرنے ہی سے عالم کی اصلاح ہوتی ہے اور مکمل دستور العمل سے انکار و انحراف ہی سے پہلے فساد عقائد اور فساد اعمال و اخلاق پیدا ہوتے ہیں جو جرائم، معاصی، قتل و گا…
Read the full tafseer →ولا تفسدوا فی الارض بعد اصلاحہا اور دنیا میں درستی کردینے کے بعد فساد (بگاڑ) نہ پیدا کرو۔ یعنی جب اللہ نے پیغمبروں کو بھیج دیا ‘ شریعت واضح کردی اللہ کی اطاعت کی دعوت دے دی اور احاد میں حدود سے تجاوز کرنے کی ممانعت کردی اور اس طرح زمین کی اصلاح کردی تو اس کے بعد کفر معصیت بغاوت اور غیر اللہ کی اطاعت کی دعوت دے کر اس میں بگاڑ نہ پید اکرو۔ بغوی نے حسن ضحاک ‘ سدی اور کلبی کے قول کے یہی معنی بیان کئے ہیں۔ عطیہ نے آیت کے مطلب کی توضیح اس طرح کی کہ اللہ کی نافرمانی نہ کرو ورنہ اللہ بارش روک لے گا اور تمہارے گناہوں کے سبب کھیتی کو تباہ کر دے گا (اور اس طرح زمین میں بگاڑ پیدا ہوجائے گا) اس توضیح پر…
Read the full tafseer →(56) اللہ کی نافرمانداری اور دین الہی کی دعوت کے بعد گناہ اور غیر اللہ کی عبادت مت کرو اور اللہ تعالیٰ سے اور اس کے عذاب سے ڈرتے رہو اور جنت کے امیدوار ہو، اس کی عبادت کرو، اللہ تعالیٰ جنت میں ایسے مومنوں سے جو قول وعمل کے اعتبار سے محسن ہوں قریب ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–56
اُدْعُوْا رَبَّكُمْ تَضَرُّعًا وَّخُفْيَةً : ان دو آیات میں چار حکم ہیں، پہلا یہ کہ دعا عاجزی سے گڑ گڑا کر اور خشوع سے ہونی چاہیے اور دعا تنہائی میں کرنا مستحب اور بہتر ہے، کیونکہ اس سے ریا کو راستہ نہیں ملتا اور اخلاص میں خلل نہیں آتا۔
اِنَّهٗ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِيْنَ : دوسرا یہ کہ حد سے بڑھنا اللہ تعالیٰ کو کسی صورت پسند نہیں۔ اس میں اللہ کے ساتھ شرک کرنا یا کسی پر ظلم کرنا بھی شامل ہے اور ایسی چیز کی دعا کرنا جو ناممکن ہو، مثلاً میں ہمیشہ زندہ رہوں، یا مجھے آخرت میں انبیاء کا مرتبہ حاصل ہوجائے، یا ایسی چیز کی دعا کرنا جس کے متعلق علم نہ ہو کہ اللہ تعالیٰ کو اس کا مانگنا پسند ہے، جیسے…
Read the full tafseer →قولہ تعالیٰ : آیت : ولا تفسدوا فی الارض بعد اصلاحھا اس میں ایک مسئلہ ہے :
وہ یہ کہ اللہ سبحانہ وتعالی نے اصلاح کے بعد چاہے وہ تھوڑی ہو یا زیادہ ہر فساد سے منع فرمایا ہے چاہے وہ قلیل ہو یا کثیر۔ صحیح اقوال کے مطابق یہ حکم عام ہے۔ اور حضرت ضحاک (رح) نے کہا ہے : اس کا معنی ہے تم چشمے دار پانی بند نہ کرو اور نقصان پہنچانے کے لیے پھل دار درخت نہ کاٹو۔ اور یہ بھی وارد ہے : زمین میں فساد سے دنانیر ختم ہوگئے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ زمین میں فساد سے حکام کی تجارت منقطع ہوگئی۔ اور علامہ قشیری نے کہا ہے : اس سے مراد ہے اور تم شرک نہ کرو، پس یہ شرک، خون بہانے اور زمین میں ہرج اور فساد برپا کرنے سے نہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–56
(1) امام ابو الشیخ نے سمیط (رح) سے روایت کیا کہ ہم کو ہمارے رب تبارک و تعالیٰ نے اس آیت میں اپنی ذات کے بارے میں بتایا یعنی لفظ آیت ” ان ربکم اللہ الذی خلق السموت والارض “ الآیہ۔
(2) امام ابن ابی الدنیا نے کتاب الدعاء میں اور خطیب نے تاریخ میں حسن بن علی (رح) سے روایت کیا کہ میں ضامن ہوں اس شخص کے لئے جو یہ بیس آیتیں پڑھے کہ اللہ تعالیٰ اس کو بچائیں گے ہر ظالم بادشاہ سے ہر سرکش شیطان سے ہر تکلیف دینے والے درندے سے اور ہر عادی چور سے آیۃ الکرسی تین آیات ( سورة ) اعراف میں سے۔ یعنی لفظ آیت ” ان ربکم اللہ الذی خلق السموت والارض “ اور دس آیات (سورۃ) الصافات کے اول سے اور تین آیات ( سورة ) الرحمن…
Read the full tafseer →وَلَا تُفْسِدُوْا [ اور تم لوگ نظم مت بگاڑو ] فِي الْاَرْضِ [ زمین میں ] بَعْدَ اِصْلَاحِهَا [ اس کی اصلاح کیے جانے کے بعد ] وَادْعُوْهُ [ اور پکارو اس کو ] خَوْفًا [ ڈرتے ہوئے ] وَّطَمَعًا ۭ [ اور آرزو کرتے ہوئے ] اِنَّ [ بیشک ] رَحْمَتَ اللّٰهِ [ اللہ کی رحمت ] قَرِيْبٌ [ قریب ہے ] مِّنَ الْمُحْسِنِيْنَ [ بھلائی کرنے والوں سے ]
(آیت ۔ 56) بعد اصلاحا میں اصلاح ، مصدر ہے ، جو معروف اور مجہول دونوں معنی دیتا ہے ۔ ترجمہ میں ہم مجہولی معنی کو ترجیح دیں گے ۔ (دیکھیں آیت نمبر ۔ 3:154 نوٹ ، 1) رحمت اللہ کی خبر قریبۃ کے بجائے قریب آئی ہے کیونکہ فعیل کا وزن اگر بمعنی مفعول ہو تو پھر مذکر اور مؤنث…
Read the full tafseer →پھر فرمایا (وَ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلَاحِھَا) (اور زمین کی اصلاح کے بعد زمین میں فساد نہ کرو) اس سے زمین کی ظاہری اصلاح اور باطنی اصلاح دونوں مراد ہوسکتی ہے۔ کھیتی اگا دی اور اس میں طرح طرح کے فوائد رکھ دیئے۔ اس کو خراب نہ کرو۔ اللہ کی پیدا فرمودہ چیزوں کو نہ اجاڑ دو ۔ اور ان سے انتفاع کی جو جائز صورتیں ہیں ان میں رخنہ پیدا نہ کرو۔ اور اللہ تعالیٰ کی مخلوق کو ان سے منتفع ہونے دو ۔ اور باطنی اصلاح اگر مراد لی جائے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں کو بھیجا کتابیں نازل فرمائیں دلائل سے حق کو واضح فرمایا اعمال صالحہ کا حکم دیا۔ اور برے کاموں سے منع فرمایا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–58
ذکر تخلیق عالم برائے اثبات ربوبیت والوہیت برائے اثبات قیامت
قال اللہ تعالیٰ ان ربکم اللہ الذی خلق السموات والارض۔۔۔ الی۔۔۔ کذلک نصرف الایت لقوم یشکرون
(ربط) گزشتہ آیات میں معاد اور جزاء وسزا کا بیان تھا جسکا مشرکین انکار کرتے تھے اب ان آیات میں تخلیق عالم کا ذکر فرماتے ہیں جو حق جل شانہ کی ربوبیت اور الوہیت اور کمال قدرت کے دلائل پر مشتمل ہے جس کو سماوات اور ارضین کی تخلیق سے شروع فرمایا اور بارش اور ارض میتتہ کی حیات یعنی مردہ زمین کی زندگی پر کلام کو ختم فرمایا کہ بارش سے کس طرح زمین زندہ ہوجاتی ہے جس سے مردوں کے دوبارہ زندہ ہونے پر استدلال فرمایا اور یہ فرمایا۔ کذلک نخرج الموتی لعلکم…
Read the full tafseer →66 اللہ کے عذاب کا ڈر اور اس کی رحمت کی امید دل میں رکھو صرف اسی ہی کو پکارو اور اس کی پکار میں کسی کو شریک نہ کرو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–56
ربط آیات
اصحاب اعراف کے ذکر کے بعد اچھے اور برے لوگوں کا انجام بیان ہوا پھر قدرت تامہ کے دلائل ذکر کیے گئے اللہ تعالیٰ نے ابتدائے تخلیق کائنات ، دن رات کے تغیر و تبدل اور سماوی کر ات کا ذکر کیا جو اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل میں مقررہ رفتار سے اپنی اپنی منزل کی طرف رواں دواں ہیں تمام سیارے اور ستارے اللہ تعالیٰ کے حکم سے مسخر ہیں اور اس کی قدرت تامہ کے دلائل ہیں پیدا کرنا بھی اسی کا کام ہے اور حکم دنیا بھی اسی کی شان ہے خدا تعالیٰ کی ذات بڑی بابرکت ہے اور وہ تمام جہانوں کا پروردگار ہے۔
اب آج کے درس کی پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے اس کو پکارنے کا طریقہ بیان فرمایا ہے اور دوسری آیت میں نیکی…
Read the full tafseer →وَہُوَالَّذِيْ يُرْسِلُ الرِّيٰحَ بُشْرًۢا بَيْنَ يَدَيْ رَحْمَتِہٖ 0 ۭ حَتّٰٓي اِذَآ اَقَلَّتْ سَحَابًا ثِقَالًا سُقْنٰہُ لِبَلَدٍ مَّيِّتٍ فَاَنْزَلْنَا بِہِ الْمَاۗءَ فَاَخْرَجْنَا بِہٖ مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ 0 ۭ كَذٰلِكَ نُخْرِجُ الْمَوْتٰى لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ 57
رسل ( ارسال)
والْإِرْسَالُ يقال في الإنسان، وفي الأشياء المحبوبة، والمکروهة،
( ر س ل ) الرسل
الارسال ( افعال ) کے معنی بھیجنے کے ہیں اور اس کا اطلاق انسان پر بھی ہوتا ہے اور دوسری محبوب یا مکروہ چیزوں کے لئے بھی آتا ہے ۔
الرِّيحُ معروف،
وهي فيما قيل الهواء المتحرّك . وعامّة المواضع الّتي ذکر اللہ تعالیٰ فيها إرسال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–56
1 ؎ عطا نے کہا ہے آمین دعا ہے اور دعا کا آہستہ اور خفیہ کرنا بہتر ہے اس لئے آمین کا نماز میں خفیہ کہنا ہی بہتر ہے جیسا کہ امام ابوحنیفہ (رح) فرماتے ہیں۔ 12 منہ
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–56
اُدْعُوْا رَبَّکُمْ تَضَرُّعًا وَّ خُفْیَۃً ط اِنَّہٗ لَا یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَ ۔ (الاعراف : 55)
” پکارو اپنے رب کو گڑگڑا کر اور چپکے چپکے۔ اس کو پسند نہیں آتے حد سے آگے بڑھنے والے “۔
دعا کا مفہوم
آیت میں دعا اور اس کے آداب کا ذکر ہے۔ لفظ دعا عربی زبان میں کسی کو حاجت روائی کے لیے پکارنا کے معنی میں بھی آتا ہے اور مطلق یاد کرنے کے معنی میں بھی اور یہاں دونوں معنی مراد ہوسکتے ہیں۔ مگر میں اس وقت صرف معنی کی حد تک گفتگو کو محدود رکھنا چاہتا ہوں۔ دعا کے مکمل مفہوم کا سمجھنا ‘ تین باتوں کے جاننے پر موقوف ہے : -1 جس سے دعا مانگی جا رہی ہے ‘ اس کی حیثیت کا تعین۔ -2 دعا مانگنے کے آداب اور اس کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–56
فہم القرآن
ربط کلام : جب زمین و آسمانوں کا خالق، رات اور دن، شمس و قمر اور ہر چیز کا مالک وہی ہے اور ہر چیز پر اسی کا حکم چلتا ہے۔ تو کسی دوسرے کے سامنے دست سوال دراز کرنے کا کیا معنٰی ؟ لہٰذا حقیقی خالق اور بااختیار مالک سے مانگا کیجیے اس سے نہ مانگنا اور غیروں سے مانگنا اللہ تعالیٰ کی بغاوت ہے جس سے ساری زمین کا نظام بگڑتا ہے۔
دعا کے آداب میں شکرو حمد، درود اور توبہ استغفار کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی جلالت ومنزلت کا تقاضا اور فقیر کی شان یہ ہے کہ مانگتے وقت غایت درجے کی انکساری اور در ما ندگی کا اظہار کرتے ہوئے اسکے سامنے دست سوال دراز کرنا چاہیے۔ شاہ ولی اللہ ؓ نے لکھا ہے کہ دعا مانگنے والا اس…
Read the full tafseer →شرک و معصیت فساد ہے :
آیت 56: وَلَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلَا حِھَا (اور دنیا میں درستی کے بعد فساد مت پھیلائو) نمبر 1: اطاعت کے بعد معصیت کر کے۔ نمبر 2: توحید مان کر شرک کر کے نمبر 3۔ عدل کے بعد ظلم کر کے۔ وَادْعُوْہُ خَوْفًا وَّ طَمَعًا (اور تم اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو۔ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہوئے اور امید رکھتے ہوئے) یہ دونوں حال ہیں۔ نمبر 1۔ یعنی عمل کے رد ہوجانے کا خوف اور قبولیت کی طمع ہو۔ نمبر 2۔ آگ کا خوف اور جنت کی طمع ہو۔ نمبر 3۔ فراق کا ڈر اور ملاقات کی طمع۔ نمبر 4۔ عاقبت کے غائب ہونے کا خوف اور ہدایت کے ظاہر ہونے کی طمع۔ نمبر 5۔ اللہ تعالیٰ کے عدل سے خوف اور اس کے فضل…
Read the full tafseer →(56) (ولا تفسدوا فی الارض بعد اصلاحھا) یعنی معاصی کر کے اور غیر اللہ کی اطاعت کی طرف بلا کر زمین میں خرابی مت ڈالو کیونکہ اللہ تعالیٰ رسولوں کو بھیج کر اور شریعت کو بیان کر کے اس کی اصلاح کرچکے ہیں اور یہی حسن، سدی، ضحاک کلبی رحمہما اللہ کے قول کا معنی ہے۔ عطیہ (رح) فرماتے ہیں کہ زمین میں نافرمانیاں نہ کر واپس اللہ تعالیٰ بارش کو روک لیں گے اور تمہاری نافرمانیوں کی وجہ سے کھیتی کو ہلاک کردیں گے اس صورت میں ” بعد اصلاحھا “ کا معنی یہ ہوگا کہ بارش اور فراوانی کے ذریے اللہ نے اسکی اصلاح کردی اس کے بعد تم فساد نہ کرو (وادعوہ خوفا وطمعا) یعنی اللہ اور اس کے عذاب سے ڈرتے ہوئے اور اس کی مغفرت اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–56
(55 ۔ 56) ۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے دعا مانگنے کا حکم دیا اور فرمایا کہ گڑ گڑا کر چپکے سے دعا مانگو تاکہ ریا نہ ہو وے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے فرمایا کہ خفیہ کے معنے پوشیدہ کے ہیں ابن جریر نے تضرع کے معنے گرگڑانے کے بیان کئے ہیں۔ دعا کے اندر چلانے اور چیخنے سے منع کیا گیا ہے صحیح بخاری اور مسلم میں حدیث ہے کہ ابوموسیٰ اشعری ؓ نے کہا جبکہ لوگوں نے دعا میں آوازیں بلند کیں تو پیغمبر ﷺ نے فرمایا کہ تم کسی بہرے اور غائب کو نہیں پکارتے ہو جو جتلاتے ہو بلکہ جس کو پکارتے ہو وہ سنتا بھی ہے اور قریب ہے پھر کیوں نہیں چپکے سے دعا مانگتے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے فرمایا کہ خدا تعالیٰ دعا میں حد سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–56
آیت 55
” دعا “ میں دعائے مسئلہ اور دعائے عبادت دونوں شامل ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ وہ اسے پکاریں (تضرعا) ” عاجزی سے۔ “ یعنی گڑ گڑا کر اللہ تعالیٰ سے مانگیں اور جم کر اس کی عبادت کریں۔ (وخفیۃ) ” اور چپکے سے “ یعنی با آواز بلند اور علانیہ نہ گڑا گڑائیں جس سے ریا کا خدشتہ ہو بلکہ چھپ چھپ کر خالص اللہ تعالیٰ کے لئے آہ وزاری کریں (انہ لا یحب المعتدین) ” وہ حد سے بڑھنے والوں کو دوست نہیں رکھتا۔ “ یعنی تمام معاملات میں اللہ تعالیٰ حد سے تجاوز کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ یہ بھی حد سے تجاوز ہے کہ بندہ اللہ تعالیٰ سے ایسی چیزوں کا سوال کرے جو بندے کے لئے درست نہیں، یا دوسرے سے سوال کرنا ہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–141
دعا کا طریقہ
قول باری ہے وادعواربکم تضرعاً عاوخفیۃ۔ اپنے رب کو پکارو گڑگڑاتے ہوئے اور چپکے چپکے) آیت میں چپکے چپکے رب کو پکارنے کا حکم ہے حسن کا قول ہے کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے تمہیں اس بات کی تعلیم دی ہے کہ تم اپنے رب کو کس طرح پکارو۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک عہد صالح کا ذکر فرمایا جس کی پکار کو اس نے پسند فرمایا تھا چناچہ ارشاد ہے اذنادی ربہ نداء خفیا۔ جبکہ اس نے اپنے رب کو چپکے چپکے پکارا) یعنی حضرت زکریاعلیہ السلام عبداللہ بن المبارک نے حسن بصری سے روایت کی ہے کہ لوگ یعنی صحابہ کرام بڑی عاجزی اور نیاز مندی کے ساتھ دعائیں مانگا کرتے تھے اور صرف سرگوشی کی آواز سنائی دیتی تھی۔ حضرت…
Read the full tafseer →79 زمین میں فساد مت پھیلاؤ : نہ ظاہری طور پر اس کو اس طرح خراب کردو کہ اس سے ان مقاصد کی تکمیل نہ ہو سکے جن کے لئے خالق نے اس کو پیدا فرمایا ہے اور نہ باطنی طور پر کہ کفر و شرک اور معاصی وذنوب کا ارتکاب کر کے اس کے لئے عذاب اور تباہی سامان کرو ۔ والعیاذ باللہ ۔ کہ جس خالق ومالک نے تم لوگوں کو فرش زمین کی اس عظیم الشان نعمت سے نوازا ہے، اس نے اسکو تمہاری معیشت و گزران کیلئے ایسا صالح اور مناسب بنایا ہے کہ اس میں نہایت ہی پر حکمت طریقے سے تمہارے لیے طرح طرح کے سامانہائے زیست ودیعت فرما دیئے اور خود تمہارے اندر ایسی صلاحیتیں رکھیں کہ تم زمین کے ان بےحساب خزانوں سے دن رات مستفید ہوتے رہتے ہو۔ پس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–56
خالق ارض و سما، مدبر الامور اور رب العالمین سے مانگو
تشریح : ان آیات میں اللہ تعالیٰ کی قدرت، عظمت اور صناعی کا ذکر کیا گیا ہے کہ اس نے چھ دن میں آسمان اور زمین بنائے۔ چھ دن کا مطلب ہے کہ زمین و آسمان کی ابتدا تو یکدم ہوئی جیسا کہ اس کا طریقہ، مرضی اور قدرت کاملہ ہے جب وہ بھی کچھ بنانا چاہتا ہے تو اس کو سوائے ” کن “ کہنے کے اور کچھ نہیں کرنا پڑتا۔ یہاں بھی انسان کی ناقص عقل ادھر تک ہی پہنچتی ہے کہ زمین کی ابتدا تو فوراً ہوئی مگر زمین و آسمان کی نشوونما اور انتہائِ تکمیل آہستہ آہستہ ہوئی اسی لیے چھ دن کہا۔ اب دن کا مسئلہ یہ سمجھ میں آتا ہے کہ وہاں ایک دن کتنے عرصہ، یعنی کتنی مدت اور کتنا لمبا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–58
رکوع نمبر 7 ۔ آیات 54 ۔ تا۔ 58:
اسرارو معارف :
تمہارا رب تو بہت بڑا رحم کرنے والا اور کریم تھا اس نے تمہاری تخلیق سے پہلے تمہاری خاطر ایک بہت بڑا احسان پیدا فرمایا چھ دنوں میں آسمان زمین اور ان کی تخلیقات کو مکمل فرمایا اگرچہ ایک آن میں سب کچھ کرنے پہ قادر تھا مگر عمل میں تدریج ، غور و فکر اور ایک حسن انتظام کو پسند فرما کر انسان کے لیے اس میں بھی راہنمائی فرما دی کہ جلد بازی میں فیصلے نہ کئے جائیں بلکہ تمام امور نہایت غور و فکر سے طے کیے جائیں تاکہ پچھتانا نہ پڑے لہذا دو دن میں زمین بنائی جیسا کہ ارشاد ہے خلق الارض فی یومین۔ پھر دو دن میں اس کی آبادی کا سامان پہاڑ دریا معاون اور نباتات کہ…
Read the full tafseer →ف 13 یعنی اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور شرک کے کام مت کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ سے کفر کرنا اور معاضی کا رتکاب ہی فساد فی الارض ہے۔ (شوکانی )
1 یعنی دعا کرتے وقت اللہ تعالیٰ کو خوف بھی ہو اور دعا کی قبولیت کی دل میں طع بھی۔ ( شوکانی) حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی اللہ تعالیٰ پر دیر مت ہو اور ناامید بھی مت ہو طمع میں یہ چیز بھی داخل ہے کہ انسان دعا کے بعد مایوس نہ ہوجیسا کہ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا تم میں سے کسی کی دعا اسی وقت تک قبول ہوتی ہے جب تک وہ جلدی نہ کرے ارجلدی یہ ہے کہ انسان یہ کہہ کے میں نے اپنے رب سے دعا کی مگر اس نے قبول نہ کی۔ ( بخاری۔ مسلم)2 اس میں ترغیب ہے…
Read the full tafseer →(7:56) طمعا۔ توقع۔ امید۔ رکھتے ہوئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–58
لغات القرآن آیت نمبر (56 تا 58 ) ۔
لا تفسدوا (تم فساد نہ کرو) ۔ اصلاح (درست۔ درستگی) ۔ طمعا (امید) ۔ یرسل (وہ بھیجتا ہے) ۔ الریع (ریع) ۔ ہوائیں) ۔ اقلت (اٹھالائیں۔ (اقلال) ۔ سحاب (بادل) ۔ ثقال (بھاری) ۔ سقناہ (ہم اس کو ہانک دیتے ہیں) ۔ بلدمیث (مردہ شہر) ۔ کل الثمرات (ہر طرح کے پھل) ۔ نخرج (ہم نکالتے ہیں) ۔ تذکرون (تم دھیان دیتے ہو) ۔ البلد الطیب (پاکیزہ شہر۔ مبارک سر زمین) ۔ نبتہ ( اپنا سبزہ۔ اس کا سبزہ) ۔ خبت (خراب۔ گندہ) ۔ نکد (نامکمل چیز۔ ناقص چیز) ۔ یشکرون (وہ شکر کرتے ہیں) ۔
تشریح : آیت نمبر (56 تا 58 ) ۔ ” دو آیت پہلے اللہ تعالیٰ نے ان نعمتوں کا ذکر فرمایا ہے جن کا تعلق آسمان اور بلندی…
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ نے اس آیت شریفہ میں اپنی قدرت کو بیان فرمایا کہ جس طرح ہم دنیا میں تمہاری آنکھوں کے سامنے ہوائیں چلاتے ہیں اور پھر مینہ برساتے ہیں اور ان سے ہر قسم کا سبزہ نکالتے ہیں، اسی طرح ہم قیامت کے دن مردوں کو قبروں سے نکالیں گے۔ مینہ کی مثال سے مطلب یہ ہے کہ جس نے علم وہدایت سے جو خدا تعالیٰ نے بھیجا آپ بھی فائدہ اٹھایا اور لوگوں کو بھی نفع پہنچایا اور جس نے اللہ کی بھیجی ہوئی ہدایت کو قبول نہ کیا اور نہ اس سے فائدہ اٹھایا اور نہ اوروں کو نفع دیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–56
[28] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة بقرہ حاشیہ 25 صفحہ 96
Read the full tafseer →خوف ورجا کا مقام :
(ف 1) بعض لوگوں پر خشیت کا غلبہ ہوتا ہے ، وہ اللہ کے جلال وجبروت سے ہر آن لرزاں رہتے ہیں ، اور بعض وہ ہیں ‘ جو حریص اور مترتب ہی ، وہ اس کی رحمت سے مایوس نہیں ہر لحظہ خدا کے حضور میں مسرور و شاداں رہتے ہیں انہیں اللہ کی رحمت پر کامل بھروسہ ہے ، ایک گروہ وہ ہے جو رجاء وخوف کے بین بین ہے ، یہ بہترین گروہ ہے ،
اس آیت میں ان کو ” محسنین “ قرار دیا گیا ہے ، اور انہیں اللہ کے قرب کی خوشخبری سنائی گئی ہے ۔
خوف کے معنی یہ ہیں کہ اللہ سے یہاں تک ڈرو کہ اپنے تئیں ہر وقت مجرم سمجھو ، اور کبھی اس کے غضب سے نڈر نہ ہو ، دل میں اس کے جلال کا تصور آجائے ، تو کانپ جاؤ ،
رجاء کا مقصد یہ ہے…
Read the full tafseer →56 اور زمین کی درستی اور اصلاح کے بعد زمین میں فساد نہ کرو اور عذاب کا خوف اور اس کی رحمت سے امید رکھتے ہوئے اس کی عبادت کیا کرو یقیناً اللہ تعالیٰ کی رحمت مخلصین کے بہت قریب اور بہت ہی نزدیک ہے یعنی جب دنیا میں حالات معتدل ہوں تو گڑ بڑی نہ پیدا کرو اور اسلام کی صحیح تعلیم آجانے کے بعد اور دلائل توحید اور اصلاح معاملات کے بعد پھر کفر و شرک کی طرف نہ دوڑو اور انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کی تعلیم میں کفر کی رسمیں نہ داخل کرو اور اسلام کے بعد کفر کو ترویج نہ دو ۔ عبادت کرتے وقت دو باتوں کا لحاظ ضروری ہے ایک خدا تعالیٰ کی گرفت اور اس کے عذاب سے ڈرتے رہنا اور اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس نہ ہونا…
Read the full tafseer →ف 8۔ مثلا محالات عقلیہ یا محالات شرعیہ یا مستبعدات عادی یا معاصی یا بیکار چیزیں مانگنے لگیں مثلا خدائی یا نبوت یا فرشتوں پر حکومت یا غیر منکوحہ عورت سے تمتع یا فردوس کے داہنی طرف کا سفید محل اور امثال اس کے مانگنے لگے یہ سب ادب کے خلاف ہے ہاں جنت یافردوس کی دعامطلوب ہے اس میں یہ فضول قیدیں ممنوع ہیں۔
9۔ یعنی عبادت کرکے نہ تو ناز ہو اور نہ مایوسی ہو۔
Read the full tafseer →ملک میں خرابی پھیلانے کی مخالفت اور اللہ کی رحمت طلب کرتے رہنے کی ہدایت :
67: ” ملک کی درستگی کے بعد اس میں خرابی نہ پھیلائو۔ “ یہاں دو متضاد لفظ متقابل آئے ہیں یعنی ” فساد “ اور ” اصلاح “ اصلاح کے معنی درستی اور فساد کے معنی خرابی کے ہیں۔ درستی اور خرابی سے کون واقف نہیں۔ اصلاح کی بھی دو قسمیں ہیں اور فساد کی بھی یعنی ظاہری اور باطنی۔ زمین کی ظاہری اصلاح یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کا ایسا جنم بنایا ہے کہ نہ پانی کی طرح نرم ہے جس پر نہ قرار نہ ہو سکے اور نہ پتھر اور لوہے کی طرح سخت ہے جس کو کھودا نہ جاسکے اس کو ایک درمیانی حالت پر رکھا گیا ہے تاکہ انسان اس کو نرم کر کے اس میں کھیتی اور درخت…
Read the full tafseer →In the second verse (56), it was said: وَلَا تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ بَعْدَ إِصْلَاحِهَا (And do no mischief on the earth after it has been set in order). Two antonyms have appeared here: صَلَاح (salah) and: فَسَاد (fasad). 'Salah' means the state of being good, correct, right, proper or set in order as in the translation. Then, Fasad refers to the state of evil, corruption, mischief, disorder. Imam Raghib al-Isfahan has said in his Mufradat al-Qur'an that Fasad refers to something going beyond the limits of moderation, whether this crossing over is insignificant or enormous, and the…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–56
44. The command not to make mischief in the earth means not to vitiate the right order of life. What basically, constitutes 'mischief-making' is to surrender oneself to one's lusts, to commit acts in subservience to other human beings and to subscribe to base morals, social orders, civilizations, principles and laws derived from sources other than God's Guidance. This is the essential mischief from which innumerable evils issue and which the Qur'an seeks to eradicate. The Qur'an also emphasizes that sound order is the original condition, and disorder and mischief occurred later as accidents…
Read the full tafseer →